عالمی تہذیبی دباؤ اور مسلمان معاشرے

محمد عمار خان ناصر

مختلف تہذیبی افکار اور معاشرتی تصورات وروایات کے اختلاط کے ماحول میں  باہمی تاثیر وتاثر کی صورت حال کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس تاثیر وتاثر کی سطح اور حد کا تعین تاریخی حالات سے ہوتا ہے جس میں سیاسی طاقت اور تہذیبی استحکام کا عامل سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر دو تہذیبی روایتوں کا تعامل ایسے حالات میں ہو کہ دونوں کے پیچھے سیاسی طاقت اور تہذیبی روایت مستحکم طور پر کھڑی ہو تو تاثیر وتاثر کی صورت مختلف ہوتی ہے، لیکن اگر ایک تہذیبی روایت اضمحلال وزوال اور سیاسی ادبار کے مرحلے پر جبکہ دوسری عروج واقبال کی طرف گامزن ہو تو تاثیر وتاثر کے سوال سے نبرد آزما ہونا کمزور تہذیب کے لیے بہت ہی مشکل معاملہ بن جاتا ہے۔

مسلم تہذیب اور جدید مغربی تہذیب کا باہمی تعامل بنیادی طور پر ایسے ہی تاریخی حالات میں رونما ہوا ہے اور اس کی سنگینی اس پہلو سے بہت بڑھ جاتی ہے کہ جدید مغربی تہذیب، ماضی کی تہذیبوں کے برعکس، انسانی معاشروں کی تشکیل کی اقدار کے باب میں تعدد وتنوع اور تہذیبی اختلاف کی گنجائش کو قبول نہیں کرتی۔ وہ جن اقدار کی علمبردار ہے، انھیں عقلی دریافت کا نتیجہ سمجھنے کی بنیاد پر آفاقی تصور کرتی ہے اور تمام انسانی معاشروں میں انھی اقدار کو جاری وساری کر دینے کو اپنی ذمہ داری اور فریضہ سمجھتی ہے۔ موجودہ بین الاقوامی نظام میں غیر مغربی معاشروں کی مستقل اور مسلسل نگرانی کا اور انھیں جادہ تہذیب پر گامزن رکھنے کے لیے ڈنڈے اور گاجر کا تمام تر انتظام اسی بنیادی پوزیشن سے پھوٹا ہے۔

سیاسی واقتصادی زبوں حالی کا نتیجہ بین الاقوامی سطح پر مہذب وغیر مہذب اقوام کی تقسیم کے ساتھ ساتھ کمزور معاشروں کی داخلی تقسیم کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ سیاسی غلبہ اور مادی قوت نفسیاتی اور فکری تاثیر پیدا کرنے کی غیر معمولی استعداد رکھتی ہے۔ اگر سیاسی طاقت ایک تہذیبی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے ساتھ وابستہ افکار، نظریات، فلسفے اور اخلاقی تصورات وغیرہ عمومی انسانی شعور کے لیے اپنی قبولیت پیدا کرنے میں مزید کسی چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ افکار اور فلسفے کسی بھی فلسفیانہ یا عقلی معیار پر آفاقی نہیں ہوتے اور کسی دوسرے تہذیبی واقداری فریم ورک میں ان کی معیاریت پر تنقیدی سوال اٹھانا عقلا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے، تاہم غالب تہذیب کی سیاسی قوت اور تہذیبی استحکام، فکر ودانش کو آسانی سے اس عقلی امکان کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتی اور ناگزیر طور پر غالب فلسفوں کی آفاقیت اور معیاریت کا التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ مسلمان معاشرے اس وقت بعینہ اسی صورت حال کے روبرو ہیں۔

مثال کے طور پر  گزشتہ دنوں مرد وعورت کی باہمی رفاقت کے لیے نکاح کے ضروری ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے ملالہ یوسف زئی نے یہ سوال  اٹھایا کہ ’’جنسی تعلق کے لیے عقد نکاح میں بندھنے کی کیا ضرورت ہے اور باہمی مفاہمت پر مبنی رفاقت (پارٹنرشپ) کیوں کافی نہیں“۔ یہ مختصر سوال بہت متنوع، اہم اور بنیادی اخلاقی، قانونی اور تہذیبی سوالات کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے جن کو کھولے اور ان کی تنقیح کیے بغیر اس الجھن  کا درست تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا ایک بنیادی  سوال یہ ہے کہ کیا جنسی تعلق کے جواز کے لیے سماجی ضابطہ بندی کا کوئی ایسا آفاقی ڈھانچہ موجود ہے جس کی پابندی کو تمام انسانی معاشرے متفقہ طور پر ضروری مانتے ہوں اور تاریخ وثقافت اور اقدار وعقائد کے اختلافات اس پر اثر انداز نہ ہوتے ہوں؟ انسانی معاشروں اور تاریخ سے ایک سرسری واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ہر تہذیب اور ہر معاشرہ اس کا تعین اپنی خاص اقدار، حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کرتا رہا ہے اور کسی بھی خاص مجموعہ ضوابط کی پابندی اس تہذیبی اورمعاشرتی تناظر میں ہی ضروری مانی جاتی رہی ہے جس میں اس کی تشکیل ہوئی۔  شادی کا باقاعدہ معاہدہ کیے بغیر، مرد وعورت کا جنسی رفاقت کا رشتہ بنا لینا اسی نوعیت کی چیز ہے۔ ضروری نہیں کہ دوسرے معاشرے بھی اس مسئلے کو اسی نظر سے دیکھیں جس سے اسلام نے دیکھا ہے، تاہم مسلمان معاشرے اپنی دینی اقدار اور معاشرتی تصورات کی بنیاد پر اس کے جواز کو قبول نہیں کر سکتے۔

اس تناظر میں  decoloniality (رد استعمار)  کی بحث بہت اہم بن جاتی ہے جو  سوشل تھیوری کے میدان میں پچھلی تین چار دہائیوں میں  نمایاں ہوئی ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سیاسی مفہوم میں مغربی استعمار کے بظاہر خاتمے کے باوجود انسانی معاشروں کی تاریخ اور تشکیل کو دیکھنے کی وہ ساخت اور وہ فکری تصورات ومفروضات اسی طرح برقرار ہیں جو نشاۃ ثانیہ اور روشن خیالی کے زیراثر مغربی علوم نے قائم کیے ہیں۔ رد استعمار کے موید  اہل فکر کا کہنا ہے کہ اس فکری سانچے کو توڑے بغیر انسانی معاشروں کی ایک متبادل تشکیل کی طرف بڑھنا ممکن نہیں۔ مسلم اہل فکر کی ذمہ داری  بنتی ہے کہ غالب تہذیب اوراس کے علوم وافکار کی تنقید     کا ایسا جامع اور مربوط بیانیہ  سامنے لائیں جو  مسلم معاشروں کی ناگزیر تہذیبی خصوصیات کے تحفظ  کی فکری  اساس فراہم کر سکے۔


عالم اسلام اور مغرب

(اگست ۲۰۲۱ء)

Flag Counter