دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مستشرقین نے بالعموم اسلام کا معروضی مطالعہ پیش نہیں کیا۔ وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اسلام کی غیر حقیقی اور مسخ شدہ تصویر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ اسلام کو لوگوں کے سامنے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ ان کو کوئی غیر معمولی اور خاص وقعت کی چیز محسوس نہ ہو بلکہ اس کے برعکس انسانی ترقی و تمدن کی راہ میں مزاحم دکھائی دے۔ اس سلسلے میں وہ کئی جہتوں میں کام کرتے اور مختلف نتائج سامنے لاتے ہیں۔ عالم اسلام کے تناظر میں دیکھیں تو ان کی کوشش کا اہم مقصودمسلمانوں کو اپنے دین سے متعلق متشکک و مترددبنانا، اسلامی اقدار وتہذیب کو مغربی اقدار وتہذیب کے مقابلے میں کم تر ثابت کرنا اورانہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ مغربی تہذیب واقدارسے بیگانہ اور روایتی اسلام سے، جس میں دقیانوسیت اوربہت سے نقائص ہیں، چمٹے رہ کردنیا میں ترقی و عروج حاصل نہیں کر سکتے۔ اس مقالہ میں ہمارے پیش نگاہ مذکورہ مقصد کے حوالے سے مستشرقین کی کاوشوں اوران کے نتائج کا مطالعہ ہے۔

استشراقی مساعی کی نو عیتیں

موضوع زیر بحث کے حوالے سے مستشرقین کی کوششیں کئی نوعیت کی ہیں۔ کبھی وہ اسلام سے متعلق ایسا مواد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اہل اسلام میں روایتی اسلامی عقائد وتصورات سے متعلق شکوک وشبہات اور بیزاری و نفرت پیدا کرے، کبھی وہ تجدد کی طرف بلاتے اور جدید تصورات ونظریات اپنانے کو مسلمانوں کی ترقی و کامیابی کاذریعہ قرار دیتے ہیں اورکبھی اسلامی تہذیب و تاریخ کی تحقیر کرتے ہیں۔ سطور ذیل میں مستشرقین کی ان مساعی کو قدرے تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔

اساسی اسلامی عقائد پر نقد

مستشرقین اسلام کے اساسی عقائدو تصورات کو جدید افکارو نظریات کے تناظر میں اس طرح سے ہدف تنقیدبناتے اور ایسے نتائج سامنے لاتے ہیں کہ سطحی دینی علم کے حامل مسلمان ان عقائد وتصورات سے متعلق طرح طرح کے شکوک و شبہات اور تحفظات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً وہ وحی پر کلام کرتے ہوئے کبھی اسے عقل و تجربے کے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۱؂ کبھی اس کی محض اسی صورت کو قابل قبول گردانتے ہیں جس میں کوئی چیز عقل سے ماورا نہ ہو۔۲؂ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی تعبیر (نعوذ باللہ) مرگی کے دوروں سے کرتے ہیں۳؂ا ور کبھی اسے آپؐ کے زمانے کے حالات کے فطری ردعمل اورآپ کی داخلی کیفیت سے تعبیرکرتے ہوئے اس کے خارج سے نزول کی نفی کرتے ہیں۔۴؂ معجزات پر بحث کرتے ہوئے انہیں قدیم غیر متمدن قوموں کی جہالت ووہم پرستی اورلا علمی سے تعبیر کرتے،۵؂ انہیں خلاف قانون قدرت،۶؂ ناممکن الوقوع۷؂ اور سائنسی نقطہ نظر سے غلط بتاتے،۸؂ اور بائبل۹؂ اور قرآن ۱۰؂ میں معجزات کے مذکور ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسے حضورؐ کااپنا کلام کہتے،۱۱؂ قصص قرآنی کوبائبل کی روایات پر منحصر قرار دیتے،۱۲؂ قرآن کو حضورؐ کے الہامات کی حیثیت سے آپؐ کے ساتھیوں کے جمع کردہ ۱۳؂ نامکمل مواد۱۴؂ کا نام دیتے، ناسخ و منسوخ پر معترض ہوتے۱۵؂ اور اعجاز القرآن کا انکار کرتے ہیں۔۱۶؂

حدیث پر تنقید کرتے ہوئے ذخیرۂ احادیث کو جعلی وفرضی اورپیغمبر اسلام اور آپؐ کے عہد سے متعلق معلومات کا ناقابل اعتبار ماخذ قراردیتے ہیں۔۱۷؂ سیرت طیبہ پر لکھتے ہوئے حضورؐ کے اخلاق وکردارکو ہدف تنقید بناتے،۱۸؂ آپؐ کے پیغام کی بسرعت اشاعت اور آپؐ کی غیر معمولی کامیابیوں کو اللہ کی مدداورآپ کی حقانیت پر محمول کرنے کی بجائے وقت کا تقاضا اور حالات کی سازگاری کا نتیجہ قرار دیتے،۱۹؂ تعدد ازواج کے حوا لے سے آپؐ کی سیرتِ بے داغ پر دھبے ظاہر کرنے کی کوشش کرتے۲۰؂ اور آپ پر تشدد پسندی اوردین اسلام کو بزور شمشیر قائم کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔۲۱؂ معاد اور جنت ودوزخ سے متعلق اسلامی تصورات کو یہودیت و عیسائیت وغیرہ مذاہب سے اخذ کر کے، بے آب و گیاہ اور بنجر زمین کے باسی عربوں کومتاثر کرنے کی غرض سے مادی و حسی صورتوں میں پیش کیے گئے تصورات قرار دیتے ہیں۔۲۲؂ جہاد کو عربوں کے ہاں مروج ڈاکہ زنی کے عمل کا تبدیل شدہ نام۲۳؂ اور اسلام کی ترقی اور اشاعت کو تلوارپر منحصر بتاتے ہیں۔۲۴ ؂ اسلامی قانونِ تعدد ازواج کو اسلام کی اختراع کہتے۲۵؂ اور اس سے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے اور افسانے تراشتے ہیں۔۲۶؂ اسلامی قانون کوغیر عقلی،قدیم عربی روایات پر مبنی اور جادوئی وافسانوی قرار دیتے۲۷؂ اور اسلامی سزاؤں کو غیر ضروری طور پر سخت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۲۸؂ کتب مقدسہ کے نظریہ تخلیق انسانی کو مسترد کرتے ہوئے انسانی ارتقا کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں جس میں کسی خدائی منصوبے کو کوئی دخل حاصل نہیں۔۲۹؂

دعوتِ تجدد و اصلاحِ مذہب

مستشرقین اہل اسلام کو تجدد و مغربیت اور اصلاحِ مذہب کی دعوت دیتے اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی فلاح وترقی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ وہ جدیدمغربی تہذیب اپنائیں اور اپنے مذہب کو نئے حالات کے مطابق ڈھالیں۔ ان کے نزدیک مسلم معاشروں میں اٹھنے والی ایسی تحریکیں اور اشخاص حوصلہ افزائی اور تعریف و ستائش کے مستحق ہیں جو اسلام کو دور جدیدکے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذکورہ استشراقی کاوش کی وضاحت کے لیے چند مستشرقین کے خیالات ملاحظہ ہوں:

یہ ثابت کرنے کے لیے کہ نئے زمانے کا ساتھ دینے کے لیے اسلام کو اپنی روح میں تبدیلی پیدا کرنا لازم ہے، Kenneth Cragg لکھتا ہے:

"The modern mind is right in its instinctive awareness that Islam must either baptize change into its spirit or renounce its own relevance to life. Since it cannot do the later, it must somehow do the former."(30) 

Cragg محمد کامل حسین کواس بنا پرداد دیتا ہے کہ اس نے اس بات پر اصرار کیاکہ خود اسلام ہی سے اسلام کاغیر معتبر ہونا ثابت ہوتا ہے۔۳۱؂ وہ ایک اور مقام پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ مسلمان وقت کے مطابق اسلامی احکامات میں از خود تبدیلی کرتے رہے ہیں جس سے ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کوئی مستقل دین نہیں تو دوسری طرف یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو ضرورت کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔۳۲؂

فلپ کے ہٹی کے مطابق تعدد ازواج، چوری، جوا اور شراب وغیرہ سے متعلق اسلامی قوانین اور سزائیں جدید اسلامی سوسائٹی میں قابلِ عمل نہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج مسلم معاشرے میں ان کو در خور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔وہ کہتا ہے:

"Modern Islamic society has practically outgrown the Koranic legislation."(33) 

کینٹ ویل اسمتھ مصطفی کمال کی اصلاحات کی تحسین کرتے ہوئے دوسرے مسلمانوں کوبھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ترکوں نے بجا طور پر محسوس کیا کہ اسلام اپنے وقت پر پروگریسو تھا` مگر اب نہیں۔ اب اسلام اور کسی بھی دوسرے مذہب کو زندہ رہنے کے لیے جدید تعلیم یافتہ انسان کے لیے قابل فہم ہونا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھالے۔ سمتھ کے نزدیک ایسی اصلاحات کا مطلب عیسائی بننا نہیں بلکہ ماڈرن بننا ہے۔۳۴؂ سمتھ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل سیکولر ازم کو بتاتا ہے۔ وہ کانگرسی مسلمانوں کی تعریف کرتا اور تخلیق پاکستان کو ایک برائی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان جتنا زیادہ ’اسلامی‘ ہوگا، ہندوستانی مسلمان اتنے ہی زیادہ غیر محفوظ ہوتے جائیں گے ۔۳۵؂ 

S.D.Goiteinکا کہناہے کہ قرآن جدید سوسائٹی کی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔وہ اسلام کو یہودیت سے مستعاربتاتا اور عربوں کو مقامی زبانیں اپنانے کا مشورہ دیتا ہے۔۳۶؂

یہودی مستشرق Nadve Safran اسلام کو ناقابل عمل اور غیر حقیقی قرار دیتا ہے ۔وہ رشید رضا کی خلافت سے متعلق کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ رشید رضاکو مسلمانوں کے سابقہ تجربات سے کچھ سبق نہ مل سکا۔۳۷؂ وہ مصری قومیت پسند سید لطفی سے اظہار ہمدردی کرتاہے جو تجدد کا بہت بڑا نقیب اور اسلام کی بجائے فرعونیوں کی تقلید پر ابھارنے اورمصر میں نئے معتقدات اختیار کرنے اور پرانے اسلامی تصورات کو چھوڑنے کی ضرورت پر زور دینے والا تھا۔۳۸ ؂

الغرض مستشرقین سر توڑ کوشش کرتے ہیں کہ اہل اسلام کو اپنے مذہب کو گردشِ زمانہ کے مطابق بدلنے اورمغربی تہذیب اور افکار ونظریات اپنانے پر مائل کیا جائے۔ یہاں تک کہ بعض یونیورسٹیوں کے ذمہ باقاعدہ طور پر ایسے اسلامسٹ تیار کرنے کا کام لگایا گیا ہے جو اسلام سے متعلق جدید افکارکے حوالے سے سمجھوتے کی فضا پیدا کریں۔ ۳۹؂ 

اسلامی تاریخ و تہذیب کی تحقیر

مستشرقین اسلامی تاریخ و تہذیب سے متعلق متعصبانہ ۴۰؂ انداز نظر اختیار کرتے ہوئے ان کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کرتے اور ان کی تحقیر کرتے ہیں۔وہ اسلامی تاریخی واقعات کی خلافِ حقیقت توجیہات پیش کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کا ظہور وفروغ عالمِ انسانیت اور بالخصوص عیسائیت کے لیے فالِ بد ثابت ہوا۔ اسلام شروع ہی سے یہودیوں اور عیسائیوں کا دشمن بن گیااور مسلمانوں نے ہمیشہ جارحیت کا ارتکاب کیا۔ مثلاً Thomas Wright ابرہہ کے حملے کے دو ماہ بعد حضور ؐ کی پیدائش کو عیسائیوں کے لیے بد ترین آفت قرار دیتے ہوئے آپؐ کو مسیحیوں کا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے۔۴۱؂ فلپ کے ہٹی الزام لگاتا ہے کہ حضورؐ نے موتہ کی جنگ شروع کر کے اسلام اور عیسائیت میں طویل جنگ کی بنیاد رکھی۔۴۲؂ اسلامی تہذیب کی قدرو منزلت کوگھٹانے اور اس کی تحقیر کرنے اور عرب مسلمانوں کے تمدنی محاسن کے استخفاف کی خاطر مستشرقین اپنے طلبہ کو تربیت دیتے ہیں کہ وہ تہذیبی و ثقافتی مظاہر کو عربی الاصل ثابت کرنے کی بجائے لا طینی الاصل ثابت کریں تا کہ علم و فکر کے رشتے اور عقیدت و محبت کے جذبات مسلمانوں سے کٹ کر قدیم لاطینی اور یونانی اقوام کے ساتھ منسلک ہو جائیں۔۴۳؂ وہ اسلامی تہذیب اپنانے والوں کو تو رجعت پسندی اور دقیانوسیت کے طعنے دیتے ہیں، لیکن اس کے بر عکس اسلامی تہذیب سے قدیم تر تہاذیب، جو زندگی کی صلاحیت اور ہرطرح کی افادیت سے محروم اور سینکڑوں ہزاروں برس سے ماضی کے ملبے تلے دبی ہیں، کے احیا کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کوقرآن اور اسلامی علمی ذخیرے سے لا تعلق بنانے کے لیے نئے زمانے کے تقاضوں کا واسطہ دے کر قرآنی عربی زبان اور عربی رسم الخط کی بجائے مقامی زبانوں اور لاطینی رسم الخط اپنانے پر مائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۴۴؂

عالم اسلام میں استشراقی اثر ونفوذ

مستشرقین کواپنی متذکرہ صدر مساعی سے جو مقاصد مطلوب تھے، ان میں وہ خاصی حد تک کامیاب رہے۔عالم اسلام میں اصلاح وترقی کے نام پرتجدد و مغربیت کے جتنے علمبردار پیدا ہوئے، ان کے افکار و نظریات پر استشراقی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے۔ مسلم دنیا میں اہل اقتدار اور طبقہ امرا کے علاوہ مسلم سکالرز اور دانشوروں کی بھی ایک بڑی تعداد مستشرقین سے متاثر ہے۔ سطور ذیل میں مذکورہ طبقوں میں استشراقی اثر ونفوذکا مطالعہ مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا جاتا ہے۔

اہل اقتدار اور طبقۂ امرا

عالم اسلام میں جہاں تک اہل اقتدار اور طبقہ امرا کا تعلق ہے، یہ بالعموم مغرب کے زیر اثر ہے ۔یہ لوگ بقول مریم جمیلہ اکثر وبیشتر اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اصلی اسلام کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مشنریوں کا لندن اور امریکہ میں تیار کردہ اسلام کا ایک جدید، لبرل اور ترقی پسند ایڈیشن پیش کیا جائے۔۴۵؂ مسلم معاشروں میں مغربی طرز پر اصلاح و ترقی کے خواہاں زعما اور حکمرانوں نے اپنے معاشروں کو مغربی رنگ میں رنگنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ ترکی کے قوم پرست لیڈر ضیا گوک الپ پر مغربی اور ملحدانہ اثرات اتنے گہرے تھے کہ وہ کسی بھی قسم کی اچھائی اور برائی کی تمیز کے لیے یورپ کی مکمل نقل کا خواہاں تھا ۔ اس نے عالمگیراخوتِ اسلامی کے تصور کو مغربی تصورِ قومیت سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔وہ کہا کرتا تھا کہ ترکوں کو اپنی سر زمین کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے ۔ ان کے لیے حب الوطنی سے بڑھ کر کوئی اخلاقیات نہیں۔ ۴۶؂ مصطفی کمال اتاترک ،جو عالمِ اسلام کے طبقہ امرا وزعما میں بالعموم ایک آئیڈیل باور کیا گیا ہے، ترکی میں تجدد ومغربیت کا سب سے بڑا نقیب تھا ۔ اس نے حصول اقتدار کے بعد اسلام کو ترکوں کی عملی زندگی سے بے دخل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اس کے خیال میں ترکی کی ترقی اس وقت ممکن نہ تھی جب تک اسلام کے اثرو نفوذ کو بالکل ختم نہ کر دیا جاتا۔ اس کے خیالات میں اسلام سے متعلق نفرت وحقارت بہت نمایاں ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے:

''Islam- This theology of an immoral Arab is a dead thing. Possibly it might have been suitable to the tribes in the desert. It is no good for a modern, progressive state. God's revelation! There is no God! There are only the chains by which the priests and bad rulers bound the people down."(47) 

چنانچہ مصطفی کمال نے ترکی کو خدا کی بجائے مغربی تہذیب کی شکل میں ایک دیوتا عطا کیا۔ اس دیوتا کا وہ خود بھی وفادار حواری اور پر جوش پجاری تھا۔وہ مغربی تہذیب کو ملک کے چپے چپے میں رائج دیکھنے کا تمنائی تھا۔اس تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں چمک اور اس کے چہرے کی طمانیت دیدنی ہوتی۔۴۸؂ وہ کہا کرتا کہ عالم اسلام کی کم نصیبی اور پس ماندگی کی اصل وجہ خود کو نئی، روشن اور بلند پایہ مغربی تہذیب میں فٹ نہ کر سکنا ہے۔ ہم جو اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اسی باعث کہ اب ہماری ذہنیت بدل رہی ہے۔۴۹؂ لہٰذا اس نے ترکی کو سیکولر سٹیٹ قرار دے دیا۔ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ قرار پایا۔خلافت کا ادارہ ختم کر دیا گیا۔ شرعی اداروں اور محکموں اور اسلامی شریعت کو ملک سے بے دخل کرکے مغربی قوانین نافذ کر دیے گئے۔ہر وہ چیز جس کا کوئی تعلق اسلام سے بنتا تھا، حرف غلط کی طرح مٹا ڈالی گئی۔عربی کی جگہ لاطینی رسم الخط جاری کر دیا گیا۔ اور تو اور عربی میں اذان تک ممنوع قرار پاگئی۔ مختصر یہ کہ ترکی قوم اور حکومت کی دینی اساس کو تھوڑ پھوڑ کر ختم کر دیا گیا اور قوم کا نقطہ نظر یکسربدل ڈالا گیا۔۵۰؂

استشراقی فکر نے صرف ضیا گوک الپ اور مصطفی کمال یا دیگر ترک زعما ہی کو اپنی گرفت میں نہیں لیا بلکہ اس کے اثرات تقریباً عالم اسلام کے تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ،مقتدر اور صاحب اختیار طبقہ تک ممتد دکھائی دیتے ہیں۔ عالم اسلام میں جہاں بھی کوئی ملکی تعمیر وترقی کے لیے اٹھتا ہے،بالعموم تجدد ومغربیت اور کمالی طرز کی اصلاحات ہی کومقصود و منتہاسمجھتا ہے۔ ۱۹۵۲ء کامصری انقلاب اپنی بنیادوں میں مغربی زاویہ نگاہ لیے ہوئے آیا۔ اس کامقصد جمال عبد الناصر کے خیال میں یہ تھا کہ مصری عربی معاشرہ ایک ایسی سوسائٹی میں بدل جائے جس کے افراد اپنے اجتماعی تعلقات،اخلاقی قدروں اور حقوق وغیرہ سے متعلق ایسا نقطہ نظر اختیار کریں جو جدید فکر سے ہم آہنگ ہو۔ صدرناصر کے پیش کردہ منشور سے اگر مصر اور عرب لفظ نکال دیں تو وہ کسی بھی سیکولر سوشلسٹ سٹیٹ کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ رضا شاہ پہلوی نے اپنے زمانے میں ایران کو بھی ترکی کے نقش قدم پر مغربیت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کیں۔وہ ایران سے مذہبی رجحان کوپوری طرح مٹانا اور اسلامی تشخص کو ختم کرنا چاہتا تھا، تاہم اس کی متشددانہ پالیسیاں۱۹۷۴ء کے شیعی اسلامی انقلاب پر منتج ہوئیں اور شاہ کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انڈونیشیا میں صدر احمد سوئیکارنو کی رہنمائی میں بھی حکمران طبقے نے ملک کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترکی کے نقش قدم پر لے جانے کی کوشش کی۔انڈونیشیا میں اگرچہ مغربیت کے خلاف رد عمل بھی ظاہر ہوتا رہا اور اسلامی تحریکیں اٹھتی رہیں، تاہم متجددانہ سر گرمیاں ہنوز جاری ہیں۔ 

تیونس میں حبیب بورقیبہ نے ۱۹۵۷ء میں صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی کمالی اصلاحات اورتجددکا آغاز کر دیا۔ تیونسی صدر مسیحی مشنریوں اور مستشرقین کے خیالات سے حد درجہ متاثر ہوا۔ اس نے قرآن میں تضادات ثابت کرنے کی کوشش کی اور قرآنی قصوں کو خرافات کا مجموعہ قرار دیا۔الجزائر کے ۱۹۶۳ء میں منتخب ہونے والے صدر احمد بن بلا جمال عبد الناصر کے دوستوں اور ہم خیالوں میں سے تھے۔ انہوں نے صدر ناصر ہی کی طرز پر دینی ذہن کو محدوداور حکومت سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ صدر کرنل معمر قذافی نے ۱۹۶۹ء میں زمام اقتدار سنبھالی اور بعض شرعی حدود کا نفاذ کیاتو مغربی پریس میں ان کو ایک کٹر مذہبی شخصیت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔مستشرقین سے رابطہ کی بنا پران کا انقلابی دائرۂ فکر سیاست سے ہٹ کر دینی فکر میں انقلاب تک وسیع ہو گیا۔ انہوں نے یہ تصور قائم کر لیاکہ وہ اسلام جو کتاب وسنت سے ماخوذ ہے، اس انقلابی عہد کا ساتھ نہیں دے سکتا۔چنانچہ انہوں نے اسلام کو اپنے انقلابی ذہن کے سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ وہ اسلام کو عبادت تک محدود کر دینا چاہتے تھے ۔عبادت اور عام زندگی کے بارے میں ان کا تصورتیونسی صدر حبیب بورقیبہ سے بہت قریب ہے ۔حبیب بورقیبہ نے قرآن کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا۔معمر قذافی نے حدیث کوتختہ مشق بناتے ہوئے اسے مشکوک اور ناقابل اعتماد ثابت کرنے کی کوشش کی۔الغرض قذافی بھی پورے زور شور سے تجدد ومغربیت کے راستے پر ہو لیے۔۵۱؂لمحہ موجود تک تمام مسلم قیادت تجدد ومغربیت ہی کو کامیابی و کامرانی کا واحد راستہ سمجھتی ہے اوراس کلیے میں شاید ہی کوئی استثنا نظر آئے۔

جدید تعلیم یافتہ دانشوراورسکالرز

مسلم دنیا کے جدید تعلیم یافتہ دانشور اور سکالرزکی بھی ایک قابل لحاظ تعداد مستشرقین کے زیر اثر ہے۔ ان میں ایک بڑی تعدادنے یورپ کی یونیورسٹیوں میں مغربی اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور اپنے اساتذہ کے تصورات ونظریات اپنا لیے۔ ۵۲؂ ان کے نزدیک بھی مسلمانوں کی ترقی و کامرانی تجدد و مغربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضورؐاور خلافت راشدہ کے زمانے تک اسلام ایک لبرل، ترقی پسند اور عقلیت پسند مذہب تھا، لیکن بعد میں فقہا اور ملاؤں نے اسے جامد اور متحجر دین بنا دیا۔ چنانچہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ نام نہاد علما ومفسرین ہی ہماری تمام تر حرماں نصیبی اور پسماندگی کا اصل سبب ہیں۔ ایک دانشورنے لکھا ہے کہ سعودی عرب سے لے کر موریطانیہ تک اور انڈونیشیا سے لے کر پاکستان تک ہر مسلم ملک میں اہل اسلام زیست کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ملا مسلمانوں کے تنزل وادبارکو مغربی اثرات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ جہاں تک ہنوز مغربی اثرات نہیں پہنچے، وہاں اب بھی اسلام کی گھناؤنی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ کیا اس بات سے انکار کی کوئی معقول وجہ ہے کہ سب سے پسماندہ ممالک وہ نہیں جہاں یورپی تہذیب کی باد نسیم کے جھونکے نہیں پہنچے بلکہ بد نصیب وہ بلاد وامصار ہیں جہاں زمام اقتدار ملاؤں کے ہاتھ میں ہے۔ انہی کور چشموں کے سبب اسلام جمود کا شکار رہا اور اسے وقت کے مطابق ڈھلنے سے روکا جاتا رہا۔ عالم اسلام کونحوستوں اور لعنتوں سے نجات دلانے کے لیے ہمیں قرآن کی ان روایتی تعبیرات کو بھول جانا ہوگا جو راسخ العقیدہ ملاؤں نے صدیوں سے مسلط کر رکھی ہیں ۔ جس دن ہم اپنے طور پر قرآن کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے، اس دن ہم اسلام کو بچانے نیز عورتوں کو چودہ سو سال کی محرومی و بد نصیبی سے نکال کر آزادی و مساوات کی روشنی میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لوگ مجبوری کی بنا پر نہیں بلکہ محبت و مسرت سے مذہب پر عمل کریں گے۔ زندگی سے اکتاہٹ اور بوریت ختم ہو جائے گی۔ نماز بھی ہو گی اور کھیل تماشا بھی۔ یوں ہم ایک دل پسند ہیرے کی طرح اسلام کی خوبصورت تعبیر ملاحظہ کر سکیں گے۔ ۵۳؂جدید تعلیم یافتہ دانشور اور سکالرزمستشرقین کی ہم نوائی میں اس تصور کے حامی ہو گئے کہ ترقی و تبدیلی، جو کہ قانون ارتقا کا جزو لا ینفک ہے، کواسلام پربھی لاگو ہونا چاہیے اور قدیم اسلام کی جگہ ایک جدید لبرل اسلام سامنے آنا چاہیے:

"Just as the Martin Luther broke down the barriers of dogma in Christianity and Moses Mendelssohn sought to bring a progressive reformed version of Judaism to the Jews, so Islam must also be recognized and given its place the by the Orthodox."(54) 

مصر کے معروف دانشور اور سکالر ڈاکٹر طہ حسین نے مصریوں کو مغربی تہذیب اپنانے کی پر زور دعوت دی ۔وہ کہا کرتے تھے کہ مصری زندگی اپنے مظاہر کے اختلاف کے ساتھ خالص مغربی ہے۔ لہٰذا مصر کو مشرق کا حصہ اور مصری فکر کو ہندوستان یاچین کی طرح مشرقی فکر کہناکم عقلی اور سطحیت ہے۔ ہمیں اہل یورپ کے طریقہ پر چلنا چاہیے اور انہی کی سیرت و عادات کو اختیار کرنا چاہیے۔ درحقیقت عصر حاضر میں ہمیں یورپ سے ایسا رابطہ اور قرب چاہیے جو روز بروز بڑھتا رہے یہاں تک کہ ہم لفظ اور معنی حقیقت اور شکل ہر اعتبار یورپ کا ایک حصہ بن جائیں۔ ۵۵ ؂ ڈاکٹر طہ حسین عربی ادب کو دینی علوم کے تعلق سے یکسر آزاد کر دینے کے حامی ہیں۔وہ اس سلسلہ میں تحقیق پر ،قومی احساسات اورمذہبی رجحانات و میلانات کوبالائے طاق رکھ کر اس فلسفیانہ طریقہ کا اطلاق کرنا چاہتے ہیں جس کی ابتداڈیکارٹ نے کی تھی۔ ۵۶؂ ڈاکٹر صاحب اس بات سے انکاری ہیں کہ کعبہ کی بنیاد ابراہیم اور اسمعیل علیھم السلام نے رکھی تھی،بلکہ ان کے نزدیک یہ دونوں شخصیتیں کوئی تاریخی وجود ہی نہیں رکھتیں۔آپ کے خیال میں قرآن کی سات مشہور قرأتیں بھی حضورؐ سے ماخوذنہیں ہیں۔۵۷؂ 

پاکستانی اسکالراور دانشور ڈاکٹر فضل الرحمن کے نزدیک مسلمانوں کو مغربیت اختیار کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مغربی تہذ یب اپنانے کے باوجود مسلمان مکمل مسلمان رہ سکتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ بعض مسلم اورغیر مسلم اسلام کو ایک مخصوص طرززندگی سمجھتے ہیں جس میں مشکل ہی سے کوئی تبدیلی ممکن ہے، حالانکہ اسلام کے بہت سے غیر مسلم طالب علم مثلاً پروفیسر گسٹاف اے وان گرونیبام کے نزدیک اسلام دراصل کسی تہذیب و ثقافت کا نام نہیں بلکہ قرآن و سنت کے فراہم کردہ کچھ اصول و ضوابط کا نام ہے جس میں وقت اور ضروریات سے توافق وتطابق کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ ۵۸؂ ڈاکٹر فضل الرحمن قرآن میں بیان کردہ قصصِ انبیاء کی تفصیلات کو بعینہ وحی خداوندی ماننا ضروری خیال نہیں کرتے۔ ۵۹؂ان کے مطابق مسلمانوں میں پانچ نمازوں کا تصور حدیث کی بعد میں اٹھنے والی لہر کانتیجہ ہے جبکہ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں۔ ۶۰؂

چونکہ حدیث اور جدید مغربی تہذیب کو یکجا کرنا ممکن نہیں اور بقول علامہ محمد اسد حدیث کو نظر انداز کر کے قرآنی تعلیمات کو آسانی سے مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے ،۶۱؂ لہٰذاحدیث پر اعتراض جدید تعلیم یافتہ مسلم دانشوروں کے ہاں ایک فیشن بن گیا۔ وہ بڑے زور و شور سے حدیث کو ناقابل اعتبار روایات پر مبنی اوراسلام کاغیر ضروری حصہ قرار دینے لگے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن کے نزدیکحدیث ایک تاریخی افسانہ ہے جس کا مواد مختلف ذرائع سے اکٹھا کیا گیا۔۶۲؂ سنت محض ابتدائی مسلم سوسائٹی کی عملی زندگی کا لفظی اظہار ہے اور ایک زندہ معاشرے کے طرز عمل میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ بنا بریں حدیث کوئی دائمی نمونہ عمل نہیں۔۶۳؂ غلام احمد پرویز بھی احادیث کو فرضی اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق آج احادیث کے نام سے ہمیں جو کچھ ملتا ہے، یہ محض مسلمانوں میں مروج باتیں تھیں جن کو غلط طور پر حضور کی جانب منسوب کیا جاتا تھا ۔ بعد ازاں امام بخاری اور دیگر حضرات نے ان باتوں کو جمع کر کے کتبِ احادیث کی شکل دے دی ۔۶۴؂مستشرقین سے متاثر ہو کر اور بھی متعددمسلم دانشوروں نے حدیث کاانکار کیا ہے۔ ۶۵؂ 


حوالہ جات و حواشی

1. See: "Supernatural Religion", published by Longman, London,1874, Vol. II., pp. 491-492.
2. See for detail: Kant, Immanuel, "Religion within the Limits of Reason Alone", New York, 1960.
3. Vide, Muier, William, "Muhammad and Islam", London Religion Trackt society, N.D., pp. 22-24. Mohammad Khalifa, "The Sublime Quran and Orientalism", London & New York, 1983, p.112.

سر سید احمد خاں،سیرت محمدی، لاہور، مقبول اکیڈمی،۱۹۹۷،ص۲۳۲۔۲۳۳۔

4. Watt, W. Montgomery, "Muhammad: Prophet and Statesman", Oxford University Press, 1958, pp.14-17.
5. Hume, David, "Enquiries concerning the Human Understanding", edited by L.A. Selly, Bigge 2nd ed; Oxford, 1893, p.119.
6. Ibid.p.114. 
7. Lawton, J.S. Dr., "Miracles and Revelation", London, 1959, p. 84.
8. Ibid. p. 100.
9. "Supernatural Religion", Op. Cit.. Vol.II. p.486.
10. Bashir Ahmad Siddiqi, Dr. Professor, "Modern Trends in Tafsir Literature-Miracles", Lahore, Facilty of Islamic and Oriental Learning, University of the Punjab, 1988, p.8.
11. Sale, George, "The Koran", New York, 1890, p .50.
12. Watt. W. Montgomery, Op. Cit. p. 39. "Encyclopaedia of Religion and Ethics|, edited by James Hastings, New York, Charles Scribner's Sons,1930, Vol. X, p. 540. Brown, Daniel, "A New Introduction to Islam", United Kingdom, Blackwell, 2004, p. 65. "The New Encyclopaedia Britannica", 15th edition,1986, Vol. 22, p. 9. Bell, Richard, "Introdution to the Quran", Edinburgh University Press, 1963, pp.161-163.
13. Jeffery, Arthur, "Muhammad and his Religion", Indiana Polus, 1979, p. 47.
14. Idem, "Materials for the History of the Texst of the Quran", Leiden, E. J. Brill, 1937, pp. 3-10. 
15. Palmer, E. :The Koran with an Introduction" by R Nicholson, London, Oxford University press,1928,p,53.

۱۶۔ رحمت اللہ کیرانوی، بائبل سے قرآن تک(مترجم،اکبر علی)کراچی، مکتبہ دارلعلوم،۱۳۸۹ھ،جلددوم،ص۳۶۵۔

17. Goldziher, Ignaz, "Muslim Studies", Translated by C.R.Barber and S.M.Stern, Chicago; IL Aldine Publishing, 1973, Vol.II, 18. Guillaume, Alferd, "The Traditions of Islam", Beirut, Khayats, 1960, p.15.
18. Tor Andrae, "Muhammasd, The man and his Faith", translated from German by Theophil Menzel, London,George Allen and Unwin,1956, pp.143, 191.
19. Muir, William, Op.Cit.p.47. Watt, W. Montgomery, Op. Cit. p.14. Gib, H.A.R, "Mohammemanism", London,  Oxford, 1964, p. 25.
20. Muir, William, Op,Cit.p.126.
21. Tor Andrae, Op. Cit. p.147. Sale, George, Op. Cit. p. 38. Watt, W. Montgomery,Op.Cit.p.105.
22. Bell, Richard, Op.Cit. pp.156-161. Muir,William, "The life of Mahomet", London, Smith, Elder & Co.1877,  Vol.2.pp.141-145. 
23. Watt, W. Montgomery, Op. Cit. p.108.
24. Tor Andrae, Op.Cit. p.147. Sale, George,Op. Cit. p.38. Menezes,F.J.L, "The Life and Religion of Mohammad, the Prophet of Arabian Sands", London,1911, pp. 63,165. Wollaston, A. N, "The Religion of the Koran", Lahore, Sh. Muhammad Asharf, 1965, p.27.
25. Watt, W. Montomery, "Muhammad at Madina", Karachi, Oxford University Press, 1981, p.277.
26. Mohammad Khalifa, Op.Cit. p.157. 
27. Shacht, J. "Introduction to Islamic Law", Oxford, 1964,p.202.
28. Coulson, N. J., "Conflicts and Tentions in Islamic Jurisprudence", London, The University of Chicago press, N.D., p.78. "Encyclopedoia of Crime and Justice", New York, The Free Press, 1983, Vol.1, p.194.
29. "The New Encyclopaedia Britannica", Chicago, 1986, Vol.18, pp.996-997.
30. Kenneth Cragg, "The Call of Minaret", New York, Oxford University Press, 1956, p.17.
31. Idem, "Islamic Surveys-3: Counsels in Contemporary Islam", Edinburgh, Edinburgh University Press,1965,p.107.
32. Idem, "The Dome and the Rock: Jerusalem Studies in Islam", S.P. C. K; London, 1964,p.135.
33. Hitti, Philip. K, "Islam and the West", New Jersey, 1962, p.21. 
34. Smith, Welfred Cantwell, "Islam in Modern History", New Jersey, Princeton University Press, 1957, pp.178,204.
35. Ibid. pp. 273,274.
36. Goitien, S. D.. "Jews and Arabs: Their Contacts through the Ages", New York, Schockan books, 1955, pp.129-130.
37. Nadave Safran, "Egypt in Search of Political Community: An Analysis of the Intellectual and Political Evolution of Egypt", 1804-1952. Cambridge, Havard University Press, 1961,p.80. 
38. Ibid,pp.95-97.
39. Vide, Muhammad Imran Moulana, "Distortions about Islam in the West", Lahore. Malik Siraj & Sons,1979,p.13.

۴۰۔ اسلامی تاریخ و تہذیب سے متعلق استشراقی تحریروں کے مبنی بر تعصب و عناد ہونے کا اندازہ اس حقیقت سے لگایاجا سکتاہے کہ خود بہت سے مغربی زعماء اور اہل قلم نے اس ضمن میں استشراقی تحرورں کو مسلمانوں کیخلاف صلیبی جنگوں کے تسلل کا نام دیا ہے۔مثلاًملاحظہ ہو:السباعی، محمد مصطفی،ڈاکٹر،السنۃ ومکانتہا فیالتشریع الا سلامی،القاہرہ ،مکتبہ دارلعروبہ شارع الجمہوریہ،۱۹۶۱،ص۳۲۔

Loon Handrik Van, "Tolerance", New York, The Sun Dial Press, 1939, p.114.
41. Wright, Thomas, "Early Christianity in Arabia", London, 1855, p,152.
42. Hitti, P. K. "History of the Arabs", London , Macmillan, 1968, p.147. 

مذکورہ حوالے سے J.J.Saunders بھی ہٹی کا ہمنوا ہے۔ دیکھیے:

Saunders, "A History of Medievel Islam", London, Routledge and Kegan Paul, 1965, p. 14.

۴۳۔ حامدی، خلیل احمد(مرتب)،نظام اسلام مشاہیر اسلام کی نظر میں،لاہور،اسلامک پبلیکیشنز،۱۹۶۳،ص۴۵۲۔

۴۴۔ ابو الحسن علی ندوی، مولانا،مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش،کراچی، مجلس نشریات اسلام،۱۹۸۱، ص۲۶۵۔۲۶۶۔

45. Maryam Jameelah, "Islam and Modernism", Lahore, 1977, p.239.
46. Ziya Gokalp, "Turkish Nationalism and Western Civilization", New York, 1959, pp. 60,271,302.
47. Armstrong, H.G, "The Gray Wolf", New York, Capricon Books, 1961, pp.199-200. 
 48. Irfan Orga Margarate, "Ataturk", London, 1962, p. 273.
49. Ibid. pp.237,238,297.
50. Ibid. p. 280.

ترکوں کو اپنی اسلامی شناخت سے دور ہٹانے،اسلامی اتحاد کو ضرب لگانے کے خاطر انہیں اپنی اصلی قومیت کااحساس دلانے کے لیے،جس کا دارامدار نسل اور مادری زبان پر ہے،اورانہیں یہ باور کرانے کے لیے کہ وہترک پہلے ہیں اور مسلمان بعد میں، مستشرقین کی کاوشیں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔ ان استشراقی کوششوں کے قدرے تفصیلی مطالعہ کے لیے مثال کے طور پر دیکھؤ: اکمل ایوبی،ڈاکٹر،مستشرقین اور تاریخ ترکی،در،ماہنامہ ’معارف‘اعظم گڑھ،اکتوبر۱۹۸۳ء،ص۲۵۱۔۲۶۰۔

۵۱۔ عالم اسلام کے حکمران طبقہ کے استشراقی ومغربی فکرسے تاثر کے نتیجہ میں تجددو مغربیت کی طرف راغب ہونے سے متعلق یہ نکات مولانا ابوالحسن علی ندوی کی،مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش ، سے اخذکے کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہوں مذکورہ کتاب کے صفحات۱۶۲۔۲۲۵۔ 

52. See for detail: Smith, Wilferd Cantwell, Op.Cit .pp.55-73.
53. Jafri, Fareed S, "The Need for a Re-evaluation of Islam in Pakistan", the Pakistan Times Lahore, August 11,1967.
54. Fyzee, Asaf A, "A Modern Approach to Islam", Bombay, Asia publishing House, 1963, p.107.

۵۵۔ طہ حسین،ڈاکٹر،مستقبل الثقافۃ فی مصر،قاہرہ،۱۹۳۸ء،ص۳۱۔۴۴۔

۵۶۔ وہی مصنف، الادب الجاھلی،قاہرہ، ۱۹۲۷ء،ص۶۵۔۶۸۔

۵۷۔ چارلس سی آدم، اسلام اور تحریک تجدد مصر میں (مترجم،عبدالمجید سالک)، لاہور، مجلس ترقی ادب، ۲۰۰۲۔ ص ۳۷۰، ۳۷۳، ۳۷۴۔

58. Fazlu-Rahman, Dr, "What is Islamic Culture?", The Light, Lahore, March 24,1973, p.5.
59. Idem, Weidenfield and Nicholson, London, 1996, p.16.
60. Ibid.p.36. 
61. Muhammad Asad, "Islam at the Cross Roads:, Lahore, Arafat Publications, 1955,pp.112-130.
62. Fazlu-Rahman, Dr, Weidenfield and Nicholson, Op.Cit. p.14.
63. Ibid. p.56.

۶۴۔ پرویز ،غلام احمد ، مطالب الفرقان ، جلد چہارم ،لاہور،ادارہ طلوع اسلام،۱۹۸۱ء ،ص۳۴۳۔۳۵۳۔ 

عالم اسلام اور مغرب

Since 1st December 2020

Flag Counter