مدرسہ ڈسکورسز کی اختتامی نشست کا احوال

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

مدرسہ ڈسکورسز کا سمر انٹینسو 14 جولائی تا 17 جولائی بھوربن مری میں منعقد کیا گیا۔ ورکشاپ کا عنوان " فلسفہ، کلام اور جدیدیت" تھا۔ ان عنوانات پر ملک کے چنیدہ اہل علم کو اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا جن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی، ڈاکٹر محمد خالد مسعود، ڈاکٹر زاہد صدیق مغل، ڈاکٹر حسن الامین اور خورشید احمد ندیم شامل ہیں۔ ۱۴ جولائی کو پہلے سیشن میں ڈاکٹر سید محسن نقوی کی گفتگو کا عنوان تھا Philosophy in Shi’i Intellectual Tradition۔ اسی دن ظہر کے بعد کے سیشن میں Goodness and Badness in Human Actions کے عنوان پر مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر، مولانا زید حسن اور ڈاکٹر زاہد صدیق مغل نے اظہار خیال کیا۔ دوسرے دن کے پہلے سیشن میں  Islam and Modernity  کے عنوان پر جناب ڈاکٹر خالد مسعود کا پرمغز لیکچر ہوا جبکہ دوسرے سیشن میں Secularism in Pakistan کے عنوان پر جناب خورشید احمد ندیم نے اور  Post Islamism  کے عنوان پر ڈاکٹر حسن الامین نے شرکاء کی راہنمائی کی۔ تیسرے  دن کے سیشن  میں مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر نے Charles Taylor  کی کتاب A Secular Age  کے منتخب مباحث کا تعارف پیش کیا۔

چوتھا دن ورکشاپ کا اختتامی دن تھا جس میں ممتاز اہل علم کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی جن میں چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد  کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد، البصیرہ ٹرسٹ کے چئیرمین جناب ثاقب اکبر، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے پروفیسر ادریس احمد آزاد اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر و شیخ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ علامہ زاہد الراشدی شامل تھے۔ اختتامی نشست میں مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر نے مہمان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مدرسہ ڈسکورسز پروگرام کا تفصیلی تعارف پیش کیا، شرکاء میں سے چند احباب نے پورے پروگرام کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیے اور آخر میں مہمان گرامی نے اپنے وقیع خیالات سے شرکاء کو مستفید کیا۔ اختتام پر سب شرکاء اور مہمانان خصوصی کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔


شرکاء کے تاثرات


مدرسہ ڈسکورسز کے تینوں بیچز کے منتخب شرکاء نے اختتامی نشست میں حسب ذیل تاثرات پیش کیے۔

مولانا عبد الغنی محمدی

میں دو چیزیں بیان کرنا چاہوں گا۔ پہلے وہ چیزیں جو ہم نے یہاں سے سیکھیں اور دوسری وہ چیزیں جو مجھے لگتا ہے کہ اس کورس کے مسائل ہیں۔  ہم نے اس کورس میں انگلش زبان سیکھی جس کا ہمیں معاشرتی زندگی میں بہت فائدہ ہوا۔ کئی جگہ پر جاب کے لیے انٹرویوز اسی بنیاد پر بہت اچھے ہوئے اور کئی دیگر جگہوں پر پروفیشنل فیلڈ میں بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔  اس کورس سے قبل سائنس اور فلسفہ سے ہماری آشنائی نہ ہونے کے برابر تھی، مدرسہ ڈسکورسز کے ذریعہ ان دونوں موضوعات سے بہت اچھی آشنائی ہو گئی۔ورلڈ ویو کیا ہوتا ہے، کیسے بنتا ہے اور کون کون سی چیزیں اس کا حصہ ہوتی ہیں، مختلف ادوار میں کون سے ورلڈ ویو رہے، ان کے اثرات کیا تھے۔ اس سب کا   پہلا تعارف اسی کورس میں ہوا۔ فلسفہ کی تاریخ عا م فہم انداز میں، بڑے بڑے فلاسفہ کا تعارف، فلسفے کے مختلف رجحانات اور مناہج کا تعارف بھی اس کورس کے فوائد میں شامل ہے۔ اپنی تراث ہم مدارس میں پڑھتے ہیں، لیکن مدرسہ ڈسکورسز میں اس کو مختلف انداز و زاویہ سے دیکھنے اور گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔  اس سے ہمارے  علم و فکر اور مطالعہ کے موضوعات میں وسعت آئی۔

اس کورس کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایسا لگتا رہا کہ یہ سب ابحاث عملیت سے خالی ہیں کہ جن کے آخر میں ہم وہیں کھڑے ہوتے ہیں جہاں پہلے تھے۔ یہ سوال پیدا ہوتا رہا کہ آخر سال بسال ان مباحث کو دہرانے کا فائدہ کیا ہے۔ ایک اور چیز یہ محسوس ہوئی کہ بجائے معاشرے پر کوئی مثبت اثر ڈالنے کے  ہم اسی رائج فکر کے پیچھے چلنے اور اسے قابل قبول بنانے میں اپنا وقت لگا رہے ہیں۔ اسی طرح  عقلی مباحث میں ایسا محسوس ہوتا رہا کہ کسی خاص موقف کے پیچھے ہی تقلیدی انداز میں  چل رہے ہیں۔ ایسا بھی لگا کہ بجائے مذہب کو معاشرے میں قابل قبول بنانے کے لیے اسے عقلی طور پر ثابت کرنے کے ہم خود ہی عملی طور پر مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ اطمینان کے لیے یہ بات بہرحال ذہن میں رہی کہ تہذیبوں کے مسائل  کوئی ایک آدھ نشست میں حل نہیں ہوتے، اس کے لیے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ اس لیے اس پراسس کا حصہ بننا بہرحال مستقبل میں مفید ثابت ہو گا۔ اسی طرح استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی کی ایک بات بھی اطمینان دلاتی رہی کہ جب ہم کسی جدید علمی ڈسکورس کے ساتھ منسلک ہو ں گے تو جہاں علمی ترقی ہو گی، وہیں کچھ ایسے مسائل بھی پیش آئیں گے جو بہرحال کئی حوالوں سے خطرناک ہوں گے لیکن ان خطرات سے گھبرا کر اگر کنارہ کشی اختیار کر لی جائے گی تو اہل علم پر عائد ایک بہت بڑی ذمہ داری سے روگردانی کا ارتکاب ہوگا۔ اس لیے حوصلے و صبر کے ساتھ ان مسائل کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا زید حسن

میں مدرسہ ڈسکورسز کے تجربہ سے متعلق دو باتیں خاص طور پر ذکر  کرنا چاہوں گا۔ مدرسہ ڈسکورسز کے اساتذہ کا انداز تعلیم بہت ہی اہم تھا۔  انہوں نے اپنی کوئی سوچ، کوئی خاص اپروچ یا کوئی خاص نتیجہ طلبہ پر مسلط نہیں کیا  بلکہ ان کے لیے مکمل طور پر سپیس چھوڑی اور عملا یہ کہا کہ چیزوں کو آپ خود سمجھیں، پرکھیں اور جو نتیجہ آپ خود اخذ کریں، وہی نتیجہ آپ کے لیے اہم ہے۔ اس کے ساتھ  علمی میدان میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کا رویہ بھی اساتذہ کے طریق تدریس کا اہم حصہ رہا۔ ہمارا پہلا بیچ تھا، ہمارا تعلق بہ نسبت دوسرے  بیچز کے استاد ابراہیم موسی صاحب سے زیادہ رہا۔ ہم نے ان سے زیادہ چیزیں پڑھیں، ان کا رویہ اور دیگر سب اساتذہ کا رویہ ہمارے ساتھ ایسا تھا کہ بسا اوقات ہم زبان حال سے کہہ رہے ہوتے کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے، ہم میں یہ صلاحیت نہیں ہے۔ لیکن وہ کہہ رہے ہوتے کہ نہیں، تم میں بہت صلاحیت ہے، تم یہ کام کر سکتے ہو۔ اس انداز سے انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی۔

اس کورس کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ ہمیں اس میں ہر چیز متحرک نظر آئی، زندہ  نظر آئی۔ صرف ایک چیز کے بارے میں یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ جامد ہے لیکن اس کا جمود بھی دوسری چیزوں کو حرکت دینے کے لیے تھا۔ یہ جمود تکثیریت اور تنوع کا تھا لیکن ظاہری بات ہے کہ اسی تکثیریت اور تنوع نے سارے کے سارے کورس کو متحرک بنا دیا۔ مدرسہ میں پڑھنے اور مدرسہ ڈسکورسز میں پڑھنے میں جو بنیادی فرق مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوا، وہ بھی یہی ہے کہ وہاں یہ تنوع نہیں تھا اور یہاں یہ دیکھنے اور برتنے کو ملا۔

مجھے ذاتی طور پر یہ فائدہ بھی ہوا کہ مدرسہ سے نکلنے کے بعد میں کچھ فکری و عملی مسائل کی وجہ سے  بہت زیادہ انگزائٹی اور ڈپریشن میں چلا گیا تھا۔  ان مسائل کو حل کرنے میں مدرسہ ڈسکورسز نے بہت بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ مسائل ایسے تھے کہ جن کے زیر اثر میں یا تو سماجی دباو میں رہ کر مدرسہ کی دی ہوئی لائن پر ہی چلتا رہتا یا پھر اس سے بالکل باغی ہو کر روایت پرستی تو ایک طرف، شاید مذہب ہی کو خیر باد کہہ دیتا۔ مدرسہ سے نکلنے کے بعد ان فکری، عملی اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اپنی روایت سے ایک تنفر پیدا ہو گیا تھا۔میں یہ سمجھ رہا تھا کہ جو کچھ مدرسہ میں پڑھا ہے وہ بالکل فضول ہے اور اس کا عملی دنیا سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز میں اساتذہ نے یہ ادراک پیدا کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے جو پڑھا ہے وہ فضول نہیں ہے۔ اس کو کیسے استعمال کرنا ہے، روایت کو کیسے دیکھنا ہے اس کو کیسے برتنا ہے، یہ سب کچھ ہمیں سکھایا۔ اس مرحلے کی اہم بات یہی ہے کہ یہ بات سمجھاتے ہوئے بھی کوئی بات یا فکر ہم پر مسلط نہیں کی۔ یہ بتا دیا کہ آپ خلاء میں کھڑے نہیں ہو سکتے، آپ کو بہرحال اپنی روایت سے جڑ کر رہنا ہے۔ ہاں جڑنے کا انداز روایت پسندانہ ہو یا روایت پرستانہ یا پھر آپ کوئی الگ اپروچ اپنا لیں لیکن بہرحال روایت کی اہمیت کے پیش نظر اس سے تعلق استوار کرنا بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر فائزہ محمد دین

جیسے زید حسن نے کہا کہ مدرسہ سے نکلنے کے بعد کچھ مسائل کی وجہ سے انسان روایت سے کٹنے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی حالات مجھے بھی پیش آئے اور یہ کوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔ کیونکہ جب آپ نے جو پڑھا ہے اس کا معاشرے اور عملی زندگی کے ساتھ آپ کو تعلق سمجھ نہ آئے تو ایسا ہو جایا کرتا ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز نے اسی علم کو آج کی دنیا اور ماحول سے ریلیونٹ بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ میں جب اس کورس کا حصہ بنی تو اس وقت پی ایچ ڈی کی طالبہ تھی۔ نیپال میں ڈاکٹر سعدیہ یعقوب سے ملاقات ہوئی جو جینڈر ایشوز پر بہت مہارت رکھتی تھیں، ان سے مجھے اپنے پی ایچ ڈی کے کام میں بہت راہنمائی ملی۔  میرا موضوع جینڈر سٹڈیز ہے، مدرسہ ڈسکورسز میں ان ایشوز پر بہت بات ہوتی تھی اور بسا اوقات کافی گرما گرم بحث بھی ہو جایا کرتی تھی، اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔ میں دیانت داری سے سمجھتی ہوں کہ ابھی بھی جینڈر کے حوالے سے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ہر میدان میں عورتوں کا دس فیصد تک ہی حصہ ہے، جب معاشرے میں عورتیں پچاس فیصد ہیں تو ان کا حصہ بھی پچاس فیصد ہی ہونا چاہیے۔ مدرسہ ڈسکورسز میں مجھے یہ چیز نہیں محسوس ہوئی کہ عورتوں کو علمی طور پر ایک کنارے پر کر دیا گیا ہو۔

اسی کورس سے ایک اور چیز بھی سیکھی کہ جیسے رسول اللہ ﷺ نے کچھ کام شروع کیے اور بعد میں مسلمانوں نے ان کو بہت ترقی دی، جیسے ربوٰ کا ایک پراجیکٹ اس دور میں شروع ہوا اور اسی کی بنیاد پر آج مسلمانوں نے بینکنگ کا ایک بہت بڑا سسٹم شروع کر دیا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اس معاشرے میں عورتوں کی حالت بہتر کرنے کا جو پراجیکٹ شروع کیا تھا، اس کو بھی آگے بڑھانا چاہیے اور ان کو معاشرے میں وہ حیثیت دینی چاہیے جو بطور انسان ان کی  بنتی ہے، یعنی انہیں پہلے عورت کے طور پر نہیں بلکہ پہلے انسان کے طور پر دیکھ کر ان کی حیثیت کا تعین ہونا چاہیے۔  

سیکولرزم پر ہم نے بہت بات کی لیکن میرے خیال میں دو عالمی جنگوں کو ہم بہت کم ڈسکس کر رہے ہیں، میرے خیال میں مغربی دنیا میں مذہب سے جو تنفر پیدا ہوا، وہ انہی  دو جنگوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ ان میں جس ظالمانہ طریقے سے عیسائیوں نے عیسائیوں کا اور یہودیوں کا قتل عام کیا تھا، پوری دنیا میں انسانوں نے اس کے نقصانات برداشت کیے تھے، لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی تھیں، ان جنگوں کے بعد لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اگر دنیا میں امن چاہتے ہیں تو ہمیں انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کو دیکھنا ہوگا نہ کہ کسی ایک مذہب کی بنیاد پر۔ اسی سے پھر ہیومن رائٹس کی روایت وجود میں آئی۔ اس لیے ان جنگوں کو فوکس کرنا بہت ضروری ہے۔

اسی طرح ہم اصطلاحات کے استعمال میں احتیاط نہیں کر رہے، مثلا جب ہم مغرب یا ویسٹ بولتے ہیں تو اس کو ایک اکائی کے طور پر لیتے ہیں، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔ ویسٹ میں بہت سے ملک ہیں، بہت سی قومیں ہیں، بہت سے علمی رجحانات ہیں۔ اس لیے اسے اسی تناظر میں دیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح اسلام کی تفہیم میں بھی یہی کمی نظر آتی ہے، کیونکہ اسلامی دنیا بھی ایک نہیں ہے، اس میں بھی بہت سی Dimensions ہیں۔اس میں انڈونیشیا کی مثال بھی موجود ہے جہاں ہر عورت کے لیے مسجد میں جانا ممکن ہے اور آسان ہے، حالانکہ بہت سے اسلامی ممالک میں عورتوں کو یہ سہولت میسر نہیں۔ اس لیے پوری اسلامی دنیا کو ایک اکائی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔  اس کورس میں مجھے اس چیز کی بہت کمی نظر آتی ہے۔   میری تجویز ہے کہ اس کورس کے اگلے مراحل میں تکثیریت کی اس تفہیم کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مفتی امجد عباس

مدرسہ ڈسکورسز نے  علمی میدان میں ایک بہت بڑی ضرورت کو پورا کیا ہے، اس نے ہمیں تراث اور روایت کے ساتھ بہت خوبصورت انداز میں جوڑ دیا ہے۔ میرے خیال میں سر سید کے لٹریچر کو کورس کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے،اس سے اسلام یا مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں معاصر مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ میری دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے۔

مولانا نعیم الدین الازہری

یہ پروگرام انتہائی مفید پروگرام تھا جس میں شرکت کر کے بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔ لیکن جب شروع میں ہم اس پروگرام میں شریک ہوئے تو جیسے ہماری عادت ہے کہ ہمارے سینسر فورا آن ہو جاتے ہیں اور سازش کی بو آنے لگتی ہے۔ انگلش سے اتنی زیادہ واقفیت نہیں تھی، اس لیے جب مدرسہ کے ساتھ ڈسکورس کا لفظ دیکھا تو ذہن میں آیا کہ جس لفظ کے ساتھ ڈس لگ جائے تو ا س میں تو منفی معنی پیدا ہو جاتے ہیں، جیسے Dismiss , Disrespect , Disgrace  ہے، تو میں نے سوچا کہ یہ کہیں مدرسہ کو ڈس مس کرنے کی کوئی سازش تو نہیں ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ ڈس مسنگ نہیں ہے بلکہ ڈسکشن ہے، کہ مدارس کے لوگ مل بیٹھیں اور ان مسائل میں مباحثہ اور گفتگو کریں اور کوئی حل تلاش کریں۔ مدرسہ ڈسکورس کا یہ بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے کہ اس نے ہمارے لیے ڈسکشن کا بند دروازہ کھولا ہے، کیونکہ ہم لوگ مسالک کی چار دیواریوں میں بند ہیں، ایک ٹیبل پر مل بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، اور اگر بیٹھ بھی جائیں تو تیوری چڑھی رہتی ہے اور بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس حوالے سے مدرسہ ڈسکورسز کا یہ بہت بڑا ہم پر احسان ہے۔

دوسری چیز عمار صاحب کے بارے میں میں کہنا چاہوں گا کہ عام طور پر ہماری اپروچ ججمنٹل ہوتی ہے، کسی کے بارے میں ملنے سے پہلے ہی کوئی رائے قائم کر لینا، منفی تاثر بنا لینا۔ لیکن ڈاکٹر عمار صاحب کے مزاج میں جو دھیما پن ہے، ان کا جو نرم رویہ ہے، جو صبر و حوصلہ ہے اور جس انداز میں وہ بڑے بڑے مختلف فیہ مسائل کو لیتے ہیں، یہ قابل داد ہے۔ میں اس کو اکنالج کرنا چاہوں گا کہ اس سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

مجھے یہاں عبد الوہاب شعرانی ؒ کا طبقات الصوفیہ میں لکھا ہوا ایک قول یاد آتا ہے۔ انہوں نے لکھا : "العلم ثلاثة اشبار، عندما یدخل الرجل  فی الشبر الاول  یتکبر، و عندما یدخل فی الشبر الثانی یتواضع، و عندما یدخل فی الشبر الثالث یقول: انا لاادری "۔ ہم مدارس کے لوگ عام طور پر شبر اول میں ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے ہیں،  میرے جیسا کوئی نہیں والی کیفیت ہوتی ہے کہ میں نے جو بات کہہ دی وہ حرف آخر ہے۔ میری بات پر اگر کسی نے کوئی بات کہہ دی تو فتوی سنے گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مدرسہ ڈسکورسز  کا بہت اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہمیں شبر اول سے شبر ثانی کی طرف منتقل کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

ایک بات مزید یہ کہ ہم Epistemology یا تاریخ العلم سے بالکل آگاہ نہیں تھے، اس سے اور اسی جیسی بہت سی دیگر اصطلاحات سے سے اسی کورس کے ذریعہ واقفیت ہوئی۔ آخری بات یہ کہ یہاں جدیدیت کی بہت بحث ہوئی اور اس تناظر میں ہوئی کہ جیسے ہمیں اب وہی سب کچھ بھگتنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے جو کچھ یورپ ایک زمانے میں بھگت چکا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ تاریخ کے بہت سے ادوار میں ایسا ہوا کہ سیاسی اسلام شکست سے دوچار ہوا اور پھر روحانی اسلام یا صوفی اسلام اس کی مدد کر آیا اور ری وائیول ہوا۔ اس لیے ہمیں جدیدیت کو پڑھتے یا ڈسکس کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی ڈسکس کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا ڈاکٹر امیر حمزہ

مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ یہ مدرسہ کی ہی ایک ایکسٹینشن ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مدرسہ کی جو اصل روایت تھی یہ اس کو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے  تو بے جا نہ ہوگا۔  مدرسہ ڈسکورسز میں داخلے  سے ہمارے اندر جو واضح تبدیلی آئی ہے، وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے علم کے جو دو بنیادی رکن ہیں، سوال اور جواب، ان میں سے جواب کی اہمیت سے تو ہم واقف تھے  اور ہماری ساری علمی سرگرمی اسی جواب کی نفسیات کے گرد ہی گھومتی تھی، لیکن سوال کیا ہے ؟ سوال کی کیا اہمیت ہے، یہ کیسے تشکیل پاتا ہے اور اسے کیسے ٹیکل کیا جاتا ہے، علم کے اس دوسرے بڑے رکن، سوال، کی اہمیت احساس ہمیں ڈسکورسز کے بعد  آنے سے ہوا۔ ایک چیز کو مختلف جہتوں سے کیسے دیکھنا ہے، یہ ہم نے یہاں سیکھا ہے۔ اسی طرح شرح صدر کا ایک بہت سادہ سا مفہوم ہمارے ذہن میں تھا کہ جو کچھ سیکھا ہے، اس پر قناعت کر لینے کا نام شرح صدر ہے۔  ڈسکورسز میں شرکت کے بعد ہمیں اس شرح صدر کی حقیقت کا بھی ادراک ہوا کہ جس چیز کو ہم شرح صدر سمجھ رہے تھے، وہ تو حقائق سے نظریں چرانے اور آنکھیں بند کر لینے  کی کیفیت ہے۔ یہاں ہمیں  روایت کو درپیش معاشرتی چیلنجز سے آگاہی دی گئی   اور ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایک اور بڑی اہم چیز جو ہمیں یہاں سیکھنے کو ملی، وہ یہ تھی کہ جن لوگوں کے موقف کو ہم دور سے پڑھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کر لیا کرتے تھے، ہمیں براہ راست ان سے ان کا موقف سننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ اور یہ کوئی جدید انداز نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کا بھی یہی اسلوب ہے۔ قرآن کریم بدترین دشمن، فرعون، کا موقف بھی " وقال فرعون " کہہ کر نقل کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو آپ کا مخالف بھی ہے اس کا موقف اسی کی زبانی سمجھنا ضروری ہے، مدرسہ ڈسکورسز میں ہمیں یہی چیز سیکھنے کو ملی۔

ڈاکٹر سدرہ  ذوالفقار

مولانا امیر حمزہ صاحب نے جس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سوال کی اہمیت معلوم ہوئی، میں اس کے بارے میں یہ کہوں گی کہ آج کل سوال اٹھانا اور ہر چیز پر سوال اٹھا دینا، خواہ وہ سوال غیر متعلق ہی کیوں نہ ہو، ایک فیشن بن چکا ہے اور اسے  کسی کے intellectual ہونے کی نشانی کے طور پر لیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ کوئی صحت مند رویہ نہیں ہے۔ سوال اٹھانا اور متن یا موضوع سے متعلق سوال اٹھانا بہت اہم ہے، مدرسہ ڈسکورسز میں ہم ہر ہفتے اسی مشق سے گزرتے رہے کہ سوال کرنا ہے اور موضوع سے متعلق سوال کرنا ہے جس سے علم میں ترقی ہو اور موضوع سے متعلق کوئی مفید پہلو سامنے آئے۔

ایک اور چیز جو سیکھنے کو ملی کہ ہر نئی چیز کو گھسیٹ کر زبردستی اپنی روایت سے مسلک کرنا سود مند نہیں ہے۔ ہماری روایت کے اپنے معیارات ہیں، ویلیوز ہیں، کچھ حدود ہیں، ان کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ وقت کی دوڑ نے بہت سی چیزوں کو ناگزیر کر دیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر چیز کو ہی قبول کرتے جائیں۔  جب میں نے مدرسہ ڈسکورسز جوائن کیا تو بقول شخصے میں بہت کٹڑ، متشدد اور اسلامسٹ تھی اور الحمد للہ میں ابھی بھی اسی طرح کٹڑ، متشدد اور اسلامسٹ ہو ں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کورس کے مقاصد میں آپ کو زبردستی مولڈ کرنا یا آپ کو اپنی شناخت سے دور کرنا نہیں رہا۔  یہ ایک علمی سرگرمی ہے اور اسے ایک علمی سرگرمی کے طور پر ہی نبھایا گیا۔


مہمانان گرامی کے تاثرات


اختتامی نشست میں مدعو مہمانان گرامی نے پروگرام سے متعلق حسب ذیل  تاثرات کا اظہار کیا۔

جناب سید ثاقب اکبر

میں مدرسہ ڈسکورسز پروگرام کے غیر حاضر متاثرین میں سے ہوں، کیونکہ مفتی امجد صاحب مجھے کلاس کی ساری روداد سنایا کرتے تھے۔ میں اس  پروگرام  کے بارے میں سابقہ معلومات کی بنا پر بھی اور اس وقت جو شرکاء کے تاثرات ہیں، ان کی بنیاد پر بھی   اس کے نتائج کو بہت معجز آثار اور حیران کن سمجھتا ہوں۔ ہم نے جب مدرسہ میں ہوش سنبھالا تو یہ ماحول دیکھا کہ کہنہ کتابوں کی تدریس، اسلوب بیان اور اسلوب تحریر رائج ہے اور اس میں بدلاؤ پر کوئی بھی تیار نہیں۔ پھر جب  اما م خمینی کی قیادت میں ایران میں انقلاب آیا تو وہاں سے یہ آوازیں اٹھیں کہ حوزہ اور دانش گاہ کے مابین تعلق اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ چونکہ وہاں حکومت کی طرف سے بھی خاصی سرپرستی موجود تھی اس لیے وہاں اس سلسلے میں خاصا ارتقاء دیکھنے میں آیا۔لیکن میرے خیال میں پاکستان کو اس میں تقدم حاصل ہے کہ یہاں اس سے بہت پہلے کچھ تجربات کیے گئے  ہیں جیسے جامعہ بہاولپور اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔لیکن مدرسہ ڈسکورسز کے جو نتائج میں دیکھ رہا ہوں اور طلبہ و طالبات کے اظہارات نے مجھے حیران کر دیا ہے  اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس پروگرام کو یونیورسٹی کے نظام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

یہ تجربہ اپنے موضوعات کے تنوع اور اہمیت میں، اساتذہ کے طریقہ تدریس میں ممتاز ہے۔ اس میں لوگوں کو کسی خاص مکتبہ فکر کا پابند کرنے کی کوشش نہیں ہوتی  بلکہ افکار پیش کر کے، دلائل سامنے رکھ کے سامعین کو غوروفکر کرکے رائے اختیار کرنے کی آزادی دے دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور دانش و فکر کے فروغ کا یہی خوبصورت راستہ ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی انسان اس ڈسکشن سے گزرے اور یہ کہے کہ مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔  ہمارے مدارس میں یہ ایک کمی ہے کہ وہ ورلڈ ویو کیسے بنتا ہے، اس کو نہیں دیکھتے ہیں۔ اسلام کو تمدن و تہذیب کے چشمے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ ہم عام طور پر یہ نہیں دیکھتے کہ کائنات کی تخلیق و نظام کے بارے میں ہماری معرفت و شناخت  اور جو لوگ دین کو نہیں مانتے، ان کی معرفت و شناخت میں کیا فرق ہے اور اس کے معاشرے پر کیا اثرات ہیں۔  میرے خیال میں مغرب نے بھی انسانیت کو بہت کچھ دیا ہے۔ اس کی آزاد اندیشی یا آزادانہ سوچنے کی قدر کا ہی ہم دین نہیں دے سکتے، اس کی قدر کی جانی چاہیے  اور یہ آزاد اندیشی ہمیں اپنے لوگوں کو بھی دینی چاہیے۔

میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ جومفید چیز ہم جہاں سے لیں، اسے مذہب یا مسلک یا دین کے عنوان کی بجائے یہ کہہ کر لیں کہ جو چیز ہماری خرد کو اپیل کرتی ہے، وہ پھر ہماری ہے۔ کیونکہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور وہ خوشبو کی طرح سے پھیلتا ہے۔  لیکن اس میں ہمیں تھوڑا محتاط ہونا چاہیے کیونکہ جدیدیت کے تناظر میں جو مباحث ڈسکس کیے جاتے ہیں، وہ اگر جامد فکر و نظر سے دیکھے جائیں تو وہ آخر کار الحاد کی طرف لے جاتے ہیں، اس لیے ان میں روحانیت کی آمیزش ضرور رکھنی چاہیے تاکہ اس کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔ اس رویے سے ہم مغرب کی مددبھی کر سکتے ہیں۔  اسی طرح قدیم و جدید علم کلام پر بات کرتے ہوئے بھی اسی بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک اور بات جس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ اس ساری علمی سرگرمی کو فرقہ وارانہ رنگ سے بچانا چاہیے  اور اس وقت تک مدرسہ ڈسکورسز کی علمی سرگرمی الحمد للہ اس سے بچی ہوئی ہے۔

اسی طرح فلسفہ کو ہماری علمی دانش گاہوں کا حصہ بنانا چاہیے، ہمارے ہاں یا تو فلسفہ یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ہے ہی نہیں یا اگر ہے تو واجبی سا۔ طلبہ اسے پڑھتے نہیں اور اساتذہ پڑھانے میں وہ دلچسپی نہیں لیتے۔ اس پروگرام کے ذریعہ اگر دانش گاہوں میں فلسفہ کا احیاء ہو جائے تو بہت اچھا ہو۔

جناب ادریس احمد آزاد

سب سے پہلے میں مولا نا عمار صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اتنا اچھا پروگرام ان کی سربراہی میں پایہ  تکمیل کو پہنچا۔ میں نے  مدرسہ ڈسکورسز کے دو سمسٹرز کو سائنس پڑھائی ہے، اس لیے ساری ہی بات اسی حوالے سے کروں گا۔  میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں بہت کم سائنس پڑھائی گئی  اور میرے حساب سے یہ بہت زیادہ غلط ہوا۔ یہ بات درست ہے کہ فلسفہ و کلام انسان کو بحث و مکالمہ میں بہت ماہر بنا دیتے ہیں۔ یہ پروگرام تحقیق کا پروگرام تھا، اس میں جو کام ہوا وہ تحقیق کے دائرے میں ہی آتا ہے۔ اس پروگرام میں تحقیق کا ایک پہلو ہی سکھایا گیا۔ اس کے وژن میں علماء کی ایک ایسی جماعت تیار کرنا تھا کہ جو تنقیدی و تعمیری سوچ کا ایک فیبرک بن سکتی،  یہ ایک بہت بلند مقصد ہے اور اسی پر اس پورے پروگرام میں کام ہوا۔ مجھے سائنس کے کم ہونے کا گلہ اس لیے ہے کہ سائنس صرف موٹے موٹے مسائل کا نام نہیں ہے، جیسے نیوٹن کا قانون، کشش ثقل کو جان لینا وغیرہ۔ موجود دور میں فلسفہ و کلام اور مذہب کے دائرے سائنس کے دائروں کو چھو بھی نہیں سکتے، اس قدر اس میں وسعت آ چکی ہے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ فلسفہ کتنا بڑھ اور پھیل کر سائنس کے اندر آ گیا ہے۔ اپنے سپیکٹرم میں سائنس فلسفے سے بڑی ہو گئی ہے، اس کا اندازہ کرنا بھی عام ذہن کے لیے ممکن نہیں رہا۔

صرف تصور زمان و مکاں کو لیں یا صرف مابعد الطبیعات کے ان مسائل کو لیں کہ جن کو کانٹ پہلے سائنس سے جدا کر رہا تھا، وہ اب سائنس کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں تصور زمان و مکان آ جاتا ہے، اس میں انبیاء کے معجزات آ جاتے ہیں بلکہ انبیاء کے تمام معجزات سے کہیں بڑی باتیں آ جاتی ہیں۔ یہ معجزات بہت چھوٹے رہ جاتے ہیں ان باتوں کے مقابلے میں جو آج سائنس کر رہی ہے۔ صرف Parallel Realitiesکو ہی لے لیں، یہ کسی بھی مذہبی معجزے سے بہت بڑی اور عجیب و غریب بات ہے۔ اور یہی میرا پوائنٹ ہے کہ مدرسہ ڈسکورسز میں سائنس جتنی ہونی چاہیے تھی، اس سے بہت ہی کم پڑھائی گئی ہے۔اس وقت سائنس ایک ایسی قوت ہے جس نے پوری دنیا کے مذاہب کو چت گرا دیا ہے۔ اقبال نے کہا تھا۔ The birth of inductive intellect is the birth of Islam.۔ یعنی اسلام سے پہلے ہم جن چیزوں کو دیوتا سمجھ کر سجدہ کیا کرتے تھے، اسلام کے بعد ہم نے جانا کہ یہ تو ہمارے سامنے سجدہ ریز ہیں۔  رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی بہت بڑی حد فاصل ہے۔ اس سے پہلے کا انسان پتھر، درخت، جانور وغیرہ کو سجدہ کرتا تھا اور اس کے بعد کا انسان اپنے آپ کو ان سب کا مسجود سمجھتا ہے۔ یہ بہت بڑا فرق ہے۔

دوسری بات کہ اقبال کو بہت زیادہ اگنور کیا گیا، اگر آپ اس طرح کے سلیبس میں حسن حنفی اور اقبال کو نظر انداز کرتے ہیں تو مباحث کا کوئی مقصد نہیں رہ جاتا۔میرے رائے میں ان دو لوگوں کو باہر نکالنے سے آپ نے ان مباحث کو Creativeنہیں رہنے دیا۔ اگر آپ ان مباحث کو کری ایٹیو کرنا چاہتے  تو شاہ ولی اللہ سے لے کر حسن حنفی اور اقبال کو اس کورس میں بہت بڑی جگہ دینی چاہیے تھی۔ میں  بطور استاد یہ تجویز کروں گا کہ اس کورس میں آئندہ کے لیے اقبال کو ایک پورا کورس دیا جائے۔ میرے خیال میں جو مباحث ہم نے قطر میں سنے یا اس پورے کورس میں پڑھتے رہے، اقبال اور حسن حنفی کے بغیر وہ معنی نہیں رکھتے۔

جناب مولانا مفتی محمد زاہد

سب سے پہلے میں شکر گزار ہوں مولانا ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر اور ان کی پوری ٹیم کا کہ انہوں نے آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت کا موقع دیا۔ رات مجھ سے کچھ دوست پوچھ رہے تھے کہ آپ مدرسہ ڈسکورسز کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں نے ان کو کہا کہ یہ مدرسہ ڈسکورسز کے کسی بھی پروگرام میں میری پہلی شرکت ہے، اور اتفاق سے یہ اختتامی پروگرام ہے، گویا ہم ختم پڑھنے والوں میں شامل ہیں۔ لیکن ختم برکت کے لیے ہوتا ہے، ختم کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اس لیے امید ہے کہ یہ سلسلے کسی نہ کسی شکل میں چلتے رہیں گے۔ مجھے کچھ اندازہ تو تھا کہ اس پروگرام میں کس نوعیت کا کام ہو رہا ہے، مزید یہاں پر خصوصا مولانا عمار خان ناصر کی گفتگو میں اس پروگرام کا بڑا عمدہ تعارف اور نچوڑ آ گیا ہے۔ اسی کے ساتھ شرکاء کے تاثرات کے ضمن میں بہت سی باتیں ہمارے سامنے آ گئی ہیں۔ میں انہیں میں سے چند چیزوں کو لے کر کچھ گزارشات پیش کروں گا۔

سب سے پہلے میں مولانا عبد الغنی محمدی کے تاثرات پر بات کروں گا۔ مجھے ان کی گفتگو بہت خوش آئند لگی، انہوں نے شروع میں ہی کہہ دیا کہ میری گفتگو کے دو حصے ہوں گے۔ ایک اس پروگرام کے فوائد کے بارے میں اور دوسرا اس کے مسائل کے بارے میں۔ جب آپ کسی بھی علمی و فکری تعلیمی سلسلے سے وابستہ ہوں تو جہاں آپ کو اس کا احسان شناس ہونا چاہیے، اس کا سپاس گزار ہونا چاہیے، اس کے فوائد کا معترف ہونا چاہیے، وہیں اگر اس پروگرام میں کچھ ایشوز ہیں تو انہیں بھی بیان کرنا چاہیے، اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ آپ اس سلسلے کو اون کر رہے ہیں، اسے اپنا سمجھ رہے ہیں اور اپنی چیز کی جھاڑ پونچھ ہمیشہ جاری رہتی ہے، اس کو ہم نظر انداز نہیں کرتے، اس کی صفائی کا خیال رکھتے ہیں، اس پر نظر رکھتے ہیں کہ اس میں کوئی خرابی تو نہیں آ رہی، بالکل اس طرح کہ جیسے آپ کسی اور کی گاڑی استعمال کر رہے ہیں تو آپ کو اس کی خرابی کی کوئی فکر نہیں ہوگی کیونکہ آپ نے اسے واپس ہی کر دینا ہے، لیکن اگر آپ اپنی گاڑی استعمال کر رہے ہیں تو اس کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ پر نظر رکھتے ہیں اور اس کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویے سے کسی بھی سلسلہ تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے مجھے مولانا عبد الغنی کی اپروچ بہت عمدہ اور خوش آئند لگی۔

دوسری چیز جس کا مجھے کچھ اطلاعات اور مولانا عمار صاحب کے ذاتی ذوق کے پیش نظر کچھ اندازہ تھا، وہ  یہ کہ اگر بطور مسلمان ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اپنی تراث کو صحیح اور بھر پور انداز سے سمجھنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ درس نظامی میں ہم تراث ہی پڑھتے ہیں، لیکن جس زمانے میں ہم پڑھ رہے تھے، اس وقت بزرگ اس بات کو بارہا دہراتے تھے کہ یہ جو کتابیں اور فنون آپ پڑھ رہے ہیں، وہ محض آپ کو اس قابل بنانے کے لیے  ہے کہ بعد میں آپ اپنے مطالعہ میں از خود توسیع کر سکیں۔ جس زمانے میں مدارس میں باقاعدہ نصاب بندی نہیں ہوتی تھی، اس وقت جید و کہنہ مشق اساتذہ کا یہ معمول ہوتا تھا  کہ کوئی بھی کتاب پوری نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ جب اس کا اسلوب سامنے آ گیا یا اس کا ذائقہ چکھ لیا، اس کی اپروچ جب سمجھ میں آنے لگ گئی تو کہتے کہ باقی تم خود دیکھ لینا اور دوسری کتاب شروع کروا دیا کرتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ درس نظامی میں تراث کے مختلف شعبے شامل ہوتے ہیں، اورہر شعبے کا تھوڑا تھوڑا ٹچ ہوتا ہے، اس لیے یہ اسلوب اپنایا جاتا تھا۔ تراث کو اس انداز سے ہمارا فاضل سمجھنے کے قابل ہو جائے کہ اسے یہ لگے کہ تراث میرے سامنے وجود میں آ رہی ہے، مثلا فقہ کیسے صحابہ و تابعین سے ہوتے ہوئے، امام شافعی و دیگر ائمہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے وجود میں آ رہی ہے۔ بالکل جیسے بڑی بڑی بلڈنگز کے بننے کی موویز ملتی ہیں کہ وہ کیسے بنی ہیں۔  اسی طرح تراث کی بلڈنگ،  اس کی ایک طرح کی مووی ہمارے فاضل کے سامنے آ جائے، اس انداز سے تراث کو پڑھنا ضروری ہے، اس لیے مجھے اندازہ اور امید ہے کہ کم از کم فلسفہ و کلام کے حوالے سے اس پروگرام کے اندر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہو گی۔

ہمارے ہاں تراث سے جو بغاوت پیدا ہوتی ہے وہ بھی اسی لیے ہوتی ہے کہ ہم نے تراث کا تھوڑا سا ٹچ لیا ہوتا ہے، اسے پوری طور پر سمجھا نہیں ہوتا۔ جب ہم گہرائی میں جاتے ہیں تو اپنے اسلاف کی رائے سے ہم اتفاق نہ بھی کریں لیکن کم از کم ان کی ذہانت کے قائل اور اس سے متاثر ضرور ہوتے ہیں، حتی کہ تراث میں عقل کو سب سے کم استعمال کرنے والاطبقہ اہل ظاہر کا سمجھا جاتا ہے، اور ان کے بعد پھر حنابلہ آ جاتے ہیں، لیکن جب آپ ابن حزم، ابن تیمیہ اور ابن قیم کو دیکھیں گے تو آپ کو لگے گا کہ یہ بھی اپنے وقت کے بہت بڑے بڑے دماغ تھے۔  عام طور پہ درس نظامی پڑھتے ہوئے ہم ان اسلاف کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو بہت ہی سیدھے سادھے لوگ تھے، جب ان کا یہ حال ہے تو جو واقعتا اذکیاء امت شمار کیے گئے ہیں، وہ کس مقام پر فائز ہوں گے۔ تراث فہمی سے ہمیں کم از کم یہ اعتماد تو حاصل ہوگا کہ ہم کوئی غبی دماغوں کے راستے سے یہاں نہیں پہنچے بلکہ بہت اونچے اونچے اور ذہین دماغوں کے راستے سے یہاں تک پہنچے ہیں۔

 میری ایک تجویز ہے، میں رات مولانا عمار صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آپ نے ماشاء اللہ دینی مدارس کے فضلاء کی کریم جمع کر لی ہے، ان کی ذہانت و صلاحیتوں کے اعتبا ر سے۔ اس پروگرام میں افراد سازی ہو رہی ہے، اس کے ساتھ اگر تھوڑی سی توجہ کورسز بنانے کی طرف بھی ہو جائے تو بہت اچھا ہے۔ اسی پراجیکٹ سے کوئی چھوٹا پراجیکٹ نکل آئے جیسے آج کل مغرب میں چل رہا ہے کہ غزالی کی آسان تفہیم کرا دی،  ابن رشد کی آسان تفہیم کرادی، اسی انداز سے اپنی تراث کی تفہیم، اس کے نچوڑ یا جیسے اس کی بلڈنگ کی مووی ہوتی ہے، اس انداز کے کورسز  یا لیکچرز یا پھر ڈاکومنٹریز کی طرف بھی توجہ ہونی چاہیے، اس سے اس کا فائدہ زیادہ عام ہو جائے گا۔

کورس کی ایک شریک ڈاکٹر فائزہ  نے یہ بھی بتایا کہ کورس کے دوران گرما گرم بحثیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ہماری تراث یوں ہی آگے بڑھی ہے۔  امام شافعی ؒ کے کریمانہ اخلاق کی انتہا یہ تھی کہ ان کے ایک شاگرد  غالبا یونس ان کا نام تھا، ان کے ساتھ ان کی کچھ کھٹ پٹ ہو گئی تو امام شافعی ؒ خود ان کے پاس پہنچ گئے اور کہا کہ ہمیں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیے۔  لیکن جب علمی بحث ہوتی تو امام شافعی ؒ کے بارے میں آتا ہے کہ " کانہ سبع یاکلک"  یعنی جیسے ایک شیر ہے  اور وہ جھپٹ کر آپ کو کھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے بحثیں بھی گرما گرم ہونی چاہیے۔ انہیں کی گفتگو میں بار بار جینڈر سٹڈیز کی بات کی گئی  اور اس پر اصرار کیا کہ وہ یہ باتیں کرتی ہی رہیں گی، تو یہ بھی میرے خیال میں اس کورس کی خوبی ہے۔ کورس کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی شریک کا ذاتی رنگ یا ذاتی شیڈ  ختم کر دیا جائے بلکہ ہر کسی کا ذاتی رنگ اور علمی شیڈ برقرار رہنا ضروری ہوتا ہے۔ آخری میں ڈاکٹر ادریس آزاد صاحب کی بات مجھے بہت اچھی لگی کہ سائنس کا حصہ مزید بڑھانا چاہیے، اللہ تعالی اس مفید سلسلے کو جاری و ساری فرمائے۔ آمین

جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز

نحمدہ و نصلی و نسلم علٰی رسولہ الکریم

مدرسہ ڈسکورسز کا ایک بڑا فائدہ مجھے جو نظر آ رہا ہے وہ یہ کہ نعرہ تکبیر کی بجائے تالیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ میرے لیے یہ خوشی کا موقع ہے کہ میں ایسے پروگرام میں شریک ہوں جس میں بڑے بڑے علماء اور سکالرز شریک ہیں، مدارس سے بھی اور یونیورسٹیز سے بھی۔  یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ اس پروگرام کے انچارج ڈاکٹر عمار خان ناصر جیسے معتدل اور صاحب علم نوجوان ہیں۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش امید اور پرامید انسان سمجھتا تھا لیکن کچھ عرصہ سے میں اپنے آپ کو مایوسی کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں  کیونکہ ہمارے جامعات اور مدارس میں  علمی ڈسکورس جس طرح  کی نئی شکل اختیار کر چکا ہے، وہ یقینا فکری بانجھ پن کی غمازی کرتا ہے  جس کو دیکھ کر مجھ جیسا انسان مایوسی کی طرف جاتا ہے۔ لیکن کل جو گفتگو مدرسہ ڈسکورسز کے منسلکین کے ساتھ ہوئی، اس سے پھر مجھے بہت زیادہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ ایک بہت خوبصورت گروپ تشکیل پا رہا ہے۔ کچھ دوستوں نے کہا کہ یہ ایک پراجیکٹ ہے محدود مدت کا  اور اب ختم ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ وہ قابل قدر لوگ کہ جنہوں نے ہمیں Critical thinkingدی، وہ اگرچہ وفات پا گئے لیکن انہوں نے جو بیچ بویا تھا وہ ایک تناور درخت بنا، پھر اور درخت بنتے گئے اور ایک گلشن بن گیا۔ اس لیے اس پروگرام کے جو  مستفیدین ہیں، اگرچہ یہ پروگرام ختم بھی ہو جائے، لیکن ان میں رویے، فکر اور بیانیے کی جو تبدیلی آئی ہے وہ یقینا آگے بڑھے گی  اور ایک جزیرہ بنتا جائے گا جو عمومی صورتحال سے مختلف ہو گا۔ مدرسہ کی تاریخ تو بہت تابناک ہے جو Critical Thinkingکی اسا س پر قائم تھا۔ آپ کو جو گروہ نظر آتے ہیں، جبریہ، قدریہ، معتزلہ وغیرہ، ان سب کی اساس سوچ و فکر پر تھی، تنوع پر تھی، دلیل پر تھی۔ اگرچہ وہ گروہ ختم ہو گئے لیکن یہ فکر اور زاویہ نظر ابھی تک جاری ہے۔ یہ ایک معاشرتی تسلسل ہے۔ افراد و گروہ چلے جاتے ہیں لیکن فکر و  سو چ کا اسلوب  یا بیانیے باقی رہتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت بڑے بڑے نام موجود ہیں جو اسی کریٹیکل تھنکنگ کو پروان چڑھاتے رہے۔ امام ابو حنیفہ فرمایا کرتے تھے کہ میری سوچ میرے نزدیک صحیح ہے، لیکن اس میں خطا کا احتمال ہے۔ ان کے شاگردوں کے مجموعی اقوال سے فقہ حنفی بنی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں یقینا ڈسکورس تھا اور اسی ڈسکورس کی وجہ سے یہ زبردست فقہ سامنے آئی۔

اسی طرح ہمارے ہاں مولانا عبید اللہ سندھی ؒ ہیں کہ جنہوں نے زمینی صورتحال کا مشاہدہ کیا اور آنے والے ادوار و طوفانوں کا ادراک کر کے بے چین ہو گئے، اتنا بے چین کہ لوگ ان کو ابنارمل کہنے لگے۔ انہوں نے بدلتے حالات کا مشاہدہ کیا، دنیا کے اندر صنعتی انقلاب  کو دیکھا تھا، سیاسی حقیقتوں کو دیکھا تھا  اور اس کی بنیاد پر جو نصائح کیے، ان کو اگرچہ لوگ اس وقت نہیں مان رہے تھے لیکن وقت نے ثابت کیا ان کی باتیں درست تھیں۔  اسی طرح مولانا ابو الکلام آزاد کی 1949 کی تقریر  جو مدارس کے بارے میں تھی، اسے مدرسہ ڈسکورسز کے سلیبس کا حصہ بنانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ  ابتداء مدارس کے اندر محاضرات ہوا کرتے تھے، ان محاضرات نے ایسے افراد پیدا کیے کہ جن کے افکار آج ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ لیکن جب مدرسہ کا محور کتاب بن گیا  تو ان کے مطابق علمی لحاظ سے مدرسہ کے اندر تنزلی کی ابتداء ہوئی۔ اب ہمارا مدارس کا نظام بک سینٹرک ہی ہے، محاضرات کا سلسلہ اس میں ختم ہو گیا۔  اسی طرح علامہ ابن خلدون کا مقدمہ اگر متنا مدارس کے سلیبس میں شامل ہو تو اس سے بھی صورتحال یقینا تبدیل ہو گی۔

یہ پراجیکٹ اگرچہ ختم ہو گیا لیکن اس کے اثرات بہرحال باقی رہیں گے۔ مدرسہ ڈسکورسز کے ساتھ ساتھ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یونیورسٹی ڈسکورسز ہے۔ میرا تعلق مدرسہ کے ساتھ بھی ہے اور یونیورسٹی کے ساتھ بھی۔ اس  لیے پورے شرح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو آپ کی شکایات مدرسہ سے ہیں، اس سے زیادہ شکایتیں یونیورسٹی سے ممکن ہیں۔ جس کریٹیکل تھنکنگ کے نہ ہونے کی بات آپ مدرسہ میں کر رہے ہیں، یونیورسٹی کے اندر  اس کی کمی مدرسہ سے بھی زیادہ شدید ہے۔ جس جمود کی بات آپ مدرسہ میں کر رہے ہیں، اس سے زیادہ جمود یونیورسٹی کے اندر ہے۔ اگر مدرسہ کے اندر ناقدانہ سوچ  کے عالم بہت کم ہیں تو یونیورسٹی میں اس سے بھی زیادہ کم ہیں۔ آپ سروے کر لیں اور کراچی سے خیبر تک چلے جائیں، آپ اس سوچ کے حامل قابل لوگ  انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ باقی تمام یونیورسٹیاں اس سے خالی ہیں۔ ان میں کوئی بندہ آپ کو ایسا نہیں ملے گا کہ جس کے پاس بیٹھ کر آپ کی علمی پیاس بجھ سکیں یا آپ یہ کہہ سکیں کہ اس کے ساتھ بیٹھک کے بعد میں اپنے آپ کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ اس لیے یہ پروگرام بہت زبردست کام ہے۔ ہمارے ہمسائے میں جو صورتحال بننے جا رہی ہے اس حوالے سے بھی اس کورس یا ایسے ڈسکورسز کا جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔

جناب ڈاکٹر ابو الحسن محمد شاہ الازہری

کچھ عرصہ سے اپنے کچھ احباب سے مدرسہ ڈسکورسز کی سرگرمیوں کے متعلق پتہ چلتا رہا  اور یہ جان کر بڑی مسرت ہوئی کہ یہاں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ساتھ خالص علمی رویے پروان چڑھ رہے ہیں۔ میرے والد گرامی پیر کرم شاہ صاحب الازہری ؒ نے ہمیشہ باہمی احترام، تحقیق و جستجو، علمی ترقی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو فروعی و مسلکی اختلافات میں الجھنے نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ ہمیں مفید کام کرنے اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کا درس دیا کرتے تھے ۔انہوں نے ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جس میں دینی علوم کے ساتھ معاشیات، انگریزی زبان  اور دیگر معاشرتی علوم کو نصاب کا حصہ بنایا تاکہ اس نصا ب کو پڑھ کر ایسے بالغ نظر علماء تیار ہو سکیں  جو دین کی آفاقی حیثیت کو سمجھتے ہوں اور دین کو ایک قابل عمل نظام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ یہ باتیں میں اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ ہم اس ضرورت کو شروع سے ہی محسوس کرتے چلے آ رہے ہیں جس ضرورت کے تحت مدرسہ ڈسکورسز کی سرگرمی شروع کی گئی۔

مجھے یہ پتہ چلا کہ مدرسہ ڈسکورسز میں مختلف مکاتب ہائے فکر کے فاضلین کو شامل کورس کیا جاتا ہے اور فلسفہ، جدید علم کلام اور جدیدیت کے تناظر میں  غور و خوض کیا جاتا ہے، جہاں امہات مصادر کے عربی متون کے ساتھ جدید مغربی فکر کے بیانیے کو بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بہت مفید پلیٹ فارم ہے جہاں ایسے رجال کار تیار ہو سکتے ہیں جو جدید ذہن کے اشکالات کو کما حقہ سمجھ کر ان کا حل تلاش کر سکیں۔  ہمارے مدارس کے نظام و نصاب کو طویل عرصے سے ریوائز نہیں کیا گیا۔ مدارس کے طلبہ کو جدید نظاموں کے حوالے سے کوئی سوجھ بوجھ نہیں دی جاتی ۔ مقاصد شریعت، اصول تحقیق،آئین پاکستان،  جدید سیاسی و معاشی نظام، جدید فقہی مسائل جیسے بہت سے مباحث ہیں جن کو طلبہ کے سامنے نہیں لایا جاتا جس کی وجہ سے مدارس سے نکلنے والے فاضلین زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اس پر مستزاد مدارس کا مسلکی گھٹن کا ماحول کہ جس کی وجہ سے دیگر مسالک کے لوگوں سے ہم آہنگی نہیں ہو پاتی اور ان سے کوسوں دور رہا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے کورسز ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔

مجھے امید ہے کہ اس کورس کی بدولت شرکاء  کو مغربی مفکرین کا طرز استدلال اور بیانیہ سمجھنے میں کامیابی ملی ہو گی۔ ہاں ان جدید افکار کو پڑھتے ہوئے " خذ ما صفا و دع ماکدر " کا اصول ضرور ہمارے ذہن  میں رہنا چاہیے  اور وحی و عقل کے درمیان توازن کو قائم رکھنا چاہیے۔ آخر میں میں اپنی طرف سے، اپنے ادارے کی طرف سے اور برادر مکرم پیر امین الحسنات صاحب کی طرف مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ایسے پروگرامات جاری رہیں گے۔ ہم آپ کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔

جناب مولانا زاہد الراشدی

مدرسہ ڈسکورسز کے ساتھ  پہلے دن سے منسلک  ہوں، پوری نظر رکھے ہوئے ہوں، وقتا فوقتا شریک بھی ہوتا ہوں،  اور آج اختتامی سیشن میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، الحمد للہ۔ میں ایک دو باتیں کہنا چاہوں گا۔  میں فکری و تحریکی دنیا کا آدمی ہوں اور میرے پیچھے دو شخصیتیں کھڑی ہیں  جن کی نمائندگی کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک کا نام شاہ ولی اللہ ہے اور دوسرے کا نام شیخ الہند مولانا محمود حسن ہے۔ رحمہما اللہ تعالیٰ۔ میں اپنے آپ کو ان کی فکری تحریک یا اور تحریکی فکر کے تسلسل میں جڑا ہوا سمجھتا ہوں۔  مدرسہ ڈسکورسز کے حوالے سے میرا تاثر آج بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا  کہ یہ ایک ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا ہونا چاہیے۔ اب اس میں اتنا اضافہ ہے کہ یہ ضرورت بڑھ رہی ہے اور اس تسلسل کا دائرہ بھی وسیع ہونا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ ضرورت کیا ہے ؟ میں اس پر اپنے حوالے سے بات کروں گا۔ ایک دفعہ امریکہ، اٹلانٹا میں بیبٹسٹ فرقے کےسربراہ سے میں نے گفتگو کی۔ میں نے اس میں ایک ضرورت کا اظہار کیا کہ جناب آپ فاضل ہیں، بائبل اور چرچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میں مولوی ہوں، قرآن کی نمائندگی کرتا ہوں، مسجد و مدرسہ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ ہم دونوں ایک مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں  کہ مذہب، وحی اور آسمانی تعلیمات سے سوسائٹی کٹ گئی ہے، سوسائٹی کو دوبارہ آسمانی تعلیمات سے جوڑنا میری ضرورت بھی ہے  اور آپ کی بھی،  کیا ہم کسی مشترکہ فورم پر بیٹھ کے اس کی پلاننگ کر سکتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ آپ اس کے لیے چرچ میں واپس آ جائیں اور بائبل پکڑ لیں، میں مسجد میں بیٹھا ہوں، قرآن میرے ہاتھ میں ہے، ہم مل کر سوسائٹی کو واپسی آسمانی تعلیمات سے جوڑنے کا کوئی ایجنڈا بناتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے غور کرنے کا وعدہ کیا۔  کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کی ضرورت ہے کہ سوسائٹی کو مذہب کی طرف واپس لانے کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے  اور میرے خیال میں یہ کورس بھی اسی سلسلے کی ایک علمی سرگرمی ہے۔  

اس میں شرکت کرنے والے اکثر فضلاء میرے شاگرد ہیں۔ جو شاگرد نہیں ہیں، ان کا بھی کسی نہ کسی درجے میں تعلق ضرورہے۔ میں اس بات کا جائزہ لیتا رہا ہوں کہ اس میں میرے شاگردوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ان میں کیا تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ پانچ سال مکمل ہونے کے بعد میں پورے اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس مختصر سی جماعت میں خیر کا پہلو غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو نافع بنائے اور ان فضلاء کو دینی روایت کے احیاء کا ذریعہ بنائے۔ آمین

اخبار و آثار

(ستمبر ۲۰۲۱ء)

Flag Counter