مدرسہ ڈسکورسز: اہداف ومقاصد اور توقعات

محمد عمار خان ناصر

مسلم علمی روایت سے گہری واقفیت کے فقدان کے اثرات ہمارے ہاں دو طرح سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایک اس طبقے کے ہاں جو جدیدیت کے بعض نتائج کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے اور ان سے متصادم ہونے کی وجہ سے روایت کی بحیثیت مجموعی تحقیر کا رویہ رکھتا ہے۔ دوسرا وہ طبقہ جو جدیدیت کے بعض نتائج سے نالاں اور نفور ہے اور اس کی بحیثیت مجموعی مذمت اور تردید کے رجحان کا حامل ہے، چنانچہ روایت سے براہ راست اور گہری واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی چیزوں کو محض جدیدیت کا نتیجہ فرض کر لیتا ہے۔  ان دونوں رجحانات کا اس کے علاوہ کوئی مداوا نہیں کہ مسلم علمی روایت سے گہری اور original واقفیت کا علمی ماحول پیدا کیا جائے۔ اگر آج ایک تازہ فکری روایت کی تشکیل کی ضرورت ہے تو اس کا پہلا قدم اسلامی علمی تراث کے ساتھ ایک زندہ اور گہرا ربط قائم کرنا ہے۔

مدرسہ ڈسکورسز کے پلیٹ فارم سے اسی نوعیت کی ایک سعی کی جا رہی ہے جس میں مدارس کے ذہین اور باصلاحیت فضلاء غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں۔   مدرسہ ڈسکورسز کے مباحث، مختلف پہلوؤں سے اسلامی علمی روایت کی ایسی تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ’’منقول دینی روایت” کے لیے مختلف تاریخی تناظرات میں پیدا ہونے والے فکری وعقلی مباحث سے تعامل ناگزیر ہے۔ اس کے لیے کلاسیکی اسلامی روایت میں اس نوعیت کے مباحث کی روشنی میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مذہبی فکر نے جدیدیت کے روبرو ’’فکری تعامل” کی اس روایت کو کس انداز میں آگے بڑھایا ہے، اس کی مشکلات کیا ہیں اور کس قسم کی متنوع پیچیدگیاں تنقیدی تجزیے کا تقاضا کرتی ہیں۔

زیر نظر شمارے میں ، مدرسہ ڈسکورسز کے نئے گروپ میں  شامل ہونے والے ممتاز علماء وفضلاء  کے تاثرات کا ایک انتخاب پیش کیا جا رہا ہے  جن سے اس نوعیت کی علمی وفکری مساعی کی اہمیت اور  فضلاء میں  علمی تشنگی  کا احساس   نمایاں طور پر  سامنے آتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ شرکاء کی  گہری دلچسپی، علمی وتحقیقی ذوق، اور فکری سنجیدگی کی بدولت  مطلوبہ علمی وفکری ماحول کے احیاء میں   یہ پلیٹ فارم  ان شاء اللہ  مفید اور موثر کردار ادا کر سکے گا۔


تعارف و تبصرہ