پاکستان شریعت کونسل کے وفد کا دارالعلوم جامعہ حقانیہ کا دورہ
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ علماء کی ٹارگٹ کلنگ خطرے کی گھنٹی اور ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ لگ رہی ہے، سدباب کے لیے سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، مولانا حامد الحق حقانی کو شہید کر کے پورے خطے کے علماء کو صدمے سے دوچار کیا گیا ہے، دارالعلوم حقانیہ سے ہماری وابستگی کو کسی طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالعلوم حقانیہ میں علماء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
تفصیلات کے مطابق مولانا زاہد الراشدی کی قیادت میں 12 مارچ کو پاکستان شریعت کونسل کے ایک بھرپور وفد نے دارالعلوم جامعہ حقانیہ آمد کے موقع پر بم دھماکے میں مولانا حامد الحق حقانیؒ سمیت دیگر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور جامعہ حقانیہ کے مہتمم مولانا انوار الحق، نائب مہتمم مولانا راشد الحق سمیع، مولانا حامد الحق شہید کے سیاسی جانشین مولانا عبد الحق ثانی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔ وفد میں کونسل کے سرپرست اعلیٰ مفتی رویس خان ایوبی، سرپرست مولانا عبد القیوم حقانی، سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد، گلگت بلتستان کے امیر مولانا ثناء اللہ غالب، اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری حافظ علی محی الدین، مری کے امیر مولانا قاسم عباسی، قانونی مشیر ذوالفقار گل عباسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان، ادارۃ النعمان گوجرانوالہ کے مدیر مفتی نعمان احمد، مفتی محمد اسامہ اور دیگر شامل تھے۔
وفد کے اراکین نے مولانا عبد الحقؒ، مولانا سمیع الحقؒ اور مولانا حامد الحقؒ کی قبور پر حاضری بھی دی، اس موقع پر وفد کے اراکین نے مولانا حقانی کے پسماندگان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ دارالعلوم حقانیہ کی وجہ سے ہم سب کے دل زخمی اور سینے چھلنی ہیں، جامعہ کے ذمہ داران، اساتذہ و طلباء اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، ہمیں وہ ہر موقع پر اپنے ساتھ پائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علمائے کرام کا خون بہانے والے خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے اور علماء و مدارس کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
(جاری کردہ: پروفیسر حافظ منیر احمد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ۔ ۱۳ مارچ ۲۰۲۵ء)
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس
پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اہم اجلاس 12 مارچ کو جامعہ ابو ہریرہ نوشہرہ میں مفتی محمد رویس خان ایوبی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، سرپرست مولانا عبد القیوم حقانی، جنرل سیکرٹری مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد، گلگت بلتستان کے امیر مولانا ثناء اللہ غالب، اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری حافظ سید علی محی الدین، مری کے امیر مولانا قاسم عباسی، قانونی مشیر ذوالفقار گل عباسی ایڈووکیٹ، سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان، ادارة النعمان گوجرانوالہ کے مدیر مفتی نعمان احمد، مفتی اسامہ اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں 15 مارچ کو ’’یوم تحفظ ناموس رسالت‘‘ کے طور پر منانے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دینے کیلئے کوششوں میں تیزی لائی جائے، توہین رسالت کے گھناؤنے جرم میں سزا یافتہ مجرموں کی سزاؤں پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے، نیز زیر التوا مقدمات کے جلد فیصلے سنائے جائیں، کیونکہ ان فیصلوں میں تاخیر کے باعث شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت قانون کے غلط استعمال اور اس قانون کے تحت بیگناہوں کو سزا سے بچانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور اس حوالے سے درج ہونے والے غلط مقدمات پر نظر ثانی کی جائے۔
پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ 23 مارچ کو ’’یوم تکمیلِ نظریۂ پاکستان‘‘ کے طور پر منائیں گے، مختلف سیمینارز اور پروگرامات کے ذریعے اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ آگہی مہم بھی چلائی جائے گی۔ اجلاس میں ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری سدباب اور علمائے کرام و دینی رہنماؤں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ شریعت کونسل کے رہنماؤں نے جعفر ایکسپریس پر حملے اور بیگناہ مسافروں کی شہادت کے واقعے پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کونسل کے نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھانے کے لیے اپنی تمامتر توانائیاں صَرف کریں گے۔ اجلاس میں مولانا حامد الحق حقانی شہید سمیت مختلف واقعات میں شہید ہونے والے علمائے کرام اور شہریوں، کونسل کے سیکرٹری مالیات سعید احمد اعوان کے چچا جان اور دیگر مسافران آخرت کی بخشش و مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا بھی کی گئی۔
(جاری کردہ: مولانا عبد الرؤف محمدی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل۔ ۱۴ مارچ ۲۰۲۵ء)
23 مارچ: یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان
پاکستان شریعت کونسل نے اپنے اہم اجلاس منعقدہ جامعہ ابوہریرہؓ نو شہرہ (خیبر پختونخوا) میں فیصلہ کیا ہے کہ 23 مارچ یومِ پاکستان کو یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان کے طور پر منایا جائے گا اور اس سلسلہ میں منعقدہ تقریبات میں قوم اور سیاستدانوں کو یاد دلا یا جائے گا کہ اس تاریخ کو 1940ء میں جو قراردادِ پاکستان منظور کی گئی اس پر من و عن عمل نہیں ہو سکا اور تحریکِ پاکستان اور ہندوستان کے علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آنے کے دوران دی گئی بے پناہ قربانیوں کا قرض ابھی تک قوم اور پاکستان کے حکمرانوں کے ذمہ موجود ہے۔
کونسل نے طے کیا کہ اس حوالے سے تکمیلِ نظریہ پاکستان یعنی نفاذِ شریعت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا جو قراردادِ مقاصد اور آئینِ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے دی گئی ضمانت کی روح ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے استحکام اور قیام امن کی بنیاد ہے کہ پاکستان جغرافیائی، نظریاتی، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے صرف اور صرف اسی صورت میں اپنی کھوئی ہوئی منزل اور اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے کہ نظریہ پاکستان کی حقیقی معنوں میں تکمیل ہو۔
کونسل نے تمام دینی، سیاسی جماعتوں بالخصوص کو نسل کے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر تقریبات منعقد کرائیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے اکابر امت کی لازوال قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ملک کے ساتھ اپنی وفاداری اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کا عہد کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کو تیز کرنے کے لیے ذہن سازی کریں۔ ملکی استحکام اور حالیہ دہشت گردی، معاشی عدم استحکام اور قومی بحرانوں کا حل تکمیلِ نظریہ پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔
(جاری کردہ: مولانا عبد الرؤف فاروقی، مرکزی سیکرٹری جنرل۔ ۱۸ مارچ ۲۰۲۵ء)
یومِ تکمیلِ نظریہ پاکستان: تقریبات کا انعقاد
لاہور (تحصیل رپورٹر) پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی قیادت، مفکرِ اسلام مولانا زاہد الراشدی کی ہدایت پر، 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں فکری نشستوں اور دروس کا اہتمام کیا گیا۔ ان تقریبات میں علماء کرام، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور عوام الناس نے شرکت کی۔ مقررین نے نظریہ پاکستان کی بنیاد، اس کے تحفظ کی اہمیت اور اسلامی نظام کے نفاذ پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے رہنماؤں، مولانا مفتی محمد نعمان پسروری (امیر پاکستان شریعت کونسل، پنجاب)، قاری محمد عثمان رمضان (سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل، پنجاب)، مولانا عبید اللّٰہ عامر، مولانا عبید الرحمن معاویہ، مولانا عبدالمالک فاروقی، مولانا فیصل احمد، مولانا مفتی حفظ الرحمن نعمانی، مفتی زین العابدین، مولانا عبداللہ، مولانا حماد انذر قاسمی، ڈاکٹر عبدالواحد قریشی، پروفیسر محمد زاہد نعمانی، مولانا قاسم شعیب، حافظ نصرالدین خان عمر، مولانا حافظ محمد زبیر جمیل، مولانا عثمان میاں، مولانا انعام الحق، اور پروفیسر حافظ مدثر سلیم گجر نے اپنے بیانات میں کہا کہ 23 مارچ 1940ء کو منظور کی جانے والی قراردادِ لاہور، برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کا سنگِ میل ثابت ہوئی۔ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی مقصد ایک ایسا ملک بنانا تھا جہاں قرآن و سنت کے مطابق نظام نافذ ہو۔
مولانا مفتی محمد نعمان پسروری نے پسرور شاہی مسجد جبکہ قاری محمد عثمان رمضان نے مکی مسجد، ملتان روڈ، لاہور میں درس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تجدیدِ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نظریہ پاکستان کے اصل مقاصد سے نہ ہٹیں اور ملک میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اگر ہم اپنے اصل نظریے پر قائم رہیں، تو پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہوگا۔
تقریبات کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان شریعت کونسل اپنے مشن کو جاری رکھے گی اور نوجوان نسل میں نظریہ پاکستان کے احیاء کے لیے مزید مؤثر کوششیں کرے گی۔
(جاری کردہ: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، سیکرٹری اطلاعات پنجاب۔ ۱۸ مارچ ۲۰۲۵ء)