اسلام کا تصور جہاد ۔ چند توضیحات

مولانا محمد یحیی نعمانی

محاربہ علت القتال ہے نہ کہ کفر یا شوکت کفر

اصولی طور پر سوال یہ ہے کہ کیا ظلم وجارحیت اور ’’فتنہ‘‘ یعنی مذہبی جبر کے خاتمہ کے علاوہ ’’کفر‘‘ علۃ القتال ہوسکتا ہے؟ یا اگر کفر نہیں تو کیا صرف غیر مسلم حکومت کے وجود کو جنگ کے لئے کافی جواز اور سبب قرار دیا جاسکتا ہے؟

ہمارے محدود مطالعے کی حد تک قدیم علمی وفقہی سرمایے میں اس طرح اصولی سوال قائم کرکے مسئلہ پر گفتگو نہیں کی گئی ہے۔لیکن اجمالی طور پر نصوص سے استنباط کرکے لوگوں نے تین رائیں قائم کی ہیں۔

۱) جنگ کا سبب علت القتال کفر ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے: ’’وقاتلوہم حتیٰ لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للّٰہ‘‘ (سورۂ انفال: ۳۹)۔ ’’ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ’’فتنہ‘‘ نہ بچے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔‘‘ واضح رہے کہ ہماری کتب تفسیر میں فتنہ کی تفسیر شرک سے بھی کیے جانے کی روایت موجود ہے۔ اور ویکون الدین للّٰہ تو ظاہر ہے ہی۔

۲) جنگ کا سبب یعنی علت القتال کفر نہیں ہے بلکہ کفر کی حکومت ہے۔ اس رائے کے حاملین کی اصل دلیل مندرجہ بالا آیت ہی ہے، یہ حضرات اس میں دین کو اطاعت اور قانون کے معنی میں لیتے ہیں۔ لہٰذا ان حضرات کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان غیر مسلموں سے اس مقصد کے تحت جنگ کریں تاکہ ان کے اوپر اللہ کا قانون نافذ ہو جائے۔

۳) علت القتا ل دفاع ہے، یہ حضرات قرآن کی آیت: وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم (اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو خود تم سے جنگ کر رہے ہیں) سے استدلال کرتے ہیں۔

ہمارے نزدیک یہ تینوں ہی موقف اشکالات سے خالی نہیں ہیں۔ البتہ یہ بات یقینی طور پر سامنے آتی ہے کہ سلف وخلف کے یہاں بڑی حد تک عام تصور یہی ہے کہ مسلمانوں کی حکومت غیر مسلموں سے صلح صرف مجبوری کی حالت میں (یعنی مقابلہ سے عاجزی ، یا ایسی صورت میں جب کہ مسلمانوں کی مصلحت کا تقاضا ہو تو) ہی کرسکتی ہے۔ مثلاً فقہ حنفی کی اہم کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے کہ صلح کے جائز ہونے کی شرط ضرورت ہے، یعنی یہ کہ مسلمان اس لئے صلح کریں کہ جنگ کی تیاری کریں گے، اور یہ ایسی صورت میں ہی ہوسکتا ہے کہ مسلمان کمزور ہوں اور کفار کو قوت حاصل ہو، لہٰذا بغیر اضطرار کے صلح جائز نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ صلح کا نتیجہ فریضۂ جنگ کا ترک ہے۔ اس لئے یہ اس وقت ہی جائز ہوگی جب یہ جنگ کے وسیلہ کے طور پر ہو، اس لئے کہ ایسی صورت میں صلح درحقیقت جنگ ہی مانی جائے گی کہ وہ جنگ کی تیاری کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا تھنوا وتدعوا إلی السلم وأنتم الأعلون واللہ معکم (یعنی کمزوری مت دکھاؤ کہ صلح کی دہائی دینے لگو، اور تم ہی برتر ہوگے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) ہاں مجبوری میں کوئی حرج نہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے : وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا وتوکل علی اللہ‘‘ یعنی، اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجانا ، اور اللہ پر بھروسہ کرنا۔ (بدائع الصنائع:۶/۷۶، نیز ملاحظہ ہو: الأم ، باب المہادنۃ ، شرح السیر الکبیر ، باب الموادعۃ)

بعض فقہاء نے صلح کے جواز کے لئے اضطرار اور مجبوری کی سخت شرط نہ لگاتے ہوئے ذرا نرم لفظ مصلحت یا مسلمانوں کے مفاد کا خیال (النظر للمسلمین) جیسے الفاط استعمال کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو: الأم للشافعی، کتاب الجہاد ، باب المہادنۃ علی النظر للمسلمین، شرح السیر الکبیر للسرخسی)

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ علماء نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ :

فإذا لم یکن في الموادعۃ مصلحۃ فلا یجوز بالإجماع (شرح فتح القدیر، کتاب السیر، باب الموادعۃ)

’’اگر صلح میں مسلمانوں کی مصلحت نہ ہو تو بالاجماع ناجائز ہے۔‘‘

تقریبا تمام ہی مسالک کی کتابوں میں اس قسم کی تصریحات ملتی ہیں۔ بلکہ یہ مزید وضاحت بھی فقہاء کرتے ہیں کہ اگر دوسرے ملک صلح کی پیشکش بھی کرے تو حاکم دیکھے گا اگر مسلمانوں کی مصلحت ہوگی تو قبول کرسکتا ہے اور اگر مسلمانوں کا فائدہ نہ ہو تو قبول نہیں کرے گا۔ (الأم: باب مہادنۃ من یقوی علی قتالہ ، المبسوط باب صلح الملوک والموادعۃ)

بہرحال اس سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ عموما علماء وفقہاء کے نزدیک قتال کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ مخالف کی طرف سے جارحیت وظلم یا مذہبی جبر (جسے قرآن نے فتنہ کہا ہے) پایا جائے۔ بلکہ مقدور ہو اور کوئی نقصان یا مضرت نہ ہو تو ہر غیر مسلم حکومت سے جنگ ہی کی جائے گی۔

اب اس پر سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ جنگ جو اصلاً خونریزی ہے اور قرآن اس کو شر ہی کہتا ہے، کہیں اس کو ’’البأساء‘‘ (خرابی) کا نام دیتا ہے اور کہیں اس کو شر مانتے ہوئے بڑے شر یعنی ظالمانہ مذہبی جبر کے لئے ایک ناگزیر اقدام بتاتا ہے، ایسی صورت میں اس جنگ کا سبب اور علت کیا ہے؟ کیا صرف کفر ہے؟ یا کفر تو نہیں بلکہ ’’شوکت کفر‘‘ یا غیر اسلامی حکومت ہے؟

اگرچہ فقہاء امت کی تصریحات کے تجزیے سے یہ بات تو غلط ہی ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک قتال کی علت کفر ہے۔ لیکن اس کے باوجود علماء کے یہاں استثنائی طور پر اس قسم کی عبارتیں ملتی ہیں کہ قتال کی علت کفر ہے۔ مثلاً امام قرطبی سورۂ بقرہ کی آیت ۱۹۳: وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’یہ مطلقا قتال کا حکم ہے۔ اس میں کفار کے حملہ میں ابتدا کرنے کی شرط نہیں ہے۔ اس کی دلیل ویکون الدین للہ (یہاں تک کہ دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے) ہے، اور یہ حدیث بھی کہ ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘پڑھ لیں‘‘۔ اس آیت اور حدیث میں اس کی دلیل ہے کہ قتال کا سبب کفر ہے۔‘‘ (الجامع لاحکام القرآن، تفسیر آیت مذکورہ)

البتہ یہ اصول جمہور علماء وفقہاء کے قول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ ان کے نزدیک اگر غیر مسلم اپنے کفر پر باقی رہتے ہوئے مسلم حکومت کے تابع ہوکر جزیہ کی ادائیگی پر صلح کرلیں تو یہ معاہدہ قبول کرنا لازم ہوگا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے ’’کفر‘‘ بطور ایک نظریہ ومذہب دنیا میں قابل برداشت چیز ہے، اور اس کا خاتمہ جنگ کی غایت نہیں۔ اگر قتال کی علت کفر ہوتی تو اس وقت تک جنگ جاری رہنی چاہئے جب تک تمام کفار مسلمان نہ ہوجائیں، اور یہ جائز نہ ہو تا کہ جزیہ پر صلح کر لی جائے۔ یہاں تک کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے لئے بھی بس دو ہی راہیں ہوتیں: یا اسلام قبول کریں یا قتل کیے جائیں۔ اس طرح یہ نظریہ قرآن کے بیان کردہ بنیادی اصول لا إکراہ في الدین (دین میں کوئی زبردستی نہیں)کے صریح منافی قرار پاتاہے۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ نفس کفر جنگ کا سبب یا علت قتال ہے تو کفر تو جنگ کے خاتمے کے بعد بھی باقی رہتا ہے، اس کا خاتمہ تو جنگ کے بعد بھی نہیں ہوتا۔

اس تجزیاتی غور وفکر کے بعد متقدمین فقہاء وعلماء کے نقطۂ نظر کے اصول کے طور پرہمارے سامنے دوسرا یہ نظریہ آتا ہے کہ قتال کی اصل علت اور سبب شوکت کفر یا غیر مسلم حکومت کا وجود ہے۔ اس نظریے کی رو سے کفر جنگ کا سبب نہیں ہے۔ غیر مسلم بطور مسلم ریاست کے شہری (ذمی) کے اپنے کفر پرباقی رہ سکتے ہیں ہاں اگر مسلمانوں کو قدرت ہوگی تو وہ جنگ کرکے غیر مسلموں کی حکومت کو بے دخل کرکے عوام پر اسلام اور مسلمانوں کی حکومت ضرور قائم کریں گے۔

(ہم آگے اس موقف کی مدلل حمایت کرکے اپنا یہ نقطۂ نظر ظاہر کریں گے کہ یہ (اپنے زمانے اور ماحول میں) ایک بالکل برحق اور منصفانہ موقف تھا)۔

مگر یہاں سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ کسی غیر مسلم قوم کو کس جواز کی بنا پر اپنے اس حق سے محروم کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے اوپر اپنے لوگوں کی اور اپنے پسندیدہ اصولوں اور نظریات کے مطابق حکومت قائم کرے؟ اس سوال کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عام انسانی اخلاقی حس کے مطابق یہ موقف ایک اشکال کا باعث بنتا ہے کہ مسلم ریاست صلح صرف اپنی مصلحت اور ضرورت کے تحت ہی کر سکتی ہے قدرت وطاقت ہو تو اس کو ہر مملکت سے جنگ ہی کرنی ہے چاہے وہ کیسی ہی بے ضرر اور صلح جو ہی کیوں نہ ہو۔

مولانا مودودی کا نظریہ:

اب سے دو صدیوں پہلے جب مغرب کی فوجی یورش کے ساتھ ساتھ مسلمان اور اسلامی عقائد و احکام بھی فکری یلغار کا نشانہ بنے تو جو دلیر اسلام کے دفاع کے لیے سب سے پہلے کھل کر سامنے آئے ان میں شبلیؒ ومودودی ؒ کا نام نمایاں ہے۔ مؤخر الذکر کی کتاب الجہاد فی الاسلام اپنی شہرت اور اپنے پر اعتماد اندازکے اعتبار سے ممتاز ہے اور مصنف کی محنت اور مآخذکی کثرت کی شاہد بھی۔ مگر کتاب میں آبشار کاجوش اور فکر وخیال کی روانی تو ہے مگر فاضل مصنف کی عمر اس وقت تیس بھی نہیں تھی اور اس کو کتاب ہفتہ وار اخبار(الجمعیۃ) کی متواتر قسطوں میں پیش کر نی تھی، اس لیے اس کے پاس غور وتدبر کے لیے وقت بھی کم تھا۔ 

موصوف کے سامنے جب یہ سوال آیا کہ ایک طرف تو قرآن مذہب کے معاملے میں جبر واکراہ کی کھلی نفی کرتا ہے، تو پھر اس کی کیا توجیہ کی جائے کہ صدیوں پر مشتمل اسلامی فکر کا حاصل یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو مسلمان ریاست جنگ ہی کرے گی، صلح صرف مصلحۃً ہی کی جائے گی۔ موصوف کی عبقری ذہانت نے اس کا جو حل دریافت کیا، وہ بہت سے لوگوں کے لیے اسلامی فلسفہ بن چکا ہے۔ مولانا مرحوم کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ اسلام انفرادی طور پر ہر فرد بشر کو مذہبی آزادی تو دیتا ہے، لیکن وہ اسلام کے مخالف عقیدہ وفکر کو حکومتی طاقت اور شوکت رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے کہ (ان کے بیان کے مطابق) قرآن میں جن چیزوں کو فتنہ اور فساد کہا گیا اور جن کے خاتمے کو جہاد وقتال کا مقصد اور غرض وغایت بتلایا گیا ہے وہ ’’سب کی سب ایک ناحق شناس، ناخداترس اور بد اصل نظام حکومت سے پیدا ہوتی ہیں‘‘۔ (الجہاد فی الإسلام ص: ۱۱۷)

عالم عرب میں مولانا کے ایک خاص خوشہ چیں انقلابی مفکر سید قطبؒ ہوئے، جو اپنے انقلابی فکر اور جوش تحریر میں مولانا مودویؒ سے کہیں آگے تھے۔مصر میں ناصر کے آمرانہ استبداد کے زمانے میں جب عموماً اسلام پسند حکومت کی مغرب پرستی سے سخت نالاں تھے اور دین دشمن حکومت کی مخالفت کی پاداش میں اخوان المسلمین پرسخت مظالم کا سلسلہ جاری تھا، سید قطب کا شعلہ بار قلم (جس کے جوش وزور کی کوئی نظیرمعاصر عربی ادب میں نہیں پائی جاتی) اسلامی انقلاب کی ندا لگا رہا تھا۔سید قطب نے مولانا مودودی کے دیگر تحریکی نظریات کی طرح اس فلسفے کو بھی اخذ کیا اور اپنی تفسیر میں اور (دیگر تصنیفات میں بھی) مولانا مودودی سے کہیں زیادہ قوت اور تفصیل وتکرار سے بیان کیا ۔ یہاں تک کہ یہ ایک حد تک مقبول نظریہ بن گیا۔ 

مولانا نے بھی فقہاء کی بیان کردہ تفصیلات کا خلاصہ اور حاصل یہی اخذ کیا کہ مسلمانوں کے لئے یہ بات شرعی فریضہ کا درجہ رکھتی ہے کہ اگر حالات اجازت دیں تو وہ ہر غیر مسلم قوم سے حکومت چھین لیں اور ان پر مسلمانوں کی (بلکہ مولانا کے الفاظ میں اللہ کے صالح بندوں کی) حکومت قائم کریں۔

یہ کم علم اپنی کم علمی کے احساس کے باوجود پورے یقین کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس موقف کی کیسی ہی مؤثر ترجمانی کی جائے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ (کم سے کم اس زمانے میں) یہ اشکال کا باعث ہے۔ اگر کوئی حکومت نہ اپنے عوام پر کسی سخت ظلم کی مرتکب ہے اور نہ دوسری قوموں پر کسی جارحیت کی مجرم، ساتھ ہی وہ اپنے یہاں بسنے والے مسلمانوں کو اللہ کے دین پر چلنے کی مکمل اجازت دیتی ہے، اور اللہ کے دین کی دعوت کے سامنے رکاوٹ بھی نہیں بنتی اور مسلمانوں کی حکومت کی طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بھی بڑھاتی ہے تو کس اخلاقی جواز کے تحت اس حکومت پر جنگ تھوپی جاسکتی ہے۔ اور کیسے کسی قوم کو اس حق سے محروم رکھا جاسکتا ہے کہ اس کا سیاسی نظام اس کے اپنے لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ کسی قوم سے خود مختاری سلب کرلینا انسانی عرف میں یقیناً ظلم ہے۔

مولانا مودودیؒ اس اشکال کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکے انہوں نے وکیل کی حیثیت سے اپنے موقف کے دفاع میں یہ نظریہ پیش کیا کہ قرآن نے فتنہ کے خاتمہ کو قتال کا مقصد کہا ہے۔ اب ایک نظر ڈالی جائے کہ قرآن میں کن کن برائیوں کو ’’فتنہ‘‘ یا ’’فساد‘‘ کہا گیا ہے۔ ان برائیوں اور خرابیوں کو گنانے کے بعد مولانا فرماتے ہیں:

’’اب اگر ان تمام برائیوں پر ایک غائر نظر ڈالی جائے جن کو فتنہ وفساد سے تعبیر کیا گیا ہے تو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ وہ سب کی سب ایک ناحق شناس، ناخدا ترس، اور بداصل نظام حکومت سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر کسی برائی کی پیدائش میں ایسی حکومت کا براہ راست کوئی اثر نہیں ہوتا تو کم از کم اس کا باقی رہنا اور اصلاح کے اثر سے محفوظ ہونا تو یقیناً اسی حکومت کے باطل پرور اثرات کا رہین منت ہوتا ہے‘‘۔ (الجہاد فی الاسلام، ص۱۱۷)

اسی وجہ سے مولانا کے بقول اسلام نے بدی کے خاتمے کے لئے حکم دیا کہ ایک منظم جد وجہد (جہاد) کے ذریعہ اور اگر ضرورت پڑے اور ممکن ہو تو جنگ کر کے ایسی تمام حکومتوں کو مٹا دیا جائے۔اور اسکی جگہ وہ عادلانہ نظام حکومت قائم کیا جائے جوخداکے خوف اور اور اسی کے نازل کردہ ضابطوں پر مبنی ہو اور جو انسانوں کے مفاد کی خدمت کرے۔ (الجہاد فی الاسلام، ص۱۱۷، ۱۱۸ باختصار)

اس نظریہ کے خلاف تین طاقت ور دلائل:

اول۔ اس نظریہ کے خلاف سب سے پہلے جو چیز جاتی ہے وہ یہ کہ اسلام کی ایک بنیادی تعلیم دین کے معاملے میں آزادی اور انصاف ہے۔ کسی قوم کو اپنی حکومت سے بے سبب محروم کرنا اور اس پر دوسری قوم کی حکومت قائم کرنا فطری طور پر انصاف کے خلاف نظر آتا ہے۔ اسلامی دعوت کے لئے ضروری ہے کہ اسلام اپنے زمانے میں سب سے برتر اور متوازن اخلاقی معیار پر قائم نظر آئے۔ اگر ایسا نہیں ثابت ہوتا تو اسلام کا اکیلے محفوظ ہدایتِ ربانی اور قانونِ الٰہی ہونے کا دعوی مشتبہ ہوجائے گا۔ لہٰذا علماء اسلام کا اہم ترین فریضہ قرار پاتا ہے کہ وہ ہر زمانے میں پوری بیدار مغزی سے اپنے زمانے کے حالات کا جائزہ لیں اور بلاخوف لومۃ لائم قرآن وسنت پر مبنی اسلامی قوانین کا اظہار کریں۔ اس میں ان کو نہ باطل کی یورش کا خوف ہو نہ کسی قسم کی بدنامی کا اور نہ اپنوں یا غیروں کی ملامت کا۔

دوم۔ دوسری جو چیز اسی نظریہ کے خلاف جاتی ہے، وہ یہ آیت قرآنی ہے: وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا وتوکل، یعنی اگر یہ خدا اور مسلمانوں کے دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح پر آمادہ ہو جانا۔

یہ آیت غزوۂ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے صلح کا کس درجہ مطلوب ہونا معلوم ہوتا ہے اس کے لیے صرف اس کا سادہ سا مطلب جان لینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کس درجہ اس کو اہمیت دیتا ہے کہ فریق مخالف اگر آمادۂ صلح ہو تو صلح کر ہی لی جائے، اس آیت میں غور سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا حکم مجبور وکمزور کی دبی کچلی صلح کا نہیں ہے، نہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ صلح میں ہمارا فائدہ ہے کہ نہیں۔یہ سورت انفال کی آیت ہے۔ اس سورت میں مسلمانوں کو مکہ کے مشرکین سے جنگ کے احکام دیے گئے اور ایک طویل سلسلۂ آیات میں مسلمانوں کے اندر قتال کے لئے جوش وحمیت پیدا کی گئی ہے۔ آیات پر غور کی نگاہ ڈالیں:

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ، الَّذِیْنَ عَاہَدتَّ مِنْہُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَہْدَہُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَہُمْ لاَ یَتَّقُونَ، فَإِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِیْ الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِہِم مَّنْ خَلْفَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ، وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانبِذْ إِلَیْْہِمْ عَلَی سَوَاء إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الخَاءِنِیْنَ، وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَبَقُواْ إِنَّہُمْ لاَ یُعْجِزُونَ، وَأَعِدُّوا لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدْوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِیْنَ مِن دُونِہِمْ لاَ تَعْلَمُونَہُمُ اللّٰہُ یَعْلَمُہُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ إِلَیْْکُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ، وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ، وَإِن یُرِیْدُوا أَن یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ہُوَ الَّذِیَ أَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ، وَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً مَّا أَلَّفَتْ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ وَلَکِنَّ اللّٰہَ أَلَّفَ بَیْْنَہُمْ إِنَّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ، یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ، یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ إِن یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُواْ مِءَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُم مِّءَۃٌ یَغْلِبُواْ أَلْفاً مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُونَ، الآنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفاً فَإِن یَکُن مِّنکُم مِّءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُواْ مِءَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُمْ أَلْفٌ یَغْلِبُواْ أَلْفَیْْنِ بِإِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ (الانفال:۵۶۔۶۶)

یہی سلسلۂ بیان جب اپنے عروج پر یہاں پر پہنچا کہ:

’’اور ان دشمنانِ خدا کے مقابلے کے لئے جو ہو سکے وہ اسلحہ تیار کرو (اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرو۔) اور گھوڑے جنگ کے لئے تیار رکھو، جس سے تمہارا رعب اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن کے دل میں بیٹھے۔‘‘

اور اس کے بعد اس جہاد و قتال کی تیاری میں اپنا مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی۔ جہاد و قتال پر آمادہ کرتے ہوئے، اور جہاد وقتال کے لیے جوش دلانے والے اسی ولولہ خیز سلسلۂ کلام میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

’’اگر یہ (خداومسلمانوں کے دشمن ، اپنی دشمنی کے باوجود ) مصالحت کی طرف جھکتے ہیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جانا، اور اللہ پر بھروسہ رکھو ۔بے شک وہ (سب) سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر ان کی نیت تم کو دھوکہ دینے کی ہوگی تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔‘‘

کلام کے سیاق و سباق پر غور کیجئے۔ یہ موقعہ مسلمانوں کو مشرکین مکہ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے اور ان میں اس کی تیاری کے لئے جوش و حمیت پیدا کرنے کا ہے۔ مگر اس موقعے پر بھی کہا جاتا ہے کہ دشمن اگر صلح پر آمادہ ہوتا ہے تو صلح کرنے کا حکم ہے۔کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ دشمن صلح کے بہانے دھوکہ نہ دے دے۔ سو اس کی پیش بندی کے طور پر پہلے تو کہا کہ صلح کرنے میں توکل علی اللہ کا مظاہرہ کرو۔ پھر مزید صراحت کی کہ اگر ان کے دھوکہ دینے کا اندیشہ ہو تو جان لو کہ اللہ پر توکل ہی تمہارا سرمایہ ہے۔ یعنی اس سلسلے میں اندیشہائے دور دراز کا زیادہ خیال نہ کرو۔

ان آیات کے اس سیاق کی بنیاد پر ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ صلح کی گنجائش صرف اس وقت ہے جب مسلمانوں کی پوزیشن اتنی کمزور ہو کہ وہ جنگ کرنے کے موقف میں نہ ہوں۔ جن آیات میں صلح کی پیشکش کو قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، ان کا سیاق و سباق ببانگ دہل اعلان کر رہا ہے کہ اس وقت ایسی مجبوری کی صورت حال نہیں ہے۔ ان آیات میں مسلمانوں کو جنگ کرنے کا حکم پورے زور اور تاکید کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔ انہی آیات میں جہاد پر ابھارنے والی وہ غیر معمولی آیات بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ:

’’اے نبی! تمہارے لیے اللہ اور تمہارا اتباع کرنے والے اہل ایمان کافی ہیں۔ اے نبی! مسلمانوں کو جہاد پر ابھاریے۔ اگر تم میں کے بیس جمنے والے ہوں گے تو ان کے دو سو پر غالب آجائیں گے۔ اور اگر تم میں کے سو ہوں گے تو ان کے ہزارپر غالب ہوں گے۔ اس لیے کہ وہ بے بصیرت قوم ہیں۔‘‘

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جنگ کا حکم دینے والی نہایت تاکیدی اور جوش آور آیات کے ساتھ یہ بات کہی گئی ہے کہ دشمن اگر صلح پر آمادہ ہو تو تم بھی آمادہ ہوجانا۔ اور زیادہ پس وپیش سے کام نہ لینا۔

مزید یہ بھی صاف ہے کہ یہ غزوۂ بدر کی عظیم الشان فتح کے فوراً بعد کا وقت ہے، تو جب ایسے موقع پر اور ایسے شدید دشمن سے صلح کے امکان پر صلح کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہو جاتی ہے کہ یہ صرف مجبوری کے وقت کی اجازت ہے اور استطاعت اور قدرت کے موقع پر یہ اجازت نہیں رہے گی۔ یہ بالکل غیر عملی بات ہے، اس لئے کہ اس وقت مجبوری کی صورتحال خارج از بحث تھی ۔ پھر مزید یہ کہ رسول اللہؐ نے مکہ کے لوگوں کے ساتھ جو صلح۸ ھ ؁ میں فرمائی تھی، کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت مکہ کے مشرکین سے جنگ کرنے کی استطاعت مسلمانوں میں نہیں تھی۔ مسلمان اس سے پہلے اہل مکہ سے کئی مرتبہ دو دو ہاتھ کر چکے تھے۔ اور اسی وقت حدیبیہ میں بھی صلح سے ذرا پہلے، جب ان کو یہ افواہ خبر بن کر پہونچی تھی کہ رسول اللہؐ کے سفیر حضرت عثمان بن عفانؓ کو مکہ میں قتل کر دیا گیا ہے،تو انہوں نے مرنے مارنے کی قسم کھائی تھی اور رسول اللہؐ کے ہاتھ پر آخری دم تک جنگ کرنے کی بیعت کی تھی۔ کیا پھر بھی یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ یہ آیت اسوقت کی ہے جب مسلمان کمزور تھے اور جنگ کی قوت نہیں رکھتے تھے۔

کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے؟

سید قطب مرحوم نے بڑے شد ومد کے ساتھ ا س رائے کی تائید کی ہے کہ صلح کرلینے کا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ ان حضرات کو جو اس آیت کو غیر منسوخ قرار دیتے ہیں سید قطب ان کو ’’المھزومون روحیا وعقلیا‘‘ (عقلی اور روحانی اعتبار سے شکست خوردہ) قرار دیتے ہیں، سادگی اور حماقت سے موصوف کرتے ہیں اور اسلام کے مزاج ومنہاج سے بے خبر بتاتے ہیں۔

حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ اس آیت کو منسوخ قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے، مفسرین اور فقہاء کی ایک تعداد اگرچہ یہ کہتی ہے کہ سورۂ توبہ کی یہ آیت اس کی ناسخ ہے۔

فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدتُّمُوہُمْ وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ وَاقْعُدُواْ لَہُمْ کُلَّ مَرْصَد۔

’’اور جب اشہر حرم گذرجائیں تو جہاں پاؤ ان مشرکین کو قتل کرو ان کو پکڑو ، گھیرو، اور ہرجگہ ان کے (قتل کے لئے) گھات لگا کر بیٹھو۔‘‘

یقیناً سورۂ انفال کی وہ آیت جو دشمن کے آمادہ صلح ہونے پر صلح کا حکم دے رہی ہے وہ پہلے نازل ہوئی ہے اور سورۂ توبہ کی آیت بعد میں ، مگر دونوں میں تضاد ہے کہاں جو ناسخ منسوخ کا سوال ہو۔ جنگ کا حکم دینے والی سورت توبہ کی ان آیات کے سیاق وسباق پر ذرا غور کرنے سے قطعی طور پرواضح ہوجاتا ہے کہ یہ احکام مشرکین عرب (جو قریش کی قیادت میں ایک ملت اور سیاسی اتحاد کا درجہ رکھتے تھے) کے لئے نازل ہورہے تھے۔ آپ اول سورت سے آیت نمبر ۲۸ تک پڑھ جائیے قطعی طور پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ سورت عرب کے مشرکین سے متعلق ہی گفتگو کررہی ہے۔ یہ گفتگو جن مشرکین کے متعلق کی جارہی ہے دورانِ کلام ان کے جو حالات اور صفات بیان کی گئی ہیں اس سے کسی ذی شعور کے لئے شبہہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ اس سلسلۂ کلام میں صرف مشرکین عرب مراد ہیں۔ مثلا کہیں کہا جارہا ہے کہ ’’ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا‘‘ آیت نمبر (۱)، پھر آگے ان کی صفت یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ:

أَلاَ تُقَاتِلُونَ قَوْماً نَّکَثُواْ أَیْْمَانَہُمْ وَہَمُّواْ بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَہُم بَدَؤُوکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (التوبۃ: ۱۳)

’’کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کروگے جنہوں نے عہد توڑ ڈالا ، رسول کو دربدر کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ہی تمہارے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔‘‘

ظاہر ہے معاہدہ مشرکین عرب سے ہی ہوا تھا۔ المشرکین سے مراد مشرکین عرب ہی ہیں اسی کو مزید مؤکد کرنے والی آیات آگے اور ہیں جن میں ا ن کے مسجد حرام (کعبہ) سے رشتہ کا ذکر کرکے کہا جارہا ہے کہ اب ان سے اس کی تولیت چھینے جانے کا وقت آگیا ہے۔ (۱۷۔۲۲)

پھر آیت نمبر (۳۶) نے تو کسی شبہہ کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَآفَّۃً

’’تمام مشرکین سے جنگ کرو جیسا کہ وہ سب کے سب تم سے جنگ کررہے ہیں‘‘

سورت انفال میں پہلے انہی مشرکین کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ ’’اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہوجانا‘‘ مگر قرآن خود بتارہا ہے کہ اب ان سے صلح کا وقت نہیں رہا۔ اس حکم کی تبدیلی کا سبب ان کی لگاتار جارحیت ، ظلم وعدوان ، اور عہد شکنی کی تاریخ ہے، جیساکہ ابھی ذکر کی گئی آیتوں میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ ان کے سینوں میں عداوت کی جہنم ہے، وہ کسی رشتہ وقرابت اور معاہدے تک کا لحاظ نہیں کررہے لہذا اب بس، ان کو تہِ تیغ کرو، یہاں قرآن ان کو ظلم واعتداء کا مرتکب بھی بتارہا ہے: لایرقبون فی مؤمن إلا ولا ذمۃ وأولئک ھم المعتدون۔ لہٰذا یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کو ہر حال میں تہِ تیغ کرنے کا حکم کا سبب ان کا یہ اعتدا تھا۔

قرآن کی کسی آیت کو اس معنی میں منسوخ قرار دینا کہ وہ معطل کردی گئی ہے اور اب اس پر عمل نہیں کیا جائے گاایک بڑی بھاری باتی ہے۔ اتنی پر خطر بات کہنے کے لئے کوئی یقینی بنیاد ہونی چاہیے جو یہاں ہرگز نہیں ہے۔ صلح کا حکم دینے والی آیت بالکل الگ قسم کے حالات اور الگ دشمن کے لئے ہے اور سورۂ توبہ کی آیات الگ صورت حال میں دشمن سے جنگ کرنے اور اس کے لئے زمین تنگ کردینے کے حکم پر مشتمل ہے۔

صلح کا حکم قرآن نے اس صورت میں دیا ہے جب دشمن صلح جو ہو۔ کہا گیا اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی مائل بہ صلح ہوجانا اور اس پر یہ اضافہ کیا گیا کہ دشمن سے اگر عہد شکنی کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کرہی لی جائے اور سورۂ توبہ کی آیت جو دشمن سے بھرپور جنگ کرنے کا حکم دے رہی ہے وہ بتارہی ہے کہ جن ’’المشرکین‘‘کے بارے میں یہ حکم ہے وہ یہی نہیں کہ صلح جو نہیں بلکہ تم سے جنگ کررہے ہیں اور ایسے عہد شکن ہیں کہ اب ان کی صلح پر آمادگی کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی سلسلۂ آیات میں آگے کہا گیا:

وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَآفَّۃً

’’اور تمام مشرکین سے جنگ کرو جس طرح وہ سب کے سب تم سے جنگ کرتے ہیں۔‘‘

سورۂ انفال کی یہ آیت (۶۱) دوسرے فریق کے صلح پر (یقیناً با معنی اور منصفانہ صلح پر) راضی ہونے کی صورت میں اس کو نہ صرف قبول کرنے بلکہ کشادہ قلبی کے ساتھ قبول کرنے کی ترغیب دیتی ہے، اس لئے کہ جیسا کہ پہلے کہاجاچکا ہے کہ اصلا تو گفتگو مسلمانوں کو آمادۂ جنگ کرنے کی چل رہی تھی مگر پھر بھی مسلمانوں میں صلح پر آمادگی پیدا کرنے کے لئے یہاں تک ارشادہوا:

وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ وَإِن یُرِیْدُواْ أَن یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ہُوَ الَّذِیَ أَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ

’’اور (اس سلسلہ میں) اللہ پر بھروسے سے کام لو۔ وہ سب سننے جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ کافی ہے تمہارے لئے۔ اسی نے تو اپنی مدد اور مؤمنین کی جماعت کے ذریعہ تمہاری تائید کی ہے۔‘‘

اس کی تشریح میں اب کثیر کہتے ہیں کہ ’’مطلب یہ ہے کہ اگر وہ صلح کرکے دھوکہ دینا چاہیں تاکہ اسی مدت میں تیاریاں کرلیں تو جان لو کہ اللہ تمہارے لئے کافی ہے‘‘۔ 

اس پوری تفصیل نے یہ بات واضح کردی کہ سورۂ توبہ کی آیات صلح کی آیت کو منسوخ نہیں کررہی ہیں۔ نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ دونوں آیات قطعی طور پر الگ حالات اور الگ دشمنوں سے متعلق ہیں۔ کوئی اگر خود قرآن میں غور کرے اور اگر اپنے ذہن میں قائم خیالات اور کسی مخصوص نظریے کے تاثرات سے آزاد ہوکر سوچے گا وہ اسی نتیجے تک پہنچے گا ، اور کتاب اللہ کی آیات کو مصحف میں موجود ہوتے ہوئے اور تلاوت کرتے ہوئے بلاقطعی دلیل کے ہرگز یہ نہیں کہے گا کہ وہ منسوخ اور معطل ہیں۔

امام طبری نسخ کے قائل نہیں:

جیساکہ امام طبری جو سرخیل مفسرین ہونے کے ساتھ ساتھ حدیث وفقہ میں بھی امامت کے مقام پر فائز تھے اس آیت کے منسوخ ہونے کی بات بالکل بے بنیاد قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’لا دلالۃ علیہ من کتاب ولاسنۃ ولا فطرۃ ولا عقل‘‘ اس کی کتاب وسنت اور عقل وفطرت سے کوئی دلیل نہیں پیش کی جاسکتی ۔

ہاں، سورۂ محمد کی آیت ’’ولا تھنوا وتدعوا الیٰ السلم‘‘ میں کمزوری دکھاتے ہوئے دشمن سے صلح کی دہائی دینے کو منع کیا گیا ہے، لیکن یہ ایک بالکل دوسری بات ہے اور دشمن کے ساتھ باعزت صلح ایک دوسری چیز ہے۔ 

سوم۔ تیسری ایک بات اور ہے جو قطعی طور پر اس کا فیصلہ کردیتی ہے کہ خود ہمارے فقہاء کے نزدیک غیر مسلم حکومت خود اپنی ذات میں ایسی چیز نہیں ہے جس کوبرداشت ہی نہیں کیا جاسکتا اور مسلمانوں پر اس کو ختم کرنا دینی فریضہ ہے۔ فقہاء اس پر متفق ہیں کہ اگر غیر مسلم حکومت کی طرف سے کچھ مال دے کر صلح کی پیش کش کی جائے تو مسلمانوں کی حکومت کے لئے جائز ہے کہ وہ اس مال کو قبول کرکے غیر مسلم حکومت کو باقی رہنے دے اور صلح کرلے۔ فقہاء نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ یہ ’’جزیہ‘‘ والی صورت نہیں ہوگی بلکہ غیر مسلم حکومت اپنی پوری آزادیوں اورکفر کے قوانین کے نفاذ کے ساتھ باقی رہے گی۔ (بدایۃ المجتہد: ۱/۳۱۷ بدائع الصنائع:۶/۷۶)۔

اب اگر مولانا مودودی ؒ کی بات کو تسلیم کرلیا جائے تو بات یہ ہوگی کہ یوں تو اگرچہ ایک غیر مسلم حکومت سارے فتنہ وفساد کی جڑ اور خرابیوں کا منبع ہے اس لئے اس کو اکھاڑ پھینکنا اور اس کی جگہ اہل حق کی حکومت قائم کرنا ضروری ہے، لیکن اگر مال ملے تو پھر سب قابل برداشت ہوسکتا ہے۔ ذرا غور فرمائیں !یہ تو کوئی اخلاقی پوزیشن نہیں ہوئی۔ اللہ کا دین یقیناً اس سے بری ہونا چاہئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے ائمہ اور فقہاء متقدمین کے موقف کی جو یہ توجیہ اور تشریح کی جاتی ہے کہ ’’شوکت کفر علت قتال ہے‘‘ یا یہ کہ غیر مسلم حکومت کا وجود فی نفسہ اس بات کا مکمل سبب ہے کہ اگر قدرت ہو تو اس کو ختم کرنے کے ہدف سے اس کے خلاف جنگ کی جائے اور مسلمانوں کے ذمہ فرض ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ غیر مسلم حکومت کا خاتمہ ضرور کریں، یہ صحیح توجیہ نہیں ہے اور اس میں متعدد اشکالات ہیں۔

فقہاء کا یہ متفقہ مسئلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک نہ کفر قتال کا سبب ہے نہ نظام کفر نہ حکومت کفر، کیوں کہ وہ سب مال کے عوض غیر مسلم حکومت سے صلح کرنے کو جائز کہتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو غیر مسلم حکومت مال دینے پر اسی وقت راضی ہوگی جب مسلمانوں کی طاقت کا پلہ بھاری ہو۔ یعنی یہ بات بھی نہیں کہی جا سکتی کہ ہمارے فقہاء نے اس کی اجازت اسی صورت میں دی ہے جب مسلمان کمزور ہوں یا خود ان کی مصلحت کا تقاضہ ہوکہ جنگ سے بچا جائے۔

بعض متقدم ائمہ کی صراحتیں کہ جنگ کا سبب محاربہ ہے:

اگرچہ ہمارے قدیم فقہاء کے یہاں یہ تصور ناپید نہیں ہے کہ نفس کفر جنگ کا سبب نہیں ہوسکتا ۔ جنگ کا سبب محاربہ یعنی جارحیت اور صلح نہ کرنا ہے۔

(۱) ابن تیمیہ:

امام ابن تیمیہ کا تو اس مسئلے پر مستقل رسالہ ’’قاعدۃ مختصرۃ في قتال الکفار ومھادنتھم‘‘ بھی ہے ، جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنگ صرف اسی سے کی جائے گی جو خود آمادۂ پیکار ہو۱۔ (قاعدۃ مختصرۃ فی قتال الکفار، ص ۱۲۱)

بعض عرب علماء اس رسالہ کی ابن تیمیہ کی طرف نسبت مشکوک قرار دیتے ہیں۔ مگر نیل الأوطار میں ایک جگہ شوکانی کے قلم سے اس رسالہ کا تذکرہ دیکھا تو اندازہ ہوا کہ شوکانی کے پاس غالبا اس کا نسخہ تھا۔ علامہ شوکانی نے لکھا ہے کہ:

وکون قتال الکفار لکفرھم ھو مذھب طائفۃ من أھل العلم ، وذھبت طائفۃ أخری إلی أن قتالھم لدفع الضرر ... ومن القائلین بھذا شیخ الإسلام ابن تیمےۃ ولہ في ذلک رسالۃ (نیل الأوطار: ۵/۲۷۲)

’’اور کفار سے قتال کا سبب ان کا کفر ہے، یہ بعض اہل علم کی رائے ہے، اور ایک دوسری جماعت کا موقف یہ ہے کہ قتال ان کے ضرر کو دفع کرنے کے لئے ہے... اس دوسری رائے کے حاملین میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ بھی ہیں اور ان کا اس موضوع پر ایک رسالہ بھی ہے۔‘‘

اس رسالہ کا تذکرہ شوکانی سے پہلے علامہ امیر صنعانی کے یہاں بھی ملتا ہے، بلکہ انہوں نے اس کی تائید کرتے ہوئے اپنے ایک رسالہ میں اس کی تلخیص بھی کی ہے جو ذخائر علماء الیمن نامی کتا ب میں شائع ہوچکی ہے۔

ابن تیمیہ نے اپنی دوسری کتاب النبوات میں بھی اس رائے کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے، بلکہ اس کو جمہور علماء کا مسلک قرار دیا ہے ،کہتے ہیں: 

الکفار إنما یقاتلون بشرط الحراب ، کما ذھب إلیہ جمھور العلماء ، وکما دل علیہ الکتاب والسنۃ (النبوات ص: ۱۴۰)

کفار سے جنگ اسی شرط پر کی جائے گی کہ وہ محاربہ کریں، جیسا کہ جمہور علماء کا مسلک ہے اور اسی پر کتاب وسنت کی دلیل قائم ہے۔

ابن تیمیہ اور شوکانی کی ان عبارتوں سے یہ قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں حضرات کے نزیک ماضی میں بھی اہل علم کی ایک تعداداسی کی قائل رہی ہے کہ قتال صرف ظلم وجارحیت کے خلاف ہی کیا جاسکتا ہے اور اس کی اصل علت محاربہ (یافتنہ وغیرہ) ہی ہے۔

ابن تیمیہ اپنی کتاب الصارم المسلول میں آیت کریمہ : ’’اور اللہ کے راستہ میں قتال کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اور زیادتی مت کرنا، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (البقرۃ : ۱۱۹) کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :

فأمر بقتال الذین یقاتلون ، فعلم أن شرط القتال کون المقاتَل مقاتِلا (الصارم المسلول: ۹۶)

’’اللہ نے جنگ کرنے والوں سے قتال کرنے کا حکم دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قتال کے لئے یہ شرط ہے کہ جس کے خلاف جنگ چھیڑی جائے وہ جنگ کررہا ہو۔‘‘

(۲) ابن قیمؒ:

ابن قیمؒ اپنی کتاب ہدایۃ الحیاری میں کہتے ہیں:

إنما کان (صلی اللہ علیہ وسلم) یقاتل من یحاربہ ، وأما من سالمہ وھادنہ فلم یقاتلہ (ہداےۃ الحیاری: ۱۲۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سے جنگ کرتے تھے جو خود جنگ کرتا تھا۔ جو صلح کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے جنگ نہیں کرتے تھے۔

(۳) ابن جریر طبری:

سورۂ انفال کی یہ آیت گذر چکی ہے: ’’وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا وتوکل علی اللہ‘‘ یعنی اگر یہ خدا اور مسلمانوں کے دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح پر آمادہ ہو جانا ۔

ابن جریر طبری نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے پہلے تو یہ لکھا ہے کہ:

وان مالوا الی مسالمتک ومتارکتک الحرب، اما بالدخول فی الاسلام واما باعطاء الجزیۃ واما بموادعۃ ونحو ذلک من اسباب السلام والصلح فاجنح لہا، یقول فمل الیہا وابذل لہم ما مالوا الیہ من ذلک وسألوک۔

’’اگر وہ (دشمن ) تمہارے ساتھ صلح اور جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے چاہے اسلام قبول کرکے یا جزیہ دے کر یا صلح کرکے، چاہے وہ کسی قسم کی اور کسی انداز کی بھی صلح ہو تو تم بھی صلح پسندی کا ثبوت دینا، اور وہ جو چاہیں وہ کر دینا اور دے دینا۔‘‘

آگے بڑھنے سے پہلے خط کشیدہ عبارت پر ایک مرتبہ نظر ڈال لیجیے۔ اس سے صلح کا کس درجے میں مطلوب ہونا معلوم ہوتا ہے۔

امام طبری آیت کی اس اجمالی وضاحت کے بعد قتادۃؒ اور بعض دیگر حضرات کے اس قول پر کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی بعد میں اجازت نہیں رہی، وہ تبصرہ کرتے ہیں جو پیچھے گذر چکا کہ: اس کی کتاب و سنت اور عقل وفطرت سے کوئی دلیل نہیں پیش کی جا سکتی۔

امام طبری کی اس عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کا مفہوم یہی سمجھتے ہیں کہ اگر غیر مسلم ریاست اسلام اور جزیہ(یعنی مسلم حکومت کی تابعداری ) پر راضی نہ ہو کر کسی اور شراائط پر صلح کرنا چاہے تو اس کو قبول ہی کیا جائے اور صلح کی جائے۔واقعہ یہی ہے کہ آیت اپنے الفاظ اور اپنے سیاق و سباق کے لحاظ سے اس کے علاوہ کسی اور مفہوم کی گنجائش نہیں چھوڑتی۔

دلائل پر ایک نظر:

جو حضرات اس کے قائل ہیں کہ مسلمانوں کو بشرط قدرت ساری غیر مسلم حکومتوں سے جنگ کرنے کا حکم ہے، ان سے بھی جو محاربہ یا ظلم کے مرتکب ہوں اور ان سے بھی جو کسی قسم کے محاربہ کے مرتکب نہ ہوں، ان حضرات کے اہم دلائل حسب ذیل ہیں، اب وقت آیا ہے کہ ہم ان کا جائزہ لیں۔

۱۔ وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہ (البقرۃ : ۱۹۳) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ’’فتنہ‘‘ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے۔

اس آیت میں قتال کا جو دوسرا مقصد ’’اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے‘‘ بتایا گیا ہے، اس میں بعض مفسرین نے ’’دین‘‘ کے معنی اطاعت کے بیان کیے ہیں۔ (طبری)یہیں سے یہ حضرات یہ استدلال کرتے ہیں کہ آیت مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ تاحد مقدور اسلام کی حکومت کے قیام کے لئے قتال کریں۔ 

مولانا مودودیؒ اس استدلال کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

’’اس مقام پر ’’فتنے‘‘ سے مراد وہ حالت ہے جس میں دین اللہ کے بجائے کسی اور کے لئے ہو، اور لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ یہ ’’فتنہ‘‘ ختم ہوجائے اور دین صرف اللہ کے لئے ہو۔ پھر جب ہم لفظ ’’دین‘‘ کی تحقیق کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں دین کے معنی ’’اطاعت‘‘ کے ہیں، اور اصطلاحا اس سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو کسی کو بالاتر مان کر اس کے احکام وقوانین کی پیروی میں اختیار کیا جائے۔ پس دین کی اس تشریح سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ سوسائیٹی کی وہ حالت جس میں بندوں پر بندوں کی خدائی وفرماں روائی قائم ہو، اور جس میں اللہ کے قانون کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے، فتنے کی حالت ہے، اور اسلامی جنگ کا مطمح نظریہ ہے کہ اس فتنے کی جگہ ایسی حالت قائم ہو، جس میں بندے صرف قانون الہی کے مطیع بن کر رہیں‘‘ (تفہیم القرآن۱/۱۵۱)

غور کریں تو یہ استدلال کمزور نظر آئے گا۔ چاہے دین اپنے اصطلاحی معنوں میں ہو یا آیت کے معنی یہ ہوں کہ اطاعت خالصۃً اور کل کی کل اللہ کی جائے، اس سے یہ مرادلینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہوجائے؟ مسلمانوں کی حکومت قائم ہوجائے اور اسلامی احکام کا قانونی نفاذ ہو بھی جائے تو بھی کفار اپنے شرک وکفر اور اللہ کی نافرمانی اور غیر اللہ کی اطاعت وبندگی پر قائم رہیں گے، ان کے احبار ورہبان ان کے لیے ناحق قانون سازی کرتے رہیں گے اور اسلامی حکومت ان کے بہت سے معاصی وقبائح ومنکرات کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ پھر اس آیت سے استدلال کے کیا معنی؟ جہاد وقتال کے نتیجے میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوجائے اور اسلامی قانون کے نفاذ اور جزیہ کی تحصیل کے بعد بھی نہ دین اپنے معروف معنی میں اللہ کے لئے خالص ہوتا ہے اور نہ اطاعت اللہ کے لیے ہوتی ہے۔ مشرکین کا شرک اور یہود ونصاری کی اطاعت رہبان واحبار بھی باقی رہے گی اور کفار کے معاصی بھی، کوئی جہاد دنیا میں دین یا اطاعت کو اللہ کے لئے خالص نہیں کرتا، پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کی غایت ’’دین کا یا اطاعت کا اللہ کے لئے خالص ہوجانا‘‘ ہے۔ جہاد کے نتیجے میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی تب بھی دین اللہ کے لئے خالص نہیں ہوگا نہ اطاعت اللہ کے لئے خالص ہوگی ۔ سادہ سے لفظوں میں آپ اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ جہاد کے نتیجے میں جو اسلامی حکومت قائم ہوگی وہ زمین پر کفر کو بھی باقی رہنے دے گی اور (غیر مسلموں کے ذریعے) اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں کو بھی ۔ لہٰذا جنگ کا ہدف دین یا اطاعت کا اللہ کے لیے خالص ہو جانا نہیں قرار دیا جاسکتا۔

بعض علماء نے اس آیت میں دین کے معنی قہر وغلبہ کے لئے ہیں، جو یقیناً غلط فہمی ہے، ہم بصد ادب وضاحت کرتے ہیں کہ دین کے معنی عربی زبان میں قانون، اطاعت بدلہ وغیرہ کے تو آسکتے ہیں، قہر وغلبہ اور حکومت کے نہیں آتے۔ پھراس کا مطلب کیا ہے کہ جنگ کرو تاکہ دین اللہ کے لیے خالص ہوجائے؟ اس مشکل کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرلیا جائے کہ دراصل یہ آیت صرف مشرکین عرب کے سلسلہ کا حکم بیان کررہی ہے۔ آپ ذرا اس کے سیاق پر غور کیجئے۔

وَقَاتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُم مِّنْ حَیْْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیْہِ فَإِن قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاء الْکَافِرِیْنَ۔ فَإِنِ انتَہَوْا فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَإِنِ انتَہَوا فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (البقرۃ: ۱۹۰۔۱۹۳)

’’اور اللہ کے راستے میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کررہے ہیں۔ اور زیادتی مت کرنا اللہ زیادتی کرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اور ان کو قتل کرو جہاں پاؤ ، اور وہاں سے ان کو نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور ’’فتنہ‘‘ قتل سے سنگین تر ہے، اور ان سے مسجد حرام کے پاس جنگ مت کرنا جب تک وہ وہاں تم سے جنگ نہ کریں، اگر وہ مسجد حرام میں تم سے جنگ کریں تو تم ان کو قتل کرو۔ کافروں کا یہی بدلہ ہے۔ تو اگر وہ باز آجائیں (شرک سے) تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ اور ان سے جنگ کرو اس وقت تک جب تک کہ فتنہ نہ ختم ہوجائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے۔ اگر وہ باز آجائیں(جنگ )سے تو کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی سوائے ظالموں کے (کسی پر)َ ۔‘‘

آیات کا سیاق قطعی طور پر ان مشرکین مکہ کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی، جن کے خلاف مسلمانوں میں جوش حمیت پیدا کرنے کے لئے قرآن نے کہا تھا: وھم بدؤوکم أول مرۃ (انہوں نے ہی لڑائی کی ابتدا کی تھی)۔ ان مشرکین کے سلسلے میںیہ سلسلۂ آیات شروع ہی یہاں سے ہوا ہے کہ : ’’اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں‘‘۔ اس سلسلۂ بیان میں حکم دیا گیا ہے کہ ان مشرکین سے تم کو جنگ شروع کرنے کا جو حکم دیا جارہا ہے اس کی عملی غایت اور انتہا یہ ہے کہ ان کا فتنہ ختم ہوجائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے۔ اس سیاق وپس منظر میں دین کے اللہ کے لئے اصل ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین جس علاقے یعنی جزیرۂ عرب کے باسی ہیں اس کے بارے میں یہ طے ہے کہ یہاں دین صرف اللہ کا ہی رہے گا۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں وصیت فرمائی کہ : ’’مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دیا جائے‘‘(صحیح بخاری ، کتاب الجہاد، باب جوائز الوفد) اور یہی محمل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور ارشاد: ’’ أمرت أن أقاتل الناس حتی یشھدوا أن لا إلہ إلا اللہ۔۔۔‘‘۔ مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔

اس معنی کو حتمی طور پر طے کرنے والی یہ بات ہے کہ متفقہ طور پر لوگوں سے زبردستی اسلام قبول کروانا جنگ کی غایت ہرگز نہیں ہے۔ اگر اس حدیث کو (مذکورہ بالا آیت کی طرح) جزیرۃ العرب کے ساتھ خاص نہ مانا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مجھے لوگوں سے جنگ کرنے اور قتل وقتال کرنے کا حکم ہے الا یہ کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔

تقریباً یہی الفاظ سورۂ انفال آیت ۳۹ میں بھی آئے ہیں، وہاں بھی سیاق یقینی طور پر مشرکین مکہ کو متعین کرنے والا ہے۔

(۲،۳) اس موقف کے اہم دلائل میں سورۂ توبہ کی دو آیتیں بھی ہیں:

قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُواْ الْجِزْیَۃَ عَن یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُون۔ (آیت : ۲۹)

’’جنگ کرو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور نہ آخرت کے دن پر اور دین حق کی اتباع نہیں کرتے، یعنی اہل کتاب سے، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں ہاتھ سے اور تابع بن کر رہیں۔‘‘

دوسری آیت اسی سورت کی یہ آیت ہے : 

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ یَلُونَکُم مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُواْ فِیْکُمْ غِلْظَۃً (آیت : ۱۲۳)

’’اے ایمان والو! اپنے پاس کے کفار سے جنگ کرو، اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں۔‘‘

ان دونوں آیتوں سے استدلال اس طور پر ہے کہ پہلی آیت میں قتال کے حکم کے ساتھ اس حکم کی غایت یہ بتادی گئی کہ یہ اہل کتاب کفار مسلمانوں کے تابع ہوکر جزیہ دینے پر راضی ہوجائیں، تاکہ ان کی بالادستی اور خودمختاری ختم ہوجائے، وہ زمین میں صاحب امر اور حاکم بن کر نہ رہیں، بلکہ زمین کے نظام زندگی کی باگیں اور امامت وفرماں روائی کے اختیارات دین حق کی اتباع کرنے والوں کے ہاتھوں میں آجائیں۔ دوسری آیت بھی مطلقاً کفار سے جنگ کرنے کا حکم دیتی ہے، اور اس میں کہیں اس کا اشارہ بھی نہیں ہے کہ وہ دعوت حق کا راستہ روکیں، یا اللہ کے بندوں پر ظلم کریں یا مسلم حکومت کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہوں۔

دراصل ان آیتوں کا مدعا اور ان میں دیے گئے حکم کی اصل نوعیت سمجھنے کے لئے ان کے پس منظر اور ان حالات کو جاننا ضروری ہے جن کے درمیان وہ نازل ہوئیں۔ کسی کلام کو اگر اس کے پس منظر سے کاٹ دیا جائے یا ان حالات کو نظر انداز کردیا جائے جن میں وہ صادر ہوا ہے تو کچھ کا کچھ مطلب ہوجانا ممکن ہوجاتاہے۔

قرآن مجید قانون کی کسی کتاب کی طرح دفعات کی زبان میں نازل نہیں ہورہا تھا۔ اس کے صحیح فہم کے لئے ضروری ہے کہ ان واقعات کی کھوج کی جائے جن میں کوئی خاص مجموعۂ آیات نازل ہوا تھا اور ذہن وتصور کو اس ماحول میں پہنچانے کی پوری کوشش کی جائے۔

یہ آیات غزوۂ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ یہ بیزنطینی روم کے خلاف ایک مہم تھی جو سن نو ہجری میں انجام دی گئی، اس وقت ہرقل عظیم رومن سلطنت کے فرماں روائے اعظم قیصر کی حیثیت سے سریرآرائے سلطنت ہوچکا تھا، اور اسی لئے اسلامی مآخذ اس کو کبھی قیصر اور کبھی ہرقل کہتے ہیں۔ رومن حکومت کی کچھ عمل داریاں عرب سرزمین میں حدود شام اور شام کے اندر قائم تھیں۔ شمال عرب میں غسانیوں کی مشہور حکومت تو مستقل طور پر ان کی تابع تھی ہی، اس کے علاوہ اسی علاقہ کی کچھ دیگر قبائلی طاقتیں بھی رومیوں کی عمل داری میں تھیں اور عیسائی ہوچکی تھیں، گویا یہ پورا خطہ رومی سلطنت عظمیٰ کا حصہ تھا۔

رومی سلطنت سے کشمکش کا آغاز ۸ھ ؁ میں فتح مکہ سے پہلے ہوچکا تھا ، روم جیسی توسیع پسند جابر طاقت کو جس نے جاگیرداری کے ظالم نظام میں غریب عوام کو جکڑ رکھا تھا، اپنے بالکل پڑوس میں ایک ایسی ابھرتی ہوئی طاقت کیسے برداشت ہوسکتی تھی جس کے جلو میں دلوں کو فتح کرنے والی ایک ایسی دعوت تھی جس کا اعلان تھا: ’’اللہ کی بندگی میں داخلہ اور بندوں کی غلامی سے آزادی‘‘۔ ابتداء ایسے ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۵ آدمیوں کی ایک جماعت ان رومی عیسائی علاقوں میں بھیجی انہوں نے وہاں دعوت اسلام دی، مگر ان سب کو ذات اطلاح نامی مقام پر قتل کر دیا گیا۔ ان کے امیر حضرت کعب بن عمیر نہایت زخمی حالت میں بچ کر مدینہ واپس آئے اور اس سنگین واقعہ کی اطلاع دی۔ (البدایہ والنہایۃ) 

ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ رومی حکومت کی ایک اور اسلام دشمن حرکت سامنے آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شمال کے ان عرب علاقوں میں مستقل دعوتی مہمیں بھیجی تھیں۔ ان کے نتیجہ میں فروۃ بن عمرو (یا ابن نفاثہ) نامی ایک عرب حاکم نے جو رومیوں کی جانب سے عرب قبائل پر متعین تھا اسلام قبول کرلیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر سگالی کے طور پر کچھ ہدایا بھی بھیجے۔ رومیوں نے اس کو مرکز طلب کیا اور قتل کرکے سولی پر چڑھا دیا۔ (سیرت ابن ہشام)

اسی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماں روایان ممالک کو دعوت اسلام کے خطوط بھیجے تھے، ان میں ایک خط بصریٰ کے حاکم کے نام بھی تھا۔ راستے میں غسانی بادشاہ شرحبیل بن عمرو نے، جو رومی حکومت کا علاقے میں نائب تھا اور عیسائی تھا، آپ کے سفیر حضرت حارث بن عمیر کو پکڑ کر قتل کردیا۔ جیساکہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے یہ پورا خطہ رومی سلطنت میں داخل اور عیسائی حکومتوں کے تابع تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان طاقتوں کی تادیب ضروری سمجھی۔ اس کے بعد موتہ کا معرکہ ہوتاہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غالبا اندازہ تھا کہ رو م کی تابع ان عرب ریاستوں کے لئے ایک مختصر فوج (۳ ہزار) کافی ہونی چاہئے۔ مگر ادھر براہ راست قیصر (ہرقل) حرکت میں آچکا تھا۔ اسلامی لشکر علاقے میں پہنچا تو پتہ چلا کہ رومی زبردست لشکر کشی کرنے کی تیاری کرچکے ہیں، غسانی عیسائی عرب قبائل کی بڑی تعداد لے کر سامنے ہیں اور ایک بڑی کمک لے کر ہرقل کا بھائی تھیوڈور آرہا ہے۔ خود قیصر روم حمص میں پڑاؤ ڈالے ہے، بہرحال اللہ کی نصرت اورمجاہدین کی جانبازیوں کی بدولت لشکر اسلام بحفاظت واپس آگیا، اور رومیوں کو اندرون عرب لشکر کشی کی جرأت نہیں ہوئی۔

خود مدینے کے اندر سے ایک فتین شخص ابوعمرو راہب عیسائی ہوکر غسانیوں کے یہاں بھاگ گیا تھا، اور مستقل اس سازش میں مصروف تھا کہ وہاں سے ایک بڑی فوج لے کر مدینہ پر حملہ کرے، مدینہ میں منافقین مستقل اسی کے رابطے میں تھے، آخر جب یہ سازش اپنے عروج کو پہنچی تو انہوں نے عین مدینہ میں مسجد کے نام پر اپنا ایک مستقل مرکز بھی بنالیا جہاں بیرونی حملہ آور افواج کی مدد کے منصوبے تیار ہوتے تھے۔ قرآن نے اسی پوری سازش کا پردہ چاک کیا کہ یہ مرکز دراصل رومی حملہ کی سازشوں کا گڑھ ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۰۷)

اب سن ۹ ہجری آتا ہے۔ ان مذکورہ واقعات کے علاوہ بھی ان تین چار سالوں میں رومیوں کی طرف سے ایسی اور بھی کئی حرکتیں ہوئیں جن کا مطلب واضح طور پر یہی تھا کہ رومیوں کے ارادے خطرناک ہیں۔ رومیوں کی حرکتیں اس درجہ بڑھ گئی تھیں کہ صحابہ کرام کو ہر دم رومی حملے کا اندیشہ لاحق تھا۔ اور اس کی وجہ سے مدینہ پر ایک درجے کا خوف طاری تھا۔ ایلاء کے سلسلۂ واقعات میں آتا ہے کہ جب حضرت عمر کے ایک پڑوسی نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور نہایت بے چینی کے ساتھ کہا کہ : ارے! بڑا حادثہ ہوگیا‘‘ توحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دفعۃً پوچھا :کیا ہوا؟ کیا غسانیوں (رومیوں) نے حملہ کردیا؟ خود حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اس زمانے میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ غسانی حملے کی تیز رفتار تیاریاں کررہے ہیں۔ (صحیح بخاری: ۵۱۹۱) اب تاجروں اور مسافروں نے آآکر خبریں دیں کہ رومی اپنے تابع عیسائی عرب قبائل اور ریاستوں کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے تیاریاں کررہے ہیں، فوجوں کو ایک سال کی تنخواہیں پیشگی باٹی گئی ہیں، اور کچھ دستے بلقاء تک پہنچ رہے ہیں۔ ( المواہب اللدنیہ مع شرح الزرقانی ۳/۶۳، ابن سعد ۲/۱۶۵) روایات بتاتی ہیں کہ عیسائی قبائل نے اپنے آقا قیصر روم کو خط لکھ کر یہ خبر دی کہ عرب میں اس سال شدید قحط ہے، حملہ کرنے کے لئے یہ موقع اچھا ہے تواس نے اپنی طرف سے ایک بڑی فوج بھیجی ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی : ۱۸/۲۳۱)

ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کا فوری حکم دیا اور باوجود اس کے کہ موسم سخت گرم تھا اور مسلمانوں کو سخت غربت اور تنگ حالی کا سامنا تھا کوئی تاخیر اس لئے ممکن نہیں تھی کہ خطرہ نہایت سنگین تھا اور فوری تھا۔ فتح مکہ کے بعد عرب قبائل کا اسلام ایسا مضبوط نہیں ہوا تھا کہ اگر رومی اندرون عرب گھس کر حملہ کرتے تو ان سے استقامت کی امید کی جاتی۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان قبائل کی بڑی تعداد کے ارتداد اور بغاوت نے ثابت بھی کردیا کہ اگر روم جیسی طاقت کا حملہ ہوتا تو یہ قبائل یقیناً بغاوت کردیتے اور اسلامی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرحد پر جاکر ہی دشمن کو روکنا اور مسلمانوں کی قوت کا رعب قائم کرنا ہرحال میں ناگزیر جانا۔ 

ان حالات میں یہ دونوں آیتیں مسلمانوں کو رومی طاقتوں سے جنگ کے لئے حکم دینے اور اس پر ابھارنے کے لئے نازل ہوئیں۔

اس دراز تفصیل کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ یہ واضح کیا جاسکے کہ سطحی طور پر یہ سمجھنا کہ ان آیات میں آیات دراصل اہل کتاب سے جنگ کے فقہی مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے یا ابتداءً اس کا حکم دیا گیا ہے، بالکل غلط ہے۔ یہ آیات اس مقصد کے لیے نازل نہیں ہوئیں، اہل کتاب سے اور رومی عیسائی طاقتوں سے کشمکش پہلے سے جاری تھی، اور یہ جنگ پہلے سے فرض ہوچکی تھی، یہ آیات مسلمانوں میں اس جنگ کے لئے ہمت وجوش پیدا کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔ یہی ان کا اصل مقصود و معنی ہے۔ اور رومیوں کی یہ صفات کہ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے دین حق کے منکر ہیں، اور اللہ ورسول کے محرمات کو حرام نہیں سمجھتے، فوجوں کے اندر جوش اور ان کے خلاف غیظ وغضب پیدا کرنے کے لئے بیان کی گئی ہیں۔ یہ رومیوں سے قتال کی علت نہیں ہیں۔ قتال کی علت رومیوں کا صد عن سبیل اللہ (اللہ کے راستے سے روکنا) ایک مسلمان کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں قتل کرنا (فتنہ) اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاریاں (محاربہ) کرنا تھا۔

بہرحال اس سے پتہ چلتا ہے کہ شمال عرب کی ان ساری مہموں کی اصل علت ’’محاربہ‘‘ اور ’’فتنہ‘‘ تھی۔ رومیوں سے جنگ کا حکم دینے والی انہی آیات کے سلسلہ میں آگے جاکر ارشاد ہوتاہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ یَلُونَکُم مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُواْ فِیْکُمْ غِلْظَۃً ۔

’’اے ایمان والو! ان کافروں سے ، جو تمہارے قریب ہیں ، جنگ کرو اور چاہے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں۔‘‘

گذشتہ تفصیل کی روشنی میں آیات کا سیاق بالکل یقینی طور پر واضح کرتا ہے کہ آیت کے نزول کے وقت اصلا ’’الذین یلونکم من الکفار‘‘ سے مراد یہی رومی طاقتیں ہیں جو عرصے سے محاربہ کررہی تھیں اور جن کے خلاف جنگ پہلے سے چلی آرہی تھی۔ درمنثور میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا کہ اس سے مراد روم والے ہیں۔ مفسرین نے اس کے اصل معنی یہی لیے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ یہ کوئی ایسا اصول نہیں بتایا یا جارہا تھا جس کی رو سے مسلمانوں پر اپنے قریب کی غیر مسلم حکومتوں سے جنگ کرنا ہمیشہ اور بغیر کسی سبب کے ضروری قرار پائے۔ ہاں اگر کوئی اس سے اور ان دونوں آیتوں سے قیاس کے طور پر یہ استدلال کرے کہ جس علت وسبب کی بنا پر ان روم والوں سے جنگ واجب قرار پائی تھی وہ علت جن ’’ کفار‘‘ میں بھی پائی جائے گی اور جب بھی پائی جائے گی ان سے جنگ مسلمانوں پر فرض ہوگی تو یہ قیاس بالکل صحیح ہوگا۔

پھر ان اسباب کی تحقیق میں تاریخی طور پر یہ طے ہے کہ روم کی حکومت اور اس کی تابع ریاستیں صرف محارب ہی نہیں تھیں بلکہ اسلامی ریاست کے لئے ایسا شدید خطرہ بنی ہوئی تھیں کہ اگر ان کو ذرا نظر انداز کیا جاتا تو اسلام اور اسلامی ریاست کا وجود ہی خطرے میں پڑجاتا۔

(۴) اس موقف کے حامل حضرات کثیر تعداد میں ان نصوص کو بھی پیش کرتے ہیں جن میں کفار یا مشرکین سے جنگ کرنے کا حکم آیا ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ان نصوص پر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ تأثر یقیناً قائم ہوتا ہے کہ سارے کفار ومشرکین سے جنگ کا حکم دیا جارہا ہے۔ مگر اگر قرآن مجید کے سیاق وسباق میں غور کیاجائے اور یہ اصول مد نظر رہے کہ قرآن مجید کی آیات جنگ کے حالات میں نازل ہوا کرتی تھیں جب کہ کفار ومشرکین کے مخصوص گروہوں یعنی مشرکین مکہ ، دیگر عرب قبائل اور یہود مدینہ اور نصارائے شام وروم میں سے کسی کے خلاف جنگ قائم ہوتی تھی تو یہ سمجھ لینے میں دقت نہیں پیش آئے گی کہ ان نصوص کا مقصد لوگوں میں ان دشمنوں سے قتال کے لئے جوش وآمادگی پیدا کرنا ہوتا تھا۔ اگر یہ اصول مد نظر رہے تو صاف واضح ہو جائے گا اس طرح کی آیات اور احادیث میں دنیا کے تمام کفار ومشرکین نہیں بلکہ وہی لوگ مراد ہوتے تھے جن سے اس وقت جنگ درپیش ہوتی تھی۔ ہاں باقی دیگر غیر مسلم ریاستوں کے سلسلے میں ان آیات واحادیث اور ان میں مذکور غیر مسلم ریاستوں کے معروضی حالات پر غور کر کے قیاس کے ذریعے سے شرعی حکم جانا جا سکتا ہے۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوجوں کو روانہ کرتے تو جو ہدایا ت دیتے تو ان میں یہ بات بھی فرماتے:

اغزوا باسم اللہ قاتلوا من کفر باللہ (صحیح مسلم ، کتاب الجہاد ، باب تامیر الإمام الأمراء)

’’اللہ کے نام پر جنگ کو جاؤ ، اللہ کا انکار کرنے والوں سے جنگ کرو۔‘‘

یا جیسے قرآن میں کہا گیا :

وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَآفَّۃً (التوبۃ: ۳۶)

تمام مشرکوں سے جنگ کرو جیساکہ وہ سب کے سب تم سے جنگ کرتے ہیں۔

اس آیت میں تمام مشرکین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا، مگر آگے اس کا سبب یہ بیان کیا گیا کہ ’’جیسا کہ وہ سب کے سب تم سے برسر پیکار وجنگ ہیں، اس لئے تم بھی ان سب سے جنگ کرو‘‘۔ اس سبب کے بیان سے خود بخود مراد طے ہوگئی کہ اس آیت سے صرف مشرکین عرب مراد ہیں۔

مولانا مودودی ؒ کا خاص استدلال:

مولانا مودودی ؒ نے اس نقطۂ نظر کو کہ مسلمانوں کو بشرط مقدور غیر مسلم حکومتوں سے ہر حال میں جنگ کرنی ہے،نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس کے دلائل مرتب کیے ہیں۔ مولانا اس کو مصلحانہ جنگ کا نام دیتے ہیں۔ موصوف نے ایک نہایت طویل بحث کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا اصل مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، یہ امت اسی فریضہ کی انجام دہی کے لئے قائم کی گئی ہے۔

پھر مولانا فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف تو طاقت کے زور سے انجام دیے جانے والا فریضہ نہیں ہے، وہ تو وعظ ونصیحت کے ذریعہ انجام دیا جائے گا۔ البتہ منکر کی مولانا نے دو قسمیں قرار دی ہیں، (۱) قلب وذہن کی گندگی اور خیال ورائے کی ناپاکی۔ اس کو دور کرنے کے لئے وعظ وتلقین کا حکم دیاگیا ہے۔ اور (۲) فعل وعمل کی برائی (منکر) کو بزور طاقت مٹانے کو مسلمانوں کا فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لئے مولانا نے ان احادیث کا حوالہ دیا ہے جن میں منکر سے اگر قدرت ہو تو طاقت کے زور سے روکنے کا حکم آیا ہے: ’’فلیغیرہ بیدہ‘‘۔ پھر مولانا فرماتے ہیں کہ ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ :

’’اگر مسلمانوں میں اتنی قوت ہو کہ تمام دنیا کو منکر سے روک کر اسے قانون عدل کا مطیع بنادیں تو ان کا فرض ہے کہ اس قوت کو استعمال کریں اور جب تک اس کام کو پاےۂ تکمیل تک پہنچا نہ دیں چین نہ لیں۔ ‘‘

یقیناً احادیث میں اس کا حکم آیا ہے کہ ’’تم میں سے جو کوئی برائی (منکر) دیکھے تو اس کو اگر قدرت ہو تو ہاتھ سے مٹادے، مگر باتفاق علماء یہ حکم مسلم امت کے داخلی دائرے کے اندر کا ہے۔ کسی نے اس کا مطلب یہ نہیں سمجھا ہے کہ جو غیر مسلم ان منکرات کو منکر ہی نہیں جانتا مثلا شراب خوری، کھانے پینے کے سلسلے کی حرام اشیاء، ہر مسلمان ان کو بھی بزور وطاقت مٹانے کا (بشرط قدرت) ذمہ دار ہے۔ یہیں سے مولانا کا استدلال بے محل ثابت ہوجاتاہے۔ یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ منکر کی وہ بڑی قسم جس کو مولانا قلب وذہن کی گندگی کہتے ہیں اس کا طاقت کے زور سے مٹانا کیوں منع قرار پائے؟ حدیث میں تو تمام ہی منکرات کو بزور مٹانے کی سکت ہونے پر ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بلکہ ’’منکراً‘‘ کا نکرہ ہونا تمام ہی منکرات کے اس ذیل میں آنے کو بتا تا ہے۔ پھر یہ استثنا کیوں کر ممکن ہے؟ اس کا کیا سبب ہے کہ ہم ا س سے صرف فعل وعمل کی برائی مراد لیں۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جہاد فعل وعمل کی بہت سی برائیوں کو جن کا تعلق اجتماعی ظلم سے نہیں ہوتا باقی رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ مثلا اسلام کی فتح کے بعد بھی غیر مسلموں کے لیے شراب پینا، بنانا، اس کی خرید وفروخت وغیرہ جائز ہی رہتے ہیں۔ پھر جہاد کا مقصد فعل وعمل کی برائی کے خاتمہ کہاں رہا؟

آگے مولانا فرماتے ہیں کہ ’’منکر کی اسی دوسری قسم کو ... اللہ تعالی نے فتنہ وفساد سے تعبیر فرمایا ہے، چنانچہ ان تمام آیات میں جن میں منکر کے خلاف جنگ کی اجازت دی گئی ہے یا جنگ کی ضرورت ظاہر فرمائی گئی ہے، یا اسے بزور شمشیر مٹانے کا حکم دیا گیا ہے، آپ کو منکر کے بجائے یہی فتنہ وفساد کے الفاظ ملیں گے‘‘ ۔

پھر مولانا نے ’’قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ‘‘ والی آیت کے علاوہ کچھ اور آیات بھی پیش فرمائی ہیں جن کے بارے میں مولانا کا کہنا یہ ہے کہ ان میں ’’بزور شمشیر‘‘ جہاد کرکے ’’فتنہ و فساد‘‘ کو مٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر مجھے سخت حیرت ہے کہ اس مقام پر مولانا ایسی آیات بھی کیسے اور کیوں کر ذکر کرگئے ہیں جن کا موضوع جہاد وقتال سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً قرآن نے ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل پر واضح کردیا گیا تھا کہ جس نے کسی جان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد مچایا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کردیا۔ (من قتل نفسا بغیر نفس أو فساد فی الأرض فکأنما قتل الناس جمیعا۔ المائدہ ۳۲) ایک جگہ قرآن نے منافقین کے بارے میں کہا کہ وہ پہلے بھی مسلمانوں میں افتراق وانتشار پیدا کرنا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے روگرداں کرنا چاہتے تھے، ان کے اس عمل کو قرآن نے ’’فتنہ پروری‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا: ’’لقد ابتغووا الفتنۃ من قبل‘‘۔ مولانا رحمہ اللہ نے یہاں یہ دونوں آتیں بھی نقل فرمائی ہیں جو بے محل ہیں، یقیناًدونوں مقامات پر جن اعمال اور کرداروں کو فساد یا فتنہ کہا گیا ہے وہ خطرناک قسم کے منکر ہیں۔ مگر قرآن نے ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا ہے اور نہ ہی ایسے منکرات کا استیصال جہاد کے ذریعہ ممکن ہے۔

آگے چل کرمولانا مرحوم نے ایک مرتبہ پھر تفصیل سے واضح کیا ہے کہ قرآن نے کن کن جرائم کو فساد قرار دیا ہے، تفصیل کا یہ موقع نہیں ورنہ ہم مولانا کی یہ پوری بحث نقل کرتے تاکہ قارئین کو اندازہ ہوتا کہ مولانا کی اس تشریح نے ساری ہی برائیوں اور خرابیوں کو اپنے دائرہ میں لے لیا ہے یہاں تک کہ ’’الإثم‘‘ (گناہ) کو بھی مولانا نے اس فساد کا مصداق قرار دیا ہے کہ جو کسی قوم میں اگر پایا جائے تو اس کے خلاف جنگ ضروری ہو جائے گی۔ بصد ادب ہم عرض کرتے ہیں کہ فتنہ کی اس قدر تعمیم بہت ہی محل نظر ہے۔

فتنہ کی تشریح:

مولاناؒ کے اس موقف کی شاید اہم ترین بنیاد ’’فتنہ‘‘ کی وہ خاص تشریح ہے جو انہوں نے جنگ کی غایت اور انتہا بتانے والی آیت ’’وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ‘‘ (ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ باقی رہے) کے ذیل میں کی ہے۔ مولاناؒ نے منکر کی دو قسمیں: (قلب وذہن کی گندگی ، (۲) فعل وعمل کی برائی بیان کرنے کے بعد کہاہے:

’’ منکر کی اس دوسری قسم کو جس کے خلاف اسلام میں قوت استعمال کرنے کا حکم دیاگیا ہے پہلی قسم سے ممتاز کرنے اور اس کی نوعیت کو اور زیادہ واضح کردینے کے لئے اللہ تعالی نے فتنہ اور فساد کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے، چنانچہ ان تمام آیات میں جن میں منکر کے خلاف جنگ کی اجازت دی گئی ہے، یا جنگ کی ضرورت ظاہر فرمائی گئی ہے، یا اسے بزور شمشیر مٹانے کا حکم دیا گیاہے، آپ کو منکر کے بجائے ہی فتنہ وفساد کے الفاظ ملیں گے۔‘‘ (الجہاد فی الإسلام،ص: ۱۰۴)

ہم پورے ادب سے عرض کرتے ہیں کہ قتال وجنگ کی علت کے طور پر جن دومقامات پر قرآن نے ’’فتنہ‘‘ کا تذکرہ کیا ہے ان میں یہ ’’فعل وعمل کی برائی‘‘ کا مفہوم نہ کسی کوشش سے پیدا کیا جاسکتا ہے نہ آج تک کسی عالم نے پیدا کیا ہے۔ یہ سراسر ایک جدت ہے۔ حقیقۃً یہاں صرف ظلم وجبر اور تعذیب کے ذریعہ لوگوں کو اسلام سے روکنا ہی مراد ہے۔ اور خود مولانا بھی اسی کتاب میں ایک جگہ فتنہ کی یہی حقیقت بیان فرماتے ہیں۔

اب یہ لاینحل معمہ پھر ہمارے سامنے آجاتا ہے کہ پہلے تو مولانا نے یہ فرمایا کہ فعل وعمل کی برائی وہ منکر ہے جس کو قرآن فتنہ اور فساد کا نام دے کر اس کے خلاف جنگ کا حکم دیتا ہے۔ اور آگے صفحہ ۱۰۶ پر ’’فتنہ کی تحقیق‘‘ کے زیر عنوان رقم فرماتے ہیں کہ ’’اس مؤخر الذکر مفہوم میں فتنہ کا لفظ تقریبا انگریزی لفظ (Persecution) کے ہم معنی ہے۔‘‘ ان دونوں باتوں میں کیسے جوڑ پیدا کیا جائے۔ 

نیز مولانا نے ’’فتنہ‘‘ کے جو قرآنی استعمالات نقل کئے ہیں ان میں کہیں بھی فتنہ سے مراد فعل وعمل کی برائی والا منکر نہیں ہے جیسا کہ مولانا نے پہلے دعویٰ فرمایا تھا۔

فساد کی تشریح:

البتہ مولانا نے ’’فساد‘‘ کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے صاف واضح ہوتاہے کہ ان کی منشا تمام مفسد اخلاق گناہوں کو قرآن میں ’’فساد‘‘ کا مصداق قرار دینا ہے، موصوف نے فساد کے علت قتال ہونے پر دو آیتیں پیش فرمائی ہیں:

(۱) ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الأرض۔ اگر اللہ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پیدا ہوجاتا۔

(۲) من قتل نفساً بغیر نفس أو فساد في الأرض فکأنما قتل الناس جمیعاً۔ جس نے کسی کو قتل کیا بغیر کسی قتل یا فساد کی سزا کے توگویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کردیا۔

یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس میں سے دوسری آیت تو کسی طرح جہاد وقتال سے متعلق ہے ہی نہیں۔ اس کو جو کچھ تعلق ہے وہ حدود وتعزیرات سے ہے۔ مولانا جیسے ذہین شخص نے اس کو کیسے یہاں ذکر کیا اس پر حیرت ہے۔ 

جہاں تک پہلی آیت کا تعلق ہے یقیناً اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ جنگوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا کو بگاڑ سے بچاتاہے۔ تفصیل کا موقع نہیں ورنہ ہم آیات کا سیاق پورا ذکر کرتے کہ یہاں قرآن بنی اسرائیل کے ہاتھوں ایک ظالم دشمن دین طاقت کی شکست کا تذکرہ کررہاہے، اس کے بعد کہہ رہا ہے کہ اسی طرح جنگوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو ظلم سے باز رکھتا ہے ورنہ دنیا تباہ ہوجائے۔

ذرا سے غور وفکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں فساد سے مراد وقت کے کفار کی وہ ظلم وسرکشی ہے جس کا سامنا بنی اسرائیل کرتے آرہے تھے، اور جس کا تذکرہ بنی اسرائیل کے قائدین کی زبانی ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ہمارے دشمنوں نے عرصے سے ہم کو اپنے وطن سے نکال دیاہے، اور ہمارے بچوں (اور عورتوں) کو قیدی بنالیاہے‘‘ (وقد اُخر جنا من دیارنا وأبنائنا) بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس واقعہ کے بیان سے پہلے جو آیات ۲۴۳تا ۲۴۵) ہیں وہ مسلمانان مدینہ کو مکہ ظالم طاقت کے خلاف جنگ کرنے اور اس کی تیاری کے لئے مال خرچ کرنے کا حکم دینے والی آیات ہیں۔

اس سیاق میں بنی اسرائیل کی اسی حالت مظلومیت کا تذکرہ یقیناًمسلمانوں کو ان کی اپنی حالت یاد دلاتا تھا۔ اس ماحول اور سیاق کو ذہن میں رکھنے کے بعد بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں ’’فساد‘‘ سے کیا مراد ہے یقیناً’’فعل وعمل کی برائی‘‘ جس کے دائرے میں مولانا آگے جاکر وہ تمام گناہ داخل بتائے ہیں جو آدمی کے ذاتی اخلاق کو غارت کرتے ہیں، ہر گز یہاں مراد نہیں ہے۔ بلکہ قرآن نے کسی جگہ بھی ’’ فساد‘‘ کے خلاف جنگ کرنے کا حکم نہیں دیاہے۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے جنگ کے لئے جو ش اور حمیت پیدا کرنے والی آیات نہایت کثرت کے ساتھ ہیں لیکن کہیں بھی ان کو ’’فساد‘‘ کو مٹانے کے لئے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیاگیا۔

فساد فی الأرض کے معنی:

ہاں! اللہ تعالیٰ نے یہ ضرور کہا ہے کہ اگر زمین اہل حق کے جہاد سے خالی ہوگی تو ’’زمین میں فساد‘‘ رونما ہوگا، ’’ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الأرض‘‘ (البقرۃ: ۲۵۱) فساد اپنے لغوی معنی کے لحاظ سے تو بڑا عام لفظ ہے، ہر بگاڑ اور صلاح کی ضد پر اس کا اطلاق ہوسکتاہے اور مولانا مرحوم نے اس کو اسی معنی میں لیتے ہوئے قرآن کی بہت سی آیات میں ’’فساد‘‘ کے معانی ومصداقات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تک کہ ’’الاثم‘‘ یعنی بقول مولاناؒ ’’ ذاتی اخلاق بگاڑ نے والے گناہ‘‘ کو بھی فساد کا مصداق قرار دے دیاہے۔ کوئی شک نہیں کہ ہر گناہ بگاڑ ہے،مگر جب فساد کے یہ معنی اس سیاق میں بتلائے جائیں کہ ہر فساد وفتنہ کی خلاف جہاد کا حکم دیاگیا ہے اور ہر اخلاقی خرابی بگاڑ فساد ہے تو یہ تشریح بڑی محل نظر ہوجاتی ہے اور ’’لا إکراہ فی الدین‘‘ کے قرآنی اصول سے سیدھی جا ٹکراتی ہے۔

قرآن مجید میں فساد اور اس کے مشتقات (Derivatives) پچاس جگہ پر آئے ہیں، اور نہایت قلیل مواقع کے استثناء کے ساتھ عموماً ہر جگہ اس سے ناجائز خونریزی بدامنی او رظلم وقہر کے معنی ہی مراد ہیں۔ جو حضرات اس کی تفصیل جاننا چاہیں وہ ایسے مواقع کو ان کے سیاق وسباق پر غور کے ساتھ دیکھ لیں، ان شا ء اللہ اطمینان حاصل ہوجائے گا۔

مولانا مرحوم نے جو دو آیتیں اپنے خیال کے مطابق اس مقصد سے پیش کی ہیں کہ قتال کی ایک علت ’’فساد‘‘ کا خاتمہ ہے ، ان میں ’’فساد ارض‘‘ یا فساد فی الأرض کے الفاظ ہیں۔صرف فساد لغت کے اعتبار سے کسی بھی بگاڑ اور خرابی کے لئے آسکتاہے۔ اگرچہ قرآن عموماً فساد کو اور خصوصاً باب افعال کے صیغے ’’افساد‘‘ کو خونریزی، ظلم اور بدامنی کے معنی میں ہی استعمال کرتاہے۔ مگر ’’فساد فی الأرض‘‘ کے بارے میں عربیت کے ذوق اور اس تعبیر کے مواقع استعمال سے یہ بات مکمل طورپر واضح ہوجاتی ہے کہ صرف گناہ برائی یا مولانا کے الفاظ میں ذاتی اخلاق کو بگاڑ نے والے گناہ ’’الإثم‘‘ پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ فساد فی الأرض کے معنی میں لازمی طورپر ظلم وزیادتی ، خونریزی، اور طاقت کے زور پرلوگوں کو مقہور ومجبور بنانا ضرور داخل ہے۔ قرآن کے استعمالات پر گہری نظر رکھنے والے مشہور امام عربیت علامہ جار اللہ زمخشری نے اس طرف اشارہ فرماتے ہوئے لکھا ہے: ’والفساد فی الأرض ھیج الحروب والفتن‘‘، فساد فی الارض کے معنی جنگیں بھڑکانا اور فتنہ (قتل وخونریزی) پھیلانا ہے۔ (تفسیر الکشاف سورۃ بقرۃ، آیت: ۱۱) بالکل یہی الفاظ اسی آیت کے ذیل میں ہمیں صاحب مدارک التنزیل علامہ نسفی اور ابوالسعود کے یہاں بھی ملتے ہیں۔ 

مثلا ڈاکہ اور بغاوت وخوں ریزی (محاربہ) کے لیے قرآن نے قتل اورسولی کی سزا متعین کی ہے۔ اس موقعے پر کہا گیا ہے کہ ’’فساد فی الارض‘‘ کے مجرمین کی سزا یہ ہے کہ ان کو قتل کر دیا جائے یا سولی پر لٹکا دیا جائے۔

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْض۔ (المائدہ: ۳۳)

یہاں اگر مولانا کے بیان کردہ معنی لیے جائیں تو اس کا تقاضہ ہو گا کہ ذاتی اخلاق کو بگاڑنے والے گناہ ’الاثم‘ کے مرتکبین کی گردنیں اڑا دی جائیں!!

مولانا کے استدلال کا یہ پہلو بڑا محل نظر ہے کہ قرآن نے اگر کسی جماعت کو ایک جگہ مفسد کہہ دیا تو اب پورے قرآن میں اس کے کردار وعمل کی جن خرابیوں کا بھی تذکرہ آیاہے مولانا کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی اصطلاح میں فساد کا مصداق ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی کسی کو کہے کہ وہ نہایت خائن ہے، پھر کسی دن کہے کہ وہ شراب پیتاہے، اس سے میں یہ نتیجہ اخذ کروں کہ متکلم کے نزدیک شراب پینا خیانت کا مصداق ہے۔ مذکورہ طریقۂ استدلال بعینہ اسی قسم کا ہے۔

خلاصۂ بحث:

اس پوری تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ مولاناؒ کے نزدیک ’’مصلحانہ جنگ‘‘ کا سبب قرآن کے بیان میں ’’فتنہ اور فساد‘‘ ہیں۔ اور ان دونوں کے دائرے میں مولانا کی تشریح کے مطابق تمام ہی خلاقی خرابیاں آجاتی ہیں۔ مگر اس پر کئی طاقت ور اشکالات وارد ہوتے ہیں:

(۱) جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا قرآن نے جس ’’ فتنہ‘‘ کے خاتمے کے لیے جنگ کاحکم دیا ہے اس سے مراد ’فعل وعمل کی برائی‘ نہیں ہے۔ اسی طرح فساد فی الارض جس کا تذکرہ جنگ کے ذیل میں آیا ہے اس سے مراد قتل وخوں ریزی اور ظلم ہے۔ لہٰذا اس پر مبنی یہ استدلال کہ غیر مسلم حکومت چوں کہ سارے قول وعمل کی برائیوں کا ذریعہ ہوتی ہے صحیح نہیں محسوس ہوتا۔

(۲) پھر دوسری یہ بات کہ اگر ہر غیر مسلم حکومت لازماً ایسی ہی ہوگی اور بقول مولانا اس کا وجود خد فتنہ ہے اور وہ ضرور ساری برائیوں کا سرچشمہ ہے تو پھر اس کی کیا توجیہ کہ جائے کہ تمام فقہاء اس کی اجازت دیتے ہیں کہ مسلمان چاہیں تواس سے کچھ مال لے کر صلح کر لیں؟

(۳) تیسری بات یہ کہ اس نظریے کے حاملین سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ بالفرض اگر کہیں یہ صورت حال درپیش ہو کہ کوئی قوم اسلام نہ لائے لیکن اس کی حکومت ان تمدنی اور اخلاقی خرابیوں کی سرپرست اور حمایت نہ کرے جن کو مولانا مرحوم نے سبب جنگ بتایا ہے توبھی یہ حضرات یہی کہتے ہیں کہ اس کے خلاف مسلمانوں کو قتال کرنا ہی ہوگا۔ اسکا واضح مطلب یہ ہے کہ خود یہ برائیاں جن کو مولانا ’’فتنہ‘‘ اور ’’فساد‘‘ کا مصداق قرار دے کر ، علت القتال یعنی سبب جنگ قرار دیتے ہیں، فی الواقع سبب جنگ نہیں، سبب جنگ کچھ اور ہے۔ اور وہ جو ہے اس کی مدلل تفصیل گزشتہ صفحات میں آچکی ہے۔

مولانا مودودیؒ کی کتاب اس موضوع پر ایک کارنامہ تھا ، اس کی اس تاریخی اہمیت میں کوئی دوسرا شریک نہیں کہ وہ ایسے وقت سامنے آئی جب الزامات کے شورنے کانوں کے پردے پھاڑدیے تھے۔ پورے ماحول میں ایک طرح کی سراسیمگی طاری تھی، بہت کسی سے بن پڑتا تھا تووہ نہایت نحیف آواز اور سہمے سہمے انداز میں کچھ معذرت خواہانہ صفائیاں پیش کرلیا کرتاتھا۔ اس ذہین نوجوان نے پورے اعتماد کے ساتھ جہاد کی وکالت کی اور دوسرے مذاہب اور مغرب کے مدعیان تہذیب کے کارناموں کی تصویر سامنے رکھ کر نہ صرف تصور جہاد کی عظمت ظاہرکی بلکہ بہت سوں کو شبہات کے دلدل سے نکال لیا۔ مولانا ؒ کی کتاب کی اس افادیت اور اہمیت کے پورے اعتراف کے باوجود ایک غیر جانبدار قاری مولانا کے نظرےۂ ’’مصلحانہ جنگ‘‘ سے مطمئن نہیں ہوسکتا۔غیر مسلموں کو تو چھوڑیے، خود مسلمان اہل دین اس نظریہ سے (جو اصطلاحات اور تعبیرات کے فرق کے ساتھ مشہور عام نظریہ ہے) دلوں میں خلش پاتے ہیں، ہمارے برصغیر میں چونکہ مولانا نے ہی اس نظریہ کی جدید تفہیم کی ہے اور اس کے دلائل بڑی تفصیل سے پیش کئے ہیں اس لئے ہم نے ان کا مفصل جائزہ لینا ضروری سمجھا۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کی نوعیت:

قرآن ہی نہیں رسول اللہ کی سیرت وسنت اورآپ کی دس سال مدنی زندگی کی جنگوں کا حال دیکھ لیجئے آپ نے کسی صلح پر آمادہ طاقت سے جنگ نہیں کی۔ 

(۱) مکہ والوں کے بارے میں قرآن نے بارہا صراحت کی کہ وہ انہوں نے جنگ چھیڑ رکھی ہے: ’’وھم بدءوکم أول مرۃ‘‘ (انہوں نے ہی ابتداء جنگ کی ہے) یہ بھی کہاکہ وہ زیادتی اور ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں، ’’وأولئک ھم المعتدون‘‘۔تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ مکہ میں مظالم اور مذہبی جبر کے اس دور کے بعد، جس کے نتیجے میں مسلمانون کو گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی، وہ مدینہ پر حملے میں بھی ابتدا کرچکے تھے۔ ان کے حملہ آور مدینہ پر شب خون اور لوٹ کی کاروائیاں کرتے رہتے تھے۔ مزید انہوں نے، سنن ابوداؤد (رقم ۳۰۰۴) کی صحیح روایت کے مطابق، مدینہ میں یہود کو اور غیر مسلم عربوں کو بھی مسلمانوں سے لڑانے اور ان کے اخراج پر آمادہ کرنے کے لئے دھمکی آمیز خطوط لکھے۔ انہوں نے عرب کی زمین مسلمانوں پر ایسی تنگ کررکھی تھی کہ غریب مہاجرین تجارت کے لئے، جس کے علاوہ ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، مدینہ سے نکل تک نہیں سکتے تھے۔ اس طرح مسلمان ایک طرح کی جیل میں اور معاشی حصار میں زندگی گذارنے پر مجبور تھے۔(البقرۃ: ۲۷۳)۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع فرمائیں۔

اس کے باوجود ان سے صلح پر آپ کی آمادگی کا یہ حال تھا کہ آپ ؐ نے ایک مرتبہ یہ تک فرمایا: ’’لا یسألونی خطۃ یعظمون فیھا حرمات اللہ إلا أعطیتھم إیاھا‘‘ یعنی قریش مجھ سے جو بھی صلح کی شرط رکھیں گے، اگر اللہ کی حرمات کا خیال رکھا جائے گا تو میں اسی کو ضرور قبول کرلوں گا ۔ (بخاری، رقم ۲۷۳۴)

(۲) مدینہ کے یہودی قبائل کو رسول اللہؐ نے اسلامی ریاست کے معزز اور باحیثیت شہریوں کی طرح رکھا۔ ریاست کا جو دستور لکھا گیا اس میں یہود کے قانونی امتیازات اور حقوق وفرائض کا پورا تذکرہ کیا گیا تھا۔ یہود نے اس کو قبول کرکے اسلامی ریاست اور اس کے حاکم اعلی کی حیثیت سے رسول اللہؐ کو قبول کیاتھا۔ مگر سب سے پہلے بنی قینقاع نے علانیہ معاہدہ توڑا، بغاوت کی اور جنگ کا اعلان کیا۔ (سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد)

پھر بنو نضیر نے غداری کی انتہا یہ کی کہ رسول اللہ کو (معاذ اللہ) دھوکہ سے قتل کرنا چاہا، سازش کا انکشاف ہوگیا مگر آپ نے بھی تحمل کی انتہا کردی۔ ان کو سزا دینے کے بجائے مہلت دینے کا ارادہ فرمایا، اور ان سے کہا کہ اب تم پر اس کے بغیر اطمینان نہیں کیا جاسکتا کہ تم از سر نو معاہدہ لکھو۔ مگر وہ تو آمادۂ جنگ تھے، معاہدۂ صلح پر آمادہ نہیں ہوئے۔ جب کہ بنی قریظہ نے معاہدہ کی تجدید کی۔ پھر آپ نے بنی نضیر پر لشکر کشی فرمائی۔ (سنن ابی داؤد، باب خبربنی النضیر، بسند صحیح)

بنی قریظہ کی عہد شکنی بلکہ غزوۂ خندق کے نازک ترین موقع پر حملہ آوروں فوجوں کا مدینہ کے اندرسے ساتھ دینا اور حملہ میں شرکت معروف ہے۔ 

(۳) قرآن کی صراحت اور تاریخ کی تصدیق ہے کہ عرب کے مشرک قبائل سب مسلمانوں کے خلاف آمادۂ پیکار تھے اور قریش کے ساتھ تھے۔ قرآن نے ان کے بارے میں کہا ہے: 

’’وقاتلوا المشرکین کافّۃ کما یقاتلونکم کافّۃ‘‘

’’اور تمام مشرکین سے جنگ کرو اس لئے کہ وہ سب کے سب تم سے جنگ کررہے ہیں۔‘‘

نجد کے قبائل عکل وعرینہ اور بنو سلیم کی سنگین غداریاں اور خونچکاں حرکتیں معروف ہیں، بنو مصطلق جن پر آپ نے اچانک حملہ کیا تھا، وہ پہلے سے محارب تھے، احد میں اہل مکہ کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کیا تھا۔ پھران کے سردار کے بارے میں یہ اطلاع آئی کہ وہ مدینہ پر حملے کے لئے فوجیں جمع کررہا ہے۔ آپ نے بریدہ بن الحصیب الاسلمیؓ کو تصدیق کے لئے بھیجا، وہ خود سردار قبیلہ حارث ابن ابی ضرار سے ملے اوراسی سے تیاریوں کی تصدیق کرلی، جب تحقیق ہوگئی تو آپ نے حملہ فرمایا۔(طبقات بن سعد، ۲/۶۳، وسیرت ابن ہشام)

(۴) شمال عرب کی مہمات کی تفصیل پیچھے غزوۂ تبوک اور غزوہ موتہ کے حوالے سے گذر چکی ہے، وہاں ہم نے ان مہمات کا پورا تاریخی پس منظر ذکر کردیاہے۔ اس سے یقینی طورپر ثابت ہوتاہے کہ رسول اللہ نے ان طاقتوں کے خلاف جو جنگ کی تھی وہ ان کے محاربہ کے نتیجہ میں تھی، آپ نے کسی صلح جو اور امن پر آمادہ طاقت کے خلاف قطعاً جنگ نہیں کی۔

ابن تیمیہ اور ابن قیم کی صراحتیں: 

امام ابن تیمیہ اپنے رسالہ ’’قاعدۃ فی قتال الکفار‘‘ میں کہتے ہیں:

وکانت سیرتہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کل من ھادنہ من الکفار لا یقاتلہ، وھذہ کتب السیرۃ والحدیث والتفسیر والفقہ والمغازی تنطق بہذا وھو متواتر من سیرتہ۔ (صفحہ ۱۳۴)

’’یعنی آپؐ کی سیرت کی شہادت ہے کہ آپ سے جن کفار نے صلح کی آپ ان سے جنگ نہیں کرتے تھے، یہ سیرت کی کتابیں ہیں، یہ حدیث وتفسیر اور فقہ وتاریخ کی کتابیں ہیں، سب یہی بتلاتی ہیں، اور یہ چیز آپؐ کی سیرت سے متواتر اور قطعی طورپر ثابت ہے۔‘‘

علامہ ابن قیمؒ اپنی کتاب ’’ہداےۃ الحیاریٰ ‘‘ میں کہتے ہیں:

من تأمل سیرۃ النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تبین لہ ۔۔۔ أنہ انما قاتل من قاتلہ وأما من ھادنہ فلم یقاتلہ (ہداےۃ الحیاریٰ جلد اول ، صفحہ: ۱۱۲)

جو رسول اللہ کی سیرت میں غور کرے گا اس کو پتہ چل جائے گا کہ ۔۔۔آپ نے صرف ان لوگوں سے جنگ کی جو آپ سے جنگ کرتے تھے، رہے وہ جنہوں نے آپ سے صلح کی آپ نے ان سے جنگ نہیں کی۱؂۔ 

رسول اللہؐ نے صرف دفاعی نہیں، اقدامی جنگیں بھی کیں:

ان جنگوں کو جن بزرگوں نے ’’محض دفاعی‘‘ جنگوں کا نام دیاہے، غالباً یہ لفظ اس لئے صحیح نہیں کہ اس سے یہ خیال قائم ہوتاہے کہ آپ نے دوسروں کے حملوں کاصرف دفاع کیا، حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ آپ محاربہ کا ارادہ اور تیاری کرنے والوں کے خلاف خود بھی اقدامات فرمایا کرتے تھے، جنگ بدر ایسے ہی ایک اقدام کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئی ، موتہ اور تبوک کی یہی کہانی ہے، اور بنو مصطلق اور دیگر کئی مہموں کی یہی حقیقت ہے۔ آج کی اصطلاح میں آپ ان جنگوں کو (Preemptive wars) کہہ سکتے ہیں۔ یہ جنگیں اقدامی جنگیں ہی تھیں۔

بہر حال آپؐ نے دفاعی جنگیں بھی لڑیں ہیں اور محاربہ کرنے والوں کے خلاف اقدامی جنگیں بھی۔ مگر آپ کی ہر جنگ صرف محارِب طاقتوں کے خلاف تھی۔ اور اسی لئے قطعی طورپر منصفانہ تھی اور اس ’’اعتداء‘‘ اور زیادتی سے پاک تھی جس سے دور رہنے کا حکم قرآن نے مسلمانوں کو عین اس وقت دیاتھا جب ان پر جنگ کرنا واجب قرار دیا جارہاتھا۔ وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا إن اللہ لا یحب المعتدین۔

قرون اولیٰ کی جنگی مہمات:

صحابہ کرام اور خلافت راشدہ کے دور میں فارس وروم کی مقبوضات فتح کی گئیں، اس دور میں ہم کو ان دونوں سلطنتوں کے خلاف ایران کی سرحدوں سے لے کر شام ومصر کی آخری حدوں تک جنگوں کا ایک طویل سلسلہ ملتاہے۔ جلد بازی اور سرسری نظر سے مطالعہ کرنے والے ان جنگوں کی علت یہ بتاتے ہیں کہ صحابہ کرام نے جب عرب کے دائیں بائیں نظر اٹھائی کفار کو حکمراں دیکھا، تو ان کو اپنے دین کایہی حکم نظر آیاکہ ان کے سروں پر تلوار لے کر پہنچ جائیں اور صاف کہہ دیںیا اسلام قبول کرو یا مسلمانوں کے لیے تخت چھوڑدو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگیں دراصل عہد نبوی کی جنگوں کا امتداد ہیں ، رسول اللہ کی جب وفات ہوئی تو شام کے حدود پر رومن امپائر کے ساتھ جنگ شروع ہو چکی تھی، اور متعدد معرکے ہوچکے تھے۔ قیصر اور اس کی ماتحت طاقتیں اپنے پڑوس میں ایک انقلابی اور نہایت جاذب ومؤثر دعوت پر قائم ریاست کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے لاکھوں کے لشکر جمع کر چکیں تھیں اور رسول اللہ نے ان کی پیش بندی کے لئے اقدامات بھی فرمائے تھے۔ لیکن نہ رومیوں کا زور ٹوٹا تھا نہ ان کے ارادے بدلے تھے۔ لہذا بعد میں بھی اس قسم کے اقدامات کرنے ضروری تھے جو خلافت راشدہ کے دور میں انجام پائے۔ 

سلطنت فارس دوسری بڑی طاقت تھی، جو صحابۂ کرام کے ہاتھوں زیر ہوئی، رسول اللہ نے اس کے فرماں روا کسریٰ کو دعوت اسلام کا خط لکھا، جو اس نے نہ صرف نہایت رعونت کے ساتھ پھاڑ ڈالا، بلکہ اپنے ایک گورنر کو (معاذ اللہ) رسول اللہ کو گرفتار کرکے اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ، یمن کے گورنر نے دو سپاہیوں کو اس پیغام کے ساتھ مدینہ بھیجا کہ اپنی اور عرب کی خیر چاہتے ہو تو گرفتاری قبول کرکے کسری کے دربار میں حاضر ہوجاؤ ورنہ تم کسری کی طاقت وجبروت کو جانتے ہو وہ تمہارے پورے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا۔ 

بہر حال اس پس منظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تصور سراسر سطحی مطالعہ پر مبنی ہے کہ خلافت راشدہ کے دور میں جو جنگیں ان ممالک کے ساتھ ہوئیں قصہ کی ابتداء وہیں سے ہوتی ہے، نہ ان کے ساتھ کوئی کشمکش جاری تھی اور نہ یہ حکومتیں اس کے علاوہ کسی اور جرم کی مرتکب تھیں کہ وہ غیر مسلم تھیں اور صاحب شوکت تھیں۔ 

افسوس کس قدر سادگی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ لوگ جو خلافت راشدہ کی ان جنگوں کے پورے تاریخی پس منظر کے ریکارڈ ہونے کے باوجودان ظالم وخونی حکومتوں اور ان کے دشمنِ حق حکمرانوں کے خلاف جنگ کا سبب صرف غیر مسلم حکومت کا خاتمہ قرار دے دیتے ہیں۔ کوئی شخص جو ایک طرف ان سلطنتوں کی توسیع پسندی کی ہوس اور خونی تاریخ کو جانتاہو اور دوسری طرف وہ نوخیز اسلامی ریاست اور ان طاقتوں کے ابتدائی تعلقات کے اس پس منظر پر بھی نظر رکھتا ہو جس کو ہم نے اوپر ذکر کیا، کیا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بالکل پڑوس میں واقع ان عالمگیر طاقتوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا؟ اگر شدید خطرہ تھا اور یقیناً تھا تو ان جنگوں کا سبب اس سنگین خطرے کی پیش بندی اور اسلامی ریاست کاتحفظ تھا۔

ان دونوں حکومتوں سے جنگ کو مسلمانوں پر فرض کرنے والی ایک دوسری اہم چیز یہ بھی تھی کہ ان طاقتور حکومتوں کے باقی رہتے ان کے عوام تک اسلام کی دعوت پہنچنے کا قطعاً کوئی امکان نہیں تھا۔ اوپر ہم ذکر کر آئے ہیں کہ اسلام کے اولین داعیوں کا کیا انجام رومن امپائر کی تابع ایک عرب ریاست میں ذات اطلاح کے مقام پر ہوا۔ دعوت اسلام دیتے ہی پندرہ میں سے چودہ داعیوں کو قتل کردیا گیا، صرف ایک نہایت زخمی حالت میں مدینہ پہنچ سکا۔ ان ریاستوں کے ایک معزز امیر نے اسلام قبول کرلیا تو ہرقل (بینر نطینی رومن سلطنت کے فرمانروا) نے اس کو بلا کر قتل کرکے سولی پر لٹکا دیاکہ دوسروں کے لئے عبرت کا سامان بنے۔

نامۂ نبوی پر کسری کے رعونت بھرے رد عمل نے صاف بتادیا تھا کہ فارسی علاقوں میں دعوت اسلام کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا، ان حکمرانوں کی حکومتوں کے مذہبی جبر، اور قرآنی اصطلاح میں ’’ فتنہ‘‘ اور صدعن سبیل اللہ‘‘ نے یقیناًایسی صورت حال پیدا کردی تھی کہ اللہ کے سپاہی اٹھیں اور ان کے غرور کو، بحکم خدا، خاک میں ملادیں۔

ان حکومتوں کا یہی جرم دراصل صحابۂ کرام کی جنگوں کا اصل سبب تھا ، دراصل اس زمانہ کی صورت حال ہی ایسی تھی کہ کوئی حکومت اپنی قلم رو میں دوسرے دین کو اور خصوصاً اسلام جیسی دعوت کو ہر گز پنپنے نہیں دے سکتی تھی، یہ چیز اس زمانے کی صورت حال میں بالکل قطعی اور طے تھی، اسی لئے رسول اللہؐ نے ان حکمرانوں کو جو خطوط لکھے تھے ان میں کہا تھا کہ اگر تم اسلام نہیں لائے تو پوری قوم کے کفر کے تم ہی ذمہ دار ہوگے۔ آپؐ نے کسریٰ کو لکھا: ’’فان أبیت فعلیک إثم المجوس‘‘ (تاریخ طبری: ۲/۱۲۳) مقوقس شاہ مصر کو آپ نے لکھا: ’’فان أبیت فإن إثم القبط علیک‘‘ (زاد المعاد ۳/۶۰۰) قیصر کو آپ نے لکھا: ’فعلیک إثم الأریسین‘(صحیح بخاری، رقم ۷) یریسیین یا أرلسیین سے مراد کاشتکاروں پر مشتمل وہ کثیر تعداد کی رعایا تھی جو رومی مقبوضات (شام ومصر اور افریقہ وایشیا) کے وسیع علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی (فتح الباری) اور جن کی حیثیت تاریخ کی واضح شہادتوں کی روشنی میں مقہود ومجبور غلاموں کی اسی تھی۔ 

ایک اور استدلال:

جو حضرات بوقت قدرت تمام غیر مسلم حکومتوں سے جنگ کے فرض ہونے کی رائے رکھتے ہیں چاہے وہ صلح کرنے پر آمادہ ہی کیوں نہ ہوں، ان میں سے بعض بزرگ اِس موقف کے اُسی استدلال کے لیے جو مولانا مودودی کے حوالے سے اورپر گذر اہے ایک نسبتاً زیادہ معقول تعبیر اختیار کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ غیر مسلم حکومت جب اپنی حربی طاقت، مادی وسائل اور اپنے نظریات کے ساتھ موجود رہے گی تو اس کی یہ شوکت خود دنیا کے عوام کے لئے اسلامی دعوت قبول کرنے سے ایک نفسیاتی رکاوٹ پیدا کرے گی، کفر کی ایسی شوکت وعزت کے ساتھ لوگ آزادانہ غور وفکر نہیں کرسکیں گے۔

واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی شوکت وطاقت اس کے نظریہ کے لئے ایک مددگار وسازگار ماحول پیداکرتی ہے، اور اس ماحول میں کسی دوسری اجنبی دعوت کے لئے ایک درجہ کی نفسیات رکاوٹ پیداہونا یقیناًفطری امر ہے۔ مگر مجھے یہ بتائیے کہ کیا اگر کوئی دوسری قوم یہ کہے کہ ہمارے نظریات پر مسلمان غیر جانبداری کے ساتھ اس وقت تک غور کرہی نہیں کرسکتے جب تک مسلمانوں کی حکومت وشوکت ختم نہیں کی جائے، لہٰذا ہم مسلمانوں کے ملک پر اس لیے حملہ کررہے ہیں تاکہ وہ آزادانہ ہماری دعوت پر غور کرسکیں ، تو ایسی شکل میں ہم کیا کہیں گے؟؟

اگر ہم مذہب وعقیدہ اور نظریہ کے سلسلہ میں آزادانہ انتخاب کے اصول کے قائل ہیں تو آزادی کے لئے ساری ملتوں کے حق میں ایک ہی معیار اپنانے کا پابند ہونا ضروری ہے ۔

نیز یہ بھی سوچئے کہ دنیا میں کون انصاف پسند اس قوم وملت کے بارے میں اچھی رائے رکھ سکے گا جو یہ کہے کہ چوں کہ ہم کو اپنے دین کی تمہیں دعوت دینی ہے او ر تمہاری حکومت او رطاقت ایسی نفسیاتی رکاوٹ بن رہی ہے جس کے رہتے ہوئے تمہارے لئے ہماری دعوت پر پورے طورپر غیر جانبدارہوکر غور کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے ہم تم سے جنگ کرکے پہلے اپنی حکومت تم پر قائم کریں گے اور تمہاری طاقت ختم کریں گے ۔ ہم بصد ادب ونیاز اپنے بزرگوں سے گذارش کریں گے کہ یہ منطق اسلام کی دعوت کے سامنے کسی بھی غیر مسلم حکومت سے بڑی نفسیاتی رکاوٹ بنے گی، اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یہی تاثر قائم کرے گی کہ یہ باتیں سب بہانے اور دھوکے ہیں، اور ان کی آڑ میں ہم کو غلام بنانے اور دباؤ اور لالچ کے ذر یعہ ہمارا دین بدلنے کا منصوبہ ہے۔

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ علماء سلف کی اکثریت کی تحریروں اور تشریحات سے غالب تاثر یہ نہیں قائم ہوتاہے کہ اسلامی حکومت اور غیر مسلم حکومت کے درمیان اصل صلح ہے، اور صلح پر آمادہ قوم کے خلاف جنگ کی گنجائش نہیں ہے۔ ماضی کی طویل تاریخ پر محیط اسلامی فکر کا عمومی رحجان اسی طرف محسوس ہوتاہے کہ اگر مسلمانوں کے پاس قدرت وطاقت ہوتو وہ کسی غیر مسلم طاقت سے صلح نہیں کریں گے ، چاہے وہ کسی ’’فتنہ‘‘ یا زیادتی کی مرتکب نہ ہو، اور صلح کی پیش کش بھی کرے۔ 

پھر کیا یہ رائے غلط تھی؟ کیا علمائے سلف اور ائمہ اسلام اتنی لمبی مدت تک ایک غلط بات کہتے آئے؟ ہر گزنہیں۔ اسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ قیامت تک مکمل محفوظ رہے گا۔ اور یہ بھی کہ اس امت کے اہل علم اجتماعی طورپر کسی غلطی میں نہیں پڑیں گے، جو لوگ اپنے علم وفہم کی بنیاد پر اسلاف امت اور ائمہ کرام کے مجموعی موقف کو غلط سمجھتے ہیں وہ بے شمار گمراہیوں کے دروازے کھولتے ہیں۔ 

ہمیں پورا اطمینان ہے کہ جس دور میں اور جن حالات میں یہ رائے ظاہری کی گئی تھی وہ بالکل برحق رائے تھی، ان حالات کے لئے وہی شرعی حکم تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے کے زمانوں میں ہر ریاست واضح مذہبی شناخت رکھتی تھی۔ بادشاہتیں مذہب سے اپنی حکومت کے استحکام کاکام لیتی تھیں، بادشاہ یا تو خدا کا اوتار بنتا تھا یا مذہبی قیادت کے ساتھ اس کا یہ سمجھوتہ ہوتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے۔ اس لئے اس کا نہ کوئی امکان ہوتاتھا اور نہ ہی تصور کہ کوئی طاقتور حکومت اور منظم ریاست اپنے قلم رو میں اسلام کی نشر واشاعت ودعوت اور اللہ کی عبادت وبندگی کی اجازت دے سکتی ہے۔ مسلمانوں جن ریاستوں سے جنگ کی ان میں سے کسی نے کبھی اس کا جھوٹا دم بھی نہیں بھرا تھا کہ وہ اسلامی دعوت کے لئے راستہ کھولنے کو تیار ہے۔ یہاں تک کہ شکست کھاتے وقت بھی کسی غیر مسلم حکومت نے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی۔

رسول اللہ ؐ نے سلاطین عالم کو خطوط لکھے تو ان میں صاف لکھا کہ اگر تمہاری حکومت اسلام قبول نہیں کرتی تو عوام کی گمراہی کا گناہ بھی تم پر ہی ہوگا۔ یہ اسی صورت حال کی طرف اشارہ تھا۔ ایسی صورت حال چاہے وہ ماضی میں ہویا حال میں یا مستقبل میں اس کا شرعی حکم یہی ہوگا کہ قدرت ہوتو ضرور جنگ کی جائے۔ اور اللہ کے دین کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹادی جائیں۔ لیکن اگر دنیا کی کوئی حکومت عملاً دعوت اسلام کے سامنے رکاوٹ نہیں بن رہی ہو اور صلح پر آمادہ ہو تو یقیناًاس سے جنگ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔

آج کے زمانے میں جب کہ ایک بندۂ خدا تک دعوت پہنچانے کے بظاہر سارے امکانات کھلے ہوئے ہیں یہ کیسے مان لیا جائے کہ محض حکومت کے سامنے ایک مرتبہ دعوت پیش کرکے پورے ملک کے انسانوں کو دعوت دینے کا فریضہ ادا ہو گیااور حجت تمام ہو گئی اب ان کے لئے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں باقی رہ جاتاہمیں مکمل یقین ہے کہ اسلام کی ابتدئی صدیوں میں اگر عام انسانوں تک پہنچنے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف گفتار و کردار سے دعوت دینے اور اسلامی زندگی کی حقیقی برکتوں سے ان کو رو شناس کرانے کے امکانات ہوتے اور حکومت واقتدار کی طاقتیں لوگوں کی عقلوں اور دلوں کو فتنہ میں مبتلانہ کرتیں تو کبھی ان امکانات کے باقی رہتے ہوے مسلمان کسی حکومت کو ہٹانے کے لئے جنگ نہ کرتے۔

اگر چہ میں اس تاریخی حقیقت سے ناواقف نہیں ہوں کہ دین حق کی یہ دعوت بہت جلدحکومتوں اور مقتدر طبقات کو اپنے ظالم نظام اور فاسد طریقۂ زندگی کے لئے ایک خطرہ نظر آنے لگتی ہے، اور پھر وہ اس کے راستہ میں مکر و فریب سے لے کر ظلم و جبر تک کی ساری رکاوٹیں کھڑی کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن نے فتنہ کہا ہے۔ یقیناًایسی صورت میں ان حکومتوں کو ختم کرنا ایک مقدس اسلامی فریضہ اور انسانی خدمت کا ایک ضروری کام ہوگا۔مگر پھر بھی اگر کوئی یہ کہے کہ غیرمسلموں کی حکومت فی نفسہ ایسی چیز ہے کہ اس کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرنی چاہئے چاہے وہ کسی ظلم و جبر اور اسلام کا راستہ روکنے کی مجرم نہ ہو ، تو یہ بات اسلام کے بارے میں غلط تاثر ضرور قائم کرے گی۔

یہ بات بالکل حقیقت پر مبنی ہے کہ ہرمعاشرہ کی قیادت اپنی تہذیب اور اپنے تصورات کو رائج کرنا چاہتی ہے۔ قوموں میں اپنے عقائد و تصورات اور تہذیب و طرز زندگی کے لئے ایسا تعصب ہوتا ہے کہ وہ ہر نئی دعوت و تحریک کی مخالفت اپنا قومی فریضہ جانتی ہیں۔خصوصاًان کی قیادت اور طاقت کے مراکز پرقابض طبقہ(قرآن کے الفاظ میں ’’الملأ‘‘ کا طبقہ) تعصب اورتہذیبی استکبار میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے. اگر وہ شروع میں کسی ایسی نئی دعوت کو ( جو زندگی کے بگاڑ کی بنیادی اصلاح کرنا چاہتی ہو) برداشت کر لیتے ہیں تو ان کو جیسے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی آواز کی طرف دل متوجہ ہو سکتے ہیں اور وہ کچھ انسانوں کو متاثر کر سکتی ہے، اسی وقت سے وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں اور اپنی قوم کو قائل کرنے کے لئے اس کے خلاف طاقت کے استعمال کا جواز یہ کہ کر پیش کرتے ہیں کہ:

إِنْ ہَذَانِ لَسَاحِرَانِ یُرِیْدَانِ أَن یُخْرِجَاکُم مِّنْ أَرْضِکُم بِسِحْرِہِمَا وَیَذْہَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلَی۔ فَأَجْمِعُوا کَیْْدَکُمْ ثُمَّ اءْتُوا صَفّاً

’’یہ چاہتے ہیں کہ تم کو اپنے جادو کے زور سے اپنے ملک سے بے دخل کر دیں اور تمہارے شاندار طرز زندگی کاخاتمہ کر دیں، لہٰذا تم سب اپنی طاقت جمع کرو اور متحد ہو کران کے مقابلے کوآؤ۔‘‘

اس تاریخی اور فطری حقیقت کی مثال ہمارے سامنے ہے۔یورپ نے صدیوں انسانی حقوق کا راگ الاپا اور شخصی آزادیوں کے نعرے لگائے اور جو مذہبی آزادی کا چمپین بنا رہااس نے عالم اسلام کو طاقت کے زور سے فتح کیا اور پھر اس کی تہذیبی و فکری یورش نے مسلمانوں کی دینی بنیادیں ہلادیں۔اس دوران یورپ کے مختلف ممالک میں مسلمان جاجا کر آباد ہوئے۔ لمبے عرصے تک وہاں کی حکومتوں نے پوری مذہبی آزادی دی، لیکن اب جب اسلام کی دعوت مغرب میں عام ہونے لگی اور مغرب کا انسان اپنی تہذیب کے داخلی تضادات اور کھوکھلے پن کے احساس سے مجبور ہو کر اسلام کی طرف نگاہ اٹھانے لگا ہے تو یہی آزادیِ انسان کی علم بردار حکومتیں مسجد کے میناروں اور نقاب کے خلاف قانون بنانے لگی ہیں،اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ اسلام کے داعیوں کا اپنے ملک میں داخلہ بند کرنے لگی ہیں۔

ہم ان حقیقتوں سے غافل نہیں ہیں،اور قرآن نے دعوت دین کے راستے میں پیش آنے والی اس فطری صورت حال کی طرف ہماری رہنمائی بھی کی ہے ،مگر ہم ایک بار پھر اپنی اس رائے کو دہراتے ہیں کہ یہ کہنا اسلام کو بدنام کرنا ہوگاکہ جنگ کرنے کے لئے محض یہ بات کافی ہے کہ دنیا میں کوئی غیر مسلم قوم اپنی خود مختار حکومت رکھتی ہے جو نہ کسی بڑے ظلم کی مرتکب ہے اور نہ اپنی عوام تک اسلام کی دعوت پہنچنے کی راہ میں مزاحم ہے۔ہاں اگر وہ اللہ کے دین کی مخالفت میں ’’فتنہ‘‘ کی مرتکب ہے تو ضرور اللہ کے بندوں پر یہ فریضہ عائدہوگا کہ وہ اس کا خاتمہ کر کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کر دیں ۔ لہٰذا اسلامی اصول یہ قرار پایا کہ جب تک کوئی غیر مسلم حکومت دین حق کی راہ میں رکاوٹیں نہیں کھڑی کرتی، اس وقت تک مسلمانوں سے اصل مطالبہ یہی ہے کہ وہ دعوت ونصیحت پر اپنی ساری کوششوں کو مرکوز کر دیں اور انبیا علیہم السلام کے طریقہ پران پر اتمام حجت کر دیں ، جس کے بعد اللہ تعالی اہل ایمان کے لئے ضرور بالضرور یا دِلوں کو فتح کر دیتا ہے یا ملکوں کو۔اور یہ اس کی ناقابل تبدیل سنت ہے ۔

واضح رہے کہ ہماری اس بات کا تعلق محض اس مفروضے سے ہے کہ کوئی حکومت عملاً دعوت اسلام کے سامنے رکاوٹ نہیں بن رہی ہو اور صلح پر آمادہ ہو۔ واقعہ میں کون سی حکومت کس کے لیے کیسی ہے، ہم اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ رہے۔ ہم بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام صلح چاہنے والی اور اسلامی دعوت کا راستہ نہ روکنے والی حکومت سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایک ضروری تنبیہ:

اس کے علاوہ قرآن وسنت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ بات سنت اللہ میں طے ہے کہ مسلمان جب بھی اپنے منصب شہادت کے ساتھ ناانصافی کریں گے اور ان کا عمومی حال دین سے غفلت اور اللہ کو ناراض کرنے والا ہو گا تو ان کو اللہ کی طرف سے دنیا میں ایسی طاقت اور عزت نہیں مل سکتی کہ وہ اقدامی کارروائیوں کی پوزیشن میں ہوں۔ اس دور میں ان سے اپنے علاقوں کا اور اپنی آزادیوں کا دفاع بھی نہیں ہو پاتا، تا آنکہ وہ اللہ سے اپنا معاملہ ٹھیک کرلیں۔ یعنی شرعی ہی نہیں تکوینی طور پر بھی امت مسلمہ اللہ سے دوری اور ’نقض عہد‘ کے دور میں اس طرح کے اقدامی جہاد کے لائق نہیں رہ سکتی۔ قرآن نے اس کو صاف اور قطعی طور پر واضح کیا ہے، اور اس کی دلیل کے طور پر بنی اسرائیل کی تاریخ کو پیش کیا ہے۔ 

جاہلانہ غلو کی ایک مثال:

ہمارے یہاں اور دینی حمیت کے نام پر کس قدر جہالت آمیز غلو کے شکار ’’اہل علم وقلم‘‘ پائے جاتے ہیں اس کی ایک مثال اس وقت میرے سامنے ہے۔ سرٹی ڈبلیو، آرنلڈ سے برصغیر کے اہل دانش ناواقف نہیں۔ جب دنیا اسلام کے تلوار کے زور پر پھیلنے کے پروپیگنڈے سے گونج رہی تھی، شور تھا کہ مسلمانوں نے تلوار کی دھار پر قوموں کو زبردستی مسلمان بنایاہے۔ اور یہ سب اس لئے تھا کہ استعماری طاقتوں اور عیسائی مشنریز کے لئے دنیا کی قوموں کو اسلام سے برگشتہ کرنا آسان ہوجائے، اس وقت اس غیرمسلم حق گو کی آواز اٹھی کہ سب جھوٹ ہے۔ ایک شاندار کتاب The Preaching of Islamکے نام سے ایسی شائع کی جس کی افادیت آج بھی مسلّم ہے۔ ایسے منصف مزاج اور مسلمانوں کے حق میں مفید ثابت ہونے والے غیر مسلم دانشور کے بارے میں ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ان جیسوں کو تہ تیغ کردینا چاہئے۔ لاحول ولاقوۃ إلا باللہ۔

ہم آپ مزید شرمندہ وحیران اور مضطرب ہوں گے جب آپ ان صاحب کو دیا گیا علمی مرتبہ جانیں گے۔ قصہ یہ ہے کہ آرنلڈ کی کتاب کا دنیا کی مختلف اسلامی زبانوں میں ترجمہ کیاگیا، عربی کے مترجم نے مصنف کے تعارف میں یہ لکھ دیا کہ ’’حق یہ ہے کہ ہم مصنف کی قدر نہیں کرسکتے‘‘۔ بس کیا تھا، ایک برخود غلط نادان ’’دکتور‘‘ نے تبصرہ فرمایا: 

اس کی قدر؟ اس کی قدریہ ہے کہ تلوار سے سر قلم کردیا جائے ، الا یہ کہ وہ اسلام کے سامنے سرجھکادے یا جزیہ دے۔

’’قلت ان قدرہ لو یعلم ہٰؤلاء ھو الضرب بالسیف حتی یبرد، او یخضع الإسلام أو یدفع الجزےۃ‘‘ (أھمےۃ الجہاد للعلیانی، صفحہ: ۲۶۲، بحوالہ فقہ الجہاد، شیخ یوسف القرضاوی: ۱/۲۵۳)

معاف کیجئے گا جو شرمندگی ہو کہ ہمارے درمیان دین وشریعت میں اسی قدر کج فہمی کے شکار بھی پائے جاتے ہیں۔ یہی نہیں، حیرانی وشرمندگی کی انتہا نہیں رہتی جب معلوم ہوتا ہے کہ موصوف اس تحریر پر جامعہ ام القری ،سعودی عرب سے ڈاکٹریٹ کی سندپاتے ہیں اور ان کو ممتاز کا گریڈ دیاجاتا ہے ۔ کیسے عرض کیاجائے کہ سعودی عرب میں علم دین کے ساتھ کیسا مذاق ہورہاہے! اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے غیر مسلموں کے لئے یہ خیالات رکھنے والے نہ قرآن کو سمجھتے ہیں نہ حدیث کو۔ کاش ان کی نظر جاتی کہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر رسول اللہ ؐ کو ایک پرانا غیر مسلم محسن مطعم بن عدی یاد آتاہے، جس نے آپؐ کوطائف سے واپسی پر پناہ دی تھی، آپؐ فرماتے ہیں: اگر مطعم حیات ہوتے اور اِن کوچھوڑنے کی سفارش کرتے تو میں اُن کی خاطر اِن سب کو چھوڑ دیتا۔ (بخاری: ۴۰۲۴)

اس ذہنیت کے لوگوں کی نفسیات کا یہ محض ایک نمونہ ہے۔ اس کو ایک دو افراد کا مسئلہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ مسلمانوں کی مظلومیت اور مغرب کی لگاتار اور بے حیا چیرہ دستیوں نے ایک عجیب قسم کی برخود غلط سوچ پیدا کردی ہے، جو ہمارے لئے ایک مشکل مسئلہ بن رہی ہے۔ اسلام کے یہ نادان دوست اسلاموفوبیا پھیلانے والوں اور صیہونیت اور صلیبیت کی نہایت بیش بہا خدمت انجام دے رہے ہیں۔

اسلامو فوبیا کی خدمت:

کچھ لوگ دینی حمیت وصلابت کے نہایت پسندیدہ جذبے سے ایسی تعبیرات پر اصرار کرتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچانے والی ہوتی ہیں۔ آپ ذرا سوچئے! یہ بات کہ اگر ہمارے پاس قدرت ہوگی تو ہم دنیا کی ہر قوم کو اس حق سے محروم کردیں گے کہ وہ اپنے اوپر اپنی پسند اور اپنی قوم کی حکومت قائم کرے۔ وہ یا تو اسلام قبول کرے ورنہ اس کو ہماری حکومت کے تحت رہنا ہوگا غیر مسلموں کے لیے کیسا خوف زدہ کرنے والا تصور ہے۔ جہاد کی یہ تعبیر مشرق ومغرب کی تمام قوموں کو اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی پر متحد کررہی ہے۔ اور مسلم دشمن لابیوں کو اس کا سامان فراہم کر رہی ہے کہ وہ دنیا کی مختلف قوموں کو یہ باور کرائیں کہ مسلمان واقعۃً ایسا خطرہ ہیں کہ ان کو ویسے ہی دبا کر رکھنا ضروری ہے جس طرح امریکہ واسرائیل کے زیر قیادت دنیا میں اِس وقت ان کو رکھا جارہا ہے۔

آخری بات:

اس خاص پہلو پر فوری غور کی اس لیے شدید ضرورت ہے کہ بظاہر دنیا میں قیادت اور پالیسی کی بڑی تبدیلیاں قریب ہیں، بلکہ ان کا آغاز ہو چکا ہے۔ خود مغرب پورے طور پر آگاہ ہے کہ ان تبدیلیوں کا آغاز اس قوت اور رفتار سے ہو چکا ہے کہ اب ان کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔قیادت اور سیاسی ثقل کا مرکز امریکہ اور مغربی یورپ سے جنوبی ایشیا منتقل ہو رہا ہے۔نئی قیادت اپنے مصالح کے مطابق یقیناًنئی پالیسیاں بنائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل اس وقت اسلام سے خوف دلا کر اپنی پالیسیوں کی بقااور مفادات کے تحفظ کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ دنیا کی نئی قیادت کو پھر سے مسلمانوں سے اسی طرح متنفر کر دیں جس طرح جانے والی قیادت کو لگاتار ایک خاص نفسیاتی کیفیت میں مبتلا رکھا گیا۔ اگر اس کروٹ بدلتی دنیا میں اور اس کے نئے سیاسی ذہن میں بھی وہی اسلام فوبیا اور اسلام دشمنی باقی رہی تو یقیناًہم اگلی نئی دنیا میں دعوت اور امن وانصاف دونوں کے امکانات کو کھو دیں گے۔

صلح

اسلام کے قانون بین الاقوام کا اصل الاصول صلح ہے۔ یعنی دنیا کی ریاستوں کے ساتھ مسلم ریاست کے تعلق کی اصل نوعیت یہ ہے کہ وہ پرامن صلح پر مبنی ہوں گے۔ قرآن نے مسلمانوں کے لیے جس وقت جنگ کرنے کی اجازت دی ہے اسی وقت جنگ کے جواز (Justification)کے سبب کے طور پر یہ بات بیان کی ہے کہ :

أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا

’’جن لوگوں پر جنگ مسلط کی جارہی ہے ان کو (اب )اجازت دی جارہی ہے اس لیے کہ وہ مظلوم ہیں۔‘‘

یعنی مکہ کے ظالموں نے لوگوں کے لیے آزادی کے ساتھ اللہ کے دین پر قائم رہنا مشکل کر رکھا ہے، پہلے انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کرنے والوں پر دائرۂ حیات ایسا تنگ کیا کہ انہیں اپنی متاعِ جان وایمان بچا کر بھاگنا پڑا، اور اب وہ مدینے میں بھی ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہے ہیں اور یہاں بھی ان کے خلاف مستقل جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ اس لیے اللہ کی طرف سے اس مذہبی جبر’’الفتنۃ‘‘ کو ختم کرنے کے لیے قتل و قتال کی اجازت دی گئی ہے۔

اسی سورت بقرہ میں اس سے پہلے جب پہلی مرتبہ قتال کا حکم مسلمانوں کو دیا جارہا تھا، کہا گیاہے کہ ان مسلمانوں کی جنگ پر کسی اعترض کی کوئی گنجائش نہیں، اس لیے کہ ان کے خلاف ان مکہ والوں نے خود جنگ چھیڑ رکھی ہے:

وَقَاتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُم مِّنْ حَیْْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ: ۱۹۰۔۱۹۱)

’’اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو خود تم سے جنگ کر رہے ہیں، اور(خود) کوئی زیادتی مت کرنا۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اور ان کو جہاں پاؤ قتل کرو، اور انکو وہاں سے(یعنی مکہ سے) بے دخل کرو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور ’’فتنہ‘‘ قتل سے بڑی برائی ہے۔‘‘

مگر قرآن کہتا ہے کہ امکان ہو تو صلح ضرور کر لی جائے۔جہاد وقتال کے لیے جوش دلانے والے ایک ولولہ خیز سلسلۂ کلام میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ وَإِن یُرِیْدُواْ أَن یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللّہُ (الانفال:۶۱۔۶۲)

’’اگر یہ (خدا اور مسلمانوں کے دشمن ، اپنی دشمنی کے باوجود ) مصالحت کی طرف جھکتے ہیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جانا، اور اللہ پر بھروسہ رکھو ۔بے شک وہ (سب) سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر ان کی نیت تم کو دھوکہ دینے کی ہوگی تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔‘‘

جیسا کہ ہم باب دوم کی دوسری فصل میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ ان آیات کا سیاق و سباق مسلمانوں کو مشرکین مکہ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے اور اس کی تیاری کے لئے جوش و حمیت پیدا کرنے کا ہے۔ پھر بھی کہا جاتا ہے کہ دشمن اگر صلح پر آمادہ ہوتا ہے تو صلح کرنے کا حکم ہے۔کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ دشمن صلح کے بہانے دھوکہ نہ دے دے۔ سو اس کی پیش بندی کے طور پر پہلے تو کہا کہ صلح کرنے میں توکل علی اللہ کا مظاہرہ کرو۔ پھر مزید صراحت کی کہ اگر ان کے دھوکہ دینے کا اندیشہ ہو تو جان لو کہ اللہ پر توکل ہی تمہارا سرمایہ ہے۔ یعنی اس سلسلے میں اندیشہائے دور دراز کا زیادہ خیال نہ کرو۔

یہ آیات (مدینہ کے یہودی قبائل کے بارے میں یا) مکہ کے ان مشرکین کے سلسلہ میں نازل ہو رہی تھیں جن سے اس دور میں اصل جنگ چل رہی تھی،جو اسلام کے سب سے بڑے دشمن تھے ، جنہوں نے اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور شہر اسلام مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کو اپنا قومی مقصد بنا رکھا تھا۔ اور یہودی قبائل ان کے مددگار بنے جا رہے تھے۔ ان آیات کا اصل موضوع جہاد وقتال پر آمادگی بلکہ اس کا جوش پیدا کرنا ہے،ان کا انداز واسلوب بھی ولولہ خیز اور جذبات انگیز ہے۔ اس کے باوجوداسی سیاق میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ صلح کی جانب جھکیں تو تم بھی صلح کے لئے تیار ہونے میں حوصلے کا مظاہرہ کرنا، اور اللہ کے بھروسے پر اس کے لئے باوجود اس کے تیار ہو جانا کہ دشمن ناقابل اعتبار ہے اور اس سے عہد شکنی اور دغا کا خطرہ ہے۔

ان آیات کے اس سیاق کی بنیاد پر ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ صلح کی گنجائش صرف اس وقت ہے جب مسلمانوں کی پوزیشن اتنی کمزور ہو کہ وہ جنگ کرنے کے موقف میں نہ ہوں۔ جن آیات میں صلح کی پیشکش کو قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، ان کا سیاق و سباق ببانگ دہل اعلان کر رہا ہے کہ اس وقت ایسی مجبوری کی صورت حال نہیں ہے، جیسا کہ باب دوم کی دوسری فصل میں لکھا جا چکا ہے۔

فقہی ذخیرے میں صلح عارضی کیوں نظر آتی ہے؟

اگرچہ قرآن کی اس آیت پر غور وتدبر کی نگاہ اس بات کو بے غبار کر دیتی ہے کہ ’’صلح کے حقیقی امکانات پائے جانے پر اسلام کے قانون میں صلح کرنا ہی ضروری ہے‘‘، مگر یہ بھی صحیح ہے کہ ہمارے فقہی ذخیرے میں صلح وجنگ کے سلسلے کی جو تفصیلات ملتی ہیں اس سے مجموعی طور پر یہ تأثر نہیں قائم ہوتا کہ ’’اسلام کے قانون بین الاقوام کا اصل الاصول صلح ہے‘‘۔ ان کے مطالعے سے واضح طور پر یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ صلح صرف عارضی شے ہے۔

اس کا سبب اس زمانے کا تمدن اور بین الاقوامی اور سیاسی صورت حال تھی۔ اور اس زمانے کے لیے یہی شرعی حکم تھا۔ اصل میں اُس زمانے میں دنیا میں کہیں بھی مستقل صلح کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ عملاً ہی نہیں، نظری طور پر بھی ریاستوں کے درمیان ایسی دائمی صلح سیاسی اور اخلاقی فکر کے لیے اجنبی چیز تھی۔ انسانی تمدن کی اس وقت یہی حالت تھی کہ کسی مملکت کے لیے اگر جنگ ممکن ہوتی تھی تو وہ جنگ کرکے دوسری طاقتوں کو زیر کرنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔ 

مزید اس وقت کی بین الاقوامی صورت حال کا ایک اور پہلو ایسا تھا کہ اس کی بنا پرعلماء امت کا فریضہ بنتا تھا کہ وہ مسلم حکومتوں کو متنبہ کریں کہ صلح بس مجبوراً ہی کی جائے۔ وہ پہلو یہ تھا کہ قدیم زمانے میں ریاستیں واضح طور پر کوئی نہ کوئی مذہب رکھتی تھیں، بلکہ ہر ریاست تعصب کی حد تک مذہبی تصورات پر قائم ہوتی تھی اور اِس کا اُس دور میں تصور ہی نہیں تھاکہ کوئی غیر مسلم حکومت اپنے زیر اقتدار علاقوں میں اللہ کے بندوں کو اس کے دین کی طرف بلانے کے لیے امکانات کھلے چھوڑ دے۔ یہ بات اس وقت بالکل ناقابل تصور تھی۔ ہر حکومت کے بارے میں یہ بات طے تھی کہ وہ بزور قوت امت مسلمہ کی ایمانی و اصلاحی دعوت کی راہ میں مزاحم بنے گی اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ضرور حائل ہو گی۔ لہٰذا اس وقت صلح کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ امت اس پورے خطے کے بارے میں صبر کرلے اور وہاں کے انسانوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلانے اور اس کی بندگی کے راستے پر چلانے کی جدوجہد نہ کرنے کو منظور کر لے۔ ظاہر ہے کہ امت مسلمہ کے لیے اس صورت حال کو مستقل طور پر تسلیم کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ بات امت مسلمہ کے لیے اپنے فرض منصبی کے خلاف ہے۔ اس لیے علماء امت نے اس زمانے میں بجا طور پر یہ خیال ظاہر کیا کہ صلح برائے مصلحت اور عارضی طور پر ہی کی جائے ۔

لیکن اگر اس صورت حال سے الگ کرکے اصل مسئلے پر غور کریں تو قرآن کی یہ بات اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ جنگ ’’فتنہ‘‘ کی صورت میں اسی باطل کوش طاقت کے خلاف کی جا سکتی ہے جو بزور قوت انبیاء علیہم السلام کی ایمانی و اصلاحی دعوت کی راہ میں مزاحم بن رہی ہو، اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان حائل ہو رہی ہو۔ورنہ اسلام کے قانون بین الاقوام میں اصل صلح ہی ہے۔

ایک ضروری وضاحت:

اوپر ایک سے زائد جگہ پر قرآن کے یہ الفاظ ’’وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ‘‘  گذرے ہیں، جن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے مسلمانو!مشرکین مکہ (جن سے جنگ کے حالات کے پس منظر میں یہ آیات اتر رہی ہیں ، اور جن سے جنگ کرنے کا اس وقت حکم دیا جا رہا تھا ان) سے اس مقصد سے جنگ کرو کہ ’’فتنہ‘‘ اور مذہبی جبر و ایذارسانیوں کا یہ سلسلہ بند ہو ،اور دین اللہ کے لئے خالص ہو جائے۔ ’’فتنہ‘‘ کا جو لفظ یہاں آیا ہے اس کی وضاحت تو اس کتاب میں ہو چکی ہے کہ عربی زبان کی روح سے اس کے معنیٰ ستانے ، اور آزمائش میں ڈال کر مجبور کرنے کے ہیں۔ جن لوگوں نے اس کو محض شرک کے معنی میں لیا ہے ان کو یہ خیال اس لئے ہوا ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین عرب سے، ایک مرتبہ جنگوں کا سلسلہ شروع ہو جانے کے بعد، اس وقت تک جنگ جاری رکھنے کاحکم تھا جب تک اس سرزمین سے شرک کی جڑیں نہ اکھیڑ دی جائیں، یعنی عرب کے مشرکین سے اسلام کی جنگ کی غایت اور انتہا یہ قرار دی گئی تھی کہ سرزمین عرب سے شرک کا خاتمہ ہوجائے۔ اس لئے ان حضرات نے اس آیت کے بھی یہ معنی بتلائے کہ مسلمانوں کو مشرکین مکہ سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم تھا جب تک کہ سرزمین عرب سے شرک ختم نہ ہو جائے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ ’’فتنہ‘‘ کا لفظ صرف ’اکیلے شرک‘ کے معنی میں نہیں آتا۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ’’ویکون الدین للہ‘‘ جو جنگ کا مقصد بتلایا گیا ہے ، یعنی یہ کہ جنگ کرو ’’تاکہ دین اللہ کے لئے خالص ہو جائے‘‘، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لئے جنگ کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے اہم اور بنیادی دلیل یہ ہے کہ قرآن نے غیر مسلموں سے جزیہ لے کر صلح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اور نہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اسلامی جہاد کے تصور کی بنیاد یہ خیال ہے کہ سوائے مسلمانوں کے کسی اور قوم کو اپنی خود مختار حکومت قائم کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ حکم اصلاً صرف جزیرۃ العرب کے لئے ہے کہ اس میں اسلام کے علاوہ کسی اور کی حکومت کو باقی رکھنا مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں چھوڑا گیا تھا۔ قرآن نے یہ بات بالکل صاف کی تھی کہ مکہ کی حیثیت ایک ’’ابراہیمی واسماعیلی وقف‘‘ کی ہے اور بنی اسماعیل کا یہ پورا ہی علاقہ ابراہیمی دعوت کے مرکز بننے کے لئے خاص کر لیا گیاتھا۔ لہٰذا اس جزیرہ کے اندر سلسلۂ قتال کا آخری مقصد اور اس کی غرض و غایت یہ بتائی گئی کہ جزیرۃ العرب تمام تر اللہ کے دین کے تحت آ جائے۔

اسی آیت کی گویا وضاحت تھی رسول اللہؐ کی یہ خاص وصیت کہ’’مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال دیا جائے‘‘ ۔ (صحیح بخاری ۳۰۳۵ و صحیح مسلم ۱۷۶۷) اور یہی آیت آپؐ کے اس فرمان کی بھی بنیاد تھی کہ ’’لا یبقینّ دینان فی جزیرۃ العرب‘‘ (موطا ۱۳۸۸) جزیرۃ العرب میں اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کی گنجائش نہ رہے۔ 

اس پوری تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے قرآن کا حکم ہے کہ اگر کوئی قوم شریفانہ صلح کے لئے آمادگی کا اظہار کرے تو اس کو ضرور قبول کیا جائے۔ لہٰذا اگر کوئی غیر مسلم ریاست مسلمانوں کے ساتھ صلح پر آمادہ ہو سکے اور اپنے علاقہ میں پُر امن طور پر اسلام پر عمل کرنے اور اپنی سر زمین پر اللہ کے بندوں کو اللہ کی عبادت اور بندگی کرنے دیتی ہے اور اللہ کے بندوں کو اس کے دین و شریعت کی طرف دعوت دینے اور اس کی راہ پر چلانے کی اس جد و جہد میں(جس جدوجہد کے لیے ہی امت اسلامیہ کو اصلا وجود بخشا گیا تھا) طاقت کے زور سے حائل نہیں ہوتی، یعنی ظلم اور ’’فتنہ‘‘ کی صورت نہیں پائی جاتی ، تو ایسی صورت میں مسلمانوں کے لئے دعوت و نصیحت کے راستے کے امکانات کو استعمال کرنے سے پہلے قتال وجنگ کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ ان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے اس راستے پر خوب محنت کر لیں یہاں تک کہ اللہ کی حجت تمام ہو جائے، اور اللہ اپنی سنت کے مطابق کوئی فیصلہ فرما دے جو حجت تمام ہونے کے صورت میں وہ یقیناًفرمایا کرتا ہے۔

جہاد اور امپیریلزم؟

اسلام نے مسلمانوں کو جس جہاد کی تعلیم دی ہے، اس کے جو مقاصد اور ہداف قائم کیے ہیں، اس کے جو شرائط اور قوانین طے کیے ہیں، اورسب سے بڑھ کر اس میں تقرب الی اللہ، خدا پرستی اورمتاع دنیا سے بے رغبتی کی جو روح پھونکی ہے،اس کی تفصیلات پر نظر رکھنے ولا ہر سلیم الفطرت یہ گواہی دے گا کہ اس جہاد کا قیام انسانی دنیا کی ضرورت اور اللہ کا ایک فضل ہے، جو تاریکی و ظلم اور بدی کے دھوئیں کو چھاٹنے کا ذریعہ اور نوع انسانی کو شقاوت کی کھائیوں سے نکال کر سعادت کی بلندیوں پر پہنچانے کاوسیلہ ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کوئی کسی جماعت کی نیت میں شک کرے۔ یہ شک صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کسی زمانے میں مسلم جنگجو جماعت عملی طور پر ’’صحیح جہادی اقدار‘‘ کی حامل نہ ہو۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ بطوراصول ونظریہ کوئی اسلام کی جہادی تعلیم کو انسانی دنیا کی سعادت کا ذریعہ ماننے کو غلط ٹھیرا دے۔ 

ہر سوچنے سمجھنے والا قرآن کی اس بات کی تصدیق کرے گا کہ اگر دنیا جہادی روح وجذبہ رکھنے والے اللہ کے مخلص بندوں سے خالی ہو جائے تو شیطانی اور ہوس کی طاقتیں خدا پرستی کا جنازہ نکال دیں گی۔ 

وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً (الحج: ۴۰)

قرآن مزید کہتا ہے کہ پھر زمین کے بگاڑ کو روکنے والی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ لہذا یہ تو دنیا پر اللہ کا خاص فضل ہے کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ اپنے خاص بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکیز گی اختیار کریں اور دنیا کو فسادو ظلم سے بچانے کے لیے اور انسانوں کی ہدایت اور خیر خواہی کے لیے ضرورت ہو تو جہاد کے اصول پر جنگ کریں ۔

وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَکِنَّ اللّٰہَ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْعَالَمِیْنَ۔ 

جدید دور میں ہمیں ایک عجیب اور نسبۃً نئی قسم کی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ مغرب کے جدید ’’دور تہذیب و ترقی‘‘ سے پہلے سلطنتیں ایک دوسرے پر جہانگیریت (Imperializm) اور وسائلِ حیات پر قبضے کے لیے حملے کرتی تھیں، اور یہی ان کی حکومتوں کے مقاصد ہوتے تھے، اور ان کی جنگوں کے بھی۔ ان کا کردار، طرز جنگ اور مفتوح قوموں اور علاقوں کے ساتھ ان کا برتاؤ انہی مقاصد کے مطابق ہوا کرتا تھا۔ ان حکومتوں نے دنیا میں آشتی کے پیامبر اور ’’ امن کی فاختہ ‘‘ ہونے کے ترانے نہیں گائے تھے۔ اور نہ جمہوریت ، حقوق انسانی اور تہذیب کی معلمی کو اپنا مشن بتایا تھا۔ اس لیے ان کا معاملہ سادہ تھا۔ مگر جدید مغربی حکومتیں اپنے جہانگیری اور توسیعی عزائم وکردار میں سکندر و دارا سے بڑھے ہونے کے باوجود، امن و آشتی کا پیر ہن پہن کر سامنے آتی ہیں۔ اور دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی جنگیں تہذیب وانسانیت کی ترقی کی خاطر، فلاح عام کے مقصد سے، حقوق انسانی کی نگہبانی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ہیں۔ ان مغربی حکومتوں نے قول و عمل میں تضا دکے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ الفاظ کی بازی گری اور نہایت مکروہ حقائق پر حسین و دل فریب پر دے ڈالنے کا عجب کلچر قائم کیا۔ لہوپی کر تعلیم مساوات دی۔ ان کی درندگی اور خباثت کا وہ حال ہے جو ابو غریب اور گوانٹا نامو میں نظر آیا ہے،مگر اندروں چنگیز سے تاریک تر رکھ کر بھی یہ روشن خیالی کی تبلیغ کرتی ہیں۔ اس نئی صورت حال نے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالا ہے کہ اسلام کا دعویٰ بھی کہیں ایسا نہ ہو کہ اصلاح و فلاح کے سارے وظیفے زبان تک محدود ہوں اور عملاً صرف قوت و استبدا د مقصد ہو۔

اگرچہ بنیادی طور پر یہ شبہ کرنا ہی اس لیے غلط ہے کہ کسی دعوت یا نظر یہ کو جانچنے کا یہ کوئی پیمانہ نہیں ہے کہ اس کے حاملین کے کر دار کو کسوٹی بنا لیا جائے یا ان کی نیت پر اس لیے شبہہ کیا جائے کہ دوسروں نے بھی بظاہرا چھے مقاصد کا نام لے کر بری نیتیں رکھی ہیں ۔ نظریات اور دعوتوں کو جانچنے کا ذریعہ صرف دلائل وحقائق کی آزمائش ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اسلام ایک دینی و روحانی دعوت ہے۔ اس کا اصل مقصود کسی قوم کی حکومت یا قوت نہیں ہے، بلکہ ان اخلاقی اقدار اور روحانی حقائق کا فروغ اس کا اصل مطلوب ہے جو اس کی دعوت کی بنیاد ہیں۔ مسلمانوں کی قوت اگر ان اقدار کے فروغ میں معاون ہو تو وہ مطلوب ہے۔ اور اگر وہ ان کے احیاء و فروغ میں رکاوٹ بنے یہ قوت قابل نفرت ہے، اور قرآن کے بیان کے مطابق اللہ کی سنت میں یہ بات طے ہے کہ وہ مسلمانوں کی ایسی قوت کو توڑ کر ان کو ذلت کا مزہ ضرور چکھا ئے گا۔ اسلام نے جنگ کو ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کی روح اور قالب عطا کیا ہے۔ وہ جہاد کرنے والے کو ہر دم یومِ جزا کی فکر میں رکھتا ہے، اور اس کو خدا وند قہار کے سامنے کھڑے ہونے کی منزل یاد دلا تا رہتا ہے۔ قرآن صاف آگاہ کرتا ہے:

تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُونَ عُلُوّاً فِیْ الْأَرْضِ وَلَا فَسَاداً وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (القصص: ۸۳) 

’’وہ آخرت کا گھر ہم انہی لوگوں کو دیں گے جو زمین میں تکبر کرنا اور بگاڑ مچانا نہیں چاہتے۔ اور آخرت کی کامیابیاں صرف پرہیز گاروں کے لیے ہیں۔‘‘

اس جہاد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اگر اپنے بندوں کو حکومت و اقتدار کا موقع عطا فرمائے تو انہیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ یہ ایک امانت ہے، اور اللہ کے یہاں اس کا سوال ہوگا۔ لہٰذا اگر کوئی اس حکومت و اقتدار کو امانت کے طور پر لینے کے بجائے دنیاوی عزت و قوت اور لذّت و فر حت کے بیش بہا موقع کے طو ر پر لے گا تو وہ آخرت کے دن شدید عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ اللہ تعا لے نے جب حضرت داؤد ؑ کو حکم رانی کے منصب پر فائز فر مایا تو ان کو تاکیدفرمائی:

یَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوَی فَیُضِلَّکَ عَن سَبِیْلِ اللّٰہِ إِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوا یَوْمَ الْحِسَاب (ص: ۲۶)

’’اے داؤد ! ہم نے تم کو زمین پر حکم راں اور اپنا نائب بنایا ہے۔ لہذا تم لوگوں کے درمیان راستی اور عدل کے ساتھ حکومت کرو۔ اور (خبر دار) نفسانی خواہشات کے پیچھے مت پڑجانا و رنہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے بھٹکادیں گی۔ جو لوگ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے پڑ کر اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ جا تے ہیں ان کو سخت عذاب ملے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے اس دن کو بھلا دیا جب ان کے اعمال کا حساب ہوناتھا۔‘‘

یوم جزا و حساب کی فکر ہی بس امانت کی اس روح کی حفاظت اس درجے میں کر سکتی ہے کہ وہ حکم رانی اور قوت واستیلا کے موقع پر بھی حکم رانوں کو حدود کے اندر رکھ سکے۔ قرآن و سنت نے مسلمانوں کو اسلامی تربیت وتقوی کی جو راہ دکھائی ہے وہ یقیناًاس روح کی حفاظت کی پوری کفیل وضامن ہے۔ یہاں حدیث کے ذخیر ے سے اس تعلیم کی بس ایک مثال ذکر کی جاتی ہے۔ ایک صحابی کو حکومت و اقتدار کے سلسلے میں نصیحت کرتے ہوئے اور اس بھاری امانت کی نزاکت سے آگاہ کرتے ہوئے رسول اللہ ؐ نے فرمایا:

یاأباذر! انہا أمانۃ وانہا یوم القیامۃ خزيٌ وندامۃ الّا من أخذھا بحقہا وأدّیٰ الذی علیہ فیہا (صحیح مسلم، رقم ۱۸۲۶)

’’ابوذر! یہ امانت ہے۔ اور قیامت کے دن یہ رسوا کن اور باعث ندامت ہوگی۔ سوائے اس شخص کے لیے جو اس کو حق کے ساتھ لے، اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ ‘‘

جہاد فی سبیل اللہ کو اپنی پاکیزہ روح اور اپنی اخلاقی وروحانی خصوصیات کے ساتھ باقی رکھنے کے لئے اسلام نے جو انتظامات کیے ہیں، پچھلی سطروں میں ان کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ اس اہتمام وانتظام کی کوئی جھلک بھی دنیا کے کسی پولیٹکل سائنس اور قومی تربیتی نظام میں نہیں مل سکتی۔ جہاں تک جہاد کے کا مل معیاری عملی نمونے کا تعلق ہے وہ اول درجے میں رسول اللہ ؐ کے زمانے کا جہاد ہے۔ اور دسرے درجے میں یہ معیاری نمونہ خلفائے راشدین کے اس دور میں ہم کو ملتا ہے جب مسلمانوں کے اجتماعی معاملات ناتربیت یا فتہ عناصر کے ہاتھ میں نہیں آئے تھے۔ 

مستشرقین نے عہد رسول کے جہاد کو عربوں کی کمزور اقتصادی پوزیشن اور خصوصاً بد و عربوں کے قلیل وسائل معیشت کے نقطۂ نظر سے دیکھا ہے۔ انہوں نے اور ان کے مشرقی شاگردوں نے ان کا اتباع کرتے ہوئے جہاد کا اصل مقصد مالی خوشحالی کا حصول قرار دیا ہے۔اگر ناواقفیت نہیں تو ان کی اس روش کو کم سے کم جو نام دیا جا سکتا ہے وہ شپّرہ چشمی ہے۔ یہ کیسی مالی مقاصد کے لیے بپا کر دہ تحریک ہے جس کے صف اول کے قائدین جان کی بازی لگانے میں سب سے آگے ہیں ،مگر پھر بھی غریب و فقیر مرتے ہیں۔ آں حضرت ؐ کا جب و صال ہوتا ہے تو یہ مکہ کے کس مپرسی کے دن نہیں ہیں، پورا عرب فتح ہو چکا ہے، اور جاں نثاروں کی بھیڑ مال درکنار، گردن ہتھیلی پر رکھے حاضر ہے۔ مدینہ میں مال آ تا ہے اور غریبوں میں تقسیم ہوتا ہے، مگر خانۂ نبوی میں صرف ایک وقت ہی کھانا پکتا ہے (صحیح مسلم، ۲۹۷۴) اور وفات کے وقت وہ بھی ایک یہودی سے قرض لے کرہی ممکن ہو سکا۔ (صحیح بخاری، ۲۹۱۶)

عہد نبوی میں سب سے زیادہ ما ل غنیمت جنگ ہوا زن میں حاصل ہوا تھا۔ ہوازن کے لوگ جو ش دشمنی میں اپنا سارا مال ومتاع لے کر میدان میں آئے تھے۔ ان کاخیال تھا کہ جب سارا مال ومتاع داؤ پر لگا ہوگا تو کوئی بھاگنے کو نہیں سوچ سکے گا ۔ شکست ہوئی تو یہ عظیم ذخیرہ غنیمت کی صورت میں مسلمانوں کے قبضے میں تھا۔ اگر ان جنگوں میں دنیا طلبی کا کوئی محرک ہو تا تو ضرور یہ دولت مدینہ میں روشنی کرتی اور مسلمانوں کے گھروں میں عیش کا سامان بنتی۔ مگر یہاں تو نظارہ ہی کچھ اور ہے۔ آپؐ سارا مال قریش اور بعض دیگر قبائل کے سرداروں میں بانٹ ڈالتے ہیں۔ جنہوں نے آپؐ سے جنگ کی، ان میں ہی مال بانٹ ڈالا!!۔ یہ سب جو کل تک دشمن محاذ کے سردار ہیں بڑے بڑے حصے پاتے ہیں۔ مدینہ کے مخلص و جاں نثار مسلمانوں کو کچھ نہیں مل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر انصار کے کچھ نو جوان صبر نہیں کرپاتے، چہ می گوئیاں شروع ہوتی ہیں۔ یہ خبر پاکر رسول اللہ ؐنے انصار کو ایک خیمہ میں جمع کرنے کا حکم دیا ۔ اور جو گفتگو فرمائی وہ جہاد کی اصل روح، مقاصد اور حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ آپ نے انصار سے فرمایا :

’’مجھے کیا خبریں پہنچ رہی ہیں؟ میں نے یہ مال نئے اسلام لانے والوں کو دیا ہے، تاکہ ان کے دل نرم پڑ جائیں۔ انصار کے لوگو! تم گمراہ تھے کیا اللہ نے تم کو میرے ذریعہ ہدایت نہیں دی؟ تمہارا شیرازہ منتشر تھا، کیا میرے ذریعہ اللہ نے تم کو جمع نہیں کیا؟ تم فقیر تھے، اللہ نے میرے ذریعہ تم کو غنی نہیں بنایا؟ (انصار ہر سوال کے جواب میں سراپا نیاز وادب کی تصویر بنے کہتے جاتے: اللہ اور اس کے رسول کے بڑے احسانات ہیں‘‘)۔ 

پھر آپ ؐ نے فرمایا: اگر تم اس کے جواب میں مجھ سے یہ کہو تو سچ ہوگا کہ: تم کو تمہاری قوم نے جھٹلا یا، ستایا اور نکال دیا، تو ہم ہی تھے جنہوں نے تم کو پناہ دی ۔ کسی نے تمہاری مدد نہیں کی، تو ہم ہی نے تمہاری مدد کی اور اپنے گھر رکھا۔ تم ضرورت مند تھے۔ ہم ہی نے تمہارے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا۔اے انصار! اگر تم ایسا کہو تو حق ہوگا اور میں بھی تمہاری تصدیق کروں گا۔

مگر سنو! میں نے دنیا کا یہ حقیر مال کچھ لوگوں کے دل رکھنے کے لیے دے دیا تو تم کو خلش ہے؟ مگر تم سوچو! کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ یہ سارے لوگ اونٹ بکریاں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھرلے کر جاؤ۔ ‘‘ (صحیح بخاری ۴۳۳۰، ومسند احمد ۱۱۷۳۰)

آں حضرت ؐ کے بعد جو اس کارواں کے صف اوّل کے رہنما تھے ابو بکرؓ و عمرؓ، وہ بھی تادم وفات فقیرانہ بودو باش اختیار کیے رہے۔ 

یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلام کی فتوحات کے زمانے میں عرب کے اندرونی حصوں کے مقابلے میں مفتوحہ علاقے کہیں زیادہ خوش حال تھے۔ اور ہمیشہ یہی حال رہا ۔ بغداد، دمشق، اسکندریہ، کوفہ اور بصرہ سب اندرون عرب سے کہیں زیادہ خوش حال شہر تھے۔

شام ایک زرخیز خطہ تھا، حضرت عمر کے عہد میں وہ فتح ہوتا ہے پہلے مسلمان عراق وغیرہ فتح کر چکے تھے، اور ان فتوحات کے دوران مسلمانوں نے مفتوح قوم کے ساتھ ایسا منصفانہ ہمدردانہ اور انسانیت نواز معاملہ کیا تھا کہ شام کے باشندے مسلم فوجوں کا استقبال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو شام میں صرف ان شہروں میں کسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جہاں باقاعدہ رومن فوجوں کی قلعہ بند چھاؤنیاں تھیں۔ عوام بیز نطی حکومت کے ہم مذہب عیسائی تھے، اس کے باوجود وہ مسلم فوجوں کا استقبال کرتے نظر آتے ہیں ۔ کبھی دنیانے ایسا نظارہ نہیں دیکھا ہوگا کہ مفتوح قومیں فاتح طاقت سے اصرار کریں کہ وہ واپس نہ جائے۔ مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت حمص، دمشق، اور بعلبک کے شہر خالی کرنا پڑے۔ اس وقت ان شہروں کے عیسائی باشندے آکر کھڑے ہوگئے کہ ہم تم کو واپس نہیں جانے دیں گے۔ رومیوں کے ظلم کے لیے ہم کو نہ چھوڑو۔ مسلمانوں نے اپنی مجبوری بتائی، تو انہوں نے مسلمانوں کو ان دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا کہ خدا تم کو دوبارہ لائے۔ اور یہ وعدہ کیا کہ اگر رومن فوجیں یہاں آئیں تو ہم ان سے تمہاری فوج کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ یہودی بھی کھڑے ہوئے اور کہا: ہمارے جیتے جیہ ہرقل کا حاکم حمص میں داخل نہیں ہو سکتا۔ (فتوح البلدان، ۲۵۸)

مختصر یہ کہ جہاد کی بنیاد دنیا سے بے رغبتی آخرت طلبی اور مخلوق خدا سے ہمدردی اور انصاف کے جن اصولوں پر رکھی گئی ہے، اور پھر اسلام کے آئیڈیل قرار دیے گئے دور (قرون اولیٰ) میں اس کا جو نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے وہ اس کی واضح دلیل ہے کہ جہاد دراصل امپیر یلزم اور جہانگیریت کو مٹانے کا ہی نام ہے۔ اور اس نے ابتدائی عہد میں دنیا کو دو بڑی امپیریل ظالم طاقتوں کے ظلم واستبداد سے نجات دلانے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ اور اسی کے نتیجہ میں یہ عظیم خطے فساد وتاریکی اور جاہلیت کے دور سے نکل کر خدا پرستی اور پاکیزہ اخلاقیات کی تہذیب میں داخل ہوئے تھے۔

جزیہ

مسلمان جب رومیوں سے جنگ کررہے تھے، تو جیساکہ گذر چکاہے ، قرآن کی وہ آیت نازل ہوئی کہ: اب ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھنا جب تک وہ ’’ جزیہ‘‘ دینا قبول نہ کرلیں۔

قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُواْ الْجِزْیَۃَ عَن یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُون۔ (سورۂ توبہ آیت : ۲۹)

جزیہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے کی منظم حکومتیں مفتوح قوموں اور رعایا پر جو ٹیکس (زمین کے لگان کے علاوہ) ہر ہر آدمی پر لگاتی تھیں اس کو ’’جزیہ‘‘ کہتے تھے، علامہ شبلیؒ نے جزیہ پر اپنے مشہور رسالے میں ثابت کیا ہے کہ اس لفظ کی اصل فارسی ’’کزیت‘ ہے۔ طبری نے اپنی تاریخ میں خسرو نوشیرواں، جو عہد نبوی سے پہلے کا ایرانی بادشاہ تھا، کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے لوگوں کے اوپر جزیہ کا نظام نافذ کیا، اور اس کے اصول وقواعد اور مقدار طے کی۔ علامہ شبلی نے طبری اور ان سے بھی قدیم مؤرخ ابوحنیفہ دنیوری کی الاخبار الطوال (وفات ۲۸۱ھ) سے اس کے حوالے دئے ہیں۔

اہل عرب ایران سے قریبی سیاسی رابطے رکھتے تھے، بلکہ پورا مشرقی ساحل شمالی یمن کے مشرقی علاقوں تک انہی کے تابع تھے، شمالی مشرق میں حیرہ میں آل منذرؒ کی قدیم عرب سلطنت ایران کے تابع ریاست کے طورپر قائم ، اور مستقل عرب وفارس تعلقات کی نگراں تھی،یمن میں کسریٰ کی طر ف سے مستقل گورنر متعین ہوتاتھا، عہد نبوی میں اس کا نام باذان تھا۔ (تاریخ طبری) سیاسی وجغرافیائی قربتوں کے نتیجے میں ثقافتی لین دین کافطری عمل ہونا لازمی ہے۔ اسی لئے جب قرآن نے ’’جزیہ‘‘ کا لفظ بولا تو کسی کو اسی کے سمجھنے میں مشکل نہیں پیش آئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جزیہ بین الاقوامی سطح پر معروف محاصل کانظام تھا۔

کیا جزیہ اسلام قبول نہ کرنے کی سزا ہے؟

جزیہ کے بنیادی تصور سے جو ہم نے اوپر واضح کیاہے، یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ جزیہ کسی خاص مذہب کو قبول نہ کرنے کی سزا نہیں تھا۔ اسلام سے پہلے عجم کے حکمراں اس کو اپنے ہم مذہبوں سے بھی لیتے تھے۔ طبری نے نوشیرواں کے تذکرے میں اس کے نظام کی کچھ تفصیلات لکھی ہیں۔ اس میں کوئی مذہبی تفریق نہیں تھی، بلکہ اس میں حکم راں طبقات اور جنگوں میں شرکت کرنے والوں کو مستثنیٰ کیا گیا تھا۔ خود نوشیرواں کے حوالے سے اس کی یہ حکمت منقول ہے کہ جو لوگ جنگوں میں حصہ لیتے ہیں وہ ان کی خدمت کرتے ہیں جو کھیتی او رکاروبار کرتے ہیں۔ لہٰذا عام لوگوں کو ریاست کی امداد اپنے مال سے کرنی چاہئے۔

غرض جزیہ اس وقت کا ایک عام بین الاقوامی قانون تھا۔ دنیا کا تمدنی وفوجی سپر پاور فارس اس پر عمل کرتا تھا، اسلام نے بھی یہی تصور باقی رکھا۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ مسلمانوں پرزکاۃ کی جو عبادت فرض کی گئی، اور صدقات کی عبادت کا جو نظام رکھا گیا، اس کا ایک اہم مقصد ریاست کا تحفظ اور جہاد فی سبیل اللہ کی تقویت بھی تھا۔ لیکن زکاۃ چونکہ خالص عبادتی ومذہبی روح رکھتی ہے اس لئے غیر مسلموں کو اس کا پابند کرنا ناجائز تھا، اس لئے ان کو ریاست کی اجتماعی ضروریات کے سلسلے میں ایک بڑی معمولی چیز کا ذمہ دار بنایا گیاہے۔ اور وہ جزیہ کا ٹیکس ہے۔ 

حضرت عمر نے یہ ضابطہ جاری کیا تھا کہ جزیہ صرف ان لوگوں پر ہوگا جن کو اسلامی ریاست اپنے تحفظ میں لے گی، اور وہ جنگی خدمات انجام نہیں دیں گے۔ جن لوگوں سے جنگی خدمات کا مطالبہ کیاجائے گا وہ خودبخود جزیہ سے مستثنی قرار پائیں گے۔ عراق کے افسران حکومت کے نام آپ نے ہدایت بھیجی کہ 

لیستعینوا بمن احتاجوا إلیھم من الأساورۃ ویرفعوا عنھم الجزاء (تاریخ طبری: ۲/۴۸۲)

’’سابق حکومت کے کارندوں میں سے جن کی ضرورت ہو مدد لی جائے اور ان کا جزیہ معاف کردیا جائے۔‘‘

آذربائجان کے لوگوں کے بارے میں حکم فاروقی تھا کہ جو ایک دفعہ کسی معرکہ میں حصہ لے گا اس کا سال بھر کا جزیہ معاف ہوجائے گا۔ (تاریخ طبری ۲/۵۴۰)

آرمینہ اور جرجان کے لوگوں کو یہ وعدہ لکھ کردیا گیا کہ یہ لوگ ضرورت پڑنے پر جنگ میں حصہ لیں گے تو ان کا جزیہ معاف ہوجائے گا۔ (طبری ۲/۵۴۱)

جرجومۃ کا شہر فتح ہوا تو ان لوگوں نے شرط رکھی کہ ہم سے جزیہ نہ لیا جائے ہم مسلمانوں کی مدد کریں گے تو یہ بات مان لی گئی۔ (الفاروق بحوالہ فتوح البلدان، ص ۱۵۹)

امام عامر شعبی جن کی ولادت ۲۰ھ اور وفات پہلی صدی کے خاتمہ پر ہوئی ہے، فرماتے ہیں کہ:

ادرکت الأئمۃ الفقیہ منہم وغیر والفقیہ یغزون بأھل الذمۃ فیقسون لھم ویضعون عنھم جزیتھم‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۷/۵۹۵)

میں نے فقیہ اور غیر فقیہ ہر قسم کے حکام کو دیکھا ہے کہ وہ غیر مسلم شہریوں کو جنگ میں شریک کرتے تھے اور ان کا حصہ غنیمت میں لگاتے تھے اور جزیہ معاف کردیتے تھے۔

اسی بنا پر اب اکثر علماء کا گویا اتفاق سا ہوگیا کہ جزیہ حفاظت کا بدلہ اور فوجی خدمات کا معاوضہ تھا۔ 

اس کم علم کو اس حقیقت سے پورا اتفاق ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں جزیہ فوجی خدمات کی ادائیگی پر معاف ہوجاتا تھا، اور وہ صرف جنگ میں حصہ لینے کے قابل لوگوں یعنی جو ان مردوں سے لیا جاتا تھا، عورتوں بچوں اور بوڑھوں سے نہیں لیا جاتاتھا۔ اس سے نتیجہ بآسانی نکالا جاسکتا ہے کہ جزیہ فوجی خدمت کا بدلہ تھا۔

غیر مسلم مفتوح اقوام کو جنگ میں حصہ لینے اور ریاست کے دفاع کا فرض انجام دینے کا عموماً پابند نہیں بنایا گیا تھا، اس کی وجہ اولا تو یہ تھی کہ مفتوحین کو یکا یک وفادار یاں بدلنے پر اس درجہ مجبور کرنا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ خون بہانے پر تیار ہوجائیں ایک نامناسب بات تھی۔ اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک اسلامی ریاست مخصوص عقائد وافکار، او ر مخصوص مقاصد کے لئے قائم ایک مشنری اور دعوتی ریاست ہوتی ہے۔ اس کا کام صرف امن کا قیام ، شہریوں کی فلاح وبہبود سے آگے بڑھتے ہوئے پوری دنیا میں مخصوص ذوق ومزاج اور عبادت اللہ پر قائم نظامِ زندگی عام کرناہوتاہے۔ غیر مسلموں کو اپنی مرضی کے خلاف ایسی ریاست کے لئے خون بہانے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے، اس لئے ان سے صرف ان کے جان ومال کا تحفظ کا معاوضہ جزیہ لیاجاتاتھا۔

یہ عاجز اس حقیقت سے اتفاق کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں ایک ذرا مختلف موقف رکھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جزیہ اپنی بنیادی حیثیت میں صرف ایک سادہ سا محصول (ٹیکس) ہے۔ جیسے محصولات ہر حکومت اپنی ملکی ضرورتوں اور سماجی خدمات کی انجام دہی کے لئے لیا کرتی ہے۔ ان کے ذریعہ ہی ملک کے دفاع کی ضرورتوں کو پورا کیاجاتاہے، حکومتی عملہ کی تنخواہیں ، رفاہ عامہ، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، سنچائی کے انتظامات اور سارے ملکی انتظامات کا کام ان ٹیکسوں کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ اورہر فردِ معاشرہ او رریاست کا باشندہ کم وبیش اس بار کا کچھ نہ کچھ حصہ اٹھاتاہے۔ 

مسلمانوں پر زکاۃ کی شکل میں جو عبادت فرض ہے اس کا عبادتی پہلو تو یہ ہے کہ بندہ گویا خدائے قدوس کی خدمت میں عقیدت ووفا کی نذر گذارتاہے۔ دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ اور رفاہ عامہ اور غریبوں کی خدمت کا ذریعہ ہے۔ اُس کی اِس عبادتی حیثیت کی وجہ سے غیر مسلموں پر جزیہ نام کا ایسا ٹیکس نافذ کیاگیا جو عبادتی ودینی رنگ سے خالی ہے تاکہ غیرمسلموں کو کسی دینی قسم کی چیز کا پابند نہ بنایاجائے۔ بہر حال ہمارے نزدیک جزیہ بنیادی طور پر دفاع اور جنگی خدمات کا بدل نہیں ہے، صرف ایک ٹیکس ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانوں میں مسلمانوں پر زکاۃ ہوتی تھی اور غیر مسلموں پر جزیہ۔

حضرت عمرؓ کے زمانے میں جنگی خدمات انجام دینے والوں کو جزیہ سے مستثنیٰ رکھنے کا سبب یہ نہیں تھا کہ جزیہ فوجی خدمت کا بدل ہے ، بلکہ یہ دراصل حکومت کی طرف سے ٹیکس کی معافی کا ایک اعلان تھا ۔ جیسا کہ غریب کے لئے اور عورتوں بوڑھوں او ر بچوں کے لئے یہی معافی اس لیے تھی کہ عموما یہ کمانے والے نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ عہد نبوی میں اور پھر خلافت راشدہ اور ابتدائی صدیوں میں جو جزیہ لیا جاتا تھا وہ مسلمانوں سے لی جانے والی زکاۃ سے کہیں کم تھا۔

جزیہ اور ذمی کے بجائے دوسری اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے:

حضرت عمرؓ کے زمانے میں شمالی عرب کے عیسائیوں میں ایک بڑی طاقت قبیلۂ بنوتغلب کی تھی۔ انہوں نے یہ عرض داشت رکھی کہ ہم کو ایرانیوں (عجم) سے ممتاز رکھا جائے، ہم عرب ہیں، آپ ہم سے صدقہ یا زکاۃ کے نام سے جوچاہیں لیں۔ (یاد رہے کہ جزیہ اصلا ایک ایرانی نظام تھا۔ اور بنو تغلب عیسائی اور رومی حلیف ہونے کے ناطے ایرانیوں سے قدیم عداوت رکھتے تھے)۔ حضرت عمرؓ نے صحابۂ کرام کے مشورے سے ان کی یہ درخواست قبول کرلی۔ (السنن الکبری للبیہقی، باب: نصاری العرب تضعف علیھم الصدقۃ، الأموال لابی عبید: ۱/ ۶۹) اس طرح بعد کے زمانوں کے لئے گویا یہ اصول طے فرمادیا کہ غیر مسلم شہری جزیہ ، ذمی وغیرہ اصطلاحات کے بارے میں غلط فہمیوں کی وجہ سے تردد کے شکار ہوں تو ان ناموں پر اصرار کرنا کوئی ضروری نہیں۔

اس دور کے مسلم ممالک میں جزیہ کیوں نہیں؟ 

ہمارے زمانے میں مسلم ممالک میں کہیں جزیہ کے نام سے غیر مسلم شہریوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ بلکہ شیخ مصطفی سباعی، شیخ یوسف القرضاوی، شیخ عبدالکریم زیدان، وہبہ الزحیلی اور مصطفی الزحیلی وغیرہ علماء اس کے قائل ہیں کہ آج کی مسلم ریاستوں میں جزیہ نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ شاید اصل وجہ یہ ہے کہ مسلم ممالک میں غیر مسلم شہریوں پر مختلف قسم کے مساوی ٹیکس نافذ ہیں، جو مسلمانوں پر بھی ہیں، اور جیسا کہ اوپر گذر چکاہے ان ٹیکسوں کا جزیہ کے نام سے موسوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کے زمانے میں اس کی صاف تصریح کی گئی ہے کہ اگر غیر مسلم شہری جنگوں میں حصہ لیں تو ان سے جزیہ نہیں لیا جائے گا۔ اور موجودہ زمانے کے مسلم ممالک میں غیر مسلم قومی دفاع کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے پر تیار ہیں۔

غیر مسلموں کی اہانت نہیں کی جائے گی:

ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ قرآن نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کو ذلیل کرکے اور دباکے رکھا جائے۔

اس سلسلے میں جس آیت کو پیش کیا جاتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے: 

قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُواْ الْجِزْیَۃَ عَن یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُون ( سورۂ توبہ آیت : ۲۹)

’’اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور نہ سچے دین کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں۔‘‘ (ترجمہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ )

اس آیت میں جنگ کی انتہا کی شرط بتائی گئی ہے کہ وہ ’’وھم صاغرون‘‘ کی حیثیت قبول کریں۔ ’’صاغرون‘‘ عربی مادہ (Root) ’’ص،غ،ر‘‘ سے اخذ کیا گیاہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اس مادہ کے بعض الفاظ میں ذلت کے معنی آتے ہیں، اور اسی بنیاد پر بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ اسلامی ریاست میں ذمیوں کو کمتر اور حقیر بناکر رکھا جائے گا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس لفظ میں تابع ہوجانے اور بڑائی اور تکبر چھوڑ دینے کے معنیٰ بھی آتے ہیں۔ مشہور امام لغت ابن منظور نے لکھا ہے کہ صغار عظمت کی ضد ہے (لسان العرب، مادہ ص غ ر) ۔ محقق علماء نے یہاں اسی معنی کو مراد لیا ہے۔

امام شافعی الأم میں فرماتے ہیں:

وإذا أخذ منھم الجزیۃ أخذ ھا بإجمال ۔۔۔ ولم یقل لھم قبیح والصغار أن یجري علیھم الحکم لا أن یؤذوا (الأم: ۴/۲۲۰ طبع دار الفکر)

’’ذمیوں سے جزیہ خوبصورتی اور نرمی سے لیا جائے۔۔۔ ان سے کوئی بری بات نہ کہی جائے۔ قرآن میں جس ’’صغار‘‘ کا تذکرہ ہے اس کا مطلب بس یہ ہے کہ ان کے اوپر ریاست کے قوانین کا نفاذ ہو، نہ کہ یہ کہ ان کو ستایا جائے۔ ‘‘

کچھ خراسانیوں نے اہل ذمہ کو ذلیل کرنے کی بات کہی تو امام نووی اور دیگر فقہاء نے اس کو باطل وبے اصل بات کہا۔ مغنی المحتاج میں ہے:

’’یہ طریقہ باطل ہے، اور اس کو مستحب یا ضروری کہنا اس سے زیادہ غلط‘‘ (مغنی المحتاج شرح المنہاج، فصل فی الامان)

ابن القیم کہتے ہیں:

الصغار ھو التزامھم لجریان احکام الملۃ علیھم، واعطاء الجزیۃ، فان التزام ذلک ھو الصغار (احکام اہل الذمۃ ۱/۴۱)

آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ’’صغار‘‘ یہ ہے کہ وہ مسلم حکومت کی قانونی برتری تسلیم کرلیں اور جزیہ ادا کریں، بس ان کو قبول کرلینا ہی ’’ صغار‘‘ہے۔

مگر یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اس سب کے باوجود یہ کہنا مشکل ہے کہ ’’صاغرون ‘‘ کا لفظ تحقیر وذلت کے مفہوم سے بالکل خالی ہے اور اس کے معنی صرف مسلمانوں کی حکومت کو قبول کرلینا ہیں۔ بلکہ عربی زبان کے اہل ذوق تصدیق کریں گے کہ ’’صغار‘‘ میں ذلت کا مفہوم ضرور ہے۔

لیکن اس کے باوجود صحیح بات یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے وفادار غیر مسلم شہریوں کو ذلیل کرنا شریعت کا حکم نہیں ہے، بلکہ اس کے خلاف ہے۔ یہاں اصل بات جس کی طرف توجہ نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم آیات کے تاریخی پس منظر شان نزول نیز سیاق قرآنی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس آیت پر غور کی نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتاہے کہ اس میں اسلامی ریاست کے اطاعت گزار اور وفادار غیر مسلم شہریوں کی تذلیل کا حکم نہیں ہے، بلکہ آیت اس وقت نازل ہو رہی ہے جب دشمن جنگ کر رہا ہے اور اس نے ابھی اطاعت قبول نہیں کی ہے۔ آیت محارب وتوسیع پسند اور متکبر رومی طاقتوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے کے لئے نازل ہوئی تھی، (جیسا کہ ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں)۔ اس سیاق میں اور جاری جنگ کے ماحول میں حکم دیاگیا ہے کہ ’’ ان رومیوں سے جنگ کرو، اور اس وقت تک کرتے رہو جب تک یہ جھک کر اور ذلیل ہوکر تمہاری اطاعت وباج گذاری قبول نہ کرلیں‘‘۔ یعنی یہ محارب دشمن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کو ’’صغار‘‘ اور ذلت پر اتارو، نہ کے ریاست کے عام غیر مسلم شہری کے بارے میں۔ یعنی محارب طاقت جب جھک جائے، شکست تسلیم کرکے اطاعت قبول کرلے تو اب عام شہریوں کے لئے یہ صغار اور ذلت کا حکم باقی نہیں رہے گا، اسلامی ریاست کے شہری بننے سے پہلے جب جنگ جاری تھی تو کہا گیاتھا کہ اس وقت تک ان سے برسر پیکار رہو جب تک یہ ذلت کے ساتھ سر تسلیم خم نہ کردیں۔ 

لہٰذا اگر اس بنیادی نکتے کو ذہن میں رکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ اس آیت میں محاربین کی تذلیل وتحقیر کا پہلو تو ضرور ہے اور ہر قوم اپنے دشمنوں ، خصوصاً جنگجو دشمن کے خلاف فوجوں اور عوام کے درمیان اسی قسم کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ پھرجب یہ جنگ عام جنگ نہ ہو، راہ حق کے لئے جاں بازی اور اللہ کے دین کے دشمنوں سے کشمکش ہو، تب تو یہ بڑا اہم اور ضروری پیغام ہوتاہے کہ ’’ ان بدبختوں اور ظالموں کے تکبر کو خاک میں ملانے تک جنگ کرو‘‘۔ یہیں سے یہ واضح ہوتاہے کہ اسلامی ریاست کے بے ضرر غیرمسلم شہر ی اس ’’حکم صغار‘‘ میں مراد نہیں ہیں۔

اس تفسیر کی خالص علمی وفنی تعبیر یوں کی جائے گی کہ ’’حتی‘‘ حکم قتال کی غایت بیان کرنے کے لئے ہے۔ اور قتال کی انتہا صغار کے ساتھ جزیہ قبول کرلیناہے، نہ کہ جزیہ دینا۔ یہی وجہ ہے کہ بالاتفاق جیسے ہی محارب قوم جزیہ پر راضی ہوگی قتال رک جائے گا، وہ عملا جزیہ دینے تک نہیں چلے گا۔ ہمارے مفسرین نے یہاں اس کی صراحت کی ہے کہ قتال کی انتہا کے طور پر جو ’’جزیہ دینا‘ ‘کہا گیاہے اس سے مراد’’ جزیہ دینے پر راضی ہو جانا‘‘ ہے (تفسیر ابو السعود وروح المعانی میں ہے: ’’حتی یعطوا أی یقبلوا أن یعطوا‘‘، سورہ توبہ آیت: ۲۹)۔ لہٰذا یہ ’’وھم صاغرون‘‘ جزیہ پر راضی ہونے کے وقت کا حال ہے نہ کہ جزیہ دینے کے وقت کا، اب اس آیت کا یہ مفہوم ہوا کہ محارب اور جنگ کرنے والی حکومت سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک وہ جھک کر ذلیل ہوکر شکست تسلیم نہ کرلے۔اس سے واضح ہوا کہ یہ آیت غیر مسلم شہریوں اور اہل ذمہ کے لئے مستقل ’’صغار‘‘ کا حکم نہیں بیان کرہی ہے۔ ان شاء اللہ اہل علم کے لئے اب کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ:

ابن القیمؒ نے اس آیت کی تشریح میں پہلے تو ان لوگوں کے بعض اقوال نقل کئے جو ذمیوں کی تحقیر کو اس حکم تقاضا سمجھتے ہیں، پھران کے اس خیال کی تردید میں کہتے ہیں:

وھذا کلہ مما لا دلیل علیہ ولا ھو مقتضی الآیۃ، ولا نقل عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا عن الصحابۃ انھم فعلوا ذلک، والصواب فی الآیۃ ان الصغار ھو التزامھم لجریان احکام الملۃ علیھم، واعطاء الجزیۃ، فان التزام ذلک ھو الصغار (أحکام أہل الذمۃ: ۱/۴۱)

’’ان سب باتوں کی کوئی دلیل نہیں ہے، نہ یہ آیت کا مطلب ہے نہ رسول اللہؐ اور صحابہ کرام نے ایسا کیا، آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ’’صغار‘‘ یہ ہے کہ وہ مسلم حکومت کی قانونی برتری تسلیم کرلیں اور جزیہ ادا کریں، بس اس کو قبول کرلینا ہی ’’ صغار‘‘ہے۔‘‘

علامہ ابن قیم نے یہاں قرآن وحدیث کے نصوص کی تفسیر کے ایک نہایت بنیادی اصول کی طرف اشارہ کیاہے، رسول اللہؐ کی سنت اور صحابہ کرام کے عمل سے الگ کرکے قرآن کی تفسیر نہیں کی جاسکتی، حروف والفاظ کے مجموعوں اور جملوں اور فقروں کی تفسیر وتشریح میں نہ جانے کیا کیا غلط فہمیاں ہوسکتی ہیں، تعبیر وتشریح اور Interpretation کے نام پر بائبل میں کس طرح تحریف ہوئی ہے، وہ اس کی مثال ہے۔ قرآن کی حفاظت کا ایک معجزاتی پہلو یہ ہے کہ آیات واحکام قرآنی کی تشریح اور اس کے حدود معیار کو متعین کرنے کے لئے ہمارے پاس رسول اللہؐ کا اسوہ ہے۔ اور اس اصول کی بناپر ہم قطعی طورپر اور پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت کی تشریح میں یہ تصور اور اس پر مبنی ہر رائے بالکل غلط ہے کہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ذلیل بناکر رکھے جائیں گے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اس کے بالکل خلاف ہے۔

رسول اللہؐ کے زمانے میں اسلامی ریاست میں بسنے اور اس کی اطاعت قبول کرنے والے غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ آپ ؐ نے ان کے ساتھ عملاً جو برتاؤ کیا، ان کی جو قانونی حیثیت اور سماجی مقام اپنے طرز عمل سے متعین فرمائے، وہ ہی در اصل شریعت کا قانون اور مسلم ریاستوں کے لئے رہنما پالیسی ہے۔ 

حدیث کی کتابوں اور سیرت ومغازی کی معتبر روایات کا اتفاق ہے کہ رسول اللہؐ کے ماتحت جو اولین اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی، اور جو سدا کے لیے اسلامی ریاست کا رول ماڈل اور کامل ترین نمونہ ہے، اس میں ریاست کے عام شہریوں کی اہانت اور تذلیل کا قصد نہیں کیا گیا۔ 

مکہ فتح ہوا تو مکی سرداروں کی ایک تعداد نے اطاعت قبول کی لیکن اسلام نہیں لائے، آپ نے ان کو تحفوں سے نوازا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے اور اسلام کے جاں نثار بنے۔

فتح مکہ کے بعد ہی نجران نے اطاعت قبول کی، نجران جنوب عرب میں رومی حکومت کے تابع عیسائی آبادی والا ایک منطقہ تھا۔ یہ لوگ باقاعدہ جزیہ دینے والے ذمی قرار پائے۔ ان کا وفد مدینہ منورہ آیا، ذمیوں کے اس وفد کے ساتھ رسول اللہؐ نے جو معاملہ فرمایا وہ تاریخ وسیر اور حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ آپؐ نے ان کو اپنی مجلس میں ٹھہرایا، انہوں نے اپنی عبادت کرنی چاہی تو صحابہ نے روکنے کا ارادہ کیا، مگر آپؐ نے صحابہ کو منع کیا اور عیسائیوں نے مسجد نبوی ہی میں اپنی عبادت کی۔ (دلائل النبوۃ بیہقی: ۵/۳۹۰) 

سن سات ہجری کے بعد کا واقعہ ہے، اور ہوسکتاہے کہ ۸ ھ ؁میں مکہ فتح ہونے کے بعد کا ہو، یعنی بہر حال اسلام کے مدینہ میں قوت وقدرت حاصل کرنے کے بعد کا واقعہ ہے، کہ مدینہ کے ایک طاقتور مشرک شخص سے حضرت بلال نے کچھ قرض لیا۔ وہ قرض اسلامی ریاست کی بعض ضروریات (غرباء کی امداد) کے لئے رسول اللہؐ کی ایماء پر لیا گیا تھا، اس تاجر نے خود ہی حضرت بلال سے کہا تھا کہ اس قسم کی ضروریات کے لئے کسی اور کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے تم مجھ سے لے لیاکرو۔ اچانک ایک دن عین اذان کے وقت تاجروں کے ایک گروہ کے ساتھ آدھمکا اور حضرت بلال سے نہایت ترش روئی اور بدتمیزی سے مخاطب ہوا : ’’اوحبشی! تجھے یاد ہے؟ بس چارد ن بچے ہیں! اگر وقت پر قرض ادا نہیں ہوا تو تجھے پکڑ کر بکریاں چرانے پر لگادوں گا‘‘۔ بے چارے ڈر گئے، حضورؐ کے پاس پہنچے اور قصہ کہہ سنایا، اور چند دنوں کے لیے فرار ہونے کا ارادہ کیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد فدک سے کچھ مال آگیا اور حضرت بلال نے قرض ادا کیا۔ (سنن ابوداؤد، ۳۰۰)

یہ واقعہ عہد نبوی میں ذمیوں کو دباکر اور ذلیل کر کے نہ رکھے جانے کا واضح ثبوت ہے۔

زید بن سعنہ ایک یہودی مذہبی عالم تھے، مالدار اور باحیثیت ومشہور۔ ان کے اسلام لانے کا بڑا مؤثر قصہ حدیث کی کتابوں میں آیاہے۔ ان سے رسول اللہؐ نے کچھ قرض کا معاملہ کیا، وہ جان کر وقت پورا ہونے سے پہلے آپہنچے اور مجمع عام جب آپؐ صحابہ کرام کے ساتھ ایک جنازہ میں تھے آپؐ کے کپڑے پکڑ کرکہا: محمد! قرض نہیں واپس کروگے؟ مجھے تمہارے پورے خاندان کا حال معلوم ہے۔حضرت عمرؓ شدت غضب سے سرخ ہو گئے، چیخ اٹھے کہ: ’’او خداکے دشمن ! میرے سامنے تیری یہ مجال؟ دیکھ! اگر خوف خدا دامن گیر نہ ہوتا تو تیرا سر دھڑ سے جدا ہوچکا ہوتا‘‘۔ آں حضرتؐ سکون وضبط کی تصویر بنے رہے، آپؐ نے حضرت عمر کی طرف نظر اٹھائی، دیکھا اور کہا: عمر! حق تو یہ تھا کہ تم مجھ سے جلد ادائیگی اور اس سے خوش معاملگی کو کہتے۔ جاؤ، قرض بھی دے دو اور الگ سے میری طرف سے کچھ ہدیہ بھی۔ عمر کی تلوار تورک گئی، مگر اخلاق نبوی کی اس تلوار نے زید بن سعنہ کو قتل کرڈالا۔ فوراً اسلام قبول کیا اور حضرت عمر سے تنہائی میں بتایا کہ میں نے یہ حرکت بس امتحان اور پرکھنے کے لئے ہی کی تھی۔ (صحیح ابن حبان، ۱/۲۸۸) حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں اس روایت کی توثیق کی ہے۔

عہد نبوی کا ایک اور واقعہ جس سے غیر مسلم شہریوں کا مدینہ میں ہر قسم کے دباؤ سے آزادی اور حکومتی اہانت وتذلیل سے محفوظ ہونے کا پتہ چلتاہے حدیث کی متعدد کتابوں میں آیاہے۔ آپؐ کے پاس شدید گرمی گاڑھے کے دو کپڑوں کے علاوہ کچھ نہ تھا، پسینہ سے وہ کپڑے بوجھل ہوجاتے۔ ایک یہودی کپڑے کے تاجر کے یہاں شام سے بہتر کپڑا آیا ہو ا تھا، حضرت عائشہ نے کہا: ادھار منگوالیجئے، آپ نے کسی کو بھیجا، تاجر بد طینت ہی نہیں بدزبان بھی تھا۔ کہنے لگا: جانتاہوں محمد مال ہڑپ کر نا چاہتے ہیں، آپؐ نے بس اتنا فرمایا : جھوٹا ، جانتا ہے کہ میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور سب سے بڑھ کر امانت دارہوں۔ (سنن نسائی، باب البیع الی الاجل المعلوم، ومسند احمد ۲۵۱۸۴)

حدیث کے ذخیرہ میں اس سلسلے کے واقعات بہت سے ملتے ہیں، اسلامی ریاست اپنے وفادار غیر مسلم شہریوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے اس کی سب سے تفصیلی مثال ہم کو اس تحریری دستور کی دفعات میں ملتی ہے جس کی بنیادپر مدینہ کی ریاست کا قیام عمل میں آیاتھا، تاریخ وسیر کی کتابوں سے اس دستور اساسی کی دفعات میں مدینہ کے یہود کے حقوق وذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں، یہ دستور صاف صراحت کرتاہے کہ رسول اللہؐ کی سر براہی میں ایک ریاست کا قیام عمل میں آچکا ہے، یہود کی حیثیت اس میں محکوم شہریوں ہی کی ہے، جزیہ کا نام نہیں ہے۔ لیکن زکاۃ کا نام بھی نہ ہونا بتاتا ہے کہ نام اس وقت تک طے نہیں ہوئے تھے۔ ورنہ ریاست کے لئے یہود کی مالی ذمہ داریاں طے کی گئی ہیں، اور ان سے مشترکہ طورپر دفاع میں حصہ لینے کا بھی عہد لیاگیاہے جو جزیہ کے قائم مقام ہے۔

یہ دستور ابن اسحاق، واقدی، ابن سعد اور دیگر اصحاب سیر کے یہاں تفصیل سے ملتاہے، حدیث کی کتابوں میں اس کے متفرق اجزا آئے ہیں۔ 

بہر حال یہ دستور صاف اور واضح ہے کہ اولین اسلامی ریاست نے غیر مسلم شہریوں کی عزت نفس کو کسی طرح مجروح کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، بلکہ دنیاوی حقوق واختیارات میں وہ مسلمانوں کے برابر نظر آتے ہیں۔ یہ دستور اور اوپر مذکور مثالیں حافظ ابن القیمؒ کے اس بیان کی تصدیق ہیں کہ ’’ذمیوں کی تذلیل کا تصور نہ آیت سے اخذ کیا جاسکتاہے اور نہ رسول اللہؐ کا اور صحابہ کرام کاایسا عمل تھا‘‘۔ 

قرآن کی عمومی تعلیمات: 

آیت جزیہ کے صحیح معنی طے کرنے کے لیے خود قرآن کی عمومی تعلیمات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ قرآن نے ایک ایسی صورت میں جس کا اصل موضوع مسلمانوں کو دشمن کفار سے لاتعلقی اختیار کرنے پر زور دینا تھا صاف کہا کہ: 

لا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (الممتحنہ:۸ )

’’اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور انصاف وبرابری کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور تم کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا۔ ‘‘

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ظالم اور جنگجوقسم کے لوگوں کے علاوہ تمام غیر مسلموں کے بارے میں اسلام کی وہ تعلیمات جن میں احسان ومدد اور تکریم انسانی کی عمومی ترغیب دی گئی ہے باقی رہیں گی۔ علم وفہم او ر سلیم العقلی کا تقاضہ ہے کہ نصوص کو مجموعی طور پر لیا جائے نہ کہ کسی ایک پر سرسری اور سطحی نظر رکھی جائے اور حکم کے مقصود ومدعا کو نظر انداز کرکے اور پس منظر سے آنکھیں موند کے اس کی حرفی تفسیر کی جائے اور باقی نصوص کو بھول جایاجائے۔

’’شروط عمریہ‘‘ کا مسئلہ:

حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب عراق وشام اور افریقہ کے وسیع وعریض علاقے فتح ہوئے اور بڑی تعداد میں قومیں ذمی بنیں اور تاریخ شاہد ہے کہ خوشی خوشی ذمی بنیں اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے ہم مذہب حکمرانوں کے خلاف لڑیں۔ تاریخ کی بعض روایتوں میں آتاہے کہ اس وقت ان پر کئی ذلت آمیز احکام لاگو کئے گئے، مثلاً پرانی عبادت گاہوں کی مرمت وتجدید نہیں کی جائے گی۔ سرکا اگلا حصہ منڈائیں گے، زین کس کر گھوڑے پر نہیں بیٹھیں گے، مسلمانوں کے لئے کھڑے ہوا کریں گے۔ جس مسلمان کے ساتھ تجارت میں شرکت کریں گے فیصلہ اسی مسلمان کے ہاتھ میں ہوگا، وغیرہ ۔ یہ سب بے اصل اور موضوع قسم کی روایتیں ہیں۔

اس سلسلہ میں جو اصل اور سب سے مشہور روایت ہے، جس میں آتاہے کہ اہل شام نے خود اپنی طرف سے لکھ کر یہ شرطیں قبول کی تھیں، یہ روایت بالکل موضوع ہے۔ ابن القیمؒ نے اپنی کتاب میں اس کو تفصیل سے ذکر کیاہے، اور اس کی پوری تشریح کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے روای بھی ہیں جن کے بارے میں محدثین نے، وضاع، کذاب، خبیث، عدو اللہ جیسے الفاظ کہے ہیں۔ ( اس سند سے یہ روایت بیہقی کی سنن (۹/۲۰۲) میں ہے شیخ البانی نے اس پر اپنی کتاب إرواء الغلیل (۵/۱۰۳) میں تفصیل سے کلام کیاہے۔ )

یہی روایت ایک اور سند سے خلال نے (جو امام احمد کے صاحب زادے عبداللہ کے شاگرد ہیں، انہی عبداللہ کے حوالے اور سند سے نقل کی ہے، ابن القیم نے احکام اہل الذمۃ میں نقل کرکے اس کو اعتبار بخش دیاہے، ان کی سند میں بعض راویوں کا نام ’من أھل العلم‘‘ کہہ کر مبہم رکھا گیاہے۔ بعض علماء نے اس کو مسند احمد کی ان روایات میں سے گمان کیا ہے جو امام احمد کے صاحب زادے عبد اللہ کے اضافوں میں سے ہیں۔ مگر مجھے یہ روایت مسند میں باوجود تلاش بسیار کے نہیں ملی۔ ابن القیم نے یہ روایت تین حوالوں سے نقل کی ہے یہ تینوں ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ایک مستقل باب ’’ذکر ما اشترط صدر ھذہ الامۃ عند افتتاح الشام‘‘ کے عنوان سے قائم کرکے نقل کی ہیں، ابن عساکر کے یہاں اس کی ایک مزید سند ملتی ہے، ان چار میں سے دو تو وہ ہیں جن پر ہم اوپر کلام کر چکے ہیں مزید دونوں بھی نہایت کمزور ہیں، ایک میں نامعروف راویوں کے علاوہ عبد اللہ بن احمد ابن ربیعۃ ابن زبر ہیں جو نہایت مخدوش راوی ہیں۔ (لسان المیزان۳/۲۵۳) دوسری بھی نامعروف راویوں کی سند سے آئی ہے۔

یہ اس روایت کے ظاہری قسم کے عیوب ہیں۔ لیکن اہل نظر محدثین کے نقطۂ نظر سے اس کا اصل اور سب سے بڑا ایک اور عیب ہے، اور وہ یہ کہ فن حدیث کے تنقیدی نظام میں اگر کوئی واقعہ غیر معمولی قسم کاہو اور اس کی طرف توجہ ونظر کا ملتفت ہونا فطری ہو، پھر وہ نہایت نایاب قسم کی روایت میں آتا ہو، عام طورپر علماء وراویان حدیث اس کو روایت نہ کرتے ہوں تو محدثین اس کو نہایت مخدوش مانتے ہیں۔ یہ ایک بالکل فطری حقیقت ہے کہ اگر ایسی غیر معمولی شرائط پر کچھ علاقے فتح ہوتے تو ان کو کثیر تعداد میں راوی نقل کرتے۔ ایک طویل عرصے تک ان روایت کا چھپا رہنا جب کہ ان کے شہرت کے ساتھ منقول ہونے کے اسباب بہت تھے یہ خود ان کے بے اصل ہونے کی دلیل ہے۔ زیر نظر روایت کا یہی سب سے بڑا عیب ہے۔ یہ خلال سے پہلے کسی مصنف وجامع حدیث کے یہاں نہیں ملتی، بلکہ خلال کی کتاب احکام الملل جس کے حوالے سے یہ نقل کی گئی ہے پتہ نہیں اب موجود بھی ہے یا نہیں۔ حالانکہ اس کے مندرجات ایسے عجیب قسم کے اور اس قدر متوجہ کرنے والے ہیں کہ اس کو علماضرور نقل کرتے۔ وہ تمام محدثین ومؤرخین جنہوں نے ان فتوحات کی تاریخ لکھی مثلاً طبری، بلاذری اور واقدی وغیرہ اور وہ محدثین اور فقہا جنہوں نے اہل ذمہ کے مسائل پر قانونی دفعات مرتب کیں مثلاامام ابویوسف، ان میں سے کسی کے یہاں یہ روایت نہیں ملتی ۔ ہمیں اس کا تذکرہ عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ کے مصنف میں بھی نہیں ملتا جن میں نہایت تفصیل سے اہل ذمہ کے قانونی حقوق وذمہ داریوں پر روشنی ڈالنے والے آثار وواقعات لکھے ہیں۔ ملتا ہے تو کہاں؟ خلال کی نا معروف کتاب الجامع لاحکام الملل کے حوالے سے ابن قیم کی کتاب میں، اور خلال کے بھی زمانوں بعد تاریخ دمشق میں۔ صدیوں یہ معاہدہ اہل علم کی نظر سے اوجھل رہا۔ یہ خود اس کو آخری درجہ ضعیف ٹھیرانے والی بات ہے۔

محدثین کے یہاں کسی روایت کا یہ عیب کہ باوجود واقعے کے غیر معمولی ہونے اور نقل وروایت پر آمادہ کرنے والے اسباب کے پائے جانے کے اس کو عام طور پر نقل نہ کیا جائے اور وہ نہایت نادر یا کمزور روایتوں میں پایا جائے اور حدیث کی اہم کتابیں اس سے خالی ہوں، کسی روایت کا یہ عیب محدثین کے یہاں اس کو بے اصل اور موضوع قرار دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ہم یہاں ایک مثال کے ذریعے محدثین کے اس اصول کی وضاحت کرتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں وہ روایت نقل کی ہے جس کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ ایک مرتبہ سوتے رہ گئے اورعصر قضاہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے سورج واپس آیا اور حضرت علیؓ نے نماز عصر ادا پڑھی۔ ابن کثیر نے متعدد روایات اس سلسلے کی نقل کیں اور ان پر تنقید کی۔ اپنی بحث میں انہوں نے دو جگہ اس روایت کا یہی مذکور عیب بتایا۔ ایک مقام پر کہتے ہیں: 

’’کوئی عقل والا کیسے سوچ سکتا ہے کہ یہ اہم واقعہ حضرت علی نقل کریں اور ان کے ۔۔۔فلاں فلاں معروف شاگردوں کو اس کی ہوا نہ لگے اور دوسرے غیر معروف اس کو روایت کریں؟ پھر ائمۂ حدیث: مالک، صحاح ستہ اور معروف سنن اور صحاح وحسان اور مسانید کے مصنفین کا اس کو نقل نہ کرنا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس لیے کہ (راویوں کے بقول)یہ واقعہ علانیہ ہورہا ہے اور اس کے نقل اور روایت کیے جانے کے قوی اسباب کثرت سے موجود ہیں۔ اس کے باوجود یہ واقعہ صرف منکر اور ضعیف سندوں سے نقل ہو رہا ہے، یہ اس کے بے اصل ہونے کی بڑی دلیل ہے۔‘‘ (البدایہ والنہایۃ ۶/۹۲مختصراً)

اس سے پہلے بڑی وضاحت سے اس قاعدے کو بیان کرتے ہیں: 

ومثل ھٰذا الحدیث لا یقبل فیہ خبر واحدٍ اذا اتصل سندہ، لأنہ من باب ما تتوفر الدواعی علی نقلہ فلا بد من نقلہ بالتواتر والاستفاضۃ لا أقل من ذٰلک (البدایہ والنہایۃ ۶/۸۷)

’’یہ حدیث ایسی بات روایت کر رہی ہے جس کے نقل وروایت کیے جانے کے اسباب کثرت سے موجود ہیں، ایسے واقعات میں صحیح ومتصل خبر واحد بھی نہیں قبول کی جائیگی، اس طرح کے واقعات میں تو شہرت وتواتر ہی درکار ہے۔‘‘

اس روایت کے متن میں ہمیں کثرت سے ایسی داخلی شہادتیں ملتی ہیں جو کسی صاحب نظر مؤرخ کی نگاہ میں اس کے مشتبہ بنانے کے لیے کافی ہیں۔ مثلا یہ کہ یہ روایت بتاتی ہے کہ یہ سخت اور ذلت آمیز شرطیں خود مفتوح علاقوں کے عوام نے اپنے اوپر نافذ کی تھیں۔ بھلا کہیں مفتوح کی شرطوں پر معاہدے ہوا کرتے ہیں؟ شرطیں ہمیشہ فاتح کی طرف سے لکھی جاتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس سے پہلے حضرت عمر ہی کے زمانے میں دوسرے علاقوں میں اس سے کہیں زیادہ آسان اور سہل شرطوں پر لوگوں کو عہد اور اطاعت میں لیا گیا تھا، ہم ان معاہدوں کی بعض تفصیلات اوپر نقل کر چکے ہیں، تفصیل کا یہ موقع نہیں، ابن جریر اور ابن کثیر اور بلاذری کے یہاں یہ معاہدے ملتے ہیں اور شبلیؒ نے ان میں سے کئی الفاروق میں نقل کیے ہیں۔ تو یہ کیا ہوا تھا ان علاقے والوں کو کہ وہ اپنی طرف سے اپنے لیے سخت شرطوں کا مطالبہ کریں؟ پھر حضرت عمر جیسے عادل شخص سے یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ دوسرے علاقوں کی طرح اہل شام سے بھی انصاف کا معاملہ ہی کریں۔ اور مزید یہ کہ تاریخ شاہد ہے کہ ذمیوں کے ساتھ مسلمانوں نے کبھی یہ معاملہ نہیں کیا۔ کس تاریخ میں آتا ہے کہ مسلمانوں نے پکڑ پکڑ کر ذمیوں کے سر کے اگلے بال کاٹے؟

اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شرائط ان مشہور چیزوں میں سے ہیں جو بے اصل ہونے کے باوجود مشہور ہو جاتی ہیں۔

غیر مسلم شہریوں کے لباس کا مسئلہ:

البتہ لباس کے سلسلے میں ہم کو تاریخ وسیر اور امام ابو یوسف کی کتاب الخراج وغیرہ کتب میں متعدد حوالے اس کے ملتے ہیں کہ اہل ذمہ فلاں لباس پہنیں فلاں نہ پہنیں۔ متعدد لوگوں کو یہاں سخت دھوکا ہوا ہے کہ یہ ان کو نیچا بناکر رکھنے کی پالیسی تھی۔اللہ جزائے خیر دے شبلیؒ کو، الفاروق میں اچھی طرح اس غبار کو صاف کردیا۔ متاخرین نے غلط فہمی سے عموماً مسلمانوں اور غیر مسلم ذمیوں کے درمیان لباس کے فرق کو ذلت کے اظہار کے لئے سمجھا حالانکہ ان کو بس یہ حکم تھا کہ وہ عربوں اور مسلمانوں کا سا لباس نہ پہنیں اور اپنے قومی لباس کو نہ بدلیں۔ اس میں ذلت کا کوئی پہلو نہیں تھا۔

ہم اگر مسئلہ کو اس پہلو سے دیکھیں تو دوباتوں کا علم ہوتاہے، پہلی تو یہ کہ حکم یک طرفہ نہیں تھا۔ بلکہ اس کا منصفانہ پہلو یہ تھا کہ خود عرب مسلمانوں کو بھی غیر مسلموں اور عجمیوں کی نقالی کرنا منع تھا، رسول اللہؐ نے تو پہلے ہی اس سے روکا تھا، حضرت عمر نے بھی اپنے بعض گورنروں کو ہدایت دی کہ نگرانی رکھیں مسلمان دوسروں کی نقالی نہ کریں۔

دوسری اور اہم تر بات یہ ہے کہ ذمیون کو مسلمانوں کی لباس وہےئت میں نقالی سے روکنے کی اصل حکمت نہ ان کو ذلیل کرنا تھا اور نہ (جیسا کہ بعض اہل علم نے ماضی قریب میں سمجھا ہے) ان کی قومی خصوصیات کا تحفظ اور محکوم قوم کو احساس کمتری سے بچانا تھا۔ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی قومی خصوصیات کے تحفظ کی کیا پڑی تھی؟ بلکہ یہ ایک انتظامی اور دفاعی حکم تھا ، جس کا منشا فاتح طاقت کے اندیشے تھے۔ ایسے علاقوں میں جہاں ایک نئی قوم نے فتوحات کی ہیں اور ابھی پورے طورپر دلوں کو فتح کرنے اور ان کے درمیان اسلام پھیلنے میں فطری طورپر کچھ وقت درکار ہے، حضرت عمر نے یہ احکام جاری کئے کہ ان لوگوں کو اس سے روکا جائے کہ مسلمانوں کی سی ہےئت اختیار کریں۔ تاکہ کسی آدمی کی شناخت ہو سکے۔یہ اسی طرح کے مقاصد تھے جن کے لیے آج حکومتیں شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرتی ہیں۔ آج بھی حفاظتی اور امن عامہ کے مصالح کی خاطر مذہب ہی نہیں یہ تک درج کرواتی ہیں کہ اس کارڈ کے حامل شخص کے ماں باپ کی اصل قومیت ونسل اور مقام پیدائش کیا تھے۔ اس وقت ایسے شناختی کارڈ وں کا رواج نہیں تھا جن کے ذریعہ کسی شخص کی قومیت ومذہب کا علم ہوسکے لہٰذا یہ پابندی کہ اہل ذمہ ’’اپنالباس‘‘ ہی پہنیں، دراصل سلامتی اور سیکوریٹی کے ایسے ہی مقاصد کے لیے تھا جن کے لیے آج کی حکومتیں یہ تفصیلات شناختی کارڈوں میں درج کرواتی ہیں۔

اگر اس بے اصل روایت میں آئی ناقابل قبول باتوں او رنا معقول اضافوں سے الگ کرکے صرف معتبر روایتوں کو دیکھیں تو ان کا خلاصہ وہی نکلتا ہے جو حضرت امام ابویوسف نے اپنی کتاب الخراج میں ان الفاظ میں نقل کیاہے کہ حضرت عمر نے اپنے ان احکام کی علت وحکمت یہی قرار دی تھی کہ ’’حتی یعرف زیھم من زیّ المسلمین‘‘ (الخراج: ۱۲۷) یعنی: تاکہ ان کی ہےئت ولباس کا مسلمانوں سے امتیاز کیا جاسکے۔

اپنے قارئین کئے لئے ہم ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاددہانی مناسب سمجھتے ہیں کہ ان احکام کی حیثیت شرعی وقانونی ہرگز نہیں تھی، نہ یہ کتاب اللہ میں آئے ہیں، اور نہ رسول اللہؐ نے دیے ہیں۔ حالات کی نزاکتوں ، حفاظتی مصالح ( Security concerns)اور ریاست کے تحفظ کے مقصد سے حضرت عمرؓ کے زمانے میں نافذ کیے گئے ایک قسم کے سیاسی احکام تھے جو اپنے سیاق وسباق Context کے ساتھ ہی دیکھے جانے چاہئیں۔

جہاد کی کچھ اہم شرطیں اور قوانین

اطاعت امام 

جنگ فی نفسہ خونریزی ہے،یہ تیر وتفنگ اور سیف و سنان کا وہ کھیل ہے جس میں جوش وخروش اور غیظ و غضب سے ہی کام لیا جاتا ہے۔ ذرا انتشار اور بے احتیاطی اس کو جہاد فی سبیل اللہ سے نکال کر فساد بنا سکتی ہے، اس لیے رسول اللہؐ نے اس سلسلے میں واضح، بے ٹوک اور تاکیدی حکم دیا ہے کہ اگر مسلم حکومت موجود ہو توجہاد کے سارے فیصلے صرف اسی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اور اس کی خلاف ورزی کرنا قطعاً جائز نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں قرآن وحدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ اس سلسلے کی صرف ایک حدیث اس جگہ دی جا رہی ہے:

من اطاعنی فقد اطاع اللّٰہ ومن عصانی فقد عصی اللّٰہ۔ ومن یطع الأمیر فقد اطاعنی ومن یعص الأمیر فقد عصانی۔ وانما الامام جُنّۃ یقاتل من وراۂ ویتقی بہ۔ (صحیح بخاری۲۹۵۷ و صحیح مسلم ۱۸۴۱)

’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ جو امیرِ (جہاد) کا مطیع ہوا وہ میرا مطیع اور جو امیر کا نافرمان وہ میرا نافرمان۔ اور مسلمانوں کا حکمراں ایک سِپَر کی طرح ہے، جنگ اس کے پیچھے (تابع) رہ کرکی جائے گی اور اس کی آڑپکڑ کر کی جائے گی۔‘‘

اطاعت امیر وامام کے اس اصول کا یہ مطلب بھی ہے کہ دوران جنگ اقدامات اور کارروائیوں میں اس کی فرماں برداری اور حکم کی پابندی ضروری ہے۔ مگر اس سے بھی قبل اس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ یہ بات بھی اس کے حکم اور اجازت پر منحصر ہے کہ کس سے جنگ کی جائے اور کس سے یا کب نہ کی جائے۔ سلف کا فقہی ذخیرہ آپ پڑھ جایئے، آپ کو اس کا کوئی تصور نہیں ملے گا کہ کسی جگہ کے لوگ اپنے حکم رانوں کی اجازت کے خلاف اپنے طور پر جہاد چھیڑ دیں۔ فقہ کی مشہور کتاب المغنی میں ایک مختصر سے جملے میں اس بات کو سمیٹ دیا گیا ہے: 

وأمر الجہاد موکول الیٰ الامام (المغنی ۸/۳۴۵)

’’اور جہاد کا معاملہ مسلمانوں کے حکمراں کی رائے پر منحصر ہے۔‘‘

موجودہ زمانے میں اس اصول کی رہنمائی:

اس لیے یہ بات بالکل قطعی ہے کہ جہاں مسلمانوں کی کوئی حکومت موجود ہے وہاں اس کے جھنڈے تلے ہی جہاد ہو سکتا ہے۔ جو لوگ اس حکومت کے تحت ریاست کے شہری ہیں وہ اس کی طرف سے مامور و مجاز ہوئے بغیر جنگ نہیں کر سکتے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کا ملک تو دوسرے ملکوں سے صلح اور معاہدے کیے ہوئے ہو اور یہ اس کے معاہدے کو توڑتے ہوئے کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ ہاں یہ اگر اپنے ملکوں کی شہریت چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں اور کسی منظم ریاست کے شہری نہ رہیں، یا اپنی الگ ریاست بنا لیں تو ان کو اپنے بارے میں فیصلے کرنے کی آزادی ہوگی۔ ایسے مسلمانوں کی ایک مثال عہد نبوی میں پائی گئی تھی۔ یہ ایک گروہ تھا جس کے قائد حضرت ابو بصیرؓ تھے، جن کا واقعہ آگے آرہا ہے۔

حکومت کے معاہدوں کی پابندی تمام شہریوں پر لازمی ہے:

لیکن جب تک وہ کسی مسلم ریاست کے شہری ہیں اوراس میں قیام پذیر ہیں ، یا اس کے شہری کی حیثیت سے ہی کسی دوسرے ملک میں داخل ہوئے ہیں وہ امن یا جنگ کے کسی فیصلے کے سلسلے میں خود مختار نہیں ۔ ان کو لازماً ہر حال میں اپنے ملکوں کی حکومتوں کے معاہدوں کی پابندی کرنی ہوگی ۔ یہ اللہ ورسول کا قطعی حکم ہے ، کسی کے اس کو نظر انداز کر دینے سے اس کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر کوئی پر جوش مسلم نوجوان یا کوئی گروہ کسی ایسے غیر مسلم ملک کے شہریوں کے جان ومال کے لئے خطرہ بنتا ہے جس سے اس کے ملک کے سفارتی تعلقات اور معاہدۂ امن ہے تو اس کا یہ فعل یقیناًغیر شرعی ہوگا، چاہے اس کو کتنی ہی اچھی نیت سے کیا گیا ہو ۔ 

ماضی قریب میں اہانت رسول کی بدبختانہ اور قابل لعنت حرکتوں کے بعدجن طالع آزما لوگوں نے کسی کے قتل کی اپیل کی، یا بعض مخلص مسلمانوں نے کسی جرأت مند مسلم نوجوان کی اس طرح کی حرکتوں کی تحسین کی، انہوں نے شرعی اصولوں کو نظر انداز کیا۔ جب تک کسی ملک سے ہماری حکومت کا معاہدۂ امن ہے اس وقت تک اس کے کسی شہری کو نقصان پہنچانا ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں۔ چاہے ہم کو اس ملک سے کیسی ہی شکایت ہو۔ اس کا راستہ صرف ایک ہے ، اور وہ یہ کہ حکومتی سطح پر معاہدے کے خاتمے کا اعلان کردیا جائے۔

اسی طرح جو لو گ کسی غیر مسلم ملک کے پیدائشی شہری ہیں یا وہاں کی شہریت انہوں نے لے لی ہے ، انہوں نے اپنے لئے اُس ریاست کا حصہ بننے کا معاہدہ کیا ہے۔ اسی طرح اس کے شہریوں کے ساتھ ہم وطنی اختیار کر کے ان سب کو ایک عام امان دینے اور ہر ایک کے جان و مال کے تحفظ کا اقرار و عہد کیا ہے۔ اب اگر وہ غیر مسلم ملک کسی مسلم ملک پرحملہ آور ہوتا ہے تو وہ اُس کو اِس ظلم سے باز رکھنے کی اپنے وطنی وشہری حق کی بنا پر ہر کوشش تو ضرور کریں گے ، اور یہ ان کا ایمانی فریضہ ہو گا۔ لیکن مسلح مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ الا یہ کہ وہ اس کی شہریت ترک کردیں اور یہ معاہدہ ختم کر دینے کا اعلان کر دیں ۔ عام شہریوں کو تو جنگ کی حالت میں بھی نقصان پہنچانا اسلام نے حرام قرار دیا ہے ، ’’ہم وطنی‘‘ کے مضبوط معاہدے کے بعد تو اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔

نوجوان خون مسلم کے بے دردی سے بہائے جانے پر مضطرب اور مشتعل ہیں اور قربانیوں کے لئے تیار ہوکر اٹھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں، کیا شبہ ان کا یہ جذبہ لائق صد رشک، اور اسی جذبے سے امید بندھتی ہے کہ اگر اس کو صحیح رخ دے کر شرعی اصولوں کے مطابق استعمال کیا جائے تو یہ امت کی تعمیر نو اور اس کو قعر مذلت سے نکال سکے گا، مگر اللہ نے ہم کو جس شریعت کا پابند بنایا ہے اس کا مقصد اسلام کی عزت اور دنیا میں خیر کا فروغ ہی ہے ، ہم اس کی خلاف ورزی کر کے اپنے مقصد کو نہ خود پاسکتے ہیں اور نہ اللہ کی مدد حاصل کر نے کے قابل بن سکتے ہیں۔ اور اس شریعت نے ہم پر معاہدوں کی پابندی لازم کی ہے۔

جہادی تنظیموں کا مسئلہ؟

گذشتہ دو دہائیوں سے یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصے کے دوران ہمارے بہت سے لوگوں سے ’’اسلامی جہاد‘‘ کی عملی تطبیق میں بڑی چوکیں ہو ئی ہیں ، اس وقت تو ماحول کے مطالبے اور سازگاری کے تحت ان غلطیوں کی طرف دھیان نہیں گیا، مگر بعد میں ان غلطیوں کے نتائج دیکھ کر اور حالات کے بعض اندرونی پہلوؤں کے آخر کار کھل جانے کے بعد اب ان پر تنبّہ ہو رہا ہے ۔ ان میں سے ہی ایک بڑی چوک تھی مسلم ملکوں کی حکومتوں کے ہوتے ہوئے آزاد جہادی تنظیموں اور گروپوں کا قیام ۔ یہ ایک طویل تاریخ پر بکھری ہوئی کہانی ہے۔ (اس موضوع پر ایک فرنچ رائٹر Gilles Kepel کی ترتیب دی ہوئی ایک بڑی ضخیم اور جامع کتاب آئی ہے،" "JIHAD کے نام سے اس کا انگریزی ترجمہ موجود ہے، کتاب اس قابل ہے کہ ہر اس شخص کی نظر سے گذرے جو موجودہ دور میں مسلمانوں کی نشأۃ ثانیہ کے لیے کچھ سوچتا ہو،کاش کوئی اردو میں ترجمہ کردیتا۔)

اس وقت جن بین الاقوامی طاقتوں کو ان جہادی تنظیموں سے مدد ملتی تھی ان کو تو اس کی کوئی فکر ہونی ہی نہیں تھی کہ کل جب افغانستان، بوسنیا ، الجزائر وغیر ہ میں مطلوبہ اہداف حاصل ہوجائیں گے، یا نہیں ہوں گے اور مہمیں ختم ہوں گی ، تو کیسے بھیانک مسائل سامنے آئیں گے۔ اس لئے کہ جو کچھ ہونا تھا اس کا سامنا ایشیا کے مسلم ملکوں یا زیادہ سے زیادہ ان کے پڑوسیوں کو کرنا تھا ۔

مگر افسوس کہ یہ فکر مسلم ممالک کی حکومتوں کو او ر ان کے اہل حَلّ وعقد کو بھی نہیں ہوئی، اور ان جہادی سرگر میوں کو مصر و شام، یمن و سعودی عرب اور پاکستان وغیرہ میں جن دینی نمائندوں کی سرپرستی اور سرگرم تعاون حاصل تھا انہوں نے بھی نہ مستقبل کی فکر فرمائی اور نہ اس کے بارے میں سوچا کہ ایک منظم مسلم ملک میں خطرناک ومفسد بین الاقوامی ایجنسیوں کے تعاون ہی نہیں، بلکہ عمل دخل سے جو آزاد اور بڑی حد تک خود مختار جہادی تنظیمیں اور تحریکیں قائم ہو رہی ہیں ، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ جنگ کی کمان مختلف خود مختار ہاتھوں میں دینا عقلاً و شرعاً درست ہے؟

زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں،اس مسئلہ کی نزاکت ہر وہ درمند اور صاحب عقل سمجھ سکتا ہے جو اس کھلی حقیقت سے بے خبرنہ ہو کہ مسلم اور غیرمسلم ملکوں کی حکومتیں عموماً اور اکثر و بیشتر جس قسم کے عناصر کے ہاتھ میں رہتی ہیں،اور حکومتی ایجنسیاں جس قسم، ،جس قماش اور دینی وایمانی اعتبارسے جیسی سیرت و نظریات کے حامل لوگوں کے ہاتھ میں رہتی ہیں کیا ان لوگوں کی زیر نگرانی اور تعاون سے قائم تنظیمیں وہ مقاصد حاصل کر سکتی ہیں جو جہاد کے مقاصد ہیں ؟

افسوس ہماری نادانی اس حد تک پہونچی ہوئی ہے کہ ہم گرگ سے گلہ بانی کی توقع کر لیتے ہیں۔

انبیاء ؑ کی ایک اہم سنت:

مسلمانوں نے جب تک ایک باقاعدہ اور منظم حکومت قائم نہیں کر لی اس وقت تک رسول اللہؐ کو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد مسلمانوں کو جب جنگ کا حکم دیا گیا تو اس کو پورے طور پر ایک نظام امارت اور حکم راں کے تابع رکھا گیا۔ پچھلے انبیاء کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ انہوں نے باقاعدہ جنگ اسی وقت کی جب ایک منظم امارت قائم ہو گئی۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں اور اس کے بعد کی تاریخ پر غور کیجئے یہی اصول کار فرما نظر آئے گا۔ 

حضرت موسیٰ و ہارون کے زمانے میں مصر کی حکومت نے بنی اسرائیل کو کس قدر ظلم کا نشانہ بنایا، وہاں جنگ نہیں کی گئی۔ پھر انہوں نے ہجرت کی، اور اس طرح بنی اسرائیل کی ایک آزاد اجتماعیت اور امارت قائم ہوئی پھر ان کو اپنے خطے میں جہاد کا حکم ہوا۔

اس کے بعد جب بنی اسرائیل پر شدید زوال آیا، اور وہ دوسروں کے محکوم ومقہور ہوے تو ان کو اپنے علاقوں سے تتر بتر ہو کر اس طرح بھاگنا پڑا تھا کہ ان کی اجتماعیت ہی فنا ہو گئی تھی، ان کے بچے کہیں رہ گئے اور وہ کہیں اور بھاگے، قرآن بتاتا ہے کہ اس وقت قوم کے کچھ لیڈر اپنے وقت کے نبی (حضرت سموئیل ؑ ) کے پاس اپنی یہ رائے پیش کرنے کے لیے آئے کہ دشمنوں کے خلاف ہم کو باقاعدہ جنگ کرنی چاہئے۔ ا س وقت انہوں نے اپنے نبی سے یہ درخواست نہیں کی کہ لوگوں کو جمع کر کے یا فوج بنا کر بس جنگ شروع کر دی جائے آپ جہاد کے انتظامات کا حکم فرمائیں۔ اس کے بجائے انہوں نے وقت کے نبی سے جنگ کے انتظام کے لیے یہی درخواست کی تھی کہ ہمارا ایک باقاعدہ ’’حاکم‘‘ (ملِک) مقرر فرما دیں جس کے زیر حکومت ہم اللہ کے راستہ میں قتال کریں، اور اپنے شہروں کو آزاد کرائیں۔

پھر آگے قران نے قصہ نقل کیا ہے کہ وہ نبی ایسا کرنے کو ابتداءً تیار نہیں ہوئے۔ ۔۔۔کوئی حیرت کر سکتا ہے کہ اللہ کا نبی اور ایک ایسی صورتحال میں جس میں وقت کے مسلمان اپنے علاقوں سے بھگا ئے جا چکے ہیں، ان کے بچے کہیں رہ گئے اور وہ کہیں اور بھاگے، اُن مسلمانوں کے قبلے تک پر بدترین قسم کے ظالم کافروں کا قبضہ ہو چکا ہے، اور مسلمانوں کے لیڈراِس نبی کے پاس یہ در خواست لے کر آئے ہیں کہ حضور جہاد کے انتظامات فرمایئے ہم خدام تعاون کو حاضر ہیں، اور وہ (نبی علیہ الصلاۃ والسلام )کچھ تذبذب کرتا ہے؟ جی ہاں قرآن بتلاتا ہے کہ وہ نبی تذبذب کرتا ہے۔ اس لیے کہ اس کو اپنی قوم پہ اعتماد نہیں تھا کہ جب وقت آئے گا تو وہ ثابت قدم رہیں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ مگر جب ان قومی زعماء نے اعتماد دلایا کہ ہم ضرور جنگ کریں گے، ہمارے گھر اجاڑے گئے، بچے کہیں، اور ہم کہیں، اب مزید کس چیز کا انتظار ہے جس کے بعد ہم جہاد کو کھڑے ہوں؟تو اللہ کے اس نبی نے جنگ کے ضروری انتظام کے طور پر ایک ’’بادشاہ‘‘ مقرر کیا اور اس بادشاہ کی حکومت کے تحت ہی جہاد کیا گیا، اور اللہ کی مدد سے فتح بھی ہوئی۔ (سورۂ بقرہ آیت ۲۴۶ تا ۲۵۳)

بغیر حکومت کے جہاد کی صورت:

اہل علم کے نزدیک اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کسی مسلم ملک پر کوئی غیر مسلم طاقت ظلماً حملہ آور ہو اور حکومت کو بے دخل کردے تو عام مسلمان اس کے خلاف جہاد کے مجاز نہیں ہوں گے۔ آج کل کے زمانے میں اس کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ کوئی بڑی ہوائی طاقت بم باری کر کے مسلم ممالک کی حکومت اور اس کے اساطین کو ہلاک کر دے اور اعلانِ قبضہ کردے۔ جیسے ہی مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت ختم ہوگی سارے لوگوں پر ہتھیار ڈال دینا ضروری ہو جائے گا۔ شریعت اسلام کی حفاظت کے لیے ہے ، اس کو ضائع کرنے کے لیے نہیں۔

علماء کہتے ہیں کہ :

فان عُدم الامام لم یوخَّر الجہاد لان مصلحتہ تفوت بتا خیرہ (المغنی ۸/۳۵۳)

’’ اگر کسی جگہ حکومت ہی نہ ہو تو مسلمان جہاد کو مؤخر نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ دیر کرنے سے جہاد کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔‘‘

یعنی اگر کوئی ظالم طاقت مسلمانوں کے ملک پر ظالمانہ حملہ کرے ، اور مسلمانوں کی حکومت تحلیل ہو جائے تو چوں کہ کوئی مسلم حکومت نہیں ہے اسی لئے عام مسلمان اپنے جان و مال اور ملک ووطن کا دفاع کریں گے،اور کب تک وہ مزاحمت کریں گے اس کا فیصلہ حالات پر اور ان کے اہل حل و عقد پر ہوگا۔

جہاں کوئی منظم حکومت نہ ہو وہاں کے افراد فیصلہ کر نے کے لئے آزاد ہوں گے۔ اس کی ایک نظیر ہم کو عہد رسالت میں ملتی ہے۔ کچھ مجبور ومظلوم مسلمان اہل مکہ کے مظالم کی زنجیروں میں قید تھے ، نہ بھاگنے کا موقع تھا نہ عافیت کے ساتھ مکہ میں رہنے کا ۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب مکے والوں نے رسول اللہؐ سے یہ معاہدہ لے لیا تھا کہ مکے سے کوئی مسلمان اگر مدینہ جائے گا تو واپس کرنا ضروری ہوگا۔ ابو بصیر نامی ایک مظلوم مسلمان مدینہ بھاگ کر آیا، پیچھے سے اس کو واپس لینے مکے کے دو آدمی پہنچے۔ معاملہ معاہدے کا تھا، آپؐ نے دل پر پتھر رکھ کر ان کو واپس کر دیا۔ راستے میں ابوبصیر نے ان میں سے ایک کی تلوار لے کر اس کا سرقلم کر دیا۔ دوسرے نے بھاگنے میں عافیت جانی، اب ابو بصیر اور ایسے ہی کچھ اور لوگوں نے بھاگ کر ایک غیرآباد علاقے میں (جو مدینہ کی مسلم ریاست کی قلم رو سے باہر تھا) آکر ڈیرہ ڈال لیا، حضرت ابوبصیرؓ ان کے لیڈر تھے۔ ان لوگوں نے مکے کے تجارتی قافلوں پر حملے شروع کر دئے۔ ( بخاری ۲۷۳۱) لیکن چوں کہ یہ مدینہ کی ریاست سے باہر رہتے تھے اس لئے سیاسی طور پر رسول اللہ ؐ اور مدینہ کی ریاست پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں مانی جاسکتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ان کارروائیوں سے منع نہیں کیا ، حالانکہ بحیثیت حاکم نہ سہی بحیثیت نبی ورسول آپؐ کی ذمہ داری تھی کہ ہر غلط کام سے اپنے اوپر ایمان لانے والوں کو روکیں ، اور اس کے غیر شرعی ہونے کی وضاحت فرمائیں۔

بعض ان لوگوں نے جن کو افغانستان اور عراق میں امریکی حملوں کے خلاف مجاہدین کی مزاحمت کو غیر شرعی قرار دینا تھا یہ کہا ہے کہ حکومت کے بغیر قتال وجنگ قطعاً غیر اسلامی تصور ہے۔ ان میں ایک صاحب نے تو ببانگ دہل دہشت گردی کی تعریف ہی یہ فرما دی ہے کہ بنا حکومت کے ہتھیار اٹھانا دہشت گردی ہے۔ اور یہ بھی دعویٰ فرما دیا ہے کہ میں دنیا میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے دہشت گردی کی معین تعریف کی ہے۔ ان لوگوں کے خلاف یہ واقعہ اپنی اسی حیثیت سے دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیرؓ کو اس سے منع نہیں کیا۔ حال آں کہ بطور حاکم نہ سہی، بطور رسول تو آپؐ ان کے عمل کی غلطی کو واضح کرنے کے ذمے دار تھے ہی۔

معاہدات کی پابندی

وفائے عہد( یعنی جو معاہدہ کیا جائے پورا کیا جائے) اسلامی اخلاقیات کی ایک نہایت بنیادی تعلیم ہے ، قرآن مجید میں اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے ایک جگہ ارشاد ہے:

وَأَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْؤُولا (بنی اسرائیل: ۳۴)

اور پورا کرو معاہدہ کو ۔ ( اللہ کے یہاں) معاہدے کے بارے میں ضرور سوال ہوگا۔

ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا :

لا ایمان لمن لا امانۃ لہ، ولا دین لمن لا عھد لہ (صحیح ابن حبان ۱/۴۲۲ مسند احمد ۱۶۷۸، صحیح ابن خزیمہ ۴/۵۱)

’’اس کا ایمان نہیں جو امانت دار نہیں، اور اس کا دین نہیں جو معاہدے توڑے۔‘‘

کتاب وسنت کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ و رسول کی نظر میں سب سے زیادہ قابل احترام عہد وہ سیاسی عہد ہوتا ہے جو دومملکتوں کے درمیان یا فرد وحکومت کے درمیان امن و جنگ اور جان و مال کی سلامتی سے متعلق ہوتا ہے ۔ اسلام کا قانون جنگ ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘ کا قانون ہے ، اس میں وفائے عہد کی صرف تعلیم وتلقین ہی نہیں، بلکہ بد عہدی پر جہنم اور اللہ کے عذاب کی وعیدیں آئی ہیں۔ رسول اللہ ؐ نے اسی طرح کے معاہدے کا پاس نہ کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا :

اذا جمع اللہ الاولین والآخرین یوم القیامۃ یرفع لکل غادر لواء ، فیقال ہذہٖ غدرۃ فلان بن فلان (صحیح بخاری، ۶۱۷۷ وصحیح مسلم، ۱۷۳۵)

’’قیامت کے دن جب ساری انسانیت اللہ کے یہاں جمع ہوگی ، اس دن ہر عہد توڑنے والے کے ہاتھ میں غداری کا جھنڈا دے دیا جائے گا ،اس پے لکھا ہوگا یہ فلان بن فلاں غدار ہے۔‘‘

مسلمانوں کا مقصد صرف فتحیابی نہیں ہے، وہ جن اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے علم بردار ہیں اگر وہی اصول جنگ کی اندھیر نگری میں کھو جائیں تو پھر مسلمانوں کے پاس بچے گا کیا؟ پھر دعوت دین کا بیج کس زمین میں بویا جائے گا؟ اور اللہ کی حجت کہاں قائم ہوگی؟ جس کی جنگ کا اصل مقصد انسانوں کی ہدایت اور اسلام کی نشرو اشاعت ہے، اور جو نہایت سوز وہمدردی کے ساتھ بنی نوع انسان کو اللہ کے ابدی عذاب سے بچانے اور دنیا وآخرت کی سعادتوں سے ان کو ہم کنار کرنے کے لیے اپنی جان اور مال کو سستا کیے ہوئے ہے، وہ کسی قیمت پر یہ برداشت نہیں کرے گا کہ اس کی دعوت داغ دار ہو یا لوگ اس کو اخلاقی اصولوں سے عاری سمجھیں۔ وہ ہر قیمت پر دنیا کے سامنے اپنی اخلاقی برتری کا ثبوت پیش کرے گا۔ ہاں جس کا مقصد قومی فتح یابیاں ہوں یا جو نخوت قومی کے لئے لڑتا ہو وہ شوق سے جو چاہے کرے، اس کو ہر کردنی ونا کردنی زیبا۔ مگر جو اللہ کے کلمہ کے لئے لڑتا ہے، اس کے دین کے لیے جھکتا اور اٹھتا ہے، اور اس کا مقصد اس کی بندگی و خود سپردگی ہے وہ اپنے آپ کو عین میدان کارزار میں بھی پابندِ حکم پاتا ہے ۔ اور یہی جہاد فی سبیل اللہ کا حسن ہے۔

اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ طے ہے کہ بدعہدی میں چاہے فائدہ ہو اور وفائے عہد میں چاہے نقصان، ان کو معاہدے کی پابندی ہی کرنی ہے۔

دین عہد و وفا، نہ کہ غدر و دغا:

قرآن مجید میں جنگ کے حالات کے لیے جو نصیحتیں اور تعلیمات آئی ہیں ان میں ہم کو عہد کی پابندی کی تاکیدی تعلیم بار بار ملتی ہے۔ اسلام کی نظر میں معاہدے کا کیا مقام ہے اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ وہ مشرکینِ مکہ جن سے بڑا نہ اسلام کا کوئی مخالف ہوا ہوگا اور نہ رسول اللہؐ اور صحابۂ کرام کو کسی کے ہاتھوں اتنا نقصان پہنچا ہوگا، ان کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ ان کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی بہر حال پوری پوری پابندی کی جائے۔ سورۂ توبہ جو مشرکین عرب پر اللہ کے شدید غضب کا اعلان کرتی اور مسلمانوں کے یہ حکم دیتی ہے کہ ان کو الٹی میٹم دے دیا جائے کہ ان کو بس چار مہینے کی مہلت ہے، یہ یا تو اسلام قبول کرلیں، ورنہ جزیرۃ العرب کی خاص پوزیشن یہ ہے کہ اس میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان چار مہینوں کے بعد ان میں سے جو جہاں ملے مارا جائے، پکڑا جائے، اور ان کے شکار کے لیے جگہ جگہ گھات لگاکر بیٹھا جائے: 

فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدتُّمُوہُمْ وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ وَاقْعُدُواْ لَہُمْ کُلَّ مَرْصَد۔ (التوبہ: ۵)

یہ سورت مشرکین عرب کے سلسلے میں غضبناک اعلان جنگ ہے، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی سابقہ سراپا ظلم وعہد شکنی کی تاریخ کے بعد تمہارے لیے کوئی گنجائش نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نرمی کا برتاؤ کرو، یا آئندہ ان سے معاہدے کے بارے میں سوچو۔ اب نرمی کی ساری گنجائشیں ختم، تم کو حکم ہے کہ اب تمہاری تلوار چلے اور رشتہ یا تعلق نام کی کوئی چیز اس کو روکنے والی نہ ہونی چاہیے۔ مگر اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ ہاں! معاہدہ اگر روکے تو تھم جانا۔

مشرکین کے شرک کے باوجود اور سراپا ظلم ودشمنی کی تاریخ کے باوجود معاہدے کی پابندی ضروری ہے۔ جن سے تمہارا معاہدہ ہے اگر وہ خود عہد شکنی نہ کریں تو تم ٹھیک ٹھیک معاہدے کی پابندی کرو۔ یہی عین تقویٰ ہے۔

کَیْْفَ یَکُونُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِندَ اللّہِ وَعِندَ رَسُولِہِ إِلاَّ الَّذِیْنَ عَاہَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُواْ لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُواْ لَہُمْ إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (التوبہ: ۷)

’’مشرکین کا اب اللہ اور رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہاں جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا تھا مسجد حرام کے پاس، وہ اگر معاہدے کی پابندی کریں تو تم بھی کرو۔ اللہ تقوے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

آیات کا اصل مضمون مشرکین کے ساتھ سختی برتنے کا حکم ہے، یہیں سے بات شروع ہوئی کہ ان کے ساتھ اب کسی معاہدے کا کیا امکان؟ ابھی یہ بات پوری نہیں ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں آگے مزید یہ کہنا تھا کہ ان مشرکین کے ساتھ اب معاہدہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ان کے دلوں میں دشمنی کی آگ دہک رہی ہے۔ بس چلے تو یہ تم پر بری طرح ٹوٹ پڑیں، نہ رشتہ ان کو روکے اور نہ معاہدہ۔ یہ بد دین، دنیا پرست، مکار، فاسق اور ظلم وجارحیت کے مرتکب رہے ہیں۔

کَیْْفَ وَإِن یَظْہَرُوا عَلَیْْکُمْ لاَ یَرْقُبُواْ فِیْکُمْ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّۃً یُرْضُونَکُم بِأَفْوَاہِہِمْ وَتَأْبَی قُلُوبُہُمْ وَأَکْثَرُہُمْ فَاسِقُونَ، اشْتَرَوْاْ بِآیَاتِ اللّہِ ثَمَناً قَلِیْلاً فَصَدُّواْ عَن سَبِیْلِہِ إِنَّہُمْ سَاءَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ، لاَ یَرْقُبُونَ فِیْ مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّۃً وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُعْتَدُون (آیت:۸،۹،۱۰)

ابھی آگے یہ سب کچھ کہنا تھا، اور مسلمانوں کو برافروختہ کرکے ان سے جنگ کروانی تھی، مگر ایسے موقعے پر اور ایسے دشمنوں کے بارے میں اور ایسے غضبناک کلام کے وقت بھی۔۔۔ بیچ میں ہی بات روک کر تنبیہ کی گئی کہ’’ہاں جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا تھا مسجد حرام کے پاس، وہ اگر معاہدے کی پابندی کریں تو تم بھی کرو۔ اللہ تقوے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اگر معاہدے کی پابندی میں کوتاہی ہوئی تو نہ تم تقوے والے رہوگے اور نہ اللہ کی محبت کے سزاوار۔ 

ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ شان دار ہدایات برحق ہیں۔ اللہ اکبر۔

ہم کو اس تعلیم کا جو عملی نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت میں ملتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کے موقع پر بھی اسلام کی نظر میں معاہدے کی کیا قیمت ہے ۔ جنگ بدر میں مکہ والوں کی تعداد مسلمانوں سے تین گنا زائد تھی ، ایسے میں ایک ایک آدمی کی اہمیت بہت تھی ، حضرت حذیفہ بن الیمان اور ان کے والد حسیل مسلمانوں کے لشکر میں جا ملنے کے ارادے سے آرہے تھے کہ مشرکین کے ہتھّے چڑھ گئے ، انہوں نے ان کو یہ عہد لے کر ہی چھوڑ ا کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شرکت نہیں کریں گے ۔ یہ دونوں حضرات چھوٹ کر بدر کے میدان میں آں حضرت ؐ سے ملے اور پورا واقعہ سنایا، آپؐ نے فرمایا:

انصرفا، نفی لہم بعہدہم ونستعین اللہ علیہم (صحیح مسلم، ۱۷۸۷)

’’واپس جاؤ ، ہم عہد کی پابندی کریں گے اور اللہ سے مدد مانگیں گے۔‘‘

اگر مسلمانوں کی حکومت کا کسی غیر مسلم حکومت سے معاہدہ ہو، اور ایسے آثار نظر آنے لگیں کہ فریق ثانی اچانک دھوکہ دے کر حملہ کر دے گا، تب بھی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ صرف اندیشے پر کارروائی نہ کر دیں، بلکہ حکم ہے کہ معاہدہ کے خاتمے کا اعلان اس طرح کرو کہ تم نے اس وقت تک ان کے خلاف حملے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ کی ہو۔ قرآن کی آیت ’’وامّا تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیہم علیٰ سواء‘‘ میں اسی کا حکم ہے۔

اس سلسلے کا ایک دلچسپ واقعہ سنیے: حضرت امیر معاویہؓ کے زمانے میں روم سے جھڑپیں چلا کرتی تھی، ایک مرتبہ ان کاحکومت روم سے ایک خاص مدت تک کا ناجنگ معاہدہ تھا، انہوں نے معاہدے کے ختم ہونے سے پہلے ہی اس حساب سے فوجوں کو لے کر سرحد کی جانب پیش قدمی شروع کر دی کہ جیسے ہی مدت ختم ہوگی اچانک حملہ کر دیں گے ،دشمن تیار بھی نہیں ہوگا۔ ابھی پیش قدمی جاری تھی، اور فوجیں تیزگامی سے منزلیں طے کر رہی تھیں، کہ ایک گھوڑ سوار غبار اڑاتا ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر، وفاء لاغدر‘‘ (وفاداری کرو، غداری نہیں) کی آواز لگاتا چلا آ رہا ہے۔ دیکھا تو یہ صحابی رسول حضرت عمرو بن عنبسہؓ تھے۔ انہوں نے آکر حضرت معاویہ سے کہا: غضب ہے غضب ! یہ کیا ہورہا ہے؟ میں نے رسول اللہؐ سے سنا ہے کہ جس کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہو وہ اس میں کوئی تغیر و تبدیلی نہ کرے (اور کسی قسم کا اقدام نہ کرے ’’فلا یحل عقدۃ ولا یشدھا‘‘)، یہاں تک کہ اس کی مدت گذر جائے۔ حضرت امیرؓ نے یہ حدیث سنی اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔۔ رضی اللہ عنہم۔ (مسند احمد، حدیث نمبر ۱۶۵۵۷۔ سنن ترمذی، حدیث نمبر، ۱۵۹۰)

دین میں بین الاقوامی معاہدات کا مقام:

اسلامی تعلیمات میں دینی اخوت اور دین کے سلسلے میں مسلمان بھائیوں کی مدد کا جو غیر معمولی مقام ہے وہ ہر اس شخص کو معلوم ہے جس نے کچھ بھی دینی تعلیم یا دینی ماحول سے استفادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بڑی مہمیز کر نے والی آیت اس مضمون کے شروع میں گذر چکی ہے، جس میں آزادی اور جنگ کی استطاعت رکھنے والے مسلمانوں میں حمیت و غیرت پیدا کرنے کے لیے مکہ کے دبے کچلے مسلمانوں کی آہ وزاریوں اور عورتوں اور بچوں کے نالہ وشیون کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ وہ بے چارے رات دن دعا کر رہے ہیں کہ اللہ کسی نجات دہندہ کو بھیجے جواُنہیں اِن ظالموں کے چنگل سے آزاد کرائے۔ کیا یہ دل فگار نالے بھی تم میں قتال کے لیے جوش پید انہیں کرتے؟ آؤ اب ان کی مدد کے لیے جہاد کرو۔

وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْرا (النساء: ۷۵)

مظلوم مسلمانوں کی مدد قرآن کی نظر میں اتنی ضروری ہے۔ اس کے باوجود قرآن صاف کہتا ہے کہ اگر کسی ایسی غیر مسلم ریاست میں جس کے ساتھ تمہاری ریاست کا معاہدہ ہے کچھ مسلمان بھائیوں پر ظلم ہورہا ہے ، اور ان کا دین آزمائش میں ہے ، وہ تم کو مدد کے لئے بلاتے ہیں تو تم ان کی مدد نہیں کر سکتے ۔ تمہیں معاہدے کا پاس رکھنا ہے۔ مدد کرنی ہے تو پہلے معاہدہ ختم کرو۔

آیت مع ترجمے کے ذیل میں ہے:

وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یُہَاجِرُواْ مَا لَکُم مِّن وَلاَیَتِہِم مِّن شَیْْءٍ حَتَّی یُہَاجِرُواْ وَإِنِ اسْتَنصَرُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ فَعَلَیْْکُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَی قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُم مِّیْثَاق (الانفال: ۷۲)

’’جو لوگ ایمان لائے مگر ہجرت کر کے ( تمہاری ریاست کے شہری نہیں بنے) تو تم پر ان کی ’’ولایت ‘‘(حمایت ومدد) والے رشتے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ الا یہ کہ وہ ہجرت کر کے تمہارے ملک آجائیں ، ہاں اگر وہ دین کے سلسلے میں (ظلم کے شکار ہوں اور ) تم کو مدد کے لئے پکاریں تو تم پر مدد کرنے کی ذمہ داری ہے۔ مگر کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے جو تم کر رہے ہو۔‘‘

یہ ہے اسلامی اصولوں کے ساتھ جہاد۔

جہاد کے بارے میں ہمیں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جہادی تعلیم اسلام کا وہ باب ہے جو اس کی حقانیت کی روشن دلیلوں میں سے ہے۔ ایک طرف انسانیت کی ایک شدید ضرورت کو پورا کرنے کے مقصد کی بلندی ہے۔ دوسری طرف اللہ کی رضا کی نیت کی پاکیزگی ہے۔ اور تیسری طرف مجاہدانہ اخلاقیات کا حسنِ جہاں آرا وجہاں زیب۔ نورٌ علی نور۔

یہ جہاد دنیا کو زیبائش وآرائش بخشنے کے لیے ہی فرض کیا گیا ہے۔ اس کو کیا نسبت اس فساد و فتنہ اور غدرو دغا سے جس پر مغربی تہذیب کے زیر سایہ موجودہ بین الاقوامی سیاست کا نظام قائم ہے۔ ایک ریاست دوسری ریاست سے معاہدوں میں ہاتھ بھی ڈالتی ہے، سفارتی تعلقات بھی قائم کرتی ہے اور پھر اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ قتل و خونریزی کے واقعات بھی کراتی ہے۔ انسانیت کو مغربی تہذیب نے جو الم ناک ’’تحفے‘‘ دیے ہیں ان میں یہ خفیہ ایجنسیوں کا نظام بھی ہے۔ 

مگر اس وقت کچھ ناسمجھ مسلم نوجوانوں کو جہاد کے نام پر معاہدات کی پامالی کا سبق دینے لگے ہیں، یہ ان میں ایسا اشتعال پیدا کرتے ہیں کہ شریعت تو ٹوٹتی ہے ہی، اللہ کے حدود تو پامال ہوتے ہیں ہی، ساتھ ہی اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ یہ نادان اسلام کے دوست نہیں، اور ان میں سے بہت سوں کو تو اسلام دشمنوں نے خوب کام کی چیز سمجھ کر پالاپوسا اور استعمال بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ کی دو شخصیتوں ابوحمزہ المصری اور عمر البکری کا تذکرہ تو ہمارے الفرقان کے صفحات میں بار بار آچکا ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں نوجوانوں کو اشتعال دلانے کا کام عین برطانوی ’’حمایت وحفاظت‘‘ میں خوب کیا۔ 

معاصر دنیا میں معاہدے کی بعض شکلیں:

ایسوں کی نادانیوں ہی کی وجہ سے کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ جو شخص کسی غیر مسلم ملک میں اس کا ویزا لے کر جاتا ہے تو وہ جس وقت ویزا اپلائی کرتا ہے اس وقت ہی وہ وہاں کی حکومت سے معاہدہ کرتا ہے کہ کسی کی جان ومال کے لیے خطرہ نہیں بنے گا، اور قانون کی پابندی کرے گا۔ پھر دوران سفر نہ جانے کتنی مرتبہ وہ تحریری طور پر یہ اطمینان دلاتا ہے۔ اب اس کے نزدیک وہ کیسی ہی اسلام دشمن اور ظالم ریاست کیوں نہ ہو اس کے لیے وہاں کے شہریوں کا مال وجان محترم ہیں۔ اس لیے کہ اس نے جانتے بوجھتے معاہدہ کر کے اپنی طرف سے اطمینان دلایا ہے۔ اس کے لیے اس کا کوئی جواز نہیں کہ وہ اسلام کے مقدس نام پر ’’غدر‘‘ اور ’’نقض عہد‘‘ کا ارتکاب کرے۔ اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے (چاہے نیک نیت سے ہی کرتا ہے) تو وہ گناہ ہی کرتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

من امن رجلاً علی نفسہ فقتلہ أُعطی لواء الغدر یوم القیامہ (مسند أحمد ۲۱۴۴۱)

’’جس نے کسی کو اپنی طرف سے محفوظ ہونے کا اطمینان دلایا اور پھر قتل کر دیا، اس کو قیامت میں (ذلیل کرنے کے لیے) غداری کا جھنڈا تھمادیا جائے گا۔‘‘

صحیح ابن حبان (حدیث ۵۹۸۲) میں اسی حدیث کی ایک صحیح سند سے بیان کردہ روایت میں یہ تصریح ہے کہ چاہے وہ مقتول غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ 

اسی طرح کا ایک معاہدہ Citizenship شہریت کا معاہدہ ہے۔ آج کل کی غیر مسلم ریاستوں میں جو مسلمان رہتے ہیں اور وہاں کی شہریت اختیار کیے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنی ریاست اور اسکے عام شہریوں کے ساتھ ایک واضح معاہدہ کیا ہوا ہے۔ عام معاہدوں سے یہ معاہدہ اس اعتبار سے اہم ہوتا ہے کہ سارے معاہدوں کی کوئی نہ کوئی انتہا ہوتی ہے، مگر یہ لا محدود مدت تک کے لیے ہوتا ہے۔ انسانی تمدن کی تاریخ میں ہمیشہ ہی شہریت کو فرد اور ریاست کے درمیان ایک معاہدے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ریاست اور شہری، اور خود آپس میں شہریوں کی جماعت ایک دوسرے کے تئیں ذمہ دارانہ معاہدے کے حامل سمجھے جاتے رہے ہیں، جس میں وہ سب ایک دوسرے کے جان اور مال کو اپنی طرف سے امان دیتے ہیں۔ ہمیشہ سے شہریت کی بنیاد یہی واضح معاہدہ ہوتا آیا ہے کہ سارے شہری ایک دوسرے کے مال اور جان کا احترام کریں گے۔ آپ اگر آج یہ اعلان کر دیں کہ میں کسی کی بھی جان کا احترام اپنے اوپر فرض نہیں مانتا، اور میرے ملک کے انسان میرے لیے ’’مباح الدم والمال‘‘ یعنی ان کی جان یا مال لے لینا میرے لیے حلال ہے، تو آپ کو وہ ملک فوراً باغی قرار دے دے گا۔ 

لیکن اب جدید دنیا میں تو یہ شہریت ایک بڑا وسیع معاہدہ بن گیا ہے، ریاست کی ذمے داریاں بھی بڑھ گئی ہیں اور فرد کے تعہّدات (Commitments) بھی۔ اس بناپر یہ بالکل طے ہے کہ جو مسلمان کسی غیر مسلم ملک کا شہری ہے اس کو اپنے اس ملک سے مسلمانوں کے ساتھ کیسے ہی دشمنانہ رویہ کی شکایت ہو، وہ جب تک اس کی شہریت کو لیے رہتا ہے اس وقت تک اس کے لیے اس ملک کے خلاف یا اس کے کسی عام شہری کے خلاف کسی قسم کی جنگ وقتال کے قسم کی کارروائی کرنا جائز نہیں۔ اس کے اوپر ظلم ہو رہا ہو تو وہ ظالم سے بس ظلم کا بدلہ لے سکتا ہے۔ ہاں وہ اگر اس کی شہریت ترک کر دیتا ہے اور اس ملک کو چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے تواس کو اختیار ہے۔

رسول اللہ ؐ اور آپ کے صحابہؓ جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اپنے آپ کو مکی ریاست کا شہری مان کر رہے۔ اور اہل مکہ کی ساری زیادتیوں کے باوجود آپ ؐ اور مسلمانوں کا رویہ وہاں کے غیر مسلم شہریوں کے ساتھ ایسا ہی تھا کہ کوئی عام شہری اپنے کو ان کی جانب سے خطرے میں نہیں سمجھتا تھا۔ ایک آدھ واقعات جو کسی مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان لڑائی یا زخمی کرنے کے ملتے ہیں وہ انفرادی لڑائیاں تھیں جو کسی بھی ایک ریاست کے دو شہریوں میں ہو سکتی ہیں اور ان میں مظلوم کا زیادتی کرنے والے کے خلاف اقدام غیر قانونی نہیں ہوتا ۔ ہاں جب آپ ؐ نے مکہ چھوڑ دیا تو معاہدہ ختم ہو گیا۔ اور مکہ والوں کو مہاجر مسلمانوں سے معاہدے کا تحفظ حاصل نہیں رہا۔ اور اسی طرح مہاجر مسلمانوں کو مکہ کے لوگوں سے بھی تحفظ حاصل نہیں رہا۔ 

افسوس! یہ شرعی ’’حدود‘‘ (قوانین) جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی صریح غیر مشکوک سنت سے ثابت ہیں ان کا ہمارے یہاں مذاکرہ نہیں ہوتا۔ اور نتیجۃً ہم عصر حاضر کی صور تِ احوال میں اس کی تطبیق نہیں کرپاتے۔ اس سلسلے میں بہت سے لوگ نہایت غیر محتاط بلکہ شرعی ضابطوں کو توڑنے والی رایوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہ غلطیاں صرف وہ نوجوان کر رہے ہوتے جنہوں نے اس دور کے ظالموں کی چیرہ دستیوں سے عاجز آکر ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے، تو کوئی زیادہ تعجب نہ ہوتا۔ مگر جب علمی قسم کے اداروں اور رسائل ومجلات کی طرف سے یہ بے احتیاطیاں ہوتی ہیں تو حیرت ہی نہیں افسوس اور قلق بھی ہوتا ہے۔

کچھ مغربی اخبار ات نے گذشتہ سال ۲۰۰۸ء میں جب وہ مشہور زمانہ ملعون کارٹون شائع کیے تو ہمارے دینی رسالوں میں اس پر مضمون نکلے۔ اور بہت سے دینی رسالوں میں گذشتہ تاریخ کے کئی ایسے واقعات نقل کیے گئے جن میں اہانت رسول کے کسی مجرم کو کسی پر جوش مسلمان نے خود ہی قتل کر دیا تھا۔ اور اس پر تحسین وآفریں کے ساتھ مبارک باد اس انداز میں دی گئی کہ گویایہی اسوہ ہے دنیا بھر میں اہانت رسول کے مجرموں کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا۔ اور اگر ہو سکے تو یہی کر دینا شریعت کا حکم ہے۔ 

قانون میں اہانت رسول کا مجرم قتل کی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے، مگر نہ جانے ان لوگوں کو یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ یہ سزا عدالت اور حکومت دے گی، جس کسی نے خود یہ کام کیا اس نے بہرحال قتل نا حق ہی کیا۔ اس لیے کہ حدود کے نفاذ کے لیے اس کی ولایت (Authority) شرط ہے، جو کسی فرد کو اللہ کی شریعت نے نہیں دی ہے۔ ایسا ناقص علم، دین اور اہل دین کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ قرون اولیٰ میں کسی مجرم کو اس طرح کی سزا (کسی بھی عالم کے فتویٰ کے تحت) حکومت اور عدالت سے ماوراء نہیں دی گئی۔

مثال کے طور پر دیکھیے اسی کارٹون چھپنے کے واقعے کے ضمن میں، میں ایک مضمون نگار نے لکھا:

’’مجھے ایک اور اسی طرح کا واقعہ یاد آ رہا ہے جو ڈنمارک میں پیش آیا تھا، ہالینڈ کے ایک آرٹسٹ نے ایک ماڈل کے برہنہ جسم پر (نعوذ باللہ) قرآنی آیات تحریر کر کے اسے آرٹ کا ایک شاہ کار نمونہ قرار دیا، مگر آفریں ہے وہاں پر رہائش پذیر مراکن مسلمان پر کہ جس نے اس آرٹسٹ کو کئی لوگوں کی موجود گی میں جہنم رسید کر دیا اور عدالت میں یہ کہا اگر کسی نے دوبارہ ایسی گھٹیا حرکت کی تو وہ دوبارہ بھی یہ قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔‘‘

خالص شرعی اعتبار سے اس نوجوان کا یہ عمل، افسوس کہ، بالکل غلط تھا، مگر پھر بھی کچھ لوگوں کی طرف سے غیر مشروط تحسین کا مستحق ٹھیرایا گیا۔ اس نوجوان کی اللہ مغفرت کرے ،اس کی محبتِ اسلام کی عظمت اپنی جگہ، مگر اس کے لئے شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی تھی کہ وہ ایک ایسے ملک میں جس کے ساتھ اس کی ریاست کا معاہدۂ امن ہے، پھر اس نے بھی ویزالے کر یہ معاہدہ کیا ہے کہ اس ملک کے شہریوں کے جان و مال کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا ، اوراس کے قانون کی پابندی کرے گا، شریعت نے اس کو اس کی قطعاً اجازت نہیں دی تھی کہ وہ اس دوہرے معاہدے کو توڑے اور شریعت کی اصطلاح میں ’’غدر‘‘ اور ’’نقض عہد‘‘ کے عظیم گناہ کا مرتکب ہو۔

اشتعال بھی کیسا عقل کا دشمن!

شرعی پہلو سے قطع نظر ان لوگوں کو آنکھوں سامنے کی یہ حقیقت نظر نہیں آرہی کہ اس زمانے میں ان حرکتوں کے جواب میں مسلمانوں کا پر تشدد رد عمل خود ان کے اپنے لیے کس قدر نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے؟ ان ظالموں کا تو آج تک ہم کچھ بگاڑ نہیں پائے، یا اپنی ہی پولیس کی گولیاں اور ڈنڈے کھائے، یا پوری دنیا میں ایک مذاق بن گئے۔ ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی ہمارا تماشہ دیکھنے کے لیے اس طرح کی حرکت کر دیتا ہے، اور بس دھماچوکڑی شروع۔ ارے! کچھ کر سکیں تو زور لگائیے، ورنہ: عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد۔ سمجھ داری کا تقاضہ تو یہ ہے کہ دشمن کی چال کو الٹ دیا جائے نہ کہ اس کے ہتھیاروں کی دھار تیز کی جائے۔ ان شیطانوں کا مقصد دنیا میں خصوصاً مغرب میں مسلمانوں سے نفرت پیدا کرتے رہنا ہے۔ پر تشدد اقدامات ان کا مقصد ہی تو پورا کرتے ہیں۔

جنگ کی ضروری تیاری

امت اسلامیہ کا وجود بڑی قیمتی شے ہے، اور جنگ یقیناً جان جوکھوں کا کھیل۔ اس لیے ایک طرف اگرچہ اس کی تعلیم دی گئی کہ اللہ کے بھروسے پر جان لڑا دی جائے، مگر دوسری طرف یہ بات بھی عقل عام کی رو سے ضروری ٹھیرائی گئی کہ پھر بھی دیکھ لیا جائے کہ اپنی حربی صلاحیت، ساز وسامان، اور ایمانی واخلاقی اور نظم وضبط کی حالت کسی بھی حد تک مقابلے کی ہے، یا بظاہر اسباب بالکل طے ہے کہ نتیجہ آخر کار یہ کہنے کی شکل میں ہی نکلنا ہے کہ:

مقابلہ تو دل نا تواں نے خوب کیا

اگر بظاہر اسباب بالکل طے ہے کہ سوائے ناکامی اور شکست وریخت کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں لگنا تو عام حالات میں جنگ سے بچنا، یعنی حالات کے سازگار ہونے کا انتظار ہی فرض ہوگا۔ ’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ کے لیے ہمیں قرآن وسنت میں کوئی نمونہ نہیں ملتا، ہاں حربی پوزیشنوں میں زبردست فرق کی کوئی نظیر اگر ملتی ہے تو بس بدر کے ’یوم الفرقان‘ میں جو قرآن کی سورۂ دخان کی روشنی میں قریش مکہ کے سرداروں کے لیے اللہ کا عذاب (یوم البطشۃ الکبریٰ) تھا۔ مگر اس طرح کی مدد کے انتظار سے پہلے ’’فضائے بدر‘‘ پیدا کرنے اور امت کے عمومی حال اور اُن کے ایمان وکردار میں کسی کم از کم درجہ میں بھی نسبت اور مشابہت کا اطمینان کر لینا ضروری ہے۔

یہ تعلیم خود قرآن نے ہمیں دی ہے کہ جنگی پوزیشن کا خیال کیا جائے گا۔ پہلے جب سابقین اولین کا لشکر تھا تو کہا گیا کہ ایک کے مقابلے دس کا بھی حساب ہو تو تم ہی فاتح ہو، شرط یہ ہے کہ تم ’’صابرون‘‘ یعنی جمنے والے ہو، اسی کو آج کی اصطلاحی زبان میں (High Morale) کہتے ہیں۔ پھر جب سابقین اولین کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی آگئے تو اس فرق میں واضح کمی کی گئی، اور کہا گیاکہ اب تمھارا ایمانی حال پہلے جیسا نہیں رہا، اس لیے اللہ تم کو آسانی دیتا ہے۔ اب اگر تمہارے مقابلے دشمن کی پوزیشن دگنی ہوگی تو تم فاتح ہو جاؤگے۔

یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ إِن یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُواْ مِءَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُم مِّءَۃٌ یَغْلِبُواْ أَلْفاً مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُونَ۔ الآنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفاً فَإِن یَکُن مِّنکُم مِّءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُواْ مِءَتَیْْنِ وَإِن یَکُن مِّنکُمْ أَلْفٌ یَغْلِبُواْ أَلْفَیْْنِ بِإِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔ (الانفال: ۶۵۔۶۶)

ظاہرہے کہ پہلے اگر مادی طاقت صرف تعداد سے گھٹتی اور بڑھتی تھی، تو اب اس میں بہت سی دیگر ایسی چیزیں زمانے کے ساتھ ٹکنالوجی کی شکل میں پیدا ہو گئی ہیں جو طاقت کے توازن میں زبردست فرق پیدا کرتی ہیں، بلکہ وہ ایسا فرق پیدا کرتی ہیں جو تعداد کا بڑے سے بڑا فرق پیدا نہیں کر سکتا۔اور دوسری چیز یعنی ’’صبر‘‘ اخلاقی طاقت (morale) اور ایمانی حالت میں بھی اِس زمانے میں عہد صحابہ سے اچھے حال کی توقع تو کی نہیں جاسکتی۔

لہٰذا اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جہاں حربی پوزیشن اور جنگی طاقت میں ایک اور دو سے زیادہ کا فرق ہو (چاہے وہ تعداد کی شکل میں نہ ہو بلکہ اسلحہ کی کیفیت وکمیت کی شکل میں ہو) وہاں مقابلہ کرنا اور بہرحال جنگ کرنافرض کے درجے کی چیز نہیں رہے گی۔ لیکن اگر مسلمانوں کی قیادت سنجیدگی کے ساتھ اپنے علم وتجربہ کی بنیاد پر اور دشمن کی عیاشی ،بزدلی ،کمزور اخلاقی حالت اور جذبے کی سردی کا اندازہ کر کے یہ سمجھتا ہو کہ وہ ایک لمبی جنگ میں دشمن کو تھکا سکتی ہے اور اس کو پسپائی پر مجبور کر سکتی ہے، تو یہ یقیناًنہایت قابل تعریف عزیمت اور قابل رشک ایمان کا فیصلہ ہو گا۔

قرآن مجید میں اوپر ذکر کی گئی آیتوں سے پہلے یہ حکم بھی آ چکا ہے کہ تمہاری ایمان وعزیمت کی حا لت جب بہتر تھی تو دشمن کے دس گنا ہونے پر بھی تم ہی کو فاتح ہونا تھا۔قرآن نے اس کا سبب دشمن کفار کی ’’ناسمجھی‘‘ یعنی زندگی کی حقیقتوں اور مقاصد حیات سے بے خبری کو بتایاتھا۔

بہر حال قرآن کی ان آیات سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی شریعت میں قتال سے پہلے نہایت حقیقت پسندی کے ساتھ اس کا جائزہ لے لینا ضروری ہے کہ کامیابی کے امکانات معدوم تو نہیں۔

ایک عجیب غلط فہمی:

بعض لوگ اس سلسلے میں سورۂ انفال کی مندرجہ ذیل آیت سے عجیب قسم کی غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ 

وَأَعِدُّواْ لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدْوَّ اللّہِ وَعَدُوَّکُمْ (الأنفال: ۶۰)

’’اور تیاری جمع کرو ان کے مقابلے کے لیے جو بھی کر سکو، ہر طرح کی طاقت کے اسباب میں سے، اور گھوڑوں سے، جس سے تم ڈراؤ اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو۔‘‘

یہ حضرات اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم جو کر سکیں، بس وہ کر لیں اور پھر ہم کو حکم ہے کہ مقابلہ کے لیے کود پڑیں۔ایک ذرا غور کی نگاہ اس بے بنیاد استدلال کی کمزوری کو عیاں کر دیتی ہے۔ آپ دیکھیے، اس میں یہ کہیں نہیں ہے کہ جو کر سکو اس کے بعد انتظار مت کرو، فوراً اللہ کی مدد کے بھروسے کود پڑو۔ اس آیت میں صرف تیاری کا حکم ہے کہ اس میں کوئی کمی نہ کی جائے، یہ تمہارا فرض ہے۔ آیت کا مقصد صرف اتنا ہی ہے، اس کو اس سے کوئی تعلق نہیں کہ کتنی تیاری پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، اور نہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کب تک تیاری کی جائے گی اور طاقت میں کس درجے میں توازن کی شکل پیدا ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔

لیکن بہرحال اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ کی مدد کا قانون معطل ہو گیا۔ اب اہل ایمان اس کی مدد سے مایوس ہو جائیں۔ ہر گز نہیں، اگر اہل ایمان عمومی سطح پر ایمان اور عبدیت کی زندگی اختیار کرلیں اور اللہ کے دین کی مدد ونصرت کو اپنا اصل مطمح نظر بنالیں، اور اس راہ کی جدوجہد میں اپنے بس بھر سب کچھ کرڈالیں تو ان سے اللہ کا پختہ وعدہ ہے کہ وہ دنیا کے حالات میں اپنی غیب کی طاقت سے ایسی تبدیلی لائے گا جس سے ان کی جدوجہد کے راستے کھلیں گے، اور ان کے ذریعے دنیا کا بگاڑ ختم ہوکر اس میں خیر وصلاح اور انصاف ظاہر ہو گا۔

جنگ میں حصہ نہ لینے والے عوام کے جان و مال کی حرمت

جہاد فی سبیل اللہ پر غور کرتے وقت یہ حقیقت ضرور پیش نظر رہنی چاہیے کہ جہاد کی فضیلت کا راز نہ کشت وخون میں ہے، اور نہ خونریزی فی نفسہ کوئی اچھی چیز ہے۔ اس کی غیر معمولی فضیلت کا راز نصرت دین کاعظیم مقصد ہے ، مجاہد کی عند اللہ محبوبیت کا سبب یہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت اور اس کے اجر وثواب کی طمع میں ان عظیم مقاصد کی خاطر خلوص دل سے مال وجان قربان کرتا ہے۔ اسلام کی نظر میں قتل وقتال ایک شر ہے، لیکن ظلم اور ’’فتنہ‘‘ اس سے بڑے شر ہیں۔ جہاد کی جنگ دنیا کو ظلم اور ’’فتنہ‘‘ وفساد کے عظیم شر سے بچانے کے لیے ہے۔ ’’والفتنۃ اکبر من القتل‘‘۔

اس لیے اسلامی شریعت حکم دیتی ہے کہ جنگ میں صرف ان ہی کو مارنا جائز ہے جوجنگ میں حصہ لے رہے ہیں، یا اس کے لیے تیار ہیں۔ محاربین (Belligerents) میں سے جو عملاً مقاتلین (Combatants) ہوں بس ان کو ہی نشانہ بنانا جائز ہے۔ (ہاں جو کوئی جنگ میں اپنے مشوروں اور دیگر خدمات سے شریک ہوگا اس کا بھی یہی حکم ہوگا)۔ بہرحال جنگ میں عملاً حصہ نہ لینے والے عوام کو کوئی نقصان پہنچانا جائز نہیں۔

ایک مرتبہ میدان جنگ میں آپؐ کو ایک عورت کی لاش ملی، آپ کو فکر ہوئی۔ ناراضگی کے عالم میں فرمایا: (ما کانت ہذہ لتقاتل)یہ کون سا جنگ کر رہی تھی جو اس کو مار دیا؟ پھر امیر جیش حضرت خالدؓ کو حکم کہلا بھیجا: نہ کسی عورت کو قتل کیا جائے اور نہ کسی مزدور غلام کو۔ (سنن ابوداؤد ۲۶۶۹ ومسند احمد ۱۷۱۵۸ ، ۵۹۲۳، نیز صحیح بخاری ۳۰۱۵) عورتوں اور بچوں کے قتل کے ممنوع ہونے کا آپؐ نے بار بار اعلان فرمایا ہے۔ صحاح ستہ میں متعدد صحابہ سے اس سلسلے کی روایات موجود ہیں۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:

لا تقتلوا شیخاً فانیاً ولا طفلاً صغیراً ولا امرأۃ ولا تغلوا وضموا غنائمکم وأصلحوا ان اللہ یحب المحسنین۔ (سنن أبی داود، ۲۶۱۴)

’’نہ کسی بوڑھے ضعیف کو قتل کرنا اور نہ چھوٹے بچے کواور نہ عورت کو۔ مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا۔ نیکی اور احسان کرنا، اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

آپؐ نے عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی طرح عزلت گزین عبادت گزاروں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا۔ مسند احمد (حدیث ۲۷۲۳) میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐ جب کہیں لشکر روانہ فرماتے تو یہ ہدایت فرمادیتے کہ عبادت گاہوں کے لوگوں (یعنی خدام اور عبادت گزاروں) کو قتل نہ کیا جائے۔ امام مالک نے موطا میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت یزیدؓ ابن ابی سفیانؓ کو شام کے علاقے کی ایک مہم پر روانہ فرمایا، یہ علاقہ عیسائی تھا۔ روانگی کے وقت حضرت ابوبکرؓ ساتھ میں کچھ دور تک رخصت کرنے گئے۔ خود پیدل اور حضرت یزیدؓ سوار۔ اس پر حضرت یزید نے عرض کیا: اے خلیفۂ رسول، یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا مجھے اجازت دیں میں اتر کر پیدل چلوں۔ حضرت ابوبکر نے منع فرمادیا، اور کہا: نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم کو اترنے کی اجازت ہے، مجھے اللہ سے ایک ایک قدم پر ثواب کی امید ہے۔ پھرکچھ احکام دیے۔ جن میں یہ بھی تھا کہ:

’’تم کو کچھ ایسے لوگ ملیں گے جو کہیں گے کہ ہم نے عبادت کی خاطر دنیا چھوڑ دی ہے، تو ان سے کچھ تعرض نہ کرنا۔ اور میں تم کو دس باتوں کی تاکید کرتا ہوں۔ نہ کسی عورت کو قتل کرنا، نہ بچے کو، نہ بوڑھے ضعیف کو، کسی پھل دار درخت کو بھی نہ کاٹنا۔ کسی آبادی کو نقصان نہ پہنچانا۔اگر فوج کو غذائی کمی نہ پیش آئے تو بکری یا اونٹ بھی نہ ذبح کرنا۔ نہ کسی باغ میں آگ لگانا نہ ڈبونا۔ عہد شکنی نہ کرنا۔ مثلہ نہ کرنا۔۔۔‘‘۔ (موطا، ۸۵۸)

امام بیہقی (۹/۹۰) نے اس طرح کے احکام پر مبنی کچھ روایات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نقل فرمائی ہیں اور ان کی اسناد کے کمزور ہونے کے باوجود کثرت اسانید اور آثار صحابہ کی وجہ سے ان کو قوی قرار دیا ہے۔

ایک اشکال اور اس کا صحیح جواب:

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھی پورے قبیلے پر حملہ کیا تھا اور کبھی ان سب کو ہی قید کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ قیدی بنانا جنگ میں حملوں کا نشانہ بنانا ہی ہے۔ اسی طرح آپ نے کہیں کہیں سارے قبیلے کے مال پر بطور غنیمت قبضہ کیا ہے؟

دراصل عہد نبوی میں جہاں کہیں دشمن کی پوری آبادی کو نشانہ بنایا گیا وہاں کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ پورے کے پورے قبیلے نے جنگ کی تھی۔ قبائلی معاشرے میں پورا قبیلہ ہی جنگ کرتا ہے۔ عربوں کے یہاں بھی عموما یہی طریقہ تھا۔ اسی لیے ہمیں نظر آتا ہے کہ پورے قبیلے کے خلاف کارروائی کی گئی۔ عہد نبوی کے بیشتر غزوات کے اس پہلو کو پیش نظر رکھنے سے بہت سی مشکلات حل ہوتی ہیں۔ غزوات نبوی کے مطالعے کے لیے یہ ایک اہم رہنما اصول ہے۔ بہت سے لوگوں کی نگاہ اس مخصوص پہلوکی طرف نہ جا نے کی وجہ سے بے شمار اشکالات پیدا ہو گئے۔اگر اس خاص پہلو کو مد نظر رکھا جائے تو یہ غلط فہمی نہیں پیدا ہو سکتی کہ جنگ سے کنارہ کش بے گناہ عوام کی املاک بھی ضبط کی جاسکتی ہیں۔ 

جہاں اس کے خلاف ہوا یعنی پوری آبادی نے جنگ میں حصہ نہیں لیا وہاں ہم کو نظر آتا ہے کہ جنگ سے دور رہنے والوں کو پورا تحفظ دیا گیا۔ ملاحظہ فرمائیں: 

مکہ نسبۃً ایک شہری ریاست تھا۔ فتح مکہ میں آپؐ نے عام منادی کردی تھی کہ جو اپنے گھر میں بیٹھ رہے وہ محفوظ ہے،جو دروازہ بند کرلے وہ محفوظ، جو ہتھیار ڈال دے وہ محفوظ ۔ (صحیح مسلم ۱۷۸۰) فوجوں کو حکم دیا گیا تھا کہ زخمی کو قتل نہ کیا جائے، اور پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے (فتوح البلدان ۱/۵۳)اور سوائے چند جنگی مجرموں کے کسی سے تعرض نہیں کیا گیا۔ یہ جنگ میں حصہ نہ لینے والے عوام کے جان ومال کے محفوظ ہونے کا اعلان ہی تو ہے۔

اسی طرح صحابۂ کرام کے زمانے میں جن قوموں کے خلاف بھی جنگ کی گئی وہاں یہی اصول برتا گیا کہ جو لوگ جنگ سے دور رہے ان کے مال اور جان محفوظ مانے گئے۔ یہ امت کے قرون اولی کا عام تعامل ہے، اور اس سے زیادہ بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کا اپنے مفتوحین کے ساتھ معاملہ ایسا دل موہ لینے والا ہوا کرتا تھا، اور جن علاقوں میں ان کی فوجیں گئیں تھیں وہ اپنے حکمرانوں کے ظلم اور استحصال سے اس قدر عاجز تھے کہ بس منظم فوجوں نے ہی ان کی کسی قدر مزاحمت کی۔ یہ منظم فوجیں حکمراں طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہوتی تھیں، جن کے مادی مفادات ان کو سابقہ نظام کی حفاظت کرنے پر آمادہ کرتے تھے۔ باقی ملک کے عوام سے اسلامی فوجوں کو کہیں بھی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، بلکہ بہت سی جگہوں پر تومقامی لوگ اسلامی فوجوں کا استقبال کرتے نظر آئے۔ اسلامی فوجوں نے ان کے عوام کی جان کو محفوظ سمجھا۔ جزیرۃ العرب کے باہر عراق سے لے کر ایران تک، اور شام سے لے کر مشرقی یورپ تک، اور افریقہ میں مصر سے لے کر مراکش اور الجزائر تک سارے علاقوں کے عوام کا خون اور مال واسباب محترم جانے گئے۔

ان مختلف مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام اس سلسلے میںآخری حد تک رحم اور انسانیت نوازی کا قانون رکھتا ہے۔ آج کے زمانے میں جب صرف منظم فوجیں ہی عموما جنگ کرتی ہیں،اس لیے رسول اللہؐ کی ان تعلیمات اور صحابۂ کرام کے اس طرز عمل کی بنا پرطے ہے کہ اسلامی قانون کی رو سے اصولاً صرف فوج اور فوجی تنصیبات ہی جنگی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتی ہیں۔ غیر مسلح عوام اور عملا جنگ میں حصہ نہ لینے والے پوری طرح محفوظ ہونے چاہییں۔

اس سلسلے میں بڑی پریشانی اس وقت پیش آتی ہے جب ہم قدیم اسلامی مآخذ کی اکثریت میں ، فقہ کی کتابوں میں، حدیث کی شروح میں اور دیگر کتب میں کثرت سے اس طرح کی تصریحات دیکھتے ہیں کہ دشمن کا ہر عاقل بالغ مرد جو قتال پر قدرت رکھتا ہو وہ ’’محل قتل‘‘ ہے ۔ چوں کہ اوپر ذکر کیے گئے واضح دلائل کی روشنی میں یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ شریعت نے صرف عملاً قتال میں حصہ لینے والوں کو یا اس کی تدبیر میں دیگر خدمات کے ذریعہ شریک رہنے والوں کو ’’محل‘‘ قتال مانا ہے یعنی قتل کرنے کی اجازت دی ہے،اس لئے علماء کی ان تصریحات کواسی کی روشنی میں سمجھا جائے گا اور کہا جائے گاکہ ان کی مراد بھی یہی ہے کہ دشمن ملک کے جنگ سے عملاََ کنارہ کش رہنے والے بے شمار بے گناہ عوام کا جان مال محفوظ ہے ۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ جنگوں میں اسی پر عمل کیا ہے اور کبھی بھی جنگ میں عملاًحصہ نہ لینے والوں کو قتل نہیں کیا ۔

جدید دور میں جب غالباََ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری قوموں کو بھی یہ شعور نصیب ہوا کہ جنگ کو اخلاقی قوانین اور مہذب ضابطوں کاپابند بنایا جائے،تو ان میں کے بعض کوتاہ بینوں نے بڑھ بڑھ کر اسلامی جہاد پر اعتراض کرنے شروع کئے ۔اسی دور میں مولانا مودودی نے اپنی مفید کتاب الجہاد لکھی۔مگر نہایت حیرت ہے کہ مولانا جیسا واقف آدمی جو عصرحاضر کی نفسیات اوراعتراضات سے واقف تھا ،اس جگہ اسی قدیم تعبیر پر راضی ہو گیا کہ ہر جوان مرد اہل قتال میں مانا جائے گا اور اس کو قتل کرنا جائز ہوگا۔ لکھتے ہیں:

’’اہل قتال وہ ہیں جو عملاً جنگ میں حصہ لیتے ہیں، یا عقلاََ وعرفاََحصہ لینے کی قدرت رکھتے ہیں، یعنی جوان مرد‘‘ 

آگے ان لوگوں کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں کہ اسلام نے ان کو ’’قتل کرنے کی اجازت دی ہے‘‘۔ مزید لکھتے ہی کہ ’’اسلامی قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص جو اہل قتال میں سے ہے ( یعنی جوان مردجیسا کہ مولانا نے پہلے تصریح کی ہے ) اس کا قتل جائز ہے‘‘۔ ( الجہاد صفحہ ۲۲۲ ۔۲۲۴)

بہر حال جن لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ سارے ہی وہ لوگ قتل کیے جاسکتے ہیں جو جنگ میں حصہ لینے کے قابل (Potential Combatants) ہوں، چاہے انہوں نے عملا جنگ میں حصہ نہیں لیا ہو، انہوں نے احادیث کے پورے مجموعے کو سامنے نہیں رکھا، اور صحابۂ کرام کے طرز عمل پر بھی غور نہیں کیا، اور غلط فہمی کے شکار ہوے۔ یہ بات اسلام کے عام مزاج اور انسان دوستی کے فطری اصول کے بھی خلاف ہے، اور اس کے حق میں کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔

جنگی قیدی

جنگی قیدیوں کے متعلق رسول اللہ ؐ نے نہایت نرمی اور حسن سلوک کے احکام دیے تھے۔ قرآن نے جنت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچنے والوں کی یہ صفات بیان کی ہیں: 

وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً (الانسان: ۸)

’’ا ور یہ لوگ کھانا کھلاتے تھے، کھانے کی محبت کے باوجود، مسکین کو، اور یتیم کو اور قیدی کو۔‘‘

آنحضرتؐ سے اس سلسلے میں بڑی نصیحتیں مروی ہیں۔ غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپؐ نے صحابۂ کرام کو حسن سلوک کی اس طرح تاکید کی کہ لوگوں نے قیدیوں کواپنے سے اچھا کھانا کھلایا اور خود موٹے جھوٹے پر بسر کی۔ ایک صاحب کا قیدی انسانیت کا یہ نمونہ دیکھ کر شرما گیا کہ گھر والے غربت کی وجہ سے کھجور پر گزارہ کرتے ہیں اور قیدی کو روٹی سالن کھلاتے ہیں۔ غیرت مند قیدی نے کہا بھی کہ یہ کیوں؟ میں کھجور کھالوں گا تم روٹی سالن لو۔ مگر مسلمان نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہمارے رسولؐ نے قیدیوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید کی ہے۔ (سیرت ابن ہشام: ۱/۶۷۵)

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں مسلمانوں کے لیے اس وقت تک قیدی بنانے کی اجازت نہیں تھی جب تک اچھی طرح دشمن کو مغلوب نہ کر لیا جائے۔ غزوۂ بدر میں اگرچہ مشرکین کو میدان میں شکست ہو گئی تھی لیکن ان کا زور ٹوٹا نہیں تھا۔ وہ بھاگ ضرور گئے تھے لیکن یہ ان کی مکمل شکست نہیں تھی۔ کسی کو بھی یہ گمان نہیں تھا کہ ان کا زور بالکل ٹوٹ گیا ہے اور اب ان میں دشمنانہ کارروائیاں کرنے کی سکت نہیں رہی۔ مکہ والوں نے جب میدان چھوڑنا شروع کیا تو مسلمانوں نے اس خیال سے کہ بھرپور فدیہ ملے گا گرفتاری شروع کر دی۔ اس وقت ایسا تو کوئی انتظام تھا ہی نہیں جس کے تحت دشمن کے مقاتلین کو خاتمۂ جنگ تک قید رکھا جاسکے۔ قرآن مجید میں سخت تنبیہ آئی کہ دشمن کی طاقت کا خاتمہ کرنے سے پہلے قید ی بنا لینے کا کیا جواز ہو سکتا ہے۔ اس سے اگرچہ تم کو فدیہ کی شکل میں فی الوقت کچھ مل جائے گا مگر دشمن کی طاقت برقرار رہے گی۔ تم کو پہلے میدان جنگ میں اچھی طرح فوجوں کا صفایا کرنا چاہیے تھا، تاکہ دشمن کا زور بالکل ٹوٹ جائے۔ اس موقعے پر یہ آیت نازل ہوئی۔

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَن یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِیْ الأَرْضِ تُرِیْدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الآخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (الانفال: ۶۷)

’’کسی نبی کے لیے (دشمن کا )اچھی طرح خون بہا لینے سے پہلے قیدی بنانا مناسب نہیں ہے۔ تم دنیا کا فائدہ چاہتے تھے، اور اللہ آخرت کا۔‘‘

قرآن میں اس سے پہلے ہی الگ سے یہ حکم دیا جا چکا تھا کہ منکرین حق سے جب جنگ ہو تو پہلے اچھی طرح خون بہا کر دشمن کو زیر کر لیا جائے، اس کے بعد قید کیا جائے۔ اور ان قیدیوں کے بارے میں یہ اصولی حکم بطور قاعدۂ عامہ دے دیا گیا تھا کہ ان کو احسان کر کے چھوڑ دیا جائے یا ان کے بدلے میں اپنے قیدی رہا کرائے جائیں یا کچھ مالی معاوضے کے عوض ان کو رہا کر دیا جائے۔

فَإِذا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (محمد: ۴)

’’ جب ان منکرین حق سے مڈ بھیڑ ہوتو پہلے قتل کرو، یہاں تک کہ جب تم ان کو بالکل مغلوب کر لو تو قید کرو، پھر یا تو احسان کرکے چھوڑ دویافدیہ لے کر رہا کردو۔‘‘

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ انفال کی مذکورہ بالا آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مسلمان قیدیوں کا فدیہ نہ لیں بلکہ ان کو قتل کر دیں۔اور نہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ فدیہ لینا دنیاطلبی ہے ۔بلکہ جیسا کہ ہم آگے تفصیل سے واضح کریں گے کہ سورۂ محمد کی آیت نے واضح کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو ( بلا کسی دوسرے موجب قتل جرم کے) قتل کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔قیدیوں کے لئے توصرف دو ہی امکانات ہیں: یا تو احسان کر کے چھوڑ دینا یافدیہ لے کر چھوڑ دینا۔ لہٰذا جب خود قرآن جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کرنے کو کہہ چکا ہے تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ فدیہ لینا دنیا طلبی ہے۔ قرآن نے جس چیز کو دنیا طلبی کہا ہے، وہ مسلمانوں کی یہ غلطی تھی کہ انہوں نے دشمن کو اچھی طرح نقصان پہنچائے بغیر فدیہ کی طلب میں گرفتاریاں شروع کر دیں۔ اس نکتے کو ملحوظ رکھنے سے ہم جیسے طلبۂ علم کا ایک بڑا اشکال حل ہوتا ہے۔

ان دونوں آیتوں میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن کی قوت کے خاتمے سے پہلے قیدی بنانے کی ممانعت کا مقصد مکمل طور پراس کو زیر کر لینا ہے۔ لہٰذا اگر قیدی بنانے کا نتیجہ یہ نکلے کہ قیدی چھوٹ کر دوبارہ لڑنے کو آئیں تو یقیناًیہی حکم ہو گا اور ایسی صورت میں قیدی بنانا منع ہو گا۔ لیکن اگر کسی ملک کے لیے قیدیوں کو اس وقت تک روکے رکھنے کا انتظام ہو جب تک دشمن مکمل طور پر زیر نہ کر لیا جائے تو اس کے لیے اس کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ وہ دشمن جنگ جوؤں کو قید بنائے اور اس وقت تک قید کر کے رکھے جب تک جنگ نہ ختم ہو جائے۔

غلامی کامسئلہ

غلامی یقیناً کسی بھی انسان کے لئے ایک المناک حقیقت ہے۔ جو عہدجدید تک انسانی دنیا کے بیشتر علاقوں میں اور کہیں کہیں اپنی بدترین ہولناک ظالمانہ شکلوں میں باقی رہی۔ اسلام کے قانون جنگ کے سلسلے میں جو سوالات سب سے زیادہ ذہنی الجھن کے سبب بنتے ہیں ان میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ اسلام ہمدردی انسان کے اپنے عام مزاج اور نوع انسانی کی تکریم کے اعلانات کے ساتھ کیسے یہ روا رکھتا ہے کہ کسی انسان کو اس درجہ مجبور بنائے کہ وہ اپنی ذات تک کے بارے میں کسی فیصلہ کا اختیار نہ رکھتا ہو اور اس کو خریدا اور بیچا جاسکے؟

اسلام کی غلامی مغرب والی غلامی نہیں ہے:

اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے ایک وضاحت کی ضرورت ہے۔

ہمارے زمانے کے ممتاز محقق سرآمد علماء اسلام حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہم وطال بقاؤہم نے اپنی مایہ ناز تصنیف ’’تکملہ فتح الملہم‘‘ میں اس سلسلے میں ایک بڑے اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے یہاں جو غلامی تھی، وہ اس غلامی سے بالکل الگ چیز تھی، جو یونانیوں، رومیوں بلکہ ماضی قریب تک مغرب میں پائی جاتی تھی۔ مشہور مستشرق گستاؤ لیبان نے اپنی کتاب تمدن عرب میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ عربوں کی غلامی کے تذکرے کے وقت یونان وروم بلکہ ماضی قریب کی یورپ میں پائے جانے والے ان غلاموں کی طرف ذہن چلا جاتا ہے جو نہ پیٹ بھر غذاپاتے تھے نہ تن ڈھاکنے کو کپڑا، ان کے ساتھ بلا مبالغہ جانوروں سے بد تر سلوک کیا جاتا تھا۔ گستاؤ لیبان کہتا ہے کہ عربوں کی غلامی کو اس پر قیاس کرنا سنگین غلط فہمی کا باعث ہے۔

واقعہ بھی یہی ہے کہ مغربی اقوام کی خونچکاں تاریخ سے جو کچھ بھی واقفیت رکھتا ہوگا، غلامی کا نام سنتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ ایک منظر رومیوں کے اعلیٰ طبقات کے محلات کا سامنے آتا ہے کہ دعوت میں مہمان آرہے ہیں اور ایک میدان میں چاروں طرف محفوظ کرسیوں پر بٹھائے جارہے ہیں۔ پنجرے میں کئی دن کا بھوکا شیر غضبناک ہو رہا ہے۔ اب ایک غلام لایا گیا اور میدان میں کھڑا کرکے اس پر شیر چھوڑ دیا گیا، دھاڑتے ہوئے شیر جھپٹا، زوردارتالیاں بجیں، قہقہوں کے شور میں غلام نے جان دے دی۔ 

Gladiators کا ایک کھیل ہوتا تھا، اس کھیل کے لیے باقاعدہ اسٹیڈیم ہوتے تھے۔ امراء کے غلاموں کو اس کھیل کے ذریعے تقریبات میں مہمانوں کے لیے تفریح کا اس طرح سامان کرنا ہوتا تھاکہ کوئی غلام تلوارلے کر میدان میں کودتا اور کسی درندے سے مقابلہ کرتا تھا، شیر جیتے یا غلام، مگر امراء کا طبقہ محظوظ دونوں صورتوں میں ہوتا تھا۔

پھر ابھی آخری دور میں مغرب نے استعمار کے زمانے میں غلامی کے نام پر انسانوں کے ساتھ جس درندگی کا نمونہ قائم کیا ہوا تھا، اس کی تفصیلات کے لیے تاریخ کی کتابوں کے علاوہ صرف انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کافی ہے۔ اس بربریت کی خیالی تصویریں آج بھی یورپ کے میوزیموں میں Display پر رکھی ہوئی ہیں۔ راقم کو برٹش میوزیم میں ان کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ سیکڑوں سیکڑوں غلاموں کو زنجیروں میں قید کر کے سمندری جہازوں میں اس طرح ٹھونس کر امریکہ اور افریقہ سے یورپ لایا جاتا تھا کہ ان میں سے بسا اوقات آدھے راستے میں مر جاتے، اور ان کے’’ انسانیت نواز‘‘ مالکوں کو کچھ فکر نہ ہوتی تھی۔ مغرب کی اسی تاریخ کا نتیجہ ہے کہ غلامی کا نام سنتے ہی نگاہوں کے سامنے کچھ دہشت ناک منظر سامنے آنے لگتے ہیں۔

دوسری طرف اسلامی معاشرے میں غلام بلا مبالغہ ایک با عزت کردار ادا کرتے تھے۔ وہ یا تو ملازموں کی حیثیت میں ہوتے تھے یا اہل حرفہ میں۔ اور آخر میں تو ان کا خاص کردار حکومت اور فوج کی باعزت اور باتنخواہ ملازمت ہو تی تھی۔ یہاں میں پھر کسی اسلامی ماخذ کے بجائے بریٹانیکا میں غلامی کے موضوع پر موجود مقالے اور آج کل کی مقبول عام انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کا حوالہ دوں گا۔

(http://en.wikipedia.org/wiki/History_of_slavery#Slavery_in_the_Arab_World)

اسلام اور غلامی:

اوپر گزر چکا ہے کہ قرآن مجید نے اسیران جنگ کے بارے میں حکم دیا ہے کہ ان کو یا تو فدیہ کے بدلے یا احسان کے طور پر یوں ہی چھوڑ دیا جائے۔ اور یہی اسلام کا اصل قانون ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ؐ نے اپنی بعض جنگوں میں مفتوح قبائل کے قیدی مردوں کو غلام اور قیدی عورتوں کو باندی بنایا۔ سو اس کا سبب کیا ہے؟ اور یہ کس قانون یا رخصت کے تحت؟ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔

قرآن نے غلامی کو اسلام کے اصل قانون جنگ سے خارج کر دیا ہے:

یہاں اس حقیقت کو لازمی طور پر پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن نے غلامی کا بحیثیت ایک موجود حقیقت کے تذکرہ تو کیا ہے، لیکن اس کے قانون جنگ میں (جس کو اس نے تفصیل سے بیان کیا ہے) غلامی کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ بلکہ آپ غور کیجیے تو اس نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ جنگی قیدیوں کے بارے میں مسلمانوں کے لیے اصلا صرف دو امکانات ہیں:

۱۔ احسان کرتے ہوئے چھوڑ دینا۔

۲۔ یافدیہ لے کر یا اپنے قیدی کے بدلے میں(جو فدیہ کی ہی ایک شکل ہے) چھوڑ دینا۔

قرآن کے الفاظ میں غور کیجیے:

فَإِذا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء (محمد: ۴)

جب ان منکرین حق سے مڈ بھیڑ ہو تو پہلے قتل کرو، یہاں تک کہ جب خوں ریزی کے نتیجے میں وہ بالکل مغلوب ہو جائیں تو قید کرو، پھر یا تو احسان کرکے چھوڑ دو اور یا فدیہ لے کر رہا کردو۔

اس آیت میں اصل غور طلب لفظ ’’امّا‘‘ ہے جس کا اردو ترجمہ ’’یاتو‘‘ سے کیا گیاہے۔ علماء جانتے ہیں کہ عربی زبان میں جب کسی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے امکان کو لفظ ’’امّا‘‘ کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے تو اس میں ان چیزوں کے علاوہ کوئی اور امکان نہیں ہوتا۔ عربی زبان کی رو سے یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ’’امّا‘‘ تخییر یعنی دو چیزوں (Alternatives) کے درمیان اختیار دینے کے لیے اس طور پر ہی آتا ہے کہ کلام میں مذکور امور کے علاوہ کسی اور چیز پر عمل متکلم کے منشأ کے خلاف ہوتا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ؐ حضرت حضرت سعد بن عبادہ کے یہاں گئے۔ واپسی میں حضرت سعد نے آپ کی سواری کے لیے گدھا حاضر کیا اوراپنے بیٹے قیس سے کہا حضرتؐ کو گھر تک پہنچا کے آؤ۔ قیس ادباً پیدل چلے، آپ ؐ نے کہا: آؤ بیٹھ جاؤ، انہوں نے جھِجک دکھائی اور اسی میں سعادت سمجھی کہ پیدل ہی پیچھے پیچھے چلیں، آپؐ نے فرمایا: اِمّا اَن ترکب واِما اَن تنصرف‘‘۔ یعنی یا تو سوار ہوجاؤ یا واپس جاؤ۔آپ غور کریں تو اس عبارت کا واضح مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ان دو کے علاوہ تیسری بات کی اجازت نہیں ہے۔

ایک اور روایت کے الفاظ پر غور کیجیے: حضرت عمر بازار گئے تو دیکھا کہ حاطبؓ بازار سے کافی کم بھاؤ میں منقّہ بیچ رہے ہیں۔ حضرت عمر نے محسوس کیا کہ اس سے عام لوگوں کا نقصان ہورہا ہے، اس لیے فرمایا:

اِما أن تزید فی السعر واِما أن ترفع من سوقنا

’’یا تو قیمت بڑھاؤ، یا بازارسے سامان اٹھا لو۔‘‘

اس جملے میں غور کیجیے، کیا حضرت عمر کی مراد میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ حاطبؓ ان دونوں باتوں کے علاوہ کچھ اور کریں؟ عربی زبان میں ’’اِمّا‘‘ کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ متکلم کی بتلائی ہوئی دو یا چند باتوں میں سے ہی کوئی ایک کام کر لیا جائے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی سے یہ کہیں کہ ’’أرجوک أن تزورنی اِمّا یوم الخمیس واِما السبت‘‘ (تم یا تو میرے پاس جمعرات کو آنا یا پھر سنیچر کو‘‘۔ اس صورت میں آپ اس کو اختیار دے رہے ہیں کہ وہ چاہے جمعرات کو آئے یا سنیچر کو۔ دونوں دِنوں میں سے وہ جس دن بھی آجائے وہ آپ کی بات ماننے والا ہی قرار پائے گا۔ لیکن اگر وہ جمعہ کو آجائے تو یقیناًحکم کی خلاف ورزی ہوگی۔ اکیلی یہی مثال مسئلے کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

بعض بزرگوں نے یہاں ’’اما‘‘ کا مفہوم ’’تخییر لا الی جمع‘‘ قرار دیا ہے یعنی سارے اختیارات Alternatives پربیک وقت عمل کرنے سے منع کرنا، لیکن یہ بات بے اصل ہے۔ ہم نے ابھی اوپر جو مثال دی ہے اس سے کوئی یہ نہیں سمجھے گا کہ آپ مخاطب سے صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم جمعرات اور سنیچر دونوں دن نہ آنا بس ایک دن آنا۔ اب اگر وہ جمعہ کو آجائے تو کوئی حرج نہیں۔

بالکل یہی بات مذکورہ آیت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ قیدیوں کے بارے میں صرف دو اختیارات ہیں جن میں سے کسی ایک پر عمل کو لازم ہے۔ ’’یا تو احسان کرکے چھوڑ دو، یا فدیہ لے کر چھوڑ دو۔ یہاں اس کا امکان ہی کیا ہے کہ فدیہ اور احسان میں جمع کیا جائے۔ قیدی کو یا فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا یا مفت احسان کر کے۔ دونوں بیک وقت جمع ہو ہی کہاں سکتے ہیں؟ لہٰذا یہاں اِمّا کو ’’تخییر لاالیٰ جمع‘‘ کے معنی میں کہنا ایک بے معنی بات ہوئی۔

اس تفصیل سے یہ بات بالکل واضح اور بے غبار ہوگئی کہ قرآن کی اس آیت میں جنگی قیدیوں کے لیے صرف ان مذکورہ دونوں باتوں (یعنی بلا فدیہ یا فدیہ پر رہائی) کے علاوہ کسی کی گنجائش نہیں ہے۔

رسول اللہؐ کا عام عمل غلام بنانا نہیں تھا

اسی طرح حدیث کے ذخیرے میں میرے مطالعے کی حد تک غلام بنانے کا تذکرہ بطور قانون نہیں ہے۔ ہاں آپؐ نے کچھ لوگوں کو غلام بنایا ہے۔ لیکن آپ کے زمانے کے غلاموں کی اکثریت آپؐ یا مسلمانوں کے بنائے ہوئے غلاموں کی نہیں تھی، بلکہ اکثروہ غلام تھے جو پہلے سے چلے آرہے تھے۔ خود آں حضرتؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے یہ بات بالکل طے ہو جاتی ہے کہ قیدیوں کے بارے میں آپ کا اصل دستوراحسان کے طور پر رہائی یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جنگوں میں اصلا اسی پر عمل کرتے تھے۔ آپ نے اکثر جنگوں میں قیدیوں کو فوراً احسان کے طور پر آزاد کردیا، اور اگر روکاتو اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے۔اور کبھی مالی فدیہ لے کر ان کو آزاد کردیا۔

بدر میں کچھ کو احسان کے طور پر اور اکثر سے فدیہ لے کر آزاد کیا۔ صلح حدیبیہ سے پہلے مکے کے ۸۰ لڑاکؤوں کے دستے نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور سب کے سب گرفتار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا فدیہ چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم۱۸۰۸) مکہ آپؐ نے جنگ کرکے فتح کیا، مگر سب چھوڑے گئے۔ عربوں کے نہ جانے کتنے قبیلے مفتوح ہوئے، اور مسلمان فوجوں نے کسی کو غلام نہیں بنایا۔ 

ہوازن کے چھ ہزار قیدی پکڑے گئے، ہوازن شدید دشمنی رکھتے تھے، بڑے جوش وخروش سے لڑے۔ پھر بھی آپؐ تقریباً دو ہفتے تک انتظار کرتے رہے کہ وہ اطاعت کا اظہار کریں اور اپنے قیدی چھڑا لیں۔ ایسے دشمن کی طرف سے اطاعت کے اظہار سے پہلے اس کے قیدی چھوڑنے کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا کہ ایک مرتبہ پھر جنگ کے لیے اس کو موقعہ دیا جائے کہ وہ مسلمانوں کے لیے خطرہ بنے۔ اسی انتظار میں کہ ان کی طرف سے اطاعت کا اظہار ہو آپ نے دو ہفتے تک مال غنیمت اور قیدی نہیں باٹے۔ آخر جب وہ نہیں آئے تو قیدی لوگوں میں باٹ دیے گئے۔ قیدیوں کو روکے رکھنے کا اور کوئی انتظام نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر تقریباً دو ہفتے بعد ہوازن کے کچھ ذمے دار آئے اور آکر مطیعانہ رویے کا اظہار کیا، اور عفو وکرم کی درخواست کی کہ جانیں اور مال بخش دیے جائیں۔ آپؐ سب کچھ باٹ چکے تھے، اور ساتھ میں صرف قدیم تربیت یافتہ مسلمان نہیں تھے، بلکہ عیینہ بن حصن اور عباس بن مرداس جیسے غیر تربیت یافتہ بدو سردار بھی تھے، جو مال غنیمت کے حریص تھے۔ آپؐ نے ہوازن کے لوگوں سے کہا: میں نے تمہارا بڑا انتظار کیا، سچی بات کہہ دوں کہ اب میری کچھ مجبوریاں ہیں، تم کو اندازہ ہے کہ میرے ساتھ اس وقت کس قسم کے لوگ ہیں۔ تم مال یا اپنے قیدیوں میں سے کسی ایک چیز کو لے جاؤ۔ (اختاروا احدی الطائفتین امّا السبی واما المال۔ ایک چیز لے لو، یا قیدی یا مال)۔ انہوں نے اپنے قیدیوں کو چھوڑنے کی درخواست کی۔ آپؐ قیدیوں کو بطور غلام باٹ چکے تھے۔ پھر بھی آپؐ نے لوگوں سے سفارش کر کے ان کو چھڑا کر دیا۔ (صحیح بخاری: ۴۳۱۹، ۲۶۰۸)

اس کے علاوہ حدیث کے ذخیرے میں قیدیوں کی رہائی کے بہت سے واقعات موجود ہیں۔اسی طرح یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ خلفاء راشدین کے دور میں اور بعد میں بھی مسلمانوں نے لوگوں کو پکڑ کر غلام نہیں بنایا۔ نہایت کثیر تعداد میں علاقے فتح ہوئے مگر مسلمانوں نے نہایت ہی قلیل تعداد میں اور بالکل استثنائی طور پر مجبوری کے تحت ہی کسی کو غلام بنایا ہے۔ مصر، شام، عراق، افریقہ آرمینیا اور ایران کی فتوحات میں بے شمار علاقے یا گاؤں بزور شمشیر فتح ہوئے ۔ ان کے لاکھوں لوگوں کو (خصوصا فوجیوں اور حکومتی عملے کو) غلامی میں لے لینے کا امکان بھی تھا، اور زمانے کے عرف اور مسلّم بین الاقوامی قانون کے تحت جواز بھی۔ اگر مسلمان ان سب کو غلام بنا لیتے تو ان پر تنقید وملامت بھی نہ ہوتی۔ مگر مسلمانوں نے کسی کو غلام نہیں بنایا۔ آپ تاریخ کی کتابوں (مثلاً فتوح البلدان) کو دیکھتے جائیے، دسیوں مثالیں ملیں گی کہ جو علاقے فتح ہوتے تھے حضرت عمر کافرمان پہنچتا کہ لوگوں کے اوپر جزیہ لگادو اور زمین پر خراج۔

لہٰذا رسولؐ اللہ کے اس عمومی عمل اور اسلامی تاریخ اور خصوصاً صدر اول کے تعامل سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اسلامی قانون قیدیوں کی گرفتاری کے بعد احسان کے بطور رہائی یا فدیہ لے کر چھوڑنا ہی ہے۔ غلامی ایک نہایت نادر استثناء کے علاوہ کچھ نہیں۔

غلامی ایک مجبوری کا حل تھی نہ کہ مستقل دستور:

قرآن سے پہلے دنیا کے کسی قانون میں ہم کو غلامی کی ممنوعیت یا جنگوں میں غلام بنانے کی مذمت نہیں ملتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدر اول کے مسلمانوں نے جو کچھ غلام بنائے ہیں اس پر غور کرنے سے پہلے ایک تاریخی حقیقت کی طرف ذرا نظر کر لیجیے۔ اس زمانے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ جب تک دشمن مطیع نہ ہو اور جنگوں کا سلسلہ جاری ہو اس وقت بھی اس کے قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ اس سے تو دشمن کو کمک ملتی رہے گی۔ یہ ایک عملاً ناممکن بات تھی۔ دوسری طرف یہ بھی واضح رہے کہ تمدنی حالت نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ قیدیوں کے لیے جیل وغیرہ کا انتظام ہو اور ان کے مالی بوجھ کو برداشت کرنا حکومت کے لیے آسان ہو۔ 

لہٰذا غلامی دراصل اس مجبوری کا ایک نظام تھی نہ کہ اسلام کے قانون جنگ کا کوئی مستقل حصہ۔ اس زمانے میں غلامی ایک تکلیف دہ لیکن واقعاتی حقیقت تھی جس سے مفر نہیں تھا۔ اسلامی شریعت نے اس کو اپنے اصل قانون سے خارج کیا، اور جنگی قیدیوں کے بارے میں اصل قانون یہی بتایا کہ ان کو احساناًیا فدیہ لے کر رہا کیا جائے یا کسی قیدی کے بدلے میں چھوڑا جائے۔لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ دشمن تو غلام بنانے کا دستور رکھے اور مسلمان اس کے قیدیوں کو آزاد کر دیں؟ ایسا کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے جو آدمی دوسروں کے یہاں قید ہوکر جاتے غلام بنائے جاتے۔ اب اگر مسلمان اعلان کر دیتے کہ وہ غلام بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا کہ ان کے لوگوں کی بڑی تعداد غلام بنا لی جاتی اور دشمن کو انکی طرف سے یہ بالکل خطرہ نہیں ہوتا کہ اس کے آدمی بھی غلام بنائے جاسکتے ہیں۔

اس لیے جو نہایت قلیل تعداد میں غلام بنائے گئے وہ حالات کی اسی مجبوری کے تحت ایک استثنائی عمل تھا، اسلام کا اصل قانون نہیں۔ 

آج کے زمانے میں غلامی کا جواز نہیں:

بہر حال اس تفصیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غلامی کا دستور اسلام کے قانون جنگ کا حصہ نہیں ہے۔ اسلام نے اس کا کوئی مستقل جواز نہیں رکھا ہے۔ ابتدائی زمانے میں جنگی قیدیوں کو روکے رکھنے کی اس کے علاوہ اور کوئی شکل نہیں تھی۔ اس لیے اس پر عمل کیا گیا تھا۔ یہ ایک مجبوری کا اور استثنائی عمل تھا۔ جدید دور میں جب کہ تمدنی ارتقا نے اس مجبوری کا حل نکال دیا ہے اسلام کا اصل حکم یعنی قیدیوں کو جب تک ضروری ہو قید رکھنا، اور اس کے بعد بدلہ لے کر یا یوں ہی چھوڑدیناہی اسلامی قانون ہوگا : ’’فشدوا الوثاق، فاِما منا بعد واِما فداءً‘‘۔

ہاں اگر ویسی ہی صورت حال پھر عود کر آئی جیسی قدیم زمانے میں تھی (یا کوئی اور اسی درجے کی مجبوری ہوئی) تو اسی استثنائی عمل کو پھر جواز حاصل ہوجائے گا۔

عمومی تباہ کاری کی ممانعت

اسلام کی عمومی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جنگ کے دوران قتل عام کرنا ، غیر مسلح اور جنگ سے ہاتھ کھینچنے والوں کا خون بہانا ، مال واسباب میںآگ لگانا اور عمومی تباہی و بربادی پھیلانے کو وہ کسی طرح پسند نہیں کر سکتا۔ 

آں حضرت ؐ کا ارشاد ہے کہ:

الغزو غزوان فاما من ابتغیٰ وجہ اللہ واطاع الامام وأنفق الکریمۃ ویاسر الشریک واجتنب الفساد کان نومہ ونبہہ اجراً کلہ۔ وأما من غزا ریاء و سمعۃ و عصی الامام وافسد فی الارض فانہ لا یرجع بالکفاف (سنن نسائی ۳۱۳۷۔ مسند احمد ۲۱۵۳۷)

’’جنگیں دو طرح کی ہوتی ہیں : سو جو اللہ کی رضا وخوش نودی کے لئے جنگ کرے، امیر کی اطاعت کرے، اپنا اچھا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ اپنے ساتھی کے ساتھ اچھا معاملہ کرے ، اورفساد اور بگاڑ سے بچے تو اس کا سونا جاگناسب( اللہ کے راستے میں ہے اور ) موجب ثواب ہے ، مگر جو دکھاوے کے لئے نکلے ، امیر کی نہ مانیاور زمین میں تباہی اور فساد مچائے تو یہی نہیں کہ اس کو ثواب نہیں ملے گا بلکہ الٹا گناہ لے کر آئے گا۔‘‘

یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ عمارتوں اور کھیتیوں اور باغات کو اور دیگر شہری تنصیبات کی تباہی اسلام کے جنگی قانون میں جواز نہیں رکھتی۔ مگر جنگ کے دوران دشمن کو زک پہنچانے ، اور اس کے گرد قائم حفاظتی حصار کو توڑنے یا کسی دیگر جنگی مصلحت کے لئے اس کے باغات یا عمارتوں یا قلعوں کو تباہ کرنے کی ضرورت ہو تو اس کوایک ناپسندیدہ مگر ناگزیر کام سمجھ کر کرنا اسی طرح جائز ہوگا جس طرح قتل کرنا اصلا منع ہے ، مگر کبھی نہ کبھی دنیاکو عمومی شر و فساد سے بچانے کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔

بنی نضیر کے قبیلے نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کیا، او ر پھر بد عہدی ہی نہیں کی بلکہ آں حضرت ؐ کو دھوکے سے قتل کرنا چاہا ، جس کے نتیجہ میں غزوۂ بنی نضیر ہوا۔ اس غزوہ میں مسلمانوں نے بنی نضیر کے قلعوں کے ارد گرد کے کچھ باغات میں آگ لگائی۔ (صحیح بخاری ۴۰۳۱، صحیح مسلم ۱۷۴۶) یہود کی جانب سے اس پر اعتراض کیا گیا، اور غالباً جیسا کہ خود قرآن میں غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اشکال پیدا ہوا تو یہ آیت اتری:

مَا قَطَعْتُم مِّن لِّیْنَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَاءِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللَّہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِیْنَ (الحشر: ۵)

’’تم نے جو ’’لینہ‘‘(کھجور کے درخت) کاٹے، یا جو چھوڑ دیے تو یہ (سب) اللہ کے حکم اور اجازت سے کیا گیا ،ا ور تاکہ اللہ باغیوں کو ذلیل کرے۔‘‘

ایک غلط تعبیر جس کی اصلاح ضروری ہے:

یقیناًیہ کارروائی جنگی نقطۂ نظر سے ضرورت کی بنا پر کی گئی تھی ۔کچھ لوگوں کو اس سلسلے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ شاید یہ عام اجازت ہے۔ یہ خیال یقیناغلط ہے، اور اس کی تصحیح کی ضرورت ہے۔ عقل وفطرت اس کی اجازت نہیں دیتے کہ عام بے گناہ شہریوں کی املاک کو بے سبب برباد کیا جائے۔ جو اسلام پانی تک کو ضائع کرنے سے روکتا ہے وہ کیسے کھیتیاں جلانے اور املاک کی بربادی کی اجازت دے سکتا ہے؟ اسلام کے قانون جنگ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

اس کے غلط ہونے کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے اپنے زمانے میں لشکروں کو رخصت کرتے وقت تاکیدی حکم فرمایا کہ ہر گز پھلدار درختوں اور باغات کو نذر آتش نہ کیا جائے اور نہ کاٹا جائے اور نہ آبادیوں کو اجاڑا جائے۔ (موطا، ۵۸) یہ روایت حضرت ابوبکر سے تو ثابت ہے اس کے علاوہ امام بیہقی نے تو اس طرح کے احکام پر مبنی کچھ روایات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نقل فرمائی ہیں اور ان کی اسناد کے کمزور ہونے کے باوجود کثرت اسانید اور آثار صحابہ کی وجہ سے ان کو قوی قرار دیا ہے۔ (سنن بیہقی:۹/۹۰) یہ احکام سارے صحابۂ کرام کے سامنے دیے جارہے تھے، اور حکومت اسلامیہ کے جنگی قوانین کا اظہار سمجھے جا رہے تھے۔ اس وقت وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے خود بنی نضیر کی جنگ میں باغات میں آگ لگائی تھی اور پیڑ کاٹے تھے۔ اس وقت یہود کی جانب سے جب یہ اعتراض ہوا کہ: یہ تو فساد فی الارض ہے، کہیں نبی ایسا کیا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے دیکھا تھا کہ قرآن میں صاف آیت اتری تھی کہ جو کیا گیا وہ بالکل ٹھیک کیا گیا، اور اس میں کچھ غلط نہیں۔

حضرت ابوبکر نے جس وقت یہ احکام دیے تھے اس وقت ان صحابہ میں سے کسی کا اس پر کوئی اعتراض نہ کرنا اس بات کی واضح اور غیر مشتبہ دلیل ہے کہ غزوۂ بنی نضیر میں یہ کارروائی جنگی ضرورت کے تحت کی گئی تھی۔ یعنی صورت حال یہ تھی کہ اس سے دشمن پر غلبہ آسان ہونے کی امید تھی، یا اس کے حصار کو توڑنا مقصد تھا۔ شریک غزوہ صحابۂ کرام اس کو ایسا ہی سمجھتے تھے، اور خود حضرت ابو بکرؓ ایسا ہی سمجھتے تھے، اور ان سے بڑھ کر رازداں اور حقیقت شناس کون ہو سکتا ہے؟

ائمۂ اسلام کا موقف:

لہٰذا اس سلسلے میں بنی نضیر کے باغات جالائے جانے سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ائمہ اور فقہاء نے بھی اِس کو اسی طرح سمجھا ہے کہ یہ ایک جنگی ضرورت کے تحت کی جانے والی مجبوری کی کارروائی تھی۔ ورنہ اصلا یہ ممنوع ہے۔ امام ترمذی امام اوزاعی سے نقل کرتے ہیں کہ’’ پیڑ کاٹنا اور باغات میں آگ لگانا وغیرہ ممنوع ہیں، حضرت ابوبکر نے اس سے منع فرمایا ہے اور اسی ممانعت پر مسلمانوں کا عمل چلا آرہا ہے‘‘۔ (سنن ترمذی، کتاب الجہاد، باب فی التحریق والتخریب)

یہ بڑی باوزن دلیل ہے کہ ’’اسی ممانعت پر مسلمانوں کا عمل چلا آرہا ہے‘‘۔ واقعہ یہی ہے کہ صحابہ وتابعین کے زمانے میں مسلمانوں نے بہت سی جنگیں لڑیں، مگر کہیں بلا کسی خاص جنگی ضرورت کے باغات یا کھیت جلانے یا عمارتوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچانے کا ثبوت نہیں ملتا۔ جن ائمہ سے اس کا جواز منقول ہے محققین نے تصریح کی ہے کہ ان کی مراد بھی یہی ہے کہ یہ اسی صورت میں جائز ہے جب یہ جنگی ضرورت بن جائے۔ فقہاء احناف کے سرخیل ابن الہمام کہتے ہیں: یہ جائز ہے جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو، اگر اس کے بغیر کام چل سکتا ہو تو یہ ممنوع ہے اس لیے کہ یہ ’’افساد‘‘ بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ اس کا جواز بس ناگزیر جنگی ضرورت کی وجہ سے ہے۔ (فتح القدیر ۵/۱۹۷) ابن الہمام نے اس مسئلے کی جو حقیقت بتائی ہے، اس کو فقہ حنفی کی مشہور کتابوں مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر، البحر الرائق، درر الاحکام اور درّ مختار میں بھی نقل کیا گیا ہے۔ اور یہ ہے ہی اتنی واضح اور معقول بات۔ ابن عابدین کہتے ہیں کہ فقہاء کی جواز کی رائے کو ابن الہمام نے اسی شکل کے ساتھ مقید کیا ہے جب ایساکرنا جنگی ضرورت کی بنا پر ناگزیر ہو، ’’البحر‘‘ اور ’’النہر‘‘ کے مصنفین نے بھی ان کی اتباع کی ہے۔ ابن عابدین اس رائے کی تحسین کرتے ہوئے کہتے ہیں: ظاہر ہے کہ یہ بڑی اچھی رائے ہے۔ (رد المحتار ۴/۳۳۶)

امام احمد بن حنبل ان لوگوں میں سے ہیں جو کھیتیاں وغیرہ برباد کرنے کے جواز کے قائل سمجھے جاتے ہیں، امام ترمذی ان کا قول نقل کرتے ہیں کہ : اس کے جواز کا سبب یہ ہے کہ کبھی کبھی جنگ میں ایسا کرنے کے علاوہ چارہ نہیں ہوتا، بہرحال بربادکرنے اور تباہی پھیلانے کے مقصد سے ایسا کرنا جائز نہیں‘‘۔ فقہ حنبلی کی مشہور کتاب کشاف القناع اور اس کے متن الاقناع میں صراحت کی گئی ہے یہ اجازت صرف جنگی ضرورت کے تحت ہی ہے، یا اس صورت میں ایسا کیا جاسکتا ہے جب دشمن ہمارے ساتھ ایسا کرتا ہو، تو اس کے باغات اور عمارتیں تباہ کی جائیں، گی تاکہ وہ اس مذموم حرکت سے باز آئے۔ (کشاف القناع، فصل فی تبییت الکفار)

امام ابن جریر طبری نے اسی بات کو اس طرح کہا ہے کہ ’’تباہ کرنا اور برباد کرنا مقصود نہیں ہے، اور عمدا ایسا کرنا ممنوع ہے۔ لیکن جب جنگ کے دوران اس کی ضرورت پڑ جائے ، جیسا کہ طائف میں منجنیق سے سنگ باری کے نتیجہ میں عمارتوں کو نقصان پہنچا تو یہ جائز ہے‘‘۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری ((۶/۱۵۵) ) میں طبری کی اس رائے کو نقل کیا ہے اور آگے جاکر کہا ہے: ’’وبہذا قال اکثر اہل العلم‘‘ یہی اکثر اہل علم کی رائے ہے۔

لہٰذا یہ بات بالکل طے ہے کہ جن فقہاء و علماء نے باغات میں آگ لگانے یا پیڑ کاٹنے کو جائز قرار دیا ہے اس سے بلا قید جواز سمجھنا حقیقت فہمی سے بعید بھی ہے اور شریعت کے مزاج سے ناواقفی بھی۔ مگر افسوس۔۔۔۔۔۔۔

جنگ کے دیگر انسانی قوانین

اسلام نے جنگ کو انسانیت اور انسانی اخلاقیات کا بہرحال پابند کیا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں، جنگ چونکہ قتل و خونریزی سے عبارت ہے، اس لیے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ناجائز اور اصلاً حرام عمل ہے۔ اسلام نے انسانیت کے احترام اور انسانی جان کی حفاظت کی جو عمومی تعلیمات دیں ہیں جنگ ان سے ایک استثناء ہے۔ قرآن نے ایک اعتراض کے جواب میں دین الٰہی میں جنگ کے جائز رکھے جانے کا سبب بتاتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ: ’’الفتنۃ أکبر من القتل‘‘ یعنی جنگ اور قتل و خونریزی سے بھی زیادہ بڑی اور موجب فساد بات یہ ہے کہ دین حق سے لوگوں کو زور وزبر دستی سے روکا جائے، اور دین حق پر قائم رہنے والوں کومبتلائے عذاب و آزمائش کیا جائے۔ یعنی جنگ کے جواز بلکہ اس کے ضروری ہونے کا یہ سبب ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بھی اصل میں ایک خراب اور بری چیز ہے، لیکن ’’فتنہ‘‘ اور ظلم اتنی خراب چیزیں ہیں کہ وہ جنگ کو جائز اور کبھی ضروری بنادیتی ہیں۔ اسلام کا یہی مزاج اور دین الٰہی کی یہی روح ہے کہ جنگ جیسی دہشت خیز چیز کو بھی وہ شریفانہ قوانین کا پابند اور انسانی جذبات سے آشنا بناتا ہے۔ یہ قوانین اس قابل ہیں کہ (ایک بزرگ کے الفاظ میں) یہ دنیا میں ’’جنگ کی اندھیر نگری کو جہادی تہذیب کا عطیہ‘‘ جیسے نام سے یاد کیے جائیں۔ اسلام کا مزاج تو یہ ہے کہ :

اِن اللّٰہ قد کتب الاحسان علی کل شیء، فاذا قتلتم فأحسنوا القتلۃ واذا ذبحتم فأحسنوا الذبحۃ۔ (صحیح مسلم، ۱۹۵۵)

’’اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے (یہاں تک کہ یہ بھی حکم ہے کہ) جب تم کسی کوقتل کر و تو بھلی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بھی اصل میں ایک خراب اور بری چیز ہے، لیکن ’’فتنہ‘‘ اور ظلم اتنی خراب چیزیں ہیں کہ وہ جنگ کو جائز اور کبھی ضروری بنادیتی ہیں۔

جس نے اسلام اور رسول اسلام کی سیرت کا کوئی تفصیلی مطالعہ نہ کیاہو وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ جنگ بھی اخلاق اور انسانیت کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ جنگجو سپاہی کو عدل وانصاف کا درس اور وہ بھی عین عالم جنگ اور وقت پیکار میں، کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ اور خدانخواستہ اگر آزادی انسان اور انسانی حقوق کے پرشور نعرے لگانے والی موجودہ حکومتوں کے جنگی نظام اور فوجی تعلیم و تربیت کے طریقوں کو کسی نے کچھ جانا پڑھا ہے، تب تو وہ یہ خیال کرنے میں کچھ شاید معذور بھی قرار پائے گا کہ جنگ میں انسانیت کا نام لینا کانفرنسوں کی خوش نما اور مکارانہ تقریروں کو زینت بخشنے والی ایک پرفریب ادا کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔

مگر اسلام کا معاملہ دیگر ہے۔ یہاں جنگ ملک و قوم کی خدمت اور ترقی کے لئے نہیں ہے۔ مغربی قوموں نے اعلانیہ طور پر اپنی سیاست و حکومت کا مقصد قومی مفادات کا حصول بتایا ہے، اور جنگ کی غرض مفادات کی کشمکش میں غلبہ و استیلاء قرار دینے میں کسی حیا کو مانع نہیں بننے دیا ہے۔ انہوں نے اپنی عام تعلیم گاہوں سے لے کر وزارتوں، دفاعی و سیاسی پالیسی ساز اداروں اور تھنک ٹینکس (Think Tanks) تک میں ظلم و حرص اور خود غرضی کا یہی سبق پڑھا ہے۔ پھر فوجوں کو خونخواری اور شدت پسندی کی سان پر چڑھایا جاتا ہے۔ معاصر دنیا میں قوموں کو پہلے قوم پرستی کی جاہلیت کا سبق پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔قومی نظام تعلیم کا مقصد اچھا انسان نہیں اچھا شہری یعنی ملک وقوم کے مفادات کا پرستار وخادم بناناٹھیرتا ہے۔ ناجائز جنگیں اور مفادات کیلئے خون بہاناقوم پرستی اور Patriotism کے اس فلسفے کی رو سے جائز ٹھہرتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ ان ’’مہذب‘‘ ممالک کی اکثر آبادی کی فطرت ہی مسخ ہوگئی ہے اور انہوں نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ ہر ملک صرف اپنے مفادات کی خاطر دوسری قوموں پر حملہ کرتا ہے۔ اور فوجوں کو کہاں نرمی، اخلاق اور اصول پسندی کی تعلیم دی جاسکتی ہے؟ اس صورت حال نے اسلام کے اصولوں کی تفہیم مشکل بنادی ہے۔ ایک خالی الذہن آدمی جس نے معتبر مآخذ کے واسطے سے مسلمانوں کے اولین عہد کی تاریخ سے واقفیت نہ پیدا کی ہو یا قریب سے سچے مسلمانوں کو نہ دیکھا ہو، وہ اگر کتابوں اور تقریروں سے اسلام کے ان اصولوں اور تعلیمات سے واقف بھی ہوگا تو وہ اس کو شاعرانہ مہارت اور پر فریب لفاظی ہی خیال کرے گا۔ حال آں کہ اسلام کا معاملہ قطعاً مختلف اور برعکس ہے، یہاں قوم کے عزت وغلبہ کے لئے جنگ حرام ہے، جنگ تو خادم ہے اور اعلیٰ مقاصد یعنی سچائی، عدل و خیر اور اللہ کی عبادت جیسے اصولوں کی پاسداری اصل مطلوب ہے۔

ہمیں اس سلسلے میں قرآن و حدیث میں کافی قانونی تفصیلات ملتی ہیں۔ جن میں جنگ کے وہ سارے طریقے جو خونریزی، تباہ کاری، سنگ دلی، ظلم، اور انسانی وقار کی بے حرمتی کے ضمن میں آتے ہیں صراحت کے ساتھ منع کیے گئے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

الغزو غزوان فاما من ابتغیٰ وجہ اللہ واطاع الامام وأنفق الکریمۃ ویاسر الشریک واجتنب الفساد کان نومہ ونبہہ اجراً کلہ۔ وأما من غزا ریاء وسمعۃ وعصی الامام وافسد فی الارض فانہ لا یرجع بالکفاف (سنن نسائی، ۳۱۳۷۔ مسند احمد، ۲۱۵۳۷)

’’جنگیں دو طرح کی ہوتی ہیں : سو جو اللہ کی رضا وخوش نودی کے لئے جنگ کرے، امیر کی اطاعت کرے، اپنا اچھا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ اپنے ساتھی کے ساتھ اچھا معاملہ کرے ، اورفساد اور بگاڑ سے بچے تو اس کا سونا جاگناسب( اللہ کے راستے میں ہے اور ) موجب ثواب ہے ، مگر جو دکھاوے کے لئے نکلے ، امیر کی نہ مانے اور زمین میں تباہی اور فساد مچائے تو یہی نہیں کہ اس کو ثواب نہیں ملے گا بلکہ الٹا گناہ لے کر آئے گا۔‘‘

مقتول دشمن کی لاش کی بے حرمتی اور اس کے جسم کا مُثلہ یعنی اعضا کی قطع و برید کو ممنوع قرار دیا گیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن یزید انصاریؓ سے روایت ہے کہ:

نہی النبیؐ عن النہبیٰ والمثلۃ (بخاری، ۲۴۷۴)

نبی اکرمؐ نے جنگ میں مال لوٹنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا ہے۔

رسول اللہؐ کا معمول تھا کہ فوجوں کو روانہ کرتے وقت ان کو جمع کر کے آپؐ ایک رخصتی خطاب فرماتے ، اس خطاب میں لازماً ان کو خوف خدا اور تقوی واحتیاط کے طرز عمل کی تاکید کرتے، اور فرماتے:

اغزوا، ولا تغدروا، ولا تغلّوا، ولا تمثّلوا (صحیح مسلم، ۱۷۳۱)

جاؤ جنگ کرو، مگر نہ کسی سے بد عہدی کرنا، نہ خیانت کرنا اور نہ مثلہ کرنا۔

اللہ کا دین اپنے ماننے والوں کے لئے ان طریقوں کا کوئی جواز نہیں بتاتا۔ وہ صاف بتلاتا ہے کہ اگر کسی نے جنگی جوش وغضب میں ایسی حرکتیں کیں تو کبھی وہ ’’مجاہد‘‘ نہیں بن سکتا ، اور اس کو جہاد کا وہ اجر وثواب نہیں مل سکتا جس کے لیے اس نے اپنے سر کی بازی لگا ئی ہے، بلکہ الٹا وہ جہنم کا خریدار ہوگا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مسلمانوں کی جنگوں کا مقصد نہ علاقے فتح کرنا ہوسکتا ہے اور نہ اپنے غلبے کے پھریرے اڑانا ۔ بلکہ وہ صرف اس مقصد سے جنگ کر سکتے ہیں کہ اللہ کے دین کی دعوت کے سامنے سے رکاوٹیں ختم ہو جائیں، ’’فتنہ‘‘ کا سلسلہ رک جائے اور حق پرستوں کو انسانیت کی ہدایت و خدمت کا کام کرنے کے مواقع مل جائیں ، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ خلیفۂ رسول صدیق اکبرؓ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد پہلالشکر روانہ کرتے وقت اس کے امیر حضرت اسامہ بن زید کو رخصت کرتے ہوئے یہ ہدایات دیتے ہیں:

’’(۱) خیانت نہ کرنا (۲) مال غنیمت مت چرانا(۳) دھوکہ مت دینااور معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرنا(۴) لاشوں کے اعضاء مت کاٹنا(۵) بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو مت مارنا(۶) باغوں کو نہ کاٹنا، نہ جلانا (۷) پھل دار درختوں کو نقصان نہ پہنچانا (۸) اونٹ، گائے اور بکریاں ذبح مت کرنا ، الا یہ کہ کھانے کی ضرورت پڑجائے (۹) راہبوں اور عبادت گاہوں کے خادموں کو مت مارنا۔‘‘ (تاریخ طبری ۲/۲۴۶)

امام مالک نے موطا میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت یزیدؓ ابن ابی سفیانؓ کو شام کے علاقے کی ایک مہم پر روانہ فرمایا، یہ علاقہ عیسائی تھا۔ روانگی کے وقت حضرت ابوبکرؓ ساتھ میں کچھ دور تک رخصت کرنے گئے۔ خود پیدل اور حضرت یزیدؓ سوار۔ اس پر حضرت یزید نے عرض کیا: اے خلیفۂ رسول، یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا مجھے اجازت دیں میں اتر کر پیدل چلوں۔ حضرت ابوبکر نے منع فرمادیا، اور کہا: نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم کو اترنے کی اجازت ہے، مجھے اللہ سے ایک ایک قدم پر ثواب کی امید ہے۔ پھرکچھ احکام دیے۔ جن میں یہ بھی تھا کہ:

’’تم کو کچھ ایسے لوگ ملیں گے جو کہیں گے کہ ہم نے عبادت کی خاطر دنیا چھوڑ دی ہے، تو ان سے کچھ تعرض نہ کرنا۔ اور میں تم کو دس باتوں کی تاکید کرتا ہوں۔ نہ کسی عورت کو قتل کرنا، نہ بچے کو، نہ بوڑھے ضعیف کو، کسی پھل دار درخت کو بھی نہ کاٹنا۔ کسی آبادی کو نقصان نہ پہنچانا۔اگر فوج کو غذائی کمی نہ پیش آئے تو بکری یا اونٹ بھی نہ ذبح کرنا۔ نہ کسی باغ میں آگ لگانا نہ ڈبونا۔ عہد شکنی نہ کرنا۔ مثلہ نہ کرنا۔۔۔‘‘ (موطا، ۸۵۸)

سفیر کی جان کی حفاظت ہی نہیں بلکہ اس کے اکرام کی بھی رسول اللہؐ کی تعلیم ہے۔ آپؐ کا مستقل طرز عمل یہ تھا کہ جب بھی کوئی سفارتی مشن آتا آپ اس کے تمام ارکان کو ہدایا سے سرفراز فرماتے۔ مسیلمۃ الکذاب باغی اور مدعی نبوت تھا۔ اس کے دو سفیر آئے، دونوں ارتداد اور بغاوت کے جرم کی بنا پر مستحق قتل تھے۔ مگر آپؐ نے کہا کہ ’’سفیرکو قتل کرنا جائز نہیں ورنہ میں تم کو قتل کر وا دیتا‘‘۔ صحابۂ کرام کہتے ہیں کہ پھر یہی اسلامی قانون قرار پایا ۔ (مسند احمد ۳۷۵۲، سنن ابو داؤد ۲۷۶۳)

مرض الوفات میں آپ ؐ نے نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے بعد اسلامی حکومت کے ذمہ داروں کو جو چند وصیتیں بطور خاص کیں، ان میں یہ بات بھی تھی کہ:

وأجیزوا الوفد بنحو ماکنت أجیزہم (صحیح بخاری،۴۴۳۱)

’’سفارتی وفود کو ہدیے دیا کرنا جیسا کہ میں دیا کرتا تھا۔‘‘

غیر مسلموں کے ساتھ تعلق

غیرمسلموں سے حسن تعلق اور انسانی رشتوں کی تعلیم کے ساتھ ہی قرآن نے شدید تاکید کی ہے کہ اسلام کے وہ دشمن جو اسلام کو مٹانے کے درپے ہوں، مسلمانوں سے جنگ کررہے ہوں یا ان کے خلاف خطرناک سازشوں کے جال بن رہے ہیں ایسے دشمنوں سے سیاسی سازباز رکھنا اور ان سے پینگیں بڑھانا نہ صرف ناجائز بلکہ ایمان کے منافی ہیں۔

اگر یہ دشمن طاقت ور ہوں تو بڑا خطرہ اس بات کا ہوتا ہے کہ کمزورعزم وایمان کے مسلمان مفادات کی خاطر ان سے سازباز کرنے لگیں۔ یا رشتہ داری اور دیگر سماجی رشتوں کے زیراثر ان کی درپردہ مدد کرنے لگیں۔ یہ چیز دنیا کی کوئی جماعت برداشت نہیں کرسکتی۔ سیاسی اور سماجی نقطۂ نظر سے اپنی ہی صفوں کے اندر ایسے لوگوں کا وجود آستین کے سانپ جیسی خطرناک چیز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خطرہ منافقین کی شکل میں بھرپور طور پر ظاہر ہوا۔ اس لئے اس سلسلے میں بڑے واضح اور تاکیدی احکام اترے کہ دشمنوں سے درپردہ سازباز یا ان کی علانیہ حمایت و مدد ایمان کے قطعاً منافی ہے۔ اس سلسلے کی سب سے صاف اور سخت لہجہ کی آیات یہ اتریں:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاء تُلْقُونَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاء کُم مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِیَّاکُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّہِ رَبِّکُمْ إِن کُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَاداً فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَاء مَرْضَاتِیْ تُسِرُّونَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ وَمَن یَفْعَلْہُ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السَّبِیْلِ ۔ إِن یَثْقَفُوکُمْ یَکُونُوا لَکُمْ أَعْدَاء وَیَبْسُطُوا إِلَیْْکُمْ أَیْْدِیَہُمْ وَأَلْسِنَتَہُم بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَکْفُرُون (الممتحنۃ:۱۔۲)

’’اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو ’’ولی‘‘ مت بناؤ، تم ان سے محبت کے رشتے قائم کرتے ہو، اور وہ اس حق کا جو تمہارے پاس آیا ہے انکار کرتے ہیں۔ نکالتے ہیں اللہ کے رسول کو اور تم کو اپنے گھروں سے صرف اس کی پاداش میں کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاتے ہو، اگر تم نے میرے راستے میں جہاد کے لئے اور میری رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی ہے (تو ہرگز ان کو ولی وہمدم نہ بناؤ) تم چپکے چپکے ان سے محبت کے رشتے قائم کرتے ہو۔ (خبردار) میں تمہارے ڈھکے کھلے سب معاملات سے واقف ہوں۔ اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے ہٹ گیا۔یہ دشمن ایسے ہیں کہ اگر وہ تم کو پاجائیں اور ان کا بس چلے تو وہ دشمن ہی ثابت ہوں گے اور تم پر حملے کرنے کے لئے ضرور زبان اور دست درازی کریں گے۔ اور ان کی تمنا یہ ہے کہ تم کو کافر بنا ڈالیں۔‘‘

یہ آیات مکہ کے ان دشمنان اسلام سے متعلق تھیں جو مکہ میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے ظالم دشمن تھے اور مسلمانوں کے جان و ایمان بچاکے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد بھی ان کے سینوں کے تنور میں دشمنی کی آگ شعلہ زن تھی۔

اسی طرح کی دوسری آیات میں اُن یہود دشمنوں سے سازباز، مخفی روابط اور ان کی درپردہ مدد سے منع کیا گیا ہے جو مدینہ میں اسلام کے خلاف سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَۃً مِّن دُونِکُمْ لاَ یَأْلُونَکُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ (آل عمران: ۱۱۸)

’’اے ایمان والو! اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا قریبی رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، ان کے منھ سے دشمنی نکلی آرہی ہے۔ اور جو سینوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوا:

لا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْْءٍ (آل عمران: ۲۸)

’’ایمان والے مومنین کے خلاف کافروں کو ’’ولی‘‘ نہ بنائیں، اور تم میں سے جو ایسا کرے گا اللہ سے اس کا کوئی رشتہ نہیں۔‘‘

یہ اسلام کی سیاسی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم ہے، جس نے سیاست کو مکمل طور پر ایمان کے تابع بنا دیا ہے۔ اور ہمیشہ کے لیے طے کردیا ہے کہ جس کی سیاست اس کے ایمان کے تابع نہیں اس کا ایمان کھوٹا ہے۔ افسوس کہ اس زمانہ میں اس کو صحیح طور سے سمجھنے والے اور اس پر مضبوطی سے عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ 

بہت سوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ سیاست کے سمندر میں اسلام و کفر دونوں کے جہازوں پر بیک وقت سواری کرسکتے ہیں۔ ایک طرف وہ اسلام کا دم بھرتے ہیں، مسلمانوں کی ہمدردی بلکہ ان کی اجتماعی نمائندگی کے دعوے بھی کرتے ہیں، اور دوسری طرف اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی طاقتوں سے پینگیں بھی بڑھاتے ہیں اور ان کے درباروں میں خلوص و وفا کی قسمیں بھی کھاتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے حامی و مددگار نہیں بلکہ سماج میں اپنے سیاسی آقاؤں کے مفادات کے نگراں ہوتے ہیں۔ ان کا کام ان آقاؤں کے ڈھول پیٹنا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ یہ انہی کے سہارے اپنے لئے عہدے، مناصب اور طاقت و ناموری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ’’یبتغون عندہم العزۃ‘‘۔

ایک بڑی غلط فہمی:

اسلام کی ان تعلیمات کے بارے میں ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ مسلمان دعویٰ تو کرتے ہیں غیرمسلموں کے ساتھ پرامن بقاء باہم، ہمدردی اور حسن سلوک کا، مگر حقیقت اس کے خلاف ہے، اس لئے کہ قرآن نے مسلمانوں کو کافروں سے بے تعلقی کا حکم دیا ہے اور ان سے دوستی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (’’دوستی‘‘ یہ موالات اور ولی بنانے کا غلط ترجمہ ہے۔ ہم اس کا صحیح مفہوم آگے واضح کریں گے۔) اس مغالطہ کی بنیاد دراصل دو غلط فہمیوں پر ہے:

۱۔ ولی کسے کہتے ہیں؟ اور ’’ولاء‘‘ کے جس تعلق سے منع کیا گیا ہے وہ کس قسم کا تعلق ہوتا ہے؟

۲۔ یہ کن کفار کے متعلق بات ہورہی ہے؟ اس موقع پر یہ بات نظرانداز کردی جاتی ہے کہ خود قرآن نے متعدد جگہ ایسی قیدیں لگائی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ احکام عام غیر مسلموں سے متعلق نہیں ہیں بلکہ کچھ خاص کفار سے متعلق ہیں۔ صرف قیدیں ہی نہیں بلکہ ایک اور جگہ پوری صراحت سے یہ بھی بتلادیا ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ احکام دیے گئے ہیں وہ غیرمسلموں میں سے کچھ خاص گروہ ہیں، باقی دوسرے افراد اور گروہ اس دائرۂ ’’بے تعلقی و براء ت‘‘ میں نہیں آتے ہیں۔

پہلی غلطی:

اس سلسلے میں پہلی غلطی یہ ہوتی ہے کہ قرآن نے ان آیات میں کفار کو ’’ولی‘‘ بنانے سے منع کیا ہے (اولیاء اس کی جمع ہے) اس کو ’’دوستی‘‘ یا حسن تعلق کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ عربی زبان کے ’’الولی‘‘ یااس کے مشتقات (Derivatives) کے لئے کوئی مفرد لفظ اردو بلکہ شاید انگریزی سمیت بہت سی زبانوں میں نہیں ملتا۔ اس لئے اس کا ترجمہ لوگ ’’دوست‘‘ اور "Friend" جیسے لفظ سے سے کردیتے ہیں۔ اور یہی چیز اعتراضات کے تیر چلانے والوں کے ترکش کو سامان فراہم کرتی ہے۔

’’ولی‘‘ کے معنی ایسے قرب وتعلق (معجم مقاییس اللغۃ اور دیگر لغوی ماخذ میں اس لفظ کا بنیادی تصور قرب وتعلق بتایا گیا ہے) کے ہیں جس کے ساتھ حمایت و مدد کرنا اور ساتھ دینا شامل ہو۔ لسان العرب میں، جو عربی کی معتبر ترین لغت ہے لکھا ہے: 

الولایۃ: النصرۃ 

’’ولایت کے معنی مدد کے ہیں۔‘‘

آگے ہے:

ہم علی ولایۃ أی مجتمعون فی النصرۃ

’’ان میں ولایت کا تعلق ہے، یعنی مل کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‘‘

منظور ابن الاعرابی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ: موالات یہ ہے کہ دو فریقوں میں اختلاف ہو، تو کوئی تیسرا ثالثی کے لئے داخل ہو اور اس کا میلان کسی ایک فریق کی طرف ہو، پھر وہ اس کی جانبداری کرے۔ (لسان العرب: ۱۵/۴۰۵) امام ابن جریر طبری جو لغت دانی میں ہمارے متقدم مفسرین میں اہم ترین مقام رکھتے ہیں، سورۂ آل عمران کی آیت ۲۸ کی تشریح میں کہتے ہیں:

ہذا نہی من اللہ عزوجل المومنین أن یتخذوا الکفار أعواناً و انصاراً و ظہوراً ۔۔۔ ومعنی ذالک: لا تتخذوا الکفار ظہراً وانصاراً توالونہم علی دینہم وتظاہرونہم علی المسلمین من دون المومنین وتدلونہم علی عوراتہم۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کو روکا گیا ہے کہ وہ کفار کو اپنا معین ومددگار اور پشت پناہ بنائیں ۔۔۔ یعنی کہا گیا ہے کہ کفار کو پشت پناہ و مددگار سمجھ کر ان کے دین کے معاملہ میں ان کا ساتھ مت دو کہ مسلمانوں اور مومنین کے خلاف ان کی مدد کرو اور مسلمانوں کے راز ان کو بتاؤ۔

سورہ توبہ کی آیت ۷۳ میں ’’ولایۃ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: 

المعروف فی کلام العرب من معنی الولی انہ النصیر والمعین

’’کلام عرب میں ولی کے معروف معنی مددگار اور اعانت کرنے والے کے ہیں‘‘

اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان آیات کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ اہل ایمان کو منع کیا گیا ہے کہ وہ دشمنوں سے رازدارانہ پینگیں نہ بڑھائیں اور ان کی مخفی مدد نہ کریں۔ ان آیات کا کوئی تعلق دوستی یا اچھے سلوک سے نہیں ہے۔

اس مراد و معنی کی مزیدوضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ قرآن نے خود جابجا اس صورت حال کی طرف اشارہ کردیا کہ جس ’’ولاء‘‘ کے تعلق سے منع کیا جارہا ہے، وہ ’’من دون المومنین‘‘ یعنی ’’مومنین کے خلاف مدد‘‘ کا تعلق تھا ،(مثلاً سورہ آل عمران ۲۸۔ النساء ۱۳۹ اور ۱۴۴)۔ یہ’’مومنین کے خلاف‘‘ کی قید خود بتارہی ہے کہ جن حالات کی طرف اشارہ کیاجارہا ہے ان میں مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی مدد کی جارہی تھی۔

ان تعلیمات کا پس منظر:

ان آیات کا پس منظر (جو آیات کے اندر سے صاف جھلکتا ہے) یہ ہے کہ اسلام کے مخالفین شجرۂ اسلام کو اکھاڑ پھینکنے کی زبردست دشمنانہ مہموں میں مصروف ہیں۔ جنگوں کے سیلاب امڈ رہے ہیں۔ مشرکین کی علانیہ جنگوں کے ساتھ ساتھ مدینہ میں بسنے والے وہ یہودی قبائل جنہوں نے معاہدے کررکھے ہیں وہ بھی سازشوں میں لگے ہیں۔ جنگوں کے علاوہ داخلی بدامنی پھیلانا، مسلمانوں میں قبائلی اور جاہلی عصبیت جگا کراتحاد کو توڑنا، اسلام کو بدنام کرنااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی اس سازش کے خاص اہداف ہیں۔ مسلمانوں میں دونوں ہی یعنی مشرکین مکہ اور یہود مدینہ کی رشتہ داریاں اور قرابتیں ہیں، دوستیاں ہیں، تعلقات اور معاملات ہیں۔ منافقین کے گروہ کی ہمدردیاں اِن دشمنوں کے ساتھ ہیں۔ موقعہ بموقعہ وہ دشمنوں کی فساد انگیز سازشوں کے لئے بہترین ایجنٹ اور آلۂ کار ثابت ہو رہے ہیں۔

قرآن نے اس گروہ کی ان خطرناک سرگرمیوں کی پوری پردہ دری کی ہے۔ یہ سرگرمیاں کس خطرناک حد تک پہنچی ہوئی تھیں اس کا اندازہ اس واقعے سے ہو سکتا ہے کہ ۹ھ ؁ میں انہوں نے مسجد کے نام پر قبا میں اپنا ایک باقاعدہ مرکز بنالیا، قرآن نے اس مرکز کی سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا کہ اس مرکز کا مقصد مسلم ریاست کو نقصان پہنچانا، کفر کرنا، مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا، اور باہر سے ایک دشمن فوج کو حملہ کرنے کی دعوت دینا اور اندر کی بغاوت کے ذریعہ اس کی اسٹریٹجک مدد کرنا تھا(سورہ توبہ آیت ۱۰۷)۔

ان خالص منافقین کے علاوہ ایک تعداد ایسے کمزور ایمان والوں کی بھی تھی جو حالات کے ہر نازک موڑ پر اپنی وفاداریوں کو لے کر دونوں طرف حاضری دیتے تھے۔ منافقین کا گروہ زیادہ تر یہود کے زیراثر تھا، اور اس کی ان سے وفاداری کا یہ حال تھا کہ ان دشمنوں کے ایجنڈے پر سرگرمی کے ساتھ کام کرتا تھا، اسی سلسلے میں ’’فتری الذین فی قلوبہم مرض یسارعون فیہم‘‘ (یعنی تم دیکھتے ہو دل کے روگی منافقوں کو کہ وہ ان یہودیوں میں تیزی سے دوڑ بھاگ کرتے ہیں، المائدہ ۵۲)کہہ کر قرآن نے ان کی ان ہی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایسے احکام دیتے وقت قرآن میں جابجا یہ صورت حال صاف بیان کی گئی ہے۔ سورہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے :

بَشِّرِ الْمُنَافِقِیْنَ بِأَنَّ لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً۔ الَّذِیْنَ یَتَّخِذُونَ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِیْنَ أَیَبْتَغُونَ عِندَہُمُ الْعِزَّۃَ فَإِنَّ العِزَّۃَ لِلّہِ جَمِیْعاً۔ وقدْ نَزَّلَ عَلَیْْکُمْ فِیْ الْکِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللّہِ یُکَفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُواْ فِیْ حَدِیْثٍ غَیْْرِہِ إِنَّکُمْ إِذاً مِّثْلُہُمْ إِنَّ اللّہَ جَامِعُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْکَافِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعاً۔ الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُونَ بِکُمْ فَإِن کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّہِ قَالُواْ أَلَمْ نَکُن مَّعَکُمْ وَإِن کَانَ لِلْکَافِرِیْنَ نَصِیْبٌ قَالُواْ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْْکُمْ وَنَمْنَعْکُم مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَاللّہُ یَحْکُمُ بَیْْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَن یَجْعَلَ اللّہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً۔ إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ یُخَادِعُونَ اللّہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَی الصَّلاَۃِ قَامُواْ کُسَالَی یُرَآؤُونَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُونَ اللّٰہَ إِلاَّ قَلِیْلاً۔ مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْْنَ ذَلِکَ لاَ إِلَی ہَؤُلاء وَلاَ إِلَی ہَؤُلاء وَمَن یُضْلِلِ اللّہُ فَلَن تَجِدَ لَہُ سَبِیْلا (النساء: ۱۳۷۔۱۴۱) 

ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان منافقوں کو آگاہ کردیں کہ انہوں نے اسلام کے دشمنوں سے جو مخفی تعلقات قائم کررکھے ہیں، ان کی سزا کے طور پر وہ جہنم میں ڈالے جانے کے لئے تیار رہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ منافقین مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ’’ولی‘‘ بناتے ہیں، ان کا گمان یہ ہے کہ یہ ان کا ساتھ دے کر عزت و غلبہ حاصل کرلیں گے؟ یہ جن کافر لیڈروں کی مجلسوں میں حاضری دیتے ہیں وہاں اسلام اور رسول اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور یہ وہاں خوشی خوشی بیٹھے رہتے ہیں۔ ان منافقوں کا یہ حال بھی بتلایا گیا ہے کہ یہ انتظار میں رہتے ہیں ،نہ اِدھر پورے طور پر نہ اُدھر پورے طور پر، تاکہ اگر مسلمانوں کو فتح و غلبہ نصیب ہوتو آکر کہیں ہم تو آپ کے ساتھ ہیں، اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہے تو یہ ان کے پاس یہ کہتے ہوئے پہنچیں کہ ’’کیا ہم نے تمہاری مسلمانوں سے مدافعت کرنے میں کوئی کسر چھوڑی تھی؟‘‘

یہ ہے موالاۃ الکفار، یعنی منافقوں کا وہ طرز عمل جس کو اختیار کرنے سے اس وقت منع کیا جارہا تھا۔

جیسا کہ اوپر اشارہ گذر چکا ہے کہ منافقین کا یہ گروہ سیاسی اور سماجی طور پر بری طرح یہودیوں کے زیراثر تھا۔ اور ان کے ہر فتنہ انگیز پروپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیتا تھا۔ یہود کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کے لئے مستقل تہمتوں اور پروپیگنڈوں کے طوفان اٹھائے جاتے رہتے تھے۔ یہ منافقین اس جنگ کے ہروال دستے ثابت ہوتے تھے۔ قرآن میں جابجا (مثلاً خصوصا سورۂ احزاب اور سورۂ نور میں)اس صورت حال کی طرف اشارے ہیں۔ یہودی سردار اسلام کا مذاق اڑاتے، ان کی مجلسوں میں عوام مسلمان بھی حاضر ہوتے۔ عرب کے مشرکین بھی اس مہم میں تائید کرتے تھے۔ یہ یہود و مشرکین عام مسلمان لوگوں کو اس پر ابھارتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر آجائیں اور بغاوت کردیں۔ اسی سلسلۂ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس اسلام دشمن مہم کے دوران تم دیکھوگے کہ جن لوگوں کے دل روگی ہیں (نفاق کے مرض کے) وہ دوڑ دوڑ کر ان کفار سے پینگیں بڑھارہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔

یہ ہے ولاء کا وہ منافقانہ تعلق جس کے بارے میں کہا گیا کہ مسلمان اپنے ان دشمنوں کے ساتھ ایسا تعلق ہرگز قائم نہ کریں جو ان کے دین کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے تعلقات ایمان کے منافی ہونے کے علاوہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے سیاسی اور سماجی طور پر نہایت خطرناک تھے۔ اس سے روکنا بہرحال ضروری تھا اور اب بھی ہے۔

مغالطے کی دوسری بنیاد:

اس مغالطے کی دوسری بنیاد یہ ہے اس تاکیدی تعلیم کو عام غیر مسلموں سے متعلق سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ، جیسا کہ گزشتہ آیات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکم اسلام اور مسلمانوں کے ان دشمنوں کے سلسلے میں ہے، جو اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں۔ مزید ذیل کی آیت پر غور کیجیے: 

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَۃً مِّن دُونِکُمْ لاَ یَأْلُونَکُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ ُ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الآیَاتِ إِن کُنتُمْ تَعْقِلُونَ۔ ہَاأَنتُمْ أُوْلاء تُحِبُّونَہُمْ وَلاَ یُحِبُّونَکُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْکِتَابِ کُلِّہِ وَإِذَا لَقُوکُمْ قَالُواْ آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَیْْکُمُ الأَنَامِلَ مِنَ الْغَیْْظِ قُلْ مُوتُواْ بِغَیْْظِکُمْ إِنَّ اللّہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ۔إِن تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ وَإِن تُصِبْکُمْ سَیِّءَۃٌ یَفْرَحُواْ بِہَا وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْْدُہُمْ شَیْْئاً إِنَّ اللّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیْط (آل عمران: ۱۱۸۔۱۱۹)

’’اے ایمان والو! اپنوں کو چھوڑ دوسروں کو خاص رازدار مت بناؤ وہ تم کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان کی بڑی خواہش ہے کہ تم برباد ہوجاؤ۔ ان کے منھ سے دشمنی نکلی آرہی ہے اور جو سینہ میں چھپا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ ہم نے تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کر دیے ہیں اگر تم عقل سے کام لو۔ دیکھو! تم تو ان سے محبت کررہے ہو اور وہ تم سے دشمنی۔ تم تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، وہ تم سے جب ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔ اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ مارے نفرت اور غصے کے انگلیاں چبانے لگیں۔ کہہ دو: تم اپنے غصہ میں مرجاؤ، اللہ سینوں کے بھید جانتا ہے۔ تم اچھے حال میں ہو تو ان کو برا لگتا ہے، اور نقصان پہنچے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازشیں تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتیں۔ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اس کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔‘‘

ان آیات میں جن دشمنوں کا تذکرہ ہے ان کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ انکے سینوں میں دشمنی کی بھٹیاں ہیں۔ اور ان کی مجلسوں میں مسلمانوں کی بربادیوں کے منصوبے ہیں۔ یہاں جو ’’بطانۃ‘‘ کا لفظ بولا گیا ہے اس کے معنی ایسے خاص رازدار کے ہیں جو ہر معاملے میں دخیل ہو(لسان العرب)۔

ان احکام کی صحیح نوعیت وحقیقت اس سے واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہجرت کی نہایت رازدارانہ، نازک اور اہم مہم میں ایک غیر مسلم عبد اللہ ابن ارقد کو شریک ورازدار ہی نہیں بنایا بلکہ اس کے اوپر مکمل اعتماد بھی کیا۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان آیات کا مطلب دشمنوں کو رازدار اور اپنے معاملات میں دخیل بنانے سے روکنا ہے۔ یقیناًنفاق واغراض پرستی کے شکار نام کے مسلمانوں سے زیادہ اعتماد کے لائق شریف اور اصول پسند غیر مسلم ہوتے ہیں۔

اس سلسلے کی سب سے تاکیدی اور مکمل تعلیم سورۂ ممتحنہ میں دی گئی ہے۔ یہ آیات گذر چکی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ان کے آہنگ وانداز پر غور کیجیے :

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاءَ تُلْقُونَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاءَ کُم مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِیَّاکُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللّٰہِ رَبِّکُمْ إِنْ کُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَاداً فِیْ سَبِیْلِی وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِیْ تُسِرُّونَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ وَمَنْ یَفْعَلْہُ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِیْل، إِنْ یَثْقَفُوکُمْ یَکُونُوا لَکُمْ أَعْدَاءً وَیَبْسُطُوا إِلَیْْکُمْ أَیْْدِیَہُمْ وَأَلْسِنَتَہُم بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَکْفُرُونَ (الممتحنۃ:۱۔۲)

’’اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو ’’ولی‘‘ مت بناؤ، تم ان سے محبت کے رشتے قائم کرتے ہو، اور وہ اس حق کا جو تمہارے پاس آیا ہے انکار کرتے ہیں۔ نکالتے ہیں اللہ کے رسول کو اور تم کو اپنے گھروں سے صرف اس کی پاداش میں کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاتے ہو، اگر تم نے میرے راستے میں جہاد کے لئے اور میری رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی ہے (تو ہرگز ان کو ولی وہمدم نہ بناؤ) تم چپکے چپکے ان سے محبت کے رشتے قائم کرتے ہو۔ (خبردار) میں تمہارے ڈھکے کھلے سب معاملات سے واقف ہوں۔ اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے ہٹ گیا۔ یہ دشمن ایسے ہیں کہ اگر وہ تم کو پاجائیں اور ان کا بس چلے تو وہ دشمن ہی ثابت ہوں گے اور تم پر حملے کرنے کے لئے ضرور زبان اور دست درازی کریں گے۔ اور ان کی تمنا یہ ہے کہ تم کو کافر بنا ڈالیں۔‘‘

’’کفار کو اولیا بنانے‘‘ کی ممانعت کے سلسلے میں یہ قرآن کی سب سے شدید آہنگ و انداز کی آیات ہیں۔ مگر دیکھیے یہاں بھی عام غیرمسلموں کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ ’’عدوّی وعدوّکم‘‘ کہا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ تمہارے ایسے دشمن ہیں جو تمہارے دین اور تمہارے خدا کے بھی دشمن ہیں۔ اور ایسے دشمن کہ صرف دینی دشمنی میں تم کو تمہارے دیس سے نکال ڈالا۔

قرآن کی صراحت کہ یہ احکام کن لوگوں کے بارے میں ہیں:

مزید غور طلب ہے کہ اس موضوع پر قرآن کی اِن سب سے سخت آیات میں،صراحت کے ساتھ یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ ’’کفار کو اولیاء بنانے‘‘ کی ممانعت کن ’’کفار‘‘ سے متعلق ہے، اور کون سے غیرمسلم ان آیات کے اطلاق سے باہر ہیں۔ یہاں بتا دیا گیا ہے کہ یہ ممانعت ان عام غیر مسلموں کے بارے میں نہیں ہے جو تمہارے ساتھ امن باہمی اور صلح کا رویہ رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ حکم صرف ان کے بارے میں ہے جو تمہارے دشمن ہیں دین کے سلسلے میں اور تم سے برسرپیکار ہیں۔ 

لا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْہُمْ وَمَن یَتَوَلَّہُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُون۔ (الممتحنۃ ۸۔۹)

’’اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جنہوں نے دین کی وجہ سے تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تم کو اپنے گھروں سے نہیں نکالا ہے کہ تم ان کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرو۔ اللہ کو انصاف کا معاملہ کرنے والے پسند ہیں۔ اللہ تو بس ان لوگوں کو ولی بنانے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے جنگ کی ہے دین کی وجہ سے (یعنی وہ تمہارے دین کو مٹانا چاہتے ہیں) اور تم کو تمہارے گھروں سے نکال دیاہے اور تمہارے نکالے جانے میں مدد کی ہے، کہ تم ان کو ولی و مددگار بناؤ۔ جو ان کو ولی و مددگار بنائیں گے وہی ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘

یہ آیت اس موضوع و مضمون کی ساری آیات کی قطعی وضاحت کی حیثیت رکھتی ہے کہ قرآن میں جن ’’کفار‘‘ سے موالات کے تعلق کو منع کیا گیا ہے ان سے کس قسم کے لوگ مراد ہیں اور کس قسم کے نہیں۔

اس تفصیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ ’’ولاء‘‘ کے جس تعلق سے منع کیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ اور یہ بھی صاف ہوجاتا ہے کہ وہ عام غیرمسلم جو مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی نہیں رکھتے اور دشمنانہ کارروائیوں میں مصروف نہیں ہیں ان کا ان آیات میں کوئی ذکر نہیں ۔

ایک غلو آمیز بات:

اس تفصیل سے اس غلوآمیز طرز فکر کی بھی نفی ہوجاتی ہے جو مختلف اہل علم کے یہاں نظر آتا ہے، ان کے مقام کے اعتراف کے باوجود یہ کہے بنا چارہ نہیں کہ انہوں نے ان آیات پر مجموعی نظر نہیں کی۔ مثلاً مشہور داعی توحید و مصلح شیخ محمد بن عبدالوہاب فرماتے ہیں:

ان الانسان لا یستقیم لہ اسلام و لو وحد اللہ وترک الشرک إلا بعداوۃ المشرکین۔ (بحوالہ: الولاء و البراء محمد بن سعید القحطانی ۱/۸)

’’کسی انسان کا اسلام اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا چاہے وہ توحید کا قائل ہو اور شرک کو چھوڑ دے جب تک کہ وہ مشرکین سے دشمنی نہ رکھے۔‘‘

ایک معاصر سعودی عالم ڈاکٹر سہل بن رفاع العتیبی (استاذ العقیدۃ الاسلامیہ والمذاہب المعاصرۃ، جامعۃ الملک سعود ریاض) اپنے نزدیک اس کو ایک معتدل موقف مانتے ہیں کہ ’’اسلام نے غیرمسلم سے محبت (مودت) کو حرام قرار دیا ہے مگر اس کے ساتھ نیکی و حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ (دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حضرات پہلے تو مطلقاً غیر مسلم سے محبت کو حرام لکھتے ہیں، پھر انسانی رشتے سے طبعی وفطری محبت کی اجازت بھی دیتے ہیں۔ (کتاب مذکور، ص ۸)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حضرات بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ ایک غیر مسلم اپنے انسانی اور دیگر قومی یا نسلی رشتہ کی بنیاد پر فطری محبت وتکریم اور ہمدردی کا مستحق ہے، الا یہ کہ وہ اسلام دشمنی یا مسلمانوں سے لڑائی کی بنا پر بغض کا حق دار بنے۔ گویا اصل غلطی کم سے کم بڑی حد تک صرف تعبیر کی ہی ہے۔ (ملاحظہ ہو ان کی کتاب الفرق والبیان بین مودۃ الکافر والاحسان الیہ

ان حضرات کا استدلال ان دو آیتوں سے ہے:

(۱) لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ (المجادلۃ: ۲۲)

’’تم نہیں پاؤگے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے عناد اور دشمنی کرنے والوں سے محبت کا معاملہ کرتے ہیں، چاہے وہ ان کے باپ بیٹے یا بھائی ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

(۲) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاء تُلْقُونَ إِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاء کُم مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِیَّاکُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّہِ رَبِّکُمْ (الممتحنۃ: ۱)

’’اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو اپنا ’’ولی‘‘ نہ بناؤ کہ تم ان سے محبت کے رشتے رکھو اور وہ انکار و کفر کریں تمہارے پاس آنے والے حق کا، نکالتے ہیں تم کو (اپنے وطن سے) صرف اس وجہ سے کہ تم ایمان لائے اللہ اپنے رب پر۔‘‘

مگر ذرا سا غور کرنے سے اس استدلال کا بے محل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔ دونوں جگہ عام غیرمسلموں کی بات چل ہی نہیں رہی ہے۔ عناد، ظلم، اور جارحیت کے مرتکب دشمن کی بات چل رہی ہے۔ پہلی آیت میں تصریح ہے کہ یہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو اللہ اور رسول یعنی ان کے دین سے دشمنی اور جنگ کریں من حاد اللہ و رسولہکا یہی مطلب ہے۔ دوسری آیت میں بھی اللہ اور مسلمانوں کے دشمنوں کی اور جنگ و قتال کرنے والوں کی صراحت ہے۔ لفظی صراحت کے علاوہ سیاق کلام دونوں جگہ اس سلسلے میں اتنا صریح ہے کہ اس سے زیادہ صریح کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ان صراحتوں سے نظر نہ پھیری جائے تو بات واضح ہے۔

خود قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلا دیا ہے کہ:

قل لا أسألکم علیہ أجراً إلا المودۃ فی القربیٰ۔ (الشوریٰ: ۲۳)

’’کہہ دو! میں تم سے اس (دعوت) کا کوئی بدلہ نہیں مانگتا، مانگتا ہوں تو بس رشتہ داری کی محبت۔‘‘

کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ سلم ان سے یک طرفہ محبت مانگتے تھے۔ اور معاذ اللہ اس کے بدلے میں رشتہ داری کی محبت دینے کے بجائے بغض و عداوت رکھتے تھے؟ 

اور کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی حفاظت کرنے والے چچا ابوطالب سے نفرت اور دشمنی تھی؟ ہرگز نہیں! ابوطالب یقیناًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محبوب چچاتھے۔

اس سے بالکل اتفاق ہے کہ اسلام و ایمان کا بنیادی تقاضا شرک و کفر اور ان کے طریقہ و ملت سے اختلاف اور ناپسندیدگی ہے۔ اور کسی مسلمان کے لئے اس کو برحق یا صحیح سمجھنا، یا معاذ اللہ اس سے محبت رکھنا قطعاً اسلام کے منافی ہے۔ مگر یہ بالکل دوسری بات ہے اور اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہر غیرمسلم سے چاہے وہ صلح جو اور امن پسند ہو قومی یا عام انسانی رشتے کی محبت رکھنا منع ہو۔بلکہ ان آیات ہی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جو امن وصلح پسند غیرمسلم تعدی و ظلم کے مرتکب نہ ہوں ان کے ساتھ قرآن اچھے جذبات رکھنے، خیر خواہی کرنے اور بھلائی اور ہمدردی و مدد کا حکم دیتا ہے۔ اس کی ترغیب سورۂ ممتحنہ میں یہ کہہ کر دی گئی ہے کہ: ’’ان اللہ یحب المقسطین‘‘ اللہ انصاف اور عدل کا معاملہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اوپر شیخ محمد بن عبدالوہاب کی جو عبارت ذکر کی گئی ہے اور جس میں اس ہیچ مداں کو غلو نظر آتا ہے، اس جیسی تعبیر دوسرے نہایت قابل احترام و محبت عالم وداعی شیخ عبدالعزیز ابن بازؒ کے ایک مقالے میں بھی نظر آئی ہے۔یہ مقالہ دراصل سابق شیخ الازہر شیخ جادالحق علی جاد الحق کے ایک مقاملے پر استدراک کے مقصد سے خط کے بطور لکھا گیا تھا۔ شیخ الازہر کے مقالے میں واقعۃً اسلام اور دیگر ادیان کے درمیان باہمی تعاون و اتفاق، بلکہ اشتراک تک کی بات کہی گئی تھی۔ شیخ الازہر کی عبارت پڑھیے:

فنظرۃ المسلمین اذن الی غیرہم من اتباع الیہودیۃ و النصرانیۃ ہی نظرۃ الشریک الی شرکاۂ فی الایمان باللہ والعمل بالرسالۃ الإلٰہیۃ التی لا تختلف فی اصولہا العامۃ۔

’’مسلمان یہودیت اور نصرانیت کے متبعین کو ایمان باللہ اور آسمانی دین میں شریک کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ان کے درمیان اس آسمانی پیغام کے عام اصولوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘

استغفراللہ۔ یہ یقیناً واقعہ کے خلاف بات تھی، غیرمسلموں کے ساتھ ہرخیر میں تعاون، اور ہمدردی و حسن سلوک کے باوجود دوسرے مذاہب کے ساتھ اسلام اپنے اختلاف کو چھپانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس وقت یہود اور نصاری کا دین بنیادی طور پر کفر ہے، نہ کہ اسلام کے ساتھ بنیادی اصولوں میں مشترک پیغام۔ شیخ ابن بازؒ نے اس پر استدراک کیا، مگر اس میں ایک غلو آمیز بات (ہمارے نزدیک غلو آمیز بات) کہہ گئے۔ تحریر فرماتے ہیں:

ان اللہ سبحانہ قد اوجب علی المومنین بغض الکفار ومعاداتہم و عدم مودتہم (مجموع فتاویٰ و مقالات، ۸/۹۱)

’’یقیناً اللہ نے اہل ایمان پر کفار سے بغض و دشمنی ضروری قرار دی ہے، اور یہ کہ ان سے محبت نہ رکھی جائے۔‘‘

بہرحال مسئلہ کی یہ تعبیر اس اطلاق کے ساتھ غلط ہے۔ قرآن میں اس کی کوئی دلیل نہیں، بلکہ اس کے خلاف دلیل موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان غلوآمیز تعبیرات کی اصلاح کی جائے۔

مسلمانوں کا اصل ولی صرف مخلص اہل ایمان کو ہونا چاہیے:

دراصل اسلام یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جو اللہ کا بندہ انبیاء علیہم السلام کے دین کو برحق جان کر قبول کرے، اور یہ یقین کرے کہ وہی ایک حق کا راستہ ہے جس میں ساری انسانیت کی دنیا اور آخرت میں فلاح ہے، تو اسلام کا اس سے بنیادی مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس حق کے فروغ کے لیے اپنے تن من دھن کو لگانے کا تہیہ کر لے، اور اسی کو اپنا اصل مشن بنا لے۔ انسان جب کسی مقصد کو اپنی زندگی کا مشن بنالیتا ہے اور اس کا عشق اس پر چھاجاتا ہے تو اس کا اپنے مشن کے ساتھیوں سے ایک خاص قسم کا تعاون اور مدد گاری کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ وہ محبت اور حسن سلوک تو سب سے کرتا ہے مگریگانگت اور دمسازی وہمسازی کا جو تعلق اپنے مشن کے مخلص اور وفادار ساتھیوں سے اس کو ہوتا ہے وہ کسی اور سے ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ مسئلہ اس کے لیے کسی تعلیم وتلقین کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کے مشن کا فطری تقاضہ اور اس کے دل کی اندر کی آواز ہوتا ہے۔

مسلمانوں سے بھی اسلام کا اصل مطالبہ یہی ہے کہ وہ ایمان اور مشنری جذبے میں ایسے ہوں کہ ان کا مخلصانہ جد وجہد میں شرکت کا تعلق ان مخلص اہل ایمان سے ہونا چاہیے جو اسلام اور ایمان کی راہ کے مرد میدان ہوں۔ 

إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُون (المائدۃ: ۵۵)

’’تمہارے ولی تو بس اللہ، اس کا رسول اور وہ (حقیقی) ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو (اللہ کے سامنے) جھکے رہتے ہیں۔‘‘

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم قومیت اور گروہ بندی سے کس قدر دور ہے! اس نے عام مسلمانوں تک کو اِس ولایت کا مستحق نہیں قرار دیا ہے بلکہ تعلیم دی ہے کہ کوشش اس بات کی ہونی چاہیے کہ ایک مسلمان کا یہ ولاء کا تعلق مخلص اور سچے اہل ایمان کے ساتھ ہی ہو۔ ایک اور جگہ اور واضح ہو کر یہ پہلو آگیا ہے اور صاف کہا گیا ہے کہ ایمان واسلام کی راہ میں جد وجہد اور ہجرت ونصرت کی قربانیوں کی راہ میں جو لوگ شریک ہیں وہی تمہارے حقیقی اولیاء ہیں، اور جو لوگ اس درجے کے نہیں وہ نہیں ہیں۔

إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَہَاجَرُواْ وَجَاہَدُواْ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُوْلَءِکَ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یُہَاجِرُواْ مَا لَکُم مِّن وَلاَیَتِہِم مِّن شَیْْءٍ (الانفال:۷۲)

’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے مجاہدے اور محنتیں کیں، اور جن لوگوں نے اِن کو (اپنے گھروں میں) بسایا اور ان کی مدد کی (یعنی انصار) یہ لوگ باہم ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ اور جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی تمہارا ان کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘

الحمد للہ، امید ہے کہ اس تفصیل کے ذریعے اسلام کی ایک اہم تعلیم جس پر براہ راست ایمان اور اللہ ورسول کے ساتھ خلوص ووفا کے رشتے کا دار ومدار ہے پورے طور پر سامنے آگئی ہوگی۔ اور بحمد اللہ یہ بھی امید ہے کہ اس سلسلے میں جو شبہے اور اشکالات ذہنوں میں آتے ہیں اور جنہیں اس زمانے کے مخصوص حالات نے بہت بڑھا دیا ہے، ان کی بھی پوری اطمینان بخش وضاحت ہو گئی ہوگی۔

جہاد / جہادی تحریکات

مارچ ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۳

ابتدائیہ
محمد عمار خان ناصر

اسلام کا تصور جہاد ۔ چند توضیحات
مولانا محمد یحیی نعمانی

جہاد ۔ ایک مطالعہ
محمد عمار خان ناصر

’’پر امن طریق کار‘‘ بمقابلہ ’’پر تشدد طریق کار‘‘
مولانا حافظ محمد رشید

حکمرانوں کی تکفیر اور خروج کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (پہلی مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (دوسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (تیسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے
الشیخ ایمن الظواہری

عصر حاضر میں خروج کا جواز اور شبہات کا جائزہ
محمد زاہد صدیق مغل

غلط نظام میں شرکت کی بنا پر تکفیر کا مسئلہ ۔ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مولانا مفتی محمد زاہد

تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں
محمد مشتاق احمد

کیا دستور پاکستان ایک ’کفریہ‘ دستور ہے؟ ایمن الظواہری کے موقف کا تنقیدی جائزہ
محمد عمار خان ناصر

پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی
محمد مشتاق احمد

خروج ۔ کلاسیکل اور معاصر موقف کا تجزیہ، فکر اقبال کے تناظر میں
محمد عمار خان ناصر

تعارف و تبصرہ
ادارہ