انصاف یا جنگل کا قانون؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سالانہ سیرت کانفرنس میں ’’سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی گزارشات قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ اس کانفرنس سے مولانا حافظ صلاح الدین یوسف‘ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا جبکہ مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان تھے جنہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں راقم الحروف کی معروضات کو سیرت النبی ﷺ کے صحیح رخ پر مطالعہ کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ آج کے عالمی حالات اور مشکلات ومسائل کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت نبوی ﷺ کے اسی طرز کے مطالعہ کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری گزارشات کے حوالے سے دو پہلوؤں پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار فرمایا جن کے بارے میں خود میرا بھی خیال ہے کہ ان کی وضاحت ضروری تھی اور یہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کے خطاب کے بعد اس سیرت کانفرنس میں مزید کچھ گزارش کرنے کی گنجائش نہیں تھی اس لیے ان امور کی طرف توجہ دلانے پر ڈاکٹر ایس ایم زمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’’نوائے قلم‘‘ کے ذریعے سے ان کے بارے میں ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں۔

ایک بات تو یہ ہے کہ مذہب کے لیے ہتھیار اٹھانے سے کیا مراد ہے؟ ڈاکٹر صاحب کا ارشاد ہے کہ اگر تو اس سے مراد مذہب کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانا ہے تو اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے اور اگر اس کا مطلب مذہب کی تبلیغ کے لیے ہتھیار اٹھانا ہے تو یہ بات محل نظر ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی کافر کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور قرآن کریم نے سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۵ میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔‘‘

مجھے ڈاکٹر صاحب موصوف کی دونوں باتوں سے اتفاق ہے لیکن یہ معاملہ ان دو صورتوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ ایک اور صورت بھی درمیان میں ہے جس کو سامنے نہ رکھنے کی وجہ سے عام طور پر یہ الجھن پیش آجایا کرتی ہے۔ وہ ہے اسلام کی دعوت وتبلیغ اور نسل انسانی تک اسلام کا پیغام پہنچانے میں رکاوٹ بننا ۔اور اسلام نے کافر قوتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حکم اسی صورت میں دیا ہے جبکہ وہ لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچنے میں رکاوٹ بن جائیں کیونکہ اسلام یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس جو پیغام ہے‘ صرف وہی نسل انسانی کی نجات کا ضامن ہے اور انسانی معاشرہ اس کے بغیر نجات وفلاح اور امن وخوش حالی کی منزل سے ہم کنار نہیں ہو سکتا اس لیے جو لوگ شخصی اور مقامی دائروں میں اسلام قبول نہیں کرتے لیکن اسلام کی دعوت میں بھی رکاوٹ نہیں بنتے‘ اسلام ان سے کوئی تعرض نہیں کرتا اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا لیکن جو کافر اسلام قبول نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف اس قدر معاندانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں کہ اس کی دعوت میں رکاوٹ بن جائیں تو اسلام ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات کرتا ہے۔ یہ ہتھیار اٹھانا کسی کو قبول اسلام پر مجبور کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی دعوت میں رکاوٹ بننے سے روکنے کے لیے ہے چنانچہ جناب نبی کریم ﷺ نے جہاد کے حوالے سے اپنے کمانڈروں کو یہی ہدایات دی ہیں کہ سب سے پہلے اسلام کی دعوت پیش کرو۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو بات ہی ختم ہو جاتی ہے اور کوئی تنازع باقی نہیں رہتا لیکن اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو دوسرے نمبر پر کافروں کے سامنے یہ پیش کش رکھنے کی ہدایت جناب نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دی گئی ہے کہ اپنے کفر پر قائم رہتے ہوئے اسلام کی بالادستی (عالمی کردار) کو قبول کر لو۔ اگر وہ یہ درجہ قبول کر لیں تو بھی ان کی جان ومال سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا بلکہ اسلامی ریاست ان کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اسے نبھاتی ہے۔ اس کے بعد تیسرے درجے میں یہ بات ہے کہ اگر وہ اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کی بالادستی (عالمی کردار) کو قبول نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں مزاحم ہیں اور رکاوٹ بن رہے ہیں چنانچہ اس صورت میں جناب نبی اکرم ﷺ نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا ہے اور اسے جہاد فی سبیل اللہ قرار دیتے ہوئے اس کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ بتایا ہے۔

یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو عالمی نظام اور بین الاقوامی سسٹم موجود ہے اور جس تہذیب وثقافت نے اس وقت پوری دنیا کو گھیرے میں لے رکھا ہے‘ وہی نظام اور وہی ثقافت نسل انسانی کے لیے سب سے بہتر ہے اور اس سے بہتر کسی سسٹم اور تہذیب کا کوئی امکان نہیں ہے اس لیے دنیا کا جو ملک اور قوم ان کے نزدیک اس نظام وثقافت کے عالمی کردار کے لیے خطرہ قرار پاتا ہے‘ وہ اس کے خلاف چڑھ دوڑتے ہیں‘ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں اور پھر ہزاروں انسانوں کی ہلاکتوں کے باوجود بڑے فخرکے ساتھ اس اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے عالمی تہذیب کو بچا لیا ہے اور ورلڈ سسٹم کو درپیش خطرات کو ختم کر دیا ہے۔

میں اس مرحلے میں اپنے اس موقف کا پھر اعادہ کرنا چاہوں گا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک تہذیب اور سسٹم کو نسل انسانی کے لیے سب سے بہتر سمجھتے ہوئے اس کے عالمی غلبہ کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھائیں تو وہ کسی دوسری تہذیب اور نظام کے علم برداروں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتے کہ وہ اگر اپنے نظام وتہذیب کو نسل انسانی کے لیے دیانت داری کے ساتھ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تو اس کے عالمی کردار کے قیام اور تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھائیں اور اگر وہ (امریکی) اپنے لیے یہ حق محفوظ رکھتے ہوئے دوسرے ہر فریق کو اس حق سے محروم کر دینا چاہتے ہیں تو اس کا نام انصاف نہیں بلکہ یہ جنگل کا قانون اور طاقت کی حکمرانی ہے جو طاقت اور اسلحہ کے زور پر قائم تو کی جا سکتی ہے لیکن اخلاقی جواز اور انصاف کی بنیاد سے محروم ہونے کی وجہ سے اسے قائم رکھنا بھی ممکن نہیں رہا اور نہ آئندہ ہی ایسا کوئی امکان ہے۔

ڈاکٹر ایس ایم زمان نے دوسرا سوال یہ اٹھایا کہ میں نے جن چھاپہ مار کارروائیوں کا حوالہ دیا ہے‘ ان کے حوالے سے دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کی حمایت نہیں کی جا سکتی جن میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور نہ ایسی کسی کارروائی کو ہی جائز قرار دیا جا سکتا ہے جس میں کسی بستی ‘ چوک یا ریڑھی میں بم رکھ کر بے گناہ شہریوں کے جسموں کے پرخچے اڑا دیے جاتے ہیں۔

مجھے ڈاکٹر صاحب محترم کے اس ارشاد سے بھی اتفاق ہے لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ ہر چھاپہ مار کارروائی دہشت گردی نہیں ہوتی اور ہمیں چھاپہ مار کارروائی اور دہشت گردی میں فرق کرتے ہوئے ان کے درمیان کوئی حد فاصل قائم کرنا ہوگی۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے کعب بن اشرف‘ ابو رافع اور اسود عنسی کے قتل کے لیے جن کارروائیوں کا حکم دیا ‘ وہ چھاپہ مار کارروائیاں ہیں اور حضرت ابوبصیرؓ نے سمندر کے کنارے عسکری کیمپ قائم کر کے قریش مکہ کے خلاف جو کارروائیاں کیں‘ وہ بھی چھاپہ مار کارروائیاں ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی دہشت گردی قرار نہیں دیاجا سکتا۔ یہ کارروائیاں متعین اہداف کے خلاف تھیں اور ان کارروائیوں کا دائرہ بھی اہداف تک محدود رہا جبکہ بدر کی جنگ سے قبل ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کو روکنے کے لیے جناب نبی اکرم ﷺ کی تیاری اور قریش کے تجارتی راستے میں چھاپہ مار کیمپ قائم کر کے حضرت ابوبصیرؓ کا قریش کی شام کی تجارت میں رکاوٹ ڈالنا یہ دشمن کی معیشت پر ضرب لگانے کی کارروائیاں تھیں اور یہ بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی نہیں ہیں۔ البتہ اس سے ہٹ کر جناب نبی اکرم ﷺ نے سول آبادی اور بے گناہ اور غیر متعلق شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بارے میں جناب نبی اکرم ﷺ کی واضح ہدایات موجود ہیں اور اسی وجہ سے غیر متعلقہ‘ بے گناہ اور اور نہتے شہریوں کو کسی قسم کی عسکری کارروائی کا نشانہ بنانا‘ اسی طرح کسی بس یا چوک میں بم رکھ کر یا کسی مسجد یا امام بارگاہ میں بم پھینک کر بے گناہ لوگوں کی جانوں سے کھیلنا یقیناًدہشت گردی ہے جس کی کوئی بھی ذی شعور شخص حمایت نہیں کر سکتا۔ مگر ایک سوال باقی ہے کہ کسی ضروری ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے اگر ناگزیر درجے میں کچھ بے گناہ بھی زد میں آ رہے ہوں تو پھر کیا کیا جائے؟ تو اس کے بارے میں ابو داؤد شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم ﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے کہ ایک غزوہ میں جناب نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ دشمن کی قوت توڑنے کے لیے فلاں جگہ شب خون مارنا ضروری ہو گیا ہے مگر وہاں کچھ غیر متعلقہ لوگ بھی موجود ہیں جو حملہ کی صورت میں زد میں آ سکتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’وہ بھی انہی میں سے ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے اگر کہیں کارروائی ناگزیر ہو جائے اور اس کارروائی کی زد میں غیر متعلقہ لوگ آ رہے ہوں تو مجبوری کے درجے میں اسے گوارا کیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکی اتحاد نے اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ہزاروں بے گناہ افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور اس کا جواز صرف یہی پیش کیا جاتا ہے کہ جنگی کارروائی کے لیے ایسا ناگزیر تھا اور اس سے کوئی مفر نہیں تھا ۔

امید ہے کہ ڈاکٹر ایس ایم زمان کے اٹھائے ہوئے دو سوالوں کی مناسب وضاحت قارئین کے سامنے آ گئی ہوگی۔ ا س سلسلے میں اگر مزید کوئی بات وضاحت طلب ہو تو اس کے لیے بھی حاضر ہوں۔ ان شاء اللہ

(بشکریہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد)

جہاد / جہادی تحریکات