جہاد اور معاصر بین الاقوامی قانونی نظام ۔ چند اہم مباحث

محمد مشتاق احمد

جہاد اسلام کی چوٹی ہے ، جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے ۔(۱) بہت سی آیات و احادیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور نفاق کے درمیان فرق کا علم جہاد ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ (۲) جہاد ہی کی برکت ہے کہ اسلامی دنیا میں کبھی بھی غیروں کے تسلط کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد ابتدا ہی سے استعماری قوتوں کا ہدف رہا ہے ۔ مسلمان اہل علم کی جانب سے ہر دور میں جہاد کی حقیقت اور اس کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے کا فریضہ ادا کیا گیا ہے ۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں اسلامی دنیا بالعموم غیروں کے تسلط میں آگئی تو اس تسلط کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ کہیں نہیں رکا ، اگرچہ استعماری قوتوں کے گماشتوں اور مغربی تہذیب کے مقابلے میں مرعوبیت کے شکار بہت سے لوگوں نے جہاد کا تصور مسخ کرکے اسے عملاً منسوخ قرار دینے کی بھی کوششیں کیں ۔ اس معذرت خواہانہ رویے کے جواب میں مسلمان اہل علم نے جو کچھ لکھا اس کی افادیت مسلم ہے لیکن ان تحریرات میں بھی بعض اوقات رد عمل کی نفسیات کارفرما دکھائی دیتی ہے ۔ بیسویں صدی کے آخر میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے جہاد پر کام کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ۔ الجزائر کی جنگ آزادی ، ایرانی انقلاب اور روس کے افغانستان پر حملے نے ایک بار پھر یہ حقیقت روز روشن کی طرح آشکارا کردی کہ جہادی جذبے سے سرشارمسلمان اب بھی طوفانوں کا رخ موڑ سکتے ہیں ۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ ء کو جو واقعات رونما ہوئے اس کے بعد اسلامی دنیا میں بھی اور مغرب میں بھی جہاد کے موضوع پر تحقیق اور بھی ضروری ہوگئی ہے بالخصوص جبکہ اس وقت عراق ، افغانستان اور دیگر کئی مقامات پر مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان تصادم کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔اس وقت مسلمان اہل علم کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ عصر حاضر میں جہاد سے متعلق امور کا تجزیہ کریں اور جہاد کے متعلق پیدا ہونے والے مختلف قانونی مسائل پر شریعت کا نقطۂ نظر واضح کریں ۔ ان تنظیموں اور افراد سے ہٹ کر جو مغرب کے ساتھ تصادم کو ناگزیر سمجھتے ہوئے معاصر بین الاقوامی قانونی نظام (Contemporary International Legal Order) کی جڑیں ہی اکھاڑنا چاہتے ہیں ، بالعموم اہل علم کی اکثریت اس نظام کے اندر رہتے ہوئے جہاد کے مسائل پر بحث کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ جہاد کے متعلق مختلف جزئیات کا موجودہ بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی کرتے ہیں اور ان میں مشترک اور مختلف امور سامنے لاتے ہیں ۔ لیکن اس وقت ضرورت اس سے آگے بڑھ کر اس امر کی ہے کہ فقہا کے وضع کردہ جہاد کے پورے نظریے کا موازنہ معاصر بین الاقوامی قانون کے پورے نظام کے ساتھ کیا جائے اور موجودہ نظام سے پیدا ہونے والے مسائل کا تجزیہ کیا جائے ۔ اس طرح کے ایک عمومی تفصیلی جائزے کے بغیر ان مسائل کا حقیقی ادراک ممکن نہیں جو موجودہ نظام میں جہاد کے نظریے کے انطباق کے وقت پیش آتے ہیں ۔ زیر نظر مقالے میں ایسے ہی چند اہم مسائل اہل علم کے غور و فکر اور تجزیے کے لیے سامنے لائے گئے ہیں ۔ 

دار الاسلام اور اسلامی ریاست 

یہ ایک حقیقت ہے کہ فقہا کے کام کو عصر حاضر کے بین الاقوامی نظام پر منطبق کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ موجودہ بین الاقوامی نظام کی بنیاد ’’قومی ریاست ‘‘(Nation-state) کے تصور پر ہے جس کے تحت ’’قوم ‘‘ اور ’’ریاست ‘‘ کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے ۔ عملاً یہ فرض کیا گیا ہے کہ ریاست کے بغیر قوم نہیں پائی جاتی اور دو مختلف ریاستوں میں دو مختلف قومیں بستی ہیں ۔ گویا قومیت کی بنیاد ریاست پر ہوئی ۔ پھر ہر قوم کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور ہر ریاست ایک الگ اکائی ہوتی ہے ۔ (۳) مزید برآں موجودہ بین الاقوامی قانون کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ قانون کا سرچشمہ ریاست ہے ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے دو بڑے مآخذ ہیں : معاہدات (Treaties) اور رواج (Custom) ۔ معاہدات کے ذریعے ریاست اپنی مرضی کا صریح اظہار کرتی ہے ، جبکہ رواج ریاستوں کے مسلسل عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اصول و ضوابط کو کہا جاتا ہے ۔ (۴) ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ ریاست کو ’’شخص قانونی ‘‘ (Legal Person) متصور کیا جاتا ہے ، اور یوں ’’ریاست کی ملکیت ‘‘ ، ’’ریاست کے وسائل ‘‘ اور ’’ریاست کے حقوق و فرائض ‘‘ جیسی تراکیب محض تفہیم کی غرض سے استعمال نہیں کی جاتیں بلکہ ان کے باقاعدہ قانونی اثرات ہوتے ہیں ۔ (۵) 

اسلامی قانون میں ’’ریاست ‘‘کے برعکس ’’دار ‘‘ کا تصور تھا ۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ عصر حاضر میں ’’اسلامی ریاست ‘‘ کے موضوع پر کام کرنے والوں نے بالعموم ’’دارالاسلام‘‘ کے تصور کو درخور اعتنا نہیں سمجھا ہے ، حالانکہ ضروری تھا کہ وہ ان دونوں تصورات کا موازنہ کرکے قانونی نتائج کا تجزیہ کرتے اور پھر امت مسلمہ کے لیے کوئی لائحۂ عمل تجویز کرتے۔(۶) فقہا کے وضع کردہ نظام میں ’’دار الاسلام‘‘ کے لیے قانونی شخصیت نہیں مانی گئی تھی۔ اس لیے جن چیزوں کو اب ریاست کی ملکیت قرار دیا جاتا ہے انہیں دارالاسلام کی ملکیت نہیں قرار دیا جاتاتھا ۔ سرکاری خزانے کو ہی لیجیے ۔ اسے اب ریاست کی ملکیت مانا جاتا ہے مگر ’’بیت المال ‘‘ کا مالک دارالاسلام نہیں تھا ۔ (۷) اسی طرح مسلمان اہل علم نے بالعموم وطنی قومیت کے تصور کو مسترد کیا ہے لیکن عصر حاضر میں اس تصور سے پیدا ہونے والی گھمبیر صورتحال کا کوئی مناسب حل وہ پیش نہیں کرسکے ۔ چنانچہ ’’امت‘‘ کے تصور کو ’’قومی ریاست‘‘ کے تصور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے چکر میں وہ مزید الجھنوں کا شکار ہوگئے ۔ (۸) یقینااس سلسلے میں اس بات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے کہ فقہا نے ’’دار الاسلام ‘‘ اور ’’امت مسلمہ‘‘ کے تصورات میں ہم آہنگی کیسے یقینی بنائی ؟ 

اسلامی قانون کا سرچشمہ ریاست نہیں بلکہ وحی الٰہی ہے ۔ (۹) ریاست ہو یا ’’دار‘‘، فرد ہو یا معاشرہ ، کوئی بھی اس قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔ اس لیے اس قانون کی بنیاد ’’تماثل‘‘ (Reciprocity) پر نہیں ہے ۔ فریق مخالف خواہ اس قانون کی پابندی نہ کرے ، مسلمان بہر حال اس کے پابند رہیں گے ۔ یہ قانون متعین کرتا ہے کہ مسلمان کس قسم کا معاہدہ کرسکتے ہیں اور کون سی شرط نہیں مان سکتے ۔ جہاں اس قانون نے تفصیل متعین نہیں کیں وہاں بھی لوگوں کو ’’آزاد‘‘ نہیں چھوڑا گیا ، بلکہ وہاں اس قانون کے ’’قواعد عامہ‘‘ کی روشنی میں اور ان کے حدود کے اندر ہی رہ کر قانون سازی کی جاسکے گی۔ (۱۰) 

اسی طرح فقہا کا’’شہریت‘‘ کا تصور بھی بہت مختلف تھا ۔ انہوں نے غیر مسلموں کو تین بڑی قسموں میں تقسیم کیا تھا ۔ وہ غیر مسلم جو ’’دار الاسلام‘‘ میں مستقل رہائش پذیر ہوں ان کو ’’ذمی‘‘ کہاجاتا تھا ۔ ان میں کچھ وہ تھے جو مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور کچھ نے مسلمانوں کے ساتھ باقاعدہ ’’عقد ذمہ‘‘ کیا تھا ۔ ان لوگوں پر اسلامی قانون کا وہ حصہ لاگو ہوتا تھا جس کو آجکل کی اصطلاح میں ’’پبلک لاء ‘‘ کہاجاتا ہے ۔ دارالاسلام کے اندر اور باہر ہر جگہ ان کے حقوق کی حفاظت دارالاسلام کے مسلمانوں کی ذمہ داری تھی ۔ (۱۱) دار الاسلام سے باہر مستقل اقامت اختیار کرنے والے غیرمسلموں کو ’’حربی‘‘ کہاجاتاتھا ۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی تھی ، نہ ہی ان پر اسلامی قانون لاگو ہوتا تھا ۔ (۱۲) البتہ اگر ان میں کچھ لوگ مسلمانوں کی اجازت (امان)سے دارالاسلام میں داخل ہوتے تھے تو ان پر اسلامی قانون کا کچھ حصہ لاگو ہوتا تھا اور ان کی حفاظت بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہوجاتی تھی ۔ ان کو ’’مستأمنین‘‘ کہا جاتا تھا۔ (۱۳) حربی اگر مسلمانوں کے خلاف جنگی کاروائی کرتے تو ان کو ’’محاربین‘‘ کہاجاتا تھا ۔ اس کے برعکس اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ امن کا معاہدہ کرتے اور اپنے علاقے میں اپنے قوانین کے تحت زندگی بسر کرتے تو ان کو ’’موادعین‘‘ یا ’’اہل موادعہ ‘‘ کہاجاتا تھا ۔ (۱۴) قانونی لحاظ سے موادع اور مستأمن سے یکساں سلوک کیاجاتا تھا ۔ دارالاسلام کے اندر دونوں کی حفاظت اہل اسلام کی ذمہ داری تھی اور دونوں پر اسلامی قانون کا کچھ حصہ لاگو ہوتا تھا ۔ دارالاسلام سے باہر ان کے حقوق کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہوتی تھی ۔ 

مسلمانوں کے لیے ایسی کوئی تقسیم نہیں تھی ۔ کوئی بھی مسلمان کسی بھی وقت دارالاسلام میں داخل ہوسکتا تھا اور اسے امان کی ضرورت نہیں تھی ۔ وہ دارالاسلام میں مستقل رہائش بھی اختیار کرسکتا تھا ، بلکہ نظری طور پر مسلمانوں کے حق میں مفروضہ یہی تھا کہ وہ دارالاسلام میں مقیم ہیں ۔ (۱۵) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اسلامی قانون کے تحت پوری دنیا کے مسلمانوں کو دارالاسلام کے ’’شہری‘‘ تصور کیاجاتاتھا ۔ قانونی لحاظ سے دارالاسلام کے مستقل رہائش پذیر مسلمانوں اور دارالاسلام سے باہر مقیم مسلمانوں میں فرق کیاجاتا تھا۔ مثلاً دارالاسلام سے باہر اگر کسی مسلمان نے چوری کا ارتکاب کیا تو دارالاسلام کی عدالتیں اس کو سزا نہیں سناسکتی تھیں ۔ (۱۶) اسی طرح اگر دارالاسلام سے باہر کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا تو دارالاسلام کی عدالتیں اس تنازعے کے حل کے لیے اختیار سماعت نہیں رکھتی تھیں ۔ (۱۷) اس بات کو حنفی فقہا اس طرح تعبیر کرتے ہیں کہ ’’عصمت دار کی وجہ سے ہے نہ کہ اسلام کی وجہ سے‘‘۔ (۱۸) پس دارالاسلام سے باہر مستقل اقامت اختیار کرنے والے مسلمانوں پر اگرظلم ہوتا تو دارالاسلام کے ملکی قانون کے تحت کوئی کاروائی نہیں ہوسکتی تھی ۔ البتہ اسلامی بین الاقوامی قانون کے تحت دارالاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد لازم ہوجاتی تھی ۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان پر حملہ دارالاسلام کے شہریوں پر حملہ تصور کیاجاتاتھا ، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان پر حملہ امت مسلمہ پر حملہ تصور ہوتاتھا اور امت کے ایک حصے پر حملہ پوری امت پر حملہ سمجھاجاتاتھا ۔ 

فقہ اسلامی کے ابواب سیر ۔ متبدل اور غیر متبدل احکام 

جہاد کے متعلق شریعت کے احکام کی وضاحت اور عملی زندگی پر ان کی تطبیق کے نتیجے میں فقہاء نے جو قانونی نظام مرتب کیا اس کی تفصیلات فقہ اسلامی میں ’’کتاب السیر‘‘ یا ’’ کتاب الجہادد‘‘ کے عنوان کے تحت ملتا ہے ۔ جہاد پر لکھنے والے بہت سے لوگوں نے فقہاے کرام کے کام کو ان کے زمانے اور مخصوص حالات کا تجزیہ قرار دے کر اسے نظر انداز کیا اور براہ راست قرآن و حدیث سے استدلال کی راہ اختیار کی ۔ (۱۹) اس طریق کار کے اپنے کچھ فوائد ہوں گے لیکن فقہا کے کام کو نظر انداز کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے ۔ ایک تو اس وجہ سے کہ فقہا، امت مسلمہ کے گل سرسبد تھے ۔ یہ امت کے بہترین دماغ تھے ۔ صدیوں کی محنت کے بعد فقہ اسلامی کا ذخیرہ وجود میں آیا ہے ۔ اس سارے علمی کام کو نظر انداز کرکے پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش کیوں کی جائے ؟ فقہا کے کام کی اہمیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا کام صرف علمی دائرے تک محدود نہیں تھا بلکہ عملاً وہ اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنا ۔ ان ہی کے کام کو بنیاد پر اسلامی ریاست کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کا انحصار ہوتا تھا ۔ ان کا کام بین الاقوامی قانون کی حیثیت اختیار کرگیا تھا اور اسی لحاظ سے وہ صدیوں نافذ رہا ۔ 

یہ حقیقت اپنی جگہ صحیح ہے کہ وقت کے معروضی حالات کے مطابق فقہا نے بعض مسائل مرتب کیے جو شریعت کے ابدی احکام کی طرح ہر دور اور ہر زمانے کے لیے واجب العمل نہیں ہیں ۔ مثلاً اگر ابن عابدین نے یہ لکھا ہے کہ ’’سمندر دار الحرب میں شامل ہے۔‘‘ (۲۰) تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ مسلمان کبھی سمندر کو دار الاسلام کا حصہ نہیں بناسکتے ، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ ابن عابدین کے زمانے میں سمندر دارالاسلام کا حصہ نہیں تھا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کے احکام کو ان احکام سے کیسے الگ کیا جائے گا جو مستقل اور غیر متبدل ہیں ؟ مثلاً فقہاء اگر یہ کہتے ہیں کہ ’’غیر مسلم یا تو اہل حرب ہیں اور یا اہل عہد ۔‘‘ (۲۱) توکیا اسے ایک مستقل حکم قرار دے کر یہ قاعدہ بنایا جائے کہ جن غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ نہیں ہوا وہ سارے کے سارے اہل حرب ہیں ؟ یا اسے معروضی حالات کا تجزیہ قرار دے کر کہا جائے کہ اس وقت مسلمانوں کے آس پاس کے غیر مسلم یا تو مسلمانوں کے ساتھ برسرجنگ تھے یا انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ؟ اسی طرح بہت سے اہل علم نے یہ موقف اپنایا ہے کہ دار الاسلام اور دارالحرب کی تقسیم ہی سرے سے مستقل نہیں ہے ، بلکہ یہ اس وقت کے حالات کا فقہی تجزیہ تھا جب فقہ کی تدوین ہورہی تھی ۔ (۲۲) کیا اس طرح پورے فقہ اسلامی کے علمی ذخیرے کو دریابرد کرنے کی راہ نہیں ہموار نہیں ہوجاتی ؟ 

جہاد کے موضوع پر کام کرنے والوں میں جن لوگوں نے فقہ اسلامی کے ذخیرے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور فقہا کی اصطلاحات بھی استعمال کیں، ان میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی کا کام خصوصا قابل ذکر ہے ۔ (۲۳) ڈاکٹر حمید اللہ اگرچہ عہد جدید میں اسلامی بین الاقوامی قانون پر کام کرنے والے ابتدائی افراد میں تھے لیکن ان کا کام کئی لحاظ سے بعد میں آنے والوں پر فوقیت رکھتا ہے ، خصوصا قانونی مسائل پر ان کی گہری نظر کی وجہ سے فقہا کے موقف کا فہم دیگر لوگوں کی بہ نسبت ان کے لیے زیادہ آسان ہوتا ہے ۔ دار الاسلام اور دارالحرب کے تصور کو ہی لیجئے ۔ بالعموم لوگوں نے اس تصور کو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ’’مسلسل جنگ‘‘(Perpetual War) کے نظریے کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے ۔ (۲۴) اس کے برعکس ڈاکٹر حمید اللہ ’’دار ‘‘ کے تصور سے عدالتوں کے ’’علاقائی اختیار سماعت ‘‘ (Territorial Jurisdiction) کے اصول اخذ کرتے ہیں ۔ (۲۵) ڈاکٹر وہبہ ایک جانب چند بنیادی امور میں فقہا کی آرا کو اس وقت کے حالات کی پیداوار قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف تفصیلی جزئیات میں فقہ اسلامی ہی کے ذخیرے سے استدلال کرتے ہیں ۔ یوں ان کے کام میں بعض مقامات پر اندرونی تضاد ات نظر آتے ہیں ۔ (۲۶) یہی مسئلہ دیگر بہت سے اہل علم کے ساتھ بھی ہے ۔ اس لیے عصر حاضر کے مسلمان اہل علم کے لیے کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ فقہ اسلامی کے ذخیرے سے مستقل اور عارضی احکام الگ کرنے کے لیے اصول وضع کرلیں ۔ اس کے بعد ہی عصر حاضر کے قانونی نظام پر اسلامی قانون کی تطبیق کے متعلق بات کی جاسکے گی ۔

رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین کے لیے خصوصی احکام؟

جہاد کے متعلق قرآن وسنت نے جو احکام ذکر کیے ہیں کیا ان میں کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص بھی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگیں لڑی ہیں انہیں بھی محض دفاعی جنگیں نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ (۲۷) اگرچہ یقیناًان میں اکثر جنگیں یا تو دفاعی ضرورت کے تحت لڑی گئیں یا وہ دراصل پچھلی جنگوں کا تسلسل تھیں ، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملے میں پہل کی ہے (مثلاً غزوۂ خیبر یا غزوۂ تبوک ) ۔ ان جنگوں کو تبھی دفاع کہا جاسکے گا جب دفاع کابہت ہی وسیع مفہوم لیا جائے اور اس میں پیش بندی کے اقدام ( Pre-emptive Strike) کا حق بھی شامل سمجھا جائے ۔ اب یہ بھی حقیقت ہے کہ پیش بندی کے اقدام کو ایک جانب سے دفاع اور دوسری جانب سے اقدام قرار دیا جائے گا ۔ مزید برآں مشرکین کے خلاف جس جنگ کا اعلان سورۃ التوبۃ میں کیا گیا ہے، اسے تو کسی صورت بھی دفاع نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اس میں بتایاگیا ہے کہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہوگی جب تمام مشرکین اسلام قبول کرلیں : 

فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدتُّمُوہُمْ وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ وَاقْعُدُواْ لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَۃَ وَآتَوُاْ الزَّکَاۃَ فَخَلُّواْ سَبِیْلَہُمْ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (۲۸) 
’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی انہیں پاؤ ، اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو ۔ پھر اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ یقیناًاللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔‘‘

یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمائی ہے :

امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الٰہ الا اللہ و ان محمدا رسول اللہ ، و یقیموا الصلوٰۃ و ےؤتوا الزکوٰۃ۔ فاذا فعلوھا عصموا منی دمآءھم و اموالھم الا بحقھا ، و حسابھم علی اللہ (۲۹) 
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور نماز قائم کریں ، اور زکاۃ دیں ۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اپنی جانیں اور اپنے اموال مجھ سے بچا لیں گے ، سوائے اس حق کے جو اسلام کے اقرار سے ان پر عائد ہوتا ہو ، اور ان کے ساتھ محاسبہ اللہ کا کام ہوگا ۔ ‘‘

اس سورت میں اہل کتاب کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ مسلمانوں کے ماتحت زندگی بسر کرنے اور جزیہ دینے پر آمادہ نہ ہوجائیں ۔ 

قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُواْ الْجِزْیَۃَ عَن یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ (۳۰) 
’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ روز آخرت پر ، اور نہ اسے حرام کرتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے ، اور نہ ہی وہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دینے اور ماتحت ہو کر زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوں ۔ ‘‘

اسی طرح اور بھی کئی آیات و احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مشن اس وقت تک جاری رہتا جب تک کہ آپ کو اپنے مخالفین پر مکمل غلبہ حاصل نہ ہوجاتا ۔ 

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ (۳۱) 
’’وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے دین پر غالب کردے ، خواہ یہ ان مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو ۔ ‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۃ العرب کو دین اسلام کے لیے مخصوص کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : 

لا یجتمع دینان فی جزیرۃ العرب ۔ (۳۲) 
’’جزیرۂ عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے۔ ‘‘

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد کا یہ مخصوص پہلو آپ ہی تک خاص تھا یا یہ اسلامی جہاد کا مستقل حصہ ہے ؟ بعض اہل علم کی رائے یہ ہوئی کہ اس قسم کی جنگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے بعد نہیں لڑیں جاسکتیں اوریہ ایک مخصوص حکم تھا جو اب باقی نہیں رہا ۔ (۳۳) ان اہل علم کی رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد میں آپ کے مخالفین کے لیے عذاب الٰہی کا پہلو بھی شامل تھاکیونکہ رسول اپنی قوم پر اللہ کی حجت تمام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ قوم کے لیے حق اور باطل اس طرح واضح کر دیتے ہیں کہ کسی کے پاس نہ ماننے کے لیے کوئی بہانہ یا دلیل باقی نہیں رہ جاتی ۔ اس کے بعد بھی جو لوگ حق کے آگے سر جھکانے سے انکار کردیتے ہیں ان کے لیے اسی دنیا میں خدا کی عدالت قائم ہوجاتی ہے اور رسول کی زندگی میں ہی انہیں نیست ونابود کردیا جاتا ہے ۔ پچھلی اقوام کے لیے عذاب الٰہی قدرتی آفتوں کی صورت میں نمودار ہوا ، جبکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کے لیے صحابہ کی تلواریں عذاب کا کوڑا بن گئیں:

قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللّہُ بِأَیْْدِیْکُمْ (۳۴) 
’’ان سے لڑو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دے ۔‘‘

اس کے برعکس بہت سے دیگر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ جہاد کی ایک مستقل قسم ہے اور قیامت تک جہاد کا یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا ۔ (۳۵) اس لیے ڈاکٹر حمید اللہ ’’جائز جنگوں‘‘ کی قسموں میں ایک قسم Idealistic War  (نظریاتی جنگ ) شامل کرتے ہیں جسے سید مودودی ’’مصلحانہ جہاد‘‘ کہتے ہیں ۔ (۳۶) 

اگر جہاد کے اس پہلو کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی جنگوں کے ساتھ خاص سمجھا جائے تو اس کا اثر بہت سے دیگر مسائل پر بھی پڑتا ہے ۔ مثلاً جمہور فقہا مشرکین عرب سے جزیہ لینا جائز سمجھتے تھے جبکہ احناف کی رائے یہ تھی کہ مشرکین عرب کے لیے صرف دو ہی راستے تھے ؛ اسلام یا تلوار ۔ (۳۷) اگر مذکورہ آیات اور احادیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کے ساتھ خاص سمجھا جائے تو احناف کا موقف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے مشرکین کے حق میں صحیح ہوگا اور جمہور کا موقف بعد کے مشرکین عرب کے حق میں صحیح تسلیم کیا جائے گا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو بتوں سے پاک کیا تو اس سے استدلال کرکے دیگر غیرمسلموں کے معابد اور اصنام کو نہیں ڈھایاجاسکے گا ۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر اہل کتاب کے ساتھ جنگ کی نوعیت پر بھی فرق پڑے گا ،کیونکہ اگر یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب سے خاص ہو کہ ان سے جنگ جاری رہے گی یہاں تک کہ وہ یا تو اسلام قبول کرلیں یا جزیہ دینے پر آمادہ ہوں ، تو بعد کے اہل کتاب کے ساتھ مسلسل جنگ کا نظریہ بھی ختم ہوجاتا ہے ، اور اس کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر ماننا ہوگا کہ جہاد کی علت ’’کفر‘‘ یا ’’شوکت کفر‘‘ نہیں بلکہ ’’محاربہ‘‘ ہے ۔ بہ الفاظ دیگر مسلمان صرف ان لوگوں سے لڑ سکیں گے جو اسلام یا مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں ۔ 

نظریاتی کشمکش اور مسلح تصادم 

کئی آیات اور احادیث میں مسلمانوں کو غیرمسلموں کی دوستی سے منع کیاگیا ہے ۔ مثلاً سورۃ المآئدۃ میں ارشاد ہوتا ہے : 

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (۳۸) 
’’اے ایمان والو! یہود اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا دوست بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہیں میں ہے ۔ یقیناًاللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ ‘‘

بعض نصوص میں یہاں تک قراردیاگیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ غیر مسلموں کے ساتھ قلبی تعلق رکھ ہی نہیں سکتے۔ 

لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ (۳۹) 
’’تم کبھی یہ نہ پاؤگے کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگ ان سے محبت کریں جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذآرائی کرتے ہیں ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی ، یا ان کے اہل خاندان ۔ ‘‘

اسی طرح کئی آیات و احادیث میں بیان ہوا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشمکش کا اختتام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ایک گروہ دوسرے کی پیروی نہ کرے ۔ 

وَلَن تَرْضَی عَنکَ الْیَہُودُ وَلاَ النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَی وَلَءِنِ اتَّبَعْتَ أَہْوَاء ہُم بَعْدَ الَّذِیْ جَاءکَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّہِ مِن وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیْر (۴۰) 
’’نہ یہودتم سے راضی ہونے والے ہیں اور نہ عیسائی جب تک کہ تم ان کی ملت کی اتباع نہ کرو ۔ ان سے کہو کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے ۔ اور اگر تم اس یقینی علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا، ان کی خواہشوں پر چلے تو اللہ کے مقابل میں نہ تمہارا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار ۔ ‘‘
إِنَّا بُرَء اؤا مِنکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاء أَبَداً حَتَّی تُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَحْدَہُ (۴۱) 
’’ہم بیزار ہیں تم سے اور تمہارے ان خداؤں سے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو ۔ ہم نے تم سے کفر کیا ، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم واحد اللہ پر ایمان نہ لے آؤ۔ ‘‘

کیا یہ حکم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہود و نصاری اور مشرکین کے ساتھ خاص ہے ، جیسا کہ بعض اہل علم کی رائے ہے ؟ (۴۲) یا اس کا حکم عام ہے اور ہر زمانے کے لیے ہے ، جیسا کہ بعض دیگر اہل علم کا موقف ہے؟(۴۳) اگر اس کا حکم عام ہو تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ اس وقت تک جنگ جاری رہے گی جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں ؟(۴۴) یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان نظریاتی سطح پر ایک نہ ختم ہونے والی کشمکش ہے ؟ اگر یہ نظریاتی کشمکش ہے تو کیا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مسلسل جنگ ہو اور امن کا وقفہ بیچ میں عارضی طور پر آئے ، یا نظریاتی کشمکش مسلح تصادم کو مستلزم نہیں ہے ؟(۴۵) جو اہل علم مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان مسلسل اور ابدی جنگ کے قائل نہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ان نصوص کی متبادل تعبیر پیش کریں ۔ اس متبادل تعبیر کے بغیر محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ مسلسل اور ابدی جنگ کا نظریہ شریعت کا مستقل حکم نہیں ہے بلکہ فقہاء کے زمانے کے مخصوص حالات کی پیداوار تھا ۔ 

فرضیت جہاد کا سبب 

جہاد کی فرضیت کا سبب کیا ہے ؟ عصر حاضر میں جہاد پر کام کرنے والوں میں بہت سے اہل علم نے اس سوال سے صرف نظر کیا ہے اور اس کے بجائے اس امر پر بحث کی ہے کہ کیا اسلام صرف ’’دفاعی جہاد‘‘ کو ہی جائز سمجھتا ہے یا ’’اقدامی جہاد‘‘ بھی اس کے نزدیک جائز ہے ؟(۴۶) صحیح طریقہ یہی تھا کہ وہ فقہا کے عام طریقے کے مطابق جہاد کے حکم کی ’’علت‘‘ پر بحث کرتے کیونکہ علت کی موجودگی معلول کی موجودگی پر دلالت کرتی ہے اور علت کی عدم موجودگی میں معلول بھی نہیں پایا جاتا ۔ اگر جہاد کی علت ’’کفر‘‘ ہے ، جیسا کہ بعض فقہا کا موقف تھا (۴۷)، تو پھر تمام غیرمسلموں کے خلاف جہاد فرض ہوگا ، اور اگر جہاد کی علت ’’محاربہ‘‘ ہے ، جیسا کہ جمہور فقہاء کا مسلک تھا (۴۸)، تو صرف ان لوگوں سے ہی جنگ کی جاسکے گی جو محاربہ کا ارتکاب کرتے ہوں ۔ دونوں صورتوں میں بعض اوقات اقدام ضروری ہوجاتا ہے ۔ اس لیے دفاعی اور اقدامی کی تقسیم مناسب محسوس نہیں ہوتی ۔ 

پھر یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ اگر جہاد صرف دفاع تک ہی محدود ہو تو دفاع میں کون سی صورتیں آتی ہیں ؟ کیا دفاع سے مراد ریاست کا دفاع ہے یا امت اوردین کا دفاع بھی اس میں شامل ہے ؟ ‘ مسلمان اہل علم بالعموم اس کے قائل ہیں کہ دفاع کی صورت میں اعلان جنگ ضروری نہیں ہوتا جبکہ اقدام سے پہلے ’’اعلان جنگ‘‘ کو وہ ضروری سمجھتے ہیں ۔ (۴۹) اگر کسی غیر مسلم ملک میں مسلمانوں پر ظلم ہورہاہو تو قرآن کی نص صریح کے بموجب دار الاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد واجب ہوجاتی ہے ۔ (۵۰) لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی مدد ’’دفاعی جہاد‘‘ میں شمار ہوگی یا اسے ’’اقدامی جہاد‘‘ سمجھا جائے گا ؟ جو لوگ جہاد کو صرف ’’دفاع‘‘ تک ہی محدود سمجھتے ہیں وہ اس مدد کو بھی دفاع کے تصور کے تحت سمونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یوں دفاع کا یہ تصور بہت زیادہ وسیع ہوجاتا ہے کیونکہ وہ کئی ایسے کاموں کو بھی دفاع قرار دے دیتے ہیں جن کو عام طور پر اقدام تصور کیا جاتا ہے ۔ سید ابو الاعلی مودودی اس قسم کی کاروائی کو ’’مدافعانہ جہاد‘‘ میں شمار کرتے ہیں (۵۱) لیکن جب وہ اعلان جنگ کے مسئلے پر آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس قسم کی کاروائی سے پہلے اعلان جنگ ضروری ہوگا۔ (۵۲) اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جب وہ مدافعانہ جہاد پر بحث کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں ’’دفاع امت ‘‘ یا ’’دفاع دین ‘‘ کا تصور ہوتا ہے ، لیکن جب وہ دارالاسلام کی طرف سے عملی اقدام کی بحث پر آتے ہیں تووہ دیکھتے ہیں کہ دارالاسلام کے لوگوں کو اس صورت میں اپنی علاقائی حدود سے باہر جاکر اقدام کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے وہ اعلان جنگ کو ضروری قرار دے دیتے ہیں ۔ گویا اس وقت ان کے ذہن میں ’’دفاع ریاست ‘‘کا تصور ہوتا ہے ۔ 

فریضۂ جہاد کی نوعیت 

جہاد کا سبب متعین ہونے کے بعد ایک اہم مسئلہ اس فریضے کی نوعیت کا ہے ۔ اس پر بالعموم اتفاق پایا جاتا ہے کہ جہاد امت کے لیے فرض کفائی کی حیثیت رکھتا ہے (۵۳) لیکن چند باتیں اس سلسلے میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ فرض کفائی کا عام طور پر یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ اگر ’’کچھ لوگ ‘‘اس فریضے کو ادا کریں تو باقی کے ذمے سے یہ فرض ساقط ہوجاتا ہے ، حالانکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر ’’کافی لوگ ‘‘ اس فریضے کو ادا کرلیں تو باقی کے ذمے سے یہ فریضہ ساقط ہوجاتا ہے ۔ (۵۴) دوسری بات یہ کہ فرض کفائی صرف عام حالات میں ہی فرض کفائی ہوتا ہے ۔ بعض صورتوں میں یہ فرض عین میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ کیا اس کا لازمی تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہر مسلمان لازمی طور پر بنیادی جنگی قواعد اورآداب سے واقف ہو اور نیز اسے بنیادی فوجی تربیت دی گئی ہو ؟ تیسری بات یہ ہے کہ امت اب پچاس سے زائد ریاستوں میں بٹ گئی ہے ۔ موجودہ حالات میں اس فرض کفائی کی ادائیگی کیسے ہوگی ؟ ایک مناسب حل یہ نظر آتا ہے کہ مسلمان ریاستیں آپس میں دفاعی معاہدات کرلیں اور یوں ان میں کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ متصور ہو ۔ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۵۱ کے تحت اس انتظام کی گنجائش ہے اور’’معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم‘‘ (NATO) اس انتظام کی کامیابی کی سب سے واضح دلیل ہے ۔ 

فقہا نے صراحت کی ہے کہ حملے کی زد میں آئے ہوئے علاقے کے لوگ اگر حملے کے خلاف دفاع نہ کرسکتے ہوں تو ان کے مجاور علاقوں پر یہ فریضہ عائد ہوگا ۔ پھر اگر وہ بھی دفاع کی اہلیت نہ رکھتے ہوں یا وہ فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو ان کے بعد کے علاقوں پر فریضہ عائد ہوگا،یہاں تک کہ یہ فریضہ دنیا کے تمام مسلمانوں پر عائد ہوجائے گا ۔(۵۵) گویا اسلامی ملک پر حملے کو کوئی مسلمان پرایا جھگڑا نہیں سمجھے گا ، بلکہ دفاع کو اپنا فریضہ سمجھ کر ہوشیار اور بیدار رہے گا ، کیونکہ کسی بھی وقت یہ امکان ہوسکتا ہے کہ یہ فریضہ اس کے حق میں فرض عین ہوجائے ۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسلامی ملک پر حملے کی صورت میں پوری امت مسلمہ میں ایک ایمرجنسی کی سی کیفیت پیدا ہو ۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجاورعلاقوں پر فریضہ عائد ہونے کا سبب یہ تھا کہ دور کے علاقوں کی بہ نسبت وہ حملے کے خلاف دفاع کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن پر ہوتے تھے ؟ موجودہ دور میں جبکہ ذرائع مواصلات نے بہت ترقی کی ہے قرب و بعد کے پیمانے بہت تبدیل ہوچکے ہیں ۔ کیا اب زیادہ اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ کس مسلمان ملک کے پاس زیادہ بہتر ہتھیار پائے جاتے ہیں ؟ کس ملک کی معاشی پوزیشن زیادہ مستحکم ہے ؟ کون سا ملک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو زیادہ اہلیت رکھے گا، اس پر فریضہ دوسرے کی بہ نسبت زیادہ جلدی عائد ہوگا ۔ اس لحاظ سے یہ عین ممکن ہے کہ مجاور ملک کی بہ نسبت، جو فوجی مہارت اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پسماندہ ہو ، ایک دور دراز کے ملک ،جس کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہوں اور وہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی آگے ہو ،پر دفاع کا فریضہ جلدی عائد ہو ۔

غیرمسلم ممالک میں مسلمانوں میں مدد 

اجتماعی حق دفاع کے طریق کار کا فائدہ صرف ’’ریاستیں‘‘ ہی اٹھاسکتی ہیں، جبکہ امت مسلمہ صرف مسلم ممالک تک ہی محدود نہیں، بلکہ کئی ممالک میں مسلمان بطور اقلیت رہ رہے ہیں ۔ ان ممالک میں اگر مسلمان ظلم کا شکار ہوں تو ان کی مدد کیسے کی جائے گی ؟ غیر ممالک میں ظلم کے شکار مسلمانوں کی مدد کے لیے جہادی کاروائی کو بہت سے مسلمان اہل علم نے ’’دفاعی جہاد ‘‘کے زمرے میں شمار کیا ہے ۔لیکن جدید بین الاقوامی قانونی نظام میں اسے دفاع نہیں متصور کیا جاسکتا ۔ اقوام متحدہ کے وجود میں آنے سے پہلے جو رواجی بین الاقوامی قانون (Customary International Law)تھا اس کے تحت دفاع کا تصور بہت وسیع تھا اور اس میں ریاست کے لیے یہ حق تسلیم کیا گیا تھا کہ اگر اس کے کچھ باشندے کسی غیر ملک میں خطرے میں ہوں اور وہ ملک ان کی حفاظت سے قاصر یا انکاری ہو تو ایسی صورت میں اس ملک کو اپنے باشندوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدام کا اختیار حاصل ہوجاتا تھا اور اسے دفاع میں شمار کیاجاتاتھا ۔ (۵۶) کیا یہ حق اب بھی ریاستوں کو حاصل ہے ؟ اس سوال کے جواب پر بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا اختلاف ہے۔ کچھ اب بھی اس حق کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور کچھ کے نزدیک اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ ذیلی دفعہ ۴ نے طاقت کے استعمال کی تمام صورتوں پر پابندی عائد کردی ہے اور اب صرف انہی صورتوں میں طاقت کا استعمال جائز ہوگا جن کی منشور نے صراحتاً اجازت دی ہے ، یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت سے مشترکہ فوجی کاروائی اور منشور کی دفعہ ۵۱ میں مذکور شرائط کے تحت دفاعی جنگ ۔ (۵۷) لیکن جو ماہرین غیر ممالک میں اس قسم کی کاروائی کو جائز سمجھتے ہیں ان کے نزدیک اس قسم کی کاروائی اسی ملک کے لیے جائز ہوتی ہے جس کے ’’شہری ‘‘ خطرے میں ہوں ۔ (۵۸) اب مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون میں اس وقت ’’شہریت‘‘ (Citizenship) اور ’’قومیت‘‘ (Nationality) کے جو تصورات رائج ہیں ان کے تحت سنکیانگ کے مسلمانوں کو پاکستان کے شہری نہیں قرار دیاجاسکتا ۔ اس لیے اگر ان پر ظلم ہورہا ہو تو پاکستان ان کی مدد کے لیے فوجی کاروائی نہیں کرسکتا۔ مسئلہ صرف بین الاقوامی قانون کے ساتھ نہیں ہے ، بلکہ اسلامی قانون کے لحاظ سے بھی یہاں چند سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ ہم نے پیچھے واضح کیا ہے کہ دارالاسلام سے باہر مستقل طور پر مقیم مسلمانوں کو دار الاسلام کے ’’شہری‘‘ نہیں قرار دیاجاتا تھا ۔ اس لیے ان پر حملہ دارالاسلام پر حملہ نہیں متصور ہوتا تھا ۔ البتہ چونکہ وہ امت کا حصہ تھے اس لیے دفاع امت کے نظریے کے تحت دارالاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد لازم ہوتی تھی ۔ کیا عصر حاضر میں غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلم اقلیت کی مدد کے لیے ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت‘‘ (Humanitarian Intervention) کے تصور کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے ؟ 

کسی دوسری ریاست میں ’’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت‘‘ اس وقت کی جاتی ہے جب وہ ریاست خود اپنے باشندوں یا اپنے ہاں مقیم غیرملکی لوگوں کو ظلم کا نشانہ بناتی ہے ۔ (۵۹) اس قسم کی کاروائی کو بعض ممالک جائز قرار دے دیتے ہیں ۔ ۱۹۷۱ء میں جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا تو اس کے لیے ایک جواز یہی پیش کیاگیا تھا کہ پاکستانی فوج بنگالیوں پر مظالم ڈھارہی تھی ۔ ماضی قریب میں سربیا پر نیٹو کی بمباری کے لیے بھی ایک جواز یہی فراہم کیاگیا تھا ۔ جو لوگ اسے جائز قرار دیتے ہیں ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۳۹ کے تحت جن صورتوں میں کسی ریاست کے خلاف کاروائی ضروری ہوجاتی ہے ان میں ایک صورت یہ ہے کہ اس ریاست کی طرف ’’امن عالم کو خطرہ‘‘ ہو ، اور یہ بھی قانونی طور پر مسلمہ ہے کہ ’’امن عالم کو خطرہ‘‘ کسی ریاست کے ’’اندرونی معاملات‘‘ سے بھی ہوسکتا ہے ۔ پس اصولاً کسی ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت ناجائز ہے لیکن جب ان اندرونی معاملات سے امن عالم کو خطرہ ہو تو پھر مداخلت جائز ہوجاتی ہے ، جیسا کہ منشور کی دفعہ ۲ ذیلی دفعہ ۷ میں تصریح کی گئی ہے ۔ تاہم اس موقف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ دفعہ ۳۹ کے تحت اس قسم کے معاملات میں کاروائی کا اختیار سلامتی کونسل کو حاصل ہوتا ہے نہ کہ انفرادی طور پر ریاستوں کو۔ پس اگر سلامتی کونسل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی ریاست کے اپنے باشندوں پر ظلم کو روکنے کے لیے کاروائی کرے تو اس کے جواز میں کے متعلق کوئی اشکال نہیں پایاجاتا لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حق انفرادی طور پر ریاستوں کو بھی حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ریاست نے بھی اس قسم کی کاروائی میں تنہا ’’انسانی ہمدردی‘‘ کو ہی بنیاد نہیں بنایا بلکہ دیگر جواز بھی ساتھ ساتھ فراہم کرنے کی کوشش کی ۔ مثلاً بھارت نے مشرقی پاکستان میں کاروائی کے لیے اپنے حق دفاع کو بھی جواز کے طور پر پیش کیا اور نیٹو نے سربیا پر بمباری کے ضمن میں سلامتی کونسل کی ’’قراردادوں پر عملدرآمد‘‘ کو بھی ایک بنیاد کے طور پر پیش کیا ۔ پس سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد اگر کوئی ریاست یا ریاستوں کا مجموعہ اس قسم کی کاروائی کرے تو اسے قانونی طور پر جائز سمجھا جائے گا لیکن سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی دوسری ریاست میں فوجی کاروائی کا جواز کم از کم یقینی نہیں ہے ۔ 

لہٰذا اگر مسلمان ممالک دفاع کے اسلامی تصور کو عصر حاضر میں عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ ایک طرف تمام اسلامی ممالک آپس میں دفاعی معاہدات کریں ، تاکہ ایک پر حملہ سب پر حملہ متصور ہو ۔ دوسری طرف ان پر لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مشترکہ موقف اپنا کر مؤثر انداز میں آواز بلند کریں ۔ مشترکہ دفاعی معاہدات کے بعد وہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست بھی حاصل کرسکتے ہیں ،جس پر امت مسلمہ کی نمائندگی مختلف ممالک باری باری کریں ۔ اگر مسلم ممالک بدستور اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے تنہا کوشش کرتے رہیں گے تو امت مسلمہ کے دفاع کا فریضہ کبھی ادا نہیں ہوسکے گا ۔ 

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کسی دوسری ریاست میں مظلوموں کی مدد کے حوالے سے چند اور سوال بھی مسلمان اہل علم کی توجہ اور غور وفکرکے متقاضی ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا ’’مظلوموں کی مدد‘‘ صرف اس صورت میں کی جائے گی جب مظلوم مسلمان ہوں ؟ اگر مظلوم غیر مسلم ہوں تو کیا تب بھی مسلمانوں پر ان کی مدد کا فریضہ عائد ہوتا ہے ؟ بالخصوص اگر ظالم مسلمان ہوں؟ کیا ایسی صورت میں مسلمان اور غیر مسلم کی تمیز کیے بغیر ظالم کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور مظلوم کی مدد کی جائے گی ؟ شریعت نے مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا ہاتھ روکنے کا حکم دیا ہے ۔ (۶۰) اسی طرح ’’بر اور تقوی ‘‘میں تعاون کاحکم دیا ہے اور ’’اثم اور عدوان‘‘ میں تعاون سے منع کیا ہے ۔ (۶۱) کیا ان احکام کو بنیاد بناکر ظالم مسلمانوں کے شکنجے سے مظلوم غیر مسلموں کو چھڑانے کے لیے دیگر غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے ؟ نیز کیا اس قسم کی کاروائی میں مسلمان غیر مسلم کمان کے تحت لڑ سکتے ہیں ؟ 

جہاد اور نظم حکومت 

عصر حاضر میں جہاد کے حوالے سے ایک اہم بحث یہ ہے کہ کیا جہاد کے فریضے کی ادائیگی کے لیے حکومتی نظم کا ہونا ضروری ہے یا افراد اور غیرسرکاری تنظیمیں بھی جہاد کا اعلان کرسکتی ہیں ۔ مسلمان اہل علم اس سلسلے میں تین گروہوں میں تقسیم نظر آتے ہیں ۔ بعض اہل علم سرے سے اس شرط کے قائل ہی نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک فریضۂ جہاد کی ادائیگی کے لیے حکومتی نظم ایک مناسب امر تو ہے مگر جہاد اس کے بغیر بھی کیاجاسکتا ہے ، بالخصوص جبکہ مسلمان حکمرانوں کے متعلق بالعموم یہ تاثر پایاجاتا ہے کہ وہ عوام کی خواہشات کے ترجمان نہیں ہیں اور جہاد سے جی چراتے ہیں ۔ (۶۲) کچھ اہل علم ایسے ہیں جن کی رائے اس کے بالکل برعکس ہے ۔ وہ فریضۂ جہاد کی صحیح ادائیگی کے لیے اسے ایک لازمی شرط قرار دیتے ہیں کہ اسے نظم حکومت کے تحت رہ کر کیا جائے ۔ (۶۳) ایک تیسرا گروہ ان اہل علم کا ہے جو دفاع کی صورت میں اس شرط کے قائل نہیں لیکن اسے اقدام کے لیے ضروی قرار دے دیتے ہیں ۔ (۶۴) اس اختلاف رائے کی وجہ سے دیگر کئی امور پر بھی اختلاف ہوا ۔ مثلاً آزادی کی مسلح تحریکوں کے جواز اور عدم جواز کے مسئلے کا بھی بہت حد تک انحصار اسی بنیادی امر پر ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر حکومتی نظم کے بغیر جہاد جائز نہ ہو تو پھر مسلح جدوجہد آزادی کو کیسے جہاد قرار دیاجاسکتاہے ؟ 

استطاعت اور مقدرت کی شرط 

اسی طرح جہاد کے حوالے سے استطاعت اور مقدرت کی شرط پر بھی عصر حاضر کے تناظر میں غور و فکر کی ضرورت ہے۔ سورۃ الانفال کی آیت ۶۶ سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ جب تک مسلمان فوج کی تعداد دشمن کے مقابلے میں کم از کم دوگنا نہ ہو اس وقت تک ان پر جہاد فرض نہیں ہوتا ۔ (۶۵) اس کے برعکس بعض دیگر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ سورۃ الانفال کی آیت سے زیادہ سے زیادہ یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ اگر دشمنوں کی تعداد دوگنی سے بھی زائد ہو تو پھر مومن قتال کی کاروائی موخر کرسکتے ہیں بشرطیکہ ایساکرنا ان کے بس میں ہو۔یعنی مومنوں کو ایسی صورت میں قتال کی کاروائی شروع نہیں کرنی چاہیے ۔ لیکن اگر حملہ دشمنوں کی جانب سے ہو تو پھر تعداد کا لحاظ کیے بغیر خون کے آخری قطرے تک دفاع کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ایسی صورت میں اگر ایک جگہ کے مسلمان کمزور ہوں اور دفاع کی اہلیت نہیں رکھتے تو دوسرے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد ہوگا ، یہاں تک کہ شرقاً و غرباً پوری دنیا کے مسلمانوں پر یہ فریضہ فرض عین کی صورت اختیار کرلے گا لیکن دفاع کا حکم ساقط نہیں ہوگا ۔ (۶۶) مزید برآں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس عددی نسبت کا لحاظ تو اس زمانے میں رکھا جاسکتا تھا جب افرادی قوت ہی میدان جنگ میں اہم کردار ادا کرتی تھی ۔ موجودہ دور میں جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے فرد کی اہمیت کو نسبتاً کم کردیا ہے کیا زیادہ اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دشمن کہاں کھڑا ہے؟ اگر مسلمان فوج کی تعداد دس ہزار ہے مگر اس کے پاس روایتی بندوق ہیں اور دشمن کی تعداد سو ہے مگر اس کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں تو مقدرت کا اندازہ تعداد سے لگایاجائے گا یا اسلحے کی نوعیت سے ؟ (۶۷) نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تعداد کا اندازہ لگاتے ہوئے کیا صرف باقاعدہ فوج کو دیکھا جائے گا یا مسلمان آبادی کی کل تعداد دیکھی جائے گی ؟کیونکہ بعض صورتوں میں قتال ہر مسلمان پر نماز اور روزے کی طرح فرض عینی کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ کیا اس کا لازمی تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہرمسلمان کم از کم بنیادی فنون سپہ گری اور اسلحے کے استعمال سے واقف ہو ، بنیادی فوجی ٹریننگ ہر شہری کو دی گئی ہو اور شہری دفاع کے اصولوں سے سبھی واقف ہوں ؟ 

جہاد اور امن معاہدات 

جہاد سے متعلق مباحث میں ایک اہم بحث معاہدات کے متعلق ہے ۔ اولاً تو اس پر بحث کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کیا غیرمسلموں کے ساتھ امن کا معاہدہ کیاجاسکتا ہے ؟ ثانیاً اس معاہدے کی نوعیت اور ماہیت کیا ہوگی ؟ کیا اس کی حیثیت محض ایک عارضی جنگ بندی کی ہوگی یا مستقل بنیادوں پر بھی امن کا معاہدہ کیا جاسکتا ہے ؟ مسلمان اہل علم میں بالعموم اس امر پر اتفاق پایاجاتا ہے کہ غیرمسلموں کے ساتھ امن کا معاہدہ جائز ہے ، بشرطیکہ اس میں مسلمانوں کے مصالح کا لحاظ رکھا جائے ۔ تاہم امن معاہدات کی نوعیت اور ماہیت کے متعلق اختلاف پایاجاتا ہے ۔ بہت سے لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ فقہاء کے نزدیک امن معاہدات کی حیثیت صرف جنگ بندی کی تھی اور وہ غیر مسلموں کے ساتھ صرف ایک قسم کے مستقل معاہدۂ امن کے جواز کے قائل تھے ، یعنی عقد ذمہ جس کے بموجب غیرمسلموں کو دارالاسلام کے رعایا کی حیثیت حاصل ہوجاتی تھی ۔ (۶۸) گویا غیرملکی غیرمسلموں کے ساتھ مستقل بنیادوں پر امن کا معاہدہ نہیں کیاجاسکتا تھا ۔ جن لوگوں نے اس موقف کو قبول کیا انہوں نے اس سے ایک اور اصول کے لیے بھی استدلال کیا اور وہ یہ کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان مستقل حالت جنگ ہے ، امن کا وقفہ اگر بیچ میں آئے گا تو وہ عارضی ہوگا ۔ (۶۹) چنانچہ اس موقف کے قائلین اقوام متحدہ کے منشور کے طرز پر معاہدات کو ناجائز سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے تحت طاقت کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے اور تمام تنازعات پرامن ذرائع سے حل کرنے کا کہاگیا ہے ۔ اس کے برعکس بعض دیگر اہل علم کی رائے یہ ہوئی کہ فقہاء نے اپنے وقت کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ رائے قائم کی تھی اور یہ اسلامی قانون کا کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہے ۔ ان اہل علم کے نزدیک مسلمانوں اور غیرمسلموں کے علاقات میں اصل کی حیثیت امن کو حاصل ہے اور جنگ کی حیثیت ایک عارض کی ہے ۔ چنانچہ وہ غیرمسلموں کے ساتھ مستقل معاہدۂ امن میں کوئی قانونی قباحت نہیں محسوس کرتے۔ (۷۰) 

دراصل لوگوں نے ’ابدی معاہدۂ امن ‘‘(امان مؤبد) اور ’’وقت کی قید سے آزاد معاہدۂ امن‘‘ (امان مطلق) کو مترادف سمجھ لیا ہے ۔ ان کے خیال میں اگر معاہدۂ امن میں وقت کی قید نہ ہو تو اس کی حیثیت ابدی معاہدے کی ہوجاتی ہے اور یوں یہ جہاد کی معطلی کا باعث ہوجاتی ہے ۔ حالانکہ اولاً تو امان مؤبد اور امان مطلق میں قانونی لحاظ سے فرق پایاجاتا ہے ۔ اول الذکر میں فریقین طے کرلیتے ہیں کہ وہ کبھی ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے، جبکہ آخر الذکر میں وہ صرف یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے اور اس میں یہ ذکر نہیں کرتے کہ یہ معاہدہ کب تک نافذ العمل رہے گا۔ ثانیاً اگر یہ دونوں مترادف بھی ہوں تو یہ جہاد کی معطلی کا باعث کیونکر بنتے ہیں ؟ اگر جہاد کی فرضیت کی علت ’’محاربہ‘‘ ہو اور اس کا سدباب جنگ کے بغیر ہوسکتا ہو تو جنگ کے لیے جواز کہاں سے فراہم کیاجائے گا؟ 

دونوں فریقوں نے اس بات کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر مان لیا ہے کہ فقہا نے بالعموم مستقل امن معاہدات کو ناجائز ٹھہرایا ہے ، حالانکہ فقہ اسلامی کے معتبر متون کا جائزہ لینے کے بعد صورتحال اس کے برعکس محسوس ہوتی ہے ۔ شافعی اور حنبلی مسلک میں اس موضوع پر دو رائیں پائی جاتی ہیں : ایک جواز کی اور ایک عدم جواز کی ۔ (۷۱) عدم جواز کی رائے زیادہ مشہور ہے ۔ اس رائے کے مطابق معاہدۂ امن میں وقت کی قید کا ہونا ضروری ہے اور یہ مدت عام حالات میں چار مہینوں سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔ ضرورت کے وقت یہ مدت دس سال تک بڑھائی جاسکتی ہے ۔ مدت کے اختتام پر اگر ضروری ہو تو اسے مزید دس سال تک بڑھایاجاسکے گا لیکن کسی بھی صورت میں اس مدت کو ایک وقت میں دس سال سے زائد نہیں کیاجاسکتا ۔ (۷۲) اگر معاہدے میں مدت کا تعین نہیں کیاگیا لیکن یہ شرط رکھی گئی کہ مسلمان کسی بھی وقت اس معاہدے کو ختم کرسکیں گے تو تمام شافعی فقہا کے نزدیک یہ معاہدہ جائز ہوجاتا ہے (۷۳)، جبکہ حنبلی فقہا میں جو اس قسم کے معاہدات کے عدم جواز کے قائل ہیں، ان کے نزدیک اس صورت میں بھی معاہدہ ناجائز ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس شرط کو معاہدے کے مقتضیات سے متصادم سمجھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاہدۂ امن ان کے نزدیک عقد لازم ہے اس لیے اس میں اس قسم کی شرط رکھنا صحیح نہیں ہوسکتا ۔ (۷۴) حنفی اور مالکی فقہا نے تصریح کی ہے کہ معاہدۂ امن میں وقت کی قید بیان کرنا ضروری نہیں ہے اور یہ مدت دس سال سے زائد بھی ہوسکتی ہے ۔ (۷۵) یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حنفی فقہا کے نزدیک معاہدۂ امن کی حیثیت عقد غیر لازم کی ہوتی ہے ، یعنی کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اس کے خاتمے کا اعلان کرسکتا ہے ، بشرطیکہ وہ دوسرے فریق کو اس کے خاتمے کے متعلق باقاعدہ اطلاع دے اور جنگی کارروائی بغیر اعلان جنگ کے نہ کرے۔ (۷۶) حنابلہ میں ابن القیم کی رائے یہ ہوئی کہ اگر معاہدۂ امن وقت کی قید سے آزاد ہوتو وہ عقد غیر لازم ہوگا ،جبکہ موقت ہونے کی صورت میں وہ عقد غیر لازم ہوگا ۔ (۷۷) عصر حاضر میں اس حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے معاہدۂ امن خواہ مطلق ہو یا موقت ، ہر دو صورتوں میں وہ عقد لازم کی حیثیت رکھتا ہے ۔ (۷۸) کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا معاہدہ تمام فقہا کے نزدیک ناجائز ہوگا ؟ 

اس کے علاوہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو کیا اس کے بعد بھی معاہدہ برقرار رہتا ہے ؟ رائج الوقت بین الاقوامی قانون کے تحت دوسرا فریق معاہدے سے تبھی آزاد ہوسکے گا جب وہ باقاعدہ طور پر معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرے ۔ (۷۹) مسلمان اہل علم میں بھی بعض نے یہ رائے اختیار کی ہے (۸۰) لیکن اکثریت کا موقف یہ ہے کہ عملاً نقض واقع ہونے کی صورت میں دوسرے فریق کو معاہدہ ختم ہونے کے اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے بغیر بھی اسے اقدام کا حق حاصل ہوجاتا ہے ۔ (۸۱) یہ مسئلہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کرلیتا ہے جب اسے غیر ممالک میں مسلمانوں کی مدد کے معاملے سے متعلق کرکے دیکھا جائے ۔ اگر کسی غیر مسلم ملک کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہو اور وہ ملک اپنے مسلمان باشندوں پر مظالم ڈھارہاہو تو کیا ایسی صورت میں معاہدۂ امن کو ختم سمجھ کر مسلمان بغیر اعلان کے کاروائی کرسکیں گے یا کاروائی سے پہلے انہیں معاہدہ ختم ہونے کا اعلان کرنا ہوگا ؟ 

ایک سوال یہاں مسلمانوں کی جانب سے انفرادی کوششوں کے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے ۔ اگر کسی مسلمان ملک نے غیرمسلموں کے ساتھ معاہدہ کیا تو اس کے تمام باشندے اس کے پابند ہوجاتے ہیں ۔ ایسے میں اگر بعض افراد کی رائے یہ ہو کہ اس غیرمسلم ملک کی مسلمان رعایا کی مدد لازم ہے تو معاہدہ ختم ہونے تک وہ انفرادی طور پر ان کی مدد کے لیے نہیں جاسکتے۔ ایسی صورت میں ان کے لیے کیا راستہ باقی بچتا ہے ؟ کیا یہی کہ وہ اپنے ملک کی شہریت ترک کردیں ؟ کیا حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے واقعے سے اس سلسلے میں استدلال کیاجاسکتا ہے؟ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے باشندے معاہدۂ حدیبیہ کے پابند تھے اس لیے وہ اہل مکہ کے خلاف فوجی کاروائی نہیں کرسکتے تھے ۔ جبکہ حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی باقاعدہ اہل مکہ کے قافلوں پر حملے کیا کرتے تھے ۔ اہل مکہ نے اسے معاہدۂ حدیبیہ کی خلاف ورزی نہیں قرار دیا (۸۲) اور نہ ہی قانوناً وہ ایسا کرسکتے تھے ، کیونکہ یہ لوگ مدینہ کی ریاست کے دائرۂ عمل سے باہر مقیم تھے اور انہوں نے مدینہ کی ریاست کی شہریت اختیار نہیں کی تھی ، باوجود اس کے کہ وہ مسلمان تھے اور اس حیثیت سے ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کی اطاعت لازم تھی ۔ لیکن قانوناً چونکہ وہ ریاست کے باشندے نہیں تھے اس لیے ریاست کا معاہدہ ان پر لازم نہیں تھا اور اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاہدے کی پابندی کا حکم کبھی نہیں دیا۔ (۸۳) 

آداب القتال 

آداب القتال کے متعلق شریعت نے کچھ تفصیلی احکام دیے ہیں ؛ مثلاً عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کی ممانعت ، معاہدات کی پابندی کا حکم ، مثلہ کی ممانعت وغیرہ ۔ (۸۴) اس سلسلے میں اسلامی قانون نے معاملہ بالمثل (Reciprocity) کا قاعدہ بھی مانا ہے ۔ تاہم محض معاملہ بالمثل کی بنیاد پر شریعت کے احکام کی خلاف ورزی جائز نہیں ہوسکتی ۔ مثلاً اگر دشمن مسلمانوں کے شہریوں کو نشانہ بنائیں گے تو جواباً مسلمان ایسی کاروائی نہیں کریں گے ۔ (۸۵) اس قسم کی کاروائی صرف اسی وقت جائز ہوسکتی ہے جب جنگی ضرورت کی وجہ سے حملہ ناگزیر ہو اور شہریوں کا بچانا ممکن نہ ہو ۔ (اسے بین الاقوامی قانون کی اصطلاح میں ’’ضمنی نقصان ‘‘ Collateral Damageکہتے ہیں ۔ ) پس معاملہ بالمثل کے ساتھ ایک متوازی قاعدہ اضطرار کا بھی ہے۔ 

یہاں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان دیگر قوموں کے ساتھ آداب جنگ کے تعین کے لیے معاہدات کرسکتے ہیں ؟ (عصر حاضر میں جنیوا کنونشن اور ان کے ساتھ اضافی پروٹوکول اس قسم کے معاہدات کی مثالیں ہیں ۔ )شریعت نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے کہ جنگ کے دوران بعض قواعد اور ضوابط کا لحاظ رکھیں گے قطع نظر اس سے کہ دوسرا فریق ان کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگردوسرا فریق ان قواعد کو معاہدے کا حصہ بناکر ان کی پابندی پر آمادہ ہو تو مسلمانوں کے لیے اس قسم کے معاہدات میں شامل ہونا مستحسن ہی ہوگا ۔ اس قسم کے معاہدات کے تحت ممنوع کام اس وقت تک ممنوع رہیں گے جب تک وہ معاہدات مؤثر ہوں ، الا یہ کہ ان کاموں کو شریعت نے بھی ممنوع قرار دیا ہو ۔ ظاہر ہے کہ شریعت کے تحت ممنوع شدہ کام مسلمانوں کے لیے ممنوع رہیں گے خواہ دوسرے فریق کے ساتھ معاہدہ ختم ہوجائے ۔اس قسم کے معاہدات سے بعض مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً جنگی قیدیوں کے متعلق نص قرآنی کے بموجب مسلمان حکمران کو دو اختیار دیے گئے ہیں ؛ من اور فدا، یعنی بغیر معاضہ کے یا معاوضہ لے کر رہائی ۔ (۸۶) چوتھے جنیوا معاہدے کے ذریعے طے کیاگیا ہے کہ جنگ کے خاتمے پر قیدیوں کو بغیر معاوضہ کے رہاکیاجائے گا ۔ (۸۷) کیا یہ شق شریعت کے خلاف متصور ہوگی یا اسے حکمران کے اختیارات کا جائزاستعمال سمجھا جائے گا ؟ عصر حاضر میں آداب القتال کے حوالے سے تین امور نہایت اہمیت اختیار کرگئے ہیں : غیرمقاتلین کا تعین ، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کا حکم اور فدائی یا خودکش حملے۔ 

غیرمقاتلین کو نشانہ بنانے کی ممانعت 

مسلمان اہل علم کا اس بات پر اصولاً اتفاق ہے کہ غیر مقاتلین کو جنگ میں نشانہ نہیں بنایا جائے گا ۔ اس پر بھی اتفاق ہے کہ اگر غیر مقاتلین جنگ میں حصہ لیں تو ان کو نشانہ بنایاجاسکتا ہے ۔ (۸۸) لیکن چند امور ایسے ہیں جن پر اختلاف پایاجاتا ہے اور جو مزید غور و فکر کے متقاضی ہیں ۔ اولاً غیرمقاتلین میں کون لوگ شامل ہیں ؟ خواتین اور بچوں کو بالعموم غیرمقاتلین میں شامل کیاجاتا ہے لیکن وہ مرد جو فوج کا حصہ نہ ہوں کیا ان کو بھی غیر مقاتل کہاجائے گا ؟ پرانے زمانے میں جوان مرد کو بالفعل یا بالقوۃ جنگجو سمجھا جاتا تھا اور عورتوں کو اصولاً غیر مقاتل ہی سمجھا جاتاتھا لیکن کیا یہ بات عصر حاضر کے تناظر میں بھی صحیح ہے ؟ کیا موجودہ حالات میں ’’غیر فوجی ‘‘ کو ہی غیر مقاتل سمجھا جائے گا؟ بہت سے اہل علم نے شہری (Civilian) اور غیر مقاتل کو مترادف مانا ہے (۸۹) لیکن ایک رائے یہ بھی پیش کی گئی ہے کہ چونکہ شہریوں کے ٹیکسوں سے فوج کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں اس لیے بالواسطہ ہی سہی شہری بھی جنگ میں حصہ لیتے ہیں اس لیے ہر ٹیکس دینے والا (Tax-payer) مقاتل تصور ہوگا۔ (۹۰) اسی طرح اگر کسی ملک میں تمام شہریوں کے لیے فوجی تربیت لازمی ہو تو وہاں مقاتل اور غیرمقاتل میں تمیز کیسے کی جائے گی ؟ 

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار 

غیرمقاتل کے تعین پر ہی باقی دو امور (بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال اور فدائی حملے ) کا بہت حد تک انحصار ہے ۔ اگر تمام غیر فوجیوں کو غیرمقاتل کہاجائے تو پھر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال بھی اصولاً ناجائز ہوگا کیونکہ ان کا اثر صرف فوجی تنصیبات تک ہی محدود نہیں ہوتا ۔ ان کا استعمال صرف معاملہ بالمثل اور اضطرار کی صورت میں ہی جائز ہوسکتا ہے ۔ لیکن کیا معاملہ بالمثل اور اضطرار کی بنیاد پر ایٹمی ہتھیار اور زہریلی اور کیمیاوی گیسوں کا استعمال جائز ہوسکتا ہے ؟ ان ہتھیاروں کے اثرات تو بہت ہی تباہ کن اور کئی نسلوں پر محیط ہوتے ہیں ۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے اپنے مشہور (لیکن متنازعہ !) فیصلے میں اصولاً ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو ناجائز قراردیا لیکن اس مسئلے پر ججوں کا ختلاف ہوا کہ کیا کوئی اضطرار کی حالت ایسی ہوسکتی ہے جس میں ریاست کی بقا ہی خطرے میں پڑ جائے اور اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہو کہ وہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرے؟ بعض ججوں کی رائے یہ تھی کہ ایسی کوئی اضطراری حالت بھی ان ہتھیاروں کے استعمال کو جواز نہیں عطا کرسکتی لیکن بعض دیگر ججوں کی رائے یہ تھی کہ ایسی صورت میں ان ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت کے لیے بین الاقوامی قانون میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ۔ (۹۱) 

فدائی حملے یا خود کش حملے ؟ 

جہاں تک ان حملوں کا تعلق ہے جن میں حملہ آور خود کوہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اپنی جان دے کر دشمن کو نقصان پہنچاتا ہے تو اولاً تو یہی امر متنازعہ ہے کہ اس قسم کے حملوں کو کیا نام دیا جائے ؟ اگر ان کو ’’خود کش حملے‘‘ کہا جائے تو پہلا تاثر ان کے ناجائز ہونے کا بنتا ہے کیونکہ خودکشی اصولاً حرام ہے ۔ اس کے برعکس اگر ان کو ’’فدائی حملوں‘‘کانام دیا جائے تو پھر تاثر یہی بنتا ہے کہ یہ شہادت کی اعلی ترین قسم ہے کیونکہ اس قسم کے حملوں میں جان کا جانا یقینی ہوتا ہے ۔ اس لیے بہت سے لوگ ان کو ’’استشہادی کاروائیاں‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ ثانیاً کیا اس قسم کے حملوں کی شریعت نے اجازت دی ہے ؟ جو لوگ ان کو خودکش حملے کہتے ہیں وہ ان کو اصولاً ناجائز کہتے ہیں کیونکہ شریعت نے خودکشی کو ناجائز ٹھہرایا ہے ۔ اس کے برعکس جواز کے قائلین کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کی کاروائی سے کمزور فریق طاقتور دشمن کو سخت ترین نقصان پہنچاسکتا ہے ، اور باقی رہی جان جانے کی بات تو جہاد میں جان جانے کا امکان تو ہر وقت رہتا ہے ۔ اس پر یہ اعتراض کیاجاسکتا ہے کہ دشمن اگر مجاہد کی جان لے اور مجاہد خود اپنی جان لے تو ان دونوں میں فرق ہے ۔ اول الذکر شہادت ہے اور ثانی الذکر خودکشی ہے ۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ فدائی حملوں میں حملہ آور اذیت کے خوف سے خودکشی نہیں کرتا بلکہ ہنسی خوشی جان کی قربانی پیش کرکے دشمن کو بڑا نقصان پہنچاتا ہے اور فقہا نے صراحت کی ہے کہ عام حالات میں تنہا مجاہد کو دشمن کے صفوں میں نہیں گھسنا چاہیے لیکن اگر اس طرح دشمن کو خوفزدہ کیاجاسکتا ہو اور ان پر دھاک بٹھانا مقصود ہو تو یہ حملہ جائز ہوگا ۔ (۹۲) جو لوگ اس قسم کے حملوں کے عدم جواز کے قائل ہیں ان میں بھی بہت سے اس بات کو مانتے ہیں کہ بعض استثنائی حالات میں اس قسم کا حملہ نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہوجاتا ہے ۔ مثلاً چونڈہ کے محاذ پر جب ٹینکوں کا بڑا حملہ ہوا تو پاک فوج نے اس کی پسپائی اسی قسم کے حملوں سے یقینی بنائی ۔ اسی طرح راشد منہاس شہید نے جب جہاز کو زمین سے ٹکرادیاتھا تو وہ بھی حقیقت کے لحاظ سے خودکش یا فدائی حملہ ہی تھا اور اس حملے کی وجہ سے ان کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازاگیا ۔ 

اس قسم کے حملوں کے جواز اور عدم جواز کے تعین کے لیے ایک اور اہم عامل یہ امر ہے کہ ان کا نشانہ کون ہے ؟ اگر نشانہ وہ لوگ ہوں جن کو شریعت نے نشانہ بنانے سے روکا ہے (غیر مقاتلین) تو پھر حملہ بھی ناجائز ہوگا لیکن اگر حملے کانشانہ مقاتلین ہوں تو پھر عدم جواز کے قائلین کو اپنے موقف کے اثبات کے لیے مزید قوی دلائل جمع کرنے ہوں گے ۔ معاصر بین الاقوامی قانون کے تحت ایک اور عامل بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ بین الاقوامی قانون نے ہر قسم کے حملوں کے جواز کے لیے لازم ٹھہرایا ہے کہ حملہ آور غیر مقاتلین کے بھیس میں نہ ہو ۔ (۹۳) کیا یہ شرط اسلامی قانون کے تحت بھی لازم ہے ؟ مقاتل اگر غیر مقاتل کے بھیس میں ہو تو کیا اسے شرعاً دھوکہ دہی اور غدر سمجھا جائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کو ’’خدعۃ‘‘ قرار دیا تھا ۔ (۹۴) جائز خدعۃ اور ناجائز دھوکہ دہی میں فرق کیسے کیا جائے گا ؟

جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک 

آداب القتال کے حوالے سے ایک اور اہم بحث جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک کا معاملہ ہے ۔ اس سلسلے میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا غیر مقاتلین کو جنگی قیدی بنایاجاسکتا ہے ؟ فقہا نے جنگی قیدیوں میں مقاتلین کو ’اسریٰ‘ اور غیرمقاتلین کو ’سبی‘ کانام دیاتھا ۔ (۹۵) کیا اس تقسیم کو اب بھی برقرار رکھاجاسکتا ہے ؟ (۹۶) دوسرا سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت مطالبات منوانے کے لیے جنگی قیدیوں کو یرغمال بنانے کی ممانعت ہے اور اسے دہشت گردی میں شمار کیاجاتا ہے ۔ (۹۷) کیا اسلامی قانون کے تحت جنگی قیدیوں کو یرغمال رکھنا جائزہے ؟ تیسرا سوال قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہے ۔ قرآن کریم نے نص صریح کے ذریعے ان کے متعلق دو آپشن دیے ہیں ؛ من یا فداء ۔ پھر فقہاء نے کس بنیاد پر دیگر آپشن (غلام بنانا اور قتل کرنا) ذکر کیے ؟ اگر ان کا استدلال رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل سے تھا تو رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل کی بنیاد کیا تھی؟ ایک رائے یہ پیش کی گئی کہ قرآنی نص نے دو اختیارات ذکر کیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکمران کو دیگر اختیارات حاصل نہیں ہیں ۔ (۹۸) لیکن یہ رائے اس لیے قوی نہیں لگتی کہ آیت کریمہ میں ’اما منا بعد واما فداء‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے جو بظاہر حصر کو مستلزم ہے ۔(۹۹) اس لیے کچھ بے باک لوگوں نے سرے سے اس کا ہی انکار کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی قیدیوں کو غلام بھی بنایاتھا یا قتل بھی کیا تھا ۔ انہوں نے اس قسم کی ساری روایات کو ’’عجمی سازش‘‘ کہہ کر مسترد کردیا ۔ (۱۰۰) ایک رائے یہ پیش کی گئی کہ سورۃ التوبۃ کی آیت ۵ میں مخالفین کو قتل کرنے اور گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اس لیے اس آیت نے سورۃ محمد کی آیت کو منسوخ کردیا ۔ (۱۰۱) لیکن نسخ یہاں صریح نہیں بلکہ آیات کے درمیان ظاہری تعارض کی وجہ سے فرض کیا گیا ہے کہ ایک آیت نے دوسری آیت کو منسوخ کردیا ہے ۔ گویا یہ نسخ ضمنی ہے (Implied Abrogation) اور نسخ ضمنی کی طرف تبھی جایاجاتا ہے جب دو نصوص کے درمیان جمع و تطبیق ممکن نہ ہو ۔ (۱۰۲) یہاں تطبیق بلاتکلف ممکن ہے ۔ سورۃ التوبۃ کی آیت جنگ کے دوران حملے کے لیے حکم متعین کرتی ہے ، جبکہ سورۃ محمد کی آیت جنگ کے خاتمے پر جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے متعلق حکم دیتی ہے ۔ (۱۰۳) جناب جاوید احمد غامدی کی رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل سورۃ محمد کی آیت کے عین مطابق تھا ۔ چنانچہ عام طور پر آپ قیدیوں کو بلامعاوضہ رہا کرتے تھے اور اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں ۔ کبھی آپ قیدیوں کا تبادلہ کرتے یا کسی اور عوض پر انہیں رہا کردیتے ۔ بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کوصحابہ نے تقسیم کے بعد از خود آزاد کیا کیونکہ آپ نے اس قبیلے کی ایک خاتون (سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا) سے شادی کی ۔ کبھی ایسا ہوا کہ اگر کچھ صحابہ قیدیوں کو رہا کرنے پر آمادہ نہ تھے تو انہیں معاوضہ دے کر قیدیوں کو رہایا کروایا۔ (۱۰۴ ) یہ ساری باتیں صحیح ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ نے ایک بار قیدیوں کو تقسیم کیا تو کیا ان کو غلام نہیں بنایاگیا اور کیا صحابہ کو ان پر مالکانہ حقوق نہیں دیے گئے ؟ اگر وہ غلام نہیں بنائے گئے توبعض صحابہ کو معاوضہ کس چیز کا دیاگیا ؟ ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی مانتے ہیں کہ بعض مواقع پر قیدیوں کو غلام بنایاگیا مگر وہ اسے معاملہ بالمثل قرار دیتے ہیں ۔ (۱۰۵) لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا معاملہ بالمثل کی بنیاد پر قرآنی نص پر اضافہ کیاجاسکتا ہے؟ اسی طرح بنو قریظہ کے مقاتلین کو آپ نے قتل کردیا اور غیر مقاتلین کو غلام بنایا ۔ عصر حاضر کے اکثر مسلمان اہل علم اسے اس بنیاد پر جواز عطا کرتے ہیں کہ ایک تو یہ ثالث کا فیصلہ تھا اور ثالث بھی یہود نے ہی مقرر کیا تھا ۔ دوسرے یہ تورات کا ہی فیصلہ تھا جو ان پر نافذ ہوا ۔ (۱۰۶) سوال پھر وہی ہے ۔ کیا ثالث کے فیصلے یا تورات کے حکم کی بنیاد پر قرآن کا حکم ترک کیاجاسکتا ہے ؟ (۱۰۷) کن حالات میں جنگی قیدی کو قتل کیا جاسکتا ہے ؟ مزید برآں کیا قتل کے جواز کے لیے عدالتی کاروائی کا ہونا ضروری ہے ؟ بین الاقوامی قانون نے جنگی جرائم کے ارتکاب پر سزاؤں کے لیے عدالتیں قائم کی ہیں ۔ شرعاً اس قسم کے طریق کار کی کیا حیثیت ہے ؟ (۱۰۸) 

جہاد اور مسلح جد جہد آزادی 

عصر حاضر میں جہاد اور مسلح جدو جہد آزادی کے تعلق نے بھی بہت اہمیت اختیار کی ہے ۔ کئی جگہوں پر غیرملکی تسلط کے خلاف مسلح مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے اور اسے جہاد ہی کے عنوان سے تعبیر کیاجاتا ہے ۔ اس سلسلے میں بعض اہل علم نے یہ رائے قائم کی ہے کہ اگر غیرملکی تسلط کے تحت مسلمانوں کے لیے دین پر عمل کرنا ناممکن ہوجائے تو ان کے پاس صرف یہی راستہ ہوگا کہ یا تو وہ وہاں سے ہجرت کریں اور یا کسی اسلامی ملک کی مدد طلب کریں ۔ گویا ان اہل علم کے نزدیک غیرملکی تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد ناجائز ہوگی ۔ اس عدم جواز کے لیے ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس قسم کی مسلح مزاحمت نظم حکومت کے بغیر کی جاتی ہے جبکہ جہاد کے لیے نظم حکومت کا ہونا ضروری ہے ۔ (۱۰۹) 

یہاں اسلامی قانون کے لحاظ سے چند اہم سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ اولاً کیا حکومت اور ریاست بذات خود مقصود ہیں، یا فریضۂ دفاع و اعلاء کلمۃ اللہ کے اچھے طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک ذریعہ ہیں؟ اگر کبھی اسلامی ملک پر حملے کے نتیجے میں وہاں کی حکومت کا عملاً خاتمہ ہو جائے اور ابھی جنگ جاری ہو تو کیا پھر بھی دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے لیے باقاعدہ نظم حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہوگی ؟ یا مزاحمت کرنے والے آپس میں کسی کو امیر چن کر اس کی اطاعت کا اقرار کریں تو یہ حکومت کا بدل ہو جائے گا ؟ اسی طرح وہ لوگ جو کسی ظالمانہ نظام سے آزادی چاہتے ہوں تاکہ اپنے حقوق کا تحفظ کریں تو کیا ان پر بھی ریاست و حکومت کے تحت لڑنے کی شرط لاگو ہوتی ہے؟ وہ تو لڑیں گے ہی اس مقصد کے لیے کہ اپنی ریاست اور حکومت قائم کرسکیں ۔ 

شرعاً مسلمانوں پر اس سرزمین سے ہجرت واجب ہوجاتی ہے جہاں وہ اپنے دین پر عمل نہ کرسکتے ہوں ۔ (۱۱۰) تاہم عصر حاضر کے مخصوص معروضی حالات کی وجہ سے بعض اوقات مظالم کے باوجود ہجرت ناممکن یا نامناسب ہوتی ہے ، مثلاً: 

الف) جب مظلوموں کی تعداد لاکھوں میں ہو۔ 

ب) جب قریب ترین اسلامی ملک بہت دور ہو جہاں کثیر تعداد میں مسلمانوں کے لیے ہجرت کرکے جانا ناممکن ہو یا انتہائی حد تک مشکل ہو۔ 

ج) جب اسلامی ملک اتنی کثیر تعداد میں آنے والے مہاجرین کی آباد کاری کے وسائل نہ رکھتا ہو۔ 

د) جب وہ غیر مسلم ملک انہیں ہجرت بھی نہ کرنے دیتا ہو۔ 

کیا ان صورتوں میں لاکھوں لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر نکل جانے کا حکم دیاجائے گا؟ کیا اس سرزمین کو اسلام کے دشمنوں کے لیے خالی چھوڑاجاسکتا ہے ؟ ایسی صورت میں اگرمظلوم دیگر مسلمانوں سے مدد طلب کرسکتے ہیں تو وہ خود اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے طاقت کیوں نہیں استعمال کرسکتے ؟ شریعت نے فردکو حق دفاع شخصی کے تحت طاقت کے استعمال کی اجازت دی ہے ۔(۱۱۱) اگر فرداً فرداً ایک ایک مظلوم کو یہ حق حاصل ہے ، تو کیا بہت سارے مظلوم مل کر ایک دوسرے کا تحفظ نہیں کرسکتے؟ (۱۱۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان ، مال اور عزت وآبرو کے تحفظ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو بھی شہید قرار دیا ہے ۔ (۱۱۳) کیا اس بنیاد پر وطن کی آزادی کی تحریک کو جہاد کے مفہوم میں داخل سمجھا جاسکتاہے ؟ اگر آزادی کی تحریکیں غیر اسلامی نظام یا مقاصد کے حصول کے نعرے بلند کریں تو ان کی جدوجہد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟ اس کا جواب غالباً یہی ہوگا کہ اگر آزادی کی تحریک کے رہنما تو ایسی صورت میں اس تحریک کو جہاد نہیں کہاجاسکے گا، اگرچہ افراد کو حق دفاع شخصی پھر بھی حاصل رہے گا۔

جہاد اور دہشت گردی 

غیرملکی تسلط کے خلاف مسلح مزاحمت اور آزادی کی تحریکوں پر بحث کے ضمن میں ایک اہم بحث دہشت گردی کی تعریف اور نوعیت کی ہے۔ بین الاقوامی قانون میں دہشت گردی کی متفقہ تعریف ابھی تک وجود میں نہیں آسکی ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغربی ممالک ریاست کے خلاف مزاحمت کی ہر صورت کو دہشت گردی قرار دینا چاہتے ہیں ، جبکہ ترقی پذیر ممالک آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی کی تعریف سے مستثنی قرار دینا چاہتے ہیں ۔ (۱۱۴) حقیقت یہ ہے کہ آزادی کی تحریک اور دہشت گردی میں کوئی لازم و ملزوم کا تعلق نہیں ہے ۔ آزادی کی مسلح جدوجہد دہشت گردی کے ارتکاب کے بغیر بھی ہوسکتی ہے ۔ اسی طرح دہشت گردی مسلح جدوجہد آزادی تک ہی محدود نہیں ، ریاستیں بھی دہشت گردی کا ارتکاب کرتی ہیں اور آزادی کے بجائے کسی اور مقصد کی خاطر بھی دہشت گردی کی جاسکتی ہے ۔ پس دہشت گردی کی معروضی تعریف ممکن ہے اگر تعصب اور ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو ا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کے ملکی قوانین میں دہشت گردی کی تعریف کے الفاظ خواہ مختلف ہوں مگر جرم کے عناصر تقریبا یکساں ہوتے ہیں ۔ ہم نے اس مقصد کی خاطر امریکہ ، برطانیہ ، اسرائیل ، بھارت اور پاکستان کے قوانین کا جائزہ لیا تو معلوم ہواکہ ان قوانین کے تحت دہشت گردی کے جرم کے لیے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل عناصر یکجا ہوں : (۱۱۵) 

(۱) طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی ؛ 

(۲) ارادہ معاشرے میں بالعموم یا اس کے کسی طبقے میں خوف پھیلانا ہو ؛ 

(۳) نتیجہ بڑی تباہی یا نقصان ہو ؛ 

(۴) مقصد کسی مطالبے کی منظوری ہو ۔ 

بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے جو تعریفات تجویز کی ہیں ان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی دہشت گردی کے عناصر ترکیبی یہی ہیں۔ ایک ماہر قانون دہشت گردی کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے : 

’’دہشت گردی کی تمام صورتیں اصلاً جرائم ہیں ۔ اس کی اکثرشکلیں جنگی آداب کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتی ہیں ۔ تمام صورتوں میں طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی شامل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ کوئی مطالبہ ہوتا ہے ۔ عموما اس کاروائی کا نشانہ غیر مسلح شہری ہوتے ہیں ۔ محرکات ہمیشہ سیاسی ہوتے ہیں ۔کاروائی اس طرح کی جاتی ہے کہ اسے بڑی شہرت حاصل ہو ۔ کاروائی کرنے والے عموما کسی منظم گروہ کے رکن ہوتے ہیں ، اور عام مجرموں کے برعکس کاروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ اخیراً دہشت گردی کی کاروائی میں لازماً یہ عنصر موجود ہوتا ہے کہ کاروائی کے نفسیاتی اثرات اس کے فوری مادی نقصانات سے زیادہ ہوں۔‘‘ (۱۱۶) 

ہمیں اس تعریف سے بنیادی طور پر اتفاق ہے تاہم تین باتوں کی وضاحت ضروری ہے : 

اولاً یہ کہ دہشت گردی کی کاروائی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی تنظیم کے ارکان کریں ۔ اس کا ارتکاب کوئی فرد بھی کرسکتا ہے اور ریاست بھی۔ 

ثانیاً یہ کہ دہشت گردی کا نشانہ وہ جنگجو بھی ہوسکتے ہیں جن کو قانوناً جنگی کاروائی سے تحفظ دیا گیا ہے مثلاً جنہوں نے ہتھیار ڈال دیے ہوں، یا جو زخمی ہوں ، یا جنہیں قید کیا گیا یا یرغمال بنایا گیا ہو ۔ اسی طرح اگر جنگجوؤں کے خلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا جائے اور تناسب کے اصول کو نظر انداز کیا جائے تو بھی اس کاروائی کو دہشت گردی کہا جائے گا ۔ (۱۱۷) 

ثالثاً یہ کہ دہشت گردی کی کاروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کی روایت اب دم توڑ رہی ہے ۔ ذمہ داری اس لیے قبول کی جاتی تھی کہ جس مقصد کے لیے وہ کاروائی کی جاتی تھی اس کی طرف لوگوں کی توجہ ہو ۔ تاہم اب ایسا نہیں کیا جا تا جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس قسم کی کاروائی کے نتیجے میں لوگوں کی ہمدردیاں دہشت گردوں کے مقصد کے بجائے دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ ہوجاتی ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا مقصد چند لوگوں کو دہشت زدہ کرنا ہوتا ہے اور یہ مقصد بسا اوقات یوں حاصل کیا جاتا ہے کہ کاروائی کرنے والے ’’نامعلوم حملہ آور‘‘ کی صورت میں پراسرار دشمن بن جائیں ۔ 

پس بین الاقوامی قانون کے اصول و قواعد کی روشنی میں دہشت گردی کی مناسب تعریف یہ ہوسکتی ہے : 

’’ایسے لوگوں کے خلاف جنہیں بین الاقوامی قانون نے معصوم قراردیا ہو ، خواہ وہ جنگجو ہوں یا شہری ، طاقت کا استعمال یا اسکی دھمکی اس طریقے سے ہو جو بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز ہو، اور کاروائی کا مقصد یا لازمی نتیجہ یہ ہو کہ معاشرے یا اس کے کسی مخصوص طبقے میں خوف و دہشت پھیل جائے تو اسے دہشت گردی کہا جا ئے گا ،خواہ اس کا ارتکاب افراد کریں ، یا ان کی تنظیم ،یا کوئی حکومت۔‘‘

مسلح جدوجہد آزادی تین طرح سے ہوسکتی ہے ؛ باقاعدہ روایتی جنگ ، گوریلا کاروائی یعنی دشمن کے فوجوں اور فوجی ٹھکانوں کے خلاف چھاپہ مار کاروائی ، اور دہشت گردی۔ (۱۱۸) ان میں آخر الذکر دونوں (گوریلا جنگ اور دہشت گردی) کمزور فریق کے ہتھیار ہیں اور کامیابی کے حصول کے لیے جلد یا بدیر باقاعدہ روایتی جنگ کرنی پڑتی ہے ۔ بین الاقوامی قانون نے دہشت گردی کی متفقہ تعریف نہیں پیش کی مگر حملے کی چند صورتوں کو دہشت گردی میں شمار کیا ہے ، مثلاً : 

۱۔ شہری آبادی یا تنصیبات پر حملہ ؛

۲ ۔ شہری ہوابازی کے طیاروں کو اغوا کرنا ؛ 

۳ ۔ شہریوں یا جنگجوؤں کو یرغمال بنانا ؛ 

۴ ۔ جنگجوؤں پر ان لوگوں کا حملہ جو شہریوں کے بھیس میں ہوں ؛

۵۔ جنگجوؤں پر زہریلی گیسوں اور کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال وغیرہ ۔ (۱۱۹) 

مسلمان اہل علم پر لازم ہے کہ ایک طرف وہ شریعت کے قواعد کی روشنی میں دہشت گردی کی جامع تعریف پیش کریں اور اسے جہاد سے ممیز کریں اور دوسری طرف ان صورتوں کا جائزہ لیں جنہیں بین الاقوامی قانون نے دہشت گردی میں شمار کیا ہے اور ان کے جواز اور عدم جواز کا تعین کریں ۔ ھذا ما عندی ، و العلم عند الل ۔ 


حواشی 


۱۔ سنن الترمذی ، کتاب الایمان ، حدیث رقم ۲۵۴۱ ؛ سنن ابن ماجۃ ، کتاب الفتن ، حدیث رقم ۳۹۶۳ 

۲۔ مثلاً دیکھئے : سورۃ الحجرات ، آیت ۱۵ ؛ سورۃ الاحزاب ، آیات ۹ تا ۲۷ ۔ حدیث مبارک ہے : من مات و لم یغز و لم یحدث بہ نفسہ مات علی شعبۃ من نفاق ۔ [جو اس حالت میں مرا کہ اس نے جہاد میں حصہ لیا ، نہ اس کے دل میں کبھی جہاد میں حصہ لینے کا خیال آیا تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا ۔ ] صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، حدیث رقم ۳۵۳۳ 

۳۔ قومیت کے اس تصور اور بین الاقوامی قانون پر اس کے اثرات کی وضاحت اور تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے : 

Martin Dixon, Textbook on International Law, (London: Blackstone, 2000), pp 8-17; 133-62; 233-254. 

۴۔ ایضاً ، ص ۲۱ ۔ ۴۹ 

۵۔ اسلامی قانون میں شخص قانونی کے اس تصور پر غالباً سب سے اچھی فقہی بحث استاد محترم جناب پروفیسر عمران احسن خان نیازی نے کی ہے ۔ ملاحظہ ہو:

Imran Ahsan Khan Nyazee, Islamic Law of Business Organisation: Corporations, (Islamabad: Islamic Research Institute, 1998).

بین الاقوامی قانون میں قانونی شخصیت کے تصور کی وضاحت کے لیے دیکھئے : 

Dixon, Textbook on International Law, pp 104-32. 

۶۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’سود‘‘ کے تیسرے ضمیمے میں میں دارالحرب میں سودی لین دین کے جواز اور عدم جواز پر بحث کے دوران دارالاسلام اور دار الحرب کے تصور پر بڑی معرکۃ الآرا بحث کی ہے ۔ (سود ، ص ۲۲۸ تا ۳۵۱) انہوں نے فقہی نصوص کا جائزہ لینے کے بعد اس تقسیم کی اصل حقیقت واضح کی ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : 

Muhammad Mushtaq Ahmad, The Doctrine of Dar in the Hanafi Law and the Perpetual war Theory, Islamabad, Islamic Reserach Institute, Islamic Studies, 45: 2) 

اسی طرح تقسیم ہندکے بعد پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں کے آپس میں تعلقات کے ضمن میں ان کا مولانا ظفر احمد عثمانی کے ساتھ بڑا اہم مکالمہ ہوا ۔ (رسائل و مسائل (لاہور : اسلامک پبلی کیشنز ،۱۹۶۷ء) ، ج ۲ ، ص ۱۵۰۔۱۸۴) وطنی قومیت کے تصور پر انہوں نے اسلامی نقطۂ نظر سے بڑی اچھی گرفت کی ۔ (مسئلۂ قومیت ۔ لاہور : اسلامک پبلی کیشنز ) لیکن حیرت کی بات ہے کہ جہاد اور اسلامی ریاست پر انہوں نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں دارالاسلام کے تصور پر تفصیلی بحث نظر نہیں آتی ۔ ’’الجہاد فی الاسلام ‘‘کے متعلق تو یہ عذر پیش کیا جاسکتا ہے کہ وہ ’’سود ‘‘ سے پہلے لکھی گئی تھی (اگرچہ اس کا ایک باقاعدہ نیا ایڈیشن بعد میں بھی شائع ہوا ۔ ) لیکن ’’اسلامی ریاست ‘‘ پر تو بہت ہی اعلی درجے کا کام سید مودودی نے ’’سود‘‘ کے لکھنے کے بعد کیا۔ اگر وہ خود جہاد پر کام کے دوران اس تصور پر بحث کرتے یا اسلامی ریاست کے تصور کا موازنہ دارالاسلام کے تصور سے کرتے تو یقیناًوہ ایک شاہکار ہوتا ۔ تاہم اب بھی سید مودودی کے نام لیواؤں میں کوئی یہ کام کرسکتا ہے ۔ یا کم از کم یہ تو کیاجاسکتا ہے کہ ’’سود‘‘ کے تیسرے ضمیمے کو ’’الجہاد فی الاسلام ‘‘ یا ’’اسلامی ریاست‘‘ کے آخر میں ضمیمے کے طور پر لگایا جائے تاکہ قاری خود ہی ان تصورات پر غور کی ضرورت محسوس کرے ۔ 

۷۔ اسلامی قانون کی رو سے بیت المال پوری امت کی مشترکہ ملکیت سمجھا جاتا تھا ۔ چنانچہ بیت المال سے چوری کرنے والے پرحد سرقہ نافذ نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ اس مال میں اس کا (بہت تھوڑا ہی سہی) حصہ ہوتا تھا ۔ اسے اصطلاح میں ’’شبھۃ الملک‘‘ کہتے تھے ۔ اگر ریاست باقاعدہ قانونی شخصیت کا حامل ہو اور سرکاری خزانہ اس کی ملکیت ہو تو پھر فقہ کے اس جزئیے میں بھی ترمیم کرنی ہوگی کیونکہ اب اگر کوئی سرکاری خزانے سے چوری کرے گا تو اس کا اس مال میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس لیے اسے ’’شبھۃ الملک‘‘ کا فائدہ نہیں مل سکے گا ! 

۸۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی فقہ اسلامی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وہ سیاسی مسائل کا فقہی تجزیہ کرنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ اسلامی بین الاقوامی قانون پر انہوں نے جو بارہ خطبات دیے (خطبات بہاولپور حصۂ دوم ، بہاولپور: جامعہ اسلامیہ ، ۱۹۹۷) ان میں دارالاسلام کے تصور پر بڑی اچھی علمی بحث موجود ہے ۔ فقہ اسلامی پر عمومی خطبات دیتے ہوئے انہوں نے ایک وقیع علمی خطبہ اسلام کے دستوری نظام پر بھی دیا ۔ (محاضرات فقہ ، (لاہور : الفیصل ناشران کتب ، ۲۰۰۵ء) ، ص ۳۴۸ تا ۳۸۷) لیکن یہ مقام باعث حیرت ہے کہ وہ بھی دارالاسلام کے تصور کا ریاست کے تصور کے ساتھ موازنہ نہیں کرتے ۔ اسی طرح فقہ اسلامی کی روشنی میں ریاست اور قانون سازی کے تصور پر انہوں نے باقاعدہ مستقل کتاب بھی لکھی ہے (State and Legislation in Islam: Islamabad: Shariah Academy, 2006) لیکن انہوں نے اس میں امت اور ریاست کے تصورات میں ہم آہنگی کی طرف کچھ خاص توجہ نہیں دی ، نہ ہی دارالاسلام کے تصور پر کوئی خاص بحث کی ہے۔ قومی ریاست کا تصور دیگر مذاہب بالخصوص عیسائیت اور یہودیت کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا کرتا ہے ۔ اس لیے اس سلسلے میں اس امر سے بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے کہ ان مذاہب نے اس تصور کے کیسے قابل قبول بنایا ہے ۔ اس موضوع پر ایک یہودی عالم ، ایک عیسائی عالم اور ایک مسلمان عالم کے ایک دلچسپ علمی مباحثے کے لیے دیکھئے : 

Isma'il Raji al-Faruqi (ed.), Trialogue of the Abrahamic Faiths, (Virginia: International Institute of Islamic Thought, 1991), pp 29-59. 

۹۔ ڈاکٹر غازی نے بین الاقوامی قانون اور اسلامی قانون کے درمیان فروق پر بڑی دلچسپ بحث کی ہے ۔ اس ضمن میں ایک فرق وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ عصر حاضر کے قانونی نظام میں قانون کو ریاست کی تخلیق سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلامی قانون کی روشنی میں ریاستی نظام بذات خود قانون کی تخلیق تھا ۔ 

(The Shorter Book on Muslim International Law, p 18) 

۱۰۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے: 

Imran Ahsan Khan Nyazee, Theories of Islamic Law, (Islamabad: Islamic Research Institute, 1994), pp 147-76, 189-230. 

۱۱۔ ذمیوں کے متعلق احکام کی تفصیل کے لیے دیکھئے : شمس الائمۃ ابو بکر محمد بن ابی سہل السرخسی ، المبسوط ، (حیدرآباد : دائرۃ المعارف النعمانیۃ، ۱۳۳۵ ھ ) ، ج ۱۰ ، ص ۷۹۔۸۶۔ حنبلی فقیہ ابن قیم الجوزیۃ نے خاص ذمیوں کے احکام پراحکام اھل الذمۃ (بیروت : دار العلم ، ۲۰۰۲ء) کے نام سے ایک جامع کتاب لکھی ہے ۔ 

۵۱۲۔ المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۸۲۔مشہور مستشرق پرفیسر برنارڈ لوئیس کا کہنا ہے کہ ’’حربی‘‘ اور ’’محارب‘‘ کو مترادف سمجھا جاتا تھا اور ہر غیر مسلم جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ نہیں تھا محارب تھا ۔ (Bernard Lewis, The Political Language of Islam, (Oxford: 2004), p 77) یہ فقہا کے موقف کی صحیح ترجمانی نہیں ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دار الاسلام اور دارالحرب کی تقسیم کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ دو علاقے ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل جنگ میں مبتلا رہیں گے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جہاد کی علت کفر نہیں بلکہ محاربہ ہے ۔ اس لیے ہر غیر مسلم کے خلاف جہاد نہیں کیا جاسکتا ۔ جو محاربے کا ارتکاب کریں گے وہی محارب ہوں گے ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے : 

Muhammad Mushtaq Ahmad, The Doctrine of Dar in the Hanafi Law and the Perpetual war Theory, Islamabad, Islamic Research Institute, Islamic Studies, 45: 2.

۱۳۔ المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۸۲۔۸۶

۱۴۔ ایضاً ، ۸۶۔۹۷

۱۵۔ ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ اگر مسلمان کو باہر اقامت اختیار کرنی ہی پڑے تو وہ بیوی کے ساتھ مقاربت کے وقت عزل کیا کرے تاکہ وہاں اس کی اولاد پیدا نہ ہو ، کیونکہ پھر یہ امکان رہے گا کہ اس کی اولاد کفر کے ماحول سے متاثر ہوجائے ۔(موفق الدین ابن قدامۃ ، المغنی فی فقہ امام السنۃ احمد بن حنبل الشیبانی ، (بیروت : دار احیاء التراث العربی ، تاریخ ندارد ) ، ج ۸ ، ص ۳۳۲) امام ابو حنیفہ بھی دار الاسلام سے باہر مسلمانوں کی اپنی بیویوں کے ساتھ مقاربت کو ناپسند کرتے تھے ۔ اس کی وجہ سرخسی نے یہ بیان کی ہے کہ مسلمان کو دارالحرب میں توطن اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر اس کے بچے پیدا ہوئے تو اس کاامکان ہوگا کہ وہ یا اس کے بچے وہاں اقامت اختیار کرلیں ۔ (المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۵۸) یہاں یہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگاکہ ڈاکٹروہبۃ الزحیلی نے ’’ضرورت‘‘ کی بنیاد مسلمان ممالک میں ویزے اور پاسپورٹ کی پابندیوں کو جائز کہا ہے اور یہ رائے قائم کی ہے کہ ایک مسلمان ملک کے مسلمان باشندے کو دوسرے مسلمان ملک میں مستأمن سمجھا جاسکتا ہے ! (آثار الحرب، ص ۲۸۲ ۔ ۲۸۵ ) 

۱۶۔ یہ رائے فقہاء احناف کی ہے ۔ (الہدایۃ، ج ۲، ص ۳۹۵ ) دیگر فقہا کی رائے اس کے برعکس ہے ۔ (المغنی، ج ۸، ص ۲۸۴) 

۱۷۔ یہ بھی فقہاء احناف کی رائے ہے ۔ (المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۹۵) 

۱۸۔ المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۵۴ 

۱۹ ۔ مثال کے طور پر دیکھئے : جاوید احمد غامدی ، ’’قانون جہاد ‘‘، میزان ، (لاہور : دار الاشراق ، ۲۰۰۱ء) ص ۲۴۱ ۔ ۲۷۹ 

۲۰۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے ہندوستان کو دار الحرب قرار دینے کے لیے جو دلائل دیے تھے ان میں ایک دلیل یہ بھی تھی کہ اس وقت ہندوستان کو چاروں طرف سے غیرمسلم طاقتوں نے گھیر رکھا تھا۔ اس ضمن میں وہ ابن عابدین کے قول سے استدلال کرتے ہیں کہ سمندر غیراسلامی مقبوضات کا حصہ سمجھا جائے گا ۔ اس رائے پر تفصیلی تنقید کے لیے دیکھئے : مولانا ابو الاعلی مودودی ، سود ۔ (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز ، ۲۰۰۳) ، ص ۲۸ ۲ تا ۳۵۱) 

۲۱۔ ابن قیم الجوزیۃ ، احکام اھل الذمۃ ، ج ا ، ص ۳۳۵

۲۲۔ مثلاً ملاحظہ کیجیے : ڈاکٹر وھبۃ الزحیلی ، آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی ، (دمشق : دارلفکر ، ۱۹۸۱ء) ص ۱۹۲ ۔ ۱۹۶؛ 

Dr. Tariq Ramadan, To Be A European Muslim, (Leicester: Islamic Foundation, 1999), p 23. 

۲۳۔ ڈاکٹر حمید اللہ کی کتاب The Muslim Conduct of State بجا طور پراسلامی بین الاقوامی قانون پر بہترین کاموں میں شمار کی جاتی ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ انہوں نے کئی مقالات میں اسلامی بین الاقوامی قانون کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے جب امام محمد بن الحسن الشیبانی کی ’’ کتاب السیر الصغیر‘‘ کے متن کی تحقیق کی ، اور اس کا انگریزی ترجمہ کیا تو اس کا انتساب ڈاکٹر حمید اللہ کے نام کیا اور انہیں ’’بیسویں صدی کے شیبانی‘‘ کا نام دیا ۔

(The Shorter Book on Muslim International Law, Islamabad: Islamic Research Institute, 1998) 

۲۴۔ مثال کے طور پر دیکھئے : عراقی مسیحی عالم مجید خدوری کا مقدمہ جو انہوں نے امام محمد بن الحسن الشیبانی کی ’’کتاب الاصل‘‘سے سیر کے متعلق ابواب پر لکھا ۔ کتاب السیر و الخراج و العشر من کتاب الاصل للشیبانی ، (کراچی: ادارۃ القرآن ، ۱۹۹۶ء) ، ص ۲۲۔ ۳۰ ؛ 

Bernard Lewis, The Political Language of Islam, p 73

۲۵۔

 The Muslim Conduct of State, (Lahore: Sheikh Muhammad Ashraf, 1945), pp 97-144.

۲۶۔ یہ تضاد وہاں بالخصوص واضح ہوجاتا ہے جب وہ معاہدات کے جواز و عدم جواز پر بحث کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو : آثار الحرب ، ص ۶۷۵ ۔ ۶۸۰ 

۲۷۔ بہت سے اہل علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کو دفاعی قرار دیا ہے ۔ مثال کے طور پر دیکھئے : علامہ شبلی نعمانی ، سیرت النبی ﷺ ، (کراچی : دار الاشاعت ، ۱۹۸۵ء ) ، ج ۱، ص ۳۲۸ تا ۳۵۳؛ مولانا ابو الکلام آزاد ، ترجمان القرآن ، (لاہور: اسلامی اکادمی، ۱۹۷۶ء) ، ج ۲ ، ص ۵۲۔۵۳ اور ۱۲۱۔۱۲۲ 

۲۸۔ سورۃ التوبۃ، آیت ۵ 

۲۹۔ صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، حدیث رقم ۲۴ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، حدیث رقم ۳۱ 

۳۰۔ سورۃ التوبۃ، آیت ۲۹ 

۳۱۔ سورۃ التوبۃ، آیت ۳۳ 

۳۲۔ موطا امام مالک ، کتاب الجامع ، باب اجلاء الیھود من المدینۃ ، حدیث رقم ۱۳۸۸ ؛ مسند احمد، باقی مسند الانصار ، حدیث رقم ،۲۵۱۴۸

۳۳۔ غامدی ، قانون جہاد ، ص ۲۴۱۔۲۴۲ اور ۲۶۶۔۲۷۰ 

۳۴۔ سورۃ التوبۃ ، آیت ۱۴ ۔ اس رائے کی تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے : مولانا امین احسن اصلاحی ، تدبر قرآن، (لاہور : انجمن خدام القرآن ، ۱۹۷۸ ء) ، ج ۲، ص ۶۹۱۔۶۹۸ اور ۷۲۷ ۔ ۷۲۹ ۔ نیز دیکھئے ج ۳ ، ص ۵۵۸ ۔ ۵۶۴ ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھے : جاوید احمد غامدی ، میزان ، (لاہور : دار الاشراق ، ۱۹۸۵ ء) ، حصۂ اول ،مقالہ ’’نبی اور رسول ‘‘ ، ص ۹ ۔ ۳۰ 

۳۵۔ مثال کے طور پر دیکھئے : مولانا فضل محمد ، دعوت جہاد ۔ فضائل ، مسائل ، واقعات ، (کراچی : بیت الجہاد ، ۱۹۹۹ء) ، ص۳۹۳۔۳۹۸؛ حافظ مبشر حسین لاہوری ، اسلام میں تصور جہاد اور دور حاضر میں عمل جہاد ، (لاہور: دعوت و اصلاح سنٹر ، ۲۰۰۳ء)، ص ۶۶ ۔۷۲ 

۳۶۔ The Muslim Conduct of State, p 156 ، الجہاد فی الاسلام ، ص ۱۰۴ تا ۱۷

۳۷ ۔ المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۱۰۲ ؛ محمد بن احمد بن عرفۃ الدسوقی ، حاشیۃ علی الشرح الکبیر ، ( القاہرۃ : دارلفکر ، ۱۹۳۴ء ) ، ج ۲ ، ص ۱۰۲ ؛ محمد بن علی بن محمد الشوکانی ، نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار ، (القاہرۃ : دار الکتب العربیۃ ، ۱۹۷۸ء) ، ج ۷ ، ص ۲۳۲ 

۳۸۔ سورۃ المآئدۃ : آیت ۵۱ 

۳۹۔ سورۃ المجادلۃ ، آیت ۲۲ 

۴۰۔ سورۃ البقرۃ ، آیت ۱۲۰ 

۴۱۔ سورۃ الممتحنۃ ، آیت ۴ 

۴۲۔ جناب جاوید احمد غامدی نے اس رائے کا اظہار اپنے ایک انٹرویو میں کیا (’’اشراق ‘‘، نومبر ۲۰۰۱ء)۔ نیز دیکھئے : مولانا ابو الکلام آزاد ، ترجمان القرآن ، ج ۲ ، ص ۱۴۵۔۱۴۶ 

۴۳۔ مولانا مقصود الحسن فیضی ، اہل کفر کے ساتھ تعلقات ؟ وفاداری یا بیزاری اور اسلامی تعلیمات ، (لاہور : نور اسلام اکیڈمی، ۲۰۰۳ء)، ص ۶۵ ۔۷۶ 

۴۴۔ ایضاً ، ص ۱۷ ۔ ۲۴ 

۴۵۔ سید مودودی کی رائے یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان نظریاتی سطح پر کشمکش تو دائمی اور ابدی ہے لیکن یہ کشمکش مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان جنگ کو مستلزم نہیں ہے ۔ (سود ، ص ۲۹۶ ۔ ۲۹۹) 

۴۶۔ الزحیلی ، آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی ، ص ۱۳ اور ۱۲۴ ۔۱۲۸ ؛ مولانا فضل محمد ، دعوت جہاد ، ص ۳۹۳۔ ۳۹۸؛ مبشر لاہوری ، اسلام میں تصور جہاد ، ص ۶۶ ۔۷۲ 

۴۷۔ شمس الدین محمدبن محمد الخطیب الشربینی ، مغنی المحتاج الی شرح المنہاج ،(بیروت :مکتبۃ الحلبی ،۱۹۳۳ء) ، ج ۴ ، ص ۲۲۳؛ ابو الولید محمدبن احمد ابن رشد ، بداےۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد ، (الریا ض: مکتبۃ مصطفی باز ، ۱۹۹۵ء ) ، ج ۱ ، ص ۳۷۱ 

۴۸۔ ابن رشد ، بداےۃ المجتہد ، ج ۱ ، ص ۳۷۱ ؛ کمال الدین محمد ابن الہمام الاسکندری ، فتح القدیرعلی الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، (القاہرۃ : دارالکتب العربیۃ ، ۱۹۷۰ء ) ، ج ۴ ، ص ۲۹۱ ؛ سحنون عبد السلام بن سعید بن حبیب التنوخی ،المدونۃ الکبری، (القاہرۃ ، دارالباز ، ۱۳۲۳ ھ) ، ج ۳، ص ۶ ؛ تقی الدین ابن شہاب الدین ابن تیمیۃ ، رسالۃ القتال، (دمشق : مطبعۃ السنۃ المحمدیۃ ، ۱۹۴۹ء) ، ص۱۱۶ 

۴۹۔ The Muslim Conduct of State, p 181 ؛ الجہاد فی الاسلام ، ص ۲۴۷۔۲۴۶؛ آثار الحرب ، ص ۱۴۹ ۔ ۱۵۱ 

۵۰۔ سورۃ النسآء ، آیت ۷۵؛ سورۃ الانفال ، آیت ۷۲

۵۱۔ مودودی ، الجہاد فی الاسلام ، ص ۷۷ ۔۸۰ 

۵۲۔ ماہنامہ ’’ترجمان القرآن ‘‘لاہور ،جون ۱۹۴۸ء ، ص ۶۵ تا ۶۷ ۔ سید مودودی نے سورۃ الانفال آیت ۷۲ کی تفسیر میں اس سے کچھ مختلف رائے ظاہر کی ہے ۔ (تفہیم القرآن ، (لاہور : مکتبۂ تعمیر انسانیت ، ۱۹۷۸ء ) ، ج ۲ ، ص ۱۵۳ ۔۱۵۵ ) 

۵۳۔ سفیان ثوری کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے کہ وہ عام حالات میں جہاد کو مندوب (سنت) سمجھتے تھے ۔ ان کا استدلال ان آیات و احادیث سے تھا جن میں جہاد کے لیے نہ جانے والوں کے لیے بھی اجر کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ (مثلاً سورۃ النسآء ، آیت ۹۵ ) اس کے برعکس سعید بن المسیب کا موقف یہ تھا کہ جہاد فرض عینی ہے ۔ وہ ان آیات و احادیث سے استدلال کرتے تھے جن میں جہاد کے لیے نہ جانے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے ۔ (مثلاً سورۃ التوبۃ ، آیت ۳۸ ۔ ۳۹ ) فقہائے امت کی اکثریت کا موقف یہ رہا ہے کہ جہاد عام حالات میں فرض کفائی ہے اور بعض اوقات یہ فرض عینی میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے : برہان الدین المرغینانی ، الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی ،کتاب السیر ، (بیروت : دار الفکر ، تاریخ ندارد) ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ ؛ شربینی ، مغنی المحتاج ، ج ۴ ، ص ۲۰۹

۵۴۔ فرض کے مفہوم کی وضاحت کے لیے دیکھئے : ابو حامد الغزالی ، المستصفیٰ من علم الاصول ، (بیروت : دار احیاء التراث العربی ، تاریخ ندارد ) ، ج ا ، ص ۶۷ ۔۷۰

۵۵۔ محمد امین بن عبد العزیز ابن عابدین الشامی، رد المحتار علی الدر المختار ، (القاہرۃ :دار الفکر ، ۱۹۶۶ء) ، ج ۳ ، ص ۲۰۴ ؛ ابن الہمام ، فتح القدیر ، ج ۴ ، ص ۲۸

۵۶۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : 

Michael Akehurst, The Use of Force to Protect Nationals Abroad, (1976/77) 5 International Relations 3; Dixon, International Law, pp 307-08. 

۵۷۔ مذکورہ دفعہ میں دفاع کی صورت میں طاقت کے استعمال پر دو شرائط عائد کی گئی ہیں ۔ اولاً : کسی ملک پر فوجی حملہ ہو ۔ گویا اقتصادی ناکہ بندی یا طاقت کے استعمال کی دھمکی کی صورت میں حق دفاع حاصل نہیں ہوتا ، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ فوجی حملہ ہونا ضروری ہے ۔ ثانیاً : حق دفاع کے تحت طاقت اس وقت تک استعمال کی جاسکے گی جب تک سلامتی کونسل اس معاملے پر کاروائی شروع نہ کرے کیونکہ اس کے بعد ہر قسم کی کاروائی کا اختیار سلامتی کونسل کو حاصل ہوجاتا ہے ۔ 

۵۸۔

 D. J. Harris, Cases and Materials on International Law, (London: Sweet & Maxwell, 1991) pp 861-68.


۵۹۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : 

Thomas M. Franck, When, If Ever, States May Use Force without Prior Security Council Authorization?, SJICL (2000), 4, 371-76; N. W. White, The Legality of Bombing in the Name of Humanity, JSCL (2000), vol. 5, no. 1, 27-43; Ian Brownlie, Humanitarian Intervention, in J. N. Moore (ed.), Law and Civil War in the Modern World, (New York: John Hopkins, 1974); R. Lillich, Forcible Self-help by States to Protect Human Rights, (1984) 2, Michigan Law Review, 1620. 

۶۰۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔ صحابہ نے پوچھا کہ ظالم کی مدد کیسے کریں گے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اسے ظلم سے روک کر ۔ (بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، حدیث رقم ۲۲۶۴؛ مسلم ، کتاب البر و الصلۃ و الادب ، حدیث رقم ۴۶۸۱) 

۶۱۔ سورۃ المآئدۃ ، آیت ۲ 

۶۲۔ احسان الحق شہباز صاحب کا مقالہ زیر عنوان ’’جہاد اور اذن حکومت ‘‘ ، مقالات جہاد ، مرتبہ سیف اللہ خالد ، (لاہور: دارالاندلس ، ۲۰۰۳ء) ، ص ۸۱۔۹۷

۶۳۔ غامدی ، قانون جہاد ، ص ۲۴۳۔۲۴۵ 

۶۴۔ مبشر لاہوری ، اسلام میں تصور جہاد ، ص ۱۷۷ ۔ ۱۸۶ اور ۲۵۶۔۲۶۰

۶۵۔ غامدی، قانون جہاد ، ص ۲۷۰۔۲۷۲

۶۶۔ محمد مشتاق احمد ، عصر حاضر میں جہاد سے متعلق مسائل ، ماہنامہ ’’الحق‘‘ ، اکوڑہ خٹک ، جون تا اگست ۲۰۰۵ ء 

۶۷۔ امام سمرقندی نے کئی سو سال پہلے اس حقیقت کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے : و لا ینبغی للغزاۃ أن یفر واحد من اثنین منھم ۔ و الحاصل أن الأمر مبنی علی غالب الظن ۔ فان غلب فی ظن المقاتل أنہ یغلب و یقتل فلا بأس بأن یفر منھم۔ و لا عبرۃ بالعدد ، حتی ان الواحد اذا لم یکن معہ سلاح فلا بأس بأن یفر من اثنین معھما السلاح أو من الوحد الذی معہ السلاح ۔[مجاہدین کے لیے یہ مناسب نہیں کہ دو دشمنوں کے مقابلے سے ایک مجاہد فرارہو جائے ۔ بحث کا حاصل یہ ہے کہ معاملہ غالب گمان پر مبنی ہے ۔ پس اگر مجاہد کا غالب گمان یہ ہے کہ وہ مغلوب ہوجائے گا اور قتل کردیا جائے گا تو فرار ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اور اس سلسلے میں عدد کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، یہاں تک کہ ایک نہتا مجاہد اگر دو مسلح دشمنوں یا ایک ہی مسلح دشمن سے فرار ہوجائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی ۔] تحفۃ الفقہاء ، (القاہرۃ : دار الفکر ، ۱۹۳۳ء ) ، ج ۳، ص ۱۱۳ 

۶۸۔ مثال کے طور پر دیکھئے : وہبۃ الزحیلی ، آثار الحرب ، ص ۶۷۵

۶۹۔ خدوری ، مقدمۃ علی کتاب السیر من کتاب الاصل ، ص ۲۲۔ ۳۰ 

۷۰۔ الزحیلی نے یہ رائے اختیار کی ہے ۔ (آثار الحرب ، ص ۶۷۵ ۔ ۶۸۰ )

۷۱۔ ابن قیم الجوزیہ نے شافعی اور حنبلی مسالک میں یہ دونوں رائیں نقل کی ہیں اور خود جواز کے قول کو ترجیح دی ہے ۔ (احکام اہل الذمۃ ، ج ۱ ، ص ۳۳۶ ۔ ۳۴۴)

۷۲۔ امام محمد بن ادریس الشافعی ، الام ، (القاہرۃ : المطبعۃ الامیریۃ ، ۱۳۲۱ ھ ) ، ج ۴ ، ص ۱۱۰؛ شوکانی ، نیل الاوطار ، ج ۸، ص ۴۹ ؛ ابن قدامہ ، المغنی ، ج ۸ ، ص ۴۶۰

۷۳۔ الام ، ج ۴ ، ص ۱۱۱ ؛ ابوزکریا یحییٰ بن شرف النووی ، المجموع شرح المہذب ، (القاہرۃ : دار الفکر ، ۱۹۶۱ء )، ج ۲۱ ، ص ۲۰۰ 

۷۴۔ ابن قدامہ ، المغنی ، ج ۸ ، ص ۴۶۰

۷۵۔ ابو بکر بن مسعود الکاسانی ، بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ، (کوئٹہ : مکتبۃ رشیدیۃ ، ۱۹۹۹ء ) ، ج ۶ ، ص ۷۷ ؛ ابن الہمام ، فتح القدیر ، ج ۴ ، ص ۲۹۳ ؛ حاشیۃ الدسوقی ، ج ۲ ، ص ۱۹۰ 

۷۶۔ بدائع الصنائع ، ج ۶ ، ص ۷۷

۷۷۔ احکام اہل الذمۃ ، ج ۱ ، ص ۳۳۶ ۔ ۳۴۴

۷۸۔ معاہدات کے متعلق میثاق ویانا ۱۹۶۰ ء دفعہ ۵۶ 

۷۹۔ میثاق ویانا ، دفعہ ۶۵ ۔ تاہم اب بھی ماہرین کی معتد بہ تعداد اس کی قائل ہے کہ امن کا معاہدہ غیرلازم ہوتا ہے اور ایک فریق کی جانب سے نقض کی صورت میں فریق مخالف کو اقدام سے پہلے اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے :

Linos Alexander Sicilianos, The Relationship between Reprisals and Denunciation or Termination of a Treaty, EJIL (1993) 341-359; Benedetto and Angelo Labella, Invalidity and Termination of Treaties: The Role of National Courts, European Journal of International Law (http://ejil.org/journal/Voll/No1/art3.html). 

۸۰۔ سید مودودی ، ماہنامہ ’’ترجمان القرآن ‘‘لاہور ،جون ۱۹۴۸ء ، ص ۶۵ تا ۶۷ 

۸۱۔ مثال کے طور پر دیکھئے :مولانا مدرار اللہ مدرار ، قول فیصل ، (مردان : ادارۂ اشاعت مدرار العلوم ، ۱۹۶۳ء ) ، ص ۱۹ ۔ یہ کتابچہ سید مودودی کے موقف کی تردید میں لکھا گیا تھا اور اس میں بہت سے دیگر علماء کرام کے تائیدی بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں ۔ 

۸۲۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو روکیں یا اہل مکہ کے حوالے کردیں ۔ بلکہ انہوں نے معاہدۂ حدیبیہ سے وہ شق ہی ختم کرنے کی درخواست کی جس کے تحت مدینہ منورہ کے مسلمان پابند تھے کہ وہ مکہ سے آنے والوں کو واپس اہل مکہ کے حوالے کردیں ۔ اہل مکہ نے اس شق کو ختم کرنے کی درخواست اس لیے کی کہ مسلمان مدینہ منورہ میں رہیں گے تو اہل مکہ کے قافلوں پر حملے نہیں کرسکیں گے ۔ یوں ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں اور ان تمام مسلمانوں کے لیے ، جو اہل مکہ کے مظالم سہہ رہے تھے ، مدینہ منورہ آنے کی راہ کھل گئی اور معاہدۂ حدیبیہ کی جس شرط پر مسلمانوں کو سب سے زیادہ خلش محسوس ہورہی تھی اسے خود اہل مکہ نے ختم کردیا ۔ 

۸۳۔ ابن قیم الجوزیہ حنبلی فقیہ تھے لیکن وہ بھی یہاں حنفی فقہاء کی رائے کے ساتھ موافقت اختیار کرتے ہوئے ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ’’ ماکانوا تحت قھر‘‘۔ (مختصر زاد المعاد ، (لاہور : مطبعۃ السنۃ المحمدیۃ ، تاریخ ندارد ) ص ۲۱۵ ) 

۸۴۔ صحیح مسلم ، کتاب الجہاد و السیر ، حدیث رقم ۳۲۶۱ ؛ سنن الترمذی ، کتاب السیر ، حدیث رقم ۱۵۴۲ 

۸۵۔ مثال کے طور پر امام محمد بن الحسن الشیبانی نے امام ابوحنیفہ کا یہ اصول نقل کیا ہے کہ باغیوں کے سر کاٹ کر شہروں میں نہ پھرائے جائیں خواہ مخالفین ایسا کریں ۔ اس اصول کی ایک وجہ سرخسی نے یہی بیان کی ہے مسلمانوں کو مثلۃ کے ارتکاب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے ۔ لانہ مثلۃ ، و المثلۃ حرام ۔ وقد نھی رسول اللہ ﷺ عن المثلۃ و لو بالکلب العقور۔ و لانہ لم یبلغنا ان علیا رضی اللہ عنہ صنع ذلک فی شیء من حروبہ ، و ھو المتبع فی الباب ۔ و لما حمل رأس یباب البطریق الی ابی بکر رضی اللہ عنہ کرھہ ۔ فقیل لہ ان الفرس و الروم یفعلون ذلک ۔ فقال لسنا من الفرس و لا الروم ، یکفینا الکتاب و الخبر ۔ [کیونکہ یہ مثلہ ہے ، اور مثلہ حرام ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باؤلے کتے کے مثلے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ اور اس لیے بھی کہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسی کوئی روایت نہیں ملی کہ انہوں نے اپنی جنگوں میں ایسا کبھی کیا ہو ، اور اس باب کے احکام کے لیے ماخذ انہی کا طرز عمل ہے ۔ اسی طرح جب یباب بطریق کا سر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۔ جب کہا گیا کہ اہل روم و فارس ایسا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ہم نہ اہل روم ہیں اور نہ اہل فارس ، ہمارے لیے کتاب اور سنت ہی کافی ہے ۔ ] المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۱۳۸

۸۶۔ سورۃ محمد ، آیت ۴ 

۸۷۔ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۱۱۸میں قرار دیا گیا ہے کہ ’’جیسے ہی جنگ کا خاتمہ ہو‘‘ ہو دونوں فریق جنگی قیدیوں کو رہا کریں گے۔ اس معاہدے میں یہ نہیں بتایاگیا کہ ’’جنگ کا خاتمہ‘‘ کب ہوگا؟ مثلاً امریکہ نے اپریل ۲۰۰۳ء میں عراق پر قبضہ کیا ہے مگر ابھی تک وہ خود کو جنگی قیدیوں کے رہا کرنے کے پابند نہیں سمجھتے ۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ امریکی قانون کے تحت امریکی صدر ہی اس بات کا اختیار رکھتا ہے کہ وہ جنگ کے شروع ہونے اور اس کے ختم ہونے کا اعلان کرے ، اور ابھی امریکی صدر نے جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا ! 

۸۸۔ المدونۃ ، ج ۳ ، ص ۶ ۔ ۷ ؛ المغنی ، ج ۸ ، ۴۷۷ ؛ الام ، ج ۴ ، ۱۵۷ 

۸۹۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : محمد منیر ، احکام المدنیین فی الشریعۃ الاسلامیۃ و القانون الدولی الاسلامی۔ دراسۃ مقارنۃ ، (غیر مطبوعہ مقالہ برائے ایل ایل ایم شریعہ و قانون ، کلیۂ شریعہ و قانون ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ، ۱۹۹۶ء ) ، ص ۴۸ و مابعد 

۹۰۔ یہ رائے اسامہ بن لادن نے ایک انٹرویو میں پیش کی ۔ یہ انٹرویو مشہور صحافی حامد میر نے مبینہ طور پرافغانستان پر امریکی حملے کے دوران میں لیا تھا ۔ اور روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد اور انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘ اسلام آباد میں ایک ہی روز (نومبر ۲۰۰۱ء ) شائع ہواتھا ۔ 

۹۱۔

 Advisory Opinion on the Legality of the Use of Nuclear Weapons (WHO Case), ICJ 1996 Rep 66. 

۹۲۔ المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۷۸ 

۹۳۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اگر کوئی شخص شہری یا غیر مقاتل کے بھیس میں آکر حملہ کرے تو اسے Perfidy (غدر) کہاجاتا ہے اور یہ جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے ۔ Perfidy کی دیگر شکلوں میں یہ شامل ہیں : صلح کا پرچم بلند کرکے مذاکرات کرنے کا دکھاوا اور پھر موقع پاکر حملہ ؛ ہتھیار ڈالنے کا دکھاوا ؛ زخم یا تکلیف کی وجہ سے معذوری کا دکھاوا ؛ اقوام متحدہ ، ہلال احمر یا کسی غیر جانبدار ملک کے پرچم یا نشانات استعمال کرنا وغیرہ ۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے : جنیوا معاہدات کا پہلا اضافی پروٹوکول ، دفعات ۳۷ ۔ ۳۹ اور ۴۴۔ ) 

۹۴۔ بخاری ، کتاب الجھاد ، حدیث رقم ۲۸۰۴ 

۹۵۔ المبسوط ، ج ۱۰ ، ص ۶۰ ۔ 

۹۶۔ بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور غیر مقاتلین کو Internees کے طور پر پابند کیاجاسکتا ہے ۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے : چوتھے جنیوا معاہدات کی دفعات ۴۱ ۔ ۴۳ اور ۶۸ و ۷۸ ۔۱۳۵ ) 

۹۷۔ چاروں جنیوا معاہدات کی مشترک دفعہ ۳ ؛ چوتھے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۳۴ اور ۱۴۷ ؛ پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۷۵ 

۹۸۔ مودودی ، تفہیم القرآن ، ج ۵ ، ص ۱۱۔۱۸

۹۹ ۔ فخر الدین الرازی ، مفاتیح الغیب ، (دمشق : المطبعۃ الخیریۃ ، ۱۹۶۷ء) ، ج ۷، ص ۳۶۳

۱۰۰ ۔ غلام احمد پرویز ، غلام اور لونڈیاں ، (لاہور : طلوع اسلام ٹرسٹ ، ۱۹۸۴ء) ۔ 

۱۰۱ ۔ سرخسی ، شرح السیر الکبیر ، (القاھرۃ : دار الکتب العربیۃ ، ۱۹۸۴ء) ، ج ۲ ، ص ۱۶۹ 

۱۰۲ْ ۔ جلال الدین السیوطی ، الاتقان فی علوم القرآن ، (کراچی : دار الاشاعت ، ۱۹۸۶ء) ، ج ۲ ، ص ۲۱۔۲۲

۱۰۳ ۔ ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ، جامع البیان ، (القاھرۃ : دار الفکر، ۱۹۶۶ء ) ، ج ۲۶ ، ص ۲۴

۱۰۴ ۔ غامدی ، قانون جہاد ، ص ۲۷۲۔ ۲۷۶

۱۰۵ ۔ الزحیلی ، آثار الحرب ، ص ۴۴۲۔۴۴۵ 

۱۰۶ ۔ ایضاً ، ص ۴۳۶ ؛ الجہاد فی الاسلام ، ص ۳۰۶۔۳۱۰ 

۱۰۷ ۔ اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے دیکھئے : 

Muhammad Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self-determination in Shari'ah and International Law - A Comparitive Study, Unpublished LLM Thesis, Faculty of Shariah and law, International Islamic University Islamabad, 2006, pp 218-226. 

۱۰۸۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ دو عدالتیں اس مقصد کے لیے قائم کی گئیں ۔ ایک نورمبرگ میں جرمن نازی فوجیوں کے خلاف اور ایک ٹوکیو میں جاپانی فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ۔ پچھلی صدی کی آخری دہائی میں دو مزید عارضی عدالتیں قائم کی گئیں ۔ ایک یوگوسلاویہ میں اور ایک روانڈا میں ۔ بالآخر ۱۹۹۸ء میں معاہدۂ روم پر دستخط کیے گئے اور ایک مستقل عالمی فوجداری عدالت (International Criminal Court)قائم کی گئی ۔ امریکہ نے اب تک معاہدۂ روم پر دستخط نہیں کیے ۔ 

۱۰۹۔ غامدی ، قانون جہاد ، ص ۲۴۳۔۲۴۵ 

۱۱۰۔ ابن قدامہ نے ہجرت کے وجوب کے سلسلے میں دو عوامل ذکر کیے ہیں : کیا مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل کی اجازت ہے ؟ کیا مسلمان وہاں سے ہجرت کرسکتے ہیں ؟ پھر وہ تین صورتیں ذکر کرتے ہیں ۔ اولاً : اگر مسلمانوں کو دین پر عمل کرنے کی اجازت نہ ہو اور وہ ہجرت کرسکتے ہوں تو ان پر ہجرت واجب ہوجاتی ہے ۔ ثانیاً : اگر ان کو دین پر عمل کرنے کی اجازت نہ ہومگر وہ ہجرت نہ کرسکتے ہوں تو ان پر ہجرت نہ واجب ہوتی ہے اور نہ مندوب ۔ ثالثاً : اگر ان کو دین پر عمل کرنے کی اجازت ہو اور وہ ہجرت کرسکتے ہوں تو ان پر ہجرت واجب نہیں ہوتی مگر مندوب ہوتی ہے ۔ (المغنی ، ج ۸ ، ص ۳۳۶ ) ایک چوتھی صورت بھی ممکن ہے جو ابن قدامہ نے نہیں ذکر کی ۔ اگر ان کو دین پر عمل کرنے کی اجازت ہو اور وہ ہجرت نہ کرسکتے ہوں یا انہیں ہجرت کی اجازت نہ ہو تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا ؟ 

۱۱۱۔ سورۃ النحل ، آیت ۱۲۶؛ سورۃ الشوری ، آیت ۳۹۔۴۱ 

۱۱۲۔ ڈاکٹر حمید اللہ کہتے ہیں کہ ریاستوں کی خودمختاری درحقیقت افراد کی آزادی کی وسیع تر شکل ہے ۔ (The Muslim Conduct of State, p 71) کیا اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ریاستوں کا حق دفاع بھی در اصل افراد کے حق دفاع کی وسیع شکل ہے ؟ جس طرح افراد کی آزادی ریاست کی خودمختاری میں تبدیل ہوجاتی ہے اسی طرح افراد کا حق دفاع بھی وقت کے ساتھ ساتھ ریاست کے حق دفاع میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ اس دوران میں مختلف مراحل آتے ہیں اور ان میں ایک اہم مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ افراد مل کر اپنے انفرادی حق دفاع کو مشترکہ حق دفاع کی شکل دے دیتے ہیں ۔ وہ منظم ہو کر ایک گروہ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور ایک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کرتے ہیں ۔ غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والی تنظیموں کا اصل کام یہی ہے۔ 

۱۱۳۔ سنن الترمذی ، کتاب الدیات ، حدیث رقم ۱۳۴۰ و ۱۳۴۱ ؛ سنن النسائی ، کتاب تحریم الدم ، حدیث رقم ۴۰۲۵ ؛ مسند احمد، باقی مسند المکثرین ، حدیث رقم ۸۰۰۹ ۔ 

۱۱۴۔

 Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self-determination, pp 128-35

۱۱۵۔ اس مقصد کے لیے ہم نے امریکہ کے Federal Statutes ، برطانیہ کے Terrorist Act 2000 ، اسرائیل کےPrevention of Terrorism Ordinance no. 33 ، بھارت کے Prevention of Terrorism Act (POTA) 2002 اور پاکستان کے Anti-Terrorism Act 1997 کی دفعات کا موازنہ کیا۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے : 

Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self-determination, pp 126-28. 

۱۱۶۔ یہ تعریف برائن جنکینز نے پیش کی ہے ۔ دیگر تعریفات کے دلچسپ موازنے کے لیے دیکھئے : 

Alex Obot-Odora, Defining International Terrorism, E - Law, Murdoch University Electronic Journal of Law, vol. 6, no. 1, March 1999. 

۱۱۷۔ اس موضوع پر راقم کا جناب جاوید احمد غامدی کے ساتھ ایک مکالمہ ہوا ۔ نومبر ۲۰۰۱ء میں جاوید صاحب کا ایک انٹرویو قومی اخبارات میں شائع ہوا جس میں انہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کو دہشت گردی ماننے سے انکار کیا اور چند دیگر متعلقہ امور پر بھی اظہار خیال کیا ۔ جاوید صاحب کے ساتھ نیازمندانہ تعلق کی وجہ سے راقم نے انہیں ایک خط لکھا جو مضمون یا مقالے کی صورت میں نہیں تھا ، لیکن جاوید صاحب کے ایک ہونہار شاگرد منظور الحسن صاحب ، جو میرے قریبی دوست بھی ہیں ، نے اس خط کے بعض مندرجات کو ’’اہم تنقید‘‘ قرار دیتے ہوئے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ (جنوری ۲۰۰۲ء) میں اس پر تبصرہ پیش کیا ۔ راقم کو اس پر تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی کہ یہ خط چھاپے جانے کے لیے نہیں تھا ، اور اگر چھاپنا ہی تھا تو پھر پورا چھاپ دیتے ۔ ادھر ادھرسے چند اقتباسات پیش کرکے ان پر تبصرہ راقم کو نامناسب لگا ۔ اس کے بعد راقم نے ’’دہشت گردی کی تعریف‘‘ کے موضوع پر جاوید صاحب کی رائے پر تفصیلی تنقید پیش کی جو ’’اشراق‘‘ (مارچ ۲۰۰۲ء) میں چھپ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی اس مضمون پر منظور الحسن صاحب کی تنقید بھی چھپی تھی ۔ راقم نے محسوس کیا کہ کئی اہم امور پر منظور صاحب نے بحث سے پہلو تہی کی ہے اس لیے اس پر ایک اور تنقیدی مضمون لکھ کر ان کو بھیج دیا لیکن یہ مضمون انہوں نے شائع نہیں کیا اور یوں یہ مکالمہ ادھورا ہی رہا ۔ اس مکالمے کا ایک اہم موضوع یہ تھا کہ جاوید صاحب کے نزدیک مقاتلین پر صرف غیر علانیہ حملوں کو ہی دہشت گردی کہا جاسکتاہے جبکہ راقم کے نزدیک بعض صورتوں میں مقاتلین پر علانیہ حملہ بھی دہشت گردی متصور ہوسکتا ہے ۔ 

۱۱۷ ۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے : 

Bard E. O'Neill, Insurgency and Terrorism - Inside Modern Revolutionary Warfare, (New York: Brassey's, 1990); Mao Tse-tung, On Guerrilla Warfare, Tr. Samuel B. Griffith, (New York: Fredrick A. Praeger, 1962); Edward E. Rice, Wars of the Third Kind, (Berkely: University of California Press, 1988). 

۱۱۹ ۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے : 

Mushtaq, Use of Force for the Right of Self-determination, pp 88-97 and 121-35.

جہاد / جہادی تحریکات

Flag Counter