سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ

مولانا محمد انس حسان

محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کا مضمون ’’سید احمد شہید کی تحریک جہاد:ایک مطالعہ‘‘ ماہنامہ الشریعہ (دسمبر ۲۰۱۵ء) میں شائع ہوا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کے مابین مماثلت پر مبنی یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر سید احمد شہید اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کرتے ہیں تو اس جدوجہد کو جہاد کا نام دیا جاتا ہے اور یہی عمل اگر طالبان کرتے ہیں تو اسے دہشت گردی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون کے آخری نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ:

’’یہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار دیتے ہیں تو اس دوسرے فریق (طالبان )کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ اگر دوسرا غلط ہے تو پہلے کی تغلیط کی ہمت بھی لامحالہ کرنا ہوگی۔ ہمیں اس دوغلے پن سے براءت کااعلان کرنا ہوگا‘‘۔ (ص۴۰)

یہ وہ سوال ہے جس پر گذشتہ کچھ عرصے میں موافق و مخالف بہت کچھ لکھا گیا ہے اور اس تناظر میں بنیادی طور پر دو سوچیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ پہلی سوچ کے حامل طبقے نے اپنے نظریات کو اصولی طورپر سید ین کی تحریک سے مماثل قراردے کر مسلح جدوجہد کا جواز پیدا کیا۔ جبکہ دوسرے طبقے نے اس بیانیے پر تحقیق کرنے کی بجائے مسلح جدوجہد کی مماثلت کی بنیاد پر دونوں تحریکات کو باطل قرار دینے کی کوشش کی۔ تاہم اب تک کوئی سنجیدہ کوشش اس بابت کم ازکم ہماری نظر سے نہیں گزری کہ جس میں ان دونوں تحریکات کا جذباتیت اور قلبی وابستگی سے بالاتر ہو کر حقیقت پر مبنی تجزیہ کیا گیا ہو۔ 

یہ موضوع اپنی ماہیت اور حیثیت کے اعتبار سے تفصیل کا متقاضی ہے اور اس پر متوازن مباحثے کی ضرورت بھی ہے۔اس ضمن میں محترم عرفان شہزاد کی بات کو قدرے وسعت دیتے ہوئے ان تحریکات کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے چند طالب علمانہ نکات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

بنیادی طور پر ان تحریکات کے تقابلی جائزے کے لیے دوپہلوؤں پر غور وفکر کی زیادہ ضرورت ہے۔پہلی یہ کہ فکری و نظریاتی اعتبار سے ان دونوں تحریکات میں کیا مماثلت ہے؟دوسرے یہ کہ ناکامی و نتائج کے اعتبار سے ان دونوں تحریکات میں کیا مماثلت ہے؟ 

کسی بھی تحریک کے مطالعے کے لیے اس دور کے حالات اور تقاضے سامنے ہونا ضروری ہیں ۔اگر اس اصول کو نظر انداز کیا جائے گا تو بہت سی تحریکات کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لیں گے اور کسی بھی تحریک کو دوسری تحریک کے مماثل قراردینے کے حوالے سے متعدد قرآئن بہ آسانی مل جائیں گے۔سید احمد شہید کی تحریک جس دور میں بپا ہوئی وہ برصغیر میں انگریز سامراج کا دور استبداد تھا۔مسلمان غالب سے مغلوب ہوئے تھے اور ان میں اس سوچ کا پیدا ہونا فطری تھا کہ اس اس بدیسی قوت کے خلاف ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی ورنہ ہماری حالت بھی اندلس سے مختلف نہ ہوگی۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سید احمد شہید کی تحریک ایک قومی تحریک تھی۔ البتہ ان کی تحریک میں یمن ونجدکے علماء کے شاگردوں کا جو محدود طبقہ شامل ہوگیا تھا،اس نے اس قومی تحریک کو نقصان پہنچایا۔ اس کے برعکس تحریک طالبان (جو روس کی پسپائی سے قبل تحریک مجاہدین کے نام سے ملقب تھی )میں محض روس سے نجات مقصد نہیں تھا ۔اگر ایسا ہوتا تو روس کے جانے کے بعد آپس کی خانہ جنگی کی نوبت نہ آتی۔نیز اس تحریک میں تمام دنیا سے جذباتیت کی حدتک اسلام سے وابستگی رکھنے والے مسلمانوں کو دعوت دی گئی،جس سے یہ تحریک قومیت کے عصری رجحانات سے ہٹ گئی اور دنیا کے مختلف خطوں سے آئے لوگوں نے اپنے ملکوں میں بھی اسلامائزیشن کے رجحانات کو ہوا دی۔ 

سید احمد شہید کی تحریک دراصل اپنا ایک سیاسی پس منظر رکھتی تھی اور فکری طور پر امام شاہ ولی اللہ کی فکر سے متاثر تھی۔چنانچہ اس تحریک کاایک فکری تسلسل تھا جو اس تحریک کی ناکامی کے بعد بھی جاری رہا۔(اس حوالے سے راقم کا ایک مقالہ’’ الایام‘‘ کراچی میں شائع ہوا ہے جس میں تفصیل ملے گی)۔ سیدین کی تحریک کی ناکامی کے بعد ان کی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ چنانچہ مولانا شاہ محمد اسحاق دہلویؒ حجاز تشریف لے گئے مگر وہاں رہ کر تحریکی کام کو نیا رخ دینے میں مصروف عمل رہے۔ جبکہ مولانا ولایت علی نے ہندوستان میں رہ کراپنی الگ جماعت تشکیل دی اور ان کی جماعت میں یمنی اور نجدی ذہنیت کا حامل وہ طبقہ بھی شامل ہوگیاجس کے پرتشدد مزاج اورمسلکی تعصب کے باعث افغان مخالف ہوگئے تھے اور سیدین کی تحریک ناکام ہوئی تھی۔ چونکہ سید ین کے بعد ان کی جماعت کابرصغیر کی حد تک تعارف اسی جماعت کے سبب تھا اس لیے اس جماعت کے پر تشدد مزاج نے سیداحمد شہید کے تصور جہاد کو سخت نقصان پہنچایا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں مولانا ولایت علی کی جماعت کے لوگوں نے بھی کانگرس میں شمولیت اختیار کرکے عدم تشدد کا راستہ اپنایا۔سید احمد شہید کے تصور جہاد میں عوامی بہبود،اصلاح معاشرت اور عقائد کی درستگی سب شامل تھیں۔چنانچہ ان کے تصور جہاد سے محض مسلح جدوجہد مراد لینااس کی وسعت کو محدود کرنے کے مترادف تھا۔ اس کے برعکس تحریک طالبان کا وہ طبقہ جس کے پیش نظر سید احمد شہید کی محض مسلح جدوجہد تھی،اسے شاید یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ جس تحریک سے وہ خود کو منسوب کررہے ہیں اس کا ایک فکری تسلسل تھا جو اس تحریک کی ناکامی کے بعد بھی جاری رہا۔چنانچہ تحریک کی ناکامی کے بعد مولانا اسحاق دہلوی ؒ اورمولانا امداد اللہ مہاجر مکی ؒ نے مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کو تیار کیاجنہوں نے اس تحریک کو تعلیمی وتربیتی شکل دی اور شیخ الہندمولانامحمود حسنؒ جیسے انسان کو تیار کیا جنہوں نے برصغیر کی تاریخ آزادی میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ریشمی رومال تک اس جماعت کی پالیسی انگریز سامراج کے خلاف مزاحمتی جد وجہد کی تھی کیونکہ اس دور میں اسی طریقے کو رواج تھا۔ نیزچونکہ خلافت عثمانیہ کی مرکزیت کمزور ہی سہی مگر موجود تھی اس لیے اس جدوجہد میں بین الاقومی تعاون سے بھی دریغ نہیں کیا گیا تھا۔تاہم سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا۔ چنانچہ تحریک ریشمی رومال کی ناکامی کے بعدشیخ الہندمولانا محمود حسن ؒ جب مالٹا کی قید سے واپس ہوئے تو انہوں نے جماعت کی پالیسی تبدیل کی اورعدم تشدد ،قومی سیاست، عصری ودینی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تربیت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر اس تحریک کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔ چنانچہ ان کی اس پالیسی کو جمعیۃ العلمائے ہند نے جاری رکھا اور بعد کے حالات میں عدم تشدد کے اصول پر قومی جدوجہد کا آغاز کیا۔اس لیے اسی پالیسی کو حتمی سمجھا جانا چاہیے تھا۔ تحریک پاکستان کی مخالفت بھی جمعیۃ العلمائے ہند نے اسی بنا پر کی تھی کہ ان اصولوں پر زد پڑتی تھی اور اسی اختلاف پر دیوبندی جماعت مدنی اور تھانوی گروپ میں تقسیم ہوئی تھی۔

تحریک پاکستان کے حوالے سے دیوبندیت دو حصوں یعنی مکتب تھانوی اور مکتب مدنی میں تقسیم ہوئی ۔ان دونوں مکاتب فکر میں بنیادی طور پر سیاسی اختلاف تھا جو بعد میں بڑے دور رس نتائج پر منتج ہوااور کوئی مانے یا نہ مانے اس سیاسی اختلاف کا اثراب تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔گو اس ضمن میں تطبیق اور اتفاق رائے کی بہت سی کوششیں بھی ہوئیں۔تحریک پاکستان سے قبل حضرت تھانویؒ مکتب فکرکا کوئی سیاسی کردار نہیں تھا ۔چنانچہ حضرت شیخ الہند ؒ نے جب حضرت تھانوی ؒ کو تحریک آزادی میں شمولیت کی دعوت دی تھی تو حضرت تھانوی ؒ نے یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ ان کا مزاج سیاست سے مناسبت نہیں رکھتا۔شاید یہی حضرت تھانویؒ کا عمومی مزاج تھا جبکہ ان کے فکر وعمل کی اصل جولان گاہ تصنیف وتالیف کا میدان تھا۔ مگر نہ صرف تحریک پاکستان میں بلکہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی ایک عرصے تک حضرت تھانوی ؒ کے نام لیواؤں نے سیاسی تحریکات میں برابر حصہ لیا۔ سیاسی ناتجربہ کاری وعدم پختگی کے باعث حضرت تھانوی ؒ سے اس مکتب فکر کی نسبت محض نام کی حد تک تھی۔مدنی مکتب فکر نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اس سبب بہت کچھ خود کو مطعون بھی کیا تھا۔جمعیۃ ہی نہیں خود حضرت مدنی ؒ کی ذات پر بہت کیچڑ اچھالا گیا مگر ان کی طرف سے عدم تشدد کا مظاہرہ کیا گیا۔تقسیم کے بعد بھی حضرت مدنی ؒ اور ان کی جماعت ہمیشہ عدم تشدد پر بڑی سختی سے کار بند رہے اور تقسیم کو دل وجان سے قبول کیا۔تقسیم کے بعد شروع میں تو مکتب تھانوی نے ایک عرصے تک تو سیاست میں حصہ لیا مگرجب اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہوتے نہ دیکھا تو ایک حد تک کنارہ کشی اختیار کی اوراپنی سیاسی غلطی پر سوال کے ڈر سے درس وتدریس کی جانب متوجہ ہوگئے۔مکتب مدنی کا اصل جوہر ہندوستان میں رہ گیا تھا مگر مکتب تھانوی کی سیاسی کنارہ کشی نے مکتب مدنی کو یہ خلا پر کرنے پر ابھارا اور ستر کی دہائی تک پاکستان کے معروضی حالات میں جمعیۃ نے بھرپور سیاسی کردار ادا کیا۔تاہم پاکستان کی جمعیۃ اور ہندوستان کی جمعیۃ دونوں کی سیاسی ترجیحات میں نمایاں فرق رہا۔ 

ستر کی دہائی کے بعد جب امریکہ بہادر نے سرد جنگ کے لیے ماحول بنانا چاہا توضیاء الحق کے ذریعے پاکستان میں موجود جمعیۃ کے مذہبی اثر ور سوخ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔چنانچہ ایک طرف مکتب مدنی کے نام لیوا علماء (جمعیۃ)کی ایک بڑی تعداد بھی حالات کی رو میں بہہ گئی اور تحریک طالبان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی۔ اس دور میں مکتب مدنی کے بعض علماء نے اسے شیخ الہندؒ اور مولانا مدنی ؒ کے اصولوں سے رو گردانی قرار دیتے ہوئے مخالفت بھی کی مگر انہیں دیوار کے ساتھ لگادیاگیا۔ دوسری طرف مکتب تھانوی کے نام لیواء علماء جو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے تھی ایک مرتبہ پھر سیاست میں آئے اور تحریک طالبان کی حمایت میں متعددفتاوی جاری کیے اور کتب لکھیں۔ اس کا معاوضہ انہیں مدارس کی بڑ ی بڑی عمارت اور لاکھوں مالیت کے چندوں سے نوازا گیا۔ پاکستان میں ان دونوں مکاتب فکر نے تحریک طالبان کی مکمل حمایت کی اور سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار بن کر سوشلسٹ نظام کو شکست دینے میں اپناکردار اداکیا۔لیکن جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اور وقت کے مجاہد وطن کے غدار ٹھہرے تو ان دونوں مکاتب فکر نے بڑی چابک دستی سے اپنی پالیسی تبدیل کی ۔چنانچہ ایک مکتب فکر اپنا ماضی کا ٹریک ریکارڈ اٹھاکرثابت کرنے لگا کہ ان کا تو کبھی سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا اور مسجد ومدرسہ کی گوشہ نشینی اور تعلیم وتعلم ہی ہمیشہ ان کا شعار رہا ہے۔جبکہ دوسرے مکتب فکر نے سیاست کی چھتری کے نیچے اپنے حواریوں سمیت پناہ لی ۔البتہ مطعون مدنی فکر کو اپنے سیاسی پس منظر کے باعث ہونا پڑا۔

اس دور میں پاکستانی مدارس کے طالبان کی ریکروٹمنٹ کے لیے ضروری تھا کہ ان کی مناسب ذہن سازی کی جائے اور ماضی کے کرداروں کو نئے روپ میں پیش کرکے ان کے جذبے کو مہمیز دی جائے۔اس ضمن میں ماضی کی قریب ترین مثال سید احمد شہید اور ان کی تحریک کی شکل میں موجود تھی۔پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ اس تحریک کا تعلق بھی قریب اسی خطے سے تھا جس خطے میں یہ تحریک برپا ہونے جارہی تھی۔اسی بنا ء پر سید احمد شہید کی تحریک کو پاکستانی طالبان کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا اور تھانوی و مدنی مکتب فکر کے نام لیواؤں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی اور متعدد دوسری جماعتوں کے سرکردہ علماء نے اس کی سرپرستی کی۔قطع نظر اس بات کے کہ حضرت تھانویؒ اور حضرت مدنیؒ کی اصولی فکر سے ان دونوں مکاتب فکر کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ایک مخصوص دور تک تو اس ترکیب نے کام کیا لیکن جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اور سامراج کی ضروت پوری ہوگئی اورانہی طالبان کو دہشت گردوں کے خطاب سے نوازا گیا تو ان تحریکوں کی سرپرستی کرنے والے مقدس ہاتھوں نے بھی ان کے سروں سے ہاتھ کھینچ کر انہیں تحریکی یتیمی کا شکار کردیا۔چنانچہ جس مائنڈ سیٹ کی تخلیق میں دہائیاں صرف ہوئی تھیں چونکہ اس کو یکایک تبدیل کیاجانا ممکن نہیں رہاتھا،اس لیے اس کے آفٹر شاکس سے قوم اب تک دوچار ہے۔

آج عالمی سامراج خود اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ ہم نے روس کے خلاف طالبان کو استعمال کیا اور متعدد ثبوت اس کے سامنے بھی آچکے ہیں۔ اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جن علماء عظام اور مفتیان کرام نے دینی مدارس کے مخلص طلباء کے جذبات کو استعمال کیا اور انہیں سیدین کی تحریک جیسی آزادی پسند تحریکوں کا جانشین قرار دے کر عالمی سامراج کی جنگ میں جھونکا،کیا وہ اب بھی اپنے اسی مؤقف پر قائم ہیں؟ہمارے وہ علماء وشیوخ جنہوں نے افغانستان کے حوالے سے جہاد کے فتاویٰ شائع کروا کر بلکہ اس میں خود عملاً شریک ہو کر ’’ شیخ المجاہدین ‘‘ اور ’’ سرپرست مجاہدین ‘‘ کے القابات پائے اور اس عمل کو ’’ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘کا عظیم فریضہ قرار دیا، آج پاکستان کے معروضی حالات میں ان کی فقہی بصیرت نے انہیں خاموش کیوں کرا رکھا ہے ۔

اس سب کے باوجود یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ تحریک سیدین اور تحریک طالبان میں نتیجے کے اعتبار سے بعض چیزیں مماثل بھی نظر آتی ہیں ۔مثلاًتشدد کا جوعنصر سیدین کی تحریک میں شامل ہوا وہ ہمیں تحریک طالبان میں بھی نظر آتا ہے۔فرق یہ ہے کہ پہلی تحریک میں یہ عنصر مسلکی وفروعی تھا جبکہ دوسری تحریک میں یہ قبائلی اور لسانی تھا۔تاہم نتیجہ دونوں کا یکساں تھا۔اسی طرح حالات و زمانہ کی رعایت کوجس طرح سیدین کی تحریک میں نظر انداز کیا گیا،وہی طرز عمل ہمیں تحریک طالبان میں بھی نظر آتا ہے۔سیدین کی تحریک کی ناکامی کے نتیجے میں جو تشددپسندانہ ذہنیت الگ ہوئی وہی تشدد پسندانہ ذہنیت ہمیں تحریک طالبان میں بھی نظر آتی ہے،جس نے عالم اسلام میں ایک طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا ہے۔اگر غور کیا جائے تو جنگ صفین میں بھی اس طرح کی تشدد پسند ذہنیت خوارج کی شکل میں الگ ہوئی تھی۔بہرحال جوعسکری اغلاط سیدین کی تحریک کے ناکام ہونے کا سبب بنیں ان میں سے اکثر اغلاط تحریک طالبان میں بھی دہرائی گئیں۔ اس پہلو پر سید احمد شہید کی تحریک پر لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے جس کا اعادہ سعی لاحاصل ہے۔

خلاصہ یہ کہ سیدین کی تحریک کی ناکامی کے بعدمولانا ولایت علی اور ان کی جماعت نے اپنی نسبت سید احمد شہیدکی طرف منسوب کی اور سید احمد شہید کے تصور جہاد کی ہمہ گیریت کو قتل وغارت گری اور تشددوتعصب کے ذریعے مسخ کیا۔ تاہم سید احمد شہیدکی جماعت کے حقیقی حاملین نے اسے پیش آمدہ قومی و جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور تشدد کی بجائے عدم تشدد کا اصول اپنایا۔اس بناء پر اب کوئی بھی تحریک جو اپنی نسبت سید احمد شہید کی طرف کرتی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگروہ تشدد کی راہ پر ہے تو اس کی نسبت سید ین کی تحریک سے وہی ہوگی جو مولانا ولایت علی اور ان کی جماعت کی تھی۔اس ضمن میں برصغیر کی کوئی بھی اسلامی تحریک اس فکری تسلسل کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔بہر کیف سیدین کی تحریک ایک قومی تحریک تھی جس نے برصغیرکی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ تحریک طالبان عالمی سامراج کی جنگ تھی جس میں ہماری حیثیت محض کرایے کے سپاہی کی تھی ۔اس کرایے کی جنگ کوحقیقی آزادی پسند قومی تحریک سے کیونکر نسبت ہو سکتی ہے۔

بنا بریں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نتائج کے اعتبار سے تو بعض جگہ دونوں تحریکات میں مماثلت ہے مگر فکری و نظریاتی اعتبار سے تحریک طالبان کو سیدین کی تحریک سے دور کی بھی کوئی نسبت نہیں ۔جو علماء کرام حقیقی دیوبندیت بالخصوص مدنیت وتھانویت کے تناظر میں تحریک طالبان کو سیدین کی تحریک کے مماثل قرار دینے کی تاویل کرتے رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ان کی فکر کا تعلق کم از کم اس دیوبند سے تو نہیں ہے جو حضرت مدنی اور حضرت تھانوی کا دیوبند تھا۔

جہاد / جہادی تحریکات

جنوری ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۴)
ڈاکٹر محی الدین غازی

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘
محمد زاہد صدیق مغل

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟
خورشید احمد ندیم

جدید علم الکلام
مولانا مفتی منیب الرحمن

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب
محمد عمار خان ناصر

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست
محمد اظہار الحق

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ
ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب
محمد زاہد صدیق مغل

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ
مولانا محمد انس حسان

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر
مولانا قاضی نثار احمد

مکاتیب
ادارہ

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

سانحہ ہائے ارتحال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

Flag Counter