اسلام کا تصورِ جہاد ۔ تفہیم نو کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

امیر عبد القادر الجزائری علیہ الرحمہ کے طرز جدوجہد پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے بار بار یہ نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر معروضی حالات میں جدوجہد کے بے نتیجہ ہونے کا یقین ہو جائے تو شکست تسلیم کر کے مسلمانوں کے جان ومال کو ضیاع سے بچا لینا، یہ شرعی تصور جہاد ہی کا ایک حصہ اور حکمت ودانش کا تقاضا ہے۔ فقہا ایسے حالات میں کفار کو خراج تک ادا کرنے کی شرط قبول کر کے ان کے ساتھ مصالحت کی اجازت دیتے ہیں۔ یہی کام ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد اکابر علماء نے بھی کیا تھا اور عسکری جدوجہد ترک کر کے معروضی حالات میں انگریزی حکومت کی عمل داری کو قبول کر کے مناسب وقت پر سیاسی جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ 

جہاں تک مصالحت یا تسلیم شکست کی عملی صورت کا تعلق ہے تو اس کا تعلق عملی حالات سے ہوتا ہے۔ الجزائری نے اصلاً ہتھیار ڈالنے کے لیے جو شرط رکھی تھی، وہ ایک دوسرے مسلمان ملک کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت تھی۔ یہ فرانس کی بدعہدی تھی کہ یہ شرط پوری کرنے کے بجائے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو فرانس میں لے جا کر محبوس کر دیا گیا۔ جب تک وہ محبوس رہے، مسلسل فرانسیسی حکام سے ایفاے عہد کا مطالبہ کرتے رہے۔ اسی دوران میں ان کے فرانسیسی حکام کے ساتھ ذاتی تعلقات اور روابط بھی قائم ہو گئے جس نے انھیں فرانس کی شہریت قبول کر لینے پر آمادہ کر دیا۔ فرانس کی طرف سے وظیفہ قبول کرنے کی وجہ بھی پوری طرح سمجھ میں آتی ہے۔ امیر کے تعلقات ترک حکام کے ساتھ دوستانہ نہیں تھے اور اس دور میں ترکی کے زیر نگیں دوسری مسلمان اقوام کی طرح الجزائر کے لوگ بھی ترکوں کے طرز حکومت، متکبرانہ رویے اور بد نظمی کی وجہ سے ان سے متنفر ہو رہے تھے۔ ان حالات میں الجزائری کے لیے دو ہی راستے تھے: یا تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باقی زندگی کے لیے دربدر پھرنے پر راضی ہو جائیں اور یا پھر فرانسیسی حکام کی طرف سے وظیفے کی پیش کش کو قبول کر لیں۔ امیر نے دوسرے فیصلے کو ترجیح دی تو اپنے حالا ت کے لحاظ سے انھیں اس کا پورا حق تھا۔ 

اس تناظر میں یہاں الجزائری کی معاصر تاریخ کے دو مزید کرداروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 

اکابر علمائے دیوبند اور ’’ترکِ جہاد‘‘

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست ہو جانے کے بعد دیوبندی جماعت کے اکابر نے بالعموم برطانوی اقتدار کے خلاف عسکری مزاحمت کا راستہ ترک کر کے تعلیم اور عوامی اصلاح کو اپنی جدوجہد کا میدان بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد انھوں نے ہندوستان پر برطانیہ کے اقتدار کی قانونی وفقہی حیثیت اور برطانوی حکومت کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت پر بھی ازسرنو غور کیا۔ اس حوالے سے میں یہاں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کا ایک اہم فتویٰ نقل کرنا چاہوں گا جسے انڈیا کے معروف محقق مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے اپنے مرتب کردہ ’’باقیات فتاویٰ رشیدیہ‘‘ میں درج کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’سوال: یہ ملک ہندوستان جو سو برس سے زیادہ سے مملوکہ ومقبوضہ حکام مسیحی ہے اور ان کی رعایا میں ہنود وغیرہ مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں اور ہم لوگ مسلمان بھی زیر حکومت آباد ہیں تو مسلمانوں کو اس ملک میں رعایا حکام بن کر رہنا چاہیے یا نہیں اور ہم مسلمانوں کو ان حکام کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے اور نیز ہنود وغیرہ رعایا حکام کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟
الجواب: ۱۔ چونکہ قدیم سے مذہب اور قانون جملہ مسیحی لوگوں کا یہ ہے کہ کسی کی ملت اور مذہب سے پرخاش اور مخالفت نہیں کرتے، او رنہ کسی مذہبی آزادی میں دست اندازی کرتے ہیں اور اپنی رعایا کو ہر طرح سے امن وحفاظت میں رکھتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو یہاں ہندوستان میں جو کہ مملوکہ ومقبوضہ اہل مسیحی ہے رہنا اور ان کا رعیت بننا درست ہے۔ چنانچہ جب مشرکین مکہ معظمہ نے مسلمانوں کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ملک حبشہ میں جو مقبوضہ نصاریٰ تھا، بھیج دیا اور یہ صرف اس وجہ سے ہوا کہ وہ کسی کے مذہب میں دست اندازی نہیں کرتے تھے۔
۲۔ اور جب مسلمان رعایا بن کر ہندوستان میں رہے اور حکام سے عہد وپیمان کر چکے کہ کسی حاکم یا رعایا حکام کے جان اور مال میں دست اندازی نہ کریں گے اور کوئی امر خلاف اطاعت نہ کریں گے تو مسلمانوں کو خلاف عہد وپیمان کرنا یا کسی قسم کی خیانت ومخالفت حکام کرنا ہرگز درست نہیں اور نہ کسی قسم کی خیانت اور خلاف عہد کرنا رعایا حکام یعنی ہنود وغیرہ کے ساتھ کرنا درست ہے۔ عہد کے پورا کرنے کی مسلمانوں کے مذہب میں اس قدر تاکید ہے کہ شاید کسی دوسرے مذہب میں نہ ہو۔
قال اللہ تعالیٰ: وَأَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْؤُولاً (بنی اسرائیل ۳۴)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عہد کو پورا کرو، کیونکہ عہد کے بارے میں بروز قیامت باز پرس ہوگی۔
عہد شکنی کی سخت ممانعت ہے اور کسی سے عہد کر کے اس کے خلاف کرنے پر بہت دھمکی دی گئی ہے۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الا من ظلم معاہدا او انتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخذ منہ شیئا بغیر طیب نفس فانا حجیجہ یوم القیامۃ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام امت کو فرماتے ہیں، جو کسی غیر مذہب سے عہد کر کے اس پر ظلم کرے یا ان کو کوئی عیب لگاوے اور اس کی بلاوجہ توہین کرے یا اس پر مشقت زائد ڈالے یا اس کے مال میں سے کوئی چیز بلا رضامندی لے لیوے تو قیامت کے دن اللہ کے روبرو میں اس سے جھگڑا کروں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی نائبوں کو عام تعلیم یہ ہوتی تھی: لا تغدروا۔ یعنی خلاف عہد مت کرو! 
ایک حدیث میں ارشاد ہے:
ذمۃ المسلمین واحدۃ یسعی بہا ادناہم، فمن اخفر مسلما فی ذمتہ فعلیہ لعنۃ اللہ والناس اجمعین، لا یقبل اللہ یوم القیامۃ صرفا وعدلا 
یعنی مسلمانوں کا ذمہ اور عہد ایک ہے۔ اگر ایک مسلمان کسی غیر مذہب والے سے معاہدہ کر لے گا تو سب مسلمانوں پر اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اگر کسی مسلمان کے عہد کو جو اس نے کسی کے ساتھ کیا تھا، کوئی دوسرا مسلمان توڑنا چاہے تو اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عہد شکن کی کوئی عبادت فرض یا نفل ہرگز قبول نہ کرے گا۔
۳۔ اسی طرح کسی کو بے گناہ اور بلاوجہ قتل کر دینا، خواہ وہ مسمان ہو یا غیر مسلمان، حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ قال اللہ تعالیٰ:
وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ (بنی اسرائیل ۳۳)
یعنی جس جان کے قتل کو خدا تعالیٰ نے حرام کر دیا، اس کو ناحق نہ مار ڈالو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
من قتل معاہدا بغیر کنہ لم یرح رائحۃ الجنۃ
یعنی جس نے کسی کے ساتھ عہد کر کے اس کو قتل کیا، وہ جنت کی بو بھی نہ سونگھے گا۔
علیٰ ہذا فقہ کی تمام کتابیں ان مسئلوں اور روایات سے بھری ہوئی ہیں۔ پس مسلمانوں کو اپنے عہد کے موافق حکام کی تابع داری کرنا جس میں کچھ معصیت نہ ہو، ضروری ہے اور کسی قسم کی بغاوت اور مخالفت اور مقابلہ اور خیانت جائز نہیں۔
۴۔ اگر کوئی قوم مسلمان یا غیر مسلمان، جو ممالک مقبوضہ ہمارے حکام سے خارج ہیں، ان ہمارے حکام کے ساتھ مقابلہ اور لڑائی کرنے اور ان پر حملہ کر کے آویں، تو ہم کو اس قوم کے ساتھ ہونا اور ان کو مدد دینا بھی ہرگز درست نہیں، کیونکہ یہ بھی خلاف عہد ہے:
قال اللہ تعالیٰ: وَإِنِ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْْکُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَی قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُم مِّیْثَاقٌ (سورۃ الانفال ۷۲)
یعنی اگر اہل اسلام مدد چاہیں تم سے دین کے معاملے میں، پس تمھارے اوپر مدد کرنا ضروری ہے، مگر اس قوم کے معاملے میں کہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد ہو چکا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کا ان لوگوں سے مقابلہ ہو جن سے تم عہد وپیمان کر چکے ہو تو مسلمانوں کا ساتھ مت دو۔ پس مسلمانوں کو ہر حال اپنے عہد کی رعایت کرنی چاہیے۔ نہ خود مخالفت کریں، نہ کسی مخالفت کی اعانت کریں۔ اگر اس کے خلاف کریں گے تو سخت گنہگار اور مستحق عذاب ہوں گے۔ واللہ اعلم‘‘ 
(’’باقیات فتاویٰ رشیدیہ‘‘، مرتبہ مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی، ص ۴۳۷ تا ۴۴۰)

مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے اس پر اپنی تعلیق میں لکھا ہے کہ:

’’یہ فتویٰ حضرت مولانا تھانوی نے اپنی بیاض میں بھی نقل کیا ہے۔ اس سے پہلے لکھا ہے کہ:
’’یہ فتویٰ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے سالانہ جلسہ منعقدہ میں مولانا عنایت اللہ صاحب (مہتمم مدرسہ) نے پڑھ کر سنایا تھا۔‘‘ (الطرائف والظرائف ص ۳۵ تا ۳۸ (طبع اول، تھانہ بھون: ۱۹۲۹ء)

گویا اس فتوے کو اس اجتماع میں شریک علماء کی تائید حاصل تھی اور اسے ایک اجتماعی موقف کے طو رپر پیش کیا گیا تھا۔

امام شاملؒ ۔ ایک اور ’’جعلی مجاہد‘‘

دوسرا تاریخی کردار جس کا ذکر میں کرنا چاہوں گا، وہ اسی دور کے وسط ایشیا کے عظیم مجاہد اور امیر عبد القادر الجزائری کے دوست، امام شاملؒ ہیں۔ جب تیس سال تک (۱۸۳۰ء تا ۱۸۵۹ء) روسی استعمار کے خلاف داد شجاعت دینے اور روسی فوج کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد ایک مرحلے پر انھیں شکست تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ دکھائی نہ دیا تو نہ صرف یہ کہ انھوں نے شکست قبول کر لی، بلکہ باقی زندگی کے لیے روسی حکومت کی طرف سے سرکاری وظیفے کی پیش کش بھی قبول کی اور اسی کے سہارے اپنی باقی زندگی بسر کی۔

لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ’’نشریات‘‘ کی شائع کردہ کتاب ’’امام شامل‘‘ (مصنفہ ڈاکٹر محمد حامد) میں اس عظیم مجاہد کی جدوجہد کے آخری مرحلے کی منظر کشی یوں کی گئی ہے: 

’’امام کو کئی جگہ میدان جنگ میں شکست ہو چکی تھی۔ ان کے نائبین ایک ایک کر کے جام شہادت نوش کر چکے تھے اور کئی اضلاع نے روسیوں کی غیر مشروط اطاعت بھی قبول کر لی تھی، لیکن پھر بھی امام جیسے باصلاحیت لیڈر کے لیے، جن کے پاس اب بھی خاصی تعداد میں مریدوں کی فوج موجود تھی، جنگلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں میں ہمت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنا مشکل نہ تھا۔ صرف ایک شرط تھی اور وہ یہ کہ مقامی آبادی ان کا ساتھ دے اور حوصلہ نہ ہارنے کے ساتھ اپنے تمام وسائل کو امام کے سپرد کر دے۔ یہ آخری بات ہی ایسی تھی جس نے امام کا ساتھ نہ دیا۔ ۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ امام کو درے پر روسی قبضے کی اطلاع دی گئی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اس وقت بھی مریدین کی اچھی خاصی جمعیت ان کے ساتھ تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انھوں نے جوابی حملے کی کوشش کیوں نہیں کی! کئی ہزار داغستانی اب بھی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار تھے اور اس سے پہلے کی روسی اس تمام علاقے کو مفتوح کر لیتے، امام روسیوں کو شکست دینے کی اہلیت رکھتے تھے، لیکن امام نے کچھ نہیں کیا۔ ۔۔۔
تیس سال پہلے انھوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے اس علاقے میں کام شروع کیا تھا۔ روسیوں کا سر کچلنے کے لیے وہ ایک طویل عرصے تک جدوجہد کرتے رہے تھے۔ انھیں اپنے مقاصد میں ایک بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی تھی، لیکن اب انجام ان کے سامنے تھا۔ انھیں شہادت کی منزل قریب نظر آ رہی تھی، لیکن انھوں نے آخر دم تک دفاع کی ٹھان رکھی تھی۔ انھوں نے شروع سے لے کر آج کے دن تک اس عظیم مقصد کے لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کیے رکھا تھا۔ انھیں شدید ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا اور کامیابیوں نے بھی ان کے قدم چومے تھے۔ انھوں نے روسیوں کو عبرت ناک شکستیں بھی دی تھیں او رخود بھی کئی بار شکست کا سامنا کیا تھا۔ پہلے امام کی زندگی میں انھوں نے پوری تن دہی اور جانفشانی سے کام کیا تھا اور یہ معجزہ ہی تھا کہ وہ بچ نکلے تھے اور امام کے ساتھ شہید نہیں ہوئے تھے۔ وہ ہمزادکے دور میں بھی اسی طرح وفادار رہے اور اگر وہ چاہتے تو خود امام سنبھال سکتے تھے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ ۱۸۳۴ء سے اب تک انھوں نے خود مریدین کی قیادت کی تھی اور پورے داغستان پر حکومت کرتے رہے تھے۔ اب جب کہ عمر بھی کی جدوجہد اور سالہا سال کی ان تھک کوششوں کے بعد ان کا سامنا روس کی لاتعداد افواج سے ہو رہا تھا اور انھیں شکست یقینی نظر آ رہی تھی، ان کا ضمیر مطمئن تھا کہ انھوں نے اپنے مقصد کی راہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ان کے ضمیر کی اس گواہی پر ہر غیر جانب دار مورخ ان کا ساتھ دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تحریک کی ناکامی ان کی کسی ذاتی کوتاہی کا نتیجہ نہیں تھی۔ حالات ہی ایسا رخ اختیار کر چکے تھے کہ ان کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا تھا۔
امام بظاہر ناکام ہوئے، لیکن ان کی ظاہری ناکامی پر ہزاروں کامیابیاں نچھاور کی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان کی مخالف قوتوں کا اندازہ لگایا جائے تو اتنے طویل عرصے تک ان کا تحریک کو لے چلنا ہی خاصی حیرت انگیز بات لگتیہے۔ ان کے مقابلے میں خارجی عوامل ہی نہیں تھے، داخلی صورت حال بھی ان کے مزاحم تھی۔ انھیں روس کی طاقت ہی کا سامنا نہیں تھا جس کے پاس بے شمار وسائل اور بے شمار فوجیں تھیں، بلکہ انھیں اندرونی کش مکش اور قبائل کی آویزشوں سے بھی نمٹنا تھا اور حالات ایسے تھے کہ وہ نہ ایک طاقت پر قابو پا سکتے تھے اور نہ دوسرے کا سر کچل سکتے تھے۔ ۔۔۔
امام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ شریعت کے احکامات کے نفاذ کے بغیر قبائل میں اتحاد کسی صورت پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں سختی سے بھی کام لینا پڑا۔ انھوں نے تبلیغ بھی کی۔ قبائل کو ساتھ ملانے کے لیے انھیں کئی بار قوت کا استعمال بھی کرنا پڑا۔ انھیں اس مقصد میں خاصی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں، لیکن ان کی کامیابیوں کے زمانہ عروج میں اندر ہی اندر انتشار کی قوتیں بھی منظم ہو رہی تھیں۔ بظاہر اگرچہ کسی قسم کا انتشار محسوس نہیں ہوتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ فتح اور کامرانی ہی کا دور دورہ ہے، لیکن نفاق اندر ہی اندر گھن کی طرح کھائے چلا جا رہا تھا۔ وہ لوگ جو اپنے قبیلے کے رسوم ورواج ہی پر ساری عمر چلتے رہے تھے، انھیں شریعت کے احکامات کی پابندی ایک بوجھ محسو س ہوتا تھا۔ امام کے نائبین کی طرف سے کی جانے والی سختیاں بھی انھیں ناگوار گزرتی تھیں۔ پھر جنگ اس درجہ طویل ہو چکی تھی کہ لوگ تنگ آ چکے تھے۔ شاید ہی کوئی گاؤں بلکہ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں خاوند، باپ اور بھائی شہید نہ ہو چکے ہوں۔ خاندانوں کے خاندان ختم ہو چکے تھے۔ پوری کی پوری بستیاں برباد کی جا چکی تھیں۔ کھیتوں میں مدتوں سے ہل نہیں چلا تھا۔ پھل دار درختوں کی طرف کسی نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ ۔۔۔
بیریا ٹنکی چاہتا تھا کہ امام کو زندہ گرفتار کیا جائے، اسی لیے اس نے دیہات پر حملے سے پہلے ہتھیار رکھوانے کی ایک بار پھر کوشش کی۔ امام تنہا ہوتے تو ممکن تھا وہ اسی طرح شہید ہو جاتے جیسے قاضی ملا، غمری کے مقام پر شہید ہو گئے تھے، لیکن یہاں ان کے ہمراہ ان کے بیوی بچوں کے علاوہ وہ وفادار دیہاتی اور ان کے خاندان کے افراد بھی تھے جنھوں نے امام کو آخر دم تک بچانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ اس وقت جب کہ امام کے لیے پورا داغستان اور چیچنیا دشمن بن چکا تھا اور لوگ ان کی جان اور مال کے درپے تھے، ان بہادر دہقانوں نے انھیں پناہ دی تھی۔ پھر یہی نہیں، امام کے ساتھ دفاعی انتظامات میں دن رات ایک کر دیا تھا۔ اگر عام حملہ ہو جاتا تو شاید ان میں سے ایک ایک شخص امام کے ساتھ شہید ہو جاتا اور گاؤں کا ایک فرد بھی زندہ نہ بچتا۔ امام کو اپنے ان وفادار ساتھیوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا خیال آ گیا اور انھوں نے دو ساتھیوں کو شرائط طے کرنے کے لیے روسیوں کے پاس بھیجا۔
روسیوں نے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، لیکن امام ااس کو کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھے۔ بالآخر کانرل لازاروف جو امام کو ذاتی طور پر جانتا تھا، خود گاؤں میں آیا اور یہ وعدہ کیا کہ نہ صرف ان کی جان بخشی ہوگی، بلکہ ان کے تمام ساتھیوں کو بھی امان دے دی جائے گی۔ امام گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھے، لیکن کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ روسیوں نے اپنے دشمن کو اس حالت میں دیکھ کر تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ امام رک گئے۔ باگیں کھینچیں اور گاؤں کی طرف پلٹنے لگے، لیکن کرنل لازاروف یہ دیکھتے ہی ان کی طرف لپکا اور کہا کہ ان تالیوں کا مقصد عزت افزائی ہے اور یہ آپ کے استقبال کے لیے بجائی جا رہی تھیں۔ کرنل انھیں منا کر پھر لے آیا۔ ان کے ہمراہ ۵۰ مرید تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مریدین کے لشکروں میں سے اب صرف یہی رہ گئے تھے۔ جب وہ بیریا ٹنکی کے پاس پہنچے تو ان کی اور ان کے خاندان اور ساتھیوں کی حفاظت کا یقین دلایا گیا۔ امام کا چہرہ تنا ہوا تھا اور ان کی عقابی آنکھوں میں چمک تھی۔ دوسرے دن وہ شورا بھجوا دیے گئے جہاں سے انھیں روس بھیج دیا گیا۔ بعد میں ان کا خاندان بھی ان کے پاس پہنچا دیا گیا۔ اس جنگ میں روسیوں کے ۱۸۰ سپاہی ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ دوسری طرف ۴۰۰ مریدوں میں سے صرف ۵۰ باقی بچے تھے۔ 
امام ۱۸۶۹ء تک کلوگا میں رہے او ربعد میں انھیں ان کی خواہش کے مطابق خیوا منتقل کر دیا گیا۔ یہاں سے انھیں حج پر جانے کی اجازت مل گئی۔ بالآخر ۴؍ فروری ۱۸۷۱ء کو مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘ (ص )

یہ بھی ذہن میں رہے کہ امام شامل نے روس کے مقابلے میں شکست تسلیم کر لینے کے بعد اپنے ہم وطنوں کو، جو جدوجہد آزادی رکھنا چاہتے تھے، اس سے منع کرنے کی کوشش کی تھی۔ امام شامل اس وقت روس کے ’’وظیفہ خوار‘‘ تھے، لیکن ان کا اپنے اہل وطن کو ترک جہاد کا مشورہ اس وظیفہ خواری کا صلہ نہیں تھا، بلکہ معروضی صورت حال کے دیانت دارانہ فہم پر مبنی ان کی ایک رائے تھی۔ سطحی اور جذباتی ذہن اس پر ’’جعلی مجاہد‘‘ کی پھبتیاں کسنا چاہے تو کس سکتا ہے، ۔ 

تاتاریوں کی یلغار اور مسلم مورخین کا معروضی انداز نظر

قرون وسطیٰ میں تاتاریوں نے عالم اسلام پر جو تباہی مسلط کی، اس کا ظاہری سبب یہ تھا کہ ایران میں خوارزم شاہ کے مقرر کردہ حاکم نے چنگیز خان کے بھیجے ہوئے چند تاجروں کا مال واسباب لوٹ کر انھیں قتل کر دیا اور خوارزم شاہ نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اس پر چنگیز خان نے خوارزم شاہ کے پاس اپنا سفیر بھیجا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ حاکم کے خلاف کارروائی کرے۔ جواب میں خوارزم شاہ نے چنگیز خان کے سفیر کو بھی قتل کروا دیا اور اس کے بعد عالم اسلام پر تاتاریوں کی تباہ کن یلغار کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ محتاج بیان نہیں۔

اس پورے حادثے کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہوئے اہم اور قابل توجہ نکتہ مسلم مورخین کا معروضی انداز نظر ہے۔ تاتاریوں نے جس وسیع پیمانے پر عالم اسلام میں عمومی تباہی پھیلائی، ظاہر ہے اس کا کوئی جواز نہیں تھا، لیکن مسلم مورخین اس کی یک طرفہ مذمت کرنے کے بجائے تباہی کا بنیادی ذمہ دار خوارزم شاہ کو قرار دیتے اور سخت الفاظ میں اس کی حماقت اور شوریدہ سری پر تبصرے کرتے رہے ہیں۔ چند ایک نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

وقد قتل من الخلائق ما لا یعلم عددہم الا الذی خلقہم ولکن کان البداء ۃ من خوارزم شاہ فانہ لما ارسل جنکز خان تجارا من جہتہ معہم بضائع کثیرۃ من بلادہ فانتہوا الی ایران فقتلہم نائبہا من جہۃ خوارزم شاہ وہو والد زوجتہ کشلی خان واخذ جمیع ما کان معہم، فارسل جنکز خان الی خوارزم شاہ یستعلمہ ہل وقع ہذا الامر عن رضا منہ او انہ لم یعلم بہ فانکرہ، وقال لہ فی ما ارسل الیہ: من المعہود من الملوک ان التجار لا یقتلون لانہم عمارۃ الاقالیم وہم الذین یحملون الی الملوک التحف والاشیاء النفیسۃ، ثم ان ہولاء التجار کانوا علی دینک فقتلہم نائبک، فان کان امرا انکرتہ والا طلبنا بدماۂم، فلما سمع خوارزم شاہ ذلک من رسول جنکز خان لم یکن لہ جواب سوی انہ امر بضرب عنقہ، فاساء التدبیر وقد کان خرف وکبرت سنہ وقد ورد الحدیث: اترکوا الترک ما ترکوکم، فلما بلغ ذلک جنکز خان تجہز لقتالہ واخذ بلادہ فکان بقدر اللہ تعالیٰ ما کان من الامور التی لم یسمع باغرب منہا ولا ابشع (البدایہ والنہایہ ۱۷/۱۶۳، ۱۶۴)

مطلب یہ ہے کہ سفیر کے معاملے کی ابتدا خوارزم شاہ کی طرف سے ہوئی تھی جس نے چنگیز خان کے سفیر کے معقول مطالبات کا جواب دینے سے عاجز ہو کر اسے قتل کرا دیا اور اس وقت وہ دراصل بڑھاپے کی وجہ سے سٹھیا چکا تھا۔

علامہ ذہبی ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

فوردت رسل جنکز خان الی خوارزم شاہ تقول: انک اعطیت امانک للتجار فغدرت، والغدر قبیح وہو من سلطان الاسلام اقبح، فان زعمت ان الذی فعلہ خالط بغیر امرک فسلمہ الینا والا فسوف تشاہد منی ما تعرفنی بہ، فحصل عند خوارزم شاہ من الرعب ما خامر عقلہ فتجلد وامر بقتل الرسل فقتلوا! فیا لہا حرکۃ لما ہدرت من دماء الاسلام اجرت بکل نقطۃ سیلا من الدم (۲۲/۴۴) 
یعنی خوارزم شاہ کی عقل پر پردہ پڑ گیا اور اس نے بزعم خویش بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفیروں کو قتل کر دیا اور ایک ایسی حماقت کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے چنگیز خان کے سفیروں کے خون کے ایک ایک قطرے کے بدلے میں مسلمانوں کے خون کے دریا بہا دیے گئے۔ ع لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی۔

کیا یہ رویہ مسلمانوں کی خیر خواہی کا ہے؟

ربیعہ بن امیہ، قریش کے مشہور سردار امیہ بن خلف کا بیٹا تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر اس نے اسلام قبول کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس نے شراب پی تو امیر المومنین نے اسے کوڑے لگوانے کے ساتھ ساتھ اسے تعزیراً علاقہ بدر کر کے خیبر کی طرف بھیج دیا۔ اس بات پر ربیعہ ناراض ہو کر رومی بادشاہ قیصر کے پاس چلا گیا اور نصرانی مذہب اختیار کر لیا۔ 

امیر المومنین نے کوئی غیر شرعی کام نہیں کیا تھا، بلکہ اپنے جائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ربیعہ کو علاقہ بدری کی سزا دی تھی، لیکن اس کا نتیجہ ایک مسلمان کے مرتد ہو جانے کی صورت میں نکلا تو سیدنا عمر کو اپنے فیصلے پر سخت ندامت ہوئی اور انھوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ’لا اغرب بعدہ مسلما ابدا‘۔ یعنی آج کے بعد میں کبھی کسی مسلمان کو علاقہ بدر نہیں کروں گا۔ (نسائی، رقم ۵۶۷۶)

یہ منظر سامنے رکھیے اور اس کے تقابل میں اب ایک دوسرے منظر پر نگاہ ڈالیے:

جذبہ جہاد سے سرشار چند لوگ امارت اسلامیہ افغانستان میں بیٹھ کر وہاں کی اسلامی حکومت کی اجاز ت کے بغیر، بلکہ موثق اطلاعات کے مطابق ان کی طرف سے مخالفت کے باوجود، یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ امریکہ کی اقتصادی طاقت کو توڑنے کے لیے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کریں گے۔ اس کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی جو کامیاب رہی۔ سنٹر تباہ ہوا اور امریکہ کی پوری دنیا کی نظروں میں سبکی ہوئی۔ امریکہ نے طالبان حکومت سے القاعدہ کی قیادت کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جسے طالبان حکومت نے اپنے خیال کے مطابق اسلامی حمیت اور آداب میزبانی کے منافی سمجھتے ہوئے مسترد کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں قائم طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا اور لاکھوں مسلمانوں کو جنگ، ہجرت اور تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان میں محفوظ پناہ گاہ چھن جانے کے بعد ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کی منصوبہ بندی کرنے والے جہادی نظریہ ساز پاکستان کے علاقے میں آ گئے، جبکہ پاکستان یہ واضح کر چکا تھا کہ وہ اس جنگ میں افغان طالبان کے ساتھ نہیں ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستانی فوج نے جہاں تک ممکن تھا، دباؤ برداشت کیا اور قبائلی علاقوں میں جنگ چھیڑنے سے گریز کیا، لیکن جب یہ خطرہ ہوا کہ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی طاقتیں پناہ گزینوں کا پیچھا کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں داخل ہو سکتی ہیں تو مجبوراً اسے خود اپنے علاقے میں ان پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف بھی فوجی آپریشن کا فیصلہ کرنا پڑا۔

امیر المومنین سیدنا عمر کا جو واقعہ اوپر نقل کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں تو چاہیے یہ تھا کہ اس پورے خطے کے مسلمانوں کو ابتلا وآزمائش میں ڈال دینے والا یہ گروہ ان نتائج کو دیکھ کر اپنے کیے پر ندامت محسوس کرے اور آئندہ کے لیے اس نوعیت کے تباہ کن اور احمقانہ اقدامات سے باز آ جانے کا عزم کر لے جو ایک مسلمان ملک کی پوری کی پوری فوج کو ’’ارتداد‘‘ کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیں، لیکن ایسی صورت حال میں یہ کیفیت، ظاہر ہے ایک ایسے ذہن میں ہی پیدا ہو سکتی تھی جس میں سیدنا عمر کی طرح مسلمانوں کی حقیقی خیر خواہی اور انھیں کسی دینی یا دنیاوی آزمائش سے محفوظ رکھنے کا جذبہ راسخ ہو۔ یہاں تو عقل وفہم کی لگام اندھے انتقام کے جذبے کے ہاتھ میں دے دی گئی تھی جس کی تسکین اپنے کیے پر نادم ہونے سے نہیں، بلکہ ’’خارجیت‘‘ کا طرز فکر اور فلسفہ اپنانے سے ہی ہو سکتی تھی، چنانچہ بے دھڑک یہ فتویٰ صادر فرمایا گیا کہ امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے پاکستانی فوج ’’مرتد‘‘ ہو گئی ہے اور اس کے جوانوں کو مارنا بھی ایسا ہی کار ثواب ہے جیسا امریکی فوجیوں کو جہنم رسید کرنا!! 

کس نے اپنے آشیاں کے چار تنکوں کے لیے
برق کی زد میں گلستاں کا گلستاں رکھ دیا

جہاد / جہادی تحریکات

(اگست ۲۰۱۳ء)

Flag Counter