جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں

محمد عمار خان ناصر

(مصنف کی زیر ترتیب کتاب ’’جہاد: ایک مطالعہ‘‘ کا ایک باب۔)


معاصر جہادی تحریکوں کی طرف سے اپنے تصور جہاد کے حق میں بالعموم جو طرز استدلال اختیار کیا جاتا ہے، اس کی رو سے جہاد ایک ایسا شرعی حکم کے طورپر سامنے آتا ہے جو عملی حالات اور شرائط وموانع پر موقوف نہیں، بلکہ ان سے مجرد دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے جب بھی ایسے حالات پائے جائیں جن میں نظری اور اصولی طور پر جہاد کی ضرورت اور تقاضا پید اہو جائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے عملاً اقدام نہ کرنے والے مسلمان اور ان کے حکمران گناہ گار اور ایک شرعی فریضے کے تارک قرار پاتے ہیں۔ اسی تصور کے زیر اثر کسی مخصوص صورت حال میں جہاد کا اعلان کرنے کو ایک اجتماعی سیاسی اور انتظامی فیصلہ نہیں سمجھا جاتا جس کا اختیار مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو حاصل ہو، بلکہ اسے ایک نظری دینی حکم سمجھتے ہوئے علما اور اہل فتویٰ سے راے طلب کی جاتی ہے کہ آیا اب جہاد فرض ہو چکا ہے یا نہیں اور اس کی بنیاد پر یہ قرار دیا جاتا ہے کہ چونکہ شرعاً جہاد فرض ہو چکا ہے جبکہ ارباب حل وعقد یا عام مسلمان جہاد کے فرض ہو جانے کے باوجود اس سے روگردانی کر رہے ہیں، اس لیے وہ گناہ گار ہیں اور چونکہ اللہ اور اس کے رسول کی معصیت میں ارباب اقتدار کی اطاعت ناجائز ہے، اس لیے جذبہ جہاد سے سرشار افراد یا گروہوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ارباب حل وعقد کے فیصلوں اور پالیسیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے طو رپر منظم ہو کر اس فرض کفایہ کو انجام دینے کے لیے جدوجہد کریں۔

یہ استدلال کئی پہلووں سے تنقیح اور تنقید کا تقاضا کرتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن وسنت کے نصوص اور فقہ اسلامی کی روشنی میں اس سوال کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا کسی جارح کے خلاف جنگ کے مخصوص اسباب پائے جانے پر ’جہاد‘ کی فرضیت علی الاطلاق نوعیت کی ہے یا اس میں عملی حالات وامکانات کا بھی دخل ہے؟ کیا نظری طو رپر جہاد کا تقاضا کرنے والے اسباب اور بواعث پائے جانے اور عملاً اس کے فرض ہو جانے کے مابین کوئی لزوم پایا جاتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں کیا جب بھی کوئی ایسا سبب پایا جائے جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے تو کیا بس سبب کا پایا جانا مسلمانوں پر جہاد کو عملاً فرض قرار دینے کے لیے کافی ہے یا ا س کے لیے کچھ مزید شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہے؟ اسی طرح یہ سوال بھی اس بحث کا ایک اہم سوال ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں کسی مخصوص صورت حال میں جہاد کے فرض ہونے یا نہ ہونے اور اس کے لیے عملی اقدام کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ آیا اس کا فیصلہ ارباب فتویٰ اور علما کریں گے یا مسلمانوں کے ارباب حل عقد؟ آیا یہ نظم اجتماعی کا حق خاص (Prerogative) ہے یا مسلمانوں کے گروہ نجی سطح پربھی اس کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں؟

یہاں ہم فقہی زاویہ نگاہ سے اسی سوال کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیں گے۔

جنگی استعداد، کامیابی کے امکانات اور دیگر مصالح کی رعایت

جہاد کی فرضیت کے حوالے سے ایک عام او رقابل اصلاح تصور یہ ہے کہ دنیا میں جب بھی کسی جگہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی کا ارتکاب کیا جائے اور مسلمان ان کی چیرہ دستی کا شکار ہوں، دوسرے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنے اور کفار کو ان کے ظلم وستم سے روکنے کے لیے جہاد فرض ہو جاتا ہے اور یہ ان کی شرعی ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ اپنی حربی طاقت، دشمن کے خلاف کامیابی کے امکانات، جنگ کے فوائد یا نقصانات کے مجموعی تناسب یا کسی بھی نوعیت کے دوسرے مصالح سے بے نیاز ہو کر صرف خدا کے بھروسے پر مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے میدان جنگ میں کود پڑیں۔ 

قرآن وسنت، فقہ اسلامی اور عقل عام سے اس تصور کی تائید نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی مخصوص صورت حال میں مسلمانوں پر جہاد کا عملاً فرض ہونا بہت سی دوسری شرائط کے پائے جانے اور موانع کے مفقود ہونے پر منحصر ہے۔ مثلاً:

کیا ظالم گروہ کے خلاف نتیجہ خیز اقدام کے لیے مطلوبہ صلاحیت اور استعداد مسلمانوں کو میسر ہے؟

کیا معروضی حالات میں اس اقدام سے مطلوبہ ہدف کا حصول انسانی تدبیر اور اسباب کے دائرے میں ممکن ہے؟

کیا دین وملت کے وسیع تر مصالح اس کی اجازت دیتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے قتال ہی کی راہ اختیار کی جائے؟

فقہا نے جنگ میں کامیابی اور ناکامی کے امکانات کے لحاظ سے حکمت عملی اختیار کرنے کو باقاعدہ موضوع بحث بنایا ہے اور جگہ جگہ یہ واضح کیا ہے کہ مسلمانوں پر ذمہ داری اتنی ہی عائد ہوتی ہے جس سے عہدہ برآ ہونا حالات اور مواقع کے لحاظ سے ممکن ہو۔ فقہی ذخیرے میں جابجا ایسی تصریحات موجود ہیں جن میں فقہا نے کسی نظری شرعی اصول کی بنا پر نہیں بلکہ حکمت عملی اور نتائج کے لحاظ سے کسی معاملے کی شرعی حیثیت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

مثال کے طور پر امیر لشکر کے انتخاب کے حوالے سے وہ یہ ہدایت دیتے ہیں کہ اسے محتاط اور سمجھ دار ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ وہ مواقع اور امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانے کے بجائے مسلمانوں کی جانوں کو بے فائدہ ضائع کرواتا رہے۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۶۱، ۶۲) بلکہ سرخسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ لشکر پر اپنے امیر کی اطاعت واجب ہے، لیکن اگر وہ کسی ایسے کام کا حکم دے جس سے لشکر کے ہلاکت میں مبتلا ہونے کا یقین ہو تو لشکر کو چاہیے کہ وہ اس خاص معاملے میں امیر کی اطاعت نہ کرے۔ (شرح السیر الکبیر ۱-۱۷۳، ۱۷۴)

★ ماوردی نے مبارزہ کی شرائط میں ایک شرط یہ بیان کی ہے کہ مبارز کو اپنی شجاعت اور مہارت پر اتنا اطمینان ہو کہ دشمن پر غلبہ پانے کا یقین ہو، ورنہ اسے مبارزہ سے منع کیا جائے گا۔ دوسری شرط یہ ہے کہ امیر لشکر خود مبارزت کے لیے میدان میں نہ اترے، کیونکہ امیر لشکر کی ہلاکت پورے لشکر کی ہزیمت کا باعث بن سکتی ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ:

ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقدم علی البراز ثقۃ بنصر اللہ سبحانہ وانجاز وعدہ ولیس ذلک لغیرہ (الاحکام السلطانیہ ۱/۶۷)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مبارزت کا فیصلہ اللہ کی طرف سے مدد اور کامیابی کے وعدے کے بھروسے پر کیا تھا اور یہ خصوصیت کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔‘‘

★ سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ مسلمانوں کی استطاعت سے باہر ہو تو پسپائی اختیار کر لینا بھی بالکل درست ہے، بلکہ اس پر سیدنا عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ جب ایک جنگ میں سالار لشکر نے پسپائی اختیار کرنے سے انکار کر دیا اور نتیجے میں شہید ہو گئے تو سیدنا عمر نے فرمایا:

یرحم اللہ ابا عبید لو انحاز الی کنت لہ فئۃ (شرح السیر الکبیر ۱/۱۳۶)
’’اللہ ابو عبید پر رحم کرے، اگر وہ پلٹ کر میرے پاس آجاتا تو میری حیثیت اس کے لیے پشت پناہ جماعت کی ہوتی۔‘‘

★ فقہا فرماتے ہیں کہ اہل حرب اگر دار الاسلام میں گھس کر مسلمانوں کے اموال ونفوس یا قیدیوں پر قبضہ کر لیں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ انھیں ان سے چھڑانے کے لیے ان کا پیچھا کریں، لیکن اگر کفار اپنے قلعوں میں داخل ہو جائیں اور ان سے قیدیوں کو چھڑانے کے امکانات معدوم ہو جائیں تو پھر مسلمان ان کا پیچھا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ (ابن نجیم، البحر الرائق ۱۳/۲۹۰) بلکہ بعض فقہا اس صورت میں بھی یہ کہتے ہیں کہ اگر کفا ر کسی ایک آدھ مسلمان کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے ہوں تو بھی ان کا پیچھا کرنا لازم نہیں۔ فقہ شافعی کی کتاب ’مغنی المحتاج‘ میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ:

لان ازعاج الجنود لخلاص اسیر بعید (مغنی المحتاج، ۶/۲۴)
’’کسی ایک قیدی کی رہائی کے لیے پورے کے پورے لشکر کو حرکت میں لانا قرین قیاس بات نہیں ہے۔‘‘

فقہا نے مسلمان خواتین کے دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو جانے کو بجا طو رپر زیادہ اہمیت کا معاملہ قرار دیا اور یہ کہا ہے کہ اگر کفار مسلمانوں کا مال چھین کر دار الحرب کی طرف واپس جا رہے ہوں تو ان کے اپنے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ان کا پیچھا کر کے ان سے مال واپس حاصل کرنا واجب ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان خاتون دشمن کے ہاتھوں قید ہو جائے تو کفار کے دار الحرب میں داخل ہو جانے کے باوجود ان کا پیچھا کرنا ضروری ہے، لیکن یہاں بھی فقہا شرعی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے عملی امکانات کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ مسلمان خواتین کو چھڑانے کے لیے کفار کا پیچھا کرنا اس وقت تک لازم ہے جب تک وہ ابھی دار الحرب کے سرحدی علاقے میں ہوں۔ اگر وہ اپنی آبادیوں میں پہنچ کر قلعوں اور چار دیواریوں میں داخل ہو چکے ہوں تو ایسا کرنا لازم نہیں ہوگا۔ ((شرح السیر الکبیر، ۱/۲۱۶ تا ۲۱۸۔ ابن نجیم، البحر الرائق ۱۳/۲۹۰)

اس فقہی جزئیے سے ایک بات تو یہ واضح ہوتی ہے کہ فقہا مسلمانوں کے مرد قیدیوں کو مال کے حکم میں شمار کرتے ہیں اور ان کو چھڑانے کے لیے کفار کا پیچھا کرنے کو اسی وقت تک ضروری سمجھتے ہیں جب تک وہ دار الاسلام میں ہوں۔ دار الحرب کے حدود میں داخل ہو جانے کے بعد وہ مال واسباب اور مرد قیدیوں کو چھڑانے کے لیے پیچھا کرنے کو لازم نہیں قرار دیتے۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ فقہا اس صورت میں بھی جبکہ دشمن دار الاسلام میں داخل ہو کر مسلمانوں کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے جا رہا ہو، ان کو چھڑانے کے لیے قتال کی فرضیت کو تین واضح شرائط کے ساتھ مشروط کرتے ہیں:

ایک یہ کہ مسلمانوں کے پاس ان کو چھڑانے کی طاقت ہو۔ (لہم علیہم قوۃ

دوسرے یہ کہ دشمن مسلمان قیدیوں کو لے کر دار الحرب میں اپنے قلعوں اور محفوظ مقام پر نہ پہنچ چکا ہو۔ اگر وہ مسلمانوں کی گرفت سے نکال چکا ہو تو اس کا پیچھا کرنا لازم نہیں۔ (وان ترکوہم ولم یتبعوہم رجوت ان یکونوا فی سعۃ من ذلک)۔

تیسرے یہ کہ دشمن کا پیچھا کرنے سے اس بات کی امید ہو کہ مسلمان اس کے دار الحرب میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیں گے۔ اگر اس کی توقع نہ ہو تو دشمن کا پیچھا نہ کرنے کا فیصلہ درست ہوگا۔ (کانوا فی سعۃ من ان یقیموا ولا یتبعوہم)۔

فقہا کا بیان کردہ یہ مشہور جزئیہ بھی کہ اگر مشرق میں کوئی مسلمان خاتون دشمن کے ہاتھوں قید ہو جائے تو مغرب کے مسلمانوں پر اس کو چھڑانا لازم ہے، اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ البحر الرائق میں ہے:

وفی البزازیۃ: امراۃ مسلمۃ سبیت بالمشرق وجب علی اہل المغرب تخلیصہا من الاسر ما لم تدخل دار الحرب لان دار الاسلام کمکان واحد اھ ومقتضی ما فی الذخیرۃ انہ یجب تخلیصہا ما لم تدخل حصونہم وجدرہم (البحر الرائق ۱۳/۲۹۰)
’’بزازیہ میں ہے کہ مشرق میں اگر کوئی مسلمان عورت (کفار کے ہاتھوں) قید ہو جائے تو مغرب کے رہنے والوں پر اسے چھڑانا واجب ہے، جب تک کہ وہ دار الحرب میں داخل نہ ہو جائے۔ کیونکہ دار الاسلام ایک ہی علاقے کا درجہ رکھتا ہے (اس لیے دار الاسلام کی حدود میں اسے چھڑانا بحیثیت مجموعی پورے دار الاسلام کے ذمے ہے)۔ جبکہ ذخیرہ میں درج جزئیے کا تقاضا یہ ہے کہ (دار الحرب میں داخل ہونے کے بعد بھی) جب تک مسلمان خاتون کفار کی آبادی کے علاقے اور ان کے قلعوں میں نہ داخل نہ ہو جائے، اسے چھڑانا مسلمانوں پر واجب ہے۔‘‘

★ فقہا یہ تصریح کرتے ہیں کہ اگر کفار کا کوئی بہت بڑا لشکر مسلمانوں کے علاقے میں داخل ہو جائے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اکا دکا افراد اور چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو میدان میں نہیں آنا چاہیے:

لو دخل ملک عظیم منہم طرف بلادنا لا یتسارع لدفعہ الآحاد والطوائف لما فیہ من عظم الخطر (شرح البہجۃ، زکریا بن محمد بن زکریا، ۵/۱۳۰۔ مغنی المحتاج، ۶/۲۴)
’’اگر کفار کا کوئی طاقت ور بادشاہ بلاد اسلام کے کسی علاقے میں داخل ہو جائے تو مسلمانوں کے جتھے یا افراد اس کے مقابلے کے لیے نہ لپکیں، اس لیے کہ خطرہ بہت بڑا ہے۔‘‘ 

اسی طرح اگر مسلمانوں کے کسی علاقے پر حملہ ہو جائے اور وہاں کے لوگ مدافعت کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس علاقے کو خالی کر دینا اور نقل مکانی کر کے دوسری جگہ چلے جانا بھی بالکل درست ہے:

وفی تجنیس خواہر زادہ: واذا لم یکن بالمسلمین قوۃ وجاء ہم من العدو ما لا طاقۃ لہم بہ فلا باس بان ینفروا حتی یلحقوا بالمسلمین (تاتارخانیہ ۵/۲۲۳)
’’تجنیس خواہر زادہ میں ہے کہ اگر مسلمانوں کے پاس طاقت نہ ہو اور دشمن اتنی بڑی تعداد میں آ جائے کہ اس کا مقابلہ بس سے باہر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان وہاں سے منتقل ہو کر (کسی دوسرے علاقے کے) مسلمانوں کے پاس چلے جائیں۔‘‘

فقہا اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ اگر مخصوص حالات میں غیر مسلموں کے ساتھ دب کر صلح کرنا یا ان کی بعض ناگوار شرائط کو قبول کرنا مصلحت کا تقاضا ہو تو ایسا کرنا بالکل درست ہے:

★ ماوردی لکھتے ہیں کہ اگر معاہدہ صلح میں دشمن کی طرف سے یہ شرط لگائی جائے کہ ان میں سے جو شخص اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے پاس آ جائے گا، مسلمان اسے واپس بھیجنے کے پابند ہوں گے تو ان کی اس شرط کو تسلیم کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس مسلمان کی جان خطرے میں نہ ہو۔ اگر اس کی جان جانے کا خوف ہو تو پھر یہ شرط جائز نہیں۔ اسی طرح مسلمان ہو کر آنے والی خواتین کو واپس بھیجنا بھی جائز نہیں۔ (الاحکام السلطانیہ ۱/۸۶، ۸۷)

★ اگر کفار مسلم حکومت سے خراج طلب کریں اور مسلمان ان کے ساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو فقہا خراج کی ادائیگی کو نہ صرف جائز بتاتے ہیں بلکہ اس کو بہتر قرار دیتے ہوئے اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مال ادا کر کے مسلمانوں کی جانوں او رمالوں کو محفوظ کر لینا بہتر ہے، کیونکہ دوسری صورت میں نفوس واموال کا زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ 

★  اگر کسی موقع پر مصلحت اس بات میں ہو کہ مسلمان اپنا کوئی علاقہ یا قلعہ خالی کر کے کافر حملہ آوروں کے حوالے کر دیں تو ایسا کرنا درست ہے اور اس ضمن میں ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پابندی لازم ہوگی۔ سرخسی لکھتے ہیں:

ولو ان اہل المدینۃ الذین احاط بہم المشرکون قالوا لہم نخرج عنکم بنسائنا وذراینا ونسلم لکم المدینۃ وما فیہا فخرجوا علی ہذا او لم یخرجوا او خرج بعضہم ثم راوا عورۃ للمشرکین فلا باس بان یغیروا علیہم ویقاتلوہم من غیر نبذ ..... اذا تمکنوا من ذلک ولو قالوا نصالحکم علی ان نخرج عنکم والمسالۃ بحالہا فلیس لہم ان یقاتلوہم حتی ینبذوا الیہم (سرخسی، ۵/۱۷۱۹، ۱۷۲۰)
’’اگر کفار کسی شہر کا محاصرہ کر لیں اور اہل شہر ان سے یہ کہیں کہ ہم اپنے اہل وعیال کو یہاں سے نکال کر شہر اور اس میں موجود مال ومتاع کو تمہارے سپرد کر دیتے ہیں (تو ایسا کرنا درست ہے، البتہ اس صورت میں) اگر انھیں شہر سے نکلنے سے پہلے یا مکمل یا جزوی طور پر نکلنے کے بعد دشمن کو زک پہنچانے کا موقع ملے تو وہ دشمن کو اپنے ارادے میں تبدیلی کی اطلاع دیے بغیر اس پر حملہ کر کے اس سے جنگ کر سکتے ہیں۔ ہاں، اگر انھوں نے اس شرط پر صلح کا باقاعدہ معاہدہ کیا ہو کہ ہم یہاں سے نکل جائیں گے تو اب (معاہدے کی پابندی لازم ہوگی اور) معاہدہ توڑنے کا باقاعدہ اعلان کیے بغیر وہ ان سے جنگ نہیں کر سکتے۔‘‘

★  اگر دار الحرب میں کسی شہر کے باشندے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیں تو فقہا کے نزدیک اس شہر کو ’دار الاسلام‘ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب اگر کفار حملہ کر کے ان کو اس شہر سے بے دخل کر دیں، لیکن پھر دوبارہ انھیں اس میں بسنے کی اجازت دے دیں تو مسلمانوں کو اختیار ہے کہ چاہیں تو اس میں مقیم رہیں اور چاہیں تو اس کو چھوڑ کر دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جائیں۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۲۴۹۔۲۵۱) اس جزئیے کے مضمرات کو کھولیے تو واضح ہوگا کہ ’دار الاسلام‘ قرار پانے والے اس شہر کے مسلمانوں کے لیے نہ ابتداءً ا یہ لازم ہے کہ وہ اس پر اپنا قبضہ قائم رکھیں، نہ کفار کی طرف سے بے دخل کیے جانے کے بعد یہ ضروری ہے کہ وہ دوبارہ اس پر کنٹرول حاصل کریں اور نہ شہر میں سکونت کا حق دوبارہ ملنے کے بعد ہی یہ لازم ہے کہ وہ لازماً اس میں اقامت اختیار کریں، بلکہ ان تینوں صورتوں میں انھیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس شہر کو کفار کے حوالے کر کے دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جائیں۔ 

★  اگر دار الحرب کے اندر کسی ایسے علاقے کے لوگ اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیں جو جغرافیائی لحاظ سے دار الاسلام سے کٹا ہوا ہو اور اس کا دفاع ممکن نہ ہو تو فقہا کے نزدیک نہ صرف یہ کہ اس پر قبضے کو برقرار رکھنا ضروری نہیں، بلکہ وہ اس بات کو بہتر قرار دیتے ہیں کہ وہاں کے لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جائیں۔ اور اگر اس شہر کے باشندے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کے بجائے وہیں رہنے کا فیصلہ کر لیں تو فقہا اس کو سوء اختیار قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دارالاسلام کے کسی شہری کو اس کی رضامندی کے بغیر وہاں نہ چھوڑا جائے کیونکہ وہاں رہنے سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۵/۲۱۹۰، ۲۱۹۱) 

مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ فقہا کے نزدیک جہاد کسی اندھا دھند اور نتائج وعواقب سے بے پروا ہو کر کیے جانے والے جذباتی اقدام کا عنوان نہیں۔ وہ اصولی طور پر قتال کی ذمہ داری عائد ہونے سے لے کر میدان جنگ کی تدابیر اور دشمن کے ساتھ معاہدے کی شرائط تک، ہر معاملے میں اس بنیادی نکتے کا لحاظ رکھنے کو ضروری قرار دیتے ہیں کہ مسلمان دشمن سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ان کے اقدام کے نتیجے میں کامیابی کا امکان غالب دکھائی دیتا ہو ، جبکہ اگر مسلمانوں کی جان ومال کی قربانی رائیگاں جانے کا خدشہ ہو تو فقہا کے نزدیک نہ صرف یہ کہ ایسی صورت میں جہاد وقتال کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی بلکہ وہ خطرہ مول نہ لینے کو زیادہ بہتر حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

ذمہ داری قبول کرنے میں مختلف گروہوں کا اجتہادی اختیار

سورۂ انفال میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَلاَیَتِہِمْ مِّنْ شَیْْءٍ حَتَّی یُہَاجِرُوْا وَإِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْْکُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَی قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ (آیت ۷۲)
’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی، تم پر ان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ہجرت نہ کر لیں۔ اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا تم پر لازم ہے، البتہ کسی ایسی قوم کے خلاف ان کی مدد نہیں کر سکتے جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہے۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، دیکھ رہا ہے۔‘‘

یہاں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کچھ افراد دار الکفر میں مقیم ہوں اور اہل کفرکے ظلم وستم کا شکار ہوں تو ان کی امداد دو باتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے دار الاسلام کے باسیوں پر فرض ہے: ایک یہ کہ وہ ان سے دین کے معاملے میں مدد کے طالب ہوں اور دوسری یہ کہ کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کامعاہدہ نہ ہو۔ یہ دونوں قیدیں بے حد اہم ہیں۔ ان میں سے پہلی قید یہ واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی، اہل کفر کے نظم اجتماعی کے تحت زندگی بسر کرنے والے مسلمانوں کو ظلم وستم سے بچانے کا فیصلہ ان کی نصرت اور ہمدردی کے جذبے سے ازخود نہیں بلکہ مظلوم فریق کی طرف سے مدد طلب کیے جانے پر ہی کرے گا۔ یہ ایک بے حد حکیمانہ ہدایت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظلوم فریق صبر اور تحمل کے ساتھ اپنے حالات کا مقابلہ خود کرنا چاہتا اور اپنے لیے داخلی سطح پر کوئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے یا کسی وجہ سے بیرونی مداخلت کو قرین مصلحت نہیں سمجھتا یا مسلمانوں کے جس گروہ سے مدد کی توقع کی جا سکتی ہے، اس سے مدد لینے کو مناسب نہیں سمجھتا یا قومی اور قبائلی عصبیت کے زیر اثر اپنی قوم کے حق خوداختیاری کو زیادہ قابل ترجیح سمجھتا ہے تو اسے اس کا فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے جسے نظر انداز کرتے ہوئے اسے ظلم وستم سے بچانے کی کوئی ذمہ داری قرآن مجید مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر عائد نہیں کرنا چاہتا۔ 

دوسری قید یہ واضح کرتی ہے کہ خود حفاظتی کے دائرے سے باہر اس اختیار کا توسیعی استعمال دنیا میں بسنے والی مختلف قوموں کے باہمی تعلقات اور بین الاقوامی معاہدات کالحاظ رکھتے ہوئے ہی کیا جائے گا۔ یہ ہدایت اس تناظر میں بطور خاص قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید نے سورۂ انفال کی آیت ؟؟ میں یہ اجازت دی ہے کہ اگر مسلمانوں کو اپنے ساتھ معاہدہ کرنے والا کسی غیر مسلم گروہ سے بد عہدی کا خدشہ بھی ہو تو اس کے ساتھ معاہد ہ توڑا جا سکتا ہے، جبکہ یہاں دار الکفر کے مسلمانوں کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان پر بالفعل ظلم ہو رہا ہو اور وہ مسلمانوں سے مدد کے طالب ہوں، تب بھی معاہدے کی پاس داری کی جائے گی اور مظلوموں کی مدد کے لیے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ اس سے واضح ہے کہ قرآن اس صورت میں معاہدہ ختم کر کے مدد کے طالب مسلمانوں کی مدد کو کم از کم لازم ہرگز قرار نہیں دے رہا۔

مذکورہ آیت کی تشریح میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے ’تفہیم القرآن‘ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ قابل ملاحظہ ہے۔ فرماتے ہیں:

’’یہ آیت اسلامی حکومت کی خارجی سیاست پر بھی بڑا اثر ڈالتی ہے۔ اس کی رو سے دولت اسلامیہ کی ذمہ داری ان مسلمانوں تک محدود ہے جو اس کی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ باہر کے مسلمانوں کے لیے کسی ذمہ داری کا بار اس کے سر نہیں ہے۔ یہی وہ بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی ہے کہ انا برئ من کل مسلم بین ظہرانی المشرکین۔ ’’میں کسی ایسے مسلمان کی حمایت وحفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔‘‘ اس طرح اسلامی قانون نے اس جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے جو بالعموم بین الاقوامی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے، کیونکہ جب کوئی حکومت اپنے حدود سے باہر رہنے والی بعض اقلیتوں کا ذمہ اپنے سر لے لیتی ہے تو اس کی وجہ سے ایسی الجھنیں پڑ جاتی ہیں جن کو بار بار کی لڑائیاں بھی نہیں سلجھا سکتیں۔ ..... ان دینی بھائیوں کی مدد کا فریضہ اندھا دھند انجام نہیں دیا جائے گا بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اخلاقی حدود کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جا سکے گا۔ اگر ظلم کرنے والی قوم سے دار الاسلام کے معاہدانہ تعلقات ہوں تو اس صورت میں مظلوم مسلمانوں کی کوئی ایسی مدد نہیں کی جا سکے گی جو ان تعلقات کی اخلاقی ذمہ داریوں کے خلاف پڑتی ہو۔‘‘ (تفہیم القرآن ۲/۱۶۱، ۱۶۲)

قرآن مجید نے دوسری جگہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر اسلام کا دعویٰ کرنے والا کوئی گروہ کفار کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ نہ دے سکے بلکہ اپنی ایمانی واخلاقی کمزوری کی وجہ سے یا اپنی قبائلی اور سیاسی مجبوریوں کے تحت خود مسلمانوں ہی کے خلاف میدان جنگ میں اتر آئے تو اس کی اس مجبوری کی بھی رعایت کی جائے اور اگر وہ میدان میں آنے کے باوجود عملاً مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہ کرنا چاہے تو ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ چنانچہ سورۂ نساء کی آیات ۸۸ تا ۹۱ میں اللہ تعالیٰ نے عہد نبوی میں مختلف مشرک قبائل سے تعلق رکھنے والے ان کمزور مسلمانوں سے متعلق ہدایات بیان کی ہیں جو زبان سے تو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس کے عملی تقاضے پورے کرنے اور ہجرت کر کے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جانے کا حوصلہ نہیں رکھتے، بلکہ موقع پرستی کی نفسیات اور حالات کے دباؤ کے تحت مسلمانوں کے خلاف فتنہ وفساد برپا کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان میں سے جو گروہ تو فتنہ وفساد میں عملاً ملوث ہوں، انھیں بے دریغ قتل کیا جائے، لیکن اگر ایمان لا کر ہجرت نہ کرنے والے ایسے گروہ کا تعلق کسی معاہد قوم سے ہے تو اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ اپنی قوم کے دباؤ کے تحت مسلمانوں کے خلاف میدان جنگ میں تو آ گیا ہے لیکن وہ مسلمانوں یا اپنی قوم میں سے کسی کے ساتھ بھی لڑنے کی ہمت نہ پا کر لڑائی سے الگ تھلگ رہنا چاہتا ہے تو اس کے خلاف بھی کوئی جنگی اقدام جائز نہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

إِلاَّ الَّذِیْنَ یَصِلُونَ إِلیٰ قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ أَوْ جَآء وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُورُہُمْ أَنْ یُقَاتِلُوْکُمْ أَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَہُمْ وَلَوْ شَاءَ اللّٰہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْْکُمْ فَلَقَاتَلُوْکُمْ فَإِنِ اعْتَزَلُوْکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ وَأَلْقَوْْ إِلَیْْکُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْْہِمْ سَبِیْلاً (النساء ۹۰)
’’ہاں، وہ (کمزور) مسلمان جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہے یا وہ اس حال میں تمھارے مقابلے میں آ گئے ہوں کہ اپنے دلوں میں نہ تو تمھارے خلاف لڑنے کرنے کا حوصلہ پاتے ہوں اور (تمھارے ساتھ مل کر) اپنی قوم کے خلاف (تو ایسے لوگوں کے خلاف جنگ نہ کرو)۔ اگر اللہ چاہتا تو انھیں تم پر مسلط کر دیتا اور وہ تمھارے ساتھ لڑتے۔ پس اگر وہ تم سے الگ رہیں اور تمھارے ساتھ لڑائی نہ کریں اور تمھیں صلح کا پیغام دیں تو اللہ نے تمھیں ان کے خلاف اقدام کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔‘‘

اسلوب بیان سے صاف واضح ہے کہ اگرچہ ان گروہوں کا ہجرت نہ کرنا ان کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے، لیکن جب تک وہ مسلمانوں کی جماعت میں باقاعدہ شامل نہ ہو جائیں اور حقوق وفرائض کی ادائیگی کا باقاعدہ معاہدہ نہ کر لیں، قرآن نہ صرف یہ کہ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی حمایت کرنے یا ان کا ساتھ دینے کی کوئی ذمہ داری ان پر عائد نہیں کرتا، بلکہ خود مسلمانوں کے خلاف مجبوراً میدان جنگ میں اتر آنے کی صورت میں بھی ان کی مجبوریوں کا لحاظ رکھنے کو لازم قرار دیتا ہے۔ 

ہجرت مدینہ کے بعد فتح مکہ تک کا زمانہ کفر اور اسلام کی کشمکش کا جاں گسل مرحلہ تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے جزیرۂ عرب میں اسلام کے غلبے کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، اس کی تکمیل کا سارا دار ومدار اس کشمکش میں قریش کی شکست اور مکہ مکرمہ کی فتح پر تھا، لیکن اس کے باوجود آپ نے مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے علاوہ عرب کے مختلف علاقوں اور اطراف میں بسنے والے مسلمان افراد یا گروہوں میں سے کسی پر بھی اس جہاد میں شریک ہونے یا اس میں مسلمانوں کی مدد کرنے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی، حتیٰ کہ خود مدینہ میں موجود مسلمان گروہوں پر بھی اس سے زیادہ کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی جو کسی گروہ نے ازخود اپنے لیے قبول کی تھی۔ 

۱۲ ہجری میں دوسری بیعت عقبہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ تشریف لے آئیں تو انصار آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کریں گے۔ آپ نے فرمایا:

ابایعکم علی ان تمنعونی مما تمنعون منہ نساء کم وابناء کم (ابن ہشام، ۱/۴۰۲)
’’میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم جس طرح اپنی عورتوں اور بچوں کا دفاع کرتے ہو، میرا بھی کرو گے۔‘‘

جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو اس موقع پر آپ نے مدینہ کے انصار اور ان کے معاہد یہود کے ساتھ جو معاہدہ کیا، اس میں بھی یہ طے کیا گیا کہ:

ان بینہم النصر علی من دہم یثرب (ابن ہشام، ۱/۴۵۴)
’’مدینہ پر حملہ آور ہونے والے دشمن کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرنا فریقین پر لازم ہوگا۔‘‘

اس بیعت اور معاہد ے کی رو سے انصار کی ذمہ داری محض مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت تک محدود تھی، جبکہ مدینہ کے باہر کیے جانے والے عسکری اقدامات کے لیے وہ مسؤل نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ غزوۂ بدر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تجارتی قافلوں سے تعرض کے لیے جو سریے بھیجے، وہ سب کے سب مہاجرین پر مشتمل تھے اور ان میں انصار کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر ۲ ہجری میں سریہ عبیدہ بن الحارث کے بارے میں ابن اسحاق کی تصریح ہے کہ اس میں تمام مجاہدین مہاجر تھے، جبکہ انصارمیں سے ایک بھی شخص شامل نہیں تھا۔ (ابن ہشام، ۱/۵۲۴) سریہ حمزہ اور سریہ عبد اللہ بن جحش کے بارے میں بھی ابن اسحاق کا یہی بیان ہے۔ (ابن ہشام، ۱/۵۲۸۔ ابن ہشام، ۱/۵۳۳)

اس کے بعد ۲ ہجری میں آپ کو قریش کے ایک تجارتی قافلے کے بارے میں معلوم ہوا جو شام کی طرف سے آ رہا تھا تو آپ نے صحابہ کو یہ کہہ کر نکلنے کی ترغیب دی کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ قریش کے اس قافلے کو مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگا دے (ابن ہشام، ۱/۵۳۷) لیکن وادی ذفران میں پہنچ کر آپ کو معلوم ہوا کہ مکہ سے قریش کا لشکر بھی اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے نکل پڑا ہے اور جنگ وپیکار کی نوبت آ سکتی ہے تو آپ نے اس موقع پر صحابہ کی راے معلوم کی۔ مہاجرین میں سے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا مقداد بن اسود نے کھڑے ہو کر جنگ میں آپ کے ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے بعد آپ نے جنگ کے بارے میں خاص طور پر انصار کی راے معلوم کرنا چاہی۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں:

ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشیروا علی ایہا الناس وانما یرید الانصار وذلک انہم عدد الناس وانہم حین بایعوہ العقبۃ قالوا یا رسول اللہ انا براء من ذمامک حتی تصل الی دیارنا فاذا وصلت الینا فانت فی ذمتنا نمنعک مما نمنع منہ ابناء نا ونساء نا فکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتخوف الا تکون الانصار تری علیہا نصرہ الا ممن دہمہ بالمدینۃ من عدوہ وان لیس علیہم ان یسیر بہم الی عدو من بلادہم (ابن ہشام، ۱/۵۴۴)
’’پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو، مجھے مشورہ دو۔ آپ کا روے سخن انصار کی طرف تھا، کیونکہ تعداد میں وہی زیادہ تھے اور جب انھوں نے بیعت عقبہ کی تھی تو یہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ، جب تک آپ ہمارے علاقے میں نہیں پہنچ جاتے، آپ کی (حفاظت کی) کوئی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوگی۔ ہاں، جب آپ ہمارے پاس آ جائیں گے تو آپ کی حفاظت ہمارے ذمے ہوگی۔ ہم اسی طرح آپ کی حفاظت کریں گے جیسے اپنے عورتوں اور بچوں کی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ کھٹک تھی کہ انصار مدینہ منورہ میں حملہ آور ہونے والے دشمن کے علاوہ (مدینہ سے باہر) کفار کے مقابلے میں آپ کی مدد کرنے کو اپنے اوپر لازم نہیں سمجھتے اور نہ (معاہدے کی رو سے) اس بات کو اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں لے کر دشمن کے علاقے میں جائیں۔‘‘

مذکورہ واقعے سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ جنگ کے معاملے میں بھی، جو ان کی قوت اور طاقت کو توڑ کر بیت اللہ کو ان کے قبضے سے آزاد کرانے اور جزیرۂ عرب میں دین توحید کو غالب کرنے کے نبوی مشن کی تکمیل کے تناظر میں بنیادی اہمیت کا حامل معاملہ تھا، انصار کو فریضہ جہاد کا مکلف نہیں ٹھہرایا، بلکہ چونکہ وہ اپنی بیعت کی رو سے اصلاً مدینہ منورہ کی حد تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور دفاع کے ذمہ دار تھے، اس لیے اس سے باہر جنگ کے لیے ان کی رضامندی کا یقین حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ جب اس نہایت اہم اور نازک معاملے میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو ان کے عہد ومیثاق کے دائرے سے باہر، فریضہ جہاد کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا تو یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ شارع کے نزدیک اس فریضے کی حیثیت نماز اور روزے جیسے احکام کی نہیں ہے جو ہر حال میں مسلمانوں پر فرض ہوں، بلکہ وہ اس بات کی گنجایش کو تسلیم کرتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ کسی مخصوص صورت حال میں اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اپنے حالات اور استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے ہی اپنی ذمہ داری کا دائرہ متعین کرے اور پھر جس حد تک وہ اس ذمہ داری کو قبول کر لے، اس سے آگے اسے اس معاملے میں ماخوذ نہ ٹھہرایا جائے، الا یہ کہ وہ خود اس پر رضامند ہو۔

اب آئیے، اس ضمن میں فقہا کے نقطہ نظر کا جائزہ لیتے ہیں۔ اوپر ہم مستند فقہی عبارات کی روشنی میں واضح کر چکے ہیں کہ فقہا کسی بھی صورت حال میں جہاد کی فرضیت کے معاملے میں مسلمانوں کی قوت واستعداد اور جنگ میں کامیابی کے امکانات کے سوال کو نظر انداز نہیں کرتے، چنانچہ وہ نہ صرف یہ کہ دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کی مدد کے لیے اس شرط کا لحاظ رکھتے ہیں، بلکہ اگر دشمن خود ان کے علاقے پر حملہ آور ہو کر ان کے اموال اور عورتوں اور بچوں پر قبضہ کر لے تو انھیں ان کے قبضے سے چھڑانے کے لیے بھی اسی صورت میں لڑائی کو فرض قرار دیتے ہیں جب مسلمانوں کے پاس اس کی طاقت ہو اور جنگ کے نتیجہ خیز اور کامیاب ہونے کا امکان انھیں غالب دکھائی دیتا ہو۔ یہاں ہم ا س ضمن میں سرخسی کی ’شرح السیر الکبیر‘ سے ایک نہایت واضح اور فیصلہ کن تصریح نقل کرنا چاہیں گے جو اس بحث میں فقہا کے نقطہ نظر کو غیرمبہم طریقے سے واضح کر دیتی ہے۔ 

سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کے لشکر کے حملے کے نتیجے میں دار الحرب کے اندر کسی علاقے کے لوگ مسلمان ہو جائیں اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا ’دار الاسلام‘ قائم ہو جائے جو جغرافیائی لحاظ سے دار الاسلام سے کٹا ہوا ہو اور چاروں اطراف سے دشمن کے درمیان گھرا ہوا ہونے کی وجہ سے اس کا دفاع ممکن نہ ہو تو مسلمانوں کا اس علاقے پر قبضے کو برقرار رکھنا ضروری بلکہ مناسب بھی نہیں۔ سرخسی اس طرح کے فیصلے کو ’سوء اختیار‘ قرار دیتے ہوئے اس بات کو بہتر قرار دیتے ہیں کہ مسلمان اس کو چھوڑ کر دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جائیں۔ تاہم وہ مزید واضح کرتے ہیں کہ اگر اس علاقے کے مقامی مسلمان باشندے وہیں رہنے کو ترجیح دیں جبکہ دار الاسلام سے آئے ہوئے لشکر کی راے میں ایسا کرنے خطرے سے خالی نہ ہو تو امیر لشکر کو چاہیے کہ وہ مقامی باشندوں کو اپنے فیصلے کے نتائج کا خود ہی سامنا کرنے دے اور اپنے لشکر کے کسی فرد کو وہاں چھوڑ کر اس کی جان کو خطر ے میں نہ ڈالے۔ سرخسی کی اصل عبارت یہ ہے:

ولو ان جندا من المسلمین دخلوا دار الحرب وعلیہم امیر من قبل الخلیفۃ فدخلوا دار الحرب وخلفوا مدائن کثیرۃ من مدائن المشرکین فنزلوا علی مدینۃ من مدائنہم فدعاہم المسلمون الی الاسلام فاجابوہم الیہ فان المسلمین یقبلون ذلک منہم اذا اسلموا لان القتال انما شرع لقبول الاسلام قال اللہ تعالیٰ ’’تقاتلونہم او یسلمون‘‘ فاذا اسلموا یجب القبول منہم ثم الامیر یدعہم فی ارضہم ویستعمل علیہم امیرا من المسلمین یحکم بحکم اہل الاسلام لان المدینۃ صارت دار الاسلام فلا بد من امیر بینہم یجری فیہم حکم المسلمین فان کان القوم اذا انصرف عنہم ذلک الجند من المسلمین لم یقدروا علی ان یمتنعوا من اہل الحرب وابوا ان یتحولوا الی دار الاسلام فان الامیر یدعہم وما اختاروا لانفسہم لانہم اساء وا فی الاختیار فیترکہم وسوء اختیارہم ولا یجبرون علی التحویل لانہم احرار مسلمون فی مدینۃ الاسلام فلا یجبرون علی التحویل ولا یدع عندہم احدا من المسلمین مخافۃ علیہ الا تطیب نفسہ لان فیہ تعریضا علی التلف ولا یجوز تعریضہ علی التلف الا برضاہ (شرح السیر الکبیر، ۵/۲۱۹۰، ۲۱۹۱) 
’’اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دار الحرب میں داخل ہو جائے اور خلیفہ کی طرف سے ان پر کسی کو امیر بھی مقرر کیا گیا ہو اور یہ لشکر کفار کے بہت سے شہروں کو چھوڑ کر گزر جائے اور کسی شہر پر حملہ کر کے وہاں کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دے جسے وہ قبول کر لیں تو مسلمانوں کے لشکر کو ان کا اسلام لانا قبول کرنا ہوگا، کیونکہ جنگ کا حکم اسی لیے دیا گیا ہے کہ کفار اسلام لے آئیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔ اس کے بعد امیر لشکر ان کو انھی کے شہر میں رہنے دے اور ان پر ایک مسلمان حاکم مقرر کر دے جو ان پر اسلامی احکام کے مطابق فیصلے کرے، کیونکہ یہ شہر اب دار الاسلام بن گیا ہے اور اس کا ایک ایسا حاکم ہونا ضروری ہے جو اسلامی احکام کے مطابق فیصلے کرے۔ پھر اگر اس بات کاخدشہ ہو کہ لشکر کے چلے جانے کے بعد وہ لوگ اہل حرب سے اپنے دفاع پر قادر نہیں ہوں گے (تو امیر لشکر انھیں دار الاسلام کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دے) اور اگر وہ دار الاسلام کی طرف منتقل ہونے پر آمادہ نہ ہوں تو امیر لشکر انھیں اپنے اختیار پر عمل کرنے کی اجازت دے دے، کیونکہ انھوں نے خود اپنے حق میں ایک غلط فیصلہ کیا، چنانچہ وہ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دے اور دار الاسلام کی طرف منتقل ہونے پر مجبور نہ کرے، کیونکہ وہ آزاد مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ایک شہرمیں رہ رہے ہیں، چنانچہ انھیں وہاں سے منتقل ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس صورت میں وہ (دار الاسلام سے آنے والے) مسلمانوں میں سے کسی کو ان کے پاس ٹھہرنے پر مجبور نہ کرے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ جان کو لاحق خطرے کی وجہ سے اس پر راضی نہ ہو، اور کسی کی رضامندی کے بغیر اس کو خطرے میں ڈالنا جائز نہیں۔‘‘

قرآن مجید، سیرت نبوی اور فقہ اسلامی کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ مسلمانوں کے کسی گروہ کو دشمن کی جارحیت سے بچانے کے لیے ہر قسم کی صورت حال میں پوری امت مسلمہ پر جہاد کی فرضیت کا تصور علمی وعقلی اعتبار سے ایک بے بنیاد تصور ہے۔ دین وشریعت اور عقل عام کی رو سے جہاد کی ذمہ داری ادا کرنا بہت سے اسباب وعوامل کے مہیا ہونے اور بہت سے نظری وعملی مصالح کی رعایت پر موقوف ہے۔ یہ ایک اجتہادی معاملہ ہے جس میں مسلمانوں کے مختلف گروہ یا نظم ہاے حکومت معروضی حالات کی روشنی میں اپنے اپنے مصالح کے پیش نظر کسی مظلوم گروہ کی عملاً نصرت کرنے یا اس کے برعکس، اس معاملے سے الگ رہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ عملی حالات، کامیابی یا ناکامی کے امکانات، قوت وطاقت کے تناسب اور اس طرح کے دوسرے امور کو نظر انداز کر کے ہر صورت حال میں جہاد کو فرض قرار دینا اور اس طرح ایک اجتہادی معاملے کو قطعی اور منصوص حکم کا درجہ دے دینا محض ایک جذباتی رویہ ہے جس کا قرآن وسنت اور فقہ اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلامی ریاست میں اقدام جہاد کا حق 

فقہ اسلامی میں جہاد وقتال کا ذکر مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں کے ضمن میں کیا گیا اور اسی بنا پر یہ قرار دیا گیا ہے کہ اس سے متعلق امور میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کااختیار مسلمانوں کے ارباب حل وعقد کو حاصل ہے۔ کم وبیش تمام فقہی کتابوں میں اسلامی شریعت کے اس اصول کو ’امر الجہاد موکول الی الامام‘ (جہاد کا معاملہ ارباب حل وعقد کے سپرد ہے) یا اس کے ہم معنی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ فقہا کا بیان کردہ یہ اصول انسانی عقل اور تجربہ ومشاہدہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی پر مبنی ہے۔ انسانی معاشرت تعاون وتناصر اور امداد باہمی کے اصول پر قائم ہے۔ انسانی معاشرت کی ساخت، اس کے گوناگوں مظاہر اور اس کی تشکیل میں کارفرما نفسیاتی، حیاتیاتی اور سماجی اسباب وعوامل پر نظر رکھنے والا ہر شخص اس بات سے واقف ہے کہ اس کی ابتدا افراد کی احتیاج باہمی سے ہوتی ہے جو انسانی تعلقات کو نشو ونما اور ارتقا کے مختلف مراحل سے گزار کر بتدریج اس مقام پر لے آتی ہے جہاں ریاست کی صورت میں ایک ’معاہدۂ عمرانی‘ کا وجود میں آنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس ’معاہدۂ عمرانی‘ کی اساسات کو منطقی مقدمات کی صورت میں ترتیب دیجیے تو وہ تین ہیں:

پہلا یہ کہ انسان چونکہ اپنی متنوع اور مختلف احتیاجات کی تکمیل اپنی انفرادی سطح پر نہیں کر سکتا، لہٰذا ان احتیاجات اور تقاضوں کی تکمیل کے لیے وہ ایک ’معاشرہ‘ تشکیل دیتا ہے۔ بنی نوع انسان نے اپنی نسل کی بقا، اس کی نشوونما اور ارتقا، اپنی انفرادی واجتماعی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے اور اپنی نفسی ومادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے معاشرہ واجتماع کے قیام کو اپنی فطرت کی روشنی میں ہمیشہ ناگزیر سمجھا ہے۔ قرون اولیٰ کے قبائلی نظاموں سے لے کر ازمنہ وسطیٰ کی ریاستوں اور بادشاہتوں اور دور جدید کے عالمی سیاسی ومعاشی نظاموں تک جس قدر بھی ارتقا وقوع پزیر ہوا ہے، اس کے پیچھے احتیاج باہمی کا یہی اصول کار فرما ہے۔ 

دوسرا یہ کہ معاشرہ اپنی نوعیت اور کردار ہی کے لحاظ سے حقوق وفرائض کی تقسیم اور ان کی نگہبانی کے لیے ایک نظم اجتماعی کا تقاضا کرتا ہے جو معاشرت کے تسلسل اور اس کے تحفظ کا ضامن ہو۔ انسان ذمہ داریوں کی تقسیم کے اصول سے فطری طور پر آشنا ہے، اور اس نے اس اصول کو جہاں محدود اور چھوٹی معاشرتی سطحوں پر برتا ہے، اسی طرح وسیع تر پیمانے پر بھی اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ مشترک گروہی مفادات کی دیکھ بھال اور اجتماعی امور کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری اپنے میں سے اہل اور قابل لوگوں کو سونپ دے جو معاشرے کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کو انجام دیں۔ انسانی بود وباش نے جیسے ہی ایک معاشرے کی صورت میں ڈھلنا شروع کیا اور افراد کے باہمی تعلقات ومعاملات ایک محدود دائرے سے اٹھ کر ایک وسیع تر سطح پر انجام پانا شروع ہوئے، حقوق وفرائض کی تقسیم، افراد پر قوانین وضوابط کی حد بندیاں لگانے، اور ان کی نگہبانی کے لیے ایک اجتماعی نظم قائم کرنے کی ضرورت سامنے آ گئی اور افراد نے خود اپنی ہی مصلحت اور سہولت کے پیش نظر اپنے اندر میں سے چند افراد کو ایک بالاتر اتھارٹی تسلیم کر لیا۔ 

تیسرا یہ کہ نظم اجتماعی اپنے قیام اور تسلسل کے لیے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ افراد اپنی بنیادی ضرورتوں اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کچھ آزادیوں اور اختیارات سے دست بردار ہو جائیں۔ چونکہ ایک اجتماعی نظام افراد کی ان ضروریات اور حقوق کی دیکھ بھال اور تحفظ کا ضامن ہوتا ہے جو اس نظام کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتیں، اس لیے اس اصلح وانفع نظام کو برقرار رکھنے کے لیے افراد کو اپنی ایسی آزادیوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے جن کااستعمال اس اجتماعی نظام کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا اور نتیجتاً اسے درہم برہم کر سکتا ہے۔ گویا اپنی آزادیوں اور اختیارات کے ایک حصے سے دست برداری نظم اجتماعی کی طرف سے اس خدمت کی ایک لازمی قیمت ہے جو وہ افراد معاشرہ کے تحفظ اور اس کے انتظام وانصرام کی صورت میں انجام دیتا ہے۔ 

اس تقسیم کار سے چند بنیادی فائدے حاصل ہوتے ہیں: ایک یہ کہ معاملات وامور کو الل ٹپ طریقے سے انجام دینے کے بجائے انھیں اہلیت اور صلاحیت اور اجتماعی فراست کے ساتھ انجام دینے کا بندو بست ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ معاملات کے فیصلے کو انفرادی ہاتھوں میں چھوڑنے اور افراد کی خواہشات وتعصبات کے رحم وکرم پر چھوڑنے سے جس انتشار، بد نظمی اور فسادکا رونما ہونا یقینی ہے، اس کا سدباب ہو جاتا ہے اور ایک با اختیار قوت حاکمہ ان سب غیر فطری تجاوزات سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل اور قوت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ تیسرے یہ کہ نظم اجتماعی اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والے تمام افراد اور گروہوں کو ایک وحدت کی صورت دے کر دوسرے نظم ہاے اجتماعی کے ساتھ تعامل پر قادر ہو جاتا ہے۔ یہ نظم اجتماعی کا خارجی کردار ہے، اور ایک سیاسی نظام کے تحت رہنے والے طبقات اور گروہ اپنے نظم اجتماعی ہی کے توسط سے دنیا کے دوسرے نظاموں کے ساتھ معاملات کرتے ہیں۔ 

فطرت کی راہنمائی اور عقل وتجربہ کی روشنی پر مبنی یہ وہ حکیمانہ انتظام ہے جو انسان نے کم وبیش ہر دور میں اختیار کیا اور جسے بالعموم نسل انسانی کے عقلا وحکما کی تائید حاصل رہی ہے۔ جنگ کے لیے حکومت واقتدار کی شرط اگر غور کیجیے تو اسی اصول کا ایک لازمی تقاضا ہے جس کو دنیا کے مہذب اور متمدن معاشرے، کم از کم نظری طور پر، تسلیم کرتے ہیں۔ جنگ، جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے، دو افراد کے مابین نہیں، بلکہ دو گروہوں کے مابین ہوتی ہے۔ اس کا محرک بھی گروہی ہوتا ہے، اس کے فریق بھی دو یا دو سے زیادہ گروہ ہوتے ہیں اور اس کے تمام مراحل بھی گروہی سطح پر ہی انجام پاتے ہیں۔ چنانچہ وہ معاملات جو اصلاً افراد کے باہمی ربط سے متعلق ہیں، اگر ان میں افراد کو نظم اجتماعی کو بائی پاس کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو جن امور کا تعلق ہی اصلاً اجتماع اور معاشرہ سے ہے، ان کو بدرجہ اولیٰ نظم اجتماعی ہی سے متعلق قرار دینا چاہیے۔ یہ تقسیم کار کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نوعیت کی کچھ اجتماعی ضرورتیں اگر تشنہ تکمیل ہوں تو افراد یا گروہ اپنی نجی حیثیت میں نہ ان کی انجام دہی کے مکلف ہوتے ہیں اور نہ ان سے متعلق عقلی وشرعی ہدایات کے براہ راست مخاطب۔مثال کے طور پر یہ ایک بدیہی معاشرتی ضرورت ہے کہ لوگوں کے مابین پیدا ہونے والے تنازعات کا تصفیہ اس طریقے سے کیا جائے کہ عدل وانصاف کا بول بالا ہو ہو اور معاشرتی ارتقا کا دھارا کسی خلل کے بغیر اپنے فطری بہاؤ پر بہتا رہے۔ تاہم اس ضرورت کی تکمیل کا مکلف کوئی فرد یا کوئی گروہ نہیں بلکہ معاشرہ بحیثیت مجموعی ہے۔ چنانچہ اگر کسی جگہ پر اس ضرورت کی تکمیل کا کوئی انتظام میسر نہ ہو اور کچھ مخلص اور باہمت افراد کے دل میں اس کا داعیہ پیدا ہوجائے تو عقل و فطرت کا مطالبہ ان سے یہ نہیں ہوگا کہ وہ براہ راست لوگوں کے فیصلے کرنا شروع کر دیں، بلکہ یہ ہوگا کہ وہ معاشرے کے مختلف طبقات اور گروہوں کو اس ضرورت کا احساس دلا کر انھیں مجتمع کرنے کی کوشش کریں تاکہ تنازعات کے تصفیے کے لیے اجتماعی سطح پر ایک منظم اور با اختیار قانونی وعدالتی نظام وجود میں لایا جا سکے۔ اگر کوئی گروہ اس کے بغیر ’عدل وانصاف‘ کا بول بالا کرنے کی کوشش کرے گا تو اپنے اقدامات سے الٹا مزید فساد، انارکی اور خون ریزی کا مرتکب ہوگا۔ 

یہ تو افراد کی سطح پر ظلم وعدوان سے نمٹنے کی صورت حال ہے۔ اگر واسطہ کسی منظم گروہ کی سرکشی اور ظلم وعدوان سے ہو تو صورت حال اور زیادہ نازک ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں بیشتر اوقات جنگ اور خون ریزی کی نوبت آ پہنچتی ہے۔ جنگ اگر تو محض جذبہ انتقام کی تسکین کا ذریعہ اور انسانوں کے نفوس واموال کی اباحت بذات خود کوئی مطلوب ومقصود چیز ہو تو ظاہر ہے کہ جنگ کو کسی قاعدے اور ضابطے سے مقید کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن اگر انسانی جان ومال محترم اور ا خدا داد فطری آزادی لائق احترام چیز ہیں اور ان سے کسی ناگزیر ضرورت کے بغیر تعرض نہیں کیا جا سکتا تو پھر یہ بات شرط اولیں کی حیثیت رکھتی ہے کہ اس اباحت پر عمل کے دوران میں اخلاقی حدود قائم رہیں اور جس گروہ کے خلاف کسی اخلاقی اصول کی پامالی کی پاداش میں اقدام جنگ کیا جا رہا ہے، خود اس کے خلاف یہ اقدام بھی اخلاقیات کی قیمت پر نہیں بلکہ ان کی پاس داری کرتے ہوئے کیا جائے۔ چنانچہ انسانی علم ودانش کے سامنے یہ سوال ہمیشہ سے موجود رہا ہے کہ جس طرح جنگ کا مقصد فی الواقع ایک ایسا جائز اور مشروع مقصد ہونا چاہیے جس کی خاطر انسانوں کے جان ومال سے تعرض کیا جا سکے، اسی طرح اس مقصد کے حصول کا عملی طریقہ بھی ہر حال میں اخلاقیات کا پابند ہونا چاہیے، اور یہ بات کسی صورت میں بھی گوارا نہیں کی جانی چاہیے کہ ایک جائز مقصد کی خاطر تلوار اٹھاتے ہوئے ناگزیر خون ریزی سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تجاوز کیا جائے یا کسی بھی اخلاقی قدر کو پامال کیا جائے۔ 

اگر جنگ کسی اخلاقی اصول کے تحت اور اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے ایک متعین مقصد کے حصول کی خاطر کی جائے گی تو دو بدیہی تقاضوں کے تحت یہ ضروری ہوگا کہ جنگ کا اقدام ایک بااختیار اور منظم قوت حاکمہ ہی کے تحت کیا جائے۔ پہلا تقاضا اخلاقی حدود کی پاس داری کا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ دوران جنگ میں جوش انتقام کے تحت جنگ جوؤں کے بے قابو ہو جانے کا جو امکان یقین کے درجے میں پایا جاتا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ایک بالادست قوت موجود ہو جو زیادتیوں اور تجاوزات کی روک تھام کر سکے اور خلاف ورزی کا مرتکب ہونے والوں کو قرار واقعی سزا دے سکے۔ یہ اختیار کسی ایسے جتھے کے سربراہ کو حاصل نہیں ہوتا جو اتفاقیہ اور عارضی طور پر وجود میں آ گیا ہو اور اس کا جو فرد جب چاہے، محاسبے کے کسی خوف سے بے پروا اس سے الگ ہو جانے کی قدرت رکھتا ہو۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم حکومت کا موجود ہونا ضروری ہے جس کے تحت رعیت ایک قانونی معاہدے کی رو سے اپنے مقرر کردہ حکمران کی اطاعت کی پابند ہو اور اس کا یہ حق تسلیم کرے کہ وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر دست اندازی کا پورا پورا اختیار رکھتا ہے۔ 

دوسرا تقاضا عملی نوعیت کا ہے۔ اگر جنگ سے محض خون ریزی برپا کرنا نہیں، بلکہ سرکش گروہوں کی قوت کو توڑنے کا ہدف واقعی حاصل کرنا مقصود ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے ایک منظم اور منضبط جدوجہد درکار ہے۔ یہ تنظیم وانضباط کسی بااختیار قوت حاکمہ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا، اس لیے کہ فتح وشکست کے امکانات کے لحاظ سے جنگ کا فیصلہ کرنے سے لے کر جنگ جوؤں کے انتخاب، لشکر کی تنظیم وترتیب، محاذ جنگ کی حکمت عملی وضع کرنے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے، میدان جنگ سے حاصل ہونے والی غنیمت کے انتظام وانصرام، دشمن کے ساتھ صلح وجنگ کے معاملات طے کرنے، اور دشمن پر غلبے کی صورت میں متبادل سیاسی وقانونی نظم کو رو بہ عمل کرنے تک تمام مراحل ایسے ہیں کہ ان کی ذمہ داریوں سے ایک باقاعدہ اور منظم حکومت ہی عہدہ برآ ہو سکتی ہے۔ 

انھی وجوہ سے کسی بھی قوم کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے حکومت واقتدار کی شرط کو دنیا کے ہر اس فلسفہ جنگ میں تسلیم کیا گیا ہے جو جنگ کے حوالے سے ’اخلاقیات‘ اور ’قانون‘ کو زیر بحث لاتا ہے۔ یہ شرط نہ صرف آسمانی شریعتوں میں تسلیم کی گئی ہے بلکہ عام انسانی عقل وتجربہ کے دائرے میں غور کرنے والے ماہرین قانون بھی اسے لازمی قرار دیتے ہیں۔ قرون وسطیٰ کے مشہور مسیحی عالم تھامس ایکویناس (Thomas Acquinas) فلسفہ قانون پر اپنی شہرۂ آفاق کتاب "The Summa Theologica" میں لکھتے ہیں:

In order for a war to be just, three things are necessary. First, the authority of the sovereign by whose command the war is to be waged. For it is not the business of a private individual to declare war, because he can seek for redress of his rights from the tribunal of his superior. Moreover it is not the business of a private individual to summon together the people, which has to be done in wartime. And as the care of the common weal is committed to those who are in authority, it is their business to watch over the common weal of the city, kingdom or province subject to them. And just as it is lawful for them to have recourse to the sword in defending that common weal against internal disturbances, when they punish evil-doers, according to the words of the Apostle (Rm. 13:4): "He beareth not the sword in vain: for he is God's minister, an avenger to execute wrath upon him that doth evil"; so too, it is their business to have recourse to the sword of war in defending the common weal against external enemies. Hence it is said to those who are in authority (Ps. 81:4): "Rescue the poor: and deliver the needy out of the hand of the sinner"; and for this reason Augustine says (Contra Faust. xxii, 75): "The natural order conducive to peace among mortals demands that the power to declare and counsel war should be in the hands of those who hold the supreme authority." 
’’جنگ کے جائز ہونے کے لیے تین شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ سب سے پہلی شرط اقتدار اعلیٰ کے حامل وہ ارباب اختیار ہیں جن کے حکم سے جنگ برپا کی جائے گی، اس لیے کہ یہ کسی فرد کا کام نہیں ہے کہ وہ ذاتی طور پر جنگ کا اعلان کر دے، کیونکہ فرد اپنے حقوق کے حصول کے لیے اپنے حکمرانوں کے مقرر کردہ منصفوں کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ حق بھی کسی فرد کو حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دے، جو کہ جنگ کی حالت میں کرنا پڑتا ہے۔ اور چونکہ اجتماعی ضرورتوں کی نگہداشت کی ذمہ داری اقتدار پر فائز لوگوں پر ڈالی گئی ہے، اس لیے یہ انھی کا کام ہے کہ وہ اپنے زیر اقتدار شہر، سلطنت یا صوبے کی اجتماعی بہبود کی نگہبانی کریں۔ اور جیسے انھیں پولس رسول کے ان الفاظ کے مطابق اجتماعی بہبود کو داخلی اختلال سے محفوظ رکھنے کی خاطر بد کاروں کو سزا دینے کے لیے تلوار اٹھانے کا حق ہے، ’’وہ تلوار بے فائدہ لیے ہوئے نہیں اور خدا کا خادم ہے کہ اس کے غضب کے موافق بد کار کو سزا دیتا ہے‘‘ (رومیوں ۱۳:۴) ، اسی طرح انھیں بیرونی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی ان کے خلاف جنگ کے لیے تلوار اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ اسی لیے ارباب اقتدار سے کہا گیا ہے کہ ’’غریبوں کو نجات دلاؤ، اور محتاجوں کو گناہ گاروں کے پنجے سے چھڑاؤ‘‘ اور اسی وجہ سے آگسٹائن نے کہا ہے کہ ’’انسانوں کے مابین امن کو قائم رکھنے کے لیے موزوں اور فطری ترتیب کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ کا اعلان اور اقدام کرنے کا اختیار انھی کو حاصل ہو جنھیں لوگوں پر اقتدار اعلیٰ حاصل ہے۔‘‘

فلسفہ قانون کے مسلم اہل علم کے ہاں بھی حقوق وفرائض کی یہ تقسیم مسلم ہے، چنانچہ جب وہ ریاست وحکومت کے قیام کو مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ قرار دیتے ہیں تو اس کی دلیل ہی یہ دیتے ہیں کہ احکام شریعت کے مطابق فصل نزاعات، اقامت حدود اور کفار کے ساتھ جہاد وقتال جیسے فرائض اس کے بغیر انجام نہیں دیے جا سکتے۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

اعلم انہ یجب ان یکون فی جماعۃ المسلمین خلیفۃ لمصالح لا تتم الا بوجودہ وہی کثیرۃ جدا یجمعہا صنفان: احدہما ما یرجع الی سیاسۃ المدینۃ من ذب الجنود التی تغزوہم وتقہرہم وکف الظالم عن المظلوم وفصل القضایا وغیر ذلک .... وثانیہما ما یرجع الی الملۃ وذلک ان تنویہ دین الاسلام علی سائر الادیان لا یتصور الا بان یکون فی المسلمین خلیفۃ ینکر علی من خرج من الملۃ وارتکب ما نصت علی تحریمہ او ترک ما نصت علی افتراضہ اشد الانکار ویذل اہل سائر الادیان ویاخذ منہم الجزیۃ عن ید وہم صاغرون والا کانوا متساوین فی المرتبۃ لا یظہر فیہم رجحان احدی الفرقتین علی الاخری ولم یکن کابح یکبحہم عن عدوانہم (حجۃ اللہ البالغہ، ۲/۱۴۸)
’’جان لو کہ مسلمانوں کی جماعت میں ایک خلیفہ کا وجود ضروری ہے، کیونکہ بے شمار مصالح ایسے ہیں جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہ مصالح اصلاً دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق معاشرے کی تنظیم وتدبیر اور اس کی حفاظت سے ہے، مثلاً حملہ آور اور قاہر دشمنوں سے لوگوں کا دفاع، مظلوم کو ظالم کے شر سے بچانا اور مقدمات کا تصفیہ وغیرہ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق دینی وملی مصالح سے ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دین اسلام کی عظمت وشان کو دوسرے تمام ادیان پر ثابت کر دینا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہو جو دین سے نکلنے والوں، دین کے محرمات کا ارتکاب اور اس کے واجبات کو ترک کرنے والوں پر سخت ترین نکیر کر سکے اور تمام اہل ادیان کو مغلوب کر کے ان سے ذلت وپستی کی حالت میں جزیہ وصول کر سکے۔ اگر خلیفہ نہیں ہوگا تو تمام اہل مذہب مرتبے میں ایک دوسرے کے برابر ہوں گے، نہ اہل اسلام کسی کو دوسرے مذاہب کے مقابلے میں برتری حاصل ہوگی اور نہ ان کو مسلمانوں کے خلاف ظلم وعدوان سے روکنے والا کوئی ہوگا۔‘‘

’ازالۃ الخفاء‘ میں لکھتے ہیں:

’’خداے تعالیٰ جہاد وقضا واحیاء علوم دین واقامت ارکان اسلام ودفع کفار از حوزۂ اسلام فرض بالکفایہ گردانید وآں ہمہ بدون نصب امام صورت نگیرد ومقدمہ واجب واجب است۔‘‘ (ازالۃ الخفاء، ۱/۳)
’’اللہ تعالیٰ نے جہاد، قضا، علوم دین کے احیا، ارکان اسلام کی اقامت اور بلاد اسلام کو کفار کے حملوں سے محفوظ رکھنے کو فرض کفایہ قرار دیا ہے اور یہ تمام مقاصد حکمران کے تقرر کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے، اور واجبات جس امر پر موقوف ہوں، وہ بھی واجب ہی قرار پاتا ہے۔‘‘

جہادی تنظیموں کی حیثیت

مذکورہ بحث سے اس اہم سوال کا جواب واضح ہوتا ہے جو معاصر تناظر میں نجی سطح پر منظم ہو کر اسلامی ریاست کے حدود سے باہر عسکری کارروائیاں کرنے والی تنظیموں کے بارے میں بہت شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ فقہا کسی ابہام کے بغیر یہ قرار دیتے ہیں کہ اس قسم کا کوئی اقدام کرنے کا اختیار کسی فرد یا گروہ کو حاصل نہیں۔ یہ ارباب حل وعقد کا Prerogative ہے جسے ان کی اجازت کے بغیر ازخود استعمال کرنے والے تادیب وتعزیر کے مستحق ہیں۔ 

بعض اہل علم نے معاصر جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کے جواز کے حق میں یہ استدلال کیا ہے کہ فقہا کی تصریحات کی رو سے اگر دار الاسلام کا کوئی گروہ تصریحاً یا اشارتاً حکومت کی رضامندی سے غیر مسلموں کے علاقے میں جا کر جنگ کارروائیاں کرے تو وہ اسلامی حکومت ہی کی طرف سے سمجھی جائیں گی اور حکومت ہی ان کی ذمہ دار قرار پائے گی اور اگر ایسا کوئی گروہ اپنا کوئی امیر مقرر کر لے تو اسے وہی قانونی وشرعی اختیارات حاصل ہوں گے جو امام کی طرف سے مقرر کردہ کسی امیر کو حاصل ہوتے ہیں۔ (محمد مشتاق احمد، ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘، ص ۲۵۲)

تاہم اس فقہی جزئیے کا اصل محل یہ نہیں ہے اور اسے معاصر اسلامی ریاستوں پر منطبق کرنا درست نہیں۔ فقہا نے یہ جزئیہ کسی غیر مسلم ملک کے خلاف جنگ کا اعلان یا آغاز کرنے کے ضمن میں نہیں، بلکہ دار الحرب یعنی ایک ایسے ملک میں کارروائیاں کرنے سے متعلق لکھا ہے جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا برسر جنگ ہونا پہلے سے طے ہو۔ اس سے یہ کسی طرح اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا کوئی گروہ کسی ایسے ملک کے خلاف برسر جنگ ہونے کا فیصلہ بھی خود کر سکتا ہے جس کے ساتھ اسلامی حکومت کا معاہدہ ہو یا معاہدہ تو نہ ہو لیکن اصولی طور پر اس کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہو۔ اگر اسلامی حکومت کسی ملک کے ساتھ معاہدہ رکھتی ہے اور کوئی گروہ ازخود اس کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرتا ہے تو بدیہی طور پر اسے حکومت کا تائید یافتہ اقدام نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اگر اسلامی حکومت ایسے گروہوں کو معاونت اور امداد فراہم کرتی ہے تو یقیناًاس کی ذمہ دار وہی ہوگی، لیکن اس صورت میں ایک دوسرا اخلاقی سوال پیدا ہو جائے گا کہ آیا اسلامی حکومت نے اس سے پہلے معاہدہ ختم کرنے کی بنیادی شرط پوری کی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کی تو ارباب حل وعقد بھی گناہ گار ہیں اور جہادی تنظیموں کے شرکا بھی، اس لیے کہ اس صورت میں یہ معصیت ہے جس کا اگر حکومت کی طرف سے حکم ہو تو بھی اس کی پیروی ناجائز ہے۔

۱۹۴۸ء میں کشمیر میں مقامی سطح پر بھارت کے خلاف جنگ آزادی کا آغاز کیا گیا تو مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہما اللہ کے مابین اس نکتے پر ایک اہم اور دلچسپ بحث ہوئی کہ آیا پاکستانی حکومت مجاہدین کی عسکری اور افرادی امداد کر سکتی ہے یا نہیں۔ مولانا عثمانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا عملاً مجاہدین کو مدد فراہم کرنا گویا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ معاہدے کی پابند نہیں رہی، جبکہ مولانا مودودی کا استدلال یہ تھا کہ حکومت کا اس بات کا واضح اعلان اور اقرار نہ کرنا اور پہلے کی طرح سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم رکھنا اس امر کو تسلیم کرنے سے مانع ہے۔ بحث کے آخر میں مولانا مودودی نے یہ قرار دیا کہ چونکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے مجاہدین کشمیر کی امداد کے باوجود بھارتی حکومت نے اسے نبذ عہد کے مترادف نہیں سمجھا، اس لیے قانونی طور پر اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ صرف کشمیر کی حد تک دونوں حکومتیں امن معاہدے کی پابند نہیں رہیں، جبکہ عمومی طور پر یہ معاہدہ برقرار ہے۔ (یہ دلچسپ مراسلت ’’انوار عثمانی‘‘ مرتبہ انوار الحسن شیرکوٹی میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے)۔

مولانا کے استدلال میں یہ خامی موجود ہے کہ قرآن عملاً کوئی اقدام کرنے سے پہلے معاہدے سے براء ت کی ہدایت کرتا ہے جو کہ اس صورت میں نہیں پایا گیا۔ پھر یہ کہ وہ بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستانی حکومت کی امداد کو نقض معاہدہ کے مترادف نہ سمجھنے سے بھارتی حکومت کا کشمیر کی حد تک معاہدے کو کالعدم سمجھنا اخذ کر رہے ہیں، حالانکہ بھارتی حکومت نے اس پر یقیناًاحتجاج کیا ہوگا، جبکہ اس کا سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنا ایک سیاسی مصلحت کے تحت تھا نہ کہ کسی باقاعدہ باہمی افہام وتفہیم کا نتیجہ۔ بہرحال اس استدلال کو مان لیا جائے تو بھی وہ اس پر مبنی ہے کہ پاکستانی حکومت کا مجاہدین کی مدد کرنا علانیہ تھا اور حکومت اس کا انکار نہیں کرتی تھی۔ چنانچہ اس سے اس کا جواز اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت بظاہر تو معاہدے کی پابندی کا دم بھرتی رہے اور مجاہدین کی امداد کی ذمہ داری قبول نہ کرے، لیکن خفیہ طور پر ان کی معاونت اور امداد کا سلسلہ جاری رکھے۔ یہ صریحاً غدر اور خیانت ہوگا جس کا اخلاقی طور پر کوئی جواز تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

مسلم علاقے پر غیر مسلموں کا تسلط

اگر مسلمانوں کے کسی علاقے پر غیر مسلموں کا تسلط قائم ہو جائے تو ایسی صورت میں مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں یا دوسرے اہل اسلام کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟ یہ سوال بھی معاصر تناظر میں بے حد اہمیت کا حامل بن گیا ہے اور اسی وجہ سے عام طور پر علمی بحث ومباحثہ کا موضوع بھی بنا رہتا ہے۔ اس ضمن میں عام طور پر فقہا کا موقف یہ بتایا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں شرعی فریضہ یہ ہے کہ قریبی مسلم ریاستوں کی طرف سے مداخلت یا خود اس علاقے کے مسلمانوں کی طرف سے جدوجہد آزادی کی صورت میں کفار کے غلبے کو چیلنج کیا جائے اور قابض قوت کو ہر حال میں وہاں سے باہر نکالا جائے۔ اس سے ہٹ کر مفاہمت کا طرز عمل اختیار کرنا اور کفار کے تسلط کو قبول کر لینا شرعاً جائز نہیں اور ایسا کرنے پر ساری دنیا کے مسلمان گنہگار ہوں گے۔ ’الموسوعۃ الفقہیۃ‘ میں ہے:

اذا استولی الکفار علی بقعۃ من دار الاسلام صار الجہاد فرض عین علی جمیع افراد الناحیۃ التی استولی علیہا الکفار رجالا ونساء ا صغار وکبارا اصحاء ومرضی فاذا لم یستطع اہل الناحیۃ دفع العدو عن دار الاسلام صار الجہاد فرض عین علی من یلیہم من اہل النواحی الاخری من دار الاسلام وہکذا حتی یکون الجہاد فرض عین علی جمیع المسلمین ولا یجوز تمکین غیر المسلمین من دار الاسلام ویاثم جمیع المسلمین اذا ترکوا غیرہم یستولی علی شئ من دار الاسلام (الموسوعۃ الفقہیۃ، دار: دار الاسلام، ۲۰/۲۰۱، ۲۰۲)
’’اگر کفار دار الاسلام کے کسی علاقے پر قابض ہو جائیں تو مقبوضہ علاقے کے رہنے والے تمام افراد پر، چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں، چھوٹے یابڑے، تندرست یا بیمار، جہاد فرض عین ہو جائے گا۔ اگر اس علاقے کے لوگ دشمن کی مزاحمت پر قادر نہ ہوں تو اس علاقے سے متصل دار الاسلام کے دوسرے علاقوں پر جہاد فرض ہو جائے گا۔ اسی طرح یہ سلسلہ بڑھتے ہوئے دنیا کے تمام مسلمانوں پر جہاد کے فرض عین ہونے کی صورت اختیار کر لے گا۔ غیر مسلموں کو دارالاسلام پر قابض رہنے دینا جائز نہیں اور اگر انھیں دار الاسلام کے کسی بھی حصے پر قابض رہنے دیا گیا تو سب کے سب مسلمان گنہگار ہوں گے۔‘‘

اسی طرح یہ بات بھی عام طور پر کہی جاتی ہے کہ فقہا کے نزدیک اقدامی جہاد کے لیے تو حکومت واقتدار کی شرط عائد ہوتی ہے، لیکن اگر کفار کا قبضہ وتسلط کسی ایسے علاقے پر قائم ہو جائے جو اس سے قبل مسلمانوں کے زیر نگیں تھا تو اس کو ان کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے فقہا باقاعدہ نظم حکومت کے قیام کو ضروری نہیں سمجھتے، بلکہ ان کے نزدیک جتھہ بندی کی صورت میں نجی سطح پر بھی جنگ آزادی کا اہتمام کرنا مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں پر فرض ہے۔

ہماری رائے میں فقہا کے موقف کی مذکورہ تعبیر فقہی ذخیرے کے معروضی مطالعے پر مبنی نہیں اور اسے فقہا کے زاویہ نگاہ کی درست ترجمانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں ہم خود فقہا کی تصریحات کی روشنی میں ان کے موقف کی درست تعیین کی کوشش کریں گے۔

فقہی ذخیر ے کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ فقہا نے مسلمانوں کے ملک پر کفار کے حملے کی شکل میں چار امکانی صورتیں اور ہر امکانی صورت کے لیے الگ الگ احکام بیان کیے ہیں:

پہلا امکان یہ ہے کہ مسلمانوں کی حکومت مقابلے کے لیے پوری طرح تیار اور مستعد اور اپنی جنگی منصوبہ بندی کو روبہ عمل کرنے کی صلاحیت سے مکمل طور پر بہرہ ور ہو۔ اس صورت میں علاقے کے تمام باشندوں کے لیے لازم ہے کہ وہ جنگی خدمات پیش کرنے کے لیے حاضر رہیں اور اہل حل وعقد کی طرف سے طلب کیے جانے کی صورت میں ان کی صواب دید اور ہدایات کے مطابق اپنی مقررہ ذمہ داری کو انجام دیں۔ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

اذا جاء العدو صار الجہاد علیہم فرض عین فوجب علی الجمیع فلم یجز لاحد التخلف عنہ فاذا ثبت ہذا فانہم لا یخرجون الا باذن الامیر لان امر الحرب موکول الیہ وہو اعلم بکثرۃ العدو وقلتہم ومکامن العدو وکیدہم فینبغی ان یرجع الی رایہ لانہ احوط للمسلمین (المغنی، ۹/۱۷۴)
’’اگر دشمن حملہ آور ہو تو سب لوگوں پر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے اور کسی کے لیے بھی اس سے پیچھے رہنا جائز نہیں رہتا۔ اتنی بات تو طے ہے، تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ان کے لیے حکمران کی اجازت کے بغیر دشمن کے مقابلے میں جانا درست نہیں، اس لیے کہ جنگ کا معاملہ حکمران کے سپرد ہے اور وہ دشمن کی قلت وکثرت سے اور اس کے چھپنے کی جگہوں اور جنگی تدبیروں سے بھی با خبر ہے، اس لیے مسلمانوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ اس معاملے میں حکمران کی رائے پر اعتماد کیا جائے۔‘‘

دوسرا امکان یہ ہے کہ مسلمانوں کی حکومت دشمن کی منظم مزاحمت پر قادر نہ رہے، ملک میں بد نظمی کی کیفیت پیدا ہو جائے اور صورت حال اس قدر نازک اور سنگین ہو جائے کہ ارباب حل وعقد کی طرف رجوع کرنا بھی ممکن نہ رہے ۔ اس صورت میں سب لوگوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ارباب حل وعقد کی طرف سے ہدایات کے انتظار میں رہنے کے بجائے اپنی صواب دید اور صلاحیت کے مطابق دشمن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔ ’المغنی‘ میں ہے:

الا ان یتعذر استئذانہ لمفاجاۃ عدوہم لہم فلا یجب استئذانہ لان المصلحۃ تتعین فی قتالہم والخروج الیہ لتعین الفساد فی ترکہم (المغنی، ۹/۱۷۴)
’’اگر دشمن کے اچانک حملے کی صورت میں حکمران سے اجازت لینا ممکن نہ رہے تو پھر اس سے اجازت لینا ضروری نہیں، کیونکہ اب مصلحت اسی میں ہے کہ لوگ دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ (اس صورت میں حکمران کی اجازت کے انتظار میں) دشمن کو آگے بڑھنے کا موقع دینا نقصان کا باعث ہوگا۔‘‘

یہاں یہ نکتہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ فقہا کے نزدیک مذکورہ صورت میں مسلمانوں کی سول آبادی پر دشمن کی مزاحمت کی ذمہ داری صرف اس وقت عائد ہوتی ہے جب ان کا ظن غالب یہ ہو کہ وہ مزاحمت کر کے دشمن کی پیش قدمی کو روک سکتے ہیں۔ اگر اس کے برعکس اندیشہ ہو تو پھر مسلمانوں کے جان ومال کو بے فائدہ خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ شافعی فقیہ زکریا بن محمد بن زکریا لکھتے ہیں:

لو دخل ملک عظیم منہم طرف بلادنا لا یتسارع لدفعہ الآحاد والطوائف لما فیہ من عظم الخطر (شرح البہجۃ، زکریا بن محمد بن زکریا، ۵/۱۳۰)
’’اگر کفار کا کوئی بہت بڑا بادشاہ دار الاسلام کے کسی علاقے میں داخل ہو جائے تو اس کی مزاحمت کے لیے لوگ انفرادی طور پر یا جتھوں کی صورت میں نہ لپکیں، کیونکہ اس طریقے میں خطرہ بہت بڑا ہے۔‘‘

تیسرا امکان یہ ہے کہ مسلمانوں کے ارباب حل وعقد اور عوام، دونوں ہی اجتماعی طور پر دشمن کی موثر مزاحمت پر قادر نہ رہیں اور نوبت حکومت واقتدار اور سرزمین کے دفاع کے بجائے جان ومال کے انفرادی دفاع تک آ پہنچے۔ ایسی صورت میں فقہا ہر اس شخص کو جس کی جان ومال کو خطرہ لاحق ہو، اپنے دفاع کا حق دیتے ہیں، تاہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر اسے یہ توقع ہو کہ دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد اسے قتل نہیں کیا جائے گا تو اس کے لیے سرنڈر کر دینا بھی جائز ہے۔ فقہ شافعی کی کتاب ’المنہاج‘ میں ہے:

یدخلون بلدۃ لنا فیلزم اہلہا الدفع بالممکن فان امکن تاہب لقتال وجب الممکن ...... والا فمن قصد دفع عن نفسہ بالممکن ان علم انہ ان اخذ قتل وان جوز الاسر فلہ ان یستسلم (۶/۲۲، ۲۳)
’’کفار اگر حملہ کر کے ہمارے کسی شہر میں داخل ہو جائیں تو وہاں کے باشندوں پر دفاع کی ہر ممکن کوشش کرنا لازم ہے۔ اگر باقاعدہ تیاری کے ساتھ لڑائی ممکن ہو تو وہی لازم ہوگی، بصورت دیگر جس شخص پر دشمن حملہ آور ہو، اگر اسے یقین ہو کہ پکڑنے کے بعد اسے قتل کر دیا جائے گا تو وہ اپنی جان کا ہر ممکن دفاع کرے اور اگر اسے توقع ہو کہ اسے قیدی بنا لیا جائے گا تو اس کے لیے دشمن کے سامنے سرنڈر کرنا جائز ہے۔‘‘

’مغنی المحتاج‘ میں ہے:

لان المکافحۃ حینئذ استعجال للقتل والاسر یحتمل الخلاص ہذا ان علم انہ ان امتنع من الاستسلام قتل والا امتنع علیہ الاستسلام اما المراۃ فان علمت امتداد الایدی الیہا بالفاحشۃ فعلیہا الدفع وان قتلت لان الفاحشۃ لا تباح عند خوف القتل وان لم تمتد الایدی الیہا بالفاحشۃ الآن ولکن توقعتہا بعد السبی احتمل جواز استسلامہا ثم تدفع اذا ارید منہا (۶/۲۳)
’’اس صورت میں مزاحمت کرنے کا مطلب موت کو آواز دینا ہے، جبکہ قید کی صورت میں جان بچنے کا امکان پایا جاتا ہے۔ تاہم گرفتاری دینا اس وقت درست ہوگا جب اس کو یقین ہو کہ سرنڈر نہ کرنے کی صورت میں اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اگر قتل کا خوف نہ ہو تو پھر سرنڈر کرنا ممنوع ہے۔ اگر یہ صورت حال عورت کو درپیش ہو تو اگر اسے پتہ چل جائے کہ دشمن اس کی آبرو ریزی کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنا دفاع کرے، چاہے اسے قتل ہی کیوں نہ کر دیا جائے، کیونکہ قتل کے خوف سے عصمت گنوا دینا جائز نہیں۔ اور اگر دشمن کی طرف سے فی الفور تو اس کی آبرو پر ہاتھ نہ ڈالا جائے، لیکن قید ہو جانے کے بعد اس کا خدشہ ہو تو عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ گرفتاری دے دے اور پھر جب دشمن اس پر دست درازی کرنا چاہے تو اس وقت اپنا دفاع کرے۔‘‘

چوتھا امکان یہ ہے کہ غیر مسلم، مسلمانوں کی مزاحمت کو کچل کر ان کے علاقے پر قبضہ کرنے اور اپنی سیاسی وعسکری بالادستی قائم کرنے میں کام یاب ہو جائیں۔ اس صورت کے حوالے سے ہمارے ہاں فقہا کا موقف عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا اقتدار ختم ہو جانے کی صورت میں قابض قوت کے خلاف جہاد کی ذمہ داری عمومی طور پر مسلمانوں پر عائد ہو جائے گی اور ان پر لازم ہوگا کہ انفرادی طور پر یا جتھوں کی صورت میں کفار کے تسلط سے اپنے علاقے کو آزاد کرانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں۔ اس رائے کے حق میں بالعموم اس فقہی جزئیے سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر کفار دار الاسلام کے کسی علاقے پر حملہ آور ہوں تو اس علاقے کے سب باشندوں پر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ مرغینانی لکھتے ہیں:

فان ہجم العدو علی بلد وجب علی جمیع الناس الدفع تخرج المراۃ بغیر اذن زوجہا والعبد بغیر اذن المولی (ہدایہ، ۵/۴۴۲)
’’اگر دشمن کسی شہر پر حملہ آور ہو جائے تو سب لوگوں پر اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے، چنانچہ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اور غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکلنے کا پابند ہوگا۔‘‘

ہمارے نزدیک مذکورہ فقہی جزئیے سے یہ استدلال درست نہیں، اس لیے کہ اس جزئیے میں دراصل اس صورت حال کا حکم بیان کیا گیا ہے جب کفار مسلمانوں کے ملک پر حملہ آور ہوں، مسلمانوں کی حکومت ابھی باقی ہو اور کفار کا غلبہ وتسلط قائم نہ ہوا ہو، لیکن مسلمانوں کی باقاعدہ افواج دشمن کے مقابلے کے لیے ناکافی ہوں۔ گویا یہاں مسلمانوں کی حکومت کے معدوم ہونے کی نہیں بلکہ ایمرجنسی کی ایک صورت حال زیر بحث ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورت کو فقہا اپنی اصطلاح میں ’نفیر عام‘ سے تعبیر کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ حکمران تمام شہریوں کو جنگی خدمات کے لیے طلب کر لے۔ فقہا کی عبارات سے یہ امر بالکل واضح ہے۔ ابن قدامہ کا جو اقتباس ہم نے اوپر نقل کیا ہے، اسے دوبارہ دیکھیے:

اذا جاء العدو صار الجہاد علیہم فرض عین فوجب علی الجمیع فلم یجز لاحد التخلف عنہ فاذا ثبت ہذا فانہم لا یخرجون الا باذن الامیر لان امر الحرب موکول الیہ وہو اعلم بکثرۃ العدو وقلتہم ومکامن العدو وکیدہم فینبغی ان یرجع الی رایہ لانہ احوط للمسلمین (المغنی، ۹/۱۷۴)
’’اگر دشمن حملہ آور ہو تو سب لوگوں پر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے اور کسی کے لیے بھی اس سے پیچھے رہنا جائز نہیں رہتا۔ اتنی بات تو طے ہے، تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ان کے لیے حکمران کی اجازت کے بغیر دشمن کے مقابلے میں جانا درست نہیں، اس لیے کہ جنگ کا معاملہ حکمران کے سپرد ہے اور وہ دشمن کی قلت وکثرت سے اور اس کے چھپنے کی جگہوں اور جنگی تدبیروں سے بھی با خبر ہے، اس لیے مسلمانوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ اس معاملے میں حکمران کی رائے پر اعتماد کیا جائے۔‘‘

ابن الہمام لکھتے ہیں:

ہذا اذا لم یکن النفیر عاما فان کان بان ہجموا علی بلدۃ من بلاد المسلمین فیصیر من فروض الاعیان سواء کان المستنفر عدلا او فاسقا فیجب علی جمیع اہل تلک البلدۃ النفر (فتح القدیر ۵/۴۳۹)
’’یہ اس صورت میں ہے جب نفیر عام نہ ہو۔ اگر حکمران کی طرف سے نفیر عام ہو اور دشمن مسلمانوں کے کسی شہر پر حملہ آور ہو جائے تو پھر حکمران خواہ عادل ہو یا فاسق، اس کے طلب کرنے پر جہاد ہر شخص پر فرض ہو جائے گا اور اس شہر کے تمام باشندوں پر نکلنا واجب ہو جائے گا۔‘‘
ویجب ان لایاثم من عزم علی الخروج وقعودہ لعدم خروج الناس وتکاسلہم او قعود السلطان او منعہ (۵/۴۴۰)
’’(دشمن کے حملہ آور ہونے کی صورت میں) جو شخص جہاد کے لیے نکلنے کا عزم رکھتا ہو لیکن دوسرے لوگوں کے نہ نکلنے اور سستی کا مظاہرہ کرنے یا حکمران کے جہاد سے گریز کرنے یا اس کی طرف سے ممانعت کی وجہ سے نہ نکلے تو لازم ہے کہ ایسا شخص گناہ گار قرار نہ پائے۔‘‘

جہاں تک زیر بحث صورت یعنی مسلمانوں کی مزاحمت کے دم توڑ جانے اور کفار کے تسلط کے عملاً قائم ہو جانے کا تعلق ہے تو فقہا مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں پر جہاد کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتے، بلکہ غیر مسلموں کے قبضے کو نہ صرف ایک امر واقعی (de facto) بلکہ ایک امر قانونی (de jure) تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک مختلف لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔ ذیل میں ہم دو نکتوں کے حوالے سے فقہا کے موقف کی وضاحت کریں گے: 

ایک یہ کہ آیا مسلمانوں کے کسی علاقے پر کفار کا غلبہ وتسلط بالفعل قائم ہو جانے سے اس سرزمین کی شرعی وقانونی حیثیت میں کوئی فرق رونما ہوتا ہے یا نہیں؟ 

دوسرا یہ کہ اس صورت حال میں مقبوضہ علاقوں کے مسلمانوں کے لیے فقہا کیا لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔ 

پہلے نکتے کو لیجیے:

یہ تصور کہ اگر کسی علاقے پر اہل اسلام کا سیاسی غلبہ ایک دفعہ کسی خاص درجے میں قائم ہو جائے تو اس میں شرعی لحاظ سے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی اور حالات وواقعات کا تغیر صورت حال کے فقہی حکم پر کسی طرح سے اثر انداز نہیں ہوتا، کم از کم ہمارے علم کی حد تک فقہی ذخیرے کے لیے ایک بالکل اجنبی تصور ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ فقہا سیاسی اور عسکری صورت حال کی تبدیلیوں اور تغیرات کو پوری طرح ملحوظ رکھتے اور فقہی احکام پر ان کے اثرات کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں۔ فقہی جزئیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہا کے نزدیک علاقوں اور شہروں کی قانونی حیثیت میں یہ تبدیلی دار الاسلام کے حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی ہو سکتی ہے اور اس سے خارج ہو جانے کی صورت میں بھی۔ چنانچہ اگر کفار مسلمانوں پر غلبہ پا کر ان کی حکومت واقتدار کا خاتمہ کرنے اور اس کی جگہ اپنا تسلط قائم کرنے میں کام یاب ہو جائیں تو فقہا اس صورت میں کفار کے غلبے کو بالفعل اور قانوناً تسلیم کرتے ہوئے اس علاقے کو ’دار الحرب‘ کی حیثیت دے دیتے ہیں۔ یہ اصول درج ذیل فقہی جزئیات سے بالکل واضح ہے:

★  جن شہروں کو مسلمانوں نے خود آباد کیا ہو، فقہا کے نزدیک ان میں غیر مسلموں کو اپنے مذہبی شعائر وعلامات کے اظہار، اسلامی شریعت میں حرام کردہ چیزوں مثلاً خنزیر اور شراب وغیرہ کی علانیہ خرید وفروخت یا اپنی عبادت گاہیں قائم کرنے کی اجازت نہیں۔ یہی حکم غیر مسلموں کے آباد کردہ ان علاقوں کا ہے جہاں مسلمانوں نے سکونت اختیار کر کے اسلامی احکام وشعائر کو جاری کر دیا ہو۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۵۶۔۵۸) البتہ جن شہروں میں غیر مسلم آباد ہوں اور مسلمانوں نے وہاں آبادی اختیار کر کے اسلامی احکامات مثلاً اقامت جمعہ وعیدین اور حدود وغیرہ کا اجرا نہ کیا ہو، اس میں اہل ذمہ کو مذہبی شعائر وعلامات کے اظہار اور عبادت گاہوں کے قیام کا حق حاصل ہے۔ یہ اصول بیان کرنے کے بعد فقہا شہروں اور علاقوں کی مذکورہ حیثیت میں تبدیلی کا امکان بھی واضح کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کے اہل حل وعقد کسی مصلحت کے تحت کسی شہر سے مسلمانوں کی آبادی کو ختم کرنا اور احکام اسلام کے نفاذ کو موقوف کرنا چاہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں اور اس کے بعد اس شہر کا فقہی حکم بھی بدل جائے گا اور اہل ذمہ کو اپنے شعائر وعلامات کے اظہار کی آزادی حاصل ہو جائے گی۔

★  اگر مسلمانوں کے کسی علاقے پر کفار قبضہ کر لیں اور پھر اہل اسلام دوبارہ ان پر غلبہ حاصل کر لیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کفار کے کسی علاقے کو فتح کرنا اور اس صورت میں وہاں کے باشندوں سے اسی طرح معاملہ کرنا لازم ہوگا جیسا کہ کفار کے کسی علاقے کو فتح کرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ان قابض کفار کو اجنبی اور غاصب قرار دے کر وہاں سے بے دخل نہیں کیا جائے گا، بلکہ قانونی طور پر وہاں کے باشندے شمار کرتے ہوئے جزیہ وصول کر کے انھیں وہاں رہنے کی اجازت دی جائے گی۔ (ابن قدامہ ،المغنی، ۶/۳۵، ۳۶)

★  دار الاسلام میں شامل کسی شہر کے اہل ذمہ اگر عقد ذمہ کو توڑ کر دار الاسلام سے الگ ہو جائیں تو اب ان کا حکم وہی ہوگا جو دار الحرب کے باقی تمام علاقوں کا ہے۔ چنانچہ اب اگر وہ دار الاسلام میں شامل ہوئے بغیر عقد ذمہ سے مختلف نوعیت کا کوئی معاہدۂ صلح کرنا چاہیں تو مسلمانوں کا حکمران اپنی صواب دید کے مطابق ان کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۵/۱۷۰۴)

★  امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو جانے کے بعد دار الاسلام ہی میں مقیم رہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کا مال اس کے مسلمان ورثا میں تقسیم کیا جائے گا، لیکن اگر وہ مرتد ہو کر اپنے مال سمیت دار الحرب میں چلا جائے اور وہاں اس کا انتقال ہو تو اس کے ترکے کے حق دار غیر مسلم ورثا ہوں گے۔ (جصاص، احکام القرآن، ۲/۱۰۲، ۱۰۴) سرخسی نے اس اصول پر یہ تفریع کی ہے کہ اگر دار الاسلام کے کسی علاقے کے لوگ اجتماعی طور پر مرتد ہو کر اپنے علاقے میں کفر کے احکام کو جاری کر دیں اور پھر ان میں سے کوئی شخص مر جائے تو اس کا ترکہ اس کے غیر مسلم ورثا میں تقسیم کیا جائے گا، اس لیے کہ ان کا علاقہ دار الحرب قرار پا چکا ہے اور دار الحرب میں مرنے والے مرتد کے ترکے کا حکم یہی ہے۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۵/۱۹۲۱) ایک مزید فرع یہ ہے کہ کسی علاقے کے باشندے اجتماعی طور پر مرتد ہو جائیں تو ان کا علاقہ دار الحرب قرار پاتا ہے اور اہل اسلام کے لیے ضرورت او رمصلحت کے تحت ان کے ساتھ اسی طرح موادعہ یعنی صلح کا معاہدہ کرنا جائز ہے جیسے دیگر کافر ریاستوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ (ابن الہمام، فتح القدیر ۵/۴۵۹)

★  فقہی ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام میں آئے تو اس کی امان صرف اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک وہ دار الاسلام میں مقیم رہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنے ملک میں واپس چلا جائے تو اس کی امان ختم ہو جاتی ہے۔ فقہا اس پر یہ تفریع کرتے ہیں کہ اگر کوئی حربی امان لے کر دار الاسلام کے کسی علاقے میں آئے اور پھر اس علاقے پر اسی کے ملک سے تعلق رکھنے والے اہل کفر غالب آ جائیں تو مسلمانوں کی جانب سے اس حربی کو دی جانے والی امان ختم ہو جائے گی، کیونکہ اہل کفر کے قابض ہو جانے کے بعد یہ علاقہ دار الحرب قرار پا چکا ہے، چنانچہ یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ اپنے ملک میں واپس چلا گیا ہو۔ اس صورت میں اگر مسلمان دوبارہ اس علاقے پر قبضہ کریں اور وہ مستامن حربی وہیں موجود ہو تو سابقہ امان کے ختم ہو جانے کی وجہ سے اب اس کے ساتھ ’مستامن‘ کا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۵/۱۹۴۷)

★  احناف کا مسلک یہ ہے کہ اہل کفر اگر دار الاسلام میں داخل ہو کر مسلمانوں سے مال واسباب چھین لیں تو جب تک وہ واپس اپنے علاقے میں نہ چلے جائیں، اس لوٹے ہوئے مال پر سے مسلمانوں کی ملکیت ختم نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر اس سے پہلے ہی مسلمان ان سے اپنا مال واپس حاصل کرنے میں کام یاب ہو جائیں تو تمام مالک اپنی اپنی چیزیں کسی معاوضے کے بغیر واپس لینے کے حق دار ہیں۔ لیکن اگر کفار اپنے علاقے میں داخل ہو جائیں تو پھر مسلمانوں کی ملکیت اس مال سے ختم ہو جاتی ہے اور کفار اس کے مالک بن جاتے ہیں۔ اس ضابطے پر تفریع کرتے ہوئے سرخسی لکھتے ہیں کہ اگر اہل کفر مسلمانوں کے کسی علاقے پر قابض ہو کر مسلمانوں کے اموال واسباب پر قبضہ کر لیں تو چونکہ یہ علاقہ دار الحرب بن چکا ہے، اس لیے کفار ان اموال واسباب کے مالک قرار پائیں گے۔ اب اگر مسلمان دوبارہ اس پر غالب آئیں تو اصل مالکوں کے لیے اپنے اموال کو حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ اگر تو وہ مسلمانوں کے مابین تقسیم نہیں ہوا تو مالک کو اپنی چیز کسی معاوضے کے بغیر لینے کا حق ہے، لیکن اگر مال تقسیم ہو چکا ہے تو اسے قیمت ادا کر کے اپنی مملوکہ چیز واپس حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ (سرخسی، المبسوط، ۱۰/۱۴۳، ۱۴۴۔ شرح السیر الکبیر ۵/۱۹۵۷)

مذکورہ بحث سے یہ بات واضح ہے کہ دار الاسلام پر اہل کفر کا غلبہ قائم ہو جانے کے بعد فقہا جملہ قانونی معاملات میں اسے دار الحرب کی حیثیت دیتے ہیں۔ اب جہاں تک اس نئی صورت حال کے حوالے سے اہل اسلام کی شرعی ذمہ داری کا تعلق ہے تو فقہا کا زاویہ نگاہ اس باب میں کسی بھی لحاظ سے جذباتی، نظری یا غیرعملی نہیں، بلکہ وہ زمینی حقائق اور عملی امکانات کو پوری طرح ملحوظ رکھ کر ہی مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے لیے کوئی شرعی لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر کسی علاقے کے مسلمان کفار کی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع نہ کر سکیں تو فقہا قریب ترین علاقے کے لوگوں پر اور اسی طرح علی الترتیب ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد کو فرض قرار دیتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ حکم اس وقت ہے جب ابھی جنگ جاری ہو اور غیر مسلم حملہ آور اپنا تسلط قائم کر کے دار الاسلام کو قانونی طور پر دارالحرب میں تبدیل نہ کر چکے ہوں۔ ابن نجیم لکھتے ہیں:

فان لم یفعلوا عجزا وجب علی من ببلدتہم علی ما ذکرنا ہکذا ذکروا وکان معناہ اذا دام الحرب بقدر ما یصل الابعدون وبلغہم الخبر والا فہو تکلیف ما لا یطاق (البحر الرائق ۱۳/۲۸۹)
’’اگر کسی علاقے کے مسلمان حملہ آور کفار کی مدافعت نہ کر سکیں تو قریبی علاقے کے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا لازم ہے، جیساکہ ہم نے ذکر کیا۔ فقہا کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ مدد کرنا اسی وقت لازم ہے جب جنگ کے ختم ہونے سے پہلے پہلے دور افتادہ علاقے کے مسلمانوں تک خبر پہنچ سکتی ہو اور وہ ان کی مدد کے لیے وہاں سے آ سکتے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو (دور کے مسلمانوں پر جہاد کو فرض قرار دینا) تکلیف مالا یطاق کے ضمن میں آتا ہے۔‘‘

ابن نجیم کی تصریح سے واضح ہے کہ کفار کے حملے کی زد میں آنے والے مسلمانوں کی مدد کرنے کا فریضہ دوسرے علاقوں کے مسلمانوں پر اصلاً کفار کے تسلط کو قائم ہونے سے روکنے کے لیے اس وقت عائد ہوتا ہے جب جنگ ابھی جاری ہو اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے پہنچنا ممکن ہو۔ اگر دوسرے مسلمانوں تک اطلاع پہنچنے اور ان کے مدد کے لیے آنے سے پہلے ہی مسلمان میدان جنگ میں شکست کھا کر مغلوب ہو جائیں تو مذکورہ جزئیے کی رو سے انھیں کفار کے تسلط سے آزاد کرانے کی کوئی ذمہ داری کم از کم فرض کے درجے میں دوسرے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔ مزید برآں یہ بھی واضح ہے کہ ہمسایہ علاقوں کے مسلمانوں یہ ذمہ داری ان کی اپنی قوت واستعداد اور عملی حالات وامکانات کو نظر انداز کرکے عائد نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ ان شرائط کے مفقود ہونے کی وجہ سے اگر براہ راست حملے کی زد میں آنے والے علاقے کے لوگ فرضیت جہاد کے حکم سے مستثنیٰ قرار پاتے ہیں تو دوسرے علاقوں کے اہل اسلام پر جہاد کو فرض قرار دیتے ہوئے ان کی رعایت کرنا بدرجہ اولیٰ ضروری ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہوگا کہ جس علاقے کے مسلمان اپنے مسلمانوں کی مدد کے لیے حملہ آور فوج سے لڑنا چاہتے ہیں، اس کے ساتھ ان کا کوئی معاہدہ نہ ہو۔ قرآن مجید نے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے یہ شرط ’فعلیکم النصر الا علی قوم بینکم وبینہم میثاق‘ (تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف ان کی مدد نہیں کر سکتے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو) کے الفاظ میں خود پوری صراحت کے ساتھ بیان کی ہے۔

عملی حالات کی رعایت کے اسی فقہی اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے فقہا نے خود مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے بھی اس صورت میں جب ابھی کفار کا تسلط مسلمانوں کے علاقے پر قائم نہ ہوا ہو اور اس صورت میں جب یہ تسلط عملاً متحقق ہو چکا ہو، فرق کیا ہے۔ ان کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک کفار کا غلبہ وتسلط عملاً پایہ تکمیل کو نہ پہنچا ہو، مسلمانوں کی حکومت قانوناً موجود ہو اور جنگ کا بازار بھی ابھی گرم ہو، اس وقت تک مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ جس درجے میں بھی دشمن کے غلبے کی راہ میں حائل ہو سکیں، ضرور ہوں اور اپنی حکومت، آزادی اور جان ومال کے تحفظ اور دفاع کے لیے دشمن کے ساتھ بر سر پیکار رہیں، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو اور کفار اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو فقہا ان کے خلاف جدوجہد کو ہر حال میں جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں پر عائد نہیں کرتے۔ فقہا نے اس صورت سے متعلق شرعی احکام کی باقاعدہ وضاحت کی ہے، لیکن کسی مسلم ریاست کی طرف سے اعلان جنگ کے بغیر مقبوضہ علاقوں کے مسلمانوں پر جدوجہد آزادی کی ذمہ داری عائد کرنے کا ان کے ہاں کوئی ذکر نہیں ملتا، بلکہ اس کے برعکس انھوں نے اس علاقے پر کفار کے قبضے کو بالفعل اور قانوناً تسلیم کرتے ہوئے اس دائرے میں رہتے ہوئے مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل واضح کیا ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کے علاقے پر قبضے کے بعد غیر مسلم حکومت وہاں کی مسلمان آبادی کو داخلی خود مختاری دے کر مسلمانوں میں سے ہی کسی شخص کو ان کا حاکم مقرر کر دے۔ اس صورت میں مسلمانوں کے لیے غیر مسلم حکومت کے زیر سایہ رہتے ہوئے اس آزادی سے فائدہ اٹھانا اور اسلامی قوانین کو جاری رکھنا ضروری ہوگا۔ ابن عابدین لکھتے ہیں:

کل مصر فیہ وال مسلم من جہۃ الکفار یجوز منہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہم واما طاعۃ الکفر فہی موادعۃ ومخادعۃ (رد المحتار ۴/۱۷۴)
’’جس شہر میں کفار کی جانب سے مسلمان حاکم مقرر کیا جائے، اس کی طرف سے جمعہ اور عیدین کی اقامت، خراج کی وصولی، قاضیوں کے تقرر اور بیواؤں کی شادی کے اقدامات درست ہوں گے کیونکہ ان پر ایک مسلمان حاکم ہے۔ باقی رہا کفار کی اطاعت کا مسئلہ تو مجبوری کے تحت ان کو بظاہر راضی رکھنا اور ان کے ساتھ مصالحانہ تعلقات قائم کرنا جائز ہے۔‘‘

شافعی فقیہ شہاب الدین الرملی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ اس صورت حال میں مسلمانوں کے لیے اس علاقے سے ہجرت کرنا نہ صرف یہ کہ واجب نہیں بلکہ ناجائز ہے:

لا تجوز لہم الہجرۃ منہ لانہ یرجی باقامتہم بہ اسلام غیرہم ولانہ دار اسلام فلو ہاجروا منہ صار دار حرب (فتاویٰ شہاب الدین الرملی، بہامش فتاویٰ ابن حجر المکی، ۴/۵۳)
’’مسلمانوں کے لیے وہاں سے ہجرت کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان کے وہاں ٹھہرنے کی صورت میں امید ہے کہ اور لوگ بھی اسلام قبول کریں گے۔ نیز یہ علاقہ دار الاسلام ہے اور اگر مسلمان وہاں سے ہجرت کر آئیں گے تو یہ دار الحرب میں تبدیل ہو جائے گا۔‘‘

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ غیر مسلم حکومت کی طرف سے کسی غیر مسلم کو ان کا حاکم مقرر کیا جائے۔ اس صورت میں مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ وہ جمعہ وعیدین کی اقامت کا اہتمام کریں، ایک اجتماعی فیصلے کے تحت نزاعات کے تصفیے کے لیے غیر سرکاری سطح پر قضا کا نظام قائم کریں اور اس بات کی جدوجہد کرتے رہیں کہ ان پر حاکم بھی کسی مسلمان ہی کو مقرر کر دیا جائے :

واما فی بلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیہم طلب وال مسلم(رد المحتار ۴/۱۷۴، ۱۷۵)
’’جن شہروں میں غیر مسلم حاکم ہوں، وہاں مسلمانوں کے لیے جمعہ اور عیدین کی اقامت جائز ہے، اور اگر مسلمان باہمی رضامندی سے کسی کو قاضی مقرر کر لیں تو وہ شرعاً قاضی قرار پائے گا، اور مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے لیے کسی مسلمان حاکم کا مطالبہ کریں۔‘‘

تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ غیر مسلموں کی جانب سے غلبہ حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگا دی جائے اور ان کے لیے اپنے مذہب پر عمل کرنے کو مشکل بنا دیا جائے۔ اس صورت کے بارے فقہا کے ہاں ہمیں کوئی تصریح نہیں مل سکی، لیکن اگر ان کے اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے کہ وہ کفار کے غلبے کے بعد اس علاقے کو قانوناً دار الحرب قرار دیتے ہیں تو یہاں اسی جزئیے کا اطلاق ہوگا جو وہ دار الحرب کے حوالے سے عمومی طور پر بیان کرتے ہیں، یعنی یہ کہ دار الحرب میں اگر دین پر قائم رہنا اور اس پر عمل کرنا دشوار ہو تو بشرط استطاعت دار الحرب سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں منتقل ہو جانا واجب ہے۔

مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ اگر کفار کسی مسلمان علاقے پر غلبہ حاصل کر لیں اور مسلمانوں کی طرف سے حکومتی یا نجی سطح پر کامیاب مدافعت نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلموں کا غلبہ تام ہو جائے تو کلاسیکی فقہ کی رو سے اب اس علاقے کو قانوناً دار الحرب کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فقہا کے نزدیک اب دار الاسلام کے آزاد علاقے میں قائم کوئی حکومت تو اس علاقے کو کفار سے چھڑانے کے لیے جہاد کر سکتی ہے، لیکن مقبوضہ علاقے کے لوگ دار الحرب کی قانونی پوزیشن کے دائرے میں ہی اپنا لائحہ عمل متعین کرنے کے پابند ہیں۔ 

بعض اہل علم نے اس صورت میں فقہا کا موقف اس فقہی جزئیے کی روشنی میں متعین کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر دار الاسلام کے کچھ باشندے عارضی طور پر امان لے کر دار الحرب میں گئے ہوں اور اس دوران میں اسی دار الحرب کے کفار دار الاسلام پر حملہ کر کے مسلمان عورتوں اور بچوں کو قید کر لائیں تو امان لے کر دار الحرب میں جانے والے مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ وہ معاہدۂ امان کو توڑ کر ان قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے جنگ کریں۔ وجہ استدلال غالباً یہ ہے کہ اس صورت میں چونکہ دار الحرب میں ٹھہرے ہوئے مسلمان اپنے طور پر ہی منظم ہو کر جنگ کریں گے، اس لیے اگر مسلمانوں کے کسی علاقے پر کفار کا تسلط ہو جائے اور وہاں کے مسلمان نجی طور پر عسکری مزاحمت کو منظم کرنا چاہیں تو ان کے لیے بھی ایسا کرنا درست ہوگا۔ (محمد مشتاق احمد، ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘، ص ۲۵۳ تا ۲۵۶)

تاہم ہمارے نزدیک یہ استنتاج محل نظر ہے، اس لیے کہ فقہا نے یہ بات مستامن مسلمانوں کے حوالے سے کہی ہے جو محدود سطح کی عارضی امان لے کر دار الحرب میں گئے ہوں۔ اس سے ان مسلمانوں کے لیے جو آزاد دار الاسلام کے نہیں بلکہ مقبوضہ علاقے (جو فقہا کے نزدیک قانونی طور پر دار الحرب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے) کے باشندے ہوں اور مستقل شہری کی حیثیت سے وہاں مقیم ہوں، کوئی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرخسی نے ان افراد کی یہ ذمہ داری دار الاسلام اور اس کے شہریوں کے ساتھ ان کے تعلق یعنی ’ولایت‘ کی بنیاد پر بیان کی ہے نہ کہ مسلمان ہونے کی بنیاد پر، چنانچہ اس صورت میں اگر وہ جنگ کریں گے تو ان کی پشت پر ایک منظم ریاست موجود ہوگی اور وہ اس کی رعایا ہونے کی حیثیت سے اسی کے باشندوں کو بچانے کے لیے جنگ کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہا اس صورت میں دار الحرب کے مسلمان شہریوں کی کوئی ذمہ داری بیان نہیں کرتے، کیونکہ حنفی فقہ کی رو سے ان کے اور دار الاسلام کے مابین ولایت کا کوئی تعلق نہیں اور نفی ولایت کا یہ قانون یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے، چنانچہ جس طرح ان کا کوئی قانونی حق دار الاسلام پر عائد نہیں ہوتا، اسی طرح دار الاسلام کے افراد کے حوالے سے بھی کوئی قانونی حق یا ذمہ داری ان پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ جہاں تک زیر بحث صورت یعنی کسی مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کا تعلق ہے تو نہ ان کی اپنی کوئی منظم حکومت موجود ہے اور نہ ان کی جنگ آزادی کو کسی دوسری مسلمان حکومت کی قانونی پشت پناہی حاصل ہے، اس لیے اس صورت کو مذکورہ فقہی جزئیے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر کوئی مسلم حکومت مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے انھیں قابض قوت کے خلاف عسکری کارروائیاں کرنے کا حکم دے اور علانیہ ان کے اقدامات کی ذمہ داری اٹھائے تو ایسا کرنا درست ہے۔ اس صورت میں ان مسلمانوں کی حیثیت مسلم ریاست کے کارندوں کی ہوگی، وہ اسی کی سرپرستی اور پالیسی کے تحت آزادی کی جنگ لڑیں گے اور وہ اپنے اقدامات اور فیصلوں کے لیے بھی اس کو جواب دہ ہوں گے۔ 

غیر مسلم حکومت کے زیر سایہ رہتے ہوئے اس کے خلاف عسکری کارروائیوں کا عدم جواز اخلاقی اصولوں کا تقاضا بھی ہے اور حکمت ومصلحت کا بھی۔ مصلحت کا اس پہلو سے کہ حکومت کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کرنے کے بعد مخالف اقدام سے بچنے کے لیے ظاہر ہے کہ اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر غیر مسلم حکومت فوراً عسکری عناصر پر قابو پا لے گی۔ اخلاقی اس لحاظ سے کہ جب ایک شخص کسی مخصوص سیاسی وحکومتی نظام کے دائرۂ اختیار میں رہ رہا ہوتا ہے تو وہ درحقیقت اس نظام کے ساتھ ایک خاموش قانونی وعمرانی معاہدے میں بندھا ہوتا ہے۔ 

فقہا کی عبارات سے واضح ہے کہ اگر کسی مسلمان کو دار الحرب میں کفار کی طرف سے صراحتا یا دلالتاً عارضی طور پر ہی امان دے دی جائے اور اس کے مقابلے میں اس سے توقع یہ کی جائے کہ وہ بھی دار الحرب کی حکومت یا باشندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا تو اس شخص پر اس امان کی پابندی لازم ہے ۔ زیر بحث صورت میں یہ سوال زیادہ نازک ہو جاتا ہے، اس لیے کہ غیر مسلم حکومت کے زیر سایہ رہنے والے مسلمان وہاں کی حکومت کی طرف سے کسی عارضی نہیں بلکہ مستقل امان کے حامل ہوتے ہیں اور وہاں کے شہری ہونے کی حیثیت سے اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ اس کے دائرۂ اختیار (Jurisdiction) میں نہ اس کے اختیار کو چیلنج کریں گے اور نہ اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بھی اپنی انتقامی کارروائیوں کے لیے مرکز مکہ مکرمہ کو نہیں بنایا، بلکہ ساحل سمندر کے قریب ایک آزاد علاقے میں اپنے گروہ کو منظم کیا اور اسی کو اپنی کارروائیوں کے لیے مرکز بنایا۔

برصغیر میں انگریزی دور اقتدار میں بعض اہل علم نے بعد کے سیاسی وقانونی تغیرات کو نظر انداز کرتے ہوئے ابتدائی دور کے فقہی فتووں کی روشنی میں ہندوستان پر دار الحرب کے احکام جاری ہونے کی رائے ظاہر کی تو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے بجا طور پر اس نقطہ نظر پر تنقید کی اور یہ واضح کیا کہ مسلمانوں کے اجتماعی طور پر نئے نظم حکومت کی اطاعت کو قبول کر لینے کے بعد ہندوستان کو دار الحرب قرار دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:

’’ہندوستان اس وقت بلاشبہ دار الحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے۔ لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے، انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لا پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا دار الکفر ہو گیا جس میں مسلمان رعیت کی حیثیت سے رہتے ہیں اور قانون ملکی کے مقرر کیے ہوئے حدود میں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی رکھتے ہیں۔ ایسے ملک کو دار الحرب ٹھہرانا اور ان رخصتوں کو نافذ کرنا جو محض دار الحرب کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر دی گئی ہیں، اصول قانون اسلامی کے قطعاً خلاف ہے اور نہایت خطرناک بھی ہے۔‘‘ (سود، ص ۲۴۹)
’’ہندوستان عام معنی میں اس وقت سے دار الکفر ہو گیا ہے جب سے مسلم حکومت کا یہاں استیصال ہوا۔ جس زمانہ میں شاہ عبد العزیز صاحب نے جواز سود کا فتویٰ دیا تھا، اس زمانہ میں واقعی یہ مسلمان ہند کے لیے دار الحرب تھا، اس لیے کہ انگریزی قوم مسلمانوں کی حکومت کو مٹانے کے لیے جنگ کر رہی تھی۔ جب اس کا استیلا مکمل ہو گیا اور مسلمانان ہند نے اس کی غلامی قبول کر لی تو یہ ان کے لیے دار الحرب نہیں رہا۔ ایک وقت میں یہ افغانستان کے مسلمانوں کے لیے دار الحرب تھا۔ ایک زمانہ میں ترکوں کے لیے دار الحرب ہوا، مگر اب یہ تمام مسلمانوں حکومتوں کے لیے دار الصلح ہے۔‘‘ (سود، ص ۳۴۹)

رہا یہ سوال کہ فقہا نے دار الحرب میں امان کے حامل مسلمانوں کے لیے اس صورت میں اہل حرب کے خلاف اقدام کو جائز قرار دیا ہے جب ان کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام کیا جائے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ فقہی جزئیہ ان مسلمانوں سے متعلق ہے جو دار الحرب کے شہری نہ ہوں بلکہ انھیں عارضی طور پر وہاں قیام کی اجازت دی گئی ہو۔ اس عارضی قیام کے دوران میں ان کا کفار کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا چونکہ امان کے ساتھ مشروط ہوتا ہے، اس لیے جیسے ہی کفار کی طرف سے امان کی خلاف ورزی کی جائے گی، مسلمان بھی معاہدے کے پابند نہیں رہیں گے۔ تاہم وہ مسلمان جو دار الحرب کے باقاعدہ شہری ہوں، ان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ کسی عارضی اور مشروط معاہدے کے تحت نہیں، بلکہ مستقل معاہدے کے تحت وہاں رہ رہے ہیں اور ریاست اور رعایا کے مابین اس عمرانی معاہدے کی ایک لازمی شق یہ ہوتی ہے کہ اگر ریاست کی طرف سے رعایا پر جسمانی یا مالی نا انصافی کی جائے تو مظلوم ریاست کے قانونی اختیار کے دائرے میں رہتے ہوئے اور اس کو چیلنج کیے بغیر اس کے خلاف دو میں سے کوئی ایک طریقہ ہی اختیار کر سکتا ہے:

ایک یہ کہ وہ اپنی داد رسی اورحفاظت کے لیے خود ریاست ہی کے اثر ورسوخ رکھنے والے عناصر کی مدد حاصل کرے۔ قدیم دور میں، جبکہ حکومتی مشینری نظام عدل وانصاف کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتی تھی، اس کے لیے بالعموم کسی بااثر اور طاقت ور گروہ یا شخصیت کی پناہ حاصل کی جاتی تھی، جبکہ جدید جمہوری ریاستوں میں اس مقصد کے لیے عدل وانصاف کا باقاعدہ نظام موجود ہے جو اس طرح کے کسی بھی اقدام کا محاسبہ کر سکتا ہے۔ اگر انصاف میسر ہو تو یہ صورت سب سے بہتر اور سہل ہے۔ 

دوسرا یہ کہ وہ اس نا انصافی پر صبر کا مظاہرہ کرے، جیسا کہ مکہ مکرمہ کے مستضعفین کو قرآن مجید میں بھی اس کی تعلیم دی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر انھیں اس کی تلقین کی۔ 

اس کے سوا اس ریاست کی شہریت کو برقرار رکھتے ہوئے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر وہ غیر مسلم ملک کی شہریت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کر لیں تو پھر ان کے لیے یہ جائز ہوگا کہ وہ کسی دوسرے خطے کی طرف منتقل ہو جائیں اور وہاں پر امن زندگی بسر کرنا شروع کر دیں، جیسا کہ مہاجرین حبشہ نے کیا۔ اسی طرح اگر وہ کفار کا علاقہ ترک کر کے ان کے دائرہ اختیار سے باہر کوئی اجتماعی نظم بنا لیں اور ظلم وستم کرنے والے کفار کے خلاف انتقامی کارروائیاں کریں، جیسا کہ ابو بصیر اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا تو اس پربھی شرعاً کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ گویا غیر مسلم حکومت کے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے کسی عسکری کارروائی کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ عسکری کارروائی خواہ محض انتقام کی غرض سے ہو یا کسی متبادل حکومت کے قیام کے لیے، دونوں صورتوں میں ایک ایسے خطہ زمین کا حصول ضروری ہے جو غیر مسلم دائرہ اختیار میں نہ آتا ہو یا اسے اس سے کاٹ کر اس پر متوازی نظم حکومت قائم کر دیا جائے۔ دنیا کا کوئی بھی قانونی فلسفہ ان کے سوا کوئی اور صورت تجویز نہیں کرے گا، اور اسی وجہ سے فقہا نے غیر مسلم حکومت میں ظلم وستم کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے لیے وہاں رہتے ہوئے جہاد کا کوئی حکم بیان نہیں کیا، بلکہ یہ کہا ہے کہ ایسی صورت میں اگر ان کے لیے ممکن ہو تو وہ دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جائیں۔

اوپر کی بحث میں ہم نے کلاسیکی فقہی نقطہ نظر کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کلاسیکی فقہی ذخیرے میں جن سیاسی اصولوں کی بنیاد پر مذکورہ جزئیات وضع کی گئی ہیں، ان میں زمانے اور تاریخ کے ارتقا نے بے حد تغیر پیدا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے قدیم مسلمہ سیاسی اصول بے وقعت ہو گئے ہیں اور بہت سے نئے مسلمات کو دنیا میں فروغ حاصل ہو گیا ہے جن کے تحت پیدا ہونے مختلف قانونی مسائل کرنے سے قدیم فقہی اصول قاصر ہیں۔ کلاسیکل فقہی آرا جس سیاسی ماحول میں قائم کی گئیں، اس میں اقوام کے حق خود اختیاری کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور دنیا کے سیاسی ضابطہ اخلاق میں ہر طاقت ور قوم کا یہ حق تسلیم کیا جاتا تھا کہ وہ کسی دوسری قوم کے علاقے پر قابض ہو کر اسے اپنا محکوم بنا لے۔ خود اسلامی سلطنت کی توسیع اسی اصول کے تحت ہوئی تھی۔ چنانچہ فقہا نے مسلمانوں کے علاقوں پر کفار کے قبضے کو رائج الوقت تصور کے تحت بین الاقوامی سیاست کا عام معمول سمجھتے ہوئے اسے عملاً قبول کیا اور ایسے علاقوں پر دار الحرب کے قانونی احکام جاری کر دیے۔ دور جدید میں یورپین نیشنل ازم کے سیاسی فلسفے کے تحت ارتقا پانے والے تصورات اور بین الاقوامی قانون اس قدیم روایت سے بالکل مختلف اور متضاد ہے اور اس میں مخصوص علاقوں پر مخصوص قوموں کے حق خود ارادی کو بین الاقوامی قانون کے ایک بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سیاسی فلسفے سے نہ صرف ساری غیر مسلم دنیا متاثر ہوئی ہے بلکہ اسی کے اثرات کے تحت عرب اور مسلم دنیا میں بھی قومیت کا فلسفہ مستحکم اور مضبوط ہو چکا ہے۔ یہ فلسفہ قوموں میں جو مخصوص نفسیاتی کیفیت پیدا کرتا ہے، مقبوضہ مسلم ممالک میں عسکری مزاحمت کی تحریکیں اسی کا مظہر ہیں۔اس صورت حال پر قدیم فقہی تصورات اور جزئیات کا کلی انطباق مشکل ہے، کیونکہ اگر کفار کے تسلط کے عملاً قائم ہو جانے کو پیش نظر رکھا جائے تو فقہی تصور کی رو سے مقبوضہ علاقے کو دار الحرب اور قابض قوم کی حکومت کو قانوناً جائز قرار پانا چاہیے، جبکہ جدید بین الاقوامی قانون کی رو سے ایسے تسلط کو جائز تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس اگر اس تسلط کے قانونی عدم جواز کو وزن دیتے ہوئے اس صورت حال کو فقہا کی بیان کردہ اس صورت کے مماثل قرار دیا جائے جس میں کفار کا تسلط ابھی قائم نہیں ہوا تو یہ بھی درست دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ کفار کا تسلط عملاً قائم ہو چکا ہے۔چنانچہ بہتر یہ ہے کہ اس صورت حال پرقدیم فقہی جزئیات کو منطبق کرنے کے بجائے فقہی اصولوں کی روشنی میں صورت حال کی نوعیت متعین کی جائے۔ 

اجتہادی فقہی احکام دنیا کے عرف پر مبنی ہوتے ہیں اور عرف کے تغیر سے ان میں تغیر کا آنا لازم ہے، اس لیے بحث کا بنیادی نکتہ یہ قرار پانا چاہیے کہ کسی علاقے غیر ملکی تسلط کے عملاً قائم ہو جانے سے اس کا حق حکومت قانوناً ثابت نہیں ہوتا اور اس ملک کے باشندے اس سے آزادی حاصل کرنے اور اس مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اگلا سوال یہ ہے کہ آیا وہ اس مقصد کے لیے قابض قوت کے خلاف کوئی عسکری جدوجہد منظم کر سکتے ہیں؟ ہمارے نزدیک ایک بنیادی شرط کے ساتھ اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ وہ یہ کہ مسلح جدوجہد کا فیصلہ چند افراد یا گروہ اپنی صواب دید پر نہیں، بلکہ راے عامہ کی بنیاد پر اور اس کی تائید کے ساتھ کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس فیصلے کا تعلق پوری قوم سے ہو اور اس کے مثبت یا منفی اثرات بھی پوری قوم پر مرتب ہوتے ہوں، اس میں ان کی راے یا مرضی کے بغیر ازخود کوئی فیصلہ کر کے اسے پوری قوم پر مسلط کر دینے کا حق شرعی اور اخلاقی طور پر کسی فرد یا گروہ کو حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ اگر مقبوضہ علاقے کے لوگوں کی اکثریت حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اپنی سیاسی قیادت کی وساطت سے غیر مسلم حکومت کی اطاعت قبول کرنے یا اس کے خلاف عسکری مزاحمت کے بجائے جمہوری سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لے تو ان کی رائے کے برخلاف قابض قوتوں کے خلاف کوئی ایسا اقدام افراد یا گروہوں کے لیے جائز نہیں ہو سکتا جس کے منفی اثرات اکثریت کو بھی بھگتنا پڑیں۔ 

اگر کچھ گروہ ان کے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اس طرح کا اقدام کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ کسی آزاد علاقے میں اپنے آپ کو ایک الگ گروہ کے طور پر منظم کریں اور اپنی وضع کردہ حکمت عملی کے مطابق قابض طاقت کے خلاف جنگ کریں۔ چنانچہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد ابو بصیر اور ان کے ساتھیوں نے قریش کے ظلم وستم اور جبر کا انتقام لینے اور انھیں اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی پر آمادہ کرنے کے لیے اپنی جنگی کارروائیوں کو ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا تو مکہ اور مدینہ دونوں سے ہٹ کر ایک آزاد علاقے کو اپنا مرکز بنایا، تاکہ ان کے اقدامات کی ذمہ داری مکہ اور مدینہ کے مسلمانوں پر عائد نہ کی جا سکے۔ فقہا نے اس سے یہی اصول اخذ کیا ہے۔ ابن قدامہ لکھتے ہیں:

فیجوز حینئذ لمن اسلم من الکفار ان یتحیزوا ناحیۃ ویقتلون من قدروا علیہ من الکفار ویاخذون اموالہم ولا یدخلون فی الصلح (المغنی ۲۱/۱۳۱)
’’جو کفار اسلام قبول کر چکے ہوں، ان کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی علاقے میں الگ ہو جائیں اور جن کفار کو قتل کرنا اور ان کے مال چھیننا ان کے لیے ممکن ہو، چھینیں اور (کفار کے ساتھ صلح کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ) صلح میں شامل نہ ہوں۔‘‘

البتہ اس شرط کے عملاً پائے جانے یا نہ پائے جانے کے حوالے سے بعض صورتوں میں اجتہادی اختلاف کی گنجایش یقیناًرہے گی۔ مثال کے طور پر اگر مسلمانوں کے ارباب حل وعقد اقتدار غیر مسلم قابضین کے سپرد کر دیں تو یہ کہنا ایک حد تک قرین قیاس ہے کہ ارباب حل وعقد چونکہ مسلمانوں کے معتمد نمائندے ہیں اور انھوں نے اپنی نمائندہ حیثیت ہی میں یہ فیصلہ کیا ہے، اس لیے پوری قیم ان کے اس فیصلے کی پابندی کرنے کی مکلف ہے، لیکن اس پر یہ معارضہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ حکومت واقتدار کسی اجنبی طاقت کو سونپ دینے کا اختیار دراصل انھیں حاصل ہی نہیں تھا ، اس لیے عوام ان کے اس فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے پابند نہیں ہیں اور اگر وہ قابض قوت کے خلاف کوئی مزاحمتی جدوجہد کرنا چاہیں تو یہ اولوالامر کی اطاعت کے اصول کے منافی نہیں ہوگا۔ یہ اور اس طرح کی بعض دوسری مثالوں میں عملی صورت حال کی نوعیت کو طے کرنا اور اس کے لحاظ سے مذکورہ شرائط کے پائے جانے یا نہ پائے جانے کا فیصلہ کرنا بہرحال ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ اس کی تعیین کا نہ نظری طور پر کوئی حتمی پیمانہ موجود ہے اور نہ عام طور پر کسی صورت حال کو سیاہ اور سفید کے واضح خانوں میں تقسیم کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں Gray areas کا امکان بہرحال موجود رہے گا اور کسی مخصوص صورت حال پر اس حوالے سے کوئی حکم لگاتے وقت اس گنجایش کو لازماً ملحوظ رکھنا ہوگا جو کسی بھی حکم کے اطلاق کی صورت میں بالعموم موجود ہوتی ہے۔ بنیادی اور اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی گروہ اس اخلاقی اصول کو ہر حال میں ملحوظ رکھے کہ اس کے اختیار کردہ لائحہ عمل اورفیصلوں کی ذمہ داری اسی پر عائد ہو اور اس کے نتائج کسی دوسرے گروہ کو نہ بھگتنے پڑیں جو اس سے اتفاق نہیں رکھتا۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ۔

جہاد / جہادی تحریکات

نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۱۱ و ۱۲

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟
محمد مشتاق احمد

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر عبد القدیر خان

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں
محمد عمار خان ناصر

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج
مولانا مفتی محمد زاہد

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات
محمد زاہد صدیق مغل

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق
مولانا محمد وارث مظہری

مولانا فضل محمد کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

مکاتیب
ادارہ

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘
ادارہ

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی
ادارہ

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
ادارہ

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار
ادارہ

انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ