دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ

مولانا فضل محمد

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی اٰلہ واصحابہ اجمعین۔

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر صاحب (ریسرچ ایسوسی ایٹ قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور) کا ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: ’’پاکستان کی جہادی تحریکیں :ایک تاریخی وتحقیقی جائزہ‘‘۔ یہ مضمون باریک خط کے ساتھ ۳۰ صفحات پر مشتمل ہے اور ہر صفحہ میں اٹھائیس لائنوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔ اگر اس مضمون کو کاغذ کی سخاوت کے ساتھ لکھا جائے تو چالیس بڑے صفحات سیاہ ہو جائیں گے۔ مضمون نگار نے اس مضمون کو شاید اس غرض سے طول دیاہے کہ کوئی جواب لکھنے والے پہلے ہی مرعوب ہو جائے اور نفسیاتی دباؤ کے تحت دب جائے اور اگر لکھنے کی ہمت بھی کرے تو یہ مضمون حق و باطل کا ایسا آمیزہ اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ تکرار اور لفاظی کا ایسا ملغوبہ ہو کہ اس کا مؤاخذہ اور گرفت کرناآسان نہ ہو۔ 

مضمون نگار کا یہ مضمون تضادات پر مشتمل ہے اور اس پر ذاتی آرا اور اجتہادی رنگ بھی نمایاں نظر آرہاہے۔ اس میں فقہی غلطیاں بھی ہیں اور جہاد و مجاہدین کے خلاف توہین آمیز عبارات اور گستاخیاں بھی ہیں۔ فاضل محترم کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن پر کبھی فکریوں کا رنگ چڑھ آتا ہے تو کبھی ڈاکٹر اسرار کا فلسفہ کار فرما ہوتا ہے، کبھی وحیدالدین خان کے نظریات کی جھلک نظرآتی ہے توکبھی پروفیسر غامدی کا پَرتَو پڑتا ہے، کبھی وحدت ادیان کی وسعت نظر آتی ہے تو کبھی عدم تقلید کی آزادی جھلکتی ہے، اور چونکہ یہ مضمون شکست اور پسپائی کے دَورمیں لکھا گیاہے، اس لیے اس میں ایک دوسرے پر الزامات دھرنے کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ ایسے دَورمیں آدمی مایوسی کے سوا اور کیا لکھ سکتا ہے، اس لیے ’’قہر درویش بر جان درویش‘‘ کا جذبہ مضمون میں کار فرماہے۔ ایسے مضمون کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ ’’اتّسَعَ الْخَرْقُ مَعَ الرَّاقِعٖ‘‘ یعنی مضمون کی چادر میں جتنے ٹانکے لگاتے جائیں گے، چادرمزید پھٹتی چلی جائے گی۔ ایسے زخم زخم مضمون کے بارے کسی شاعر نے کیاخُوب کہا ہے: ’’تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجاکجانہم ‘‘ یعنی ساراجسم زخمی ہے، رُوئی کہاں کہاں رکھوں؟

مضمون نگار نے جگہ ’’ہمارے نزدیک‘‘، ’’ہماری راے کے مطابق‘‘، ’’ہم سمجھتے ہیں‘‘، ’’ہمارے خیال میں‘‘، ’’ہمارے مؤقف کے مطابق‘‘ اور ’’ہماری نظر میں‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار خود رائی کاکتنا خُوگر ہے اور اس پر اجتہادی رنگ کتنا غالب ہے۔ جب کوئی آدمی خودرائی اور خود پسندی اور خود فہمی کا اس قدر دعویدار ہو تو وہ جادۂ حق پر کیسے قائم رہ سکتاہے۔ میری اس تحریر میں جابجاقارئین کو سخت الفاظ ملیں گے۔ مجھے خود بھی اس پرافسوس ہے، لیکن یہ سب کچھ حافظ زبیر صاحب کی نوازش ہے جنہوں نے نہ کسی کو قابلِ احترام سمجھا اور نہ کسی کا لحاظ رکھا۔

مضمون نگار کی توہین آمیز عبارات 

اب میں فاضل مضمون نگار کی چند عبارات نقل کرتاہوں جس میں انہوں نے فقہی فتاویٰ اورجہاد ومجاہدین بلکہ بعض شرعی نصوص کی توہین کی ہے۔ 

گستاخی نمبر ۱

 صفحہ ۷۶  پر مضمون نگار لکھتے ہیں: ’’کسی نظریے یا نکتہ نظر کی صحت کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ اپنے مخاطب کو اس کی دلیل کے طور پر قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر سنا دی جائے۔ قرآن کو اپنے نکتہ نظر کی دلیل کے طور پر تو غلام احمد قادیانی بھی نقل کرتاہے اورغلام احمدپرویز بھی ۔۔۔ طالب جوہری بھی، غامدی بھی قرآن سے دلیل پکڑتے ہیں اور جہادی تحریکوں کے رہنما بھی‘‘۔

تبصرہ

میں حافظ صاحب کے اس غلط قیاس کے بارے میں اتناکہوں گا کہ انہوں نے جہاد کی واضح اور دو ٹوک آیتوں اور غلام احمد قادیانی اورپرویز وغیرہ کی واضح تحریفات کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈال کر قرآن کی آیتوں کی بھی توہین کی ہے اور جہاد مقدس کی بھی توہین کی ہے اور مجاہدین کو کافروں اور ملحدین کی صف میں کھڑا کر کے بڑی زیادتی کی ہے۔ ان صاحب کو فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ کیا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَکُرْہُٗ لَّکُمْ  میں کوئی ابہام یااشتباہ ہے کہ مجاہدین نے اس کو غلط طور پر استعمال کیا؟ اور کیا آپ خود اس آیت کے مخاطب نہیں؟ اگر مخاطب ہیں تو آپ نے اس آیت پر عمل کیوں نہیں کیا؟ اور اس حدیث پرعمل کیوں نہیں کیاکہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ جہاد کا جذبہ رکھا، وہ نفاق کے شعبہ پر مرا؟ کیا اس آیت اور اس حدیث میں کوئی ابہام ہے کہ مجاہدین نے اس سے اہل باطل کی طرح استدلال کیا ہے ؟ خدا کا خوف کرو۔ 

گستاخی نمبر ۲ 

صفحہ ۸۷پرمضمون نگار لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک ائمہ سلف کے ان فتادیٰ کاتعلق ہے جو کہ قتال کی فرضیت کے بارے میں مروی ہیں تووہ ایک خاص ماحول اور حالات کے تحت جاری کیے گئے جوآج موجود نہیں ہیں۔ قرآن وسنت دائمی ہیں، یعنی ان میں قیامت تک کے لیے رہنمائی موجود ہے لیکن ائمہ کے فتاویٰ کی شرعی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ ہر زمانے کے لیے قابل عمل ہوں۔‘‘ (ص ۷۸)

تبصرہ 

میں حافظ زبیرصاحب کی اس زہریلی عبارت اور گستاخانہ مؤقف کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ جن فقہاے کرام نے اور جن ائمہ سلف نے فتاویٰ جاری کیے ہیں، وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جاری کیے ہیں اور اس پر صدیوں سے اکابر علما عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ اب آپ امت مرحومہ کے لیے نئی فقہ متعارف نہ کرائیں بلکہ اسی فقہ کی روشنی میں زندگی گزاریں۔ اس میں آپ کے دین ودنیا دونوں کی بھلائی ہے۔ آپ کے قلم میں انتہائی گستاخی اورانتہائی عجب ہے اور دین سے لااُبالی پن اور قلب ودماغ میں انتہائی تعلّی ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کریں۔ نزول قرآن کے وقت جن لوگوں نے جہاد میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی تھی، ان کو قرآن نے منافق کہا ہے۔ یہ ایک خطرناک وادی ہے، اس میں سنبھل کر چلنا پڑے گا۔ حافظ صاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں جہاد سے متعلق فقہاے کرام کے جو فتاویٰ لکھے گئے ہیں، وہ سب منسوخ ہیں۔ یہی بات تو غلام احمد قادیانی کہتا ہے جس نے لکھا ہے :

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال 
دین کے لیے حرام ہے اب قتل وقتال 
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے 
اب جنگ اور جہاد کافتویٰ فضول ہے 
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے 
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے 
دشمن ہے وہ خداکا جو کرتاہے اب جہاد 
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد 

یہی بات غامدی کہتے ہیں اور وحیدالدین خان کا بھی یہی نظریہ ہے۔ سرسیّد احمد خان صاحب نے بھی یہی کہا ہے کہ شرعی احکامات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لیے عارضی احکامات تھے، ہمارے لیے نہیں۔ فقہاے کرام کے فتاویٰ کایہ حشر کرنا حافظ صاحب کی بڑی جسارت ہے۔ ہر جگہ قیاس کے گھوڑے دوڑانا بڑی غلطی ہے۔ شاعر کہتا ہے :

ہزار نکتہ باریک تر ز مو ایں جا است
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
نہ ہر جائے مرکب تواں تاختن 
کہ جاہا سپر باید انداختن

گستاخی نمبر ۳

’’دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کون سا آسمان سے نازل شدہ ہے کہ جس کا خلاف جائز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی جس کاشریعت سے سرے سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

تبصرہ

اس عبارت میں حافظ صاحب نے دارالحرب اور دارالاسلام کا مذاق اُڑا کر انکار کیا ہے۔ پھرعام فقہا کی توہین کی ہے کہ فقہا کی تحقیق کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ شریعت کے خلاف ہے، حالانکہ اس تقسیم پر تمام اُمت کا اتفاق ہے۔ محدثین، مفسرین اور فقہا نے دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کرکے ہر ایک کے لیے الگ الگ احکام بیان کیے ہیں۔ لگتاہے کہ حافظ صاحب غیرمقلدیت یا آزاد منش طبیعت کے مالک ہیں۔ دارالحرب اور دارالاسلام کی تفصیلی بحث حافظ صاحب کی چھٹی غلطی کے تحت آرہی ہے۔

گستاخی نمبر ۴

 صفحہ ۹۱ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں : ’’اگر کوئی مؤمن اپنے مشاہدے، تجزیے اور تجربے کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالتاہے کہ جس قتال کا وہ حصہ ہے یا حصہ بننے جا رہا ہے، اس سے کسی جہادی تحریک کے رہنماؤں کے مفادات وابستہ ہیں یاکسی جہادی تحریک کے لیڈر علما اور قتال کو فرض عین کہنے والے مفتی حضرات حبّ جاہ ، حبّ مال اور اپنے وی آئی پی پروٹوکو ل کی خاطر قتال کے لیے نوجوانوں کو تیار کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود اور اپنی اولاد کو اسی قتال کی سعادت سے محروم رکھتے ہیں تو ایسے شخص پر فرض عین ہے کہ قتال کے نام پر ہونے والے اس ظلم سے ممکن حد تک دُور چلا جائے۔‘‘

تبصرہ

یہ لمبی عبارت ہے۔ میں نے اس کے مبتدا کے ساتھ اس کی خبر کو جوڑ کر لکھا ہے۔ اس کے جواب میں اتنا عرض ہے کہ حا فظ زبیر صاحب کا سینہ جہاد کے لیے اتنا تنگ کیوں ہے کہ وہ جہاد کے میدان میں اُترنے والے مجاہدین کی نیّتوں پر شبہ کرنے لگے ہیں، جبکہ مسلمانوں کو اسلام حکم دیتا ہے کہ کسی مسلمان پر بدگمانی نہ کرو، بلکہ نیک گمان رکھو ۔ ایک حدیث میں ہے کہ مجاہدین کی بیویوں کا احترام عام مسلمانوں پر اپنی ماؤں کی طرح واجب ہے۔ حافظ صاحب نے اپنے زہریلے اور نفرت انگیز کلام میں علما اور مفتیان کرام کو حُبّ جاہ، حُبّ مال اور پروٹوکول حاصل کرنے کا طعنہ دیا ہے۔ کاش کسی موقع پر حافظ صاحب بھی باوضو ہوکر میدان جہاد میں اُتر کر یہ پرو ٹوکول حاصل کریں۔ کاش حافظ صاحب کا یہ زہرآلود قلم مجاہدین کے بجائے امریکہ اور عالم کفر کے ان ممالک کی طرف متوجہ ہو جائے جنہوں نے اطراف عالم میں مسلمانوں کی عزّت وعظمت اور دین ومذہب کو پامال کیا ہے۔ کیاحافظ صاحب کو اس دنیا میں تنقید اورعیب جوئی کے لیے صرف مجاہدین نظر آئے ہیں؟ اور کیا حافظ صاحب کو مجاہدین کی یہ قربانی نظر نہیں آتی کہ جہادی کمانڈروں کے ہزاروں بھائی اور بیٹے اس میدان میں شہید ہوچکے ہیں؟حافظ صاحب کو یہ بھی گوارا نہیں کہ جو مجاہدین تقدیرالٰہی کے مطابق زندہ ہیں، وہ کیوں زندہ ہیں۔ حافظ صاحب ! کیاآپ حقیقت سے اندھے ہیں؟ آپ کو جلال الدین حقانی صاحب کا پورا کنبہ شہادت کے میدان میں نظر نہیں آتا۔ مگر کیا کیا جائے، نفرت وعداوت بُری بلاہے۔ حافظ صاحب نے جہاد و قتال کو ظلم کے نام سے یاد کیاہے، یہ ملحدین کی زبان ہے جو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔ 

گستاخی نمبر ۵

صفحہ ۹۱ کی اسی عبارت کے دوسرے حصے میں حافظ صاحب جہاد سے اپنی نفرت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں: ’’معصوم، لاعلم اور سیدھے سادھے جذباتی نوجوانوں کے لیے ان تحریکوں کے معسکرات ایسے خرکار کیمپ ثابت ہوتے ہیں جو ان کو جبراًفریضہ قتال کی ادائیگی پر مجبور کرتے ہیں‘‘۔ 

تبصرہ 

حافظ زبیرصاحب نے جہاد مقدس کے معسکرات اور ٹریننگ سینٹروں کو خرکار کیمپ کہہ دیا ہے۔ اس طرح کا اظہار تو شاید بش نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ نہ معلوم حافظ صاحب کس کے زہریلے لعاب سے ماؤف الدماغ ہو گئے ہیں۔ جس ٹریننگ کو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں قائم کیا تھا اور مدینہ منورہ کی گلی گلی میں اس کے فضائل ومسائل بیان ہوتے تھے اور خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہادی ٹریننگ میں حصہ لیا تھا، اسے جیسے مقدس عمل کو جو آدمی خرکار کیمپ کہتاہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ آدمی کفر کی سرحدوں کو چھو رہاہے! کیا نفرت کے اظہار کے لیے حافظ صاحب کے پاس کوئی نرم کلمہ نہیں تھا؟ اور کیا حافظ صاحب نے کبھی افغانستان وعراق اور فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں اس وقت یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں کے قائم کردہ ٹریننگ سینٹروں کو خرکار کیمپ کے نام سے یاد کیا ہے؟ اگر کوئی شخص حافظ صاحب کو یہ کہہ دے کہ جناب جہاد کے میدان سے پیچھے ہٹ کر آپ جس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں، شاید وہ خرکار کیمپ ہے تو حافظ صاحب کیا جواب دیں گے ؟ 

حافظ صاحب نے اس مقام پر لکھا ہے کہ مجاہدین جبری طور نوجوانوں کو جہاد کے لیے لے جاتے ہیں۔ یہ بات قطعاًغلط ہے۔ حافظ صاحب اگر ان نوجوانوں کے زار وقطار رونے کو دیکھ لیتے جن کو جہاد و قتال کے لیے اجازت نہیں ملتی اور پھر شب بیداری میں ان نوجوانوں کی شہادت کے لیے رو رو کر دعائیں سن لیتے تو وہ کبھی اس طرح کا غلط جملہ نہ لکھتے ۔ جناب حافظ صاحب ! اگر آپ کو ہزاروں مجاہدین میں کہیں ایک واقعہ اس طرح کا ملا ہو تو کیا آپ کی عقل و دانش اور قرآن اکیڈمی کے محقق ہونے کا یہی انصاف ہے کہ آپ کے نزدیک سارے مجاہدین ایسے ہیں! مگر کیا کیا جائے۔ نفرت بری بلاہے، اس نفرت کے اظہار کے باوجود حافظ صاحب بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ میں جہاد کا انکار نہیں کرتا، مگر میں مجاہدین کو نہیں مانتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز اچھی چیز ہے، مگر اس کا پڑھنے والا اچھا نہیں ہے، حج اچھاعمل ہے مگر حاجی اچھا نہیں، اسلام اچھا ہے مگر مسلمان اچھا نہیں، ایمان اچھاہے مگر مؤمن اچھا نہیں، جہاد اچھا ہے مگر مجاہد اچھانہیں۔ بھائی! یاد رکھو یہ تمام اعمال، اوصاف اور صفات ہیں۔ جو آدمی ان کے ساتھ متصف ہے اور یہ صفات اس میں آگئیں تو اس کو اسی صفت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب اس کی مدح یا مذمت اسی صفت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو شخص کہے گا کہ مجاہدین برے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں میں جہاد کی صفت ہے، اس صفت والے برے ہیں۔ اگر حافظ صاحب کو کسی آدمی کی بُرائی کرنی ہے تو اس کو اس کے خاندان یاقوم کے نام سے کیوں یاد نہیں کرتے؟ جہاد کرنے والا مجاہد ہے، جہاد کی وجہ سے اس کو مجاہد کہتے ہیں۔ آپ نے اگر جہاد کے میدان میں قدم نہیں رکھا تو آپ کو کو ن مجاہد کہہ سکتاہے؟ یاد رکھو! جہاد میں کیڑے نکالنے والامنافق ہوتاہے۔ اللہ کا خوف کرو! ان پاکیزہ لوگوں کو خرکار کیمپ سے یاد نہ کرو! خداکی قسم، ان کے خون سے خوشبو اُٹھتی ہے!

گستاخی نمبر ۶

 صفحہ ۹۴ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’جہادی کشمیری تحریکوں کے مفتیان کرام نے عرصہ دراز سے یہ رٹ لگا رکھی ہے کہ جہاد کشمیر فرض عین ہے ۔۔۔ جہاد فرض عین کا فتویٰ دینے والے مفتی صاحب جہادی تحریک کے کسی مدرسے میں بیٹھے سارا سال بخاری پڑھاتے ہیں۔ یہ حضرات یاتو فرض عین کا مطلب نہیں سمجھتے یا ان کا علم، ان کی عقل سے مستغنی ہے۔ اگر یہ مفتی حضرات اپنی اوراپنے امرا کی قتال سے جان بچانے کے لیے کتاب الحیل کا سہارا نہ لیں....‘‘۔ آگے حافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’لیکن جہادی تحریکوں کے مفتیان کرام و امرا کے لیے بخاری پڑھانا یا میجر جنرل کے اعزازی عُہدے کی سہولت و پروٹوکول سے فائدہ اُٹھانا ہے۔ ‘‘

تبصرہ

حافظ صاحب کی اس نفرت انگیز عبار ت سے میں نے چند چبھنے والے حقار ت آمیز جملے نقل کر دیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس فصاحت وبلاغت اور سلیقے کے ساتھ حافظ صاحب مسلمانوں میں اپنا زہریلا لعاب پھینک رہے ہیں۔ ’’رٹ لگا رکھی‘‘ کا جملہ علما اور مفتیان کرام کے حق میں کتنی بڑی گستاخی ہے! پھر بخاری پڑھانے اور اس کی تدریس کو کس حقارت کے ساتھ بیان کیا ہے! پھر کتاب الحیل کے لفظ سے فقہاے احناف پر کس قدر ہتک آمیز طنز کیا ہے! آگے میجرجنرل کے جملہ اور پروٹوکول کے الفاظ سے علما اور مجاہدین کی کس طرح تذلیل کر رہے ہیں۔ حالانکہ حافظ صاحب نے جہاد فرض عین کا مفہوم اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ تمام چالاکیوں اور پورے زور قلم کے باوجود حافظ صاحب نہ فرض عین کو پہچان سکے اورنہ فرض کفایہ کو جان سکے۔ حافظ صاحب پر فرض ہے کہ وہ ہدایہ کی شرح فتح القدیر میں فرض عین کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں ! یہ تو جہلا کا پُرانا الزام ہے کہ جہاد اگر فرض عین ہے تو سارے لوگ ایک ساتھ کیوں نہیں نکلتے؟ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ فرض عین کا مطلب یہ ہے کہ ایک طبقہ جائے گا، دوسرا تیارکھڑا ہوگا۔ ان کی واپسی پر یہ جائے گا۔ جس طرح حج فرض عین ہو جاتا ہے، مگر حاجی اس سال نہیں بلکہ آئندہ سال جاتا ہے۔ تو کوئی جاتا ہے، کوئی آتاہے۔ میدان بھی گرم رہتا ہے اورپیچھے معاشرہ بھی قائم رہتاہے۔ 

حافظ صاحب کو یہ بات نہ سمجھنے پر اور پھر علما پر الزام دھرنے پر خدا سے معافی مانگنی چاہیے اور ان مجاہدین سے بھی جن کو انھوں نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے مورد طعن ٹھہرایا ہے۔ اس بحث میں حافظ صاحب نے بار بار کہا ہے کہ یہ علما فرض عین کا مفہوم نہیں جانتے، حالانکہ حافظ صاحب کو خود عدم علم کے اندھیرے نے گھیر رکھا ہے اور ان کویہ معلوم نہیں ہے کہ قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ نے اہل علم اورعلما کو سورہ توبہ میں ایک حد تک جہاد سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومہم‘‘۔ 

میں کہتاہوں کہ البحر الرائق میں کتاب الجہاد میں یہ فتویٰ موجود ہے کہ امراۃ مسلمۃ سبیت بالمشرق وجب علیٰ اھل المغرب تخلیصھا من الاسر ما لم تدخل دارالحرب (ج ۵ صفحہ ۷۲) ’’اگر مشرق میں کفار نے کسی مسلمان عورت کو قید کر لیا تو اس کے چھڑانے کے لیے مغرب تک مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہو جائے گا‘‘۔ میں پوچھتاہوں کہ اس وقت ہزاروں مسلمان خواتین جو کافروں کی قید میں ہیں، کیااب بھی حافظ صاحب پر جہاد فرض عین نہیں ہو ا؟ اگر ہوا ہے تولاہور میں کیوں بیٹھے ہیں؟ اوروں کو الزام دینا آسان ہے، اپنے گریبان میں دیکھنا مشکل ہے۔ کسی نے سچ کہاہے : ہم الزام ان کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا۔

حافظ صاحب کی چند غلطیاں 

اس مضمون میں حافظ صاحب نے چند غلطیاں کی ہیں۔ میں مختصر طور پر ان کا تذکرہ کروں گا اور مختصر جواب دوں گا، مگر انتہائی اختصار کے باوجود مجموعی مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے کیونکہ حافظ صاحب کا ہر جملہ نفرت کی داستان ہے۔

پہلی غلطی

حافظ زبیر صاحب نے اپنے مضمون کی ابتدا میں صفحہ ۷۶پر لکھا ہے: ’’مولانا فاروق کشمیری اور قاضی حفیظ صاحب کے شریعت اسلامیہ کے حکمِ جہاد کے حق میں جذبات قابلِ قدر ہیں، لیکن ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا کہ سیف الحق صاحب کی تحریر کو شائع نہیں کرنا چاہیے تھا، ایک بالکل غیر شرعی، غیر اخلاقی اور غیر علمی رویہ ہے۔‘‘

جواب

حافظ صاحب کی اس تحریر کا پس منظر یہ ہے کہ ماہنا مہ ’’الشریعہ‘‘ کے اپریل ۲۰۰۸ ء کے شمارے میں ایک شخص جناب سیف الحق صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ سیف الحق صاحب نے اس مضمون میں طالبان، افغانستان اور ملا عمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اسی طرح اس میں القاعدہ اور اسامہ بن لادن پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ جناب فاروق کشمیری صاحب اور قاضی حفیظ صاحب نے ان حضرات کا دفاع کیا تھا اور الشریعہ کے منتظمین حضرات سے خط کے ذریعہ گلہ کیا تھا کہ ایک مذہبی رسالے میں مسلمانوں کے راہنماؤں اور جہادی میدان میں سربکف ہو کر ڈٹ جانے والوں کے خلاف اس طرح مضامین چھاپنا اچھا نہیں ہے۔ اس پر حافظ زبیر صاحب تھیلی سے باہر آگئے اور نہوں نے وہ کچھ لکھا جو آپ کے سامنے ہے۔ مندرجہ بالا عبارت میں حافظ زبیر صاحب نے فاروق کشمیری صاحب کے اس گلہ کو غیر شرعی کہا ہے۔ گلہ یہ تھا کہ ’’الشریعہ ‘‘رسالہ میں یہ مضمون نہ چھاپنا اچھا تھا کہ اس میں جہاد اور مجاہدین پر بلاوجہ تنقید کی گئی تھی۔ اس کو حافظ زبیر صاحب غیر شرعی کہتے ہیں۔ تعجب سے لکھنا پڑتا ہے کہ اس میں شرعی اور غیر شرعی کا ضابطہ کہاں سے آگیا! کیا کسی رسالے میں مضامین کو چھاپنے نہ چھاپنے کے بارے میں رائے ظاہر کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی نص کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کراچی میں ایک مسجد کا نمازی جمعہ کے دن صف میں کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ اس مسجدکی کمیٹی کو میں نہیں مانتا، اس لیے کہ یہ غیر شرعی ہے۔ حافظ صاحب نے تو یہاں یہ کمال بھی کیا کہ صرف غیرشرعی نہیں کہا، بلکہ بالکل غیر شرعی کہہ دیا۔ بھائی صاحب! پہلے شرعی اور غیر شرعی کو سمجھا کرو، پھرفتویٰ تھوپا کرو۔ اسی طرح معاملہ ’’غیراخلاقی‘‘ کے الفاظ کا ہے کہ پہلے اخلاق کی تعریف جاننا چاہیے، پھر اخلاقی اورغیر اخلاقی کا فتویٰ لگانا چاہیے۔ کیا اسامہ بن لادن اور ملّا عمر پر رکیک حملے کرنا عین اخلاق اور دیانت و امانت ہے؟ اور حیلے بہانے تراش کرجہاد کے میدان کو کمزور کرنا اخلاق ہے اور اس کا دفاع بد اخلاقی ہے؟ اسی طرح معاملہ ’’غیرعلمی‘‘ کے کلمے کا ہے کہ یہاں علم کے کون سے سمندر کی ضرورت تھی اور علم صرف و نحو اور علم فصاحت و بلاغت اور علم فلسفہ ومنطق کے کس قاعدہ کی ضرورت تھی کہ اس کو ایک دم غیر علمی کے الفاظ سے نوازا گیا!

اس مقام پر حافظ زبیر صاحب نے دنیاے معلومات میں ایک نئے معلوم کا اضافہ کر دیا ہے کہ جہاد و مجاہدین میں اسی طرح فرق ہے جس طرح اسلام اور مسلمان کے عمل میں فرق ہے، لہٰذا وہ جہاد کو بُرا نہیں کہتے بلکہ مجاہدین کو بُرا کہتے ہیں۔ یہ عجیب منطق ہے جس کی آڑ میں ہر نیک کام پر تنقید کا ایک آسان اور وسیع میدان مل گیا کہ اسلام اچھا مذہب ہے، مگر اس کے ماننے والے اچھے نہیں ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اچھے کام ہیں، مگر نمازی، روزے دار اور زکوٰۃدینے والے اور حج کرنے والے مسلمان بُرے ہیں۔ جہاد اچھا کام ہے، مگر جہاد کرنے والے مجاہد اچھے نہیں ہیں۔ تنقید کرنے کا یہ عجیب نسخہ مل گیا۔ گویا وہ آدمی حق بجانب ہے جو یہ کہہ دے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی اچھی کتاب ہے، لیکن قرآن اکیڈمی میں خدمت کرنے والا حافظ زبیر بہت برا آدمی ہے۔ میں پہلے گستاخی نمبر ۵ کے جواب میں لکھ چکاہوں کہ جہاد ایک صفت ہے۔ جوشخص جہاد کرتا ہے، اسی کو مجاہد کہتے ہیں تو مجاہد کی بُرائی بیان کرنا جہاد کی صفت کی وجہ سے ہے۔ اگر آپ کوجہاد بُرا نہیں لگتا بلکہ مجاہد بُرا لگتا ہے تو اس مجاہد کو اس کے دوسرے پیشے یا اس کے اصل خاندان کی وجہ سے تنقید کا نشانہ کیوں نہیں بناتے اور یہ کیوں نہیں کہتے ہو کہ یہ آدمی تاجر ہے، اس لیے برا ہے اور یہ آدمی اس بُرے خاندان کا فرد ہے، اس لیے براہے۔ 

دوسری غلطی 

رسالہ کے صفحہ ۸۳ پر حافظ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اصل صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے والے طالبان کو حکومت پاکستان اور آئی ایس آئی نے پشت پناہی فراہم کی تھی۔‘‘

جواب

حافظ صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے افغانستان کے طالبان کو امریکہ کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑا کیا تو امریکہ نے کامیاب پالیسی کے تحت پاکستان سے لڑنے کے لیے مقامی طالبان کو پیدا کیا۔ حافظ صاحب نے یہاں بھی ایک خلاف واقعہ بات لکھ دی ہے۔ وہ یہ کہ حکومت پاکستان نے امریکہ کے خلاف طالبان کی پشت پناہی کی، حالانکہ طالبان کی حکومت گرانے میں حکومت پاکستان امریکہ سے دو قدم آگے تھی اور آج تک امریکہ کی خوشنودی کے لیے پاکستان مکمل طور پر طالبان کے خلاف اس جنگ میں شریک ہے۔ کیاپاکستان کے متعدد ائیر پورٹ اب بھی امریکہ کے قبضے میں نہیں جہاں سے وہ طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کرتا ہے اور کیا کراچی بندر گاہ سے براستہ پشاو رتمام جنگی سامان طالبان کو مارنے کے لیے حکومت پاکستان کی اجازت سے افغانستان نہیں جا رہا؟ 

اصل میں حافظ صاحب کے سینے میں جو دل ہے، وہ امریکہ کے لیے کچھ نرم نظر آتا ہے۔ گویا یہاں بھی حافظ صاحب یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے طالبان کے ذریعے امریکہ کو مارنا چاہا، لہٰذا امریکہ نے پاکستان کو مارنے کے لیے مقامی طالبان کو کھڑا کیا اور امریکہ اپنی چال میں کامیاب رہا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ’’قبائلی علاقوں میں ایک نئی طالبان تحریک کو حکومت پاکستا ن کے خلاف کھڑا کر کے ان کی چال کو انہی کے خلاف الٹ دیا۔‘‘ دیکھیے، یہاں حافظ صاحب کس چالاکی سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ اس نے پہل کی اور امریکہ کے خلاف طالبان کو منظم کیا تو امریکہ نے پاکستا ن کے خلاف طالبان کو کھڑا کردیا۔ گویا امریکہ جو کچھ کررہا ہے، یہ ایک رد عمل ہے جس میں وہ حق بجانب ہے۔ میں کہتا ہوں حافظ صاحب! ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ خون کی یہ لکیر کہاں سے چل کر ہمارے ہاں آئی ہے۔ یاد رکھو! خون کی یہ ندی فلسطین کے صابرہ اور شتیلہ کیمپوں سے بہہ کر، بوسنیا سے گزر کر عراق پہنچی، پھر افغانستان پہنچی اور اب پاکستا ن میں بہہ رہی ہے۔ خداکے بندے! آپ کو ظلم کے یہ پہاڑ نظر نہیں آتے اور مظلوم مسلمانوں کی ہمدردی میں آپ کا دل کبھی نہیں دھڑکتا!خوب سمجھ لو،جہاں امریکہ جائے گا، وہاں ظلم کے پہاڑ مسلمانوں پر ٹوٹیں گے اور وہیں سے خود کش حملہ آور اور بقول آپ کے جذباتی لوگ بھی پیدا ہوں گے۔

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تری آنکھ نے قدرت کے اشارات 
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے 
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات 

آپ کا یہ کہنا سو فیصد غلط ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے خلاف افغانستان میں طالبان کو کھڑا کیا۔ آپ خود بتائیں کہ یہ کب اور کہاں پر ہوا؟ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ صلیبی استعماری قوتوں کے منصوبے ہیں جس پر وہ لوگ کار بند ہیں۔ ہاں جگہ جگہ ان کے راستوں میں مجاہدین کی کچھ رکاوٹیں ہیں جن پر آپ ناراض ہیں۔ اگرناراض نہیں ہیں توگناہوں کا سارا ملبہ آپ مجاہدین پر ڈالنے کے بجائے ظالم امریکہ پر کیوں نہیں ڈالتے جو سات سمندر پار سے آکر مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے؟ 

اسی طرح حافظ صاحب نے اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ ’’لال مسجد کے جہادکو ہم ایک بڑی غلطی سمجھتے ہیں‘‘۔ حافظ صاحب کے لکھنے کا یہ مطلب ہوا کہ لال مسجد میں جو ظلم ہو ا، وہ ظلم نہیں تھا بلکہ سارا گناہ ان بے گناہ بچیوں کا تھا جو ظلم کا نشانہ بنیں۔ دنیا میں جس مرد وعورت نے اس ظلم کو دیکھا، اس نے غلطی کا ذمہ دار حکومتی تشددکو قرار دیا اور ان بے گناہ افراد کو مظلوم قراردیا، مگر حافظ صاحب ساری غلطی اُن مظلوموں پر ڈالتے ہیں، حالانکہ جس حکومت نے یہ اقدام کیا تھا، وہ خود اقرار کر چکی ہے کہ یہ اُن کی بڑی غلطی تھی۔ حافظ صاحب نے اس کو جہاد کے نام سے یاد کیا جس سے معلوم ہو ا کہ حافظ صاحب کو جہاد اور کسی اصلاحی تحریک کا فرق معلوم نہیں ہے۔

تیسری غلطی

رسالہ کے صفحہ ۸۴ پر حافظ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’طالبان تحریک سے بہت سے گروہ نظریاتی اختلافات کی بنا پر علیحدہ ہو کر چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں تقسیم ہوتے گئے۔‘‘

جواب

حافظ صاحب نے یہاں بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کے طالبان کاکوئی معروف ذمہ دار نہ بکا ہے اورنہ جھکاہے۔ ان میں نفاق ڈالنے کے لیے پوری دنیا نے ایڑی چوٹی کازور لگایا مگر طالبان تحریک کا اجتماعی ڈھانچہ الحمد للہ اب تک برقرارہے ۔ باقی جو دھڑے پاکستان میں حافظ صاحب کو نظر آرہے ہیں، یہ اپنے اپنے انداز سے ظلم کے مقابلے کے لیے میدان عمل میں آگئے ہیں۔ یہ طالبان کے بنیادی ڈھانچہ سے علیحدہ لوگ نہیں بلکہ اسی بنیاد کی مختلف شاخیں ہیں۔ ان میں بہت کمزوریاں ہوں گی مگر میں حافظ صاحب سے پوچھتاہوں کہ کمزوریوں سے کون پاک ہے؟اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر آسمان سے یہ فریضہ عائد ہو گیاہے کہ آپ اپنی تمام توانائیاں انہیں کے خلاف استعمال کریں! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اگر کسی کافرکو کسی مسلمان عورت یا کسی گمنام مرد نے پناہ دے دی تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ اُس کا احترا م کریں۔ افغانستان سے آئے ہوئے عرب مجاہدین کو اگر قبائلی علاقوں میں مسلمانوں کے سرکردہ قبائلیوں نے پناہ دے دی تو اس پر کسی کافر یا کسی مسلمان کو اعتراض کرنے کاحق نہیں ہے۔ پھر آپ نے رسالہ کے صفحہ ۸۴ اور ۸۵ پر ان بے بس پردیسی مسلمانوں پر انتہائی رکیک حملے کیوں کیے اور بش کے بجائے امن کو تباہ کرنے کی ساری ذمہ داری ان مسکینوں پر کیوں ڈالی؟ آپ ظلم کی تلوار کو حق بجانب قرار دیتے ہو اور مظلوم کے دفاع کو فساد اور مسائل پیداکرنا قرار دیتے ہو۔ آپ خود بتادیں کہ آپ کے پاس اس ظالم کا کیا علاج ہے؟

آپ اگر اس کو مانتے ہیں کہ افغانستان پر امریکہ کی سرکردگی میں کفار کے ۳۷ ممالک نے حملہ کرکے ظلم کیاہے تو آپ کو یہ بھی ماننا ہو گا کہ ان مظلوموں کی مدد کے لیے جانا مسلمانوں پر لازم ہے۔ اب جس راستے سے، اور جس وقت بھی کوئی مجاہد جانا چاہتا ہے، اس کو راستے میں اپنی حکومت کے کارندے مارتے ہیں اور گرفتار کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتاہے کہ یہ لوگ مقامی افواج سے الجھ جاتے ہیں۔ آپ نے کبھی اس کو سوچا ہے کہ امریکہ جب افغانستان پرقبضہ کے لیے نہیں آیا تھا تو پاکستانی علاقوں میں لوگ پاکستانی افواج کو سلام کرتے تھے اور ان کا استقبال کرتے تھے۔ پہاڑوں، چٹانوں اور ٹرکوں پر لکھا ہوتا تھا کہ ’’پاک فوج کو سلام ‘‘لیکن جب امریکہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان میں اُتر آیا اور ظلم کا بازار گرم ہوا اور بعض دنیا پرست لیڈروں اور حکمرانوں نے امریکہ سے ڈالر وصول کیے اور حکومت پاکستان نے ان مسلمان مجاہدین کو امریکہ کے حکم پر گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا یا قتل کیا تو یہ ٹکراؤشروع ہو گیا۔ اب آپ کا سارا زور اس پرہے کہ ساری غلطی مجاہدین کی ہے۔ آپ درختوں کی شاخوں کو جھاڑنے کے بجائے درخت کی جڑو ں کو کیوں نہیں کریدتے کہ آپ کو فساد کی اصل جڑ نظر آجائے؟ وزیرستان میں آئے ہوئے عرب اگر اس لیے مجرم ہیں کہ وہ غیر ملکی ہیں تو امریکہ اور اس کے اتحادی جو افغانستان اور پاکستان میں اُتر آئے ہیں، کیا وہ ملکی ہیں؟ کیا وہ کسی اتحادی افواج کے نطفے سے پیدا ہوئے ہیں یا کسی شادی کی تقریب میں آئے ہیں؟ اگر اتحادی افواج کو مارنا جائز نہیں ہے تو وہ جن بے گناہ افغانوں کو شادی کی تقریبات میں اور عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو دن رات میزائلوں اور بموں سے نشانہ بناتے ہیں، کیایہ جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو آپ کا قلم کیوں خاموش ہے بلکہ جوڑ توڑ کر کے گناہ کا سارا ملبہ بے گناہ مجاہدین پرڈالتے ہو۔ کیاآپ کو خدا کا خوف نہیں کہ مظلوموں کے زخموں کے علاج کے بجائے ان پر نمک پاشی کر رہے ہو! اگر مسلمانوں نے اپنے علاقے میں ایک مسلمان کو پناہ دی ہے تو اس پر یا امریکہ ناراض ہے یا آپ ناراض ہیں۔ آپ کو سلمان رشدی ملعون اور تسلیمہ نسرین اور ظالم جنرل عبدالمالک نظر نہیں آتے جن کو امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے ہاں پال رہے ہیں؟ کیاآپ نے کبھی اس پر لکھا ہے یا کبھی احتجاج کیا ہے؟

چوتھی غلطی

صفحہ ۸۵ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ہم پہلے ہی اسلام دشمنوں سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔‘‘

جواب

 میں پوچھتا ہوں کہ آپ کب لڑنے کی پوزیشن میں تھے یاکب لڑنے کی پوزیشن میں آؤ گے؟ آپ یہی کمزور فلسفہ حکمرانوں اور نوجوانوں کے دل و دماغ میں بٹھاتے جائیں اور پھر گھر میں بیٹھ کر قورمے کھاتے جائیں، لیکن اتنی بات یاد رکھیں کہ اس فلسفہ سے آپ کو دشمن کبھی معاف نہیں کرے گا! آ پ کو چاہیے کہ زور بازو پیدا کر کے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کریں۔ 

زور بازو آزما، شکوہ نہ کر صیّاد سے 
آج تک کو ئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے 

آپ نے اس مضمون میں مجاہدین کو خطرات سے غافل بلّی قرار دیا ہے، پھر خود گھبرا کر فریاد کر رہے ہو! کیا آپ کے پاس ایٹم بم نہیں ہے؟ کیاآپ کے پاس گیارہ لاکھ فوج نہیں ہے؟ کیا آپ کے پاس ہزاروں میل تک مارکرنے والے میزائل نہیں ہیں؟ کیاآپ کے پاس ایف سولہ طیارے نہیں ہیں؟ کیاآپ کے پاس ایمانی قوت نہیں ہے؟ کیاآپ کو معلوم نہیں کہ یہ کہ یہی جملہ صدر پرویز نے کہاتھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اپنا ملک سب سے مقدم ہے، طالبان کوئی چیز نہیں ہے۔ کیاآپ نے دیکھا نہیں کہ کفار نے آپ کو سارے تعاون کے باوجود معاف نہیں کیا اور اب آپ کے ملک میں بغیر جنگ کے آسانی سے گھس گیا؟ دشمن کو دعوت دینے والے آپ لوگ ہیں جنہوں نے کافروں سے مل کر طالبان کو گرا دیا اور ملکی سرحدات کو غیرمحفوظ بنا دیا۔ آپ کے نظریہ کے مطابق حضرت حسین کا یزید کی افواج سے مقابلہ تو بالکل ناجائز ہو گا، کیونکہ وہ تو بالکل بغیر سازوسامان کے نکلے تھے اور لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھے! 

آپ نے اپنے مضمون میں جگہ جگہ لکھا ہے کہ پاکستان کے پاس اسباب اور وسائل موجود ہیں، اس کے پاس طاقت ہے، لہٰذا مجاہدین کو نہ انڈیا سے لڑناچاہیے اور نہ کسی اور دشمن سے لڑنا جائز ہے، بلکہ یہ کام حکومت خود کرے، کیونکہ ان کے پاس اس کی صلاحیت و استطاعت موجود ہے اور فوج اس کام کے لیے تنخواہ بھی لیتی ہے۔ آپ کبھی اس طرح لکھتے ہو ا اور کبھی لکھتے ہو کہ ملک کمزور ہے، ہم کسی سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ آپ کامضمون تضادات سے بھر اپڑا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حافظ زبیر صاحب ایک شکست خوردہ ذہنیت کے مالک ہیں۔ کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ ستر سال سے اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں ہر قسم کے مظالم ڈھاچکے ہیں مگر وہ فلسطین کو قابو نہ کر سکے ا ور جنگ تا حال جاری ہے؟ یہی حال عراق کا ہے اوریہی حال افغانستان کا ہے، بلکہ اب تو دنیا کہہ رہی ہے کہ امریکہ اوراتحادی قوتیں شکست کھا چکی ہیں۔ خود امریکہ کے اند ر اس کے دانشور امریکہ کی ناکامی کا اعلان کر رہے ہیں، لیکن حافظ زبیر صاحب کی جرأت کو سلام ہو کہ وہ اب بھی کفار کے سامنے مسلمانوں کی بے بسی اور عاجزی اور ذلت کے مضامین جاری کر رہے ہیں۔ کیاان کو روس کے انجام کا علم نہیں ہے کہ سوویت یونین دنیا کے نقشے سے غائب ہو گیا ہے؟ اس کے مقابلے میں گولیاں کھانے والے اور گولیاں چلانے والے یہی مجاہدین تو تھے، خواہ حالات آج سے مختلف کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللّہ‘‘۔

جب کچھ نہ بن پڑا تو ڈبو دیں گے سفینہ 
ساحل کی قسم منتِ طوفاں نہ کریں گے 
حوادث سے الجھ کر مسکرانا میری فطرت ہے 
مجھے دشواریوں پر اشک برسانا نہیں آتا 

پانچویں غلطی

صفحہ ۸۵ پر حافظ زبیر صاحب نے بخاری ج ۲ ص۷۵۶ سے ایک حدیث کا ترجمہ نقل کیاہے اور مجاہدین کو اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ ’’آخری زمانے میں ایک جماعت ایسی ہو گی جو کہ نوجوانوں اور جذباتی قسم کے احمقوں پر مشتمل ہو گی‘‘۔ 

جواب

حافظ صاحب نے دانستہ اس حدیث کے ترجمہ میں تحریف کی ہے اور اپنے مطلب کے الفاظ مثلاً ’’جذباتی قسم کے احمقوں‘‘ اس میں داخل کیے ہیں۔ اس میں ’’جذباتی قسم‘‘ کے لیے حدیث کے متن میں کوئی لفظ نہیں ہے۔ اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مجاہدین جذباتی ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ عبارت کہ ’’وہ قرآن سے بہت زیادہ استدلال کریں گے‘‘ یہ ترجمہ حافظ صاحب کا خانہ ساز ہے۔ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے بھی حافظ صاحب یہ تاثر دیناچاہتے ہیں کہ مجاہدین بے موقع آیتوں کااستعمال کرتے ہیں۔ ’’پس یہ جہاں بھی تمہیں ملیں، تم ا ن کو قتل کر دو‘‘ یہ تر جمہ تو صحیح ہے، لیکن حافظ صاحب اس سے افواج پاکستان وغیرہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جذباتی مجاہدین کو قتل کرنا بخاری کی حدیث سے ثابت ہے، کیونکہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں۔ اس میں حافظ صاحب نے واضح خیانت کی ہے، کیونکہ اس حدیث کاتعلق خوارج کے ساتھ ہے جن کے ساتھ حضرت علیؓ کی جنگیں ہوئیں اور قصہ ختم ہو گیا۔ آئندہ بھی اگر اس قسم کے لوگ آئیں گے یا موجودہ دور میں بھی اگر ہوں تو وہ مجاہدین نہیں ہوں گے بلکہ خوارج ہوں گے۔ اگر عرب مجاہدین میں اس طرح کا تکفیر ی ٹولہ ہے تو وہ جہاد کی لائن کے لوگ نہیں ہیں، نہ مجاہدین ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان چندبرگشتہ لوگوں کاالزام تمام مجاہدین کے سرتھوپنا جہاد سے حافظ صاحب کی نفرت کا کرشمہ ہے۔ میں حیران ہوں کہ مجاہدین کے ساتھ دشمنی میں وہ کس قدر آگے جا چکے ہیں۔ 

اسی مضمون کے تحت حافظ صاحب نے صفحہ ۸۷ تک بہت سی اُلٹی سیدھی باتیں لکھی ہیں جس میں انہوں نے مشاجرات صحابہؓ کے بعض واقعات سے مجاہدین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تمام احادیث کو دیکھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہ کی آپس کی جنگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کی احادیث ارشاد فرمائی ہیں جن کے نتیجے میں تین قسم کی جماعتیں بنیں: بعض احادیث میں تلوار اُٹھا کر حق کا ساتھ دینے کا حکم ہے۔ حضرت علیؓ کاساتھ دینے میں اسی قسم کے صحابہؓ نے حصہ لیا تھا۔ بعض احادیث میں ہے کہ دفاع کرو، اقدام نہ کرو۔ حضرت ابن عمرؓ نے اسی پر عمل کیاتھا۔ بعض احادیث میں ہے کہ شہید ہو جاؤ مگر ہاتھ نہ بڑھاؤ، منہ پر کپڑا ڈال کر موت کو قبول کرو مگر جنگ نہ کرو۔ بعض صحابہؓ نے اس پر عمل کیا تھا۔ اس تقسیم کوچھوڑ کر حافظ صاحب نے تلبیس ابلیس کر کے وہ نقشہ پیش کیا جس سے مسلمانوں پر طعن ہو سکتا تھا۔ 

اسی صفحہ پر حافظ صاحب نے لکھاہے کہ زمانہ اور عرف کے بدلنے سے فتویٰ بھی بدل جاتاہے۔ حافظ صاحب کو معلوم ہوناچاہیے کہ فتویٰ بدلنے کافیصلہ بھی مجتہد علما کریں گے، نہ کہ حافظ صاحب کریں گے۔ اگر حافظ صاحب کو اس منصب پر بٹھایا گیا تو وہ بہت کچھ عُرف کی نذر کر دیں گے۔

چھٹی غلطی 

صفحہ ۸۸ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کون سا آسمان سے نازل شدہ ہے کہ جس کاخلاف جائز ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

جواب

حافظ زبیر صاحب نے یہاں دار الحرب اور دار الاسلام کا انکار کیا ہے اور اس کا مذاق اُڑایا ہے، حالانکہ دارالاسلام اوردارالکفر کی تقسیم قرآن و حدیث کے نصوص اور اشاروں میں موجود ہے۔ مثلاً دارالاسلا م کی طرف ہجرت نہ کرنے والوں کے لیے یہ وعید ہے : ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض ، قالوا الم تکن ارض اللّہ واسعۃ فتھاجروا فیھا۔( النساء : ۹۷) یا مظلوموں کی یہ فریاد ہے : ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا۔یہ دارالاسلام اور دارالحرب کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث میں ہے : ثم ادعھم الی التحول من دارھم الی دارالمھاجرین (ابو داؤد) قال علیہ السلام : اریت دار ھجرتکم ذات نخل من لابنتین فمن اراد الخروج فلیخرج الیھا۔ (بخاری ،باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و الصحابۃ الی المدینۃ)

مفسرین کی تفاسیر میں اس پر کامل بحث ہے، فقہاے کرام نے اس کے الگ الگ احکام بیان کیے ہیں، تاریخ نے اس کو اہتمام کے ساتھ بیان کیاہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ حافظ صاحب نے کون سی نئی شریعت ایجاد کی ہے جس میں دار الاسلام یا دارالکفر کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ یہ تقسیم مذاق اُڑانے کے قابل ہے ۔ حافظ صاحب نے اس مسلمہ اور طے شدہ حقیقت کا تمسخر اڑا کر در حقیقت قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کا تمسخر اڑایا ہے، حالانکہ فقہاے اربعہ تفصیل کے ساتھ دارالاسلام اور دار الکفر کی تقسیم کرتے ہیں۔ امام محمد ؒ نے سیر کبیر میں جگہ جگہ دار الاسلام اور دارالحرب کا ذکر کیاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس تقسیم میں کسی نے زمین کے احوال کو دیکھا ہے اور کسی نے زمانے کے احوال کو دیکھاہے اور کسی انسان کے احوال کو دیکھا ہے۔ جو کچھ بھی ہو، لیکن اس تقسیم کو سب نے قبول کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن قیّم ؒ نے اپنی کتاب ’’احکام اہل الذمۃ‘‘ میں دارالاسلام کی تعریف اس طر ح کی ہے: قال الجمہور ھی الّتی ترا المسلمون وجرت علیھا احکام الاسلام وما لم تجر علیھا احکام الاسلام لم تکن دارالاسلام۔ علامہ کاسانی ؒ نے’’ بدائع الصنائع ‘‘میں امام ابوحنیفہ کا قول نقل کیا ہے جس میں دارالاسلام اور دارالکفر کی واضح تقسیم ہے۔ فرمایا: ان الامان ان کان للمسلمین فیھا علی الاطلاق فھی دارالاسلام وان کان الامان للکفرۃ علی الاطلاق والخوف للمسلمین علی الاطلاق فھی دارالکفر۔امام ابویوسف ؒ فرماتے ہیں: تعتبر الدار دارالاسلام بظھور احکام الاسلام فیھا وان کان جُلُّ اھلھامن الکفار (المبسوط) امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب بخاری شریف میں دارالاسلام اور دارالحرب کی تقسیم کے لیے اس طرح باب باندھا ہے: ’’باب اذا وکل المسلم حربیا فی دارالحرب او فی دارالاسلام‘‘۔ علامہ سرخسی ؒ فرماتے ہیں: دارالاسلام ھی الّتی تجری علیھااحکام الاسلام ویأمن من فیھا بامان المسلمین سواء کانوا مسلمین او ذمیین (تکملۃ ابن عابدین)۔ صاحب ہدایہ نے ہدایہ میں باب الغنائم میں آٹھ مرتبہ دارالاسلام کا ذکر کیا ہے اور اسی مختصر باب میں چودہ مرتبہ دارالحرب کا ذکر کیا ہے۔ صاحب البحرالرائق نے ’’کتاب الجہاد‘‘کی ابتدا میں ایک قیمتی فتویٰ نقل کیا ہے جس میں دارالحرب اور دارالاسلام کی وضاحت بھی ہے اورجہاد کے فرض عین ہونے کی تفصیل بھی ہے۔ علامہ ابوزہرہ فرماتے ہیں: دارالاسلام ھی الدولۃ الّتی تحکم بسلطان المسلمین وتکون المنعۃ والقوۃ فیھا للمسلمین وھذہ الدار یجب علی المسلمین القیام بالذود عنھا، والجہاد دونھا فرض کفایۃ اذا لم یدخل العدو الدیار ( العلاقات الدولیۃفی الاسلام )۔ 

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان تصریحات کے سامنے اطاعت گزاری کامظاہرہ کرے، لیکن حافظ زبیرکو دیکھیے کہ کس ڈھٹائی اور سرکشی کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ’’فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی کہ جس کا شریعت سے سرے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ حافظ صاحب کو زیب نہیں دیتا کہ امت کے فقہا پر ایسا فتویٰ لگائیں کہ ان کے فتاویٰ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ فقہا نے قرآن و حدیث کی روشنی میں انتہائی احتیاط کے ساتھ فتوے دیے ہیں، بارہ سوسال سے ان فتاویٰ پر امت نے عمل کیا ہے، آ ج حافظ زبیر بڑا مجتہد بن کر ماڈل ٹاؤن لاہور میں بیٹھ کر شریعت کا نیا ماڈل دکھا کر ان بزرگ علما کو شریعت کامخالف بتاتاہے۔ یوں لگتا ہے کہ حافظ زبیر پر مودودیت کا کوئی زہریلا دور گزرا ہے اور آج اس سے دو قدم آگے نکل کر کچھ اور بنا ہے، نہ معلوم آگے کیابننے جا رہا ہے! اس نو عمر نوجوان کواپنی فکر کرنی چاہیے، سرپرٹوپی رکھنی چاہیے، مونچھوں کو کٹانا چاہیے، ڈاڑھی کو بڑھانا چاہیے، پاجامہ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے۔ یہ ان کے فائدے کے کام ہیں، نہ کہ فقہا کا مذاق اڑانا۔ 

’’دروغ گو را حافظہ نباشد‘‘ کے اصول کے تحت اسی صفحہ پر دو سطروں کے بعد حافظ صاحب دار الاسلام کی تقسیم فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’آج جس دنیا میں مسلمان آباد ہیں، وہ کئی داروں تقسیم ہیں مثلاً دارالحرب، دارالاسلام، دارالکفر، دارالمسلمین، دارالعہد، دارالصبر، دارالامن اور دارالھجرۃ وغیرہ۔‘‘ دیکھیے ابھی ابھی حافظ صاحب دارالاسلام اور دارالحرب کی تقسیم میں فقہاے کرام کا مذاق اڑا رہے تھے، اور ابھی ان کے قلم کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے کئی داروں کا خود ساختہ نقشہ کھینچ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کردیا۔ حافظ صاحب کاکلام تضادات سے بھراپڑاہے ۔ کسی نے سچ کہا ہے:

الجھاہے پاؤں یار کا زلف دراز میں 
لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا

ساتویں غلطی

رسالہ الشریعہ کے صفحہ ۸۸ پر حافظ زبیرصاحب نے جہاد فرض عین اور فرض کفایہ کا ایک نیا باب کھول کر فرمایا ہے کہ’’ تیسر امغالطہ جو عام طور پر دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ دفاعی قتال ہر حال میں فرض عین ہے۔‘‘

جواب

حافظ زبیر صاحب نے یہاں بھی شعوری یا لاشعوری طور پر ایک غلطی کا ارتکاب کیاہے۔ اپنی اس لمبی عبارت میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجاہدین لوگوں کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ مثلاً افغانستان پر اتحادی افواج نے جو حملہ کیاہے، اگر وہ مدافعت نہیں کر سکتے تو قریب کے لوگوں پرجہاد فرض عین ہو جائے گا۔ حافظ صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نہ مجتہد ہیں، نہ شارع ہیں۔ آپ ایک عام آدمی ہیں۔ زور قلم سے آپ عبارتوں میں جوڑ توڑ کرتے ہیں۔ آپ کسی کے لیے سند نہیں ہیں ۔ جو لوگ مجتہد تھے اور امت کے پیشوا تھے، انہوں نے تو یہی لکھا ہے کہ اگر کفار نے کسی مسلم علاقے پر تجاوز کیا اور قبضہ کرکے قتل کرناشروع کر دیا تو دفاعی طور پر ہر آدمی کوچاہیے کہ وہ کسی سے اجازت لیے بغیر میدان میں کُود جائے، حتیٰ کہ عورت کو اپنے شوہر اور غلام کو اپنے آقا سے بھی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر علاقے کے لوگ کافی نہ ہوں تودرجہ بدرجہ دنیاکے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہو جائے گا۔ علامہ ابن نُجیم نے البحرالرائق میں یہ فتویٰ لکھا ہے کہ اگر مشرق میں کفار نے کسی ایک مسلمان عورت کو قید کر لیا تو مشرق سے مغرب تک مسلمانوں پرجہاد فرض ہو جائے گا۔ اب ہم بارہ سوسال پرانا فقہاے کرام کا جاری کردہ متفقہ فیصلہ قبول کریں یا آج کے دورمیں لاہورکے ماڈل ٹاؤن میں ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے سے معلومات جمع کرنے والے اس شخص کی بات مانیں جس کے سینے میں شاید ایسادل ہے جو ہر وقت مجاہدین اور جہاد کے خلاف دھڑکتا رہتا ہے اور اس کا سارا زور قلم یہود ونصاریٰ کی ہمدردی کے لیے وقف ہے! 

حافظ صاحب اسی صفحہ میں جہادکے فرض عین ہونے کی ایک نئی صورت اور نئی خانہ ساز اصطلاح ایجاد کر کے لکھتے ہیں کہ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ دفاعی قتال بھی ہر حال میں فرض عین نہیں ہوتا۔ یہ اُس صورت میں فرض عین ہوگا جبکہ گمان غالب ہو کہ مسلمانوں کے اس دفاعی قتال کے نتیجے میں بالآخر فتح ان کو ہوگی یادشمن کو بھاری نقصان پہنچے گا۔‘‘ اس عبارت میں حافظ زبیرصاحب یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب تک بہتر انجام کاعلم کسی کو نہ ہو اور اچھا نتیجہ سامنے نہ ہو، اس وقت تک جہاد کے میدان میں اُترناجائز نہیں ہے۔ یہ فرض عین تو کجا، مستحب بھی نہیں ہے۔ میں ان سے پوچھتاہوں کہ کیاصحابہؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اُحد کی جو جنگ لڑی تھی اور مدینہ منورہ کا دفاع کیا تھا، کیاان کو سو فیصدی بہتر انجام کاعلم تھا؟ یادیگر جنگوں میں صحابہ کرام کوپہلے سے معلوم ہو جاتا تھا کہ انجام اور نتیجہ سوفیصدی ہمارے حق میں ہے، اس لیے میدان میں نکل جاؤ، ورنہ نہیں؟ 

حافظ صاحب ! تقدیرالٰہی کے مالک نہ بنو۔ تم خدانہیں، بندہ خداہو۔ اچھے ارادے سے اچھے کام میں اترجایا کرو !نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ وہ آپ جیسے لوگ ہی تھے جوروس کے ساتھ ٹکراؤ کے بھی مخالف تھے اور نتیجہ کی بات کرتے تھے۔ پھر سب نے دیکھاکہ نتیجہ کتنااچھا آ گیا، لیکن آپ کو تواس میں بھی شک ہے اور اپنے مضمون میں لکھتے ہو کہ روس کی شکست امریکہ کی وجہ سے ہوئی۔ عجیب منطق ہے کہ مجاہدین کے کھاتے میں کوئی نیک کام جاتا ہی نہیں۔ شکست ہو تو مجاہدین کے گلے میں اور فتح ہو تو امریکہ کے حصے میں! آپ نے اسی عبارت میں ایک مثال دی ہے کہ گن پوائنٹ پراگر کوئی شخص کسی نہتے آدمی سے مال چھیننا چاہتا ہے تو اسے مزاحمت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس غلط سوچ کے پیش نظر آپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ایک حدیث کا ترجمہ کر کے اس پر رد کیا ہے اور اس میں آپ نے مجتہدانہ انداز سے تحریف بھی کی ہے ۔ آپ نے مَن قتل دون مالہ فہو شھید کے ساتھ یہ شرط لگادی کہ جب اس میں مقابلہ کی طاقت نہ ہو۔ یہ خانہ سازی تحریف ہے، خدا کا خوف کرو اور سرسید احمد خان، غلام احمد پرویز، پروفیسر غامدی اور جناب مودودی یا ڈاکٹر اسرار احمد کی طرح عقل کے بل بوتے پر احادیث میں تحریف نہ کرو اور نہ کسی حدیث کا انکار کرو ۔ آپ نے اس عبارت میں جو تصور پیش کیاہے، امت مسلمہ کے علما اورفقہا میں سے کسی کا یہ قول نہیں ہے، بلکہ سب نے اس کے خلاف کہا ہے۔ آپ سے عرض ہے کہ عقلِ کل نہ بنو نہ پیشواے کل بنو! آپ نے قلم کی ایک ہی جنبش سے فقہا کابھی صفایا کر دیا، ان کے فتووں کو بھی نظر انداز کیا اور مجاہدین کا بھی مذاق اڑایا۔ آپ کو اس اونچے مقام پرکس نے بٹھایاہے کہ آپ ان مقدس ہستیوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتے ہو؟

آپ نے صفحہ ۸۹ پرلکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں طاقت کاتوازن موجود تھا۔ آپ کا یہ جملہ لکھنا قرآن وحدیث کی تصریحات کے بھی خلاف ہے اور تاریخی واقعات سے بھی متصادم ہے، گویا اجماع امت کے خلاف آپ ایک بات بانک رہے ہو اور ہوش نہیں کہ کیالکھ رہے ہو۔ اتنی غلط بات تو ایک معمولی انسان بھی نہیں لکھ سکتا۔ آپ نے اپنے مضمون میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی تحریکوں کو بھی غلط قرار دیااور اس کو ۵۰سال تک امت کی محرومیت کا ذمہ دار قرار دیا ، حالانکہ انگریز سے برصغیر کو آزاد کرانے میں ان تحریکوں کو بنیادی حیثیت حاصل تھی اور مسلمان آج تک اس شاندار کامیابی پرفخر کرتے ہیں، صرف سرسید احمد خان جیسے انگریز کے وفاداروں نے ان تحریکوں کو غلط قرار دیا تھا اور اب آپ یہ فریضہ ادا کر رہے ہو۔ کسی نے کیاخوب کہاہے :

فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
میرے بچے بھی امریکہ میں پڑھتے 
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا

حافظ صاحب نے صفحہ ۹۰ پریہ بھی لکھاہے کہ اگر جہاد فرض عین ہوجائے تو پھر بھی عوام پرفرض نہیں ہوگا بلکہ حکومت وقت پرفرض ہوگا۔ حافظ صاحب کی یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔ اس کی وجہ بھی حافظ صاحب کی فرض عین سے لاعلمی ہے۔ بے چارے نے نہ فرض عین کو سمجھا، نہ فرض کفایہ کو۔ حافظ صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ فرض عین میں سارے ضابطے ٹوٹ جاتے ہیں اور ہر آدمی کی ذاتی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ دفاع کرے۔ وہاں نہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور نہ طاقت کے توازن کو دیکھا جاتا ہے۔ 

آٹھویں غلطی

صفحہ نمبر ۹۰ پرحافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’سورہ توبہ میں تو یہ ہے کہ اہلیت اور اسباب و ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے قتال غزوۂ تبوک کے موقع پر بھی فرض نہیں ہوا، جبکہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قتال کے لیے نفیر عام تھی۔‘‘

جواب

حافظ زبیر صاحب نے یہاں بھی سنگین غلطی کی ہے کہ غزوۂ تبوک کی فرضیت کا انکار کیا ہے، حالانکہ اسلام میں غزوہ تبوک سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ ہے۔ تیس ہزار صحابہ کرام کا لشکر نہایت بے سروسامانی کے ساتھ سلطنت روما کی طاقتور فوج کے مقابلہ کے لیے نہایت گرمی میں ایک ماہ کی طویل مسافت پر مدینہ منورہ سے روانہ ہو۔ جس طرح آج کل منافقین جہاد پر اعتراضات کرتے ہیں، اس وقت بھی منافقین نے بہت سے اعتراضات کیے اور جھوٹے بہانے کر کے پیچھے رہ گئے۔ صحابہ کرام کی پوری جماعت میں صرف تین مخلص ایسے تھے جو سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کی اس طرح شدید گرفت ہوئی کہ پچاس دن تک ان کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا، حتیٰ کہ بیویوں سے بھی ان کو جدا رکھا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائیَ۔ غزوہ تبوک میں جہاد کے لیے نفیر عام بھی ہوئی تھی اور نفیر عام سے جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے قطعی اور فرض عین جہاد کے متعلق حافظ صاحب کہتے ہیں کہ یہ جہاد فرض بھی نہیں تھا۔ ارے ظالم!اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کے بعد بھی فرض نہ ہوا؟ یہا ں حافظ صاحب نے قر آن پر جھوٹ بولاہے کہ سورۃالتوبہ میں اس طرح لکھا ہے، حا لانکہ سورۃالتوبہ میں نفیر عام کا اعلان ہے۔ 

اس عبارت میں جگہ جگہ حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر جہاد فرض عین بھی ہوجائے تو پھر بھی یہ حکومت پر فرض عین ہوگا، عام مسلمانوں پر فرض نہیں ہو گا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کو نہ فرض عین کا علم ہے اور نہ فرض کفایہ کا۔ یہ علم فقہا، علما اور تاریخی حقائق سے ملتا ہے اور حافظ صاحب کو بد قسمتی سے ا ن حضرات کے فرمودات پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے بے لگام قلم چلا تے جا رہے ہیں:

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ 
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی 

فقہا، علما اور شارحین حدیث تو لکھتے ہیں: ان ھجموا علیناسقط الکل، یعنی دشمن کے ہجوم کرنے سے جہاد کی تمام شرائط ساقط ہو جائیں گی، نہ حکومت کی ضرورت ہو گی، نہ طاقت کی ضرورت ہو گی، نہ دعوت کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی سے کسی کے اجازت لینے کی ضرورت رہے گی۔ 

نویں غلطی

صفحہ ۹۰ پرحافظ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’عام طورپر جہادی تحریکوں کے رہنماؤں کی تقاریر اور علما کی تحریروں میں عوام الناس کو ایک مغالطہ یہ بھی دیا جاتاہے کہ ریاست کے بغیر ہونے والے اس جہاد کے نتیجے میں کل ہی امریکہ کے ٹکڑے ہوجائیں گے یا انڈیا فتح ہو جائے گا یا اسرائیل دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا، اس لیے ہمیں یہ قتال ضرور کرنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بات کا تعین کیسے ہو گا کہ معاصر جہادی تحریکوں کے قتال کے نتیجے میں امت مسلمہ کومجموعی سطح پر کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا ضرر پہنچ رہا ہے۔‘‘

جواب

حافظ صاحب نے ایک شکست خوردہ ذہنیت کے مالک اور جہاد سے نفرت رکھنے والے شخص کی طرح ہر جانب سے جہادی تحریکوں پر نفرت انگیز قلم چلایا ہے، بلکہ مستقبل کی کامیابی پر بھی اعتراضات کیے ہیں، حالانکہ وہ کامیابی ابھی وجود میں بھی نہیں آئی۔ مذکورہ عبارت کے ضمن میں حافظ صاحب نے بھرپور انداز سے جہادی تحریکوں کے جہاد کو ’’بغیر ریاست کے ہونے والا جہاد‘‘ کہہ کر غلط قرار دیاہے۔ حافظ صاحب نے جگہ جگہ حکومت کے بغیر جہاد کرنے پر اعتراض کیا ہے۔ یہی اعتراض برطانیہ کی حکومت نے افغانستان کے مجاہدین پر کیا تھا۔ جب والی افغانستان جنرل عبدالرحمن برطانیہ کی فوجوں کے خلاف افغانستا ن میں لڑ رہے تھے، اس وقت فرنگیوں کے دارالافتاء سے یہ فتویٰ جاری ہو گیا تھا کہ امیر کے بغیر جہاد جائز نہیں ہے، مسلمانوں کے ترکی عثمانی خلیفہ کی طرف سے جہاد کا حکم آنا چاہیے۔ انگریز کی اس چال سے مسلمان تذبذب کا شکار ہو گئے اور عبدالرحمن کی تحریک کو بہت نقصان پہنچا اور پھر خلافت ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد فرنگیوں نے اس چال کو ضرورت کے مطابق ہر موقع پر استعمال کیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں بھی سر سید احمد خان نے اسی طرح کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ پھر امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف منظم طور پر اس فتویٰ کو جاری کیا۔ اس کے بعد طالبان کے خلاف امریکہ نے یہی پروپیگنڈا کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بھی جہادی تحریکوں کے خلاف ہندوستان نے یہی حربہ استعمال کیا اور کر رہا ہے۔ پروفیسر غامدی صاحب بھی یہی رونا رو رہے ہیں کہ پرا ئیوٹ جہاد صحیح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عرب وعجم کے ملحدین جہاد کے خلاف یہی حربہ استعمال کر رہے ہیں اورحافظ صاحب بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں۔ 

ایک دفعہ بنوری ٹاؤن میں ریڈکراس کا ایک وفد آیا۔ دوران گفتگو میں نے اس سے کہا کہ ہم نے اسلام قبول کیاہے، نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانا ہے اور قرآن مجید کو اللہ کا کلام تسلیم کیاہے۔ اس قرآن میں دیگر تعلیمات کے ساتھ ساتھ جہاد کا حکم بھی ہے اور ہم نے اس کو بھی تسلیم کیا ہے۔ تو ہم اگر مسلما ن ہیں تو جہاد کا انکار کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں۔ وفد کے سر براہ نے کہا کہ جہاد ہونا چاہیے، لیکن حکومت کی سطح پر ہونا چاہیے، تنظیموں کی سطح پرصحیح نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ حکومت کو تو آپ نے پابند کیا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں لکھاہے کہ ’’مذہبی بنیاد پر جنگ ممنوع ہے‘‘۔ اس پر مسلمان حکومتوں نے دستخط کیے ہیں۔ اور مذہب کے نام پر جو جنگ ہوتی ہے، وہی جہاد ہے اور مذہب صرف مسلمانوں کے پاس ہے، لہٰذا نتیجہ یہ نکلاکہ مسلمانو ں کے لیے جہاد ممنوع ہے۔ ریڈکراس کا وفد خاموش ہو گیا۔ 

میں حافظ صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے روس کے خلاف جہاد ی تحریکوں کے خلاف اس طرح زہریلا قلم کیوں نہیں چلایا؟ حالانکہ اس وقت جہادی تنظیمیں آج کی نسبت زیادہ تھیں۔ شاید آج کل امریکہ کے خلاف جہاد ہو رہا ہے جس سے حافظ صاحب کو جلن ہو رہی ہے۔ میں حافظ صاحب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتاہو ں کہ حکومتی سطح پرجہاد کا اچھا ہونا مسلم ہے، لیکن اگر یہ صورت میسر نہ ہو تو پھر مجاہدین اپنا امیر بنا کر جہاد کریں گے۔ 

امام بخاری ؒ نے جنگ موتہ کے موقع پر خالدؓ بن ولیدکے امیر بن جانے کے لیے یہ عنوان باندھا ہے: ’’باب من تأمر فی الحرب من غیر امرۃ‘‘ یعنی مرکز سے امیر بنائے جانے کے بغیر مجاہدین کی طرف سے امیر بن جانے کے بیان میں۔ اسی طرح حضرت حسین کو ان کے مجاہدین نے امیر بنایا، حالانکہ مرکزی حکومت بنوامیّہ کی تھی۔ اسی طرح محمد نفس زکیہ کو مجاہدین نے امیر بنایا، حالانکہ مرکزی حکومت بنو عباس کی تھی۔ اس وقت امام ابو حنیفہ ؒ نے بھر پور فتویٰ دیاتھا کہ نفس زکیہ کا جہاد صحیح ہے، بلکہ عیسائیوں کے مقابلے میں جہاد سے زیادہ افضل ہے۔ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ نے اس کی پوری تفصیل اپنی کتاب ’’امام ابو حنیفہ ؒ کا سیاسی مقام‘‘ میں لکھ دی ہے۔ اس کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف حضرت مولاناگنگوہی ؒ اور حضرت مولاناقاسم نانوتوی ؒ اور حضر ت امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے مل کر ایک امیر بنایا اور جہاد کیا۔ اس کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح سید احمد شہید کو مجاہدین نے امیر بنایا۔ ان کے اس مبارک جہاد کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت جو لوگ جہاد سے نفرت کرتے ہیں، وہ اس طرح کی باتیں کر کے عوام الناس کے ذہنوں میں تشویش پیدا کرنا چاہتے ہیں، ورنہ یہ بات واضح ہے کہ حکومتی سطح پردنیامیں کہیں بھی جہاد نہیں ہو سکتا۔ جوحکمران دین کو مٹانے کے درپے ہیں، وہ دین کو بچانے کے لیے جہاد کیوں کریں گے! میں پھر کہتاہوں کہ روس کے خلاف پرا ئیویٹ جہاد کے خلاف حافظ صاحب نے کیوں نہیں لکھا جو آج یہ زہریلالعاب پھینک رہے ہیں؟ 

حافظ صاحب کو یہ بھی پریشانی ہے کہ ان کو بتایا جائے کہ ا س جہاد سے امت کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان؟ میں کہتاہوں کہ حافظ صاحب خود بتادیں کہ کیا فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیل کاقبضہ جائز ہے اور کیاعراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا دو دفعہ حملہ اور قبضہ درست ہے اور کیا افغانستان کے مظلوم عوام کے خلاف B-52 تباہ کن جہازوں سے کیمیائی اسلحہ اور محدود ایٹمی اسلحہ استعمال کرنا اور پھر قبضہ جمانا جائز ہے اور پھر پاکستانی حدود کو پامال کرنا جائز ہے؟ اور کیا بھارت کا سات لاکھ افواج کے ذریعے سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی عزت و آبرو سے کھیلنا جائز ہے؟ اگر یہ جائز نہیں ہے تو حافظ صاحب خود بتائیں کہ اب فائدہ کس بات میں ہے؟ کیاکفار کے مظالم کے سامنے ہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیٹھنے میں فائدہ ہے جس طرح حافظ صاحب چاہتے ہیں، تاکہ کفار پورے عالم پر بلامزاحمت قبضہ کر کے اسلام اور مسلمانوں کا صفایا کر دیں؟ حافظ صاحب کو یاد رکھناچاہیے کہ یہ تعلیم نہ قرآن کی ہے نہ حدیث کی ہے اورنہ انسانی غیرت و حمیت کی ہے! ایک افغانی نے حافظ صاحب کا مضمون کا دیکھ کر کہا کہ اس آدمی کو نہ ارد گرد کے حالات سے کوئی واسطہ ہے، نہ اپنے بیٹھنے کی جگہ اور حدود اربعہ کی کوئی فکر ہے، نہ اس کو اپنے ملک کی حدود سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ اپنے مستقبل کی فکر ہے! بس دین و دنیا سے بے نیاز ’’بادشاہ‘‘ آدمی ہے، اس کو اسی حالت میں رہنے دینا چاہیے۔ 

میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ روس کے ظالم پنجے سے وسط ایشیاکی بارہ ریاستیں آزاد ہوئیں، سطح زمین پر بوسنیا کی مسلمان حکومت وجود میں آگئی اور مسلمانوں کی پچاس حکومتوں کی جگہ اب چھپن حکومتیں بن گئیں، پاکستان روس کے تسلط سے بچ گیا، لاکھوں مسلمانوں کو شہادت کا عالی رتبہ مل گیا، جہاد کا مقدس فرض زندہ ہو گیا اور دنیا میں اس کا تعارف ہو گیا، افغانستان پرطالبان کی اسلامی خلافت قائم ہوئی، دنیاکو عدل و انصاف اور اسلامی طرز حکومت کا نقشہ مل گیا جو کسی وقت کہیں بھی قائم ہو سکتاہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم جہاد کی تعمیل کی اورجہاد زندہ ہو گیا، کیا یہ جہاد کے فائدے نہیں؟ 

۲ جنوری ۲۰۰۹ء کے روزنامہ امت میں اسلامی صفحہ پر بوسنیاکے بارے میں وہاں کے مفتی اعظم مصطفی آفندی کا بیان شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برسوں بعد مساجد اور دینی اداروں میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری سطح پر دینی تعلیم کے لیے ادارے قائم ہو رہے ہیں، مساجد میں بچوں کی تعلیم زیادہ ہوتی ہے، جنگ سے قبل یہاں ڈاڑھی اور حجاب کا رجحان نہیں تھا، مگر اب یہاں ڈاڑھی والے حضرات اور باحجاب خواتین عام نظر آتی ہیں اور بہت سی شاہراہیں جو ماضی میں کمیونسٹ شخصیات کے ناموں سے موسوم کر دی گئی تھیں، انہیں دوبارہ اسلامی ہیروز کے نام موسوم کر دیا گیا ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ انڈین فوج کے قبضہ کے باوجود وہاں فحاشی کے اڈے اور شراب خانے مجاہدین کے حکم پر بند ہیں۔ وہاں کے مسلمان کہتے ہیں کہ جہاد کی برکت سے ہمارے سر فخر سے بلند ہیں۔ حافظ زبیر صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جہاد بڑے فتنے کو توڑتا ہے تو چھوٹے فتنے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں اور اس عالم میں فساد صرف اس لیے ہے کہ جہاد عام نہیں ہے۔ جہاد سے عالم کا فساد ختم ہو جاتا ہے اور امن قائم ہو جاتا ہے، اگرچہ وقتی طور پر تجارتوں اور اداروں کو عارضی نقصان ہوتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے: ’’وتجارۃ تخشون کسادھا‘‘ یعنی تجارت کی عارضی کساد بازاری سے اگر تم ڈر کر جہاد چھوڑو گے تو اجتماعی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ 

حافظ صاحب اپنے مضمون کے صفحہ ۹۱ پر یہ رونا رو رہے ہیں کہ عراق سے اگر امریکہ نکل بھی جائے تو وہاں امریکہ نے پیچھے کیاچھوڑا ہے! ملک کھنڈر بن گیا ہے اور اگر بفرض محال امریکہ وہاں سے نکل بھی جائے توکیا گارنٹی ہے کہ وہ پھر حملہ نہیں کرے گا اور اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ امریکہ کے بعد وہاں سنی حکومت ہو گی یا شیعہ حکومت ہوگی! ان عبارتوں سے کس قدر عیاں ہے کہ حافظ صاحب امریکہ کی وفاداری میں زور قلم لگا رہے ہیں اور طرح طرح کے مفروضے بناکر مجاہدین کو کس طرح بدنام کر رہے ہیں! میں پوچھتا ہوں کہ کیاعراق کی اس شورش کے ذمہ دار مجاہدین ہیں یا امریکہ؟ افغانستان کے مظا لم کا ذمہ دار امریکہ ہے یا مجاہدین؟ کشمیر کے مظالم کا ذمہ دار انڈین آرمی ہے یا مجاہدین؟ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے علاقے کے لوگوں کا حق ہے، ان کو اس سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے اور ان پر مظالم کیوں ڈھائے جا رہے ہیں؟ 

حافظ صاحب نے یہاں یہ بھی لکھا ہے کہ فدائی حملہ میں اگر دو امریکی مرتے ہیں تو پچاس مسلمان بھی شہید ہوتے ہیں۔ میں اتنا عرض کروں گا کہ فدائی حملہ میں کسی فداکار کسی سے پوچھتا نہیں، نہ کسی سے مشورہ کرتاہے کہ آپ اس فدائی کارروائی کو کسی تنظیم پر ڈا ل دیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک مسلمان کو فدائی کارروائی اور اس انتہائی اقدام پر کس چیز نے مجبور کر دیا ہے؟ آپ نے ان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دیااور جرم کا سارا ملبہ خودکش بمبار پر ڈال دیا حالانکہ فلسطینی عوام اور عراقی، افغانی اور پاکستانی عوام خودکش حملے کو نہیں جانتے تھے، لیکن جب امریکہ کی جانب سے مظالم کے پہاڑ ان مظلوموں پرٹوٹنے لگے، تب خودکش حملے شروع ہو گئے جو در حقیقت دیگر کش حملہ ہوتا ہے۔ 

’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں، جس میں حافظ صاحب کا مضمون چھپا ہے، ’’آداب القتال‘‘ کے عنوان سے جناب مشتاق احمد صاحب کا ایک عمدہ مضمون بھی چھپا ہے جس میں فصل پنجم کے تحت مشتاق احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اگر خود کش حملوں کے جواز و عدم جواز کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ا ن کے جواز کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا کرنا لازم ہو گا:

اولاً یہ کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران کیاجائے نہ کہ حالت امن میں ،

ثانیاً یہ کہ حملہ کرنے والا مقاتل ہو،

ثالثاً یہ کہ حملے کا ہدف فریق مخالف کے مقاتلین ہوں،

رابعاً یہ کہ حملے میں ایسا طریقہ یا ہتھیار استعمال نہ کیا جائے جو قانوناً ناجائز ہو۔ 

اب حافظ صاحب اپنے مضمون پر غور کریں جو فرما رہے ہیں کہ اگر کسی فدائی کارروائی کے نتیجے میں دو امریکی فوجی واصل جہنم ہوتے ہیں تو پچاس مسلمان بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ کیا یہ ں امریکی فوجی مقاتلین نہیں ہیں جو ہزاروں میل دور سے آکر افغانستان پر قابض ہوچکے ہیں؟ کیایہ اتنے محترم و مقدس ہیں کہ ان کو پھولوں کا ہار پہنایا جائے؟ حافظ صاحب نے یہاں بھی ایک فرضی اور غیر واقعی صورت بنا کر پچاس مسلمانوں کی شہادت کی بات کی ہے حالانکہ خودکش بمبار انتہائی محتاط انداز سے صرف کافروں کے خلاف حملہ کرتا ہے۔ اگر کافروں کی حفاظت پرمامور یاان کی مجلس میں مزے لینے والے نام نہاد مسلمان مارے جاتے ہیں تو حدیث کے حکم کے مطابق اس مسلمان کاخون رائیگاں جائے گا۔ ہاں پاکستانی علاقوں میں یا مساجد اور امام باڑوں میں یا پبلک مقامات میں اس طرح خودکش حملوں کو ہم جائز نہیں سمجھتے! 

حافظ صاحب نے یہا ں ایک مسلمان کے خون کو کعبے سے زیادہ محترم ثابت کر کے اس جرم کا سارا ملبہ مجاہدین پرپھینکنے کی کوشش کی ہے۔ کسی مسلمان کا ناجائز خون گرانے کو کس نے جائز قرار دیاہے؟ ہم تو اس کو حرام سمجھتے ہیں، لیکن افسوس سے لکھنا پڑتاہے کہ حافظ صاحب کو اتحادی افواج کی اندھا دھند بمباری نظر نہیں آتی جس کے نتیجے میں پبلک مقامات اور رہایشی علاقوں میں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کاقتل عام ہوتاہے اور نہ حافظ صاحب کو اسرائیل کے مظالم نظر آرہے ہیں جو روزانہ فلسطینیوں کاقتل عام کر رہا ہے اور یہ ظلم مستقل معمول بن گیاہے۔ پاکستانی علاقوں میں امریکہ اور پاکستانی افواج کی اندھا دھند بمباری سے جو بے گناہ عوام قتل ہو رہے ہیں، یہ حافظ صاحب کے علم میں نہیں ہیں اورنہ ان سے ان کو ہمدردی ہے۔ ان کوتوصرف امریکیوں کا غم کھائے جا رہاہے۔ یاد رکھو! جب تک خودکش حملوں کے اسباب کا ازالہ نہیں کیا جاتا، مجبوری کے یہ حملے ہوتے رہیں گے، لیکن خود کش حملوں کی ہدایت کسی مجاہدیاعالم یامفتی کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اتحادی افواج اور عالمی باطل نظام اور ان کے مظالم نے اس میدان کو گرم کیا ہے۔ 

امام محمد ؒ نے’’ سیر کبیر‘‘ میں کفار پر فدائی حملے کی تفصیل اس طرح بیان کی فرمائی ہے: اگر ایک مجاہدایک ہزار پر فدائی حملہ کر ے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ ا س کو اپنے بچنے اور کافروں کو نقصان پہنچنے کی امید ہو۔ اگر ان دونوں فائدوں کی امید نہ ہو تو پھر اس طرح کی فدائی کارروائی اچھی نہیں ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کے فائدے کے بغیر اپنی جان کو ضائع کرنا ہے۔ اور اگر فدائی کارروائی سے اس مجاہد کی نیت دوسرے مسلمانوں کو یہ جرأت دلانا مقصود ہو کہ جس طرح میں نے کیا، تم بھی اس طرح جرأت کرو تو اس طرح فدائی عمل بھی جائز ہے، کیونکہ اس میں بھی مسلمانوں کا ایک طرح کا فائدہ ہے اور اگر اس مجاہد فداکار کا مقصد یہ ہو کہ اس طرح فدائی کارروائی سے کفار ڈر جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ سارے مسلمان اس طرح بہادر ہوتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ اس میں بھی فائدہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنی جان کی قربانی ایسے طریقے سے دینا جس میں اسلام کی عظمت ہو اور کفر کی کمزوری ہو، ایک عالی شان کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ (بحوالہ ابن نحاس، مشارع الاشواق، ص ۵۲۰) 

دسویں غلطی

صفحہ ۹۲ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے نزدیک کشمیر کا جہاد فرض ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کس پرفرض ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں جہادی تحریکوں کے موقف سے اختلاف ہے۔ ہمارے مؤقف کے مطابق کشمیر کا جہاد پاکستانی حکمرانوں اور افواج پر فرض ہے۔‘‘

جواب

حافظ زبیر صاحب نے اس خود ساختہ قاعدے کو اپنے مضمون میں بار بار ذکر کیا ہے۔ دراصل حافظ صاحب کو یہ فکر نہیں ہے کہ مظلوم مسلمانوں کی کسی طرح مدد و نصرت ہو جائے، بلکہ ان کو یہ دلچسپی ہے کہ جہاد کا وجود ختم ہو جائے کیونکہ مجاہدین کے لیے جب جہاد حرام ٹھہر جائے گا اور حکمران جہاد کو مانتے نہیں ہیں اور قرآن کا اعلان ہے کہ یہ کافر مسلسل اس وقت تک مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جب تک کہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے مرتد نہ کردیں تو اب عوام اور مسلمان دونو ں تماشا دیکھتے رہیں گے اور کفار مسلمانوں کو ان کے دین سے مرتد بناتے جائیں گے یاقتل کرتے رہیں گے اور یہی کچھ ہو رہا ہے جو پوری دنیا کے سامنے ہے۔ حافظ صاحب کا فلسفہ، ڈاکٹر اسرار صاحب کا فلسفہ ہے جنھوں نے خلافت اسلامیہ کے قیام کا اعلان بھی کر رکھا ہے، تنظیم اسلامی بھی بنا رکھی ہے مگر ایک دفعہ جہاد کے موضوع پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ انھوں نے بیان کیا اور آخر میں کہہ دیا کہ یاد رکھو، میری تقریر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بندوق اُٹھا کر مسلح جنگ شروع کر دو، بلکہ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ تم ذہنی انقلاب برپا کر دو اور فکری سوچ کی راہنمائی کر کے اسلامی انقلاب لاؤ۔

میں حافظ صاحب سے صرف یہ سوال کروں گا کہ آپ نے کب سے دین اسلام کو عوام اور حکمرانوں کے درمیان تقسیم کر دیا ہے کہ جہاد حکمران کریں اور نماز عوام پڑھیں؟ فقہا نے تویہ فتویٰ دیا ہے کہ جب حکمران جہاد میں سستی کریں یا انکار کریں یا بزدلی کا مظاہرہ کریں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنا امیر مقرر کر کے جہاد شروع کر دیں۔ حافظ صاحب کو سوچنا چاہیے کہ جمعات اور عیدین کے قائم کرنے کی ذمہ داری حکمرانوں پر ہے، لیکن جب حکمرانوں نے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تو ان تمام چیزوں کو مسلمانوں نے علما کی سرپرستی میں شروع کر دیا اور حکمرانوں کی آمد کا انتظار نہیں کیا۔ تو کیاصرف جہاد میں انتظار فرض ہے؟ حالانکہ فقہا نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ جہاد جب فرض عین ہو جائے تو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر جہاد کے لیے نکلیں گے۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے کہ ’’فان ھجم العدو علی بلد وجب علی جمیع الناس الدفع تخرج المرأۃ بغیر اذن زوجھا والعبد بغیر اذن المولی لانہ صار فرض عین‘‘ حافظ صاحب بتائیں کہ کیا یہاں عورت اور غلام کوئی حکمران ہیں جن پر جہاد فرض عین ہو گیا؟ یہ تو عوام الناس میں سے بھی پردہ نشین مخلوق ہیں، ان پربھی جہاد فرض ہو جاتا ہے جب حالات بدل جاتے ہیں۔ 

حافظ صاحب نے جگہ جگہ لکھا ہے کہ حکمرانوں کے پاس مقابلہ کی استطاعت بھی ہے، اسباب ووسائل بھی ہیں اورافواج پاکستان تنخواہ بھی لیتی ہیں اور مجاہدین کے پاس اسباب بھی نہیں، استطاعت کا پتہ بھی نہیں چلا جن کے سامنے عراق میں دنیا بھر کے کفار بے بس نظر آرہے ہیں۔ وہ آزادانہ طور پر عراق میں چار قدم سفر نہیں کر سکتے اور افغانستان میں تو چالیس ممالک کی فوجیں اکٹھی ہو گئی ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے کیمپوں اور بکتر بند گاڑیوں سے باہر نہیں آسکتے۔ اس لاؤ لشکر کا آخر کون مقابلہ کر رہاہے جس کے بارے میں ان کے اپنے فوجی جرنیل اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ اس جنگ کو مسلح مقابلے کے ذریعے سے نہیں جیت سکتے؟ آپ کو اپنے ملک کے اندراپنی فوج نظر نہیں آرہی جو مٹھی بھر مجاہدین کے سامنے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں سے لیس ہو کر پھر بھی زمینی مقابلہ سے مکمل طور پر عاجز ہے! اسی لیے وہ گن شپ ہیلی کاپٹروں اور ایف سولہ جنگی طیاروں سے جنگ جیتنے کی کوشش کر رہی ہے مگر پھر بھی ناکام ہے۔

گیارہویں غلطی

صفحہ ۹۳ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’پھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کشمیر میں کون سی عسکری تنظیم اپنا اقتدار قائم کرے گی۔ ‘‘

جواب

دراصل حافظ صاحب نے یہاں لمبی چوڑی باتیں لکھ دی ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر بفرض محال کشمیر انڈیا سے آزاد ہو بھی جاتا ہے تو وہاں آل پارٹیز حریت کانفرنس پرمشتمل سیاسی وسماجی تیس تنظیمیں ہیں، آیا کشمیر پر ان کی حکومت ہوگی یا پاکستان کی حکومت ہو گی؟ حکومت پاکستان اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے کام نہیں کررہی، بلکہ صرف کشمیر کی آزادی کے لیے قربانی دے رہی ہے۔ اگر مجاہدین کا بھی یہی موقف ہے تو پھر ان کا جہاد کہاں گیا؟ اور اگر یہ تمام سیاسی تنظیمیں حکومت سے دست بردار ہو کر کشمیر کو مجاہدین کے حوالے کردیں گی توپھر بھی سوال باقی رہتاہے کہ مجاہدین کی وہاں سترہ تنظیمیں ہیں، آخر کون سی عسکری تنظیم اپنا اقتدار قائم کرے گی۔ 

میں حافظ صاحب سے اتنا عرض کروں گاکہ اگر آپ کو واقعی مستقبل کی فکر ہے تو آپ مستقبل کا انتظار کریں، مستقبل کے آنے سے پہلے شکوک وشبہات پر عمارت قائم کر کے جہاد کو نشانہ بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ آپ کو جب علم غیب نہیں ہے تو آپ غیب کا یقینی فیصلہ کیوں کرتے ہو؟ اور اگر اندازے سے بات کرتے ہو تو جس طرح آپ نے ایک غلط نقشہ پیش کیاہے، آپ اچھا نقشہ کیوں پیش نہیں کرتے ہو؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ اچھانقشہ پیش کرتے اور لکھتے کہ بھائی! کفر کے خلاف جہاد ہے، ان شاء اللہ اس کا اچھانتیجہ نکلے گا، مسلمان آزاد ہو جائیں گے، پھر وہ مستقبل کا فیصلہ آزادانہ طور خود کریں گے اور طالبان کی طرح ایک اسلامی خلافت قائم ہو جائے گی۔ جب آپ کواندازے ہی سے لکھنا تھا تو آپ نے اچھا اندازہ کیوں نہیں لگایا؟ معلوم ہوتاہے کہ آپ کو جہاد اور مجاہدین سے نفرت ہے اور مظلوم مسلمانوں کے لیے آپ کے دل میں ہمدردی نہیں ہے۔ آپ کے قلم کی دنیامیں اور معلومات کے میدان میں جو بات بھی لکھتے ہو، اس سے صرف مجاہدین کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ آپ طرح طرح کے مفروضے بناتے ہو اور پھر غلط نتائج نکال کر مجاہدین کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہو۔ آپ سے اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ آپ کی تنظیم اسلامی پر ڈاکٹر اسرار صاحب نے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں اور کررہے ہیں، آپ مجھے بتائیں کہ آپ کے پاس کامیابی کی یقینی گارنٹی کہاں ہے؟ آپ اس ملک میں تنظیم اسلامی کی نشستن وگفتن اور خوردن و برخاستن کے علاوہ کوئی واضح کامیابی تو بتائیں؟ جب آپ مستقبل میں اچھے نتیجے کی اُمید پریہ ساری محنت کر رہے ہو، حالانکہ نتیجہ نظر نہیں آرہاتو آپ مجاہدین کے لیے ایک غلط نتیجہ کیوں طے کرتے ہو ؟

بارہویں غلطی

حافظ صاحب صفحہ ۹۴ پر لکھتے ہیں کہ پاکستان میں جن لوگوں پر ان تحریکوں کی طرف سے کفر وشرک کے فتوے لگائے جاتے ہیں، انہیں کی آزادی کے لیے قتال کو عامۃالناس پر فرض عین قرار دیا جاتا ہے۔ مشرکین کی آزادی کے لیے مسلمانوں پرقتال کیسے فرض عین ہو گیا؟ 

جواب

اب تک حافظ صاحب یہ لکھ رہے تھے کہ کشمیر کا جہاد فرض عین ہے، میں اس کا انکار نہیں کرتا مگر یہ حکمرانوں اور پاکستانی افواج پرفرض عین ہے۔ اب حافظ صاحب کے اندر سے وہ بات باہر آگئی جس کو وہ چھپا رہے تھے۔ وہ بات یہ تھی کہ کشمیر میں جہاد جائز نہیں ہے، نہ حکمرانوں کے لیے جائز ہے، نہ عوام پر فرض ہے، کیونکہ کشمیر ی عوام مشرک ہیں۔ میں حافظ صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیاپورے مقبوضہ کشمیرکے عوام مشرک ہیں؟ آپ کو اس کا علم کہاں سے ہو گیا؟ ہمیں جو معلومات پہنچی ہیں، ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر کا ایک بڑا حصہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کا ہے۔ نیز جہاد بڑے فتنے کوتوڑتا ہے، اس کے بعد چھوٹے فتنے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کی واضح مثا ل افغانستان ہے جہاں بدعات وشرکیات کا بازار گرم تھا، لیکن مجاہدین کی آمدورفت اور جہاد کے مبارک عمل سے وہ لوگ صحیح العقیدہ بن گئے۔ ان شاء اللہ کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کو مجاہدین اور جہاد پرگھما پھرا کر اعتراض کرنے کا شوق رہتاہے، اس لیے یہ بات اڑا دی۔

چند سطر آگے چل حافظ صاحب یہ گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ ہم جہاد کشمیر کو فرض عین سمجھتے ہیں، لیکن ریاست کے حکمرانوں اور افواج پاکستان پر، عامۃ الناس کے لیے ہمارے نزدیک جہاد ی ٹریننگ تولازم ہے لیکن جہاد کشمیر نہیں۔ حافظ صاحب نے وہی علمی غلطی پھر دہرائی کہ جہاد فرض عین ہے مگر حکمرانوں پر، حالانکہ فرض عین کا تعلق ہر فرد بشر کے ساتھ ہوتاہے، خواہ حاکم ہو یا محکوم، خواہ مرد ہو یا عورت، آ زاد ہو یاغلام۔یہاں تک کہ فقہا نے لکھاہے کہ چھوٹے بچے بھی اس میں نکل سکتے ہیں۔ وہ اگرچہ لڑنہیں سکیں گے لیکن مسلمانوں کی جماعت کو بڑھا سکتے ہیں۔ حافظ صاحب نے یہاں خود ساختہ نئی شریعت متعارف کرائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حافظ صاحب نے عوام الناس کے لیے ٹریننگ کو لازم قرار دیاہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب جہاد ان کے لیے جائز نہیں تو جہاد کی ٹریننگ کر کے اس کی سند کو چاٹیں گے یا اس کا دیدار کریں گے؟ حافظ صاحب نے یہاں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ بھی کیاہے کہ’’اے نبی! مسلمانوں کو قتال پر ابھاریں‘‘ یہاں قرآن میں عام مسلمان مراد ہیں، لیکن حافظ صاحب کے ذہن میں یہاں بھی حکمران مراد ہیں جو قرآن کے مفہوم میں تحریف کے مترادف ہے۔ 

حافظ صاحب نے صفحہ ۹۶ پرعلامہ ابن قیمؒ کی ایک عبارت کا ترجمہ کیا ہے کہ انکار منکر کے چار درجات ہیں کہ اس سے یا ظلم ختم ہو جائے یا کم ہو جائے یا اس منکر کی جگہ اسی طرح کا منکر آ جائے یا اس سے بدتر منکر آ جائے۔ اس عبارت سے بھی حافظ صاحب نے مجاہدین اورجہاد کو نشانہ بنایا ہے کہ ان کے جہادکے نتیجے میں ظلم بڑھ رہاہے۔ میں حافظ صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ مسلمانوں کو کیا مقام دینا چاہتے ہو؟ آپ کے خیال میں اگر مسلمان اور مجاہدین بالکل خاموش بیٹھ جائیں تو کیاعالم میں امن آجائے گا؟ اگر ایسا ہو گیا تو قرآن کا ایک بڑاحصہ منسوخ اور معطل ہو کر رہ جائے گا جس میں کہاگیاہے کہ اگر تم خاموش بیٹھ گئے اور دفاع نہ کیاتو کافر تمہیں مرتد بنادیں گے اور زمین فساد سے بھر جائے گی، اور اسی طرح احادیث معطل ہو جائیں گی۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ اگر تم جہاد چھوڑ دوگے اور دنیا کمانے کے پیچھے لگ جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کردے گا۔ اب مسلمان قرآن و حدیث پرعمل کریں یا حافظ زبیر صاحب کی خود ساختہ، شکست خوردہ ذہنیت کی پیروی کریں؟ 

حافظ صاحب نے صفحہ ۹۹ پر علماے دیوبند سے لے کر ڈاکٹر اسرار صاحب تک عرب وعجم کے مختلف علما اور دینی سربراہوں اور محبان اللہ ورسول اور لاکھوں مؤمنین وصادقین کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جہاد ی تحریکوں کے طرز جہاد وقتال کو درست نہیں سمجھتے اور اس پرگاہے بگاہے تنقید کرتے رہتے ہیں۔

حافظ صاحب نے اس مقام پربھی جرح مبہم کے طور پر مجاہدین کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ خود حافظ صاحب کا قلب مجاہدین کے لیے تاریک ہے، اس لیے تمام لوگوں کو اپنے دل پر قیاس کرتے ہیں، حالانکہ پوری دنیا کے کفار اور باطل قوتوں کے غلط پروپیگنڈوں کے باوجود مجاہدین کی عزت و عظمت الحمدللہ بلندو بالا ہے۔ اگر دنیاے عرب کے تمام حکمران ایک طرف ہو جائیں اور اسامہ بن لادن دوسری طرف ہو جائیں اور لوگوں سے انصاف پرمبنی آزادانہ رائے لی جائے تو انشاء اللہ اسامہ اور ملا عمر کاپلڑا بھاری رہے گا۔ دنیاے کفر میں جہاں جہاں انتخابات ہوئے ہیں، وہاں لوگوں نے بش اوراس کے طرف داروں سے نفرت کااظہار کرکے ان کوشکست فاش دے دی۔ خود پاکستان میں پرویز مشرف کی حکومتی کشتی کو غرقاب کرنے میں بنیادی محرک پرویز صاحب کی مجاہدین دشمنی ہی تو تھی۔ پھر حافظ صاحب کو یہ غلط بات کہاں سے ملی کہ دنیاے انسانیت مجاہدین کو اچھانہیں سمجھتی۔ میں کہتاہوں یہ حق و باطل کی جنگ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ خیر کی توفیق دیتا ہے، وہ مجاہدین وجہاد سے محبت رکھتاہے اور جس کو اللہ تعالیٰ راندۂ درگاہ بنا دیتا ہے، وہ مجاہدین سے نفرت کرتا ہے۔ 

تیرہویں غلطی

صفحہ ۱۰۰ پرحافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’یہ ذہن میں رہے کہ قتال کی علت کفر یاشرک نہیں ہے، اگرچہ قتال اصلاً مشرکین اور کافروں سے ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو کافروں یا مشرکین سے قتال کا حکم اس لیے نہیں دیاگیا کہ وہ مشرک ہیں یا کافر ہیں۔ اسلام کامقصود دنیا کو کافروں سے پاک کرنا نہیں ہے بلکہ کافروں اور مشرکین سے قتال کے حکم کی بنیادی وجہ بھی ظلم ہی ہے۔‘‘ 

جواب

قرآن و حدیث کی تعلیمات سے علما و فقہا آج تک یہی سمجھتے رہے ہیں کہ کفار سے جنگ کی علت ان کا کفر اور شرک ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے باغی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں کو حکم دیا ہے کہ ان بغاوت کرنے والوں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ یا یہ مسلمان ہو جائیں اور غلبۂ کفر کا خاتمہ ہو جائے یا ان کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ جزیہ دینے پرراضی ہوجائیں یا مر کر ختم ہو جائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جہادی کمانڈروں کو یہی نصیحت فرماتے تھے کہ کفار کو اسلام کی دعوت دو، اگر مان لیں تو پھر ان سے قتال نہ کرو۔ ورنہ جزیہ کی دعوت دو، اگر ذمی بن کر رہیں گے توپھر بھی ان سے قتال نہ کرو۔ ورنہ پھر فیصلہ میدان جنگ میں ہوگا۔ قرآن کریم کا اعلان ہے: وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ ویکون الدین کلہ للّہ۔ فتنہ سے مراد کفروشرک ہے۔ قرآن کی آیت ’والفتنۃ اشد من القتل‘ کی تفسیر میں ابو العالیہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، قتادہ، ضحاک اور حسن بصری فرماتے ہیں: ای الشرک اشد من القتل۔ (ابن کثیر صفحہ ۷۲۲) مفسرین تو فتنہ سے شرک و کفر مراد لیتے ہیں، مگر حافظ صاحب کی تحقیق الگ ہے۔ وہ ظلم کو فتنہ قرار دیتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللّہ وان محمدا رسول اللّہ فاذا قالوھا عصموا منی دماءھم وامولھم الا بحق الاسلام وحسابھم علی اللّہ۔اس حدیث میں قتال کی غایت اور منتہی کو عدم کفر قرار دیا ہے جس کی دوصورتیں ہیں کہ یاکفار اسلام پر آجائیں یا جزیہ قبول کریں اور اسلام کے سایے میں زندگی قبول کریں۔ 

تفسیرقرطبی میں علامہ قرطبی وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ کے تحت لکھتے ہیں : امر بالقتال لکل مشرک فی کل موضع۔یعنی ’’قاتلوھم‘‘ میں ہر مشرک کے قتل کاحکم ہے، خواہ وہ کہیں پربھی ہو، جبکہ ذمی نہ ہو۔ پھر علامہ قرطبی لکھتے ہیں: وھو امر بقتال مطلق لابشرط ان یبدأ الکفار (قرطبی ج ۲ صفحہ ۳۵۳)۔ یعنی یہاں مطلق قتال کاحکم ہے، کفار کی طرف سے ابتدا کرنے کی شرط نہیں ہے۔ اس کے بعد بطور دلیل علامہ قرطبی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ بالاحدیث نقل فرمائی ہے اور پھر فرمایا ہے : فدلت الاٰیۃ و الحدیث علی ان سبب القتال ھو الکفر لان اللّہ تعالیٰ قال حتیٰ لاتکون فتنۃ ای کفر فجعل الغایۃ عدم الکفر وھذا ظاھرقال ابن عباس و قتادۃ والربیع و السدی وغیرھم الفتنۃ ھناک الشرک وما تابعہ من اذی المؤمنین (قرطبی ج ۲ صفحہ ۳۵۴) یعنی آیت اور حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کفار سے قتال کی وجہ اور سبب ان کاکفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حتیٰ لاتکون فتنۃ فرمایا ہے، یعنی کفر باقی نہ رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے کفار سے جنگ نہ کرنے کی انتہا اور غایت عدم کفر کو قرار دیاہے۔ یہ واضح بات ہے کیونکہ ابن عباس اور قتادہ اور ربیع اورسدی وغیرہ مفسرین نے یہیاں فتنہ سے شرک مراد لیاہے جس کے ضمن میں مسلمانوں کی ایذارسانی پڑی ہے۔ 

علامہ سرخسی ؒ سیر کبیرکی شرح ج ۱ صفحہ ۴۱ پر ایک عبارت کی شرح میں فرماتے ہیں: وانما ینتھی القتال بعقد الذمۃ۔ یعنی اگر کفار اسلام نہیں قبول کرتے لیکن ان کی شوکت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ذمیت اور جزیہ کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو قتال کی انتہا ہو جائے گی، ورنہ قتال جاری رہے گا۔ علماے شوافع وحنابلہ اورجمہور فقہا کا مسلک یہ ہے کہ قتال کی علت اور سبب کا فروں کا کفر اور شرک ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ نے ان کے کفر و شرک کے ساتھ نفیر عام کو بھی اس علت میں شامل کر دیا ہے۔ 

اب قرآن و حدیث کی تصریحات ایک طرف، مفسرین و شارحین کی تفسیر و تشریح ایک طرف، فقہاے کرام و مفتیان عظام کے فتاویٰ ایک طرف اور حافظ زبیر صاحب کی تحقیق دوسری طرف۔ ظاہر ہے کہ حافظ صاحب نے قرآن و حدیث اور فقہا کے خلاف ایک نیا فیصلہ صادر کیاہے کہ قتال کا سبب کفر و شرک نہیں ہے، نہ اسلام کا مقصود یہ ہے کہ دنیا سے کفر ختم ہو جائے، بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ظلم ختم ہو جائے۔ میں ان سے پوچھتاہوں کہ ارے ظالم! جو شخص شرک کرتا ہے، کفر کرتاہے، اللہ تعالیٰ کے دین سے روکتاہے، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں بے جا مداخلت کرتاہے، کیاوہ ظالم نہیں؟ اور کیا ظلم صرف اس کا نام ہے کہ کوئی شخص آپ کی عزت پر حملہ کر دے؟ کیا اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں پر حملہ کرنے والا کافر ومشرک ظالم نہیں؟ اسلام نے غیر مقاتلین کفار کو جو جنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، وہ یا معاہدہ وسفارت کی بنیاد پر ہے یا جنگ سے الگ ہوکر مذہبی پیشوا ہونے کی وجہ سے ہے، نہ یہ کہ وہ ظالم نہیں ہیں، جیسے راہب یا عورتیں یا بچے ہیں، لیکن اگروہ بھی قتال میں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہوں تو ان کو بھی قتل کیا جائے گا۔ فقہا نے لکھا ہے کہ دار الحرب میں جو پادری شادی کرے، اس کو بھی قتل کرناجائز ہے، کیونکہ وہ بچے پیدا کرے گا جو کفار کی فوج کو بڑھا سکتے ہیں۔ 

حافظ صاحب نے یہاں بہت غلط باتیں لکھی ہیں۔ یہ علمی غلطی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور عقلی غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ ان کو اس سے توبہ کرنی چاہیے، لیکن جو شخص فقہا کا مذاق اڑاتا ہو اور اپنی مجتہدانہ رائے پر ناز کرتا ہو، وہ حق کی طرف کب رجوع کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہاں حافظ صاحب پر فکریوں کا فلسفہ سوار ہو گیا ہے۔ فکری لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں ٹکراؤ کا سبب ظلم ہے، کفر وشرک کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان حضرات کو سمجھنا چاہیے کہ کفر وشرک فساد کا سب سے بڑا ملبہ ہے۔ اس کے ضمن میں دوسری خرابیاں ہیں، خواہ وہ فساد ہو یا ظلم ہو یاخیانت ہو۔ تو اصل گندگی کو چھوڑ کر اس کی فروعات کو نشانہ بنانا کون سی عقل مندی ہے؟ حافظ صاحب نے اس مقام میں کئی آیتوں کے ترجمے کیے ہیں، لیکن بے موقع آیتوں کو پیش کرنا تحریف کے زمرے میں آتا ہے۔ حافظ صاحب نے جب غلط راستہ اختیار کیا اور پریشان ہوگئے توکہنے لگے کہ ظلم سے بھی مراد وہ ظلم ہے جو متعدی ہو، فی نفسہ ظلم بھی قتال کا سبب نہیں۔ پھر کہا کہ کفر اور ظلم لازم و ملزوم ہیں۔ میں کہتا ہوں جب لازم وملزوم ہیں تو آپ نے علت قتال صرف ظلم کو کیوں قرار دیا اور غلط جگہوں میں آیتوں کو کیوں پیش کیا ہے؟ یہاں حافظ صاحب نے دین کا مفہوم بھی غلط بیان کیاہے کہ دین اجتماعی اطاعت کانام ہے، حالانکہ دین اللہ تعالیٰ کے ان وضع کردہ احکام کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف ان کے اچھے اختیار کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ 

حافظ صاحب نے صفحہ ۱۰۲ پر اجتماعی طاعت کا نتیجہ اس طرح نکالاہے کہ: ’’ظاہر بات ہے کہ کفار اور مشرکین کے عقیدے پرقائم رہنے یا اس کے مطابق عبادات کرنے سے کسی پرظلم وزیادتی نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان سے اس معاملے میں اطاعت جبراً نہیں کروائی جائے گی۔‘‘ حافظ صاحب کو جہاد کے حکم کے تدریجی مراحل کا پتہ نہیں ہے، اس لیے آیتوں سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ جہاد کے مراحل اور اس کی ترتیب کو علامہ سرخسی ؒ نے سیر کبیرج ۱، صفحہ ۱۸۸ پر اس طرح بیان کیا ہے کہ جہاد و قتال کا حکم ترتیب کے ساتھ آیا ہے۔ سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیغام رسالت پر مامور تھے اور کفار سے تعرض نہ کرنے پرمامور تھے۔ آیت ہے: فاصفح الصفح الجمیل۔ پھر آپ احسن طریقہ سے بحث ومباحثہ پر مامور کیے گئے۔ آیت ہے: ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتی ھی احسن۔ پھر آپ کو قتال کی اجازت مل گئی۔ آیت ہے: اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا۔ پھر آپ کو جوابی دفاعی جنگ کا حکم ملا۔ آیت ہے: فان قاتلوکم فاقتلوھم ۔ پھر آپ کو اشہر حرم کے علاوہ اوقات میں جنگ کاحکم ملا۔ آیت ہے: فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین۔ پھر آپ کو مطلق قتال کا حکم ملا۔ آیت ہے: وقاتلوا فی سبیل اللّہ واعلمو اان اللّہ سمیع علیم۔ یہ پوری ترتیب ہے۔ جو آدمی اس سے واقف نہ ہو، وہ خلط ملط کرے گا۔ حافظ صاحب کی مثال نابینا کی لاٹھی کی طرح ہے، جہاں پڑگئی وہاں لگ گئی۔ ان کے اس مضمون میں بے تحاشا تکرار کے ساتھ بے تحاشا تضاد اور بے تحاشا بے ربطی ہے، مگر ان کے پیش نظر صرف ایک چیز ہے، وہ یہ ہے کہ کسی طرح مجاہدین پر الزام آجائے۔ چنانچہ ظلم کے اس مضمون کا خلاصہ نکالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’اور جہاد و قتال سے ظلم ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہو تو ہمارے نزدیک یہ جہاد و قتال جائز نہیں ہے۔ جہاد و قتال ظلم کوختم کرنے کے لیے ہے نہ کہ ظلم بڑھانے کے لیے۔‘‘ (صفحہ ۱۰۲) مطلب یہ کہ مجاہدین ظلم بڑھارہے ہیں۔ میں اتنا عرض کروں گا کہ حافظ صاحب بے سروسامان سربکف مجاہدین کی قربانیوں کو تو ظلم قرار دے رہے ہیں، لیکن ۴۰ کفریہ ممالک کی یلغار اورنہتے مسلمانوں پر روز بمباری کو عدل و انصاف قرار دے رہے ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے خوب کہا ہے :

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

چودھویں غلطی

مضمون کے بالکل آخر میں صفحہ ۱۰۵ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’قرآن و سنت میں قتال کے بارے میں آنے والی نصوص اور کسی جہادی تحریک کے قتال میں بہر حال زمین و آسمان کافرق ہے۔ یہ نصوص صحابہ کرامؓ کے قتال کی تائید تو کرتی ہیں کہ جن کے بارے میں ان کا نزول ہوا، لیکن کوئی جہادی تحریک ان نصوص کا مصداق بنتی ہے یانہیں، یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے ۔‘‘

جواب

قرآن وحدیث کے احکامات قیامت تک کے لیے ہیں۔ جو لوگ اس کو صحابہ کرامؓ کے دور تک محدود مانتے ہیں، وہ ان نصوص میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں، بلکہ اس کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ یہاں حافظ صاحب کا پوشیدہ اشارہ بھی اسی طرف ہے کہ جہاد و مجاہدین کا دور عہد صحابہ تک تھا اور قرآنی نصوص بھی اسی وقت کے لیے تھیں۔ اب جو مجاہدین جہاں بھی کفار کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہ نصوص ان کی تائید نہیں کرتیں اور نہ ان کو اپنے جہاد پر ان نصوص کو منطبق کرنے کاحق ہے، کیونکہ دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ حافظ صاحب نے بہت غلط بات لکھ دی ہے۔ قرآنی نصوص کاوجود قیامت تک کے لیے ہے اور صحیح احادیث میں ہے کہ جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔ اگر حافظ صاحب کایہ دعویٰ ہے کہ اس وقت دنیامیں کہیں بھی جہاد نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نکلاکہ امت محمدیہ اجتماعی طور پر گناہ کبیرہ پرجمع ہو گئی ہے، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت اجتماعی طور پر کسی گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتی۔ قرآنی نصوص کو صحیح جگہ منطبق کرنے کو مجاہدین زیادہ جانتے ہیں۔ سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں کہ فتویٰ مجاہدین سے لیا کرو، کیونکہ ان کی راہنمائی اللہ تعالیٰ کرتاہے، جیساکہ ارشاد ہے: والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔

حافظ صاحب کا سینہ چونکہ بغض مجاہدین سے بھرا ہوا ہے، اس لیے حالت نزع کے آخر ی سانس میں بھی چبھنے والے یہ غلط جملے داغ دیے۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کے مضمون کا جواب دیناہی نہیں چاہیے تھا، کیونکہ جواب تو اس مضمون کا دیا جاتا ہے جہاں کچھ اچھا بھی لکھا ہو اور کچھ غلطیاں ہوئی ہوں تو آدمی تنبیہ کرے تاکہ کچھ فائدہ ہو۔ یہاں تو اس مضمون کی ہر سطر اور ہر جملے کو نہایت چالاکی اور تلبیس کے ساتھ اس بنیاد پر جوڑا گیاہے جس کے مجموعے سے مجاہدین اور جہاد کے خلاف زہریلا لعاب ٹپکتا رہتا ہے۔ حافظ صاحب جگہ جگہ لکھتے ہیں کہ میں جہاد کا انکار نہیں کرتا۔ ادب کے ساتھ عرض ہے کہ آپ نے جہاد میں چھوڑا ہی کیا ہے جس کا اب آپ انکار کریں گے؟ 

حافظ صاحب نے اپنے اس مضمون میں جگہ جگہ مجاہدین کو جہاد کے متبادل راستوں کے اختیار کرنے کے مشورے بھی دیے ہیں، چنانچہ صفحہ ۸۴پر لکھتے ہیں کہ ’’جہادی تحریکوں کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ایسے جوانوں کو اکٹھاکریں جو انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ ان نوجوانوں کو مختلف اسلامی ریاستوں مثلاً سعودیہ، ایران، مصر اور پاکستان وغیرہ میں حکومتی سطح پر ایک مشن کے طور کھپایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ دین دار تاجر طبقوں خصوصاً عرب سرمایہ داروں کو اکٹھاکرتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں اسلامی انڈسٹریز بنانی چاہییں تاکہ مسلمان اپنی معاشی ضرورتوں میں خود کفیل ہوں‘‘ ۔

میں کہتا ہوں کہ حافظ صاحب کو اس اچھے کام کے لیے صرف مجاہدین نظر آتے ہیں۔ یہ مشورہ حافظ صاحب ڈاکٹر اسرار صاحب کے کارکنوں کو کیوں نہیں دیتے تاکہ راتوں رات معاشی انقلاب آجائے اور اسلامی خلافت قائم ہوجائے؟ حافظ صاحب کو معلوم ہوناچاہیے کہ اسی کثرت مال نے تو مسلمانوں کو جہاد کے میدان سے دور کر دیا ہے اور وہ ذلت کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ حدیث میں تو صاف موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میری امت کی روزی میرے نیزے کے نیچے رکھی ہے۔ یاد رکھو! تمکین ارض کاوعدہ جہاد کے کرنے سے ہے، چھوڑنے سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور راہ راست پر لگا کر استقامت عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

جہاد / جہادی تحریکات

(مئی و جون ۲۰۰۹ء)

مئی و جون ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۵ و ۶

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل
محمد مشتاق احمد

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج
ادارہ

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس
محمد عمار خان ناصر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے
مولانا مفتی محمد زاہد

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع
مولانا مفتی برکت اللہ

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام
ادارہ

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات
محمد عمار خان ناصر

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ
مولانا فضل محمد

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات
محمد انور عباسی

مکاتیب
ادارہ

Flag Counter