تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۱)

سید جمال الدین وقار

تبلیغی جماعت کو کارکنوں کی تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ کے لحاظ سے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تحریک کہا جاتا ہے۔ یہ جماعت ہر اس ملک میں متحرک ہے جہاں مسلمان کسی بھی قابل لحاظ تعداد میں بستے ہیں۔ اس کی بنیاد ۱۹۲۰ء میں شمالی بھارت کے علاقے میوات میں رکھی گئی تھی اور اس نے عامۃ الناس کی سطح پر اسلامی تعلیمات سے آگاہی اور شعور کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ چند سال قبل بمبئی میں میری ملاقات چند تبلیغی بھائیوں سے ہوئی جنھوں نے مجھے تبلیغی کام کے لیے کچھ وقت نکالنے کی ترغیب دی۔ آئندہ سالوں میں، میں نے کئی تبلیغی دورے کیے اور دور دراز دیہات اور قصبوں کا سفر کیا جہاں میں نے ایسی مسلمان برادریاں بھی دیکھیں جو اسلام کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتی تھیں۔ کچھ ایسے مسلمان بھی مجھے ملے جو اقرار شہادت کے بنیادی عقیدے یعنی ’اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ‘ سے بھی واقف نہیں تھے۔ تبلیغی بھائیوں کے زیر اثر ان مسلمانوں کو بنیادی عقائد مثلاً کلمہ شہادت، نماز اور روزے وغیرہ کے طریقے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ چنانچہ مجھے اس قابل قدر کردار کا احساس ہوا جو تبلیغی جماعت مسلمانوں کے ان طبقات میں اسلامی شعور پھیلانے کے سلسلے میں ادا کر رہی ہے جن تک کسی دوسری مسلمان تنظیم نے ابھی تک رسائی حاصل نہیں کی۔

تبلیغی جماعت جس بے حد اہم کام میں مصروف ہے، میں اب بھی اس کی بے حد تحسین کرتا ہوں۔ البتہ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ یہ تحریک اگر اپنے طریق کار میں چند معمولی تبدیلیاں پیدا کر لے تو یہ مسلمان کمیونٹی کے معاملات میں پہلے سے زیادہ تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم میں اس بات کو بھی جانتا ہوں کہ تبلیغی قیادت کے کچھ حلقے کسی بھی قسم کی تبدیلی کے خلاف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے مخصوص مفادات پر زد پڑے گی۔

تبلیغی جماعت کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ جماعت کے کارکن بھارت کے اندر اور بیرون ملک مسلسل متحرک رہتے ہیں اور اپنے کام کے دوران میں ان کا لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد سے رابطہ قائم ہوتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ کارکنوں کے اس نیٹ ورک کو اگر بنیادی اسلامی عقائد اور اعمال کے ساتھ ساتھ عمومی معاشرتی شعور، جدید تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم اور معاشرتی ہم آہنگی کے تصورات کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جائے تو کس قدر عظیم الشان اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن جماعت کے کارکن، اس کے برخلاف، ایسا کوئی کام نہیں کرتے۔ بنیادی عقائد کی تبلیغ کے علاوہ ان کے پاس اپنی گرفت میں آنے والے سامعین کو تخیلاتی کہانیاں اور من گھڑت قصے، جن کی نسبت وہ بے بنیاد طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دیتے ہیں، بے تکان سناتے چلے جانے کے سوا کوئی کام نہیں۔ ’’فضائل اعمال‘‘ کے نام سے تبلیغی جماعت کی بنیادی نصابی کتاب جسے ممتاز تبلیغی عالم مولانا محمد زکریا نے تصنیف کیا ہے، کمزور اور موضوع روایات سے بھری پڑی ہے اور بہت سے مسلمان علما اس کے متعلق تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔

’’فضائل اعمال‘‘، جسے بہت سے تبلیغی حضرات زبانی نہیں تو عملاً ضرور قرآن مجید سے زیادہ بڑی اتھارٹی سمجھتے ہیں، عمومی طور پر اس دنیا سے نفرت اور کراہت کا پیغام دیتی ہے۔ تبلیغی کارکنوں کی زبان سے یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ ’’دنیا کی مثال ایک بیت الخلا یا قید خانے کی ہے۔‘‘ وہ بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ ’’ان کی گفتگو کا موضوع یا تو وہ چیزیں ہوتی ہیں جو اوپر آسمان پر ہیں اور یا وہ جو زمین کے نیچے قبر میں ہیں۔ درمیان کی دنیا کے بارے میں وہ کوئی بات نہیں کرتے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں تحریک کا عمومی جذبہ ایسا ہے جو دنیا سے بے زار رہبانیت کو فروغ دیتا ہے جس کی قرآن مجید میں صریحاً ممانعت کی گئی ہے۔

دنیا سے نفرت اور کراہت کا نتیجہ تحریک سے وابستہ افراد میں دوسرے لوگوں کی تکلیفوں کے بارے میں بے حسی کی صورت میں نکلتا ہے۔ تبلیغی کارکن جماعت کے پیدا کردہ مزاج کے باعث لوگوں کی تکالیف اور پریشانیوں کو اللہ کی طرف سے ان کے گناہوں کی سزا قرار دے کر انسانی مصائب کو کم کرنے میں ہر قسم کی ذمہ داری سے بآسانی بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ نیز اس طریقے سے معاشرتی ظلم اور جبر کے اصل اسباب سے بھی توجہ ہٹا دی جاتی ہے اور اس طرح ظلم وجبر کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط تر کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے بہت سے تبلیغی حضرات سے سنا ہے کہ وہ فلسطین میں مسلمانوں کے وحشیانہ قتل وغارت کو اسلامی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ صہیونی توسیع پسندانہ عزائم کے مقابلے کے لیے تبلیغی کارکنو ں کے پاس ایک ہی سادہ سا حل ہے: ’’اگر فلسطینی مسلمان نمازیں ادا کرنا، سنت کے مطابق مسواک سے دانت صاف کرنا اور تبلیغی دوروں پر باقاعدگی سے جانا شروع کر دیں تو ان کے سارے دلدر فوراً دور ہو جائیں گے۔‘‘ چنانچہ اس پر کوئی تعجب نہ ہونا چاہیے کہ جہاں اسرائیل میں دوسری اسلامی تحریکوں کو سختی سے دبایا جاتا ہے، اسرائیلی حکومت تبلیغی جماعت سے چشم پوشی کرتی ہے جو غالباً نادانستہ طور پر مسلمانوں کے مابین بے حسی اور باہمی لا تعلقی کو فروغ دے رہی ہے۔

یہ رویہ اس قدر گہرا ہے کہ بالکل مقامی سطح پر بھی، جہاں مصائب کے ازالہ کے لیے مداخلت سے کسی کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا، میں نے تبلیغی کارکنوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ اور لا تعلق پایا ہے۔ استثنائی مثالیں موجود ہیں، لیکن ان سے عمومی صورت حال ہی کی توثیق ہوتی ہے۔ میں اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے نئی دہلی کی بستی نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز کی مثال دوں گا۔ اس مرکز کے باہر جسمانی معذوروں، کوڑھ کے مریضوں اور نشے کے عادی لوگوں کا ایک جم غفیر درد انگیز طور پر بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ میں نے ایک ممتاز تبلیغی رہنما سے، جو اپنا زیادہ تر وقت مرکز میں گزارتے ہیں، پوچھا کہ تبلیغی رہنما اپنے دروازے پر پڑے تکلیف سے بے حال ان لوگوں کی مدد کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ انھوں نے مجھے یوں دیکھا جیسے میں بالکل ہی بدھو ہوں اور کہا: ’’کیسا احمقانہ سوال ہے! تم دیکھتے نہیں کہ ہم ان لوگوں کو دنیا کی سب سے قیمتی دولت سے بہرہ یاب کر رہے ہیں؟ ہم انھیں اسلام کی بنیادی تعلیمات سکھا رہے ہیں جو انھیں مرنے کے بعد جنت میں لے جائیں گی۔ وہاں انھیں ہر قسم کی نعمتیں میسر ہوں گی، وہ بڑے بڑے محلات میں بے شمار خادموں کے ساتھ رہیں گے اور ہزاروں حوریں ان کے حبالہ نکاح میں ہوں گی۔ اس سے بڑی دولت انھیں کوئی کیا دے سکتا ہے؟‘‘

میں نے ان کی جوش اور غضب سے بھرپور تقریر کو اطمینان سے سنا اور پھر انھیں قرآن مجید کی چند آیات اور دو تین حدیثیں یاد دلائیں جن میں کہا گیا ہے کہ غریبوں کو آسمانی نعمتوں کا مژدہ سنانا اور جنت میں خالی تخیلاتی محل بنانا کافی نہیں بلکہ مادی لحاظ سے ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے بے لحاظی سے میری بات کاٹ دی اور کہا: ’’تم چاہتے ہو کہ ہم ان کے لیے سکول کھول لیں؟ انھیں کاروبار شروع کرنے میں مدد دیں؟ یہ سب کام مسیحی مشنریاں کرتی ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ ان سب چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم انھیں اگلے جہان کی دولت سے نواز رہے ہیں جس کے مقابلے میں وہ سب کچھ جس کی مسیحی مشنریاں پیش کش کرتی ہیں، محض ترس کھا کر کچھ مدد امداد کر دینے (pathetic pittance) کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ حقیقی دنیا میں غریبوں کے مصائب سے مکمل بے حسی کا جواز ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ ذہانت آمیز کوئی دلیل نہیں گھڑی جا سکتی۔

تبلیغی حضرات میوات کے علاقے کو، جہاں سے تحریک کا آغاز ہوا، اپنی کامیاب ترین تجرباتی زمین سمجھتے ہیں۔ میوات جو کہ میو قبیلے کا علاقہ ہے، ثقافتی لحاظ سے ایک منفرد علاقہ ہے جس میں ہریانہ کے دو ضلعوں گرگاوں اور فرید آباد اور راجھستان کے دو ضلعوں الور اور بھارت پور کے کچھ حصے شامل ہیں۔ اس علاقے میں تبلیغی جماعت ۱۹۲۰ء کی دہائی سے متحرک ہے۔ جماعت کی محنت کے نتیجے میں میو قوم میں کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ وہ بے حد نمایاں غیر اسلامی رسم ورواج اور اعتقادات کو ترک کر چکے ہیں اور علاقے میں بہت سی مسجدیں اور مدرسے قائم ہو چکے ہیں۔ یہ سب اچھے نتائج ہیں اور بے شمار تبلیغی کارکنوں کی طویل، صبر آزما اور ان تھک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

تاہم تبلیغی تحریک اگر میو قوم میں مذہبی سطح پر بعض بڑی اصلاحات لانے میں کام یاب ہوئی ہے تو سماجی سطح پر اس کی کام یابیاں کم متاثر کن ہیں۔ میو عورتیں آج بھی کھیتوں میں مویشیوں کی جگہ کام کرتی ہیں، کم وبیش تمام میو عورتیں جائیداد میں اپنے جائز حق سے محروم رہتی ہیں، جہیز کی لعنت عام ہے، میو قوم میں شرح خواندگی ۱۰ فیصد ہے اور سو میں سے صرف ۲ میو لڑکیاں خواندہ ہیں۔ پوری کمیونٹی مجموعی لحاظ سے بے حد غربت زدہ ہے۔ اس قوم کی قابل رحم حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے تبلیغی حضرات نے دنیاوی معاملات سے اپنی نفرت کی وجہ سے اسے مزید خراب ہی کیا ہے۔ حالیہ سالوں میں محدود تعداد میں کچھ این جی اوز نے تو میوات میں خواندگی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، لیکن تبلیغی کارکنوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ میوات کے تبلیغی کارکن اکثر یہ بات کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جب میو لوگ غریب اور ناخواندہ تھے تو اس وقت نیک اور پرہیزگار تھے لیکن اب جبکہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی مالی صورت حال بہتر بنا لی ہے، وہ خدا کو بھول گئے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہوگی اور مجھے اس سے کوئی اختلاف نہیں لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تبلیغی حضرات دین کو کوئی ایسی چیز سمجھتے ہیں جو بنیادی طور پر دنیا کے مخالف ہے، جبکہ یہ خیال میری رائے میں خود اسلام اور عام دنیاوی معاملات کو دیکھنے کا قطعی طور پر غیر اسلامی زاویہ نگاہ ہے۔

میرے فہم کے مطابق اسلام غریبوں کی خدمت پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ انھیں اسلام کی خوبیاں اور جنت کی نعمتیں سنا دی جائیں، خاص طور پر حوریں جن سے تبلیغی حضرات کو خبط کی حد تک دل چسپی ہے، بلکہ مادی لحاظ سے بھی ان کی مدد کی جائے۔ یہ اپنے پیروکاروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے حقوق بھی پورے کریں اور بندوں کے حقوق بھی ادا کریں۔ مجھے یقیناًاعتراف کرنا چاہیے کہ تبلیغی حضرات حقوق اللہ کی تبلیغ میں زبردست خدمت انجام دے رہے ہیں، لیکن حقوق العباد کو انھوں نے مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ دوسروں کی مدد کرنے کے فضائل بیان کر دیتے ہیں، لیکن عملاً اس قسم کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دیتے۔ آپ تصور کریں کہ اگر نظام الدین دہلی مرکز میں تبلیغی حضرات ایک ماڈل سکول قائم کر لیں اور اس میں اسلامی اور عصری تعلیم دینا شروع کر دیں یا غریبوں کے لیے ایک ہسپتال قائم کر دیا جائے یا بے روزگار لوگوں کے لیے صنعتی تربیت کا کوئی مرکز بنا دیا جائے تو یہ ایک تجربہ عالمی سطح پر کن اثرات ونتائج کا حامل بن سکتا ہے۔ وہ لاکھوں تبلیغی کارکن جو ہر سال نظام الدین مرکز میں آتے ہیں، اسلام کی سماجی اخلاقیات کو عملی صورت میں دیکھیں گے اور اس سے ان کو ترغیب ملے گی کہ وہ واپس اپنے علاقوں میں جا کر اسی طرح کے منصوبے شروع کریں۔ تاہم جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا ہے، نظام الدین کے تبلیغی رہنما اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان پر اپنے بالکل قریب تڑپتی اور سسکتی انسانیت کے دکھوں کا سرے سے کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ 

جہاں تک میں نے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا ہے، میں اس بات کا شدت سے قائل ہوں کہ جنت کا راستہ صرف مسلسل دعاؤں اور (تبلیغی انداز میں) مناجات کرنے میں نہیں ہے بلکہ فرض رسوم کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مادی اور روحانی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنے میں ہے۔ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ غریبوں کو خیرات دے دی جائے۔ یہ طریقہ غربت کے خاتمے میں بالکل معاون نہیں بلکہ اس کو مزید پختہ کر دیتا ہے۔ غریبوں کی حقیقی خدمت یہ ہے کہ ان کے ساتھ تعاو ن کر کے انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند لوگوں کی خدمت کے قابل ہو سکیں۔ لیکن یہ منطق تبلیغی جماعت کے ذہنی مزاج کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ جیسا کہ بہت سے تبلیغی سمجھتے ہیں، اگر کوئی شخص پابندی سے تبلیغی دورے کرتا ہے، لمبی ڈاڑھی رکھ لیتا ہے، مسلسل تسبیح کے دانے گھماتا رہتا ہے اور سنت کے مطابق مسواک سے دانت صاف کرتا ہے تو جنت میں اس کا داخلہ پکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ذاتی پسند اور ناپسند کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کے چند ظاہری اعمال کی نقل کر کے وہ جنت میں اپنی جگہ پکی کر رہے ہیں۔ ایک مثال لیجیے۔ حال ہی میں مجھے پاکستان کے ایک تبلیغی مصنف کی ایک کتاب دیکھنے کا موقع ملا جس میں انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ بلند بانگ دعویٰ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پابندی سے تبلیغی جماعت کے دوروں پر نکلتا رہے تو جنت میں اس کا داخلہ یقینی ہے جہاں، دوسری لذتوں کے علاوہ، اسے تین لاکھ حوروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملے گا۔ اس طرح کی گھٹیا ذہنی رشوتیں تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے والے لوگوں کو باقاعدگی سے دی جاتی رہتی ہیں اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو اس سے جماعت کے اس قدر وسیع پیمانے پر فروغ کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔

تبلیغی حضرات کے نزدیک بنیادی فرائض کی ظاہری رسوم کی مسلسل ادائیگی سے جنت میں داخلہ یقینی ہو جاتا ہے۔ جنت جب اس طرح آسانی سے مل رہی ہو تو فطری طور پر بہت کم لوگ غریبوں اور مجبور ومقہور لوگوں کے لیے کچھ کرنے میں دلچسپی لیں گے جو کہ میری رائے میں دونوں جہانوں میں اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا حقیقی ذریعہ ہے۔ قرآن مجید بار بار اہل ایمان سے یہ کہتا ہے کہ نجات پیغمبر ﷺ کے طریقے کی اتباع میں مضمر ہے۔ تبلیغی حضرات اس سے اختلاف نہیں کرتے لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو محض چند ظاہری اعمال تک محدود کر دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ بس ان کی پیروی کرنے سے آدمی سیدھا جنت میں جا سکتا ہے۔ چنانچہ تبلیغی پمفلٹوں اور کتابچوں میں اس بات کی اہمیت بے تکان اجاگر کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھاتے کیسے تھے، مسکراتے کیسے تھے، دھوتے کیسے تھے، دانت کیسے صاف کرتے تھے، جوتے کیسے پہنتے اور اتارتے تھے، مونچھیں کیسے تراشتے اور ڈاڑھی کو کیسے بڑھاتے تھے وغیرہ۔ یوں جیسے رسول اللہ ﷺ کی سنت کے دائرے میں صرف یہی چند شخصی اعمال آتے ہیں۔ سنت کو ان اعمال تک محدود کر کے اور اس کی محض ظاہری شکل میں محصور کر کے وہ سنت کو اس کی اصل اور حقیقی روح سے محروم کر دیتے ہیں۔

میں نہیں سمجھتا کہ موجودہ تبلیغی قیادت میں خود تنقیدی اور خود احتسابی یا اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادگی کی کوئی علامات پائی جاتی ہیں۔ چونکہ جماعت کا طریق تبلیغ اور اس کا بنیادی نصاب یعنی ’’فضائل اعمال‘‘ اس کی تعارفی خصوصیات بن چکی ہیں اور انہوں نے جماعت کا ایک مخصوص امتیازی تشخص قائم کیا ہے، اس لیے بالکل واضح طور پر تبلیغی قیادت جماعت کے تشخص کے کمزور پڑنے کے ڈر سے اس میں کسی قسم کی تبدیلی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ اس سے مآل کار خود ان کی اتھارٹی کا دعویٰ کمزور ہو جائے گا۔ تبلیغی کارکن اور واعظ باصرار یہ کہتے ہیں کہ یہ طریق تبلیغ کسی انسان کی ایجاد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے الہام کے ذریعے سے براہ راست بانی جماعت مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کو سمجھایا گیا۔ اس وجہ سے ان کا اصرار ہے کہ اس میں کسی تبدیلی کا مشورہ دینا اللہ کی مرضی اور حکم کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس طریقے سے وہ ہر قسم کی تنقید، اور اصلاح کی دعوت سے پیچھا چھڑا لینا چاہتے ہیں۔

اپنے بے حد مخلص اور محنتی تبلیغی بھائیوں کو میرا مشورہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو اسلام کے بنیادی عقائد کی تعلیم دینے کے زبردست کام میں بے شک لگے رہیں کیونکہ بہت کم مسلمان یہ ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، لیکن جیسا کہ قرآن مجید ہمیں بار بار ترغیب دیتا ہے، اپنی عقل وفہم کو بھی استعمال کیجیے اور کوئی کام صرف اس وجہ سے نہ کرنا شروع کر دیجیے کہ اسے آپ کے بڑے (تبلیغی اصطلاح میں ’’بزرگ ‘‘) کرتے ہیں۔ اس کی صحت کو قرآن مجید کی روشنی میں پرکھیے۔ اپنی رہنمائی کا ماخذ قرآن مجید کو بنائیے نہ کہ کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب کو (خواہ وہ ’’فضائل اعمال‘‘ کے مصنف کی طرح کوئی شیخ الحدیث ہی کیوں نہ ہو)۔ تب آپ پر واضح ہوگا کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا صحیح طریقہ دعا اور عبادات کا ذوق وشوق بھی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا بھی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، خدا کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔

(ترجمہ : ابو طلال۔ بشکریہ    http://www.islaminterfaith.org)


اسلامی تحریکات اور حکمت عملی