اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل

راشد الغنوشی

راشد الغنوشی، تیونس کی اسلامی تحریک النہضۃ کے صف اول کے قائد ہیں اور اسلامی تحریکات کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ کا حامل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ذیل میں بعض اہم امور پر ان کے خیالات ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ لاہور کے شکریے کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ (مدیر)


اسلام اور مغرب

کسی بھی معاشرے کے مسائل کا حل معاشرے کے اپنے پاس موجود ہوتا ہے تاہم دیگر عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ اس وقت مغرب کا کردار منفی ہے اور اس کی وجہ ان کا یہ خیال ہے کہ اگر ]احیاے اسلام کے نتیجے میں مسلم ممالک میں[ تبدیلی آئی تو متبادل، اسلام ہوگا اور یہ کتنا ہی معتدل کیوں نہ ہو، ان کو پسند نہیں ہے۔ لیکن تبدیلی ناگزیر ہے۔ یہ اللہ کی مرضی سے واقع ہوگی۔ یہ اللہ ہے، نہ کہ مغرب، جو، جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔

دنیا میں کئی سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں اور وہ سب مغرب کو پسند نہ تھیں لیکن مغرب کو انہیں حقیقت تسلیم کرنا پڑا۔ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو تسلیم کرنے میں امریکہ کو طویل زمانہ لگ گیا لیکن آخر کار امریکہ کو چین کی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ یہی معاملہ اب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس وقت اسلام کو ہوا سمجھنے والوں کی آواز میں بظاہر زور ہے اور معاملات ان کے ہاتھ میں ہیں، تاہم مغرب میں ایسی تحریک موجود ہے جو اسلام کے ساتھ تعمیری رابطے میں یقین رکھتی ہے۔

اگر اسلام اور مسلمان کی قسمت اپنے وقت کے عالمی نظام کے تابع ہوا کرتی تو دونوں میں سے کوئی بھی مغرب کے نوآبادیاتی تسلط اور عالمی غلبے کے صدیوں کے اثرات سے باقی نہ بچتا۔ اس کے برعکس ان داخلی اور خارجی عوامل کے باوجود، جو ترقی کو روکتے رہے، اسلام آج اس رفتار سے پھیل رہا ہے جو اس کے اقتدار کے ہزار سال میں بھی نہیں تھی۔ مستقبل اسلام کا ہے اور یہی اللہ کی مرضی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دیر سے نہیں، جلد ہی یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے گی کہ اسلام اور مسلمان ہماری دنیا کا ایک حصہ ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص اسلام سے اتفاق کرے، نہ ہی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ غیر اسلام سے اتفاق کریں لیکن متفق نہ ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ دشمن بن جائیں۔ تہذیبیں ایک دوسرے سے مکالمہ کرتی ہیں، لڑا نہیں کرتیں۔

یہ حقیقت ہے کہ آج کا مغرب، تیونس میں یا کہیں بھی اسلامی تبدیلی کے حق میں نہیں ہے۔ تاہم اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ایسا کیوں ہے، تو ہم اس منفیت (negativism) کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ منفی رویہ تاریخی ہے اور دراصل ناواقفیت پر مبنی ہے۔ (اجنبی اور نامعلوم کا خوف) لہٰذا یہ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، چاہے وہ مقامی ہوں یا باہر سے آئے ہوں، کہ وہ ناواقفیت اور تعصب کی ان خلیجوں کو پاٹنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

دیانت داری کا تقاضا ہے کہ میں اس بیرونی عامل کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کروں۔ تیونس کی ایک اسلامی تحریک کے افراد ایمنسٹی انٹر نیشنل، ہیومن رائٹس واچ، لائرز کمیٹی، انٹر نیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس جیسی تنظیموں کے ان اقدامات کے لیے ممنون ہیں جو انہوں نے تیونس میں آزادی اور ظلم وستم کا نشانہ بننے والوں کے حق میں کیے اور اب بھی کر رہے ہیں۔

مغرب نے ہزاروں مسلمان مہاجرین کا استقبال کیا ہے، انہیں پناہ فراہم کی ہے اور موقع فراہم کیا ہے کہ اپنی زندگی کو ازسرنو شروع کریں۔ انہیں اظہار رائے کی آزادی دی ہے۔ اس سے اس دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے کہ جب قرون وسطیٰ میں عیسائی، چرچ کی تفتیش اور ظلم سے فرار حاصل کر کے انہی ساحلوں سے اس وقت کی اسلامی دنیا کا رخ کرتے تھے جو اس زمانے میں آزادی اور امن کی جنت تھی۔

انتہا پسندی اور منفی رجحانات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، میں مسلمانوں اور مغرب کے درمیان نئی مفاہمت کو، خصوصاً وہ جو غیر حکومتی سطح پر استوار ہوئی ہے، امید کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ بلاشبہ اس سمت میں طویل سفر باقی ہے۔ مسلمان اور مغرب دونوں کو اپنے اپنے لگے بندھے تصورات (Stereotypes) سے آگے جانا ہے اور حقیقت کی اصل تک پہنچنا ہے اور وہ ہے:انسانیت کی خدمت۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:

’’اے بنی نوع انسان، ہم نے تم کو مرد اور عورت ایک جوڑے سے پیدا کیا اور پھر تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کوجان سکو، بے شک اللہ کی نگاہ میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘ (الحجرات ۴۹: ۱۳۔۱۴)

اسلام اور جمہوریت

میرے خیال میں اسلامی تحریکوں اور جمہوریت کو سمجھنے میں غلطی کی گئی ہے۔

اول، یہ غلط ہے کہ تقریباً تمام اسلامی تحریکوں نے اپنے مقاصد کو جمہوریت کے ساتھ منسلک کر دیا ہے اس لیے کہ بہت سے تو لفظ جمہوریت کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مغرب کی بدنام نوآبادیاتی تاریخ کا تسلسل ہے اور ان کے اسلامی تصورات کی بنیاد سے ٹکراتا ہے۔ بہت سے اسلامی اہل قلم ابھی تک اس اصطلاح کے استعمال کے جواز پر بحث کر رہے ہیں۔ اس بحث کا آغاز مولانا مودودیؒ نے کیا تھا اور بعد میں سید قطب شہیدؒ کی فکر نے اسے آگے بڑھایا۔ علاوہ ازیں کچھ نئی اسلامی تحریکیں ہیں جو اس کی شدید مخالف ہیں۔ لگن کے ساتھ جمہوریت کا دفاع کرنے والے درحقیقت بہت کم ہیں۔

اسلام پسندوں کے بار بار کے اور بڑھتے ہوئے مطالبات کے باوجود کہ انہیں جمہوری عمل میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، مسلمان حکومتیں عموماً انہیں اس عمل میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چند ایک ہی عرب یا مسلمان ممالک ایسے ہیں جو جمہوریت پر عمل پیرا ہیں، اس لیے اسلام پسند عام طور پر جمہوریت کے دائرے سے باہر وجود رکھتے ہیں۔ ان کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر انہیں تصادم پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ بہت کم ہیں جنہیں سیاسی عمل کا حصہ بننے دیا گیا۔ اس طرح بد قسمتی سے انہیں مجبور کر دیا جاتا ہے کہ دیگر متبادل راستے اختیار کریں۔

دوم، تبدیلی کا عمل بیشتر صورتوں میں ایک گروہ کا آزادانہ انتخاب نہیں ہوتا بلکہ معروضی حقائق کی ضروریات اور امکانات کے تحت مجبوراً اختیار کرنا پڑتا ہے۔ نہیں تو ایسا کیوں ہوا کہ الجزائر کا اسلامی گروپ جمہوری فضا میں وجود میں آیا اور بعد ازاں جہادی گروپ میں تبدیل ہو گیا لیکن ہمسایہ ملک کی اسلامی تحریک کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ اسی طرح ایران میں شاہ ایران کے ظلم واستبداد کے خلاف اسلامی تحریک کا رد عمل مختلف تھا۔ نہ تو اس نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی یہ تبدیلی جمہوریت کے راستے آئی۔ سوڈان کی تحریک نے عوام کی حمایت سے فوج کے ادارے کے ذریعے تبدیلی لانے پر انحصار کیا۔

اس تنوع کی وجہ کیا ہے جب کہ اسلام ایک اور یکساں ہے؟ معروضی حالت، جغرافیائی وتاریخی عوامل اور افراد کی صورت حال، یہ سب اس کی وجہ ہیں۔ اس لیے تبدیلی کا طریقہ کسی بھی اسلامی تحریک کے لیے ایک قطعی واضح راستہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مخصوص معروضی حقیقت کی تشکیل کردہ مساوات (equation) کا آخری نتیجہ ہوتا ہے۔

سوم، یہ فرض کر لینا غلط ہے کہ جمہوریت کا تصور مکمل طور پر مغرب کا تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی ورثے کا حصہ ہے۔

چہارم، اسلامی تحریک کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ جس طرح اسلام کا تصور، جمہوریت کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ایران میں شاید خاتمی کے صدر بننے تک کے دور میں ہوا، اور بیشتر اسلامی تاریخ میں جمہوریت یعنی امت کا اپنے حکمرانوں (شوریٰ) کو منتخب کرنے کی روایت موجود نہیں رہی ہے، اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت کو اسلام کے بغیر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ایک غیر عادلانہ اسلامی ریاست اور ایک عادلانہ غیر اسلامی ریاست کا تصور ممکن ہے۔ اس صورت میں اسلامی بصیرت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عادلانہ ریاست کی خوش حالی اور ترقی کی امید کی جائے، چاہے وہ غیر اسلامی کیوں نہ ہو، اور غیر عادلانہ ریاست سے کرپشن اور انحطاط کی توقع کی جائے، چاہے وہ اسلامی ہی کیوں نہ ہو۔

جمہوریت اور انسانی حقوق کی موجودگی وہ مثالی صورت ہے جس میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے اور اسلامی ریاست قائم کی جا سکتی ہے لیکن اسلام ان کے لیے ناگزیر نہیں۔ البتہ اسلام ہی میں ان اقدار کا مثالی تصور اور عمل کے لیے مثالی ماحول ملتا ہے۔ اگر اسلام پسند جمہوریت کے حق میں کلمہ خیر کہتے ہیں تو اس کی وجہ ان کے مذہب کی تعلیمات ہیں جو شورائیت، عدل اور حکمت ودانش کی بات کو کسی بھی جگہ سے حاصل کر لینے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے کہا ہے کہ دو متبادل ہوں تو زیادہ آسان کا انتخاب کیاجائے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جمہوریت آسان تر ہے اور اسلامی کی روح کے قریب تر بھی۔

اس کا ایک واضح ثبوت مسلمانوں کا غیر عادلانہ مسلم ممالک سے عادلانہ غیر مسلم ممالک کی طرف اس وجہ سے ترک وطن کر کے آنا ہے کہ اسلام عدل کے ماحول میں خوب پھلتا پھولتا ہے اس لیے جب اللہ کے رسول ﷺ مکۃ المکرمۃ میں تھے تو آپ نے لوگوں تک دعوت پہنچانے کی آزادی چاہی۔ دوسری صورت میں مسلمانوں کا ترک وطن اور مغرب میں لاتعداد اسلامی کانفرنسوں کا انعقاد اور مطبوعات کی بڑھی ہوئی تعداد کی آپ کیا توجیہ کریں گے؟ آپ اور آپ کے رفقا کسی مسلم ملک مثلاً تیونس میں رہنے کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ یہاں جمہوری فضا میں رہنا پسند کرتے ہیں، چاہے یہاں اسلامی ریاست نہ ہو۔

اسلامی تبدیلی کی حکمت عملی

یہ حقیقت ہے کہ معاصر اسلامی معاشرے کے نمونے کی وضاحت اور دیگر نمونوں کے ساتھ اس کی مشابہت اور اختلاف کے تعین کے لیے بڑی کوششیں کی گئی ہیں لیکن ابھی اس میدان میں بڑے کام کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی ریاست کے اندر اور باہر مسلموں اور غیر مسلموں کے انفرادی واجتماعی حقوق کی یکساں حفاظت سے اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی وابستگی کے بارے میں کوئی ابہام نہ رہے۔ اسی طرح خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی تشدد پسندی، دہشت گردی، تکفیر اور محض رائے یا عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے انسانی زندگی، عزت اور مال پر حملوں کو اسلام سے جوڑنے کی روش ترک کی جائے۔ ان واقعات کو الگ کر کے دیکھنا چاہیے تاکہ اسلام کی جو خوف ناک تصویر بنا دی گئی ہے، وہ درست ہو جائے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی انقلاب کی حکمت عملی پر اس وجہ سے بھی بڑی بحث باقی ہے کہ حقوق آزادی کی خاطر، مسلم یا غیر مسلم استبداد کے مقابلے کے لیے ہتھیار اٹھانے کے جواز کے بارے میں غیر یقینی کیفیت ہے۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان اور الجزائر میں خون بہنے کے بعد، جس سے خوارج کے فتنے کی یاد آ جاتی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اس امر پر متفق ہو جائیں کہ اپنے اندرونی اختلافات کے حل کرنے کے لیے تشدد کا راستہ ترک کر دیں گے۔ طاقت کا استعمال اسی وقت درست ہے کہ جب اسلام کی سرزمین پر غیر ملکی حملہ آور ہو جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ برعظیم پاک وہند میں سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی اسلامی فکر کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ باقاعدہ اعلان شدہ جہاد کے علاوہ تشدد کے استعمال کے ناقابل قبول ہونے کا مسئلہ طے ہو گیا ہے۔ اس سے علاقہ (افغانستان میں جو کچھ ہوا، اس سے قطع نظر) باہمی جنگ وجدل سے محفوظ ہو گیا جبکہ عالم عرب میں یہ بات طے نہ ہونے کی وجہ سے کئی تباہ کن واقعات رونما ہوئے۔

تبدیلی کا طریقہ یقیناًحرکی (dynamic) ہے لیکن تحدیدات (limits) کے بغیر نہیں۔ حدیث ہے: ’’تم میں سے جو منکر کو ہوتا دیکھے، اسے ہاتھ سے مٹا دے، اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے برا کہے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو پھر دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔‘‘ (مسلم) اس حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ تبدیلی کی حکمت عملی جامد نہیں ہے اور حقیقت اس قدر پیچیدہ ہے کہ صرف ایک سادہ حل کافی نہیں ہے۔ اسلامی فکر میں تبدیلی کے ایسے نظریے کی گنجایش ہے جو حقیقت کی تمام پیچیدگیوں کو سلجھا سکتا ہے۔

اس طرح تبدیلی کے ایک کے بجائے کئی راستے سامنے آتے ہیں۔ کسی ایک طریق کار کو نظری طور پر بیان کیا جا سکتا ہے لیکن جو صورت حال تبدیل کرنا ہے، اس کاطریق کار معروضی حقیقت ہی متعین کرے گی۔ یہی مذکورہ بالا حدیث میں لفظ ’’استطاعت‘‘ کا مفہوم ہے۔ یہ استطاعت فقہ کی کتابوں کے مطالعے سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ حقیقت حال کے علم سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی ہم عصر اسلامی فکر کی سب سے بڑی خامی ہے کہ اس میں نظریاتی اور تصوراتی حل زیادہ غالب اور نمایاں ہیں۔ اس میں کسی زیر غور صورت حال کے اقتصادی اور معاشرتی پہلوؤں اور اس پر اثر انداز ہونے والے اندرونی بیرونی عناصر کے ایسے مطالعے کو نظر انداز کیا گیا ہے جس سے تبدیلی کے لیے کوئی مخصوص حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ قرآن کا ہم سے مطالبہ ہے: فاتقوا اللہ ما استطعتم (التغابن ۶۴: ۱۶) ’’لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہے، اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ آخر ہم اپنی استطاعت کی حد کو کس طرح معلوم کریں گے جب تک حقیقت کے مطالعے کا اہتمام نہ کریں؟ ہمارے پاس بہت سے مسلم قانون ساز، ڈاکٹر اور انجینئر ہیں لیکن تاریخ، اقتصادیات، نفسیات، سماجیات اور معاشریات کے ماہرین مقابلتاً بہت کم ہیں۔ اس صورت میں ہم اس استطاعت کا تعین کیسے کریں جسے تبدیلی لانے کے مختلف طریقہ ہائے کار میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے شرط قرار دیا گیا ہے؟

یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے روایتی اور معاصر اسلامی فکر کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں اور ان میں خامی رہی ہے۔ یہ دراصل شریعت کے علوم کے مقابلے میں معروضی حقائق کے علوم سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے۔ جب تک ہم اس خامی کو دور نہ کریں گے، علاقائی اور عالمی صورت حال اور ان کے آگے بڑھنے کی سمت کے بارے میں ہمارے اندازے درست نہ ہوں گے۔ ان غلط اندازوں پر تبدیلی کی جو حکمت عملی تشکیل دی جائے گی، وہ تباہ کن ہوگی۔ عظیم مفکر فتحی یکن کے الفاظ میں اس طرح اسلامی سرگرمیاں پہلے تعمیر، پھر تخریب اور پھر تعمیر کا عمل ہوں گی یعنی ایسا عمل جس میں پیش رفت (dynamic of action)نہ ہو۔

اسلامی تحریکوں میں خود احتسابی کا شاذ ہونا اور تخلیقی اختراع کے مقابلے میں اندھی تقلید کو ترجیح دینا، اس کی وجہ ہے۔ روایتی علما کے حوالے مسلسل دیے جاتے ہیں اور ان کے کیے ہوئے کاموں کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ان میں حق وباطل اور حرام وحلال کے مجرد اصول ہماری موجودہ حقیقت سے قطع نظر بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی تنقیح سماجی علوم کے غیر ماہرین کے لیے ممکن نہیں، نہ وہ اس کے ارتقا کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہم ان کے مطالعے سے ہی اسلامی تبدیلی کی حکمت عملی کا تعین کر سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ ہم اس خاص پہلو کے حوالے سے آگے بڑھیں، پیچھے نہ آئیں۔ ’’سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اسی پر میں نے بھروسا کیا اور ہر معاملے میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔‘‘ (ہود ۱۱: ۸۸)

تیونس کی اسلامی تحریک ’النہضۃ‘

اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس تحریک نے جس کی نشوونما مسلم دنیا کے سب سے زیادہ مغرب زدہ ماحول میں ہوئی، اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے، مقاصد کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے اور مستقبل کے سفر کے لیے مناسب سبق حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ وقت نکالا ہے۔

ہماری تحریک کی نشوونما میں ایسے دو جائزے غیر معمولی قدروقیمت کے حامل ہیں۔ پہلا، بنیاد رکھے جانے اور ۸۶۔۱۹۷۰ء میں ابتدائی نشوونما کے دور سے متعلق ہے، دوسرا ۹۵۔۱۹۸۶ء کے دور کا جائزہ ہے۔

تحریک کی مثبت خصوصیات میں تحریک کی علمی اور تخلیقی سوچ ہے۔ اس سوچ کی بدولت تحریک نے اندھی تقلید کا راستہ ترک کر کے نئے تصورات کو اپنی سیاسی فکر میں جذب کیا جیسے جمہوریت، حقوق انسانی، مہذب معاشرہ اور خواتین کی شرکت، اور ان تصورات کو اسلامی اقدار کے قالب میں ڈھالا۔ اس کی بدولت تحریک کے لیے ممکن ہو گیا کہ تشدد اور نام نہاد ریڈیکل ازم کے راستے سے احتراز کرے، جس سے کئی چھوٹے گروہوں نے نقصان اٹھایا ہے۔ تحریک اس قابل ہو گئی کہ نظریاتی مشکلات کے بغیر مغرب کے ساتھ مکالمہ کرے۔ ہماری تحریک جدیدیت کے دور میں اسلامی دروازے سے داخل ہوئی ہے۔ وہ ایک ایسے اسلامی نظریے سے مسلح ہے جو ظلم کو مسترد کرتا ہے، اور ریاست کا قانونی جواز عوام الناس کی رضامندی سے مشروط کرتا ہے۔

اسلامی تحریک کے علم برداروں کی حکومت کے جواز کی بنیاد وہی ہے جو کسی اور سیاسی گروہ کی ہو سکتی ہے۔ وہ اپنا پروگرام عوام کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ صرف عوام کو حق حاصل ہے کہ اسے قبول کر لیں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہ مسئلہ پریشانی کا باعث بنتا ہے کہ اگر عوام نے اسلام پسند پارٹی کو رد کر دیا اور سیکولر پارٹی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا، تب کیا ہوگا؟ جس مسلم معاشرے میں اپنی اقدارکا شعور موجود ہو، اس میں یہ امکان بڑی حد تک نہیں ہے۔ تاہم کھیل کے قوانین کو تسلیم کرتے ہوئے، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ عوام کی مرضی کے مطابق حکومت میں تبدیلی آتی رہے، اسلامی تحریک دوسری جماعتوں کے ساتھ اپنے معاہدوں کی پاس داری کرے گی۔ اسی طرح، امید ہے کہ دوسرے گروہ بھی اپنے معاہدے کے پابند رہیں گے اور اسلامی تحریک کے افراد کو ان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد قید، جلا وطنی یا موت کی سزا دینے سے باز رہیں گے۔ ایوان اقتدار سے باہر رہنے کا وقفہ اسلامی تحریک کو یہ موقع دے گا کہ وہ اپنا جائزہ لے، مسلمانوں کو اپنے پروگرام پر مطمئن کرنے میں ناکامی کی وجوہات معلوم کرے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے۔ اگر وہ سوال کا صحیح جواب فراہم کر سکیں گے تو یقینی طور پر دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے۔ ہمیں مسلمانوں کی راست روی پر اعتماد رکھنا چاہیے کیونکہ رسالت مآب ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت ضلالت پر کبھی مجتمع نہ ہوگی اور جب تم میں اختلاف ہو تو اکثریت کا راستہ اختیار کرو۔ (ابن ماجہ)

ہمارے جائزے میں جو منفی نکتہ ابھر کر سامنے آیا، وہ یہ تھا کہ اپنی قوت اور اپنے مخالفین کی قوت کا اندازہ لگانے میں ہم سے غلطی ہوئی۔ نیز قومی حالات کی تشکیل میں علاقائی اور عالمی عناصر کی اہمیت کا ہم کماحقہ ادراک نہ کر سکے۔

ہماری خامیوں میں سے ایک خامی یہ بھی رہی کہ ہم کچھ افراد کے اقدامات کے بارے میں، جو تحریک کی پالیسیوں کے خلاف تھے، انضباطی کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے تحریک پر بحیثیت مجموعی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ 

(ترجمہ: مسلم سجاد)


اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

اکتوبر ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۱۰

’دہشت گردی‘ کے حوالے سے چند معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دعوتِ دین کا حکیمانہ اسلوب
پروفیسر محمد اکرم ورک

امریکی جارحیت کے محرکات
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اسلامی تحریک کا مستقبل: چند اہم مسائل
راشد الغنوشی

علما اور عملی سیاست
خورشید احمد ندیم

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مذہبی جماعتوں کی ’’دکھتی رگ‘‘
جاوید چودھری

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter