احیائی تحریکیں اور غلبہ اسلام

ڈاکٹر محمد امین

(لاہور میں ۶ جون ۲۰۰۵ کو منعقد ہونے والے، احیائی تحریکوں کے ایک اجتماع سے خطاب۔)


میں اس مجلس کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہاں مجھے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا۔ جیسا کہ کنوینر صاحب نے واضح کیا ہے کہ اس مجلس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز میں قیام نظام خلافت اور نفاذ اسلام کے لیے جو بہت سی جماعتیں کام کر رہی ہیں، ان کے اتحاد کے بارے میں غور کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں اتحاد کے موانع کیا ہیں اور ان موانع کا سدباب کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز ان میں اتحاد کے لیے موثر لائحہ عمل تجویز کیا جائے۔

اس مجلس میں مجھ سے پہلے مختلف احیائی تحریکوں کے مندوبین نے، جو بلاشبہ بہت سمجھ دار، پڑھے لکھے اور جہاں دیدہ افراد ہیں، اس وقت تک جو گفتگو کی ہے، وہ ایک خاص فکری دائرے کے اندر رہی ہے۔ میں چاہوں گا کہ آپ ذرا اس سے ہٹ کر بھی سوچیں۔ یوں میری باتیں آپ میں سے اکثر اصحاب کے لیے نامانوس اور اجنبی ہو سکتی ہیں اور آپ میں سے بعض اسے اختلافی بلکہ مخالفانہ بھی سمجھ سکتے ہیں ----- اور اس غیر متوقع صورت حال کے لیے میں آپ سے معذرت خواہ بھی ہوں ----- لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جب یہ غور وفکر کی مجلس ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس میں سب روٹین کی اور آپ کی من پسند باتیں ہوں، بلکہ اس میں ہر طرح کی تجاویز اور آرا سامنے آنی چاہییں اور طلب حق میں آپ کے اخلاص کا تقاضا ہے کہ آپ انھیں توجہ سے سنیں اور وزن دیں، جیسا کہ امام شافعی نے فرمایا ہے اور سچ فرمایا ہے کہ میں اپنی رائے کو صحیح سمجھتا ہوں اور مخالف کی رائے کو غلط سمجھتا ہوں، لیکن اپنی رائے میں غلطی کا اور مخالف کی رائے میں صحت کا امکان تسلیم کرتا ہوں (کیونکہ مجھ پر وحی نہیں اترتی اور نہ میں پیغمبر ہوں)۔

تو میری درخواست یہ ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے اپنے فکری دائرے سے باہر نکل کر اپنے بنیادی تھیسس اور طریقہ کار پر ذرا ازسرنو غور کریں۔ آپ لوگوں کے نزدیک دین کا نصب العین، مقصد اور کرنے کا بنیادی کام یہ ہے کہ معاشرے میں نظام خلافت قائم کیا جائے، دین نافذ کیا جائے اور اسی غرض سے آپ نے جماعتیں بنائی ہیں۔ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ دین ہم پر آج نازل نہیں ہوا کہ اس کے مفہوم اور نصب العین پر ہم ازسرنو غور کرنے بیٹھیں۔ یہ آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوا تھا اور الحمد للہ کہ مسلم معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے بلا انقطاع قائم ہے۔ ایک آدھ استثنا چھوڑ کر (جیسے ہم نے اندلس کو کھویا اور سسلی کو کھویا) الحمد للہ کہ مسلم معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے بلا انقطاع قائم ہے اور (ثم الحمد للہ) کہ بعض کمزوریوں کے باوجود بڑی حد تک اسلام پر ہی قائم رہا ہے۔ تو کیا ہمارے اسلاف نے، ہمارے علما وصلحا نے وہ کام کیا ہے جو آپ کرنے اٹھے ہیں؟ سعید بن مسیبؒ ، امام زہریؒ ، ابو حنیفہؒ ، شافعیؒ ، مالکؒ اور ابن حنبلؒ نے نفاذ اسلام کے لیے کون سی سیاسی جماعت قائم کی تھی؟ ابن حزمؒ ، ابن تیمیہؒ ، ابن کثیرؒ اور امام بخاریؒ ومسلمؒ نے کب قیام خلافت کے لیے جلسے کیے اور ریلیاں نکالی تھیں؟ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت حسین بن علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے تجربے کے بعد جمہور امت نے یہی طے کیا کہ مسلم معاشرے میں جمے ہوئے سیاسی نظام کی اکھاڑ پچھاڑ کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے، لہٰذا اس نظام کے اندر رہتے ہوئے پر امن انداز سے اور انفرادی طور پر اس کی اصلاح کی کوششیں جاری رکھی جائیں اور ساتھ ساتھ باقی سارے شعبوں میں دینی کام جاری رکھے جائیں۔ یہ اجماع امت ہے، یہ جمہور علما کا مسلک ہے، یہ ساڑھے تیرہ سو سالہ قدیم اور مستحکم مسلم روایت ہے، اس سے صرف نظر روا نہیں۔ اور اس مسلک کی اساس کیا ہے؟ اس مسلک کی اساس یہ ہے کہ سیاسی اصلاح کا کام بلاشبہ اہم ہے، یہ دینی کام ہے لیکن یہ بہرحال بہت سے دینی کاموں میں سے ایک کام ہے۔ دیکھیے! دین کے چار بڑے شعبے ہیں: عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات، اور معاملات کی بھی بہت سی شاخیں ہیں جیسے مالی اور تجارتی امور، نکاح، طلاق اور وراثت، قانون فوج داری اور مدنی، عدالتی نظام، تعلیم وتدریس اور سیاسی امور وغیرہ۔ تو سیاسی نظام کی اصلاح نہ تو پورا دین ہے اور نہ دین کا بنیادی ترین کام ہے، بلکہ یہ دین کے چوتھے جزو کا ایک جزو ہے۔ بلاشبہ یہ بھی ایک دینی کام ہے اور اہم کام ہے، لیکن ہم اسے دسویں نمبر سے اٹھا کر پہلے نمبر پر نہیں لا سکتے، کیونکہ اس سے دین کا سارا نظام ترجیحات تلپٹ ہو کر رہ جائے گا۔

ہمارے اسلاف نے دین اور اس کی ترجیحات کو یوں سمجھا تھا کہ اصل چیز آخرت اور آخرت کی کامیابی اور اللہ کی خوشنودی اور رضا طلبی ہے اور دنیا، آخرت کے مقابلے میں حقیر تر ہے۔ پیغمبردنیا میں اس لیے تشریف لاتے ہیں کہ وہ تعلیم وتربیت سے لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کریں۔ (۱) تاکہ لوگ دنیا کی زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں اور آخرت میں کامیاب رہیں۔ تو گویا دین کا آخری نصب العین اور غایت آخرت اور اس کی کامیابی ہے نہ کہ دنیا اور اس کی کامیابی اور اس میں قوت واقتدار کا حصول۔ اس دنیا میں اگر چند اشخاص کماحقہ مسلمان ہوں اور ساری دنیا ان کی مخالف ہو اور وہ دنیا کی ساری آسائشوں سے محروم، دکھوں اور تکلیفوں میں زندگی گزاریں، جہاں نہ نظام خلافت ہو اور نہ اس کے قیام کی کوئی صورت ہو، تو پھر بھی وہ کامیاب ہیں کیونکہ انھیں ان شاء اللہ آخرت میں کامیابی ملے گی۔ لیکن اگر کسی معاشرے کی اکثریت (۲) ایمان لاتی ہے اور مسلم ہونے کا اقرار کرتی ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنا نظم اجتماعی قائم کرے اور ایک منظم معاشرہ تشکیل دے، یعنی آج کی اصطلاح میں اپنی ریاست قائم کرے اور اس کی قوت حاکمہ ونافذہ کے ذریعے دین کے ان احکام پرعمل کرے جن کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے۔ اس چیز کو کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں ’خلافت‘ واجب ہے اور یہی وہ ’الجماعت‘ ہے جس سے وابستگی لازم ہے اور جس سے خروج نقیض ایمان ہے اور جس سے دوری، بجز کسی شدید اجتماعی دینی ضرورت کے، جائز نہیں کیونکہ اس کے بغیر فرد کے لیے اپنے دین کی حفاظت اور اس پر عمل خطرے میں پڑ جاتا ہے (لیکن اس حقیقت کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ غلط فہمی سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ نفاذ دین کے لیے جماعت بنانی ضروری ہے تاکہ جب تک ’الجماعت‘ وجود میں نہ آئے، ان کی جماعت ’الجماعت‘ کی قائم مقام ہو یا اسے وجود میں لانے کا ذریعہ بنے۔ حالانکہ ’الجماعت‘ سے مراد مسلم معاشرہ اور ریاست ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ )

اسی طرح بعض لوگ خلافت کے مفہوم کو سمجھنے میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ کہا ہے۔ (۳) ان معنوں میں کہ وہ زمین میں اللہ کی طرف سے صاحب اختیار بنایا گیا ہے کہ حق وباطل میں سے جو راستہ چاہے، اختیار کرے اور اللہ کے دیے ہوئے اختیار سے زمین میں جیسے چاہے، تصرف کرے، لیکن بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ’مسلمان‘ اللہ کے خلیفہ ہیں، حالانکہ قرآن نے مسلمانوں کو نہیں بلکہ انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا ہے (خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو)۔ ’خلافت‘ تو دراصل مسلمانوں کے سیاسی نظام کا نام ہے، یعنی مسلمان حاکم اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتا ہے۔ اب تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مسلم عہد کی ابتدا میں (خلفاء راشدین کے عہد میں) یہ سیاسی نظام صحیح خطوط پر کام کر رہا تھا جبکہ بعد کے ادوار میں یہ آمریت اور وراثتی نظام میں بدل گیا اور اس میں بہت سی خرابیوں نے راہ پا لی۔ اب اگر ہم آج عصر حاضر میں اسلام کے صحیح سیاسی نظام (یا نظام خلافت) کی بحالی چاہتے ہیں تو اس کے لیے ماضی کے نظام خلافت کی صوری ہیئت (Form) کا احیا اور پیروی ضروری نہیں بلکہ اس کی سیرت اور روح کو سامنے رکھنا ہوگا۔ 

ہمارے نزدیک نظام خلافت یا مسلمانوں کے سیاسی نظام کے چار بڑے اجزا ہیں: ۱۔ شریعت کا نفاذ، ۲۔ امت کا اتحاد، ۳۔ حکومت کا مسلمانوں کی رائے سے بننا اور ٹوٹنا، ۴۔ مسلمان معاشرے میں حریت، عدل، مساوات، شوریٰ وغیرہ جیسے اسلامی تصورات پر عمل اور ہر قسم کے ظلم وجور اور استبداد کا خاتمہ۔ تو ان بنیادی خصائص کا حامل جو سیاسی نظام بھی آپ کھڑا کریں گے، وہ اسلامی ہوگا خواہ اسے آپ ’خلافت‘ کہیں یا ’اسلامی نظام‘ یا ’نظام مصطفی’ یا کچھ اور۔

اس وقت سب مسلم ممالک کے حکمران مسلمان ہیں، لیکن انھوں نے اسلام کا صحیح سیاسی نظام قائم نہیں کیا، لہٰذا مسلمانوں کو پرامن طریقے سے ایسی جدوجہد کرنی چاہیے کہ ان حکمرانوں کے بجائے ایسے لوگ برسر اقتدار آئیں جو اسلام کا صحیح سیاسی نظم قائم کریں۔ سیاسی اصلاح کا یہ کام مسلمانوں کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ انھیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے۔ (۴) اگر وہ اس کے لیے کوشش کرتے ہیں تو گویا انھوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، خواہ موجودہ غلط سیاسی نظام بدلے یا نہ بدلے۔

خلافت کا جو ناقص اور برا بھلا نظام مسلمانوں میں چل رہا تھا، وہ خود ترکوں نے، مغربی تہذیب کے زیر اثر ۱۹۲۴ء میں ختم کر دیا۔ استعمار سے آزادی حاصل کرنے والے ممالک میں اکثر ایسے مسلمان حکمران برسر اقتدار آئے جنھیں اسلام کے سیاسی نظام کی خبر تھی اور نہ وہ اس پر عمل کرنے کے خواہاں نظر آتے تھے۔ ان حالات میں دینی رہنماؤں نے اپنی جماعتیں بنا لیں اور مسلمان حکمرانوں کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔ اس جدوجہد کے تین پہلو ایسے تھے جو اپنی نوعیت میں منفرد تھے اور ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی:

۱۔ یہ دینی رہنما خود اقتدار کے طالب اور حکمرانوں کے حریف بن کر سامنے آئے۔ (ماضی میں اصلاح کے طالب علما وزعما اصلاح کی کوشش کرتے تھے، لیکن خود اقتدار کے طالب نہ ہوتے تھے)۔

۲۔ ان دینی رہنماؤں نے اپنے اس کام کو محض سیاسی کام نہیں سمجھا، بلکہ اسے پورا دین قرار دیا اور دین کی ایسی تشریح وتعبیر کی جس سے یہ سیاسی کام اصل اور پورا دین ثابت ہو۔ (ماضی میں وہ درس وتدریس، فقہ وافتا، تزکیہ وتربیت، قضا وتجارت اور صنعت وحرفت کے کام کرتے تھے اور مسلم حکمرانوں کی اصلاح کو دوسرے دینی کاموں کے ساتھ ایک جزوی دینی کام سمجھتے تھے) یہی نہیں، بلکہ ان میں سے ہر جماعت نے دین کی اپنی تشریح وتعبیر کو دین کی واحد صحیح تعبیر قرار دیا۔ انھوں نے روایتی علما سے بھی مخاصمت کی راہ اپنائی۔ یوں مسلم معاشرے میں وہ مزید تقسیم کا سبب بن گئے اور اپنے مقاصد بھی حاصل نہ کر سکے۔

۳۔ دین کے سیاسی پہلو کے لیے جدوجہد کو پورا دین اور دین کا جامع تصور قرار دے کر ان دینی زعما نے جو موقف اپنایا، اس سے دین کے نصب العین اور اس کی ترجیحات کا نظام تلپٹ ہو گیا۔ مسلم معاشرے میں اور صحابہ واسلاف کے ہاں دین اسلام کی مرکزی روح ’آخرت‘ تھی اور تقویٰ، للہیت، اللہ کی محبت وخشیت، قناعت، بے غرضی اور زہد ان کا طریقہ کار تھا۔ وہ دنیا کو مزرعۃ الآخرۃ سمجھتے تھے اور اس سے محبت کو سارے معاصی کی جڑ سمجھتے تھے۔ اب جب دین کا ہدف اور نصب العین دنیا میں حصول اقتدار قرار پایا اور یہی ساری دینی جدوجہد کا حاصل ٹھہرا اور اس کے لیے دن رات غور وفکر اور جدوجہد کرنا مقصد زندگی بنا تو آخرت کی ترجیح اور اس کے مقتضیات غیر نمایاں اور ثانوی حیثیت اختیار کر گئے۔ یہ سب کچھ مغربی فکر وتہذیب سے غیر شعوری تاثر اور رد عمل کا نتیجہ تھا۔

مغربی فکر وفلسفے کا خلاصہ اور منتہا یہ ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی یہ زندگی ہے۔ جو کچھ کرنا ہے، یہیں کے لیے کرنا ہے۔ گویا ’بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘۔ چنانچہ اہل مغرب نے دنیا کو سہولتوں اور آسائشوں کا گھر بنانے کے لیے دولت کی کثرت (نظام سرمایہ داری) مال ومتاع کی کثرت (ہر طرح کی صنعتیں اور ٹیکنالوجی) اور لذات کی کثرت (عورت ومرد کی بے لگام آزادی) کا اہتمام کیا۔ ا س فکر وفلسفے کے ساتھ مغرب چونکہ اپنے سیاسی، دفاعی اور مالی استحکام کی وجہ سے غالب وبرتر تھا، لہٰذا اس کے مقابلے میں مسلمانوں کو ابھارنے اور انھیں دنیا میں غلبے کی راہ دکھانے کے لیے ہمارے ان علما ومفکرین نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہمارا دین بھی ایک مکمل نظام زندگی ہے، یہ بھی ایک تحریک ہے، یہ بھی دنیا میں غلبے کی راہ دکھاتا ہے اور چونکہ مسلمان حکمران مغربی فکر ونظر سے مرعوب اور اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل نہ تھے، لہٰذا ان دینی زعما نے یہ موقف اختیار کیا کہ صرف ہم ہی یہ کام کر سکتے ہیں کہ اسلامی نظام زندگی غالب کر دکھائیں، لہٰذا اقتدار ہمیں اور ہماری جماعت کو ملنا چاہیے۔ پھر چونکہ یہ علما تھے، لہٰذا انھوں نے اپنے اس نقطہ نظر کے حق میں دین وشریعت سے دلائل تلاش کر لیے اور یوں دین کی ایک نئی تشریح، ایک نئی تعبیر اور ایک نیا نصب العین ہمارے سامنے آیا اور آخرت کو ترجیح اول بنانے والا، سیاست کو دین کے بے شمار اہم کاموں میں سے محض ایک کام سمجھنے والا اور اللہ کی ہمہ جہت بندگی کے لیے نفوس کی تعلیم وتزکیے کو اہمیت دینے والا، روایتی اور صحیح نقطہ نظر دبتا اور پسپا ہوتا چلا گیا۔ پھر جتنی جماعتیں اور جتنے لیڈر تھے، انھوں نے اس کام کے لیے جو لائحہ عمل بنایا، اسے کتاب وسنت سے دلائل فراہم کیے۔ یوں ہر جماعت کا تصور دین ایک منفرد دینی تعبیر بنتا گیا اور ہر فریق صرف اپنی دینی تعبیر ہی کو صحیح سمجھنے لگ گیا۔ 

میں نے یہ تفصیلی تجزیہ اس لیے کیا ہے کہ اس تجزیے سے آپ حضرات اپنے کام کی نوعیت اور حقیقت کو بھی سمجھ لیں اور آپ پر یہ بھی واضح ہو جائے کہ احیائی تحریکوں میں اتحاد کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے ہر تحریک یہ سمجھتی ہے کہ اس کی تعبیر دین ہی دین کی واحد صحیح تعبیر ہے۔ اس کا مطلب خود بخود یہ ہے (گو ان میں سے بعض مصلحتاً اس کا اعلان نہ کریں) کہ ان سے ہٹ کر سوچنے والے کافر، فاسق اور منافق یا کم از کم گمراہ اور غلط سوچ کے حامل اور غلط راہ پر چلنے والے ہیں۔ ان حالات میں ان میں اتحاد کیسے ہو سکتا ہے؟

ہماری طالب علمانہ رائے میں ان کے اتحاد کی فکری بنیاد صرف یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی دینی رائے کو دین کی واحد صحیح تعبیر سمجھنا چھوڑ دیں، بلکہ اسے دین کے بے شمار کاموں میں سے ایک کام اور محض سیاسی نظام کی اصلاح کا کام سمجھیں۔ اس سے ان کے دل میں دوسروں کے لیے وسعت اور گنجایش پیدا ہوگی اور وہ اسے ایک پراجیکٹ سمجھتے ہوئے مل جل کر کامیاب کرانے کا سوچ سکیں گے۔ جب وہ اس کام کو سیاسی کام سمجھنے لگیں گے تو پھر ان کو یہ سمجھنے میں بھی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ سیاسی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ نیز یہ کہ اس کے لیے دینی تصورات میں مکمل اتفاق کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے مسلم لیگ نے ایک سیاسی تحریک چلائی اور پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئی، کیونکہ اس میں دیوبندی بھی تھے، بریلوی بھی، اہل حدیث بھی تھے، اہل قرآن بھی، اہل سنت بھی تھے، اہل تشیع بھی (بلکہ اس میں قادیانی بھی تھے اور کمیونسٹ بھی) نتیجتاً ایک سیاسی ہدف پر سارے مسلمان مجتمع ہو گئے، لیکن اگر ایک سیاسی جماعت فرض کیجیے کہ دیوبندیوں پر مشتمل ہو اور وہ چاہے کہ وہ سارے ملک سے نشستیں جیت کر حکمران بن جائے تو یہ ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے پاکستان کے سارے مسلمان دیوبندی ہو جائیں جو عقلاً محال ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے قیام خلافت یا نفاذ اسلام کے ہیرو بننا چاہتے ہیں، ان کا تدبر مشکوک ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک اخلاص بھی۔ (بلکہ ہمارے ایک رفیق کار تو طنزاً کہا کرتے ہیں کہ ان کی عقل یا تو ٹخنوں میں ہے یا پیٹ میں)۔

جہاں تک ان اہل دین کے مشترکہ سیاسی ایجنڈے کا تعلق ہے تو ہماری طالب علمانہ رائے میں اس میں کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہیں اور ان کے درمیان اتفاقی نکات ومفاہیم اتنے زیادہ ہیں کہ ان پر جمع ہونا ان کے لیے بہت آسان ہے، جبکہ ڈاکٹر سید عبد اللہ مرحوم (حامئ اردو واستاذ جامعہ پنجاب) کہا کرتے تھے کہ اگر میرا کسی کے ساتھ ایک فیصد اتفاق اور ۹۹ فیصد اختلاف ہو تو میں اس ایک فیصد میں اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہوں، لیکن اکثر دینی لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ باہم مل کر کام کرنے کے لیے گویا سو فیصد اتفاق ضروری ہے۔ تو ہم یہ عرض کر رہے تھے کہ مختلف دینی جماعتیں بڑی آسانی سے ایک مشترکہ سیاسی ایجنڈے پر مل کر کام کر سکتی ہیں، جس کے اہم نکات بطور مثال مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:

سیاست: اللہ کی حاکمیت، نفاذ شریعت، پاکستان کا استحکام، شورائیت۔

قانون: قرآن وسنت ماخذ قانون ہیں، عدالتی نظام سادہ، تیز رفتار اور مبنی بر اسلامی قانون ہونا چاہیے۔

معیشت: مہنگائی کا خاتمہ، سادگی، جاگیرداری وسرمایہ داری کا خاتمہ۔

معاشرت: امن وامان کا قیام، بے حیائی اور عریانی کے کلچر کا خاتمہ۔

تعلیم: ہر طرح کی دینی ودنیاوی تعلیم دینا، فرقہ واریت اور مغرب پرستی کا خاتمہ۔

خارجہ امور: مسلم ممالک سے قریبی تعلقات، امن عالم کا قیام، دشمنوں سے حذر، اتحاد امت وغیرہ۔

غرض زندگی کے جتنے بھی اہم شعبے ہیں اور ان میں جو امہات مسائل ہیں، ان کے حل پر ساری دینی جماعتوں کا اتفاق ہے اور اگر یہ ساری دینی جماعتیں اس طرح کے ایک سیاسی ایجنڈے پر متحد ہو جائیں تو وہ یقیناًکامیاب ہو کر برسر اقتدار آ سکتی ہیں اور معاشرے میں دین نافذ کر سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے جو اخلاص اور فراست درکار ہے، وہ بازار سے خریدی نہیں جا سکتی بلکہ دینی قیادت کو خود اپنے اندر پیدا کرنی ہوگی۔

اس وقت تک جو ہمارا مشاہدہ ہے، وہ یہ کہ ایک تو یہ اہل دین داخلی لحاظ سے مذکورہ بالا عوامل کی بنا پر متحد نہیں۔ دوسرے خارجی لحاظ سے مغربی طاقتیں ، ان کے ایجنٹ مقامی حکمران اور ان کی قائم کردہ خفیہ ایجنسیاں انھیں متحد نہیں ہونے دیتیں۔ وہ انھیں آپس میں لڑاتی رہتی ہیں تاکہ یہ سرمایہ دار، جاگیردار، فوجی اور سول افسران، جو ان عالمی طاقتوں کے گماشتے ہیں، آرام سے حکومت کرتے رہیں اور مولانا صاحبان یا تو مدرسے چلاتے رہیں یا ان میں سے ہر ایک اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد (الگ دینی سیاسی جماعت) بنا کر اپنی لیڈری کا سکہ جماتا رہے اور اسلامی خلافت اور اسلامی انقلاب کے خواب (اگر مخلص وسادہ لوح ہے) تو دیکھتا اور دکھاتا رہے اور (اگر ہشیار وعیار ہے تو) بیچتا رہے (کہ یہ ایک عمدہ کاروبار ہے جس میں جاہ ومنصب بھی ہے، عزت ووقار بھی ہے اور دولت کی ریل پیل بھی ہے) فاعتبروا یا اولی الابصار۔

دینی حوالے سے سیاسی کام کرنے والوں کو ایک اور نقطہ پر بھی غور کرنا چاہیے اور یہ وہی بات ہے جس کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے کہ امت پچھلے ساڑھے ۱۳ سو سال سے اس کی عادی نہیں رہی کہ اہل دین، اہل سیاست کے حریف بن کر ان کے مد مقابل آ جائیں اور عوام کی طاقت سے فتح یاب ہونا چاہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہل دین کا احترام تو کرتی ہے لیکن انھیں ووٹ نہیں دیتی، ان کی سیاسی حمایت نہیں کرتی۔ اس کا ایک عارضی حل یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے مرحلے میں اہل دین خود براہ راست انتخاب میں حصہ نہ لیں، بلکہ ایک مضبوط پریشر گروپ بنا کر کسی ہم خیال سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے کامیاب کرا کر جہاں تک ہو سکے، زیادہ سے زیادہ دینی مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ان احیائی تحریکوں کا بزور قوت حکومت پر قبضے کا تعلق ہے تو ہمارے زمانے میں ریاست کو فوج، پولیس اور جدید ترین اسلحے کی وجہ سے جو قوت قاہرہ حاصل ہے اور مسلم حکمرانوں کو دینی تحریکوں کے مقابلے کے لیے مغرب کی جو سرپرستی حاصل ہے، اس کے پیش نظر ان دینی قوتوں کے بزور قوت غلبے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے جمے ہوئے سیاسی نظام کو بزور بازو اکھاڑنے کی غیر موثر کوششوں سے جان ومال کی خواہ مخواہ کی قربانی اور سیاسی عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا، لہٰذا جمہور امت کی رائے اور مستحکم مسلم روایت پر ہی عمل کرنا چاہیے اور سیاسی تبدیلی کے لیے تشدد سے باز رہنا چاہیے۔ یہ کام آج اگر ہو سکتا ہے تو عوام کی قوت وطاقت ہی سے ہو سکتا ہے۔ مسلمان عوام کی حمایت اگر میسر آ جائے تو ضروری نہیں کہ اس کے لیے الیکشن ہی کا طریقہ اختیار کیا جائے، بلکہ دوسرے طریقوں پر بھی غور اور عمل کیا جا سکتا ہے۔

حاضرین گرامی قدر! آپ نے جو موضوع تجویز کیا تھا، اس کا تجزیہ وتحلیل اور آپ کے ممکنہ اتحاد کے اصول اور لائحہ عمل کے بارے میں اپنی گزارشات میں نے پیش کر دی ہیں اور آپ سے توقع ہے کہ آپ ان پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے۔ تاہم گفتگو کو سمیٹنے سے پہلے ایک ضروری بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر آپ اس بات کے قائل ہو جائیں کہ انقلاب امامت اور قیام خلافت کا کام کل دین نہیں بلکہ بے شمار دینی کاموں میں سے ایک کام یا محض سیاسی کام ہے (اگرچہ یہ ایک اہم کام ہے اور ضرور کیا جانا چاہیے) اور اس کے باہر بھی دین کے بڑے بڑے کام پڑ ے ہیں جو کیے جانے کے مستحق ہیں، تو ہم یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ ہمارے نزدیک دیگر دینی کاموں میں سے پہلی ترجیح مسلمان عوام کی تعلیم وتزکیے کے کام کو حاصل ہے۔ یہ وہ کام ہے جس سے شخصیت بنتی ہے، یہ تطہیر فکر اور تعمیر سیرت کا کام ہے، یہ انسان سازی کا کام ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے موجودہ ناقص تعلیمی منہاج کو بدلیں۔ میری طالب علمانہ رائے میں ہمارا دینی نظام تعلیم بھی ایک بڑے اصلاحی پیکج کا متقاضی ہے اور دنیوی نظام تعلیم بھی، بلکہ ان دونوں نظاموں کا الگ الگ ہونا خود ایک بنیادی مرض اور مصیبت ہے جس کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ 

ان دونوں نظام ہائے تعلیم میں کن اصلاحات کی ضرورت ہے؟ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس پر اس محدود وقت میں تفصیلی گفتگو ممکن نہیں، تاہم میں اس بات کی طرف اشارہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ’تعلیم وتزکیے‘ کے قرآنی حکم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہمارا نظام تعلیم صرف علم اور معلومات کی منتقلی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اقدار کی منتقلی کا ذریعہ بھی بننا چاہیے، یعنی صرف تطہیر فکر نہیں، بلکہ تعمیر سیرت وکردار کو بھی تعلیم کا جزو لاینفک ہونا چاہیے تاکہ ایک ایسی شخصیت وجود میں آ سکے جو اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی پر راغب وقادر ہو۔ لہٰذا ہمارے تعلیم وتزکیے کے منہاج کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ یہی ایسے افراد تیار کر سکتی ہے جو باصلاحیت، باکردار اور دین دار ہوں۔ ایسے افراد تیار ہوں گے تو صحیح مسلم معاشرہ وجود میں آئے گا۔ دنیا میں بھی عزت ووقار اور کامیابی ہمارا مقدر ٹھہرے گی (ان شاء اللہ) اور آخرت میں بھی، اور اصل کامیابی تو آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ ہمارا دینی طبقہ صحیح تعلیم وتزکیے کا یہ کام اگر مستقل مزاجی، دل جمعی اور پوری قوت ولگن سے کرتا رہے تو اس کے مثبت وخوش گوار اثرات لازماً دینی سیاسی جدوجہد پر بھی پڑیں گے اور اسے کام یاب کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے نظام تعلیم وتربیت کے منہاج میں مذکورہ تبدیلی لانے کا کام پرائیویٹ سیکٹر میں خوش اسلوبی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے اگر حکومت تیار نہ ہو یا ساتھ نہ دے تو بھی اس ملک میں ہزاروں دینی مدارس، لاکھوں اسکول اور بیسیوں کالج اور یونیورسٹیاں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہی ہیں جو یہ تبدیلی لا سکتی ہیں، بشرطیکہ اہل دین اس کام کی اہمیت وضرورت کو سمجھیں اور اس پر اپنی توانائیاں، وقت اور صلاحیتیں صرف کرنے کو تیار ہوں۔

آخر میں ایک بار پھر آپ حضرات سے معذرت کہ آپ کو اپنی روٹین، مزاج اور مانوس نظریات سے ہٹ کر یہ باتیں سننا پڑیں، لیکن توقع ہے کہ آپ ان گزارشات پر کھلے اور ٹھنڈے دماغ سے غور کریں گے اور ممکن ہے یہ باتیں جو آج آپ کو اجنبی اور نامانوس لگ رہی ہیں، کل کو معقول اور مانوس لگنے لگیں۔ اس سلسلے میں اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال یا استفسار ہو تو مجھے اس کا جواب دے کر خوشی ہوگی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

(اگست ۲۰۰۵ء)

Flag Counter