اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

موجودہ دور کو بجا طور پر مغربی فلسفہ وفکر اور علوم وفنون کی بالا دستی کا دور کہا جا سکتا ہے۔ آج پورے کرۂ ارضی پر مغربی افکار ونظریات اورانسان وکائنات کے بارے میں وہ تصورات پوری طرح چھائے ہوئے ہیں جن کی ابتدا آج سے تقریباً دوسو سال قبل یورپ میں ہوئی تھی اور جو اس کے بعد مسلسل مستحکم ہوتے اور پروان چڑھتے چلے گئے۔ آج کی دنیا سیاسی اعتبار سے خواہ کتنے ہی حصوں میں منقسم ہو، فکر اور سوچ کے دائرے میں ایک ہی طرز فکر اورنقطۂ نظر پوری دنیا پر حکمران ہے۔ بعض سطحی اور غیر اہم اختلافات سے قطع نظر، ایک ہی تہذیب اورایک ہی تمدن کا سکہ پوری دنیا میں جاری ہے۔ مغربی تہذیب وتمدن اور فلسفہ کا یہ تسلط اس قدر شدید اورہمہ گیر ہے کہ بسا اوقات یوں دکھائی دیتا ہے کہ خود جدید مسلم فکر اور اسلامی تحریکات بھی، جو اصلاً مغربی فکر کے استیلا کے مقابلے کے لیے وجود میں آئیں، مغرب کے فکری اثرات سے بالکلیہ محفوظ نہیں ہیں اور خود ان کا طرزِ فکر بہت حد تک مغربی ہے۔

گزشتہ صدی میں عموماً اور خلافتِ عثمانیہ کے سقوط (۱۹۲۴ء) کے بعد خصوصاً، مغرب کا یہ استیلا نہ صرف سیاسی وعسکری بلکہ ذہنی وفکری دائروں میں بھی عالم اسلام پر قائم ہوا، تاہم مسلم دنیا پر مغرب کی یورش چونکہ اصلاً سیاسی تھی، اس لیے عالمِ اسلام میں اس کے خلاف پیدا ہونے والے رد عمل میں بھی اسی کا احساس غالب نظر آتا ہے۔ ڈاکٹراسرار احمد صاحب کے بقول ملتِ اسلامی کے اس تلخ احساس نے کہ یورپ نے کہیں براہِ راست تسلط اورقبضے اورکہیں انتداب وتحفظ کے پردے میں اسے اپنا محکو م بنا لیا ہے اوراسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر کے اس کی وحدتِ ملی کو پارہ پارہ کر دیا ہے، بارہا دردانگیز نالوں کی صورت اختیار کی اور اپنے شاندار ماضی کی حسرت بھری یاد، اپنی عمرِ رفتہ اورعظمت وسطوتِ گزشتہ کی بازیافت کی شدید تمنا اور گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف لوٹانے کی بے پناہ خواہش نے کبھی جمال الدین افغانی کی انقلاب پسند شخصیت کا روپ دھارا اور کبھی تحریکِ خلافت کی صورت اختیار کی، لیکن حقائق نے ہر بار جذبات وخواہشات کا منہ چڑایا اور مغرب کی سیاسی بالا دستی رفتہ رفتہ ایک تسلیم شدہ واقعہ کی صورت اختیار کرتی چلی گئی۔

مغربی فلسفہ وفکر اورتہذیب وتمدن کے مقابلے میں عالم اسلام کی جانب سے مدافعت کی کوششیں ہونا بھی ناگزیر تھا۔ اسی احساسِ تحفظ نے ’احیائے اسلام‘، ’قیامِ حکومتِ الٰہیہ‘ اور ’نفاذِ نظامِ اسلامی‘ کی تحریکیں مختلف مسلمان ملکوں میں منظم کیں، جن میں کچھ اصلاحی طریقہ کار پر گامزن ہو کر پرامن ماحول میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہیں اور کچھ تحریکوں نے شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مغرب کی ہر پالیسی کا نہ صرف انکار کیا بلکہ منظم گروہوں کی شکل میں مغربی یورش کے مقابلہ ومزاحمت کی کوشش بھی کی۔ تحفظ ومدافعت کی یہ کوششیں دو طرح کی تھیں: ایک وہ جن میں محض تحفظ پر قناعت کی گئی اور دوسری وہ جن میں مدافعت کے ساتھ ساتھ مصالحت اورکسروانکسار کی روش اختیار کی گئی۔ 

مغربی مفکرین ومستشرقین نے اسلامی تحریکات کے مزاج کا گہرا فہم حاصل کرنے اور ان کے بارے میں اپنے لائحۂ عمل کو ترتیب دینے کے لیے ان کو اپنے خصوصی مطالعہ کا موضوع بنایا اور دونوں قسم کی تحریکوں کی طبقہ بندی کر کے اس کے موافق پالیسیاں تشکیل دیں۔ 

اسلامی تحریکات کے حوالے سے مستشرقین میں تین طرز فکر پائے جاتے ہیں۔ اول، وہ جنھوں نے اسلامی تحریکات کو انتہا پسند اور ریڈیکل قرار دیتے ہوئے اُن پر تنقید کی ہے اور مغربی پالیسی سازوں کو ان کے خلاف اقدامات کی سفارشات کی ہیں۔ دوسرے، وہ طبقہ جس نے اسلامی تحریکوں اور گروپوں کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کی خدمات اور اسلامی معاشروں پر ان کے اثرات کو تسلیم کیا ہے۔ تیسرا وہ طبقہ جس نے معتدل انداز میں اسلامی تحریکات اورشدت پسند گروہوں کے نقصانات اور ان کے ممکنہ خطرات کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے فوائد، مجبوریوں اور ان کے پس منظر میں کارفرما عوامل کا بھی ذکر کیا ہے اورساتھ ہی مغربی حکومتوں کو یہ تجویز دی ہے کہ ان کے تحفظات کو دور کیا جائے تاکہ امنِ عالم کے قیام میں حائل رکاوٹوں کا تدارک ہو سکے۔

اسلامی تحریکات کے بارے میں استشراقی افکار کاجائزہ اس تحقیقی ورثہ کی روشنی میں لیا جاسکتا ہے جس میں تاریخِ اسلامی، اسلامی سیاست اور معاشرت پر بحث کی گئی ہے اور اسی ضمن میں اسلامی تحریکات کا بھی ذکر کر دیاگیا ہے۔ مشہور مستشرق John L. Espositoنے اپنی متعدد تصانیف مثلاً The Islamic Threat: Myth or Reality ( آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نیویارک 1999ء) میں اسلامی تحریکات کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے مغرب کو ان کے عزائم سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی مصنف کی ایک دوسری کتاب World Religions Today (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2002ء) میں بھی انھی خیالات کی عکاسی ہوتی ہے۔ Espositoکی تصنیف Unholy War: Terror in the name of Islam (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2002ء) میں بھی اسلامی مکاتبِ فکر اورتحریکات سے متعلق استشراقی مفروضات وخدشات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ 2002ء ہی میں شائع ہونے والی ان کی کتاب What Everyone Needs to Know about Islam میں بھی اسلامی تحریکات کو موضوع بحث بنایاگیا ہے۔ Espositoکی ایسی ہی ایک اورتصنیف Makers of Contemporaty Isalmہے جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام 2001ء میں شائع ہوئی ہے۔

Bernard Lewis طبقۂ استشراق میں اعلیٰ پایہ کے محقق شمار ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ ان کا مستقل موضوع ہے جس کے تحت انہوں نے مختلف خطوں میں قائم اسلامی ریاستوں کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کو ایک تحریک کانام دیا ہے۔ ان کی تصنیف The Emergence of Modern Turkey (آکسفورڈ پریس، 2002ء) اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اسی طرح ان کی تصنیفات Crises of Islam: The Holy War and Unholy Terrorاور The Arabs in Historyبھی قابلِ ذکر ہیں۔

امریکی مفکر Shireen T. Huntsکی کتاب The Future of Islam and The Westکو The Center for Strategic and International Studiesنے امریکہ سے شائع کیا جس میں موجودہ اسلامی تحریکوں کی اصلاح پر زوردیاگیا ہے۔ 

بعض مغربی مفکرین نے اسلامی تحریکات کو اسلامی مذہب کا المیہ قرار دیا ہے جن کے باعث اسلام کا امیج مغرب میں قابلِ قبول نہیں رہا۔ ایسی ہی ایک تصنیف Ernest Gellnerکی Islamic Dilemmas: Reforms, Nationalists and Industrialistsہے جو برلن، جرمنی سے Walter de Gruyterکے زیر اہتمام 1985ء میں شائع ہوئی۔

چند مستشرقین کے ہاں خالصتاً اسلامی تحریکات پر بھی تصانیف ملتی ہیں، مثلاً: Shaul Mishalاور Avraham Selaکی متفقہ کاوش The Palestinian Hamas ( Columbia University Press New York, 2000ء) میں فلسطینی شدت پسند تنظیم ’حماس‘ کے پس منظر اورمقاصد پر بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض تصانیف قومیتوں اوراسلامی ریاستوں کو بنیاد بنا کر لکھی گئیں اور ان میں سرگرم اسلامی تحریکات کے کردار کا جائزہ لیاگیا ہے جیسا کہ Arab Awakening and Islamic Revival (Transaction Publishers, New Jersey, 1996)میں اس کے مصنف Martin Kramerنے مشرقِ وسطی میں پائے جانے والے سیاسی افکار کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مغرب سے اِن تحریکوں اورقومیتوں کے تحفظات کو دورکرنے کی درخواست کی ہے۔ ایسی ہی ایک تحقیق Raywond HirnnebuschاورAnoushiravan Ehtishamiنے مشترکہ طور پر The Foriegn Policies of Middle East Statesکے نام سے کی ہے جس کو Lymme Rienner Publishers Colorado, USAنے 2002ء میں شائع کیا ہے۔ ایسی ہی ایک کاوش The Middle East and Islamic World Reorderکے نام سے Morvin E. Gettlemanاور Stuart Schearنے کی ہے جس کو Grove Press, 841 Broadway New Yorkنے 2003ء میں شائع کیا۔

ازمنہ وسطیٰ میں اسلامی تحریکات اوران کے کردار سے متعلق R. Stephen Humphreysنے اپنی تصنیف The Middle Age in a Trouble Age, Between Memory and Desire (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس لندن، 1999ء) میں سیر حاصل بحث کی ہے۔

اسلامی مکاتب فکر اور تحریکات کے بارے میں جدید استشراقی رجحانات کو سمجھنے کے لیے S.N.Eisenstadlکی کتاب Fundamentalism, Sectarianism and Revolutions (کیمبرج یونیورسٹی پریس برطانیہ، 1999ء) ایک سنگِ میل ہے۔ اسی طرح Mark Juergensmeyerکی کتاب Terror in the Mind of God (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس، لندن 2003ء) میں استشراقی سوچ واضح ہوتی ہے۔ Shaul Shayنے The Redsea Terror Triangle (The Interdisciplinary Centre, USA, 2005) میں سوڈان، صومالیہ اور یمن کی مثلث کے علاوہ دیگر خطوں میں اسلامی وجہادی گروپوں کے بارے میں بحث کی ہے۔ Dore Goldنے Hat Red's Kingdom (Renery Publishing Inc. Washington DC, 2003) میں عالمی دہشت گردی کا ذمہ دار سعودی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ Power in Movementکے نام سے Sidney Tarrowکی کتاب (کیمبرج یونیورسٹی پریس یوکے، 1998ء) میں اسلامی تحریکات کی جدوجہد کا جائزہ لیا گیا اوران کی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

اسلامی ریاستوں میں اسلامی تحریکات کے کردار کے بارے میں Arye Odedکی کتاب Islam & Politics in Kenya (Lynne Rienner Publishers Inc. USA, 2000) کا مقدمہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس ضمن میں Hugh Roberts کی کتاب The Battlefield Algeria (1988-2002) جو 6-Meard Streat Londonسے 2003ء میں شائع ہوئی)، Ceasar E. Farahکی ISLAM جو Barran's Educational Sciences Inc. NYنے 2003ء میں شائع کی، Fereydoun Hoveydaکی The Broken Cresent (Praeger Publishers, USA, 1998) اور Encyclopedia of Terrorismشائع شدہ Sage Publishers Inc. USA, 2003بھی نہایت اہم اضافے ہیں جن سے استشراقی فکر کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے۔

مکالمہ بین المذاہب کے حامی مستشرقین نے بھی اپنی تحریرات میں اسلامی تحریکات کے کردار کا ذکر کیا ہے اور اسلامی مملکتوں کو ان کی اصلاح کی تجاویز دیتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد بین المذاہب مکالمہ میں حائل رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ دی اسلامک فاؤنڈیشن امریکہ نے 1998ء میں ایسی ہی ایک رپورٹ Christian Mission and Islamic Dawahکے نام سے شائع کی۔

Karen Armstrongکا شمارمستشرقین کے اعتدال پسند طبقہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کو قریب سے دیکھا اور پھر اس کی حقانیت کا اقرار اپنی تحریرات میں بجا طور پر کیا ہے۔ انہوں نے Muhammad: A Western Attempt to Understand Islamمیں بھی اسلامی تحریکات کی خصوصیات ذکر کی ہیں۔یہ کتاب Victor Gollanczنے 1992ء میں لندن سے شائع کی۔ انہی اعتدال پسند مستشرقین میں سے Cragg Kennethکی Call of Minaretہے جس کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے نیویارک سے 1956ء میں شائع کیا تھا۔ اسی طبقہ سے Morman Daniel بھی ہے جس کی تصانیف Islam and the West: The Making of an ImageاورThe Arabs and the Medieval Europe بالترتیب آکسفورڈ سے 1960ء اور Longman Londonسے 1979ء میں شائع ہوئیں۔

Albert Houraniنے بھی اسلامی تحریکات وسیاست کا جائزہ لیا ہے- اس کی ایک تصنیف Europe and Middle East کے عنوان سے لندن سے 1980ء میں شائع ہوئی۔ اس کی دوسری تصنیفWestern Attitudes towards Islamیونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن سے 1974ء میں شائع ہوئی۔ Houraniکی کتاب Islam in European Thoughtبھی مغربی فکر کا اندازہ لگانے میں مددگار ہے۔ مؤخر الذکر کو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے 1989ء میں شائع کیا۔

1957ء میں Princeton University Pressنے Wilfred Smithکی کتاب Islamic Movements in Modern Historyطبع کی۔1962ء میں ہارورڈیونیورسٹی پریس نے R.W.Southern کی Western Views of Islam in Middle Agesشائع کی۔ اسی طرح مشہور مستشرق Montgomery Wattکی تصنیف Islamic Fundamentalism and Modernity میں بھی، جو لندن سےKen Paulنے 1988ء میں شائع کی، اسلامی تحریکات کو بنیاد پرست اور دہشت گرد کہا گیا ہے۔ ایسے ہی خدشات وتحفظات کا اظہار اس نے اپنی کتاب Ultimate Vision and Ultimate Truthمیں کیا ہے جس کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 1995ء میں شائع کیا۔

اسلامی انقلاب کے خطرے پر لکھی گئی تصانیف میں Quintan Wiktorowiczکی Islamic Activisim: A Social Movement Theory Approach (شائع کردہ Indiana University Press, 2004ء )، Will Wagnerکی How Islam Palns to Change the World (شائع کردہ Kregel Publications, USA 2004)، Zachary Abuzaکی تصنیف Militant Islam in Southeast Asia (شائع کردہ Lynne Rienner Publishers USA 2003)، Barry Rubinکی Revolutioneries and Reforms: Contemporary Isalmist Movements in the Middle East (شائع کردہ State University of New York Press USA, 2003)، Yoram Schweitzerاور Shaul Shay کی مشترکہ تحقیق The Globalization of Terror (شائع کردہ The interdisciplinary Center USA) اور Max.Taylor اور John Horganکی مشترکہ تحقیق The Future of Terrorism (شائع کردہ Frank Cass Publishers London 2000) قابل ذکر ہیں۔

امتِ مسلمہ کی طبقاتی تقسیم بھی استشراق کا ایک اہم ہدف رہا ہے چنانچہ 2003ء میں Rand Corporation USA کی طرف سے82صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں مسلمانوں کو (۱)بنیاد پرست(۲)روایت پسند(۳)جدت پسند اور(۴)سیکولر طبقوں میں تقسیم کر کے ہر ایک طبقہ کی تنظیموں کے بارے میں ایک تفصیلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور ان کے حسبِ حال پالیسیاں ترتیب دینے کی سفارشات کی گئی ہیں۔یہ رپورٹ Civil Democratic Islamکے نام سے شائع کی گئی ہے۔

اسلامی تحریکات ومکاتبِ فکر کے بارے میں قدیم وجدید استشراقی فکر ورجحانات کے دفاع میں مسلم محققین نے بھی اپنی تصانیف میں جزوی طور پر بحث کی ہے۔ اس ضمن میں سید حسین نصر نے اپنی کتاب ’’جدید دنیا میں روایتی اسلام‘‘ میں، جو ادارہ ثقافتِ اسلامیہ لاہور نے 1996ء میں اردوزبان میں شائع کی، روایتی اسلام اور اس کے احیا کے لیے مصروفِ عمل تحریکات ومکاتبِ فکر پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔ تاہم یہ کتاب جدید استشراقی رجحانات کے پروان چڑھنے سے پہلے تصنیف کی گئی۔

Muhammad M. Hafeezکی تصنیف Why Muslims Rebel?قابل ذکر ہے جو Lynne Rienner Publishersنے امریکہ سے 2004ء میں شائع کی۔ اسی طرح پروفیسرخورشید احمد کی کتاب Islam and the West میں بھی، جو اسلامک پبلی کیشنز لاہور نے 1979ء میں شائع کی، جزوی طور پر مغربی افکار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ڈاکٹر غراب احمد عبدالحمیدنے ’رؤیۃ اسلامیۃ للاستشراق‘ میں جس کو دارالاصالۃ للثقافۃ والنشر والاعلام الریاض نے ۱۹۸۸ء میں شائع کیا، دین اسلام کے بارے میں استشراقی افکار پر بحث کی ہے۔ ڈاکٹر زقزوق محمود حمدلی نے ’الاستشراق والخلفیۃ الفکریۃ للصراع الحضاری‘ نامی تصنیف میں جدید مغربی استعمار اور دیگر تہذیبوں پر اس کے حملوں کے متعلق تفصیل بیان کی ہے۔ اس کتاب کو دارالمنار القاہرۃ مصرنے ۱۹۹۹ء میں شائع کیا۔ ڈاکٹر اسماعیل سالم عبد العال کی تصنیف ’المستشرقون والاسلام‘ استشراقی افکار کو سمجھنے میں اہم ماخذ ہے جس کو رابطۃ العالم الاسلامی،مکہ مکرمہ نے ۱۹۹۰ء میں شائع کیا۔ ڈاکٹر دیاب محمد احمدنے ’اضواء علی الاستشراق والمستشرقین‘ میں استشراقی اہداف ومقاصد کو مرکز بحث بناتے ہوئے ان کے اندازِ فکر پر کلام کیا ہے۔اس کو دارالمنار قاہرۃ مصرنے ۱۹۹۹ء میں شائع کیا۔ زکریا ہاشم زکریاکی ’الاسلام والمستشرقون‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس کو المجلس الاعلی للشؤن الاسلامیۃ، مصرنے ۱۹۶۵ء میں شائع کیا۔ اسی سلسلہ میں حسب ذیل تصنیفات بھی اہمیت کی حامل ہیں:

ڈاکٹرمصطفی السباعی، ’الاستشراق والمستشرقون‘، مکتبۃ دارالبیان، الکویت،س۔ن۔

شلبی عبدالجلیل، ’صورٌ استشراقیۃ‘، مجمع البحوث الاسلامیہ ،۱۳۹۸ھ۔

المطعنی عبدالعظیم محمد الدکتور، ’افتراء ات المستشرقین علی الاسلام‘، المکتبۃ الوہبۃ قاہرہ مصر، ۱۹۹۲ء۔

نجیب العقیقی، ’المستشرقون‘ :دارالمعارف ،قاہرہ، ۱۹۶۵ء۔

مغربی مفکرین نے اسلامی تحریکات کے لیے عموماً اور شدت پسند تنظیموں کے لیے خصوصاً ایک مخصوص رجحان کو ترقی دی کہ ایسی تحریکات انسانیت کی بقا کے لیے خطرہ ہیں لہٰذا ان کا سدّباب ضروری ہے۔ انسانی کمزوریوں کو نظر انداز کر دینے کی یہی وہ خطرناک سوچ تھی جس سے نہ صرف مستشرقین بلکہ بعض جدت پسند مسلم مفکرین نے بھی اِن تحریکات کے خلاف جانبدارانہ بلکہ متعصبانہ رویہ اپنایا۔ اگرچہ اس حقیقت سے انکار کی گنجایش نہیں کہ ان تحریکات میں بھی بعض نے خلافِ مصلحت حد سے زیادہ شدت کا مظاہرہ کیا جس کے نتائج دیگر اصلاحی تحریکات کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑے، تاہم ہمیں مغربی طرزِ فکر اوررجحان کو بھی انصاف پسندی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ زاویہ نگاہ مزید ایسے رجحانات کو جنم دینے کا ذمہ دار ہے جو امنِ عالم کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔ درحقیقت دوسری جنگِ عظیم اور اس کے بعدپیدا ہونے والے حالات مغربی تسلط کی مخالف اسلامی تحریکات کے دوبارہ احیا کا باعث بنے۔ 

گزشتہ صفحات میں ذکر کی گئی کتب کے علاوہ اور بھی بہت سی استشراقی کتب سے اسلامی تحریکات ومکاتبِ فکر کے بارے میں مغربی طرزِ فکر واضح ہوتا ہے اور اسی طرزِ فکر کی روشنی میں مغربی ریاستوں کو مسلم ممالک کے متعلق پالیسیاں ترتیب دینے کی سفارشات کی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے مسلم دانشور شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے غفلت برت رہے ہیں جس سے مغرب میں اسلام کا امیج بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے اورنتیجتاً مسلم ممالک پر مغربی یورش میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہورہا ہے۔

دورِ حاضر میں مسلم امہ کا یہ المیہ ہے کہ وہ اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی اور نشاۃ کے لیے کسی مجموعی لائحہ عمل اوراجتماعی طرزِ فکر کو اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ اس کے برعکس مغرب ایک طرف اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مزید سے مزید برتری پیداکرتا چلا جارہا ہے اور دوسری طرف عالم اسلام کی تحریکوں اور مغرب کے فکری یا تہذیبی چیلنج کے مقابلہ کا پیغام کرنے والے گروہوں کے بارے میں متنوع اسالیب سے مصروفِ عمل ہے۔ ایسی صورتحال میں پہلے قدم کے طور پر مسلم امہ میں ذہنی وفکری بیداری کا پیدا ہونا ازبس ضروری ہے ۔ چنانچہ اولاً ہمیں ان فکری رجحانات ومیلانات کا جائزہ لینا ہوگا جو مغربی مفکرین ومستشرقین اسلامی دنیا اور اس کی تحریکات کے بارے میں اپنے ذہنوں میں رکھتے ہیں اور جن کی اصلاح ہونے کے بجائے ان میں مزید شدت آرہی ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعے نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے بعد اسلام کو ’دہشت گرد اسلام‘ اور ’امن پسند اسلام‘ کے خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ثانیاً ان فکری رجحانات کا جائزہ لے کر مغرب میں اسلام کی درست صورت گری کی جائے تاکہ مغرب کے ساتھ افہام وتفہیم کا راستہ آسان تر ہوسکے جس کے نتیجہ میں گلوبلائزیشن کے عمل کو مثبت انداز میں تقویت پہنچے۔ مزید براں مسلم دانشوروں اور حکومتوں کو اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ اسلامی تحریکات کے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے ان کے بارے میں غلط پروپیگنڈے کی تحقیقی انداز میں مذمت اور ان کے مثبت پہلوؤں اورتحفظات کو اجاگر کرنے کے بعد مغربی اندازِ فکر کو تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 

مغربی سوچ اورفکر کا جائزہ لے کر اس کے نقائص سے تحقیقی دنیا کو روشناس کرانا اور اس کے بعد مسلم تھنک ٹینکس کو درست سمت میں پالیسی سازی کے لیے راہنمائی فراہم کرنا محققین اور علما کی بھی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد ہی اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ ہم اسلام کے بارے میں مغربی سوچ اور طرزِ فکر کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے اور اسلام کی حقیقی صورت گری ممکن ہوسکے گی۔ تبھی اس قابل ہوں گے کہ مغرب کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرسکیں اور یہی ہماری نشاۃ ثانیہ کا نقطۂ آغاز ہوگا۔ ان شاء اللہ

اسلامی تحریکات اور حکمت عملی