مولانا ابوالکلام آزاد

کل مضامین: 3

مسلم اجتماعیت کے ناگزیر تقاضے

۱۹۱۶ء کے لیل و نہار قریب الاختتام تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ حقیقت اس عاجز پر منکشف کی اور مجھے یقین ہو گیا کہ جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو گا ہماری کوئی سعی و جستجو کامیاب نہ ہو گی۔ چنانچہ اسی وقت سے سرگرم سعی و تدبیر ہو گیا (ص ۳۱)۔ ۱۹۱۶ء کی بات ہےکہ مجھے خیال ہوا کہ ہندوستان کے علماء و مشائخ کو عزائم و مقاصدِ وقت پر توجہ دلاؤں، ممکن ہے چند اصحابِ رشد و عمل نکل آئیں۔ چنانچہ میں نے اس کی کوشش کی لیکن ایک شخصیت کو مستثنٰی کر دینے کے بعد سب کا متفقہ جواب یہی تھا کہ یہ دعوت ایک فتنہ ہے ’’ائذن لی ولا تفتنی‘‘۔ یہ مستثنٰی شخصیت مولانا محمود...

امامِ عزیمت امام احمد بن حنبلؒ اور دار و رَسَن کا معرکہ

تیسری صدی کے اوائل میں جب فتنۂ اعتزال و تعمق فی الدین اور بدعۃ مضلۂ تکلم یا مفلسفہ والحراف از اعتصام بالسنہ نے سر اٹھایا، اور صرف ایک ہی نہیں بلکہ لگاتار تین عظیم الشان فرمانرواؤں یعنی مامون، معتصم اور واثق باللہ کی شمشیر استبداد و قہر حکومت نے اس فتنہ کا ساتھ دیا، حتٰی کہ بقول علی بن المدینی کے فتنۂ ارتداد و منع زکوٰۃ (بعہد حضرت ابوبکرؓ) کے بعد یہ دوسرا فتنۂ عظیم تھا جو اسلام کو پیش آیا۔ تو کیا اس وقت علماء امت اور ائمہ شریعت سے عالمِ اسلام خالی ہو گیا تھا؟ غور تو کرو کیسے کیسے اساطین علم و فن اور اکابر فضل و کمال اس عہد میں موجود تھے؟...

نظامِ خلافت کا احیاء

انتخاب و ترجمہ: مولانا سراج نعمانی، نوشہرہ صدر (جناب ابو سلمان شاہجہانپوری کی کتاب ’’تحریکِ نظمِ جماعت‘‘ سے انتخاب)۔ اجتماعیت کا حکم: اسلام نے مسلمانوں کے تمام اعمالِ حیات کے لیے بنیادی حقیقت یہ قرار دی ہے کہ کسی حال میں بھی فرادٰی، متفرق، الگ الگ اور متشتت نہ ہوں، ہمیشہ موتلف، متحد اور کنفس واحدۃ ہو کر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں جابجا اجتماع و وحدت پر زور دیا گیا ہے۔ اور کفر و شرک کے بعد کسی بدعمل سے بھی اس قدر اصرار و تاکید کے ساتھ نہیں روکا جس قدر تفرقہ و تشتت سے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام و اعمال میں یہ حقیقت اجتماعیہ...
1-3 (3)