اسلامی تحریکوں کی کارکردگی / برما کے مسلمانوں کی حالت زار / شام کا بحران

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان شریعت کونسل ایک فکری و علمی فورم ہے جس میں نفاذ شریعت کے شعبے میں انتخابی سیاست سے ہٹ کر فکری و نظریاتی حوالے سے باہمی تبادلہ خیالات ہوتا ہے اور جو بات سمجھ میں آئے، اس کا علمی و عوامی حلقوں میں جب موقع ملے، اظہار کر دیا جاتا ہے۔ اس بار مدرسہ تعلیم القرآن، لنگرکسی بھوربن، مری میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت ۱۶۔۱۷ جون ۲۰۱۲ء کو منعقد ہونے والے دو روزہ اجلاس میں مختلف مسائل زیر بحث آئے جن میں دو امور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان پر ہونے والی بحث کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 

پہلا مسئلہ تو مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکوں کے طریق کار کے بارے میں ہے اور دوسرا پاکستان میں قومی اداروں میں جاری کشمکش کا ہے جس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا اور ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے باہمی مشاورت کے ساتھ ان پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ 

مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی تحریکوں کو ایک عرصے سے اس صورت حال کا سامنا ہے کہ جو تحریکیں عسکری انداز میں ہتھیار اٹھا کر نفاذِ شریعت کا پروگرام رکھتی ہیں، انہیں نہ صرف اپنے ملک کی فوجی قوت کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور ایک طرح سے پوری دنیا ان کے خلاف یک آواز ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ تحریکیں ہیں جو سیاسی انداز میں نفاذِ اسلام کے مقصد کی طرف آگے بڑھتی ہیں، جمہوری راستہ اختیار کرتی ہیں، رائے عامہ اور ووٹ کو ذریعہ بناتی ہیں اور عدمِ تشدد کے اصول پر پُر امن سیاسی جدوجہد کرتی ہیں۔ ان کی عوامی ، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے نتائج کو مسترد کر دیا جاتا ہے اور مقتدر قوتیں مختلف حیلوں سے ان کے مقابل آکر ان کا راستہ روک دیتی ہیں۔ ایک عرصے سے یہ کھیل جاری ہے جس کی وجہ سے سیاسی اور جمہوری عمل پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور ان حلقوں کو تقویت مل رہی ہے جو نفاذ اسلام کے لیے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو کارِ لاحاصل سمجھتے ہیں اور عسکری جدوجہد کو نفاذ شریعت کا واحد جائز طریق کار قرار دے کر اس کے لیے مسلسل محنت بلکہ پیش رفت کر رہے ہیں۔ 

جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک نفاذِ اسلام کے لیے پُر امن سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو ہی صحیح سمجھا ہے، ہمیشہ اسی کی حمایت کی ہے اور اب بھی پاکستان یا کسی بھی مسلم ممالک کے اندر نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے کو ہم درست عمل نہیں سمجھتے۔ لیکن جمہوری اور سیاسی عمل کے جمہوری اور سیاسی نتائج کو جس بے دردی کے ساتھ کچلا جا رہا ہے، اس کے باعث ہمارے لیے اب سیاسی اور جمہوری عمل کی حمایت اور دفاع مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دو عشرے قبل الجزائر میں دینی جماعتوں کے اتحاد اسلامک سالویشن فرنٹ نے عوامی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مبینہ طور پر ۸۰ فی صد ووٹ حاصل کیے تو فوج سامنے آگئی، الیکشن کے نتائج کو مسترد کر دیا گیا اور دوسرے مرحلے کو منسوخ کر دیا گیا جس کے رد عمل میں بہت سے مذہبی حلقوں نے ہتھیار اٹھا لیے۔ اس ہتھیار اٹھانے کے مسئلے پر ان کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوگئے یا کر دیے گئے، ملک میں تکفیر یعنی ایک دوسرے کو کافر قرار دینے اور باہمی قتل و قتال کا بازار گرم ہوگیا جو کم و بیش دس سال جاری رہا اور اس میں مجموعی طور پر ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد قتل ہوئے۔ 

گزشتہ دنوں کویت میں عام انتخابات کے دوران دینی جماعتوں کے اتحاد نے عوامی ووٹوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کی اور پارلیمنٹ کے ذریعے قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دیا گیا تو اسے بادشاہت کے اختیار سے مسترد کر دیا گیا، جبکہ مصر کی قومی اسمبلی میں اخوان المسلمین اور سلفی جماعتوں نے اکثریت حاصل کی تو سپریم کورٹ نے انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ ادھر پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ دستوری طور پر قرآن و سنت کی بالادستی تسلیم کی گئی ہے، پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند قرار دیا گیا اور اسلام کو ریاستی مذہب تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو ملک میں نفاذ کا راستہ نہیں دیا جا رہا اور مقتدر قوتیں نہ صرف متحد ہو کر نفاذِ اسلام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں بلکہ جو چند قوانین عوامی دباؤ کے باعث نافذ کرنا پڑے ہیں، حیلوں بہانوں سے انہیں بھی منسوخ یا کم از کم غیر موثر بنانے کی مہم ہر وقت جاری رہتی ہے۔ 

پاکستان شریعت کونسل کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اس بات کو محسوس کیا گیا کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں کا ایجنڈا بھی (خاکم بدہن) یہی نظر آرہا ہے کہ نفاذِ اسلام کے جمہوری اور سیاسی راستوں کو مسدود کر کے ان کا اعتماد ختم کیا جائے اور الجزائر کی طرح پاکستان کے دینی حلقوں کو بھی تشدد، تکفیر اور خانہ جنگی کی دلدل کی طرف زبردستی دھکیلا جائے تاکہ الجزائر والا کھیل پاکستان میں بھی کھیلا جا سکے۔ اس لیے پاکستان شریعت کونسل نے اس صورت حال کو انتہائی تشویشناک اور اضطراب انگیز قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام مکاتب فکر کے علمی حلقوں، دینی مراکز اور سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ مستقبل کے ان خطرات و خدشات کے سدباب کے لیے باہمی مشاورت کے ساتھ قوم کی علمی و فکری رہنمائی کا اہتمام کریں۔ 

پاکستان میں داخلی طور پر قومی اداروں کے درمیان جاری کشمکش کے بارے میں پاکستان شریعت کونسل کی رائے ہے کہ یہ دستورِ پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی کو عملاً نظر انداز کر دینے کا منطقی نتیجہ ہے کہ دستور نے جس کو بالادست اور بالاتر قرار دیا ہے، اس کی بالادستی کے سامنے سرنڈر ہونے کی بجائے قومی ادارے ایک دوسرے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی فکر میں الجھے ہوئے ہیں۔ اگر قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے قومی پالیسیوں کو اس دائرے میں مرتب کیا جاتا، خلفائے راشدین کے طرزِ حکومت کو اپنایا جاتا اور معاشرت و معیشت کی اسلامی روایات کو فروغ دیا جاتا تو نہ کرپشن کا عفریت کھڑا ہوتا، نہ طبقاتی کشمکش اور گروہی بالادستی کی جنگ کا مکروہ منظر دکھائی دیتا اور نہ ہی قومی اداروں میں بالاتری کی یہ کشمکش سامنے آتی۔ یہ سب کچھ پاکستان کے نظریاتی بنیادوں، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی بالادستی سے انحراف اور روگردانی کا نتیجہ ہے اور آج بھی اس دلدل سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ قرآن و سنت کی بالادستی کو عملاً تسلیم کیا جائے اور خلافتِ راشدہ کی طرز کی فلاحی ریاست کو اپنی منزل قرار دے کر خلفائے راشدینؓ کے طرزِ حکومت کو اپنایا جائے۔ 

برما کے مسلمانوں کی حالت زار

برما جسے اب سرکاری طور پر ’’میانمار‘‘ کہا جاتا ہے، بدھ اکثریت کا ملک ہے جو بنگلہ دیش کے پڑوس میں واقع ہے اور طویل عرصہ تک متحدہ ہندوستان کا حصہ رہا ہے۔ برطانوی استعمار نے اسے ایک الگ ملک کی حیثیت دی تھی، جبکہ اراکان مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جو صدیوں تک ایک آزاد مسلم ریاست کے طو رپر اس خطے کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کا ساحلی شہر چٹا گانگ بھی ایک زمانے میں اراکان میں شامل تھا مگر نوآبادیاتی دور میں برطانوی استعمار نے چٹا گانگ کو بنگال میں اور اراکان کو برما میں شامل کر دیا جس سے اراکان کا یہ علاقہ جو مسلم اکثریت کا خطہ ہے، بودھ اکثریت کے ملک برما کا حصہ بن گیا۔ تب سے اس علاقہ کے مسلمان بودھ اکثریت کے متعصبانہ رویے کے ساتھ ساتھ ریاستی جبر کا شکار بھی چلے آ رہے ہیں او ربہت سے مسلمان گروپ مسلم اکثریتی علاقہ ختم ہونے کے بعد اراکان کی آزادی جدوجہد میں بھی مصروف چلے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے او رماضی میں ایک آزاد ریاست رہا ہے، اس لیے آزادی اس کا حق ہے، لیکن عالمی سطح پر ان کے اس موقف اور مطالبہ کو توجہ حاصل نہیں ہو رہی، بلکہ ان پر ریاستی جبر اور بودھ انتہا پسندوں کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مختلف مراحل میں اس قسم کے جبر اور مظالم سے تنگ آ کر وہ اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں اور پاکستان میں بھی برمی مہاجرین کی ایک خاصی تعداد موجود ہے۔ 

انسانی حقوق کے عالمی ادارے خاموشی کے ساتھ اس سارے منظر کو دیکھ رہے ہیں اور مسلم ممالک بھی ’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ انھیں برما میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف سے بھی وہ رسمی اور ظاہری حمایت حاصل نہیں ہے جس کی وہ ان سے توقع رکھتے ہیں۔ ان حوالوں سے اراکان کی صورت حال مقبوضہ کشمیر سے ملتی جلتی ہے۔ البتہ دو باتوں کا فرق ہے۔ ایک یہ کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو کسی نہ کسی درجے میں ووٹ دینے اور اقتدار میں برائے نام شرکت کا حق ہے، مگر اراکان کے مسلمانوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے اور دوسری یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو پڑوسی مسلمان ملک پاکستان کی حمایت اور سرپرستی میسر ہے، جبکہ اراکان کا پڑوسی ملک بنگلہ دیش اراکانی مہاجرین کو پناہ دینے اور پناہ گزین کے طور پر ان کی امداد کرنے سے زیادہ اس سلسلے میں کسی مزید پیش رفت کے موڈ میں نہیں ہے جس سے اراکانی مسلمانوں کی بے بسی دوچند ہو گئی ہے۔

اس حوالے سے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اراکانی مسلمانوں کا یہ مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے، مسلم حکومتوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے موثر کردار ادا کریں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو احساس دلایا جائے کہ اراکان کے مسلمانوں کا ’’ماگ‘‘ جیسی دہشت گرد فورسز کے مظالم کا شکار ہونا بھی انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ ہے اور ان مظلوموں کو اس جبر وتشدد سے بچانا بھی انسانی حقوق کے تحفظ کا تقاضا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی سیکولر حلقوں کی امداد سے چلنے والی این جی اوز کو تو اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کی دینی جماعتیں بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں؟

شام کا بحران

شام کا بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ شاید سامنے آ چکا ہو، مگر اب تک کی صورت حال کے پیش نظر یہ گزارش ہے کہ شام کی صورت حال کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ عرب ممالک میں آمر اور مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر تیونس، لیبیا اور مصر کے بعد شام میں بھی اپنی جولانیاں دکھا رہی ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر ہے جو بشار الاسد کی حکومت کے جبر اور تشدد کا شکار ہے اور سیکڑوں شامی شہری اس میں جاں بحق ہو چکے ہیں، لیکن اس کا ایک مذہبی پہلو ہے جس نے اس بحران کی شدت کو مزید دو آتشہ کر دیا ہے۔ وہ یہ کہ شام کے صدر بشار الاسد اور فوجی قیادت کی اکثریت کا تعلق نصیری فرقہ سے ہے جو اہل تشیع میں بھی انتہاپسند گروہ شمار ہوتا ہے اور جس کا عقیدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خود خدا تھے جو انسانی شکل میں دنیا میں چند روز کے لیے تشریف لائے تھے۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ان کے عقائد کیا ہیں، البتہ ا س بحران کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کے لیے یہ ذکر شاید نامناسب نہیں ہوگا کہ بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کے دور حکومت میں بھی اب سے ربع صدی قبل یہ سانحہ پیش آیا تھا کہ اہل سنت کے مذہبی مرکز ’’حماۃ‘‘ کو ایک مرحلے میں بلڈوز کر دیا گیا تھا، کم وبیش دس ہزار علماء کرام اور کارکنوں نے اس سانحے میں جام شہادت نوش کیا تھا اور بہت سے علماء کرام جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے تھے جن میں ہمارے استاذ محترم الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ اللہ تعالیٰ بھی شامل ہیں جو اس وقت اخوان المسلمون شام کے رئیس تھے اور جلاوطن ہو کر سعودی عرب آ گئے تھے۔ اب بھی عوامی مظاہرین اور ان پر تشدد کرنے والی سرکاری فورسز کی تقسیم کا منظر یہی بیان کیا جاتا ہے اور گزشتہ روز جدہ میں ایئر پورٹ کے قریب مسجد عائشہؓ میں نماز مغرب کے دوران امام محترم سے شامی حکمرانوں کے خلاف ’’قنوت نازلہ‘‘ سن کر ہمیں اس پہلو کی شدت کا اندازہ ہوا۔ بہرحال ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شامی بھائیوں کو اس بحران میں سرخ روئی اور کامیابی سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اسلامی تحریکات اور حکمت عملی