موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج

مولانا مفتی محمد زاہد

گزشتہ دنوں بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پراس کے ایک نامہ نگار کا ایک شذرہ شائع ہوا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے اپنی بات کا آغاز اسی کو نقل کرنے سے کیا جائے:

’’بائیس اور تیئس مئی کے دو روز میں نے اتر پردیش کے قصبے دیوبند میں گزارے، وہی دیوبند جس نے گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں ہزاروں جید سنی علماء پیدا کیے، جن کے لاکھو ں شاگرد بر صغیر اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ آج بھی دارالعلوم دیوبند سے ہر سال چودہ سو کے لگ بھگ طلباء عالم بن کر نکل رہے ہیں۔ دیوبند، جس کی ایک لاکھ سے زائد آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ساٹھ فیصد ہے، وہاں پہنچنے سے قبل میرا تصور یہ تھا کہ یہ بڑا خشک سا قصبہ ہوگا جہاں علماء کی آمریت ہوگی اور ان کی زبان سے نکلاہوا ایک ایک لفظ علاقے کی مسلم آبادی کے لیے حکمِ مطلق کا درجہ رکھتا ہوگا، جہاں موسیقی سے متعلق گفتگو تک حرام ہوگی، ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کو دور دورسے پرنام کرتے گزرتے ہوں گے، وہاں کسی کو جرات تک نہیں ہوگی کہ بغیر داڑھی کے یا ٹخنوں سے اونچی شلوار کے بغیر بلا سرزنش آباد رہ سکے۔ دیوبند میں مسلمان محلوں میں اذان کی آواز بلند ہوتے ہی دوکانوں کے شٹر گر جاتے ہوں گے اور سفید ٹوپی، کرتے پاجامے میں ملبوس باریش نوجوان چھڑی گھماتے ہوئے نظر رکھ رہے ہوں گے کہ کون مسجد کی جانب نہیں جا رہا۔ اسی لیے جب میں نے کچھ سفید باریش نوجوانوں کو دارالعلوم کے قریب ایک حجام کی دوکان پر اطمینان سے اخبار پڑھتے ہوئے دیکھا تو فلیش بیک مجھے اس ملبے کے ڈھیر کی جانب لے گیا جو کبھی حجام کی دکان ہوا کرتا تھا۔ جب میں نے ٹوپیاں فروخت کرنے والے ایک دکان دار کے برابر ایک میوزک شاپ کو دیکھاجس میں بالی وڈ، مصالحہ اور علمائے کرام کی تقاریر پر مبنی سی ڈیز اور کیسٹیں ساتھ ساتھ بِک رہے تھے تو میرا دماغ اس منظر میں اٹک گیا جس میں سی ڈیز اور کیسٹوں کے ڈھیر پر پٹرول چھڑکا جا رہا ہے۔ جب میں نے بچیوں کو ٹیڑھی ٹیڑھی گلیوں اور بازاروں سے گزرتے ہوئے اسکول کی جانب رواں دیکھا تو دل نے پوچھا یہاں لڑکیوں کے اسکولوں میں کسی کو بم فٹ کرنے کا خیال کیوں نہیں آ یا؟ جب میں نے برقعہ پوش خواتین کو سائیکل رکشے میں جاتے دیکھا تو لا شعور نے پوچھا یہاں محرم کے بغیر خواتین بازار میں آخر کیسے گھوم پھر سکتی ہیں؟ کیا کوئی انہیں درّے مارنے والا نہیں؟ جب میں نے بینڈ باجے والی ایک بارات گزرتی دیکھی تو انتظار کرتا رہا کہ دیکھیں کچھ نوجوان بینڈ باجے والوں کو ان خرافات سے منع کرنے کے لیے کب آنکھیں لال کرتے ہیں۔ جب مجھے ایک اسکول میں لنچ کی دعوت ملی اور میزبان نے کھانے کی میز پر تعارف کرواتے ہوے کہا، یہ ہیں مولانافلاں فلاں اور یہ ہیں قاری صاحب۔ یہ ہیں جگدیش بھائی اور ان کے برابر ہیں مفتی فلاں فلاں اور وہ جو سامنے بیٹھے مسکرا رہے ہیں، وہ ہیں ہم سب کے پیارے لال موہن جی ..... تو میں نے اپنے ہی بازو پر چٹکی لی کہ کیا میں دیوبند میں ہی ہوں!
اب میں واپس دلّی پہنچ چکا ہوں اور میرے سامنے ہندوستان اور پاکستان کا ایک بہت بڑا تفصیلی نقشہ پھیلا ہوا ہے۔ میں پچھلے ایک گھنٹے سے اس نقشے میں وہ والا دیوبند تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جو طالبان، سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی جیسی تنظیموں کا دیوبند ہے!!!! ‘‘

بی بی سی کے اس شذرے میں دیوبند کی جو روادارانہ تصویر کھینچی گئی ہے اور جس طرح سے معاشرے میں پائی جانے والی ’خلافِ شرع‘ چیزوں کے بارے میں وہاں کی یہ پالیسی واضح ہورہی ہے کہ زبانی امر بالمعروف ونہی عن المنکراور عملی طور پر عدمِ مداخلت کی راہ اختیار کی جائے، وہ صرف آج کے دیوبند کی نہیں ہے بلکہ شروع دن سے ہے۔ آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے وہاں کوئی جاتا تو وہ بھی یہی کچھ محسوس کرتا۔ ظاہر ہے کہ اتنے طویل عرصے تک قائم رہنے والی عملی صورتِ حال کو نہ تو محض اتفاق قرار دیا جاسکتاہے اور نہ ہی اس کی وجہ محض مداہنت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ بہت سے حلقوں کے لیے آج کل ’دیوبندی اسلام‘ ایک معمّا بناہواہے۔ ان لوگوں کی خدمت میں یہ بنیادی گزارش ہے کہ دیوبندی فکر سے سیاسی پہلو کو الگ نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ دوحوالے ایسے ہیں جو اس فکرکو سیاسی سوچ سے جوڑتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ دارالعلوم دیوبند کے بانیان اور ابتدائی سرپرستان میں ایسے لوگ شامل تھے جو ۱۸۵۷ء کے معرکے میں شامل رہے تھے یا کم از اس تحریک کے مقاصدسے گہری ہمدردی رکھتے تھے۔ دوسراحوالہ یہ کہ ان حضرات کا سلسلۂ تأثر اور شاگردی شاہ ولی اللہؒ اور شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ سے جاکر ملتاہے اور یہ دونوں شخصیات محض عقائد وعبادات وغیرہ کی تفہیم کی حدتک ہی عالمِ دین نہیں تھے، بلکہ اپنے وقت کے پایے کے سیاسی واجتماعی مفکر بھی تھے، اس لیے جو شخص دیوبندی فکر سے اس کا صحیح پس منظر سمجھ کر وابستہ ہے، وہ خود کو اپنے زمانے کے حالات اور ان کے مسلمانوں اور اپنے ملک پر مرتب ہونے والے اثرات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ۔

البتہ بی بی سی کے شذرہ نگاراگر حجّاموں اور سی ڈیز کی دکانیں جلانے، دوسرے مذاہب یا مخالف فرقوں کی عبادت گاہوں پر حملے کرنے والادیوبند تلاش کرنے نکلے تھے اور وہ انہیں نہیں ملا تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، اس لیے کہ اس طرح کا دیوبند کبھی موجود تھا ہی نہیں۔ اس طرح کا دیوبند پچھلی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کے اوراق میں بھی کہیں نہیں ملے گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دیوبند بنانے یا ابتدا میں اس کی سر پرستی کرنے والوں میں کئی لوگ ۱۸۵۷ء کے معرکوں کا حصہ رہے تھے اور یقیناًیہ ایک عسکری جدوجہد تھی جس کو برائے نام اور بہت کمزور سہی، ایک مسلمان بادشاہ کی چھتری حاصل تھی، لیکن اس تحریک کے متوقع نتائج سامنے نہ آسکے اور آخری مسلمان بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون لے جایا گیا جہاں انہوں نے عبرت ناک انداز سے اپنی اسیری کے ایام گزارے اور ہندوستان جس پر اب تک کمزور سی برائے نام مسلمان بادشاہت قائم تھی، براہِ راست انگریزوں کے زیرِ اقتدار چلا گیا۔ اس کے بعدان حضرات کی طرف سے عسکری رنگ رکھنے والی تحریک وہ تھی جو تحریکِ ریشمی رومال کے نام سے معروف ہوئی۔ اس کے روحِ رواں شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے ماسٹر مائنڈ مولاناعبید اللہ سندھی تھے۔ اس اسکیم کا بھی ایک حصہ اس کے بارے میں اس وقت کی خلافت کو اعتماد میں لیا جانا اور اس کا تعاون حاصل کرنا تھا۔ گویا یہ تحریک بھی خالصتاً پرائیویٹ عسکری تحریک نہیں تھی۔ یہ تحریک بھی درمیان میں رہ گئی اور شیخ الہند ؒ گرفتار ہو کر مالٹا چلے گئے، لیکن ہندوستان کی آزادی جیسے مقاصد سے یہ لوگ اب بھی دستبردار نہیں ہوئے ، البتہ طریقِ کار اور پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی یہ آئی کہ مقاصد کے حصول کے لیے عسکری راستہ اختیار کرنے کی بجائے پر امن سیاسی جدوجہد کی پالیسی کو اپنایا گیا، جیساکہ خود حضرت مولانا حسین احمدمدنی ؒ وغیرہ کی تصریح آئندہ سطور میں آرہی ہے ۔ دیوبندی حلقوں میں سیاسی معاملات پر اختلافِ فکر ونظر تو پہلے ہی موجود تھا، لیکن شیخ الہند کے انتقال کے بعد کے حالات میںیہ اختلاف زیادہ نمایاں ہوگیا اور بنیادی طور پر دیوبندی مکتبِ فکرمیں دوبڑے سیاسی رجحانات زیادہ متعارف ہوئے۔ ایک کی نمایاں شخصیات میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اور علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ تھے،جبکہ علماءِ سہارنپور خصوصاً حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ کا سیاسی رجحان بھی کافی حد تک اس سے مشابہت رکھتا تھا۔ دوسرے رجحان کی نمائندگی کرنے والے علماء میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور جمعیت علماءِ ہند سے وابستہ دیگر علماء تھے، لیکن ان دونوں طبقوں میں قدرِ مشترک یہ تھا کہ دونوں نے ہی پر امن سیاسی جد وجہد کا راستہ اختیار کیا۔

آج کل ملک میں جو پرتشدد کارروائیاں ہو رہی ہیں، ان سب کی نسبت عموماً دیوبندی مکتبِ فکر کی طرف کی جا رہی ہے۔ ان میں سے بعض تنظیموں کے لوگوں کی دیوبندی مکتبِ فکر کی نسبت واضح ہے، بعض کی ان کی طرف نسبت غلط بھی ہوسکتی ہے، بہت سی کارروائیوں کے بارے میں کچھ کہنا ہی انتہائی مشکل ہوتا ہے، اور غلط نسبت کی وجوہات میں حالات کے گڈمڈہونے اور بعض لوگوں کی بدنیتی کے علاوہ شاید دیوبندی قیادت کی غیر محتاط یا غیر واضح روِش بھی شامل ہو، البتہ اس بات کا انکار انتہائی مشکل ہوگا کہ دیوبندیت کی طرف نسبت رکھنے والوں میں ایسے کچھ نہ کچھ عناصر ضرور موجود ہیں جو نیک نیّتی سے متشددانہ یا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تائید کرتے یا کم از کم اس سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ آج مجھے پرتشدّد جدوجہد پر یقین رکھنے والے انھی نوجوانوں سے بات کرنی ہے جو واقعی خود کو علماء دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان حضرات کے لیے ایک تو خود وہ تصویر قابلِ غور ہے جو بی بی سی کے شذرے میں پیش کی گئی ہے۔ یہ صورتِ حال کوئی بھی شخص کسی بھی وقت دیوبند جاکر دیکھ سکتاہے اور جیساکہ پہلے عرض کیا گیا، دیوبند کا یہ طرزِ عمل شروع ہی سے یہ رہا ہے اور یہ بزرگانِ دیوبند کی سوچی سمجھی پالیسی یا ان کے فہمِ دین کا حصہ ہے۔ ہمارے دور کے یہ نوجوان جس طرح کا دیوبند اپنے ذہنوں میں لے کر اس سے راہنمائی اور انسپائریشن لے رہے ہیں، انہیں واقعی یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کا دیوبند عملاً کہیں موجود بھی رہا ہے؟ ان لوگوں کے لیے علماء دیوبند کی نمایاں شخصیات میں سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری اورحضرت مولانا محمد الیاس وغیرہ سے زیادہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی آئیڈیل سمجھے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہوتاہے کہ وہ حضرت مولانا مدنی ؒ اور جمعیت علماء ہندسے وابستہ بزرگوں کے فکروعمل کے پیروکار ہیں، حالانکہ خود مولانا مدنی ؒ وغیرہ کی فکرمیں اس طرح کی سوچ کہیں نہیں ملتی۔ ایک تو کسی مخصوص فرقے کو ختم کرنے کا وہ طریقہ انہوں نے کبھی اختیار نہیں کیا جو آج ان کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگوں نے اپنایا ہواہے۔ دوسرے اس انداز کا نفاذِ شریعت جیسا آج بعض لوگوں کے ہاں ہمیں نظر آتا ہے، مولانامدنی ؒ کے ہاں دور دور تک اس کا تصور نہیں ملتا۔ دیوبند ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ اس میں حضرت مولانا مدنی ؒ کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے طلبہ جو ان کے جاں نثار بھی تھے اوران کی تعداد بھی بہت بڑی تھی، ان کو ساتھ لے جاتے اور دیوبند کے پولیس اسٹیشن، کچہری یا کسی اور سرکاری عمارت پر قبضہ کرکے اپنے مطالبات انگریز حکومت کے سامنے پیش کر دیتے یا مسلّح ہو کر دیوبند میں اسی طرح کی شریعت نافذ کرنے کا اعلان کردیتے جو آج بعض جگہوں پر کبھی کبھار نظر آجاتی ہے، لیکن حضرت مدنی ؒ سمیت دیوبند کے کسی بزرگ کو اس طرح کی نہیں سوجھی۔ جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے، مجھے حضرت مدنی ؒ اور ان کے ہم فکر حضرات کی سیاسی فکر میں اس طرح کے نفاذِ شریعت کا کوئی خانہ نظر نہیں آیا۔ حضرت مدنی ؒ اور ان کے ہم نوا علماء کی سیاسی فکر کے بنیادی عناصر درجِ ذیل ہیں :

۱۔ یہ حضرات ہندوستان کو اپنا وطن اور گھر سمجھتے تھے، صرف اپنے مخصوص علاقے یا صوبے کو نہیں، پورے ہندوستان کو جو اُس وقت ایک ملک کی شکل میں موجود تھا۔ وہ اپنے اس وطن سے محبت کرتے اور اس کی سا لمیت پر یقین رکھتے تھے، اسی لیے ان حضرات کا شمار نیشنلسٹ اور وطن پرور علماء میں ہوتا تھا۔ یہ عنصر حضرت مدنی ؒ کے مکتوبات وغیرہ کے علاوہ جمعیت علماءِ ہند کے نمایاں صاحبِ قلم عالم مولانا محمد میاں ؒ کی تصانیف میں بہت کثرت سے مل جائے گا۔ مولانا محمد میاں ؒ کے مطابق شاہ ولی اللہ ؒ کی کوششوں کا منشا اور باعث بھی یہ تھا کہ ’’ آپ کے قلبِ حساس میں بربادئ وطن کا درد تھا‘‘۔ مولانا محمد میاں ہی شاہ ولی اللہؒ کے دور کا نقشہ کھینچتے اور نوحہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ایک گروپ نے نادرشاہ کو بلایا تو دوسرے گروپ نے ابدالی کو دعوت دی۔ نوعیت میں کسی قدر فرق رہا، مگر وطن اور اہلِ وطن کو نقصان پہنچانے میں دونوں ایک دوسرے سے بڑھے رہے‘‘۔

یہ حضرات اپنے اس وطن کو متحد رکھنا چاہتے تھے، انہیں یہ بات بھی گوارا نہیں تھی کہ لسانی، صوبائی یانسلی بنیاد پر تو درکنار، مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے بھی اس ملک اور وطن کے ٹکڑے ہوں، حالانکہ انہیں یقین تھا کہ متحدہ ہندوستان میں جو حکومت قائم ہوگی، اس میں غلبہ ہندؤوں کا ہوگا ۔ وہ حضرات ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے ہندوستان ان کا وطن تھا۔ ہماری نسل کے لوگ پاکستان ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے، ظاہر ہے کہ ہمارا وطن یہی ہوگا، کیا اپنے اس وطن سے اسی انداز سے محبت کرنا، اس کی سا لمیت کے لیے فکرمند ہونا اور ہر ایسی تحریک کے بارے میں محتاط رہنا جس سے اس کی سا لمیت پر حرف آتا ہو، خواہ اس میں نام اسلام ہی کا استعمال ہو رہا ہو، جمعیت علماء ہند کے ان علماء کی اتباع کا تقاضا نہیں ہے؟ 

۲۔ یہ حضرات اپنے وطن ہندوستان کی انگریزوں سے مکمل اور جلد آزادی چاہتے تھے۔

۳۔ ہندوستان کی انگریز سے آزادی میں ان کے پیشِ نظر ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس سے عالمِ اسلام کی آزادی اور سربلندی کا راستہ کھلے گا۔ گویا شریعت کے جزوی احکام کی بزورِ طاقت نفاذ سے زیادہ ان کی نظر اس بات پر تھی کہ کن پالیسیوں سے بحیثیتِ مجموعی عالمِ اسلام کی قوت اور سربلندی کے بارے میں کیا نتائج مرتب ہوں گے۔

۴۔ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے عدمِ تشدد پر مبنی طریقۂ کار اختیار کرنے کو اپنی طے شدہ پالیسی قرار دیتے تھے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ۱۸۵۷ء کے معرکے اور تحریک ریشمی رومال سے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہونے کے بعد انہوں نے عسکری کی بجائے سیاسی جدوجہد کے راستے کو اپنایا۔ ان دو عسکری تحریکوں پر بھی کسی نہ کسی درجے میں مسلمان بادشاہ یا خلافت کی چھتری موجود تھی۔ یہ بھی واضح تھا کہ پر امن سیاسی جدوجہد سے یہ مقاصد جلدی حاصل ہونے والے نہیں ہیں، چنانچہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو بین الأقوامی حالات بنے، وہ اگر نہ بنتے تو نہیں کہا جاسکتا کہ حصولِ آزادی میں اور کتنا طویل عرصہ لگ سکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حضرات کو حصولِ مقاصد کے لیے کسی شارٹ کٹ کی تلاش نہیں تھی، ان کی نظر جلد از جلد منزل کے حصول یا رفتارکی تیزی سے زیادہ راستے کے درست اور بے خطرہونے پر تھی۔ سیاسی اور پر امن سیاسی جد وجہد کی راہ اپنانا دیوبندی سیاسی فکر کی دونوں بڑی شاخوں میں قدرِ مشترک ہے۔ تحریکِ پاکستان کے حامی علماء نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اور پاکستان بن جانے کے بعد نفاذِاسلام کے لیے بھی پرامن راستے ہی کو ترجیح دی، اس میں یہ بات ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنی کہ یہ راستہ طویل اور دور ہو سکتا ہے۔

حضرت مولانامدنی ؒ اپنے ایک طویل سیاسی مکتوب میں جس میں وہ اس اعتراض کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہ ہندؤوں کے ساتھ مل گئے ہیں، فرماتے ہیں :

’’ اگر [ہندؤوں کے ساتھ ملنے سے] یہ مراد ہے کہ میں کانگریس کاممبر ہوگیاہوں تو میں کانگریس کا اس وقت سے ممبر ہوں جب سے کہ مالٹا سے ہندوستان آیا۔ اس سے پہلے میں انقلابی تشدد آمیز خیالات کے ساتھ انگریزی موجودہ اقتدار کا مخالف تھا اور اسی بنا پر مالٹا کی چار برس کی قید ہوئی تھی، اور واپسی مالٹا کے بعد عدمِ تشدد کے ساتھ انگریزی اقتدار کا مخالف اور ہندوستان کی آزادی کاحامی ہوگیا ہوں۔ ۱۹۲۰ء سے برابر سالانہ فیس ممبری اس میں اور جمعیت علماء میں ادا کرتاہوں۔ خلافت کا بھی اسی وقت سے ممبر ہوں، مگر خلافت فنا ہوگئی، اس لیے اب اس میں کوئی حصہ نہیں رکھتا، اور میں ہر اس انقلابی جماعت میں شریک ہونے کو تیار ہوں جو انگریزی اقتدار کو ہندوستان سے ختم کرنے یا کم کرنے کی سچائی سے کوشاں ہو، اور اپنی پالیسی عدمِ تشدد کی رکھتی ہو۔‘‘ ( مکتوبات شیخ الاسلام ۲/۱۲۶، مکتوب نمبر ۳۶)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولانا مدنی ؒ کے نزدیک کسی بھی جماعت کے ساتھ تعاون کی بنیادی دو شرطوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ جماعت عدمِ تشدد کی پالیسی رکھتی ہو۔ اپنے ایک عربی مکتوب میں فرماتے ہیں جس کا ترجمہ مرتبِ مکتوبات مولانا نجم الدین اصلاحی ہی کے الفاظ میں پیش ہے :

’’انگریز دجالوں کی طرف سے میرے پاس نوٹس آیا ہے کہ تمہاری گرفتاری کا سبب یہ ہے کہ تم موجودہ آئین پسند حکومت کی بیخ کنی کرنا چاہتے ہو اور [برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی] جنگی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہو۔ میں نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اقوامِ عالم کے نزدیک آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے اور حکومت بھی اس فریضے کو تسلیم کرتی ہے، چنانچہ اسی پیدائشی حق کے لیے میری تگ و دو اور تحریک ہے، لیکن میں اس مقصد کے حاصل کرنے کے لیے ہنگامہ اور زیادتی کو پسند نہیں کرتا، اور نہ میں نے جنگی کارروائیوں میں رکاوٹ ومداخلت کی ہے۔ جس نے خبر دی وہ جھوٹا ہے، لہٰذا مجھ کو فوراً رہا کرنا چاہیے، مگر اب تک جواب نہیں آیا۔ اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔والسلام‘‘

اپنے ایک طویل مکتوب (مکتوبات جلد اول، مکتوب نمبر۶۳) میں مغلیہ بادشاہ اکبر کی ’روادارانہ مذہبی‘ پالیسیوں سے کافی حدتک اتفاق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’ اگر اس [اکبر] کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہو جاتے یا کم ازکم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال [کہ نفرت کی فضا پیدا کرکے لوگوں کو اسلام سے روکا جائے] مدفون ہوجاتی اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے ۔ اکبر نے نہ صرف اشخاص پرقبضہ کیا تھا، بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا تھا، مگر ادھر تو اکبر نے نفسِ دینِ اسلام میں کچھ [؟] غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بدظنی ہوئی، اگرچہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے ، ادھر برہمنوں کے غیظ وغضب میں اپنی ناکامیاں دیکھ کر اشتعال پیدا ہوا۔‘‘

مولانا مدنی ؒ کی اس رائے سے، ظاہر ہے کہ دیگر اہل علم ودانش کو اختلاف ہو سکتا ہے بلکہ اختلاف ہے۔ یہاں صرف مولانا مدنی ؒ کی سیاسی فکر کے خد وخال بیان کرنا مقصود ہیں۔ مذہب کے بارے میں اکبر کی پالیسیوں کو ہم سمجھنے میں آسانی کے لیے اُس وقت کے سیکولر ازم سے تعبیر کرسکتے ہیں اور آج کا سیکولرازم یقیناًمسلمانوں کو اکبر کے سیکولر ازم سے زیادہ ہی مذہبی آزادیاں دیتاہوگا، کم نہیں۔ آج کا پاکستان نظریاتی اور دستوری طور پر سیکولر ریاست نہیں ہے۔ اس کا دستور نہ صرف اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیتاہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو بھی تسلیم کرتاہے اور یہ بھی ضروری قراردیتا ہے کہ اس کا کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہوگا۔ اصطلاحی لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایسی ریاست ہے جو اللہ ورسول کی ’التزامِ اطاعت‘ کیے ہوئے ہے اور یہ بھی اہلِ علم جانتے ہیں کہ کسی فرد کے مسلمان ہونے کے لیے اتناہی کافی ہے کہ وہ اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم سمجھے، عملاً اطاعت نہ بھی کرے تب بھی وہ رہتا مسلمان ہی ہے۔ اس لیے ریاستِ پاکستان ایک ایسے مسلمان کی طرح ہے جس کے عمل میں کمی کوتاہی تو ہے، لیکن وہ اصولی طور پر اللہ ورسول کی اطاعت کو لازم سمجھتا اور اس پر ایمان رکھتاہے۔ پھر عملی طور پر اور شعائرِ اسلام کے احترام کے عمومی رویّے کے اعتبار سے بھی یہ ملک آج کے بہت سے مسلمان ملکوں اور اکبر کے ’روادارانہ‘ دورکے مقابلے میں بسا غنیمت نظر آئے گا۔ اگر اسے ہم تھوڑی دیر کے لیے ایک سیکولر سٹیٹ بھی مان لیں تو بھی حضرت مولانا مدنی ؒ بعض اعلیٰ وارفع مقاصد کے پیشِ نظراس طرح کے سیکولر ازم کے بارے میں نرم گوشہ اور رویّہ رکھ رہے ہیں۔ ان اعلیٰ مقاصد میں اسلام کی تبلیغ واشاعت اور غیر مسلموں کے سامنے اس کی روادارانہ تصویر پیش کرنا جس سے وہ اسلام سے دور ہونے کی بجائے قریب ہوں، خاص طوپر قابلِ ذکر ہیں۔ جمعیت علماء ہند کے دیگر رہنماؤں کے ہاں ہو سکتا ہے اکبری دور کے ساتھ یہ نرم گوشہ اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ مل جائے ۔ اکبر کا یہ سیکولرازم یا مذہبی رواداری کا رویّہ ایک غیر مسلم ریاست کے اندر نہیں تھا بلکہ دارالاسلام میں تھا ، اس لیے کہ مغلیہ دور کے ہندوستان کو علماء دارالاسلام قرار دیتے ہیں۔ اگر پاکستان میں اس سے بہت کم درجے کی ’لادینیت‘ کے ساتھ نہ تو نرم گوشہ رکھنے کا کہا جائے، نہ اسے برقرار رکھنے کی بات کی جائے، بلکہ اس صورتِ حال کے خاتمے کے لیے بھر پور جدوجہد کی ضرورت کو تسلیم کیا جائے اور صرف اتنا کہا جائے کہ یہ جدوجہد پر امن اور غیر متشددانہ ہو اور اس سے ریاستِ پاکستان کے ساتھ جنگ یا اس سے بغاوت کا تأثر نہ ابھرے تو اکبری دور کے بارے میں مولانا مدنی ؒ کے لب ولہجہ کی روشنی میں یہ کوئی غلط بات نہیں ہوگی۔

اکبری دور ہی کے بارے میں مولانا محمدمیاں ؒ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ مجدد الفِ ثانی ؒ نے اکبر کے خلاف بغاوت کیوں نہیں کی؟ اس کی ایک وجہ تو مولانا محمد میاں ؒ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’نصِّ حدیث کے بموجب مسلمان بادشاہ سے بغاوت صرف اسی وقت جائز ہے جبکہ واضح اور بیّن طور پر اس سے ارتکابِ کفرہو‘‘ جبکہ مولانا ؒ کی نظر میں اکبر کے کفر میں تردد کی گنجائش موجود تھی، اس لیے بموجبِ نصّ حدیث اس کے خلاف بغاوت جائز نہیں تھی۔ دوسری وجہ مولانا محمد میاں ؒ کی نظر میں مجدد صاحب کے بغاوت نہ کرنے کی یہ تھی کہ جہاد کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ معروف جہاد بالسیف کا ہے، دوسرا طریقہ جہاد کا وہ ہے جو مکّی دور میں اختیار کیا گیا۔ مجدد صاحب نے جہاد تو کیا لیکن دوسرے طریقے سے۔ اس دوسرے طریقے کی وضاحت میں مکی دور کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا ؒ لکھتے ہیں:

’’ اور پھر غور کرو کہ یہ انقلاب تلوار کی طاقت سے ہوا یا حق وصداقت، اخلاق وضمیر، ایثار اور قربانیوں کی خاموش قوت سے؟ بلاشبہ یہ قوی اور نہایت مضبوط طریقۂ جنگ ہے جو اس وقت تک کیا جاتا ہے جب تک اس کی کامیابی کے امکانات باقی رہیں اور اسی طرزِ جنگ [ مکی دور کے طریقے ] کو مقاومت بالصبرکے مذہبی لفظ سے تعبیر کیا جاتاہے ، اور آج کل کی اصطلاح میں عدمِ تشدد کی جنگ کہا جاتا ہے۔‘‘

آگے چل کر مولاناؒ ، سیوطی کی االاتقان کے حوالے سے بتلاتے ہیں کہ جنگ کے دونوں طریقے یعنی مکی اور مدنی طریقے یا تلوار اور عدمِ تشدد والے طریقے آج بھی مشروع ہیں۔ ان میں کوئی طریقہ منسوخ نہیں ہے،بلکہ عدمِ تشدد والے طریقے کے بارے میں مولانا کے الفاظ ’’ جو اس وقت تک جاری رکھا جاتاہے جب تک اس کی کامیابی کے امکانات باقی رہیں‘‘ سے تو بظاہر یہ معلوم ہورہا ہے کہ مولانا کے نزدیک اصل طریقہ یہی ہے۔ جب تک اس میں کامیابی کے امکانات ہوں، اسے استعمال کرنا چاہیے۔ اسی طریقے یعنی مقاومت بالصبر یا جہاد باللسان والے طریقے کی افضلیت پر حدیث ’’افضل الجہاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر ‘‘سے استدلال کرنے کے بعد مولانا فرماتے ہیں: ’’ بہر حال اس طرزِجہاد کے لیے ضرورت تھی کہ حضرت مجدد صاحب اپنی صداقت نیز سلطان اور سلطنت کی خیر خواہی کا آخری ثبوت پیش کریں۔‘‘ (علماء ہند کا شاندار ماضی، جلد اول ص ۱۸۰ )اس کا مطلب یہ ہوا کہ جمعیت علماءِ ہند کے ایک بلند مرتبہ راہ نما کی نظر میں اگر مسلمان حکمران غلط راستے پر چل نکلے تو سلطان اور سلطنت یا زیادہ بہتر لفظوں میں ریاست کے ساتھ خیر خواہی کا آخری ثبوت پیش کرنا بھی ایک طرزِ جہاد کا حصہ ہو سکتا ہے۔

نیز مولانا محمد میاں ؒ ہی کی نظر میں قطع نظر اس سے کہ شاہ صاحب کی طرف یہ نسبت کس حد تک صحیح ہے شاہ ولی اللہؒ کی فکر کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ’’قران حکیم کی رو سے ہمہ گیرحق و صداقت، انسانی شرف وعظمت اور اعلیٰ اخلاق کے نام پر جو جدّ جہدہو، وہ اسی وقت جہاد قرار دی جاسکتی ہے جب کہ نہ قومی یانسلی اقتدار کا تصور سامنے ہو اور نہ ہی فرقہ پرستی اور دھڑے بندی کی کوئی شکل فتنہ وفساد کی تخم ریزی کرسکے۔‘‘ ( علماء ہند کا شاندار ماضی، جلد دوم ص ۱۹) پھر مولانا نے جہاں عدمِ تشدد کی اس پالیسی کی شرعی بنیادیں جا بجا بیان فرمائی ہیں، وہیں عملی اور زمینی حقائق کی روسے بھی اب تک کی عسکری کوششوں کی عدمِ کامیابی کی وجوہات کا جائزہ لے کر عدمِ تشدد کی اس نئی پالیسی کی پر زور وکالت کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ پالیسی اختیار کرنے والے بزدل، بے عمل یا عافیت پسندلوگ نہیں تھے ، بلکہ یہ وہی قافلہ ہے جو پہلے عسکری کوششوں میں دادِ شجاعت دے چکاہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’ حضرت سید صاحب شہید ؒ کی تحریک کےِ آغاز سے ۱۹۱۵ء تک یعنی صرف پچاسی سال کے عرصے میں ہندوستان کی صرف یہی ایک جماعت ہے جس نے چار مرتبہ [عسکری] انقلاب کی جدوجہد کی۔ بے عمل اعتراض کرنے والوں کے پاس اب بھی پر تشدد انقلاب کے لیے کوئی پروگرام نہیں۔‘‘ ( علماء ہند کا شاندار ماضی، جلد پنجم ۳۲۲) مولانا نے عسکری کوششوں کو ترک کرنے کی جو وجوہات بیان کی ہیں، ان کا خلاصہ یہی ہے کہ بدلے ہوئے اس وقت میں ان کے بار آور ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ ان عسکری کوششوں میں بہادری، دشمن کو پریشان کرنے اور جزوی کامیابیوں کی متعدد مثالیں ملتی ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے ان کی بنیاد پر خوش فہمیوں اور بہادریوں کے چند قصوں میں ذہن کی سوئی اٹکائے رکھنے کی بجائے پالیسی سازی کے لیے زمینی حقائق اور اب تک کے تجربات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا اس طرح کی جد وجہد میں جزوی اور عارضی کامیابیوں اور کچھ عرصے کے لیے کسی ریاست کو پریشان رکھنے کے علاوہ فیصلہ کن کامیابی کے بھی امکانات ہیں یا نہیں؟ اسّی سال کے عرصے پر محیط پالیسی کو تقدّس کا درجہ دے کراس پر جمود اور تاویلات وتوجیہات کے ذریعے اس کی وکالت کرتے رہنے کی بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں اب تک کے سفر کا ازسرِ نو جائزہ لے کر نیا راستہ تلاش کرنا ان حضرات کی جدّ وجہد کا ایک اہم باب ہے جس کا اثر ان کے نام لیواؤں اور متبعین میں بھی نظرآنا چاہیے۔ مثلاً ایک جگہ مولانا محمد میاں فرماتے ہیں : ’’ جلیانوالہ باغ اور پنجاب کے مارشل لانے ہندوستانیوں کو کافی سبق دے دیا کہ شورشِ بغاوت کو ایک جابر اور قاہر حکومت کس طرح کچل سکتی ہے۔‘‘ (غالباً حضرت تھانوی ؒ نے بھی یہ فرمایاہے کہ ریاست کا عسکری مقابلہ عموماً ریاست ہی کرسکتی ہے، غیر ریاستی عناصر نہیں) مزید فرماتے ہیں کہ ’’ کوئی بیرونی طاقت پشت پر نہ ہو تو سوال یہ ہوتا ہے کہ اسلحہ اور قوت کے ساتھ انقلابی جدوجہد کے لیے خرچ کا کیا انتظام ہو؟‘‘ 

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولانا محمد میاں اب تک کے تجربات سے یہ سمجھے ہیں کہ ایک ریاست کے اندر رہ کر اس کے خلاف لڑنے کی ایک بہت بڑی شرط یہ ہے کہ باہر کی کوئی مضبوط طاقت اس کی پشت پناہی کررہی ہو۔ اس سے پہلے مولانا یہ فرماچکے ہیں کہ جرمنی کی شکست کے بعد برطانیہ کے خلاف عسکری جدوجہد کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوگئے تھے۔ اس قسم کے خرچے کا اگر انتظام ہو بھی جائے جس کی نفی مولانا مذکورہ بالا اقتباس میں فرمارہے ہیں، تب بھی یہ سوال برقرار رہے گا کہ کسی طاقت کے خرچے پر چلنے والی عسکری تحریک اپنے مقاصد حاصل کرے گی یا خر چہ دینے والی طاقت کے؟ ایک جگہ انہوں نے بڑی صراحت کے ساتھ فرمایا ہے : ’’ اٹھارہویں صدی کے آغاز تک سرفروشوں کی کثرت سامانِ فتح ہوا کرتی تھی، لیکن اب توپوں، رائفلوں وغیرہ جدید آلاتِ حرب [ دوسرے لفظوں میں ٹیکنالوجی] اور فراہمئ سرمایہ [دوسرے لفظوں میں اقتصادی قوت] پر فتح وشکست کو منحصر کردیا تھا۔‘‘ ( شاندار ماضی ۵/۱۶۰) ایک جگہ علماء سے پرُ تشدد جدوجہد کا مطالبہ کرنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ شیخ الہند ؒ نے کیا اپنی عمر کے پچاس سال صرف نہیں کیے تھے؟ لیکن اب وہی شیخ الہندمولا محمد میاں کے الفاظ میں ’’ ۴۲ سال بعد مسلمانوں کوایک مشترکہ اور آئینی جدوجہد کی ہدایت فرمارہے ہیں۔‘‘ (شاندار ماضی ۵/۳۶۵)۔

بات ذرا دور نکل گئی، اصل میں یہ کہہ رہا تھا کہ اکبر کے مذہبی طرزِ عمل کو، جو دینی اعتبار سے آج کے سیکولرزم سے بھی گیا گزرا تھا، بعض اعلیٰ وارفع مقاصد کے لیے حضرت مولانا مدنی ؒ قابلِ گوارا سمجھ رہے ہیں۔ مذکورہ اقتباس کے بعد مولانا مدنیؒ نے اپنے مدّعا کے ثبوت کے لیے صلحِ حدیبیہ اور اس کے اثرات کا ذکر کیا۔ اس کے بعدان اعلیٰ مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے جن کی خاطریہ ڈھیلی ڈھالی پالیسی اختیار کی جاسکتی ہے، وہ فرماتے ہیں ( اصل مقصود حضرت کا یہی اقتباس پیش کرنا تھا، تمہید ذرا لمبی ہوگئی، اقتباس اگرچہ طویل ہے لیکن پڑھنے کے قابل ہے) : 

’’ آپس میں اختلاط ہونا، نفرت میں کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے افلاذ اکباد قریش کو کھینچ [کر ] صلحِ حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینے کو پہنچا دیا۔ حضرت خالدبن ولید، عمرو بن العاص اس طرح حلقہ بگوش اسلام بن گئے کہ قریش کی ہستی فنا ہو گئی ۔
’’الغرض اختلاط باعث عدم تنافر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا اور تنافرباعث ضد اور ہٹ اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے اور وہ اسلامی ترقی میں سد راہ ہونے والا۔ اور چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے، اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہو سکے، غیر کو اپنے میں ہضم کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے۔ اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہیے، اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو ان کو یہ نہ کہنا چاہیے، اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں تو ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے، وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں تو ہم کو ان سے ظالمانہ غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے۔ اسلام پدر شفیق ہے، اسلام مادر مہربان ہے، اسلام ناصح خیر خواہ ہے، اسلام جالب اقوام ہے، اسلام ہمدرد بنی نوع انسان ہے۔ اس کو غیروں سے جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا پر کاربند ہونا شایاں نہیں، بلکہ اس کی غرض [تبلیغ ] کے لیے سد یاجوج ہے۔ کفر نے کبھی اسلام سے عدل وانصاف نہیں کیا۔ [کیف وان] یظہروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمۃ الخ وغیرہ شاہد عدل ہیں۔ مگر اسلام نے انصاف، عدل واحسان کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نہ چھوڑنا مناسب تھا، اگرچہ جذبات انتقامیہ بہت کچھ چاہتے تھے۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کچھ لوگوں کی یہ سازش ہو کہ وہ منافرت اور تلخی کا ماحول پیدا کر کے لوگوں کے قبولِ اسلام میں رکاوٹ بنیں، جیسا کہ آج آگ کل ایسی طاقتوں کی کوشش ہے جن کے ہاتھ میں میڈیا کی طاقت ہے کہ وہ اسلام کی خاص قسم کی تصویر پیش کرکے لوگوں کو اسلام سے دور رکھیں، تو اکبری پالیسی جیسی چیزوں اور بعض غیر مسلموں کی طرف سے انتہائی توہین آمیز رویے کو بھی گوارا کیا جاسکتاہے، اس لیے کہ مولانا مدنی ؒ کے مذکورہ مکتوب میں ہندؤوں کے اسی طرح کے رویے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ سائل کے ساتھ واقعہ یہ ہوا تھا کہ ایک ریلوے اسٹیشن پر اس کا ہاتھ غلطی سے کھانا بیچنے والے ایک ہندو کی پتیلی کے صرف ڈھکن کو لگ گیا تھا۔ اس پر اس نے نہ صرف اس سارے کھانے کو پلید قرار دے کر ضائع کرنے کا ذلت آمیزفیصلہ سنادیا بلکہ ہاتھ لگانے والے مسلمان سے بطور تاوان اس کھانے کی قیمت کا بھی مطالبہ کیا جو اس مسلمان نے اداکردی۔ اس پر سائل نے مولانا مدنی ؒ سے یہ سوال کیا ہے کہ اگرچہ ہمارے مذہب میں کافر کا جھوٹا پاک ہے، لیکن ہندؤوں کے اس طرزِ عمل کے ردّ عمل میں کیا ہم بھی ان کے ساتھ یہی طرز اختیار نہ کریں۔ اس مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مدنی ؒ کے نزدیک اسلام کی تبلیغ، لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں کے قریب کرنا اور منافرت کی فضاکم کرنا پالیسی کا اہم ترین حصہ ہے۔ 

مولانا محمد میاں ؒ نے ایک جگہ یہ بھی بتایا ہے کہ شیخ الہند ؒ جو انقلاب لانا چاہتے تھے، اس کے ذریعے وہ ایک جمہوری حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح جمعیت علماء ہند کے ۱۹۳۹ء کے ایک اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ جمعیت علماء جمہوری اصول کو پسند کرتی ہے اور اس کے نزدیک اسلامی جمہوریت کا جو خاکہ ہے، وہ یورپین جمہوریت کے اصول سے بہت ارفع واعلیٰ ہے۔ اسلامی جمہوریت میں اکثریت اور اقلیت پورے اطمینان اور تحفظِ حقوق کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے۔‘‘ (شاندار ماضی ۶/ ۴۷ ) اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ان علماء کرام نے ایک ایسے جمہوری سیاسی نظام میں بھرپور حصہ لیا جو نہ صرف خالصتاً انگریزوں کابنایا ہواتھا، بلکہ اسے اس وقت چلا بھی براہِ راست انگریز ہی رہے تھے، چنانچہ انگریزی دور میں ہونے والے تقریباً تمام انتخابات میں جمعیت علماء ہند نے کسی نہ طرح اپنا کردار ادا کیا ۔

حضرت مدنی ؒ کے اندازِ فکر میں ایک بات یہ بھی ملتی ہے کہ اگر کسی معاملے کے بگڑنے میں حضرت کے خیال میں غیروں کی بجائے اپنوں کی غلطی کا دخل تھا تو اس کا انہوں نے کھل کر اظہار فرمایا جو یقیناًبڑا مشکل کام ہوتاہے ۔ مثلاً ایک خط میں ہندؤوں کی طرف سے ہونے والے مظالم کی ایک شکایت کے جواب میں فرماتے ہیں : 

’’جو مظالم بہار اور گڈھ مکتیشر وغیرہ میں دل گداز واقع ہوئے ہیں، یقیناًنہایت رنجیدہ اور سنگین ہیں، مگر میرے محترم! تصویر کے دوسرے رخ سے غافل رہنا بھی تو درست نہیں۔ ابتداء کس نے کی؟ کبھی اس پر غور فرمایاکہ نہیں؟ نواکھالی، پترہ میں ایسے ہی مظالم پہلے کس نے کیے تھے ؟‘‘ (مکتوبات جلد دوم، مکتوب نمبر ۸۵ )

اسی خط میں آگے چل کر فرماتے ہیں : 

’’ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الفتنۃ نائمۃ، لعن اللہ من ایقظہا (او کما قال) کا کیا مصداق ہے، جب کہ ان خباثتوں کی ابتدا مسلمانوں ہی سے ہو رہی ہے تو کس پر قصور کہا جا سکتا ہے۔‘‘ 

بریلی سے ایک صاحب نے اس بات کی شکایت کی کہ آزادی کے بعد مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں، مسلمانوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں،ان کو اپنی املاک سے محروم کیا جارہاہے، غیر مسلموں کے جلسوں میں کھلے عام اسلام کو برا بھلا کہا جارہاہے اور یہ سب کچھ حکومت کی ناک کے نیچے ہورہاہے۔ (حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں پر اس طرح کے مظالم سے آزاد ہندوستان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔)سائل نے اس بات پر بھی دکھ کا اظہار کیا کہ تحریکِ آزادی میں ہم نے ان ہندوؤں کی خاطر اپنوں سے مقابلہ کیا۔ جن کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا، انہی کی طرف سے ہمارے ساتھ یہ برتاؤ کیا جارہا ہے۔ سائل نے حضرت ؒ سے راہ نمائی طلب کی کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ جواب میں تفصیلی مکتوب میں حضرت ؒ نے ایک تو یہ فرمایا کہ ہندوستان آزاد کرا کے ہم نے ہندو پر کوئی احسان نہیں کیا، اپنا کام کیا ہے، لہٰذا دوسروں سے کسی صلے کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ دوسری بات اس خط میں بھی حضرت ؒ نے یہی فرمائی کہ اس ساری خرابی کے اصل ذمہ دار مسلمان ہی ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :

’’ آج آپ مجھ سے راہ نمائی دریافت فرما رہے ہیں۔ خود کردہ را علاجے نیست، اگرمیں کہوں تو کیوں غلط ہوگا! ہمارے بھائیوں نے کیا کیا نہیں کیا اور کیا کیا نہیں کر رہے ہیں ؟
چوں از قومے یکے بے دانشی کرد
نہ کہ را منزلت ماند نہ مہ را
اگر ایک کی بے عقلی کا یہ حال ہوتو قوم کی اکثریت کی بے دانشی کا کیا نتیجہ ہوگا؟ بہرحال جو حالت آپ نے موجباتِ اضطراب کی ذکر فرمائی ہیں، وہ موجودہ کرتوتوں ہی کے نتائج ہیں، فإلی اللہ المشتکی‘‘

گویا حضرت ؒ کے نزدیک یہ ساری خرابی مسلمان قوم کی اکثریت کی بے عقلی کا نتیجہ تھی۔ مسلمانوں نے ووٹ کے زور پر، پر امن جد وجہد کے ذریعے اگر ملک حاصل کرلیا تھا اور اس جرم کی سزا میں ہندو اور سکھوں نے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کردیا تھا تو اس کی ذمہ داربھی بے عقل مسلمان اکثریت تھی۔ قطع نظر اس سے کہ امرِ واقعہ کیا تھا اور قطع نظر اس سے کہ کیا مذہبی منافرت کے معاملے میں ہندو اتنا ہی معصوم تھا، جس نکتے کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے، وہ حضرت ؒ کی اخلاقی جرأت ہے جو اس قسم کے مکتوبات سے واضح ہورہی ہے ۔ حضرت ؒ نے دیانت داری سے جو درست سمجھا، وہی کہا، بغیر لگی لپٹی رکھے کہا، تقریباً اسی لہجے میں کہا جس میں وہ پرایوں کی غلطیاں بیان فرماتے تھے۔ یہ نہیں سوچا کہ میرا مخاطب مجھ سے کیا سننا چاہتا ہے، بلکہ یہ دیکھا کہ مجھے کیا کہنا چاہیے ۔ اپنوں کے بارے میں اس طرح کی جرأتِ اظہار غیروں سے بھی زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ حضرت ؒ کو یقیناًاندازہ ہوگا کہ اس کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے اور واقعی حضرت ؒ نے یہ قیمت چکائی بھی، لیکن کہا وہی جس کو دیانت دارانہ طور پر درست سمجھتے تھے۔ یہی فریضہ مختلف مواقع پر ذرا مختلف انداز سے سہی، مولانا تھانوی اور علامہ عثمانی نے بھی انجام دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے موجودہ ماحول میں قیادت اور جرأتِ اظہارکے اس معیار کی موجودہ دینی قیادت سے کس حد تک توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو صرف ان کی پسندکی غزل سنانے کی بجائے ان لوگوں میں اگر غلطی محسوس کریں تو صراحت کے ساتھ اس کی نشاندہی کریں، انہیں سمجھانے کی کوشش کریں، اس لیے کہ قیادت کا کام راہ نمائی کرنا بھی ہوتا ہے، صرف اپنی مقبولیت کا تحفظ کرنا نہیں۔

تیسری بات جس پر حضرت مدنی ؒ نے اس مکتوب میں زور دیا ہے، وہ یہ ہے مسلمانوں کو چاہیے کہ غیروں کے ان مظالم اور بد تمیزیوں کے باوجود صبراور رجوع الی اللہ پر ہی اکتفا کریں، امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ کریں۔ اس موضوع پر تفصیل سے مدلل بات کرتے ہوئے آخر میں فرماتے ہیں :

’’مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ احکامِ خداوندی پر مضبوطی سے گامزن رہیں اور اپنے مصائب اور تکلیف کے متعلق استقلال سے اللہ تعالی پر اعتماد رکھیں، ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ ، اور صبرِ جمیل پر مضبوط رہیں اور جزع فزع نہ کریں۔ جو مصائب پیش آئیں، ان کو صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں ، اور انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ پر عمل کریں، امن وامان میں کوئی خلل پیدانہ کریں وفقنا اللہ وإیاکم لما یحبہ ویرضاہ، آمین۔‘‘

امن وامان میں خلل پیدا نہ کرنے والی بات مولانا مدنی ؒ ایک خالص اسلامی حکومت کے زیرِ سایہ نہیں فرما رہے بلکہ ایک غیر مسلم حکومت کے بارے میں فرما رہے ہیں جس کے بارے میں لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ نام تو سیکولرازم کا لیتی ہے اور تمام مذاہب کے مانے والے شہریوں کو برابر قرار دیتی ہے، لیکن عملاً مسلمانوں کی جان ومال کے تحفظ میں ناکام ہے بلکہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں حکومتی شہ کا تأثر بھی موجود ہے۔ اوپر کی سطور میں دوبارہ ملاحظہ فرمالیں کہ حضرت ؒ مسلمانوں پر مظالم اور اسلام کو برا بھلا کہنے کے کس طرح کے ماحول میں یہ لائحۂ عمل تجویز فرمارہے ہیں۔ صرف اپنوں کی غلطیوں کا احساس رکھنے، صبر کرنے اور نقضِ امن سے بچنے کے علاوہ کسی اور چیز کی تعلیم نہیں ہے ۔ پتا چلا کہ حضرت مدنی ؒ کے ہاں یہ بھی ایک راستہ اور لائحۂ عمل ہوسکتاہے جس پر وہ اپنے اس مکتوب میں شرعی اور واقعاتی دلائل پیش کرہے ہیں۔ آج اگر کوئی صاحب اسی طرح کے صبرِ جمیل اور امن وامان خراب نہ کرنے کا مشورہ دے دے اور اس کے ساتھ ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے اور پرامن جدوجہد کرنے کا بھی کہے ( جس کا حضرت ؒ کے اس مکتوب میں ذکرنہیں ہے) تو مجھے نہیں معلوم اس کے بارے میں ہمارے جذباتی لوگوں کا کیا فتویٰ ہوگا۔

ان حوالہ جات کے پیش کرنے کا ایک مقصد تو ان لوگوں کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنا ہے جو محلے میں پھٹنے والے چھوٹے سے پٹاخے کو بھی دیوبندیت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ کسی طبقے کی طرف منسوب چند لوگوں کی غلطیوں کو اس پورے حلقۂ فکر کی منسوب کرنا درست نہیں ہوتا، جیسا کہ کسی مسلمان کی غلطی کا ذمہ دار اسلام اور اسلامی تعلیمات کو قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ دوسرے یہ ارشادات ہمارے ان جذباتی لوگوں کے سامنے پیش کرنے مقصود ہیں جن کے ذہنوں میں دیوبندیت بالخصوص حضرت مولانا مدنی ؒ کے منہجِ فکر کی ایک عجیب وغریب تصویر بیٹھی ہوئی ہے اور شعلہ بیان خطابتوں اور نعروں کی گہما گہمی میں مطالعہ، مباحثہ اور تبادلۂ آرا کا ماحول نہ ملنے کی وجہ سے وہ تصویر اتنی راسخ ہوگئی ہے کہ اس سے ہٹ کر کسی بات کا تصور ہی ان کے لیے ناقابلِ قبول ہوتاہے۔ آپ تجربہ کرکے دیکھ لیجیے، ان بزرگوں کے مذکورہ ارشادات ان کا حوالہ دیے بغیر کسی جذباتی نوجوان کے سامنے پیش کرکے دیکھ لیجیے اس کا کیا ردّ عمل ہوتا ہے، بلکہ ہوسکتاہے کئی لوگوں کے لیے یہ باور کرنا ہی مشکل ہوجائے کہ جمعیت علماءِ ہند کے اکابر اور حضرت مولانا مدنی ؒ جیسے بزرگوں کی زبان وقلم سے عدمِ تشدد، محض صبر اور رجوع الی اللہ پر اکتفا کرنے اور بدامنی پیدا نہ کرنے جیسے الفاظ بھی نکل سکتے ہیںیا اس طرح کے لفظ ان کی ڈکشنری میں موجود بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ ہم ان بزرگوں کے نام لینے اور نعرے لگانے جیسے انتہائی ضروری کام میں آج کل اتنے مصروف ہیں کہ ان کے بارے میں مطالعے کی فرصت نہیں ملتی ۔ مجھے خود ایک مرتبہ اس طرح کا تجربہ ہوا ۔ کسی موضوع پر بات چیت کے دوران میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا حوالہ دیا کہ دشمن سے ملاقات یعنی جنگ کی کبھی تمنا نہ کرو، ہاں اگر جنگ ہو ہی جائے تو ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ اس پر ایک اچھے خاصے عالم نے بڑی حیرت بلکہ شاید کسی قدر جذباتی انداز سے پوچھا: ’’ کہاں ہے یہ حدیث؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’بخاری میں!‘‘۔ اس پر وہ خاموش تو ہوگئے، لیکن مجھے یہ احساس ہوا شاید ہم لوگوں نے اپنے عظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا نقشہ ہی کچھ ایسا اپنے لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا ہے کہ ان کے نزدیک یہ ناممکنات میں سے ہے کہ اللہ کے نبی جنگ کے بارے میں ایسی ’بزدلانہ‘ بات کہہ سکتے ہیں۔

اوپر چند بزرگوں کے حوالے سے ان کے جو اقوال نقل کیے گئے ہیں، ضروری نہیں کہ ان تمام باتوں سے ان کے معاصر یا ان سے بڑے دوسرے بزرگوں کواتفاق ہی ہو۔ بعض باتوں سے دیگر اہلِ علم و دانش کو اختلاف بھی ہوسکتا ہے، یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ آج کے بعض جذباتی حلقوں بالخصوص نوجوانوں نے جو راستے اپنے لیے اختیار کیے ہیں، اگر تو وہ انہیں محض اپنی سمجھ بوجھ سے اختیار کیے ہوئے ہیں تو ست بسم اللہ، ہمیں اس مجلس میں ان سے بحث کرنا مقصود نہیں، لیکن چونکہ بہت سے لوگ اسے دیوبندی فکر کا شاخسانہ سمجھ رہے ہیں، اس لیے انہیں یہ واضح کردینا چاہیے کہ ان امور میں وہ علماء دیوبند کے متبع نہیں ہیں بلکہ اپنا الگ منہجِ فکر رکھتے ہیں۔ اور اگر وہ واقعی علماءِ دیوبند کی اتباع چاہتے ہیں تو انہیں یہ فیصلہ کرلیناچاہیے کہ علماء دیوبند میں پائے جانے والے متعدد رجحانات میں سے وہ کس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ بس ان سے اتنی گزارش کریں گے اس رجحان کے بزرگوں کی تعلیمات اور ان کے مزاج ومذاق کو پورے طور پر سمجھنے کی بھی کوشش فرمالیں۔ چونکہ عام طور پر اس طرح کے حضرات کے ذہن میں ہوتا ہے کہ وہ حضرت مدنی ؒ اور جمعیت علماء ہند کے اکابر کی پیروی کررہے ہیں، اس لیے صرف انہی کے فرمودات نقل کرنے کو کافی سمجھا گیا ہے، وگرنہ ان میں سے کئی باتیں دیگر بزرگوں کے حوالے سے بھی پیش کی جاسکتی ہیں۔ امید ہے کہ ان بزرگوں کے نام سے پیش کی جانے والی یہ باتیں قابلِ غور ضرور سمجھی جائیں گی۔ اسی کے ساتھ دیوبندی حلقے کی قیادت چاہے وہ سیاسی قیادت ہو ، مدارس اور وفاق کی قیادت ہو، اساتذۂ کرام ہوں ، دینی صحافت سے وابستہ حضرات ہوں، ان پر وقت نے بہت بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے۔ وہ ذمہ داری امریکا، حکومتِ وقت اور موجودہ نظام کو گالیاں دینے کی نہیں۔ یہ کام کتنا ہی مستحسن سہی، اتنامشکل نہیں ہے جتنا اپنوں سے اگر کچھ غلطیاں ہورہی ہوں، ان کے بارے میں ان کی راہ نمائی کرنا مشکل اور صبر وعزیمت کا متقاضی ہے اور اسی کی ایک جھلک حضرت مولانا مدنی ؒ کے بعض مکتوبات میں ہم دیکھ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحت پسندی کے خول سے نکل کر یہ کام اب دیوبندی قیادت کو کرناہی پڑے گا۔ اب تک بھی بہت تاخیر ہو چکی ہے، مزیدتاخیر مزید نقصان کا باعث ہوگی۔ میرا اندازہ ہے کہ اگر دلیل اور ڈھنگ سے بات کی جائے تو رائیگاں نہیں جائے گی۔ اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اپنے حلقوں پر پالیسی امور کو عقیدے اور تقدّس کا درجہ دینے کی بجائے ان پر عام بحث کا ماحول اور ایک متعین نقطۂ نظر سے ہٹی ہوئی کسی بات کو کم از کم سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔ آج امریکا اور برطانیہ سمیت اتحادی افواج کو افغانستان میں جو ناکامیاں ہو رہی ہیں، ان پر مغرب میں عام بحث ہورہی ہے ، پالیسیوں پر تنقیدیں ہو رہی ہیں، مباحثے ہو رہے ہیں، ناکامیوں کے تذکرے ہو رہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو یہ ڈر لگتاہے کہ یہی کھلا پن شاید مغرب کے لیے سب بڑی طاقت ثابت ہو۔

(بشکریہ ماہنامہ ’الصیانہ‘ لاہور)

اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۱۱ و ۱۲

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟
محمد مشتاق احمد

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر عبد القدیر خان

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں
محمد عمار خان ناصر

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج
مولانا مفتی محمد زاہد

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات
محمد زاہد صدیق مغل

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق
مولانا محمد وارث مظہری

مولانا فضل محمد کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

مکاتیب
ادارہ

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘
ادارہ

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی
ادارہ

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
ادارہ

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار
ادارہ

انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Since 1st December 2020

Flag Counter