اسلامی تحریکات کا تنقیدی جائزہ (۴)

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

تجدید واجتہاد سے گریز

یہ نکتہ بھی تحریک اسلامی کی اہم کمزوریوں میں سے ایک ہے کہ اجتہاد سے ڈرتی ہے، حالات اور وقت کی مناسبت سے دین کے دائرے کے اندر تجدیدی عمل کو پسند نہیں کرتی اور عمل وفکر کے اعتبار سے انقلابی راہیں اختیار کرنے پر مائل نہیں ہوتی۔ فقہی معاملات میں کسی قدر اجتہاد کی قائل ہوتے ہوئے بھی یہ تحریک فکر وحرکت وعمل میں تقلیدی رجحان ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ہر قدم کو بحالہ قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ اس نے بعض وسائل واشکال کو گلے سے لگا رکھا ہے، خواہ یہ وسائل واشکال اس کی دعوت کے فروغ ووسعت کی راہ میں ایسا پتھر ثابت ہوں جن سے مسلسل ٹھوکر لگ رہی ہو، نیز ان کے باعث تحریک کی صفوں میں تھکن، تساہل اور بے دلی کی کیفیات ہی جنم لے رہی ہوں۔یہ ان تمام منفی نتائج سے بے نیاز چلی جا رہی ہے۔

تحریک نے فکر وعمل کے میدان میں ’’مقبول‘‘ اور ’’باکمال‘‘ کی کچھ ایسی تخصیصات قائم کر رکھی ہیں جو حریت فکر اور تجدید عمل وتعین جادۂ نو کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس نے بعض مفکرین کے ساتھ ایسی سخت وابستگیاں استوار کر دی ہیں جن کے باعث علم وتفکر کے سرچشمے پتھر کے قالب سے پھوٹنے والے ننھے سے چاہ کم آب کا روپ دھار لیں گے، جس کے نتیجے میں ذہنی اور فکری گھٹن اور نظر کی تنگی پروان چڑھتی رہے گی اور شاید نوبت یہاں تک پہنچے کہ کسی دوسرے کی کتابیں پڑھنے اور دوسروں کے حلقوں میں شامل ہونے پر ہی پابندیاں عائد ہو جائیں۔ گھٹن کے ماحول میں تعلق وعقیدت کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں، دل چسپیاں کم ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں حرکت وعمل کی روح سے سرشار افراد آہستہ آہستہ کھسکنے لگیں گے، جیسے انگلیوں کے اندر سے پانی بہہ جاتا ہے۔ اپنے ہدف سے انکار نہ ہونے اور نصب العین کی لگن موجود ہوتے ہوئے بھی عقلیں جامد ہو کر رہ جائیں گی۔ ان دو متوازی بلکہ مخالف رجحانات کے آگے بڑھنے پر تحریک ان کھسک کر جانے والوں کی علیحدگی پر خود خوشی واطمینان محسوس کرے گی کیونکہ ساکن کو متحرک کرنے کی گستاخی کرنے والے اور تبدیلی وانقلاب کے بلبلے اٹھانے والے یہ عناصر تحریک کی صفوں میں ناپسندیدہ قرار پائیں گے۔

میں نے بعض اسلامی جماعتیں دیکھی ہیں جو اپنے پیروکاروں پر مخصوص قسم کی تعلیمات اور محدود قسم کا رنگ ثقافت اختیار کرنے کی پابندی لگا دیتی ہیں۔ یہ بے چارے جماعتوں کی قیادت کی پڑھائی ہوئی پٹی کو اس طرح دہراتے ہیں جیسے قرآن پڑھا جاتا ہے۔ مقرر کردہ وظائف کو ٹیپ ریکارڈر کی ریل کی طرح بار بار گھماتے اور اعادہ کرتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ پڑھائی ہوئی پٹی اور رٹائے ہوئے وظیفوں کے بارے میں اپنی سوچ کو کام میں لائے یا ان پر تبادلہ خیال کے لیے زبان کھولے۔ یہاں اختیار کی گنجائش ہے، امتیاز وتمیز کی نہیں۔ ان کے امیر یا رئیس جماعت کا ہر فرمودہ، ہر موقف صحیح ترین کا درجہ رکھتا ہے جس میں خطا کا خفیف سا بھی امکان نہیں بلکہ ایسا حق ہے جس میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہو سکتا۔

تحریک اسلامی میں صوفیا کے طریق تربیت سے نظریاتی اختلاف وبراء ت کا نقطہ نظر غالب ہے۔ اس کے باوجود سمع مطلق اور اندھی تقلید وطاعت کے اسی تصور کو اختیار کیا جا تا ہے جو صوفیا سے خاص ہے، جس میں یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ جس نے اپنے شیخ سے ’’کیوں‘‘ کا سوال کر دیا، وہ کبھی نجات نہیں پائے گا۔ مرید اپنے مرشد کے ہاتھ میں ایسا ہی ہے جیسے مردہ، غسال کے ہاتھ میں۔ ہم صوفیا کو اپنے مریدوں کی تربیت اس نہج پر کرتے دیکھتے ہیں کہ شیخ کے کہے ہوئے سے ہٹنا محال ہے، ’’کیوں‘‘ کا سوال بغاوت ہے۔ صوفیا کے حلقوں میں اس نہج تربیت سے مریدوں کی فوج میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ علما ومفکرین کی بھی اسی طرح روایتی تقلید ہونے لگتی ہے، اس محدود فکر سے نکلنا محال ہو جاتا ہے، فکر اور اس کی تعبیر میں کھینچی ہوئی لکیروں سے باہر نکلا نہیں جا سکتا۔ اگر کوئی ایسا کر گزرے تو اسے مخالفت کے شدید حملوں کا نشانہ بننا پڑتاہے۔

آپ کو تعجب ہوگا کہ دعوت اسلامی کے ایک زعیم علامہ ڈاکٹر مصطفی السباعیؒ کو بھی ایک مرتبہ ایسی ہی منفی اور شدید صورت حال سے دوچار ہونا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اسلامی نظام عدل کو ’’الاشتراکیۃ الاسلامیۃ‘‘ کا نام دے دیا تھا۔ بہت سے لوگوں کو لفظ اشتراکیت میں کشش محسوس ہوتی ہے اور بہت سے اس سے الرجک ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اسلام اپنے اندر سرمایہ داری کا رنگ رکھتا ہے۔

اسی طرح ایک اور مسلمان مصنف نے ایک رسالے کے پہلے شمارے کے لیے فرمائشی مضمون لکھا، اس میں اس نے ’’بائیں بازو کے مسلمانوں‘‘ کی اصطلاح استعمال کر دی۔ ایسا اس نے اس رجحان کے رد میں کیا تھا کہ لوگ عام طور پر دعوت اسلامی کو ’’دائیں بازو‘‘ کی صف میں گنتے ہیں اور اس کا تعلق سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی افکار کے تتبع سے قائم کرتے ہیں چنانچہ ہوا یہ کہ اس صاحب قلم کی تحریر پر شدید رد عمل ظاہر کیا گیا۔

میں ذاتی طور پر نہ دائیں بازو کی اصطلاح سے اتفاق کرتا ہوں نہ بائیں بازو کی لیکن میراموقف یہ ہے کہ اہل فکر ونظر اور صاحبان علم سے اجتہاد کا حق نہ چھینا جائے۔ محض اختلاف رائے کے نتیجے میں انہیں اتہامات اور برے بھلے کلمات کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ آج ان کی رائے مسترد کر دی جائے لیکن آنے والے دور میں وہی رائے مقبول قرار پائے۔ میرے خیال میں مجتہد اللہ تعالیٰ کے ہاں مستحق اجر ہوتا ہے خواہ اس کی اجتہادی رائے صحیح ہو یا غلط۔ خلوص نیت شرط ہے۔

ایک رسالے نے ایک بڑے مسلم مصنف سے کچھ مقالات لکھنے کی درخواست کی۔ انہوں نے ایک مقالہ لکھ کر بھیجا جس میں یہ رائے درج تھی کہ اسلامی نظام کے تحت ایک سے زیادہ اسلامی جماعتوں کا قیام جائز ہے۔ ادارے کی رائے اس سے مختلف تھی چنانچہ ان کا وہ مقالہ شائع نہ ہو سکا کیونکہ وہ لا حزبیۃ فی الاسلاموالے روایتی فلسفے کے علی الرغم رائے کا حامل تھا۔ 

دعوتی عمل سے منسلک ایک بزرگ کو ایک مرتبہ دعوت کے لیے پانچ سالہ خاکہ تیار کرنے پر لگایا گیا۔ انہوں نے اس کی تیاری میں یہ اہتمام کیا کہ مختلف اطراف سے تبادلہ خیال کیا۔ دعوت اسلامی سے خائف مخالف دھڑوں سے، مغرب کے اہل فکر مستشرقین سے، اہل کتاب کے مذہبی رہنماؤں سے، سیاسی مدبروں، سفیروں وغیرہ سے مختلف مواقع پر تبادلہ خیال کر کے کام کا نقشہ وضع کیا۔ اس تبادلہ خیال سے ان کی غایت اسلام کے بارے میں معاندین کی پرانی سوچ کو بدلنا تھا کہ مسلمان وحشی انسانوں کے غول ہیں اور تحریک اسلامی دہشت گردی اور تشدد کی علامت ہے۔ وہ سوچتے تھے کہ دوسرے آسمانی ادیان کے ساتھ پرامن طور پر زندگی گزارنے کے لیے مفاہمت کی فضا پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ مسلمان اپنے اپنے وطن میں اپنی شریعت اور عقیدے کے مطابق خود مختارانہ انداز میں رہیں بسیں اور مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے معاملات میں مزاحم نہ ہوں۔ لیکن ہوا یہ کہ بزرگ کی جملہ آرا وتجاویز کو نہ صرف رد کر دیا گیا بلکہ تضحیک وتمسخر کا نشانہ بنایا گیا اور کہنے والے نے کہا کہ شیخ بڑے ’’ترقی پسند‘‘ بن گئے ہیں۔

موجودہ فضا میں دین دار عوام کی سخت رائے اور سنگین لب ولہجہ مروجہ سکہ بن گیا ہے جس کا معاملات کی مارکیٹ میں خوب چلن ہے۔ سخت موقف ہی کے ذریعے سے اس منڈی میں سودے طے پاتے ہیں۔ سختی، تیزی، تندی اور تشدد کو قبولیت عامہ حاصل ہو گئی ہے۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ امت میں بگاڑ اور انحراف علم کے اقتدار کی تنخواہ داری میں چلے جانے اور عالموں کے مقتدرین کے اتباع کے باعث پیدا ہوا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ عوامی خواہشات کا اتباع، سلاطین کی مرضی کا پابند ہونے سے بھی زیادہ خطرناک نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ سلاطین کی پیروی واطاعت کرنے والے کبھی بے نقاب ہو کر رد کر دیے جاتے ہیں جبکہ عوام کی خواہشات میں تنکے بن کر چلنے والے وہ باطل ہوتے ہیں جو رائے عامہ کے زور سے سچ اور حق ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔

بیسیویں صدی کے چھٹے عشرے میں ایسی متشدد فکر غالب رہی۔ ان حالات کا نتیجہ تجزیہ نگاروں سے مخفی نہیں۔ دعوت اور سوسائٹی میں ایک دیوار کھڑی ہو گئی۔ جاہلیت مطلقہ نے اسی تشدد کو جواز بنا کر اسے نیچا دکھانے میں اپنا پورا زور صرف کیا۔ اس عرصے میں اسی پرتشدد اور سخت رجحان کے تحت کفر کے فتوے جاری کرنے میں بڑی فراخ دلی کا ثبوت سامنے آیا۔ مسلم عوام کو لا الٰہ الا اللہ کا مطلب نہ جاننے اور حاکمیت الٰہ کا تصور نہ رکھنے کے باعث کافر ٹھہرایا گیا۔ وقت کے اہم مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے فقہی اجتہاد پر پابندی رہی، اسلامی فقہ کی تجدید کے تصور کا مذاق اڑایا گیا۔ پہلا قدم عقیدے کو ٹھہرا کر عوام کے لیے اسلامی نظام کا مکمل نقشہ تیار کرنے کو غیر ضروری خیال کیا گیا۔ کہا گیا کہ پہلے عقیدے کو قبول کیا جائے، نظام کی بات بعد میں ہوگی۔ اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی کے حقائق پیش کرنا ثانوی امر ہے۔

جدید تحریک اسلامی کے ضعف کے یہ چند نکات تھے جو میں نے اللہ کی پکڑ کے احساس کے تحت پیش کیے ہیں۔ مقصد اصلاح وتعمیر ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تحریک کے بعض متعلقین اس تنقیدی جائزے پر سخت چیں بچیں ہوں گے۔ اسی طرح تحریک کے مخالفین بھی اسے غنیمت سمجھ کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے اور تحریک اسلامی اور اس کے مقاصد کے ہی نہیں، خود اسلام کے بارے میں بھی غلط فہمیوں کا غبار اٹھانے کی سعی کریں گے۔

(ترجمہ: منیر احمد خلیلی)


اسلامی تحریکات اور حکمت عملی