مولانا سعید احمد عنایت اللہ

کل مضامین: 2

دو قومی نظریہ نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے

ایک ہی آدم حوا کی اولاد، ایک علاقہ کے باسی، ایک ہی بولی بولنے والے، ایک ہی رنگ و نسل بلکہ ایک ہی شکمِ مادر سے پیدا ہونے والے دو افراط کو نظریہ اور عقیدہ دو قومیں بنا دیتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ’’اللہ تعالیٰ کی بزرگ و برتر ذات نے تم کو پیدا کیا، تم میں کوئی مومن ہے کوئی کافر‘‘ (التغابن)۔ اسلامی اور غیر اسلامی عقیدہ کے حامل دو اشخاص کا دو قومیت میں تقسیم ہونا خدائی عمل ہے۔ ظاہر ہے کہ ایمان و توحید کے حامل کا قلب و کردار و اعمال و طبیعت و افتاد الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں ایک مومن غیر مومن سے مختلف ہے۔ اس لیے کہ مومن کے لیے محور تو ذات حق تعالٰی ہے...

حدودِ شرعیہ کی مخالفت - فکری ارتداد کا دروازہ

اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود اور بھیانک معاشرتی جرائم، ڈکیتی، بدکاری، شراب نوشی اور قذف وغیرہ پر جو شرعی سزائیں خالقِ بشر نے مقرر فرمائی ہیں وہ پوری کائنات کے لیے سراسر رحمت ہیں۔ انسانی معاشرے میں قیامِ امن اور بشریت کی ہر دو صنف مرد و زن کی عزت و عصمت، ان کے مال و جان کی حفاظت کی ضامن ہیں، بلکہ انسانیت کے مقامِ شرافت و کرامت کی کفیل یہی حدود اللہ ہیں جن کے مبارک ثمرات کا اولین نتیجہ انسانوں کے اس دنیا میں مکمل تحفظ کی صورت میں ملتا ہے۔ ان سراپائے رحمت حدود کو دہشت گردی گرداننا کفرانِ نعمت اور صرف خدا رسول سے ہی بیزاری کا اعلان نہیں بلکہ انسانیت...
1-2 (2)