ڈاکٹر محی الدین غازی

کل مضامین: 113

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۹)

(471) المتقین کا ترجمہ: درج ذیل دونوں آیتوں میں متقین کا ترجمہ صاحب تدبر نے ’نقض عہد سے بچنے والوں‘ کیا ہے۔ یہ ترجمہ موزوں نہیں ہے۔ متقی قرآن کی معروف اصطلاح ہے۔ تقوی اختیار کرنے یعنی اللہ کی ناراضگی سے بچنے والے کو متقی کہتے ہیں۔ عہد کی پاس داری کرنا اور عہد شکنی سے بچنا تقوی کا ایک تقاضا تو ہے لیکن تقوی کااصل مفہوم عہد شکنی نہیں ہے۔ تقوی کا یہ تقاضا تفسیر میں بتایا جاسکتا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ ہو: (۱) فَأَتِمُّوا إِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلَی مُدَّتِہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ۔ (التوبۃ: 4)۔ ”سو ان کے معاہدے ان کی قرار دادہ مدت تک...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۸)

(464) إِذَا لَہُمْ مَکْرٌ فِی آیَاتِنَا: إِذَا فجائیہ کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے بعد والی بات اس سے پہلے والی بات کے فورًا بعد پیش آئے۔ البتہ اس بات میں تحیر کا پہلو غالب رہتا ہے۔ درج ذیل آیت میں بھی إِذَا کا ترجمہ ’فورًا‘ موزوں نہیں ہوگا۔ یعنی یہ بات تو حیرت انگیز طور پر افسوس ناک ہے کہ لوگ تکلیف سے نجات پاکر جب اللہ کی رحمت سے ہم کنار ہوتے ہیں تو شکر گزار بننے کی بجائے اللہ کی آیتوں میں چال بازیاں شروع کردیتے ہیں۔ لیکن یہ بات اس لفظ میں شامل نہیں ہے کہ وہ یہ کام فوراً کرتے ہیں۔ کچھ ترجمے ملاحظہ فرمائیں: وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً‌...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۷)

(455) کفرہ اور کفر بہ میں فرق: قرآن مجید میں کفر بہ تو کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ اکثر جگہوں پر انکار کے معنی میں اور کہیں کہیں ناشکری کے معنی میں۔ جب کہ کفرہ چند مقامات پر آیا ہے۔ دونوں کے درمیان فرق کا ذکر ہمیں عام طور سے نہیں ملتا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کفرہ اور کفر بہ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کفر کے بعد اگر باء نہ ہو تو کفر انکار کا معنی نہیں بلکہ ناشکری کا معنی دیتا ہے۔ حدیث میں لتکفرن العشیر ناشکری کے معنی میں آیا ہے۔ قرآن کی درج ذیل آیت میں عام طور سے کفر کا ترجمہ ناشکری کیا گیا ہے، کیوں کہ واضح طور پر شکر کے سیاق میں بات ہورہی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۶)

(440) أُوفِی الْکَیْلَ: أَلَا تَرَوْنَ أَنِّی أُوفِی الْکَیْلَ۔(یوسف: 59)۔ ”کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں“۔ (احمد رضا خان)۔ ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں“۔ (فتح محمد جالندھری)۔ ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ ”کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں سامان کی ناپ تول بھی برابر رکھتا ہوں“۔ (ذیشان جوادی)۔ ”دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں“۔ (سید مودودی)۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ درج بالا آیت میں أُوفِی الْکَیْلَ سے ناپ تول میں کمی نہیں کرنا اور پورا ناپ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۵)

(431) شَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا: شھد شاھد کا ترجمہ کچھ لوگوں نے فیصلہ کرنا اور زیادہ تر لوگوں نے گواہی دینا کیا ہے۔ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ أَہْلِہَا۔ (یوسف: 26)۔ ”اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا“۔ (فتح محمد جالندھری)۔ ”اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی“۔ (سید مودودی)۔ ”اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی“۔ (احمد رضا خان)۔ ”اور عورت کے قبیلے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ شھد کے معنی فیصلہ کرنے کے نہیں آتے، گواہی دینے کے آتے ہیں لیکن اس شخص نے مشاہدہ نہیں کیا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۴)

(423) وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کا ترجمہ: درج ذیل آیت میں بعض لوگوں نے وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ گویا وہ اسے حال مان رہے ہوں۔ ایسی صورت میں یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جن پر اللہ صواعق بھیجتا ہے وہ اللہ کے بارے میں جدال میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب کہ یہ ضروری نہیں ہے۔ بجلیاں تو کسی پر بھی کسی بھی حالت میں گرسکتی ہیں۔ صحیح مفہوم تک پہنچنے کے لیے وَہُمْ یُجَادِلُونَ فِی اللَّہِ کو حال نہیں بلکہ نیا جملہ ماننا ہوگا۔ یعنی اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے کرشموں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بات کہی کہ ایک طرف اللہ کی قدرت کے یہ زبردست...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۳)

(418) فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ: یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ۔ (ابراہیم: 27)۔ ”ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے“۔ (سید مودودی، القول کا ترجمہ ’ایک‘ قول نہیں ہوگا، قول ثابت ترجمہ کیا جائے گا)۔ ”اللہ تعالی ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ کی برکت) سے دنیا اور آخرت میں مضبوط رکھتا ہے“۔ (اشرف علی تھانوی)۔ ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے“۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۲)

(416) بلاء کا ترجمہ قرآن مجید میں ب ل و کے مادے سے مشتق ہونے والے بہت سے صیغے آئے ہیں، یہاں خاص لفظ بلاء کے مفہوم پر گفتگو مقصود ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جہاں بھی آیا ہے وہاں انعامات کا تذکرہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہاں آزمائش کا بھی ذکر ہے، لیکن اصل سیاق آزمائشوں کے بیان کا نہیں بلکہ آزمائشوں کے حوالے سے انعامات کے بیان کا ہے۔ زیادہ تر یہ لفظ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے بچانے کے حوالے سے آیا ہے۔ایسی ہر جگہ ظلم کو فرعون کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور بلاء کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اس لیے یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے کہ فرعون کے ظلم کو اللہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۱)

(409) وَزَیَّنَّاہَا لِلنَّاظِرِینَ: سورۃ الحجر کی درج ذیل آیتوں میں زَیَّنَّاہَا اور حَفِظْنَاہَا دونوں ہی میں مفعول بہ ضمیر ’ھا‘ کی صورت میں ہے۔ نحوی لحاظ سے اس ضمیر کا مرجع السماء بھی ہوسکتا ہے اور بروجاً بھی۔ اول الذکر صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کو مزین کیا اور آسمان کو شیطانوں سے محفوظ کیا، جب کہ ثانی الذکر صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ برجوں کو مزین اور شیطانوں سے محفوظ کیا۔ سورۃ الصافات میں صراحت کردی گئی ہے کہ مزین و محفوظ آسمان کو کیا ہے: إِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِزِینَۃٍ الْکَوَاکِبِ۔ وَحِفْظًا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰۰)

(405) طیِّب کا ترجمہ: طیب اور خبیث ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ طیب کے معنی پاک کے بھی ہیں اور عمدہ و خوش گوار کے بھی ہیں۔ اہل لغت طاب کا معنی لذّ و زکا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی لذیذ اور پاکیزہ۔ اس لفظ میں وسعت پائی جاتی ہے۔ ابن منظور رقم طراز ہیں: أَرضٌ طَیِّبة اس زمین کو کہتے ہیں جو زراعت کے لیے سازگار ہو۔ رِیحٌ طَیِّبَةٌ اس ہوا کو کہتے ہیں جو نرم ہو شدید نہ ہو۔ طُعْمة طَیِّبة حلال لقمے کو کہتے ہیں۔ امرأَةٌ طَیِّبة عفیف وپاک دامن خاتون کو کہتے ہیں۔ کلمةٌ طَیِّبة ایسی بات کو کہتے ہیں جس میں کوئی ناپسندیدہ امر نہ ہو۔ بَلْدَة طَیِّبة اس بستی کو کہتے ہیں جو خوش...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۹)

(400) لَنُبَوِّئَنَّہُمْ کا ترجمہ: درج ذیل دو آیتوں کے ترجموں میں کچھ قابل توجہ امور ہیں۔ وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا فِی اللَّہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَۃِ أَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ۔ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ۔ (النحل:41-42)۔ پہلا ترجمہ: ”اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی بعد اس کے کہ ان پر ظلم ڈھائے گئے، ہم ان کو دنیا میں بھی اچھی طرح متمکن کردیں گے اور آخرت کا اجر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش وہ جانیں۔ (یہ ان مہاجرین کے لیے ہے) جنھوں نے استقامت...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۸)

(398) تنزیلا کا ترجمہ: قرآن مجید میں کتابیں نازل کرنے کے لیے باب تفعیل سے تنزیل اور باب افعال سے انزال، دونوں ہی تعبیریں آئی ہیں۔ کیا ان دونوں میں فرق ہے یا یہ مترادف اور ہم معنی ہیں؟ زمخشری نے ان دونوں کے درمیان فرق یہ کیا ہے کہ تنزیل تھوڑا تھوڑا کرکے قسطوں میں نازل کرنے کے لیے ہے جب کہ انزال یک بارگی نازل کرنے کے لیے ہے۔ درج ذیل دونوں آیتوں کے تحت وہ اس فرق پر زور دیتے ہیں: نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِیلَ۔(آل عمران: 3)۔ ”اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۷)

استمع کا معنی کان لگا کر غور سے سننا ہے۔یہ عام طور سے کسی صلے کے بغیر راست مفعول بہ کے ساتھ آتاہے۔ جیسے: یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ (الاحقاف: 29)یا پھر کبھی لام آتا ہے، جیسے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ (الاعراف: 204) یہ لام تاکید کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں یستمعون کے ساتھ بہ آیا ہے۔ اس لیے یہاں سننے کی غرض مراد ہے۔ معنوی لحاظ سے بھی یہ بات تو قابل ذکر نہیں ہے کہ وہ کیا سنتے ہیں، ظاہر ہے جو کلام سنایا جارہا ہے وہی سنتے ہیں، اس لیے بھی کہ وہ خود کان لگاکر توجہ سے سنتے ہیں۔ قابل ذکر بات دراصل یہ ہے کہ وہ کس غرض سے سنتے ہیں۔ بتایا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۶)

(383) لیل اور لیلة میں فرق: لیلة ایک رات کے لیے جب کہ لیل رات کے لیے آتا ہے۔ درج ذیل آیت میں لَیْلًا ہے جس کا ترجمہ ایک رات نہیں بلکہ راتوں رات کیا جائے گا۔ سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ۔ (الاسراء: 1) ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی“۔ (امین احسن اصلاحی) ”پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے“۔ (سید مودودی)...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۵)

(374) موعد کا ترجمہ۔ موعد، وعد سے مشتق ہے، لیکن اس میں ہمیشہ وعدے کا مفہوم نہیں ہوتا ہے، کبھی موعد صرف وقت مقررہ کے لیے بھی آتا ہے۔ درج ذیل آیتوں میں موعد وقت مقررہ کے معنی میں ہے نہ کہ وعدہ کیے ہوئے وقت کے معنی میں: (۱) بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَکُمْ مَوْعِدًا. (الکہف: 48) ”بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے“۔ (احمد رضا خان) ”بلکہ تم نے گمان کیا کہ ہم تمہارے حساب کے لیے کوئی یوم موعود نہیں مقرر کریں گے“۔ (امین احسن اصلاحی) ”لیکن تم تو اسی خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۴)

(366) لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔ لِیُنْذِرَ بَأْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ۔(الکہف: 2)۔ ”تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ ”تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ ان دونوں ترجموں میں لِیُنْذِرَ کا فاعل اللہ تعالی کو مانا گیا ہے۔ قرآن مجید کے استعمالات دیکھیں تو یہ کام ہر جگہ رسول اور کتاب کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ صحیح توجیہ یہ لگتی ہے کہ لِیُنْذِرَ کا فاعل پیچھے مذکور عبد یا کتاب ہے، اور لَدُنْہُ کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مزید یہ کہ لَدُنْہُ کا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۳)

(359) وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ (مریم: 46)۔ ”تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور اور دفع ہو!“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ ”جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ ”بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا“۔ (سید مودودی)۔ عام طور سے لوگوں نے ملیا کو زمانا (محذوف) کی صفت مانا ہے۔ لیکن لفظی ترکیب سے قریب تر یہ ہے کہ ملیا کو ھجر کی صفت مانا جائے جو مفعول مطلق ہے۔اس صورت میں ھجر کی طوالت کا نہیں بلکہ اس کی شدت و زیادتی کا اظہار ہے۔ یعنی پورے طور پر دور ہوجاؤ یا بالکل دور ہوجاؤ۔ ابن عاشور لکھتے ہیں: وہذہ المادۃ تدل علی کثرۃ الشیء.(تفسیر التحریر...

قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟

راقم کامضمون”قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟“ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان کے شمارہ جولائی 2022 میں شائع ہوا۔ اس پر ہمارے دوست ڈاکٹر عرفان شہزاد کا نقد ماہنامہ الشریعہ کے شمارہ ستمبر 2022 میں شائع ہوا۔ یوں تو ہمارا موقف پوری وضاحت کے ساتھ آچکا ہے، اور جو باتیں اس نقد میں کہی گئی ہیں ان کی بھی وضاحت موجود ہے، کیوں کہ ان کے مضمون کا بیشتر حصہ غامدی صاحب کے نکات کا اعادہ ہے۔ تاہم شہزاد صاحب کے اٹھائے گئے کچھ نکات کا جواب دینا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ شہزاد صاحب نے ہمارے نقد کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے: ”غازی صاحب کے نقد کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۲)

(353) وَلَمْ أَکُنْ کا ترجمہ: وَلَمْ أَکُنْ بِدُعَائِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔(مریم: 4) ”لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا“۔ (محمد جوناگڑھی) ”اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا“۔ (فتح محمد جالندھری) درج بالا آیت میں لَمْ أَکُنْ کو عام طور سے ماضی کے معنی میں لیا گیا ہے۔ یعنی اس سے پہلے میں کبھی دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ اس کا حال کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے اور وہ زیادہ مناسب ہے۔ یعنی مجھے یقین ہے کہ میری دعا رد نہیں کی جائے گی۔ لم أکن جس طرح ماضی کے لیے آتا ہے اسی طرح حال...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۱)

(346) الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی۔ تَنْزِیلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَی۔ الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی۔(طہ: 4، 5) ”یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہے“۔ (امین احسن اصلاحی) اس ترجمے میں ’جو رحمان‘ درست نہیں ہے۔ یا تو کہیں ’جو رحمان ہے‘، یا کہیں ’رحمان جو۔۔۔‘ کیوں کہ رحمان تو صرف خدا کی ذات ہے، ایک سے زیادہ رحمان تو ہیں نہیں۔ یہاں خالق کی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ رحمن ہے اور دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ وہ عرش پر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹۰)

(342) بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ۔ درج ذیل آیت میں بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ کا مندرجہ ذیل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں: بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ۔ (الانبیاء: 5)۔ ”وہ کہتے ہیں: بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے“۔ (سید مودودی)۔ "They say: Nay, these are confused dreams; nay, he has forged it; nay, he is a poet. So let him bring us a sign, even as the Messengers of the past were sent with signs."...

قانونِ دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟

دین کی دعوت دینے والوں کو اسیر ومحصور کرنے کا سلسلہ تو ہمیشہ سے جاری رہا ہے، لیکن خود دعوت کو پابند سلاسل کرنے کا ایک نیا آئیڈیا ابھی سامنے آیا ہے۔ یہ آئیڈیا ہمیں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ غامدی صاحب نے قانونِ دعوت کے نام سے اپنی کتاب میزان میں ایک باب باندھا ہے اور اس میں دعوت کی اتنی قسمیں کی ہیں، اور ہر قسم کو اس طرح الگ الگ دائروں میں محصور کیا ہے، کہ امت مسلمہ کے عام فرد کے لیے دعوت کا میدان بہت چھوٹا اور قدرے غیر اہم ہوکر رہ جاتا ہے۔ غامدی صاحب دعوت کے بہت بڑے حصے کو بنی اسماعیل کے لیے خاص کردیتے ہیں، ایک حصہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۹)

(336) فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَیْہِ: درج ذیل آیت کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین کو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کا اثر ترجموں میں بھی نظر آتا ہے۔ وَذَا النُّونِ إِذ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَیْہِ۔ (الانبیاء: 87) ”اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصے سے لڑکر پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے“۔ (شاہ عبدالقادر) ”اور مچھلی والے پیغمبر (یعنی یونس علیہ السلام) کا تذکرہ کیجیے، جب وہ اپنی قوم سے خفا ہوکر چل دیے اور انھوں نے یہ سمجھا کہ ہم ان پر اس چلے جانے میں کوئی دار و گیر نہ کریں گے“۔ (اشرف علی تھانوی، دار و گیر کرنا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۸)

(324) عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ۔ درج ذیل جملے میں عَمَّا أَرْضَعَتْ کا ترجمہ ’اپنے دودھ پیتے بچے‘ کیا گیا ہے، لیکن اس نکتے کی طرف عام طور سے دھیان نہیں گیا کہ أَرْضَعَتْ فعل ماضی ہے مضارع نہیں ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہیے: یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ.(الحج: 2) ”جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی“۔ (سید مودودی) ”جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی“۔ (احمد رضا خان) ”جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۷)

(318) ایواء کا مطلب۔ آوی یؤوی ایواء کا اصل مطلب ٹھکانا فراہم کرنا ہوتا ہے۔ البتہ جب کسی دشمن یا کسی خطرے سے بچاؤ کا موقع ہو تو پناہ دینا بھی اس لفظ کے مفہوم میں شامل ہوجاتاہے۔ اس لیے اگر موقع پناہ کا نہیں ہو تو ایواء کا ترجمہ ’ٹھکانا دینا‘کیا جائے گا۔ اس حوالے سے درج ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے: (۱) وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَأُمَّہُ آیة وَآوَیْنَاہُمَا إِلَیٰ رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ۔(المومنون: 50)۔ اس آیت میں آوَیْنَاہُمَا کہہ کر ٹھکانا فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ پناہ دینے کی۔ اس آیت میں اس انتظام کی طرف اشارہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۶)

(306) فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ۔ درج ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں: لَّوْلَا جَاءُ وا عَلَیْهِ بِأَرْبَعةِ شُہَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوا بِالشُّہَدَاءِ فَأُولَٰئِکَ عِندَ اللَّہِ ہُمُ الْکَاذِبُونَ۔ (النور: 13)۔ ”آخر یہ لوگ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے؟ تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو لازما اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹے ہیں“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ ”اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب گواہ نہ لائے تو وہی اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں“۔ (احمد رضا خان)۔ ان ترجموں سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کے جھوٹے ہونے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۵)

(298) ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ۔ تذکیر کا مطلب یاد دلانا ہوتا ہے، یہ یاد دہانی سمع اور بصر دونوں راستوں سے ہوسکتی ہے، کتابِ وحی کی آیتوں کو سنا کر بھی اور کتابِ کائنات کی نشانیوں کو دکھا کر بھی۔ درج ذیل آیت میں تذکیر اپنے اسی وسیع مفہوم میں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آگے صُمًّا وَعُمْیَانًا آیا ہے۔ صم کا مطلب بہرے اور عمیان کا مطلب اندھے ہے۔ سنائی جانے والی تذکیر یعنی آیاتِ وحی کی تکذیب کرنے پر بہرے کہا گیا اور دکھائی جانے والی تذکیر یعنی کائنات کی نشانیوں کا انکار کرنے پر اندھا کہا گیا۔ بعض لوگوں نے تذکیر کا ترجمہ سنانا کیا ہے جو موزوں نہیں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۴)

(291) استثناء منقطع کی ایک مثال: سورۃ الشعراء کی درج ذیل آیتوں میں جن دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے، انھیں عام طور سے شعرا کے دو گروہ مان کر تفسیر کی گئی ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کرتے ہوئے الّا کا ترجمہ استثناء متصل والا کیا گیا ہے۔اس ترجمہ و تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں عام شعرا کی مذمت کی گئی ہے اور ایمان والے شعرا کو ان سے مستثنی کیا گیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ شعرا کے دو گروہوں کا ذکر نہیں ہے، بلکہ متبعین کے دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک گروہ شاعروں کے متبعین کا ہے اور دوسرا گروہ ایمان لانے والوں یعنی اللہ کے رسول کے متبعین کا ہے۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۳)

(285) تِسْعَةُ رَہْطٍ کا ترجمہ۔ قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں تِسْعَة رَہْطٍ آیا ہے۔ رھط اور نفر قریب قریب ہم معنی الفاظ ہیں۔ بخاری اور مسلم میں مذکور حدیث میں بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کے واقعہ میں ثلاثة نفر کے الفاظ آئے ہیں، جس کا مطلب تین آدمی ہے، اسی طرح تِسْعَة رَہْطٍ کا مطلب نو آدمی ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے تِسْعَة رَہْطٍ کا مطلب نو گروہ یا نو خاندان مان کر ترجمہ کیا۔ یہ درست نہیں ہے۔ وَکَانَ فِی الْمَدِینَةِ تِسْعَةُ رَہْطٍ یُفْسِدُونَ فِی الْأَرْضِ وَلَا یُصْلِحُونَ۔(النمل: 48)۔ ”اُس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۲)

(280) خاطؤون کا ترجمہ۔ خطأ کے معنی غلطی کے ہوتے ہیں، ایک فیصلے اور تدبیر کی غلطی ہوتی ہے جسے چوک کہا جاتا ہے۔ اور ایک گناہ اور جرم والی غلطی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں چوک ہوجانے کے لیے باب افعال سے أخطأ آیا ہے۔ جیسے وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیمَا أَخْطَأْتُم بِہِ وَلَٰکِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُکُمْ (الاحزاب: 5) ”تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں“۔(محمد جوناگڑھی) قرآن مجید میں لفظ خطأ ثلاثی مجرد سے اسم فاعل جمع مذکر کی صورت میں پانچ جگہ آیا ہے۔ چار جگہ لوگوں نے خطاکار اور گناہ گار ترجمہ کیا ہے، جب کہ پانچویں جگہ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۱)

(273) أَن یَقُولُوا آمَنَّا۔ درج ذیل آیت کا ترجمہ دیکھیں: أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ۔ (العنکبوت: 2) ”کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے“ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟“۔ (سید مودودی) ”کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی“۔ (احمد رضا خان) ”کیا لوگ یہ خیال کیے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی“۔ (فتح محمد جالندھری)...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸۰)

(266) وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا: وَمَا آتَیْتُم مِّن رِّبًا لِّیَرْبُوَ فِی اََمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ وَمَا آتَیْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ اللَّہِ فَاَُولَئِکَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ۔ (الروم: 39)۔ ’’جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)۔ ’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۹)

(263) اف کا ترجمہ۔ عربی میں لفظ اف دراصل منھ سے نکلنے والی ایک آواز ہے، جس سے کسی چیز یا بات سے بیزاری اور ناگواری کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر زبان میں اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں۔ زمخشری کے بقول: اُفٍّ صوت اذا صوّت بہ علم انّ صاحبہ متضجر (الکشاف)۔ سورة الاسراءآیت 23 کا ترجمہ کرتے ہوئے تمام لوگوں نے اف کا ترجمہ اف کیا ہے۔ لیکن دوسری دو آیتوں میں اس کا ترجمہ بہت سے لوگوں نے تف کیا ہے۔ تف کا لفظ اف کے مقابلے میں بہت زیادہ سخت ہے اور اس کی معنوی جہت دوسری ہے۔ عربی میں یہ لفظ تھوک کے معنی میں آتا ہے۔ اردو میں اس کے معنی ہیں: تھوک، لعنت، ملامت، کلمہ نفریں (فرہنگ آصفیہ)۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۸)

(259) سلفًا اور آخِرین کا ترجمہ۔ فَجَعَلنَاہُم سَلَفاً وَمَثَلاً لِلآخِرِینَ ۔ (سورة الزخرف: 56)۔ ”اور ان کو ماضی کی ایک داستان اور دوسروں کے لیے ایک نمونہ عبرت بنادیا“۔ (امین احسن اصلاحی)۔ خ پر زبر کے ساتھ آخَر کا مطلب ہے: دوسرا، جب کہ خ کے نیچے زیر والے آخِر کا مطلب ہوتا ہے: پچھلا یا بعد والا۔ عام طور سے حضرات مترجمین نے اس کا لحاظ کیا ہے۔ البتہ مذکورہ بالا آیت میں صاحب تدبر نے آخِرین کا ترجمہ دوسروں کردیا ہے جو غلط ہے۔ دیگر مترجمین نے درست ترجمہ کیا ہے خود صاحب تدبر نے دوسرے مقامات پر اس لفظ کا درست ترجمہ کیا ہے۔ سلف کا مطلب عام طور سے ماضی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۷)

درج ذیل آیت کے ترجموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھیں گے کہ کسی قول کے قائل کے تعین میں غلطی ہونے سے مفہوم اور اس سے نکلنے والے نتائج پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ اَوَمَن یُنَشَّاُ فِی الحِلیَةِ وَہُوَ فِی الخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ کو عام طور سے لوگوں نے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور پھر اس سے مختلف نتائج برآمد کیے ہیں، جیسے یہ کہ عورتیں ناقص جمال والی ہوتی ہیں اس لیے زیورات کے ذریعے ان کے اس نقص کو پورا کیا جاتا ہے، عورتیں ناقص عقل اور ناقص بیان والی ہوتی ہیں اسی لیے وہ بحث میں اپنی بات وضاحت سے اور دلیل کے ساتھ رکھ نہیں پاتی ہیں۔ عورتوں کے سلسلے میں ایسی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۶)

(248) ائتِیَا کا ترجمہ: ثُمَّ استَوَیٰ اِلَی السَّمَاءِ وَہِیَ دُخَان فَقَالَ لَہَا وَلِلاَرضِ ائتِیَا طَوعًا اَو کَرہًا قَالَتَا اَتَینَا طَائِعِینَ۔ (فصلت:11)- ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ”وجود میں آ جاو، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو“ دونوں نے کہا:ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح“۔ (سید مودودی، جب وجود ہی نہیں تھا تو حکم کیسے دیا جائے گا؟)- ”پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو طوعا یا کرہا۔ وہ بولے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۵)

(243) وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ کا ترجمہ۔ وَمَا کُنتُم تَستَتِرُونَ اَن یَشہَدَ عَلَیکُم سَمعُکُم وَلَا اَبصَارُکُم وَلَا جُلُودُکُمَ۔ (فصلت :22)۔ اس آیت کے حسب ذیل ترجمے کیے گئے ہیں: ”تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی“۔ (سید مودودی)۔ ”اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں“۔ (احمد رضا خان، گواہی سے بچنے کے لیے کہیں چھپ کر جانے کی بات یہاں نہیں ہے)۔ ”اور تم اس (بات کے خوف)...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۴)

(234) السیئات کا ترجمہ۔ سیئات اصل میں صفت ہے اس کا موصوف اگر اعمال ہوں تو برائیاں مراد ہوتی ہیں، اور اگر احوال ہوں تو بدحالیاں مراد ہوتی ہیں، درج ذیل آیت میں حسنات سے خوش حالیاں اور سیئات سے بدحالیاں مراد ہیں: وَقَطَّعنَاہُم فِی الاَرضِ اُمَماً مِّنہُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنہُم دُونَ ذَلِکَ وَبَلَونَاہُم بِالحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّہُم یَرجِعُون۔ (الاعراف: 168)۔ ”اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں“۔ (محمد جوناگڑھی)۔ جب کہ آگے درج کی گئی آیت میں بہت سے لوگوں نے سیئات کا ترجمہ برائیاں یا گناہوں کے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۳)

(225) القاسیة قلوبہم من ذکر اللہ کا ترجمہ: اَفَمَن شَرَحَ اللَّہُ صَدرَہُ لِلاِسلَامِ فَہُوَ عَلَیٰ نُورٍ مِّن رَّبِّہِ فَوَیل لِّلقَاسِیَةِ قُلُوبُہُم مِّن ذِکرِ اللَّہِ اُولَٰئِکَ فِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ۔(الزمر: 22)۔ “اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے، وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں”۔ (سید مودودی)۔ “تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۲)

لِلَّذِینَ اَحسَنُوا فِی ہَذِہِ الدُّنیَا حَسَنَة کا ترجمہ۔ یہ جملہ قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے۔ اس جملے میں ”فِی هَذِہِ الدُّنیَا“ کو اگر ”اَحسَنُوا“ سے متعلق مانیں گے تو ترجمہ ہوگا: جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لیے نیک بدلہ ہے۔اور ”فِی هَذِہِ الدُّنیَا“ کو اگر ”حَسَنَة“ کی خبر مقدم مانیں گے تو ترجمہ ہوگا: ”جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے اس دنیا میں نیک بدلہ ہے“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور سے اردو مترجمین نے دونوں جگہ الگ الگ ترجمہ کیا ہے: (1) وَقِیلَ لِلَّذِینَ اتَّقَوا مَاذَا اَنزَلَ رَبُّکُم قَالُوا خَیرًا لِّلَّذِینَ...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۱)

(221) علا یعلو کے مختلف صیغوں کا ترجمہ۔ علا یعلو کا مطلب ہے اوپر اٹھنا بلند ہونا، اس کا مصدر علو ہے اور اسم فاعل عال ہے۔ اس لفظ سے قابل تعریف مفہوم بھی نکلتا ہے اور قابل مذمت مفہوم بھی نکلتا ہے۔ خلیل فراہیدی کے مطابق: والعُلُوُّ العظمة والتجبّر. یقال: علا مَلِک فی الارض ای: طغَی وتعظّم۔ (العین)۔ اس لفظ کے استعمالات بتاتے ہیں کہ اس کا اطلاق دل کی کیفیت پر نہیں ہوتا ہے، بلکہ واقعی عمل اور حالت پر ہوتا ہے۔ یعنی کسی کے دل میں یہ احساس ہو کہ وہ سب سے اونچا ہے تو اس کے لیے علو نہیں استعمال ہوگا، اور اگر کوئی اونچا ہو، یا اونچا بننے کی کوشش کررہا ہو تو...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷٠)

(219) سورة الصافات کی قسموں کا ترجمہ۔ سورة الصافات کے شروع میں تین صفتوں کو مقسم بہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان صفتوں کا موصوف ایک ہی ہے یا الگ الگ ہیں، اس سلسلے میں مختلف رائیں ہیں، تاہم مشہور رائے یہ ہے کہ موصوف ملائکہ یعنی فرشتے ہیں۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اسی سورہ کے آخر میں فرشتوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا گیا جس میں انھی صفات کو ترتیب اور الفاظ بدل کر ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا: وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ۔ (الصافات: 164-166) اہم بات یہ بھی ہے کہ شروع...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۹)

(218) اذا الفجائیۃ والے جملے کا ترجمہ: اذا کی ایک قسم وہ ہے جسے اذا فجائیہ کہا جاتا ہے، یہ درست ہے کہ اس کا نام فجائیہ ہے، اذا میں ایک طرح کا تحیر کا عنصر تو پایا جاتا ہے، لیکن اس کے مفہوم میں ضروری نہیں ہے کہ اچانک واقع ہوجانے کا مفہوم بھی ہو۔ شاعر کہتا ہے: ’’کم تمنیت لی صدیقا صدوقا، فاذا انت ذلک المتمنی‘‘ (میں نے ایک سچے دوست کی کتنی تمنا کی تھی، تو ایسا ہوا کہ تم وہ ہوئے جس کی میں نے تمنا کی تھی)۔ یہاں تحیر آمیز مسرت ہے تو ہے، مگر یکایک ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ کبھی اذا کے بعد مذکور بات یکایک اور فورا پیش آنے والی بات بھی ہوسکتی ہے، ایسی صورت...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۸)

(214) زاد کے ایک خاص اسلوب کا ترجمہ۔ زاد کا ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ اس کا مفعول آتا ہے اور اس کے بعد تمیز مذکور ہوتی ہے، زاد کا مطلب اضافہ کرنا ہوتا ہے مگر اس اسلوب میں زاد کے مفعول بہ میں اضافہ کرنا مراد نہیں ہوتا ہے بلکہ تمیز میں اضافہ کرنا مراد ہوتا ہے۔ جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے زادہ اللہ علما ومالا، تو اس کا مطلب اس فرد کی ذات میں کوئی اضافہ یا ترقی نہیں بلکہ اس کے علم اور مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی اللہ اس کے علم اور مال میں اضافہ کرے، نہ کہ خود اس شخص میں اضافہ کرے، اگرچہ زاد کا مفعول بہ وہ شخص ہوتا ہے، لیکن اس سے مراد اس چیز میں اضافہ ہوتا...

امت میں غوروفکر کی بازیافت

قرآن مجید میں یعقلون اور یومنون (عقل سے کام لینے اور ایمان لانے)کو ایک جیسے سیاق میں بار بار استعمال کیا گیا ہے،اس سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں ایک ہی قبیل کے امر ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل دونوں قرآنی جملوں پر غور کریں: انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یومِنُونَ۔(الروم:37)۔ (بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے)۔ انَّ فِی ذَلِکَ لَآیاتٍ لِقَومٍ یعقِلُونَ۔(الروم:24)۔ (بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے)۔ یہی نہیں، عقل کے جن اعمال کا قرآن مجیدمیں ذکر ہے، جیسے یفقہون، یتدبرون، یتفکرون، یتذکرون، یعلمون،وغیرہ اور...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۷)

(213) لو کے بعد فعل مضارع کا ترجمہ۔ لو کبھی مصدریہ بن کر آتا ہے جیسے ودوا لو تدہن فیدہنون، یہ عام طور سے فعل ود کے بعد آتا ہے، یہ ابھی ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ لو کی مشہور قسم وہ ہے جسے حرف امتناع کہتے ہیں۔ لو برائے امتناع اور ان شرطیہ میں فرق یہ ہے کہ ان مستقبل کے لیے ہوتا ہے، خواہ اس کے بعد فعل ماضی آئے یا فعل مضارع، اور لو ماضی کے لیے ہوتا ہے خواہ اس کے بعد فعل ماضی آئے یا فعل مضارع۔ ابن ہشام نے لکھا ہے: ویتلخص علی ہذا ان یقال ان لو تدل علی ثلاثة امور عقد السببیة والمسببیة وکونہما فی الماضی وامتناع السبب۔(مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب،...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۶)

سورة سبا کے بعض مقامات کا ترجمہ۔ (۲٠۳) یُخلِفُہُ کا ترجمہ۔ اخلف کا ایک مطلب ہوتا ہے کوئی چیز ختم ہوگئی ہو تو اس کی جگہ دوسری چیز لے آنا، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: واَخلَفَ فلان لنفسہ، اذا کان قد ذھب لہ شیءفجعل مکانَہ آخر(الصحاح) اس معنی میں یہ لفظ قرآن مجید میں ایک آیت میں آیا ہے، لیکن بہت سے مترجمین سے یہاں غلطی ہوئی اور انھوں نے بدل کے بجائے بدلے کا ترجمہ کردیا۔ اس غلطی کی وجہ غالبا یہ ہوئی کہ اسی جملے میں انفاق کا ذکر آیا ہے جس سے انھوں نے راہ خدا میں خرچ کرنا سمجھ لیا۔ دراصل جیسا کہ سیاق سے صاف معلوم ہوتا ہے یہ آیت راہ خدا میں خرچ کرنے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۵)

سورة الاحزاب کے کچھ مقامات۔ (۱۹۷) صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ۔ درج ذیل آیت میں صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ عام طور لوگوں نے ”عہد کو سچا کردکھایا ہے“ کیا ہے، اور اس کے بعد قَضَی نَحبَہُ کا ترجمہ بھی ”عہد یا نذر کو پورا کردیا“ کیا ہے۔ اس سے عبارت میں اشکال پیدا ہوجاتا ہے، کہ ایک ہی بات کو دو بار کیوں کہا گیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ کرتے ہیں ”جنھوں نے سچا عہد کیا“ اس طرح مفہوم یہ بنتا ہے کہ اہل ایمان نے جب عہد کیا تو سچے دل سے عہد کیا، اور پھر کچھ نے موقع آنے پر عہد پورا کردکھایا اور کچھ موقع کے منتظر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۴)

(۱۹۲) اسبغ کا ترجمہ۔ لفظ اسبغ قرآن مجید میں ایک جگہ آیا ہے، جب کہ اسی مادے سے ایک جگہ سابغات کا لفظ آیا ہے، اسبغ کا مطلب ہوتا ہے اتنی فراوانی جس سے ساری ضرورتیں پوری ہوجائیں۔ جس طرح درع سابغة کا مطلب ہوتا ہے اتنی کشادہ زرہ کہ پورے جسم پر آجائے۔ یعنی اس میں کشادگی اور فراوانی کا مفہوم ہوتا ہے، نہ کہ تمام کرنے اور پوری کرنے کا، جیسا کہ ذیل میں بعض ترجموں میں ملتا ہے۔ علامہ طاہر بن عاشور کے الفاظ میں: اسباغ النعم: اکثارہا. (تفسیر التحریر والتنویر)، یہ درست ہے کہ اہل لغت اسباغ کے معنی اتمام کے بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن یہاں منکرین سے خطاب ہے، اور اس...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۳)

(۱۹٠) سورة الحشر کے بعض مقامات۔ (۱) لِلفُقَرَاء المُہَاجِرِینَ الَّذِینَ اخرِجُوا مِن دِیَارِہِم وَاَموَالِہِم۔(الحشر: 8)۔ اس آیت میں فقراءموصوف ہے اور مہاجرین صفت ہے، اس لحاظ سے ترجمہ ہوگا: مہاجر فقراء، نہ کہ فقیر مہاجرین۔ ایک تو یہ زبان کے قواعد کا تقاضا ہے، دوسرے معنوی لحاظ سے بھی مہاجرین کی تقسیم مقصود نہیں ہے کہ فقیر مہاجرین کو حصہ دیا جائے اور غیر فقیر مہاجرین کا حصہ نہیں لگایا جائے۔ بلکہ یہ فقر سے دوچار لوگوں کی ایک خاص قسم یعنی مہاجرین اور گویا تمام مہاجرین پر مشتمل ہے، کیوں کہ تمام ہی مہاجرین گھر اور دولت چھوڑ کر آئے تھے۔ اس کا...
1-50 (113) >