تعارف و تبصرہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’قلم کے چراغ‘‘

برِ عظیم پاکستان و ہند کی مزاحمتی تاریخ جن قدآور شخصیات کے ذکر کے بغیر ہمیشہ ادھوری سمجھی جائے گی، ان میں ایک بڑا نام آغا شورش کاشمیری مرحوم کا ہے۔جن لوگوں نے آغا صاحب کا عہد دیکھا ہے، آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے اس فانی دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ اب ایسی محافل ایسی مجلسیں اور ایسی نشستیں کبھی کبھار ہی منعقد ہوتی ہیں جن میں آغا شورش کی شخصی خوبیوں اور ان کے کردار کے متعلق گفتگو ہوتی ہو، انگریز سامراجیت سے ان کی نفرت و حقارت کا بیان ہوتا ہو، ایوبی آمریت کے خلاف ان کی للکار یاد کی جاتی ہو اور ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر ان کی ولولہ انگیزیوں کا تذکرہ ہوتا ہو۔ ہمیں بارہا تجربہ ہوا کہ جب بھی نئی نسل کے سامنے آغا شورش جیسے حریت پسندوں کا نام رکھا گیا تو ’انہیں‘ ہمیشہ نامانوس اور ناواقف ہی پایا۔ اس فقرے میں ’انہیں‘ سے مراد صرف نسلِ نو نہیں ہے بلکہ حریت پسند بھی اس میں شامل ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے اجنبی ہیں۔ دونوں دو مختلف دنیاؤں کے باسی ہیں۔ دونوں کی آنکھوں میں حیرت کے سائے ہیں۔ حریت پسندوں کی نگاہوں میں البتہ ایک سوال بھی ہے کہ ہم نے قربانیاں ایک ایسی نسل کے لیے تو نہیں دی تھیں جو تاریک راہوں میں(تقریباً) ماردی گئی ہے۔ جس کے ہاتھ میں اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے، غرض ہر وقت موبائل رہتا ہے۔ جس کا اوڑھنا بچھونا اسی قسم کی لا یعنی فضول سرگرمیاں ہیں۔ دوسری طرف ایک سوال نئی نسل کی آنکھوں میں بھی ہے کہ آخر تم ہو کون ؟ یہ سوال بخوبی وضاحت کر رہا ہے کہ ایک خلیج ہے جو عہدِ رفتہ کی لطافتوں اور عہد حاضر کی کثافتوں کے درمیان وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ زبان و ادب کے ذریعے اس خلیج کو پاٹنے کی امید رکھنے والے نا امیدی کے سمندر میں ڈوبے جا رہے ہیں کہ زبان سے بڑھتی ہوئی بیگانگی آخر کہاں جا کے تھمے گی؟ کیا نوبت اشاروں کی زبان تک آ جائے گی؟اگر زبان و ادب میں ایسا معکوس سفر ہی ہمارا مقدر ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماضی کے پرشکوہ ادب کو اشاروں کے سانچے میں کون ڈھال پائے گا؟اس لیے آسان راستہ یہی ہے کہ اپنا مقدر بدلنے کی جدوجہد کی جائے، رجعت قہقری کی راہ میں کم از کم ایسے سپیڈ بریکر قائم کر دیے جائیں کہ یہ سفر رکنے نہ پائے تو چلنے بھی نہ پائے:

جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی

پروفیسر محمد اقبال جاوید صاحب زمانے کی تیز ہوا کو خاطر میں لائے بغیر نئی نسل کے روبرو ہوئے ہیں۔ انہوں نے ’’قلم کے چراغ‘‘ کے عنوان سے شورشِ رفتہ کا سراغ لگایا ہے اور خوب لگایا ہے، لیکن ان کی تمام جستجو، کھوئے ہوؤں کی آرزو سے لبریز نہیں ہے۔ شاید اسی لیے پروفیسر صاحب نے اپنی محنت شاقہ ، حوالہ جات کے استناد کے سپرد نہیں کی۔ ہمیں تو اس میں شاعرانہ افتاد دکھائی دے رہی ہے۔ شاعر حضرات اپنی کوئی بہت اچھی مطبوعہ یا غیر مطبوعہ نظم اپنے مجموعہ کلام میں جان بوجھ کر شامل نہیں کرتے کہ اپنے تئیں عظیم شاعر ہونے کے زعم میں مستقبل کے کسی ادبی محقق سے یہ توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس نظم کو دریافت کر کے اپنی خوش بختی کو آواز دے گا اور ایسی جان لیوا بحث چھیڑے گا جس سے بڑے بڑے نقاد چاہتے ہوئے بھی لا تعلق نہیں رہ سکیں گے اور یوں شاعر موصوف ایک ادبی نزاع کے باعث امر ہو جائیں گے۔ اس جملہ معترضہ سے قطع نظر پروفیسرمحمد اقبال جاوید صاحب کو داد دیے بنتی ہے کہ انہوں نے ’چٹان‘ میں مدفون ایک خزانے کے اِدھر اُدھر بکھرے آثار و باقیات کا نہ صرف سراغ لگایا ہے بلکہ خوش سلیقگی سے اس کی سنبھال کا انتظام بھی کیا ہے۔ ’’قلم کے چراغ‘‘ میں ستائیس موضوعات کے تحت آغا شورش مرحوم کے خیالات کو اس طرح سمویا گیا ہے کہ شورشؔ کے بانکپن، جرات، بے باکی اورمخصوص اسلوب و ادا سے قاری کما حقہ آگاہ ہو جاتا ہے۔

زیرِ نظر کتاب میں حرفِ آغاز کے بعد ’چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک‘ اور ’آگہی کے چراغ‘ غیر ضروری اضافہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے بجائے شورشؔ کا ایک مفصل سوانحی خاکہ شاملِ اشاعت ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ البتہ شورشی اقتباسات سے قبل، پروفیسر محمد اقبال جاوید صاحب نے ’غبارِ تیرہ شبی میں چراغوں کی روشنی‘ کے عنوان سے محمد حسین آزادؔ سے شورشؔ کا شمیری تک، مخصوص نثری ارتقا سے روشناس کرواتے ہوئے شورشؔ کے پیش روؤں کے نثری شہ پاروں کا جو خوبصورت گل دستہ پیش کیا ہے، وہ خاصے کی چیز ہے۔ اس خوبصورت گل دستے نے رنگا رنگی اور ہما ہمی کا سماں باندھ دیا ہے۔ پھر بھی یہ بات قابلِ بحث ہو سکتی ہے کہ ان چراغوں کی روشنی سے تیرہ شبی کا غبار کہاں تک چھٹا ہے؟ لیکن یہ طے ہے کہ اس روشنی نے شورشؔ کے سوانحی خاکے کی کمی کا احساس مزید بڑھا دیا ہے۔ بہرحال، آئیے اس روشنی کی روشنی میں شورشؔ سے ملاقات کیجیے:

’’ان کے قلم کی کاٹ پر جہاں مخالف کراہتا تھا وہاں انداز و اسلوب کے حُسن پر سر بھی دُھنتا تھا اور یہ خوبی صرف شورش میں تھی کہ ان کا وار کاری ہونے کے ساتھ ساتھ حسین بھی ہوتا تھا۔ ......... ان کی سیاسی نظموں میں بھرتی کے اشعار اور خیالات بالکل نہ ہوتے تھے۔ وہ طویل ترین نظمیں بھی کہتے۔ مگر خیالات میں روانی اس قدر ہوتی تھی کہ آورد کا شائبہ بھی نہ ہوتا تھا۔ آج کوئی مدیر ایسا نہیں جو نثر کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل میں بھی حالاتِ حاضرہ پر نقد و نظر کر سکتا ہو۔........ شورشؔ نے صحافت کو ادب کا بانکپن اور شعر کا حُسن عطا کیا۔....... انہوں نے اپنے پرشکوہ انداز میں بہت سی نظمیں اور ترانے لکھے، وہ مختلف ہئیتوں میں قلم اٹھاتے، سنگلاخ زمینوں میں تغزل کے پھول کھلاتے اور سرفروشانہ جذبوں کو ابھارتے تھے۔........ شورشؔ کے قلم نے ہر تالیف کو ایک ادب پارہ بنا دیا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے شورشؔ کے خاص اسلوب کا۔ جس میں ندرت کی شگفتگی اور جدت کی شادابی دونوں پائے جاتے ہیں۔ مراد الفاظ و تراکیب کا طنطنہ نہیں بلکہ اسلوب و ادا کا وہ خاص پہلو ہے جس کے دریچے سے قلم کار کی اپنی شخصیت گاہے چھپی ہوئی اور گاہے جھلکتی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی کتابوں کے جو اشتہار چٹان میں دیا کرتے تھے وہ بھی شعر و ادب کا ایک ایسا شہ پارہ ہوتے تھے کہ قاری خودبخود کتاب کی جانب کھنچ کے رہ جاتا تھا۔.....آغا شورشؔ کاشمیری ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں کہ ان کی نثر کے بارے میں کوئی ’ادبی فتویٰ‘ نہیں دیا جا سکتاکہ وہ حدی خواں ہیں یا رجز خواں، طناز ہیں یا مزاح نویس، انشائیہ نگار ہیں یا صحیفہ طراز، شاعر ہیں یا خطیب۔یوں معلو م ہوتا ہے کہ ان میں ہر رنگ موجود ہے۔ ان کی تحریر میں مزاح سے زیادہ طنز کی کاٹ ہے۔ وہ لکھتے لکھتے اداریے کو بھی انشائیے کا نہیں بلکہ انشا پردازی کا روپ دے دیتے ہیں۔ وہ شاعری میں خطابت، خطابت میں شاعری اور نثر میں نظم کہتے چلے جاتے ہیں۔‘‘ (قلم کے چراغ:ص۲۶،۳۰،۳۱،۳۹،۵۸)

آغا شورشؔ کاشمیری کی خطابت کے متعلق پروفیسر اقبال جاوید صاحب کی اس رائے سے اختلاف کرنا کافی مشکل ہے کہ وہ احرار کے گم شدہ قافلے کی آخری کڑی تھے۔ شورشؔ کی خطابت کے اعتراف میں امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے درج ذیل الفاظ ایک سند سے کم نہیں ہیں:

’’معلوم ہوتا ہے اس کے حلق میں گراریاں لگی ہوئی ہیں، خدا کا شکر ہے، آواز میں غنا نہیں، ورنہ ہم لوگ چوکڑی بھول جاتے۔ مطمئن ہوں کہ میرا بڑھاپا، جوان ہو گیا ہے۔ میں برگد کا درخت نہیں کہ اس کے نیچے دوسرا پود ا اُگ ہی نہیں سکتا ، شورشؔ میری مراد ہے۔‘‘ (ص۳۸)

شاہ صاحب کی یہ بات کہ ’میں برگد کا درخت نہیں کہ اس کے نیچے دوسرا پود ا اُگ ہی نہیں سکتا‘ ان کی وسعتِ قلبی کی دلیل تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ ایسے نام نہاد راہنماؤں کے لیے راہنمائی بھی لیے ہوئے ہے جو اپنے تئیں برگد بنے بیٹھے ہیں اور بتکلف نئے پودوں کو اگنے سے روک رہے ہیں۔سطورِ ذیل میں ملاحظہ کیجیے کہ شاہ جی کی مراد نے ایسے دل آویز اسلوب میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جس سے زبان و بیان کا وہ پیرایہ سامنے آتا ہے جس کی بابت تصریحاً کہا جاتا ہے کہ الفاظ شورشؔ کے حضور، قطار اندر قطار صف بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور موصوف انہیں چن چن کر طلاقت لسانی کا اظہار کرتے ہیں: 

’’ کالی داس نے عورت کے روپ کی تصویر کھینچتے ہوئے کائنات کی جن تصوری اور نظری خوبصورتیوں کو یکجا کیا ہے، ان تمام خوبصورتیوں کا مرقع شاہ جی کی خطابت ہے۔ رعد کی گونج، بادل کی گرج، ہوا کا فراٹا، فضا کا سناٹا، صبح کا اجالا، چاندنی کا جھالا، ریشم کی جھلملاہٹ، ہوا کی سرسراہٹ، گلاب کی مہک، سبزے کی لہک، آبشار کا بہاؤ، شاخوں کا جھکاؤ، طوفان کی کڑک، سمندروں کا خروش، پہاڑوں کی سنجیدگی، صبا کی چال، اوس کا نم، چنبیلی کا پیرہن، تلوار کا لہجہ، بانسری کی دھن، عشق کا بانکپن، حسن کا اغماض اور کہکشاں کی مسجع و مقفع عبارتیں انسانی آواز میں ڈھلتے ہی جو صورت اختیار کرتی ہیں، اس کا مرقع شاہ جی کی ذات ہے۔‘‘ (ص۵۶) 

پروفیسر محمد اقبال جاوید شورشؔ کی خطابت و طلاقت کے اعتراف میں ایک اور سند پیش کرتے ہیں، ملاحظہ کیجیے: 

’’مسجد شہید گنج کی بازیابی کے لیے سول نافرمانی کا آغاز ہوا تو مولانا مظہر علی اظہرؔ نے دہلی دروازے کے باہر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ انہیں الوداع کہتے ہوئے شورشؔ نے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر شورشؔ کی اولین تقریروں میں سے تھی۔ اس تقریر کو ڈاکٹر سید عبداللہ نے بھی سنا۔ ان کے تاثرات شورشؔ کے فنِ خطابت پر ایک بھر پور تبصرہ ہیں اور حرفِ آخر بھی: 
’میں نے ۱۹۱۹ سے اس زمانے تک بڑے بڑے خطیبوں کی تقریریں سنی تھیں، مگر یہ تقریر کچھ اور شے تھی۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک نوجوان (بلکہ نوخیز لڑکا) خطابت کے طوفان اٹھا رہا تھا۔ الفاظ کی فراوانی، ترکیبوں کی کثرت، جوش کا وفور، طنز کی تیزی، ہجو کی کاٹ، اشعار کی پیوند کاری....... ایک تماشائے لفظ و معنی تھا جو ہر سننے والے کو مسحور و مبہوت کر رہا تھا...... میری نگاہ کا شورشؔ سے یہ پہلا تعارف تھا اور تعارف کیا تھا، ایک شب خون تھا جس نے شورشؔ کے متعلق میرے دل میں ایک مرعوب کن تصور پیدا کر دیا اور یہ تصور عمر بھر رہا۔‘‘(ص۳۸،۳۹) 

دارالکتاب، اردو بازار لاہور کے حافظ محمد ندیم صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ’قلم کے چراغ‘ نہایت اہتمام سے شائع کی ہے۔ متن خوانی تسلی بخش ہے، لیکن ندیم صاحب نے سرورق پر زیادہ توجہ صرف نہیں کی اور نہ ہی ستائیس موضوعات کے بکھراؤ کے سبھاؤ کے لیے اشاریے کا بندوبست کرنے کی زحمت گوارا کی ہے۔ کتاب کے آخر میں ایسا مختصر لغت بھی قابلِ اعتنا نہیں سمجھا گیا جو نئی نسل کے لیے ’قلم کے چراغ‘ کے جملہ مندرجات سہل بناتا ہو۔ 

’’الاقتصاد‘‘

مسلمانوں کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلوانے کے لیے اس وقت بہت سے محاذوں پر کام ہو رہا ہے۔ کہیں عسکریت پنپ رہی ہے اور کہیں مکالمہ و مباحثہ فروغ پا رہا ہے۔ عسکریت اور مکالمے جیسے محاذوں پر ہونے والے کام کا سنجیدگی اور گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزاد روی اور نفسیاتی صحت مندی کے ساتھ ہونے والا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود ان محاذوں پر ڈٹے ہوئے لوگ لائقِ تحسین ہیں کہ کسی نہ کسی درجے میں اپنے تئیں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انتہائی قابل افسوس بات ہے کہ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں مسلم سوسائٹی میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو دین کے تحفظ کے نام پر دقیانوسیت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ تیر کمان سے ڈرون گرانے کے خواہش مند ہیں۔ پرانی منطق و فلسفے سے آسٹرو فزکس اور حیاتیاتی دریافتوں کو پچھاڑنے کا عزم رکھتے ہیں اور نام نہاد قوتِ ایمانی سے سودی نظام کو صفحہ ہستی سے ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے مسلم سوسائٹی کی غالب اکثریت کو فکری طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ایسی اندوہ ناک صورتِ حال میں اگر اصحابِ فکر و دانش، یرغمالی معاشرت کی نجات کی خاطر درست سمت میں کوئی قدم اٹھائیں تو اسے بآسانی تپتی دھوپ میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکمتِ قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی کے زیرِ اہتمام ششماہی ’الاقتصاد‘ کا اجرا تازہ ہوا کا ایسا ہی جھونکا ہے جس سے حبس زدہ موسم کے کُھلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کتاب اللہ میں پوشیدہ معاشی حقائق کی دریافت، عصرِ حاضر کا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ’الاقتصاد‘ نے درحقیقت اسی چیلنج کو قبول کیا ہے۔ اگر تسلسل ، معیار اور آزاد روی کے ساتھ ’الاقتصاد‘ جاری رہا تو امید کی جا سکتی ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں، جدید اقتصادی مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل پروگرام تشکیل پا سکیں گے۔ 

الاقتصاد کا آئندہ شمارہ ’زمین کی ملکیت‘ کے بارے میں ہو گا۔ اس سلسلے میں محققین اپنی نگارشات ’حکمت قرآن انسٹی ٹیوٹ، سندھی جماعت کو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی، جوگی موڑ، نیشنل ہائی وے، کراچی۷۵۰۳۰‘ کے پتہ پر ارسال کر سکتے ہیں۔ ای میل: hikmatequran@gmail.com

تعارف و تبصرہ

(جولائی ۲۰۱۱ء)

جولائی ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۷

امیر عبد القادر الجزائریؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام میں سماجی طبقات ۔ سورۂ زخرف کی آیت ۳۲ کی روشنی میں
ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج

سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

دعوت الی اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے (۲)
مولانا محمد عیسٰی منصوری

دینی حلقوں میں عدم برداشت ۔ مضمرات و نتائج
محمد اورنگ زیب اعوان

تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۱)
مولانا حافظ محمد رشید

مکاتیب
ادارہ

تعارف و تبصرہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

طب مشرق کی مسیحائی
حکیم محمد عمران مغل

Flag Counter