اسلامی حکومت کا فلاحی تصور

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم کی کتاب ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ کے بنیادی خیال کی روشنی میں لکھا گیا۔)


سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ بلاک کی فتح کے بعد اشتراکیت کے توسط سے آنے والے فلاحی تصور کی بنیادیں کھوکھلی ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ اب ایک طرف دنیا بھر میں قومی اداروں کی نج کاری سے بے روزگاری میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے، امریکہ میں سوشل سکیورٹی سسٹم بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف سیکولر ازم اور جمہوریت کی توسیع کے لیے اسی نوعیت کے تشدد اور عدم رواداری کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہی مذہبیت کے بالمقابل سیکولر ازم اور بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کے تصور ات پروان چڑھے تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے! اب سیکولر عدم رواداری اور انتہاپسندی کو لگام دینے کے لیے مذہب طاقت پکڑ رہا ہے اور جمہوری آمریت کی منافقت کے مقابلے میں غیر جمہوری نظریات کو پذیرائی مل رہی ہے۔ شاید سیکولر ازم اور جمہوریت تاریخی اعتبار سے اپنے نقطہ عروج (Point of Saturation) کو پھلانگ چکے ہیں۔ یہی بات سرمایہ دارانہ نظام اور اس سے وابستہ مخصوص فلاحی تصور کی بابت سچ ہے۔ 

کیپٹل ازم، سیکولر ازم اور جمہوریت میں قدرِ مشترک ’’انفرادیت پسندی ‘‘ ہے جس کے مطابق خاندان سے لے کر ریاست تک کسی بھی اجتماعی ہیئت کو فرد کے معاملات میں، خواہ وہ معاشی ہوں یا مذہبی، اخلاقی ہوں یا سیاسی، دخل اندازی سے روکا جاتا ہے اور ان رکاوٹوں کو باقاعدہ ’’قانونی تحفظ ‘‘ بھی دیا جاتا ہے تاکہ فرد کی ’’ذاتی صلاحیت ‘‘ کے فروغ اور اظہار کے لیے انفرادیت پسندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم نے اپنے تین مقالات میں جو ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور ‘‘ کے زیرِ عنوان شائع ہوئے ہیں، مذکورہ نوعیت کی انفرادیت پسندی کے مقابلے میں اسلام کے فلاحی تصور کی بہت مدلل وضاحت کی ہے۔ علوی مرحوم نے ’’ذاتی صلاحیت کے اعتراف اور تحفظ ‘‘کے نام پر سرمایے کے ارتکاز کو ’’تقدیرِ الٰہی اور تقسیم الٰہی ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، یعنی مذہب کو عوام کے لیے افیون نہیں بننے دیا ۔ ان کے مطابق اس ظالمانہ اور سفاکانہ فکر و فلسفہ کا اسلام کے نظامِ عدل سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ مرحوم کا کہنا ہے : 

’’ مختلف مذاہب نے بے شک ’’ خیرات ‘‘ کا ذکر ضرور کیا تھا لیکن محض ترغیب کی حد تک، لیکن ظاہر ہے کہ ’’ترغیب ‘‘ کے راستے خیر کی راہ اپنانے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ ترغیب کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں لزوم بھی ضروری ہے، ایسا نہ ہو تو سرمایہ دار طبقہ کی طبعی کنجوسی اور بخل اپنا رنگ جما کر رہتی ہے ‘‘۔ (ص۲۶) 

ہماری رائے میں یہی چند سطریں افکارِ علوی کی فکری علویت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تمہیدی فقرات میں ہم نے جن ’’قانونی تحفظات ‘‘ کا ذکر کیا ہے جو انفرادیت پسندی کو یقینی بنانے کے لیے بروئے کار لائے جاتے ہیں، علوی مرحوم نہایت مثبت اندازمیں انھی تحفظات کو معکوس معانی پہنا کر اجتماعی ہیئت کو وہ طاقت دینے کی بات کرتے ہیں جس کے توسط سے نظام عدل ’’انفرادیت پسندی کے لمبے ہاتھوں ‘‘ پر اپنا مضبوط ہاتھ ڈال سکے۔ اپنے موقف کی قرآنی بنیادوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سعید الرحمن کہتے ہیں کہ : 

’’ قارون، اس میں شک نہیں کہ ایک فرد کا نام ہے ، لیکن قرآن عزیز نے جس انداز سے اس کا ذکر کیا، وہ ایک مستقل نظریہ ہے جس کی آج کے دور میں یورپی اور اب اس کے جانشین امریکی سامراج کے مالی تصور و نظام میں ’’کیپٹلزم ‘‘ سے تعبیر کی جا سکتی ہے ‘‘۔ (ص۳۲) 

اسی صفحہ پر قرآن مجید کی ان آیاتِ مبارکہ کا ترجمہ دیا گیا ہے جن میں قارون کا تذکرہ ہے۔ (القصص ، ۷۶ تا ۸۳ ) ایک قابلِ غور نکتے کی صراحت کی خاطر ، ہم یہاں صرف اس کا حوالہ دیں گے کہ : ’’ کہا (قارون نے ) یہ تو مجھے ایک ہنر سے ملا ہے جو میرے پاس ہے ‘‘ ۔ اب اگر سعید مرحوم کے قرآنی استدلال کو پہلے سے طے شدہ کسی رائے کا شکار ہوئے بغیر خالصتاً معروضی انداز میں سمجھا جائے تو تائید کیے ہی بنتی ہے، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام (کیپٹلزم ) کا محور افراد کے معاملات، بالخصوص معاشی معاملات میں ریاست یا کسی بھی ہیئتِ اجتماعی کی عدمِ مداخلت ہے، یعنی افراد کو زیادہ سے زیادہ آزاد چھوڑ دیا جائے تاکہ خود غرضی کے ’’فطری ‘‘ جذبے کے تحت ذاتی نفع کے حصول کے لیے افراد میں باہمی تگ و دو ہو اور جن میں ’’اعلیٰ ذاتی صلاحیت ‘‘ ہو، وہ دیگر افراد سے زندگی کی دوڑ میں آگے نکل جائیں۔ اسی طرح اقوام بھی ’’ ذاتی صلاحیت اور خود غرضی ‘‘ کے طفیل باقی اقوام پر غالب آ جائیں گی۔ اسے ’’بقائے اصلح‘‘ (Survival of the Fittest) سے تعبیر کرتے ہوئے socio-economic Darwinism کہا جا سکتا ہے۔ ہماری دانست میں قارون کا اپنے ہنر پر اترانا اور سرمایہ دارانہ معیشت میں فرد کی ذاتی صلاحیت کا بے جا اعتراف کرنا ایسی ’’ قدرِ مشترک ‘‘ ہے جس کا انکار محال ہے ۔یہ قدرِ مشترک چند بنیادی سوالات پیدا کرتی ہے: 

(۱) کیا کوئی ایسی چیز در حقیقت موجود ہے جسے ’’ ذاتی صلاحیت یا ذاتی ہنر ‘‘ سے موسوم کیا جائے ؟

(۲) کیا انسان ، معاشرے یعنی دیگر افراد سے کٹ کر ذاتی صلاحیت نامی ہنر کو فروغ دے سکتا ہے؟

(۳) ایک فرد جس ذاتی صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹ کرد یگر افراد سے ممتاز ہوتا ہے، چاہے وہ مثبت ہو ، یعنی دیگر افراد کا تعاون اور ہمدردی وغیرہ یا منفی ، یعنی دیگر افراد کی مقابلہ بازی اور مفعولیت وغیرہ ، کیا ذاتی صلاحیت کی وہ ’’ سطح اور نوعیت ‘‘ معاشرے کی مرہونِ منت نہیں ہوتی ؟ 

(۴) کیا ذاتی صلاحیت کی اس ترقی یافتہ صورت کا، جو فرد کے بقول اس کی خالصتاً ذاتی ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں، معاشرے سے باہر کسی قسم کا استعمال ہوسکتا ہے ؟ یعنی کیا معاشرے سے الگ ہو کر ذاتی صلاحیت کی ترقی یافتہ صورت فرد کے لیے کسی کام یا اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے، اگرچہ اس صلاحیت کا حصول معاشرے کی مرہونِ منت نہ بھی ہو؟

زیرِ بحث نکات کی تنقیح کے لحاظ سے مشہور و معروف جملہ کہ ’’ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ‘‘ اپنے اندر معنویت کا جہان لیے ہوئے ہے۔ مثبت اور منفی ، ہر دو اعتبار سے در حقیقت یہ معاشرہ یا کوئی بھی ہیئتِ اجتماعی ہی ہے جو فرد کی ذاتی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔ جس ذاتی صلاحیت یا ہنر کا شور مچا کر ایک فرد ’’ بقائے اصلح ‘‘ کے نباتاتی اور حیوانی اصول کو انسانی معاشرے میں رائج کرنے کی سعی کرتا ہے، وہ حقیقت میں معاشرے کی عطا ہوتا ہے، لہٰذا معاشرتی ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ ہنر یا ذاتی صلاحیت Self Oriented نہیں بلکہ Other Oriented ہے ۔ یہ کسی بھی اعتبار سے Personal نہیں، البتہ ہر لحاظ سے Social ضرور ہے۔ اس لیے اس نوعیت اور اس سطح کی ذاتی صلاحیت کے بل بوتے پر کمایا گیا مال و نفع بھی معاشرے کی ملکیت ہونا چاہیے۔ یہاں پر ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مساوی ورثے، مساوی مواقع اور یکساں ماحول کی موجودگی میں مختلف افراد مختلف مدارج طے کرتے ہیں، ان کی تحصیل یکساں سطح اور یکساں نوعیت کی نہیں ہوتی، انھیں کہاں رکھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ذاتی صلاحیت کی یہی سطح اور یہی نوعیت حقیقی معنوں میں ’’خالصتاً ذاتی‘‘ سے تعبیر کی جا سکتی ہے ۔ اسی کی بنیاد پر کوئی فرد تفوق و فضیلت سے ہمکنار ہو سکتا ہے اور فرد کو اسی قسم کی صلاحیت کے نام پر زندگی کی دوڑ میں دیگر افراد سے ممتاز اور نمایاں ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔یہی اصول گروہ اور قوم کی سطح پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے۔ 

یہاں یہ نکتہ بیان کرنا مناسب ہو گا کہ فرد خالصتاً ذاتی صلاحیت کی بنا پر نفع کے حصول کا دعویدار نہیں ہوتا، وہ عام طور پر معاشرت سے حاصل کردہ امتیازی حیثیت کو ہی خالصتاً ذاتی خیال کرتے ہوئے اس نفع کے حصول کا خواہاں ہوتا ہے جو اصل میں معاشرتی نفع ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مدلل تصریحات کے ذریعے فرد کی اس خام خیالی کو دور کیا جائے اور اسے قائل کیا جائے کہ جسے وہ ذاتی صلاحیت سمجھتا ہے، وہ در حقیقت معاشرتی ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایک فرد کو دوسروں سے ممتاز ہونے کے باوجود عملاً زیادہ کچھ بھی نہیں ملے گا تو پھر معاشرے نے فرد کے لیے کیا کیا؟ اس بابت ہماری یہ رائے ہے کہ ایک فرد کا دوسروں سے ’’ممتاز ‘‘ ہونا ہی معاشرے کی دین ہے۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو سکتی ہے کہ ایک جماعت کے تیس چالیس طالب علم یکساں اقامتی ماحول، نصاب اور اساتذہ سے مستفید ہوتے ہوئے بھی مختلف صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں، ان میں سے جو طالب علم اعلیٰ صلاحیت کے سبب دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں، ان کی امتیازی حیثیت ہی ان کے لیے انعام کا درجہ رکھتی ہے کہ ان کی صلاحیت کو نکھر کر سامنے آنے کا موقع مل گیا، اگرچہ یہ صلاحیت ان میں خداداد موجود تھی لیکن ایک ہیئتِ اجتماعی ( یعنی جماعت) ہی اس کے فروغ اور اظہار کا سبب بنی ۔ لہٰذا فرد کو خاندان، گروہ، ریاست یا کسی بھی ہیئتِ اجتماعی کا شکر گزار ہونا چاہیے نہ کہ وہ الٹا حقوق کی لمبی فہرست ہیئتِ اجتماعی کے سامنے رکھ دے اور دوسروں (یعنی ہیئتِ اجتماعی ) کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے۔ مولانا سعید الرحمن علوی مذکورہ نوعیت کی معاشرتی فکر کی معاشی توجیہ کے لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی شہرہ آفاق کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ کی یہ عبارت نقل کرتے ہیں کہ : 

’’ یہ واضح رہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا منشا اگرچہ بالذات عبادت الہٰی سے متعلق ہے، مگر عبادات کے ساتھ ساتھ اس منشا میں رسومِ فاسد کو فنا کر کے اجتماعی زندگی میں بہترین نظام کا قیام بھی شامل ہے۔ اسی طرح پیغمبرِ خدا ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:
انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق 
’’میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں کہ مکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں ۔‘‘

اور اسی لیے اس مقدس ہستی کی تعلیم میں ’’ رہبانیت ‘‘ کو اخلاقی حیثیت نہیں دی گئی بلکہ انسانوں کے باہم اختلاط و اجتماع کی زندگی کو ترجیح دی گئی ہے، لیکن اس اجتماعیت کا امتیاز یہ قرار دیا گیا ہے کہ اس کے معاشی نظام میں نہ دولت و ثروت کو وہ حیثیت حاصل ہو جو عجمی بادشاہوں کے ہاں حاصل تھی اور نہ ایسی کیفیت ہو کہ تمدن سے بیزار دہقان اور وحشی لوگوں کی طرح ان کی معیشت ہو۔ پس اس مقام پر دو متعارض قیاس کام کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ نظامِ معیشت میں دولت و ثروت ایک محبوب و محمود شے ہے اس لیے وہ اگر صحیح اصول پر قائم ہے تو اس کی بدولت انسانوں کا دماغی توازن اعتدال پر رہتا ہے اور اس سے ان کے اخلاقِ کریمانہ صحیح اور درست رہتے ہیں۔ نیز انسان اس قابل بنتا ہے کہ دوسرے حیوانات سے ممتاز ہو۔ اس لیے کہ بیکسانہ اور مجبورانہ افلاس ، سوءِ تدبیر اور مزاج کے اختلال کے باعث ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نظامِ معیشت میں دولت و ثروت ایک بد ترین چیز ہے جبکہ وہ باہمی مناقشات اور بغض و حسد کا سبب بنتی ہے اور خود اہلِ دولت و ثروت کے اطمینانِ قلب کو تعب اور حریصانہ کدو کاوش کے زہر سے مسموم کرتی ہے ، کیونکہ اس صورت میں یہ بد اخلاقی کے مرض میں مبتلا کر دیتی ہے، آخرت اور یادِ الٰہی یعنی روحانی زندگی سے یکسر غافل و بے پروا بنا دیتی ہے اور مظلوموں پر نت نئے مظالم کا دروازہ کھولتی ہے ۔ لہٰذا پسندیدہ راہ یہ ہے کہ دولت و ثروت ’’ نظامِ معیشت ‘‘ میں ایسا درجہ رکھتی ہو جو توسط اور اعتدال پر قائم ہو اور افراط و تفریط سے پاک ہو ‘‘۔ (ص ۸۶ ) 

مشہور امریکی مصنف ول ڈیو رینٹ، جس نے گیارہ جلدوں پر محیط ’The Story of Civilization‘ میں اپنی علمی و تحقیقی کاوش پیش کی ، پھر اس کا خلاصہ اور فکری نچوڑ بہت اختصار سے ’The Lessons of History‘ میں دنیا کے سامنے رکھا اور اپنے نتائجِ فکر کے سبب عالمی پذیرائی حاصل کی، اس نے بھی تاریخ سے اخذ کردہ دانش و حکمت کی بنا پر معروضی اعتبار سے شاہ ولی اللہ ؒ کے بیان کردہ نکات کو درست ثابت کیا ہے ۔ اس کے مطابق: 

We conclude that the concentration of wealth is natural and inevitable, and is periodically alleviated by violent or peaceable partial redistribution. In this view all economic history is the slow heartbeat of the social organism, a vast systole and diastole of concentrating wealth and compulsive recirculation. ( p, 57. The Lessons of History) 

’’ ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دولت کا ارتکاز ، فطری اور ناگزیر ہے، اس میں وقتاً فوقتاً پر تشدد یا پر امن طور پر دولت کی از سرِ نو تقسیم کے باعث کمی ہو جاتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے تمام معاشی تاریخ ، سماجی نظام کی سست رو دھڑکن کی مانند ہے جس میں دولت کا مرتکز ہونا اور لازمی طور پر دوبارہ گردش میں آنا دل کے سکڑنے اور پھر دوبارہ پھیلنے کی طرح ہوتا ہے ۔‘‘ 

بحث کے اس مقام پر ہمیں بے اختیار رسولِ پاک ﷺ کا یہ فرمانِ مبارک یاد آ رہا ہے کہ : ’’ جسمِ انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو گیا تو سارا جسم ٹھیک ہو گیا اور اگر وہ بگڑ گیا تو پورا نظامِ جسمانی بگڑ گیا۔ فرمایا وہ دل ہے ‘‘۔ اسی طرح ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے۔قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر تقویٰ کی اہمیت بیان فرمائی ہے :

’’اے لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو ، جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرہ: ۲۱)
’’سب سے اچھا زادِ راہ تقویٰ ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۷)
’’اور تقویٰ کا لباس سب سے اچھا ہے۔‘‘ (الاعراف: ۲۶)
’’تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔‘‘ (الحجرات: ۱۳)
’’تقویٰ والے ہی خدا کے دوست ہیں۔‘‘ (الانفال: ۳۴)

سورۃ الذاریات میں متقین کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے مالوں میں سائل اور نادار آدمی کا حق ہے۔ (آیت ۱۹) اسی طرح سورۃ المائدہ کے مطابق تقویٰ سے بہرہ ور ہوکر انسان عدل و انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنے لگتا ہے۔ (آیت ۸) قرآن مجید نے یہ کہہ کر تقویٰ کی مدح و منقبت پر گویا مہر ثبت کر دی کہ : ’’ اور آخرت تیرے پروردگار کے نزدیک تقویٰ والوں کے لیے ہے ‘‘۔ (الزخرف: ۳۵)

تقویٰ کی اہمیت و معنویت سے متعلق قرآن و سنت کے ارشادات یہ واضح کرنے کو کافی ہیں کہ دنیوی و اخروی زندگی کی کامیابی کا مدار تقویٰ پر ہے اور تقویٰ دل میں ہوتا ہے ۔ اگر قرآن مجید کے کلی پیغام کو تقویٰ کے کلی مفہوم سے جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ علم ، دولت ، سرمایہ اور اختیارات کا ارتکاز کوئی غیر فطری چیز نہیں ، کیونکہ اس دنیا میں انسانی جدو جہد کا مرکز درحقیقت، اسی ارتکاز کا انتشار یا پھیلاؤ ہے۔ گویا ارتکاز فطری ہے تو تسخیرِ فطرت انسان کی سرشت میں رکھی گئی ہے ۔ جو انسان یا گروہ ’’ ارتکاز ‘‘ پر جتنی زیادہ فتح پاتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ متقی ہوتا ہے کہ اس عمل سے وہ پورے معاشرتی نظام کی کلیت و استقلال کو یقینی بناتا ہے ۔ متقی معاشرے میں خونی انقلاب نہیں آتا، گویا یہ اس دل سے مشابہ ہوتا ہے جس میں خون جمع بھی ہوتا ہے اور پھیلتا بھی ہے۔ ایسے دل کے لیے ’’بائی پاس ‘‘ نا گزیر نہیں ہوتا۔ اس امر میں بھی کسی کو کلام نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن و سنت کے میں ’’ رہبانیت ‘‘ یا ترکِ دنیا کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اس لئے تقوی کی مجہولی و مفعولی نوعیت کی معنویت ( جو ہمارے معاشرے میں اس وقت پائی جاتی ہے) خلط مبحث اور دین کے گمراہ کن فہم پر مبنی ہے ۔ متقی شخص خانقاہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کی رٹ نہیں لگاتا بلکہ وہ معاشرے میں زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے عمل کے ذریعے معاشرے کے SYSTOLE (انقباضّ قلب) اور DIASTOLE (انبساط قلب) کو یقینی بناتا ہے ۔ یہی بات گروہ کی بابت سچ ہے ۔ مولانا سعید مرحوم اپنی تحریر کے بین السطور یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ تقویٰ کا تعلق داخلی و باطنی دنیا سے ہے لیکن معاشرت اور معاشرت پر مبنی دیگر نظاموں کی تعمیر اسی پر ہوتی ہے ، اس لئے اگر داخلی اعتبار سے کچھ کمی بھی رہ جائے تو اس کی تلافی ایسے خارجی اقدامات سے کی جانی چاہیے جو معاشرت کا رخ تقویٰ کی جانب رکھ سکیں، کیونکہ قرآن مجید میں اس حوالے سے معروضی احکامات موجود ہیں ۔ علوی مرحوم شیخ الہند ؒ کے اسی سے ملتے جلتے اصولی موقف کو اسلامی نظامِ عدل کے محور کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ ملاحظہ کیجئے شیخ الہند ؒ کا اصولی موقف :

’’ جملہ اشیاء عالم بدلیل فرمان واجب الاذعان ’’خلق لکم ما فی الارض جمیعا‘‘ تمام بنی آدم کی مملوک معلوم ہوتی ہیں یعنی غرض خداوندی تمام اشیاء کی پیدائش سے رفع حوائج جملہ ء ناس (انسان ) ہے اور کوئی شے فی ذاتہ کسی کی مملوک خاص نہیں بلکہ ہر شے اصل خلقت میں جملہ ناس میں مشترک ہے اور من وجہ سب کی مملوک ہے۔ ہاں بوجہ رفع نزاع و حصول انتفاع قبضہ کو علتِ ملک قرار دیا گیا اور جب تک کسی شے پر ایک شخص کا قبضہ تامہ مستقلہ باقی ہے، اس وقت تک کوئی اور اس میں دست درازی نہیں کر سکتا۔ ہاں خود مالک و قابض کو چاہیے کہ اپنی حاجت سے زائد پر قبضہ نہ رکھے بلکہ اس کو اوروں کے حوالے کر دے کیونکہ باعتبار اصل دونوں کے حقوق اس کے متعلق ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالِ کثیر حاجت سے زائد جمع رکھنا بالکل پسندیدہ نہیں گو زکوٰۃ بھی ادا کر دی جائے اور انبیا و صلحا اس سے بغایت مجتنب رہے۔ چنانچہ احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے بلکہ بعض صحابہ و تابعین وغیرہ نے حاجت سے زائد رکھنے کو حرام ہی فرما دیا۔ بہر کیف غیر مناسب و خلاف اولیٰ ہونے میں تو کسی کو کلام ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ زائد علی الحاجۃ سے تو اس کی کوئی غرض متعلق نہیں اور اوروں کی ملک’’ من وجہ‘‘ اس میں موجود۔ تو گویا شخص مذکور من وجہ مالِ غیر پر قابض و متصرف ہے اور اس کا مال بعینہ مالِ غنیمت کا سا تصور کرنا چاہیے۔ وہاں بھی قبل تقسیم یہی قصہ ہے کہ کل مالِ غنیمت کل مجاہدین کا مملوک سمجھا جا تا ہے مگر بوجہ ضرورت و حصول انتفاع بقدر حاجت ہر کوئی مالِ مذکور سے منتفع ہو سکتا ہے۔ ہاں حاجت سے زائد جو رکھنا چاہے، اس کا حال آپ کو بھی معلوم ہے کہ کیا ہونا چاہیے؟ یعنی خائن شمار ہو گا‘‘ (ص ۵۶، ۵۷ ) 

قرآن و سنت سے براہ راست راہنمائی لینے کے ساتھ ساتھ اپنے استدلال کی تنقیح شاہ ولی اللہ ؒ اور شیخ الہند ؒ کے افکار سے کرتے ہوئے مولانا سعید الرحمن مرحوم کہتے ہیں کہ : 

’’ایک شخص جس نے بے شک قانونی مطالبہ پورا کر دیا ہو اور اس کے پڑوس میں نادار، مسکین، یتیم اور بے کس بستے ہوں، وہ خیر و بھلائی کے اجتماعی اور انفرادی کاموں سے لا تعلق ہو اور اس کے پاس مال کے ڈھیر ہوں تو قانونی تقاضا پورا کرنے کے باوصف وہ مسؤلیت سے بچ نہیں سکتا۔ سورۃ توبہ میں ان منافقین کا ذکر ہے جو مال رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان خیال کرتے ہیں۔ (التوبہ ، آیت ۶۷) قرآن کریم نے ان کی زر پرستی کو نفاق کی دلیل قرار دیا۔ حدیثِ مبارکہ میں بھی منافقت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ذکر کی گئی ہے کہ وہ امانت واپس نہیں کرتے اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں۔(مشکوۃ) ‘‘ ( ص ۴۱ )

مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان خیال کرنے کی بجائے امانت کی واپسی پر محمول کیا جائے۔اب ذرا غور سے شاہ ولی اللہ ؒ کے تصورِ نظامِ معیشت، ول ڈیو رینٹ کی تصریح اور شیخ الہند ؒ کی نکتہ دانی کی روشنی میں مولانا سعید کی مذکورہ بالا عبارت پر نظر دوڑائیے اور انھیں داد دیجیے کہ انھوں نے کتنی غیر جانبداری، جرات اور بے باکی سے اسلامی معیشت میں پنہاں ’’امانت ‘‘ کا تصور اجاگر کیا ہے جس کے پس منظر میں تقویٰ بدرجہ اتم موجود ہے۔ علوی مرحوم کہنا چاہتے ہیں کہ فرد نے اعلیٰ ذاتی صلاحیت کے بل بوتے پر (خواہ وہ براہ راست معاشرے سے حاصل کردہ ہو اور اسی سبب سے بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی ہی دین ہو کہ معاشرے کے پیچھے الہٰیاتی کار فرمائی لازماً موجود ہوتی ہے، یا پھر وہ اس میں قدرتی طور پر موجود ہو یعنی خداداد ہو) جو کچھ کمایا، اس کی حیثیت ’’امانت‘‘ کی سی ہے۔ ایسا فرد در حقیقت ’’ امین ‘‘ ہوتا ہے۔ اسے معاشرے کے توسط سے، امانت کی واپسی بالواسطہ اللہ تعالیٰ کو کرنی چاہیے ( جیسا کہ اسے بالواسطہ ہی یہ نعمت ملی تھی ) اور براہ راست بھی، کہ رب العالمین نے اسے بلا واسطہ بھی نوازا ہے ۔ ایسا شخص متقی شمار ہوگا ، دنیا میں فضیلت اور آخرت میں عزت اسی کے لیے ہو گی ۔ لیکن اگر اگر کوئی شخص امین نہیں ہے یعنی متقی نہیں بلکہ خائن ہے تو ظاہر ہے، اس کے ساتھ جبر کرنا پڑے گایعنی اس کا ’’بائی پاس‘‘ کرنا ضروری اور نا گزیر ہو گا تاکہ اما نتیں، حقداروں تک پہنچ پائیں اور نظام کی کلیت رواں دواں رہے۔یہی امر گروہ اور قوم کے لیے ہے۔ ول ڈیو رینٹ نے اسی امر کو ’’جبری گردش‘‘ کا نام دیا ہے جومعاشی تاریخ کا ایک مسلمہ اصول ہے۔اپنے موقف کی تائید میں سعید علوی مرحوم ، حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ’’مساوات ‘‘ کے اصول کو پیش کرتے ہیں کہ آپؓ نے تقسیمِ مال میں مدراج قائم نہیں کیے : 

’’سید نا صدیقِ اکبرؓ جیسے مزاج شناس نبوت اور خلیفہ راشد نے تقسیمِ مال میں ’’ علی السویہ ‘‘ مساوات کا اہتمام کیا جس پر بعض لوگوں نے کہا: اے خلیفہ رسول، آپ نے مال برابر تقسیم کر دیا حالانکہ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جن کو دوسروں پر تقدم اور تفوق حاصل ہے۔ اگر آپ ان کے سبقت الی الاسلام اور فضیلت کی رعایت رکھتے تو بہتر ہوتا ۔ آپ نے جواب میں فرمایا : تم نے جن فضائل و سوابق کا ذکر کیا ہے، ان کو مجھ سے زیادہ اور کون جانتا ہے (آپ تو اس معاملہ میں بڑے آگے تھے کہ سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور آپ نے ساری دولت خرچ کی، تمام غزوات میں شریک رہے، حضور ﷺ کے دست و بازو بنے) لیکن یہ چیزیں وہ ہیں جن کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ یہ بہر حال معاش کا معاملہ ہے، اس میں برابری کا معاملہ کرنا ، ترجیح دینے سے بہتر ہے ‘‘۔ (ص ۱۶۹، ۱۷۰ )

شیخ الہند ؒ کی جو عبارت اوپر نقل کی گئی ہے، اس کے مندرجات اشارہ کرتے ہیں کہ انھوں نے بھی صدیقِ اکبرؓ کے اس عمل اور فرمان سے پوری مدد لی ہے اور صدیقی فکر کے اکبر ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں ہونا چاہیے۔ اگر غور کیا جائے کہ تفوق و فضائل اور تقدم و سوابق کے لیے جن اصحابؓ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، وہ کون تھے اور ان کے تفوق کی نوعیت کیا تھی توہماری بحث کو ایک اور رخ ملتا ہے کہ انسان کے بعض معاملات بہر حال ایسے بھی ہیں جن کا اجر براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہی ملے گا۔ہم یہاں ازواجِ مطہراتؓ کے تقدم و سوابق اور تفوق و فضائل پر بات نہیں کریں گے ۔ زیرِ بحث نکات کی تنقیح کے لحاظ سے ’’تفوق کی نوعیت ‘‘ بہت اہم ہے۔ صدیقِ اکبرؓ نے ’’شخصی تفوق ‘‘ کو کسی بھی اعتبار سے ’’ مالی تفوق ‘‘ کی بنیاد نہیں بننے دیا۔ ان کے مطابق شخصی تفوق و فضیلت کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شخصی تفوق( چاہے وہ معاشرے کی خدمت کی بنا پر ہو یا کوئی اعلیٰ ذاتی صلاحیت جس کے سبب سے کسی کو امتیازی حیثیت حاصل ہو جائے ) کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور تقویٰ یہی ہے کہ فرد اس تفوق کی بنیاد پر معاشرے سے زیادہ سے زیادہ لینے کا مطالبہ ’’نہ ‘‘ کرے کیونکہ یہ تفوق اس قدر ’’ ذاتی ‘‘ ہے کہ معاشرہ اس کا عین بدل نہیں دے سکتا۔ اگر معاشرہ فضیلت کی بنا پر ’بدل‘ دیتا ہے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ’بدل‘ خود تفوق کی وجہ بن جاتا ہے اور فرد کی اصل فضیلت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صدیقِ اکبرؓ نے فرد کی اصل فضیلت کے اثبات و استقلال کے لیے ہی علی السویہ کا اہتمام کیا ۔یوں سمجھیے کہ ان کاموقف یہ تھا کہ بدری صحابہؓ کی فضیلت کا بدل دینے سے ان کی بدریت آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی جائے گی اور تقسیمِ مال میں دوسروں سے زیادہ حصہ خود ایک فضیلت بن جائے گی۔ ایسا ہر گز نہیں کہ انھوں نے تفوق کی ہر نوعیت سے انکار کیا ہے بلکہ انھوں نے تو اس کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استقلال کو بھی یقینی بنایا ہے اور پھر یہ فرما کر گویا تفوق و فضیلت کے اثبات و استقلال پر مہر ثبت کر دی کہ اللہ تعالیٰ ہی اس فضیلت کا اجر دے گا۔ بحث کے اس مقام پر ہمیں یہ اخذ کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ صدیقِ اکبرؓ نے فضیلت کے اثبات کا ایسا اہتمام کر کے فرد کی ’’ انفرادیت ‘‘ کو اجتماعیت کے حصار میں آنے سے بچا لیا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق قائم کر کے انفرادیت کو الہٰیاتی تقدس بھی فراہم کیا تاکہ انفرادیت اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم رہے کہ اس کے خاتمے کا سوچا بھی نہ جا سکے۔ مولانا سعید الرحمن کہتے ہیں کہ : 

’’ سید نا عمر فاروقؓ نے اس پالیسی کو تبدیل تو کیا ، آخر میں فرمایا کہ آئندہ سال زندہ رہا تو صدیقی پالیسی رائج کر دوں گا ۔ حضرت علیؓ بھی صدیقی پالیسی کے قائل تھے ‘‘۔ (ص۱۱۳ )

اسی طرح عراق کی زمین کے قضیے کی بابت علوی مرحوم کہتے ہیں کہ : 

’’سید نا عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت میں ’’ سوادِ عراق ‘‘ کی زمینوں کا معاملہ ہماری اجتماعی زندگی کا بڑا اہم معاملہ ہے جس میں مجاہدین اور فوجی حضرات کا مطالبہ تھا کہ یہ ہمارے اندر تقسیم کر دی جائیں لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے وسیع پیمانے پر مشاورت کے بعد اس مطالبہ کو مسترد کر دیا۔ اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت الامام ابو یوسف حنفی ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کا فیصلہ بہترین فیصلہ ہے کہ اس پر مسلمانوں کی اجتماعی فلاح کا راز تھا۔ زمین کا خراج اکٹھا کر کے اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا۔ مجاہدین میں زمین تقسیم ہو جاتی تو اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت خطرہ میں پڑ جاتی (کہ مجاہدین کھیتی باڑی میں لگ جاتے) اور اجتماعی وظائف وغیرہ کا اہتمام نہ ہوتا تو مسلم دنیا بے چینی کا شکار ہو کر عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتی‘‘۔ ( ص ۱۰۹ )

ہم خیال کرتے ہیں کہ سید نا عمرؓ نے عراقی زمین کی تقسیم کے معاملے میں صدیقی پالیسی کی روح کو مدِ نظر رکھا۔ وسیع مشاورت پر مبنی اس فیصلے سے ایک بہت اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ کسی بھی فضیلت کے اعتبار سے فرد کو نوازتے وقت (اگر نوازنا ضروری ہی ہو ) یہ دھیان رکھا جائے کہ نوازنا اس کی ذات تک محدود رہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی وفات کے بعد اس کے ورثا اس نوازش کو ہی فضیلت کا مدار بنا لیں۔ اگر کسی فرد کو فضیلت ( اعلیٰ ذاتی صلاحیت پر مبنی فوجی خدمت و غیرہ) کی بنا پر زمین الاٹ کی جاتی ہے تو چونکہ وہ زمین ایک فضیلت کی بنا پر ملی تھی اور فضیلت( یعنی اعلیٰ ذاتی صلاحیت ) ورثا کو منتقل نہیں ہو سکتی، اس لیے اس فضیلت کی بنیاد پر حاصل کی گئی زمین متعلقہ فرد کی وفات کے بعد اجتماعی ملکیت متصور ہو گی، لیکن چونکہ ایسا عمل نا ممکن تھا کہ مجاہدین کے ورثا اس پر کبھی تیار نہ ہوتے اور قبضہ چھوڑنے سے انکاری ہوتے، اس لیے مستقبل میں آنے والے اسی قسم کے مسائل پر نظر رکھتے ہوئے زمینوں کی تقسیم عمل میں نہ لائی گئی جو بلا شبہ بہترین فیصلہ تھا ۔ اگر زمینیں تقسیم کی جاتیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اصل فضیلت ( جس کی بنیاد پر زمین ملی تھی) پس منظر میں چلی جاتی اور زمین رکھنے والے ، زمین رکھنے کے سبب سے معاشرے میں فضیلت کے مستحق ٹھہرتے۔ کیا یہ جعلی قسم کی فضیلت نہ ہوتی ؟ اور ایسا معاشرہ جس میں ایسی فضیلت کو قبول کیا جاتا، کیا وہ فضیلت کی اصل قسم کو فروغ دینے کے بجائے اس کے خاتمے کا سبب نہ بنتا ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جعلی فضیلت کو فروغ دینے والا معاشرہ ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا ، کیونکہ یہ فرد کی اعلیٰ ذاتی صلاحیت یعنی حقیقی فضیلت ہی ہے جو معاشرے کے ترقی پسندانہ ارتقا کو یقینی بناتی ہے۔ سعید مرحوم اسی قسم کے صحت مندانہ معاشرتی ارتقا کے پیشِ نظر جرنیلوں کو مربعے الاٹ کرنے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان زمینوں کی واپسی چاہتے ہیں جو موجودہ جاگیر داروں کے اجداد کو کسی قسم کی ’’فضیلت ‘‘ کے سبب سے انگریزوں نے الاٹ کی تھیں ۔ہم یہ کہہ کر پھبتی نہیں کسیں گے کہ اجداد کی ’’فضیلت ‘‘ معاصر جاگیر داروں کو منتقل ہو گئی ہے کیونکہ فضیلت منتقل نہیں ہوتی، لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ اجداد کی’’ فضیلت‘‘ کی بنا پر قائم جاگیریں اب خود فضیلت بن گئی ہیں۔ ظاہر ہے یہ جعلی قسم کی فضیلت ہے جس سے معاشرتی ارتقا جمود کا شکار ہو گیا ہے اور فرد کی اعلیٰ ذاتی صلاحیت کا اعتراف و اثبات ، جس کا اہتمام صدیقِ اکبرؓ نے کیا تھا، ہمارے معاشرے سے یکسر غائب ہو گیا ہے۔ 

اس پوری بحث سے ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسلام میں انفرادیت پسندی کا دائرہ ، مغرب کے تصورِ انفرادیت پسندی سے بہت بڑھا ہوا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کی بنیاد خود غرضی پر نہیں بلکہ تقویٰ پر ہے ۔ اس پوری کتاب کے بین السطور مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام نے فرد کی انفرادیت کا التزام، مغربی تصورات سے کہیں زیادہ کیا ہے لیکن چونکہ موجودہ معاشرت ، داخلی اعتبار سے متقدمین کے سے اسلوبِ زندگی سے محترز ہے اس لیے اس طرزِ زندگی کی بازیافت کے لیے قرآن و سنت پر مبنی خارجی و معروضی اقدامات کرنے نا گزیر ہیں۔ ان اقدامات سے فرد کی انفرادیت ختم نہیں ہوگی بلکہ نکھر کر سامنے آئے گی اور الہٰیاتی تقدس کے سبب سے اپنی بقا کے لیے خارجی عوامل کی محتاج نہیں ہو گی جیسا کہ مغربی انفرادیت پسندی، قوانین کی محتاج و غلام ہے۔ مولانا سعید کے مطابق کیپٹل ازم میں خاندان کو فرد کی خود غرضی کا منبع خیال کرتے ہوئے کمیونزم میں خاندان کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی جس سے اباحیت کا دور دورہ ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود غرضی کے محرک ’’ خاندان ‘‘ کو کیپٹل ازم اب خود تباہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ شاید خود غرضی سکڑتے ہوئے خاندان سے فرد کی ذات تک پہنچ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خود غرضی کی اگلی سٹیج کیا ہو گی؟ علوی مرحوم کمیونزم اور کیپٹل ازم کا رد کرتے ہوئے اس متوازن نظام کا خاکہ پیش کرتے ہیں جس میں فرد کی انفرادیت، خاندان کی عصمت اور معاشرے کی ترقی کے تمام امکانات موجود ہیں۔ ہماری رائے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاصر رجحانات و اصطلاحات کی روشنی میں قرآن وسنت کے معاشی نظام کی تعبیر کے بجائے قرآن و سنت سے آزادانہ راہنمائی لی جائے۔ آج جس طرح ذاتی ملکیت کے تصور پر زور دیا جاتا ہے اور اسے اسلامی معیشت کے محور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہم یہ ہر گز نہیں کہنا چاہتے کہ ذاتی ملکیت نہیں ہونی چاہیے یا یہ کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہماری مراد در حقیقت ترجیحات سے ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ذاتی ملکیت اسلامی معیشت کے مختلف عناصر میں کس مقام پر کھڑی ہے اور اسے ہم نے کیا مقام دیا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی ملکیت کے لوازمات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ذاتی ملکیت پر اس لیے زیادہ زور رہا کہ معاصر دنیا میں اسی کا پراپیگنڈا تھا۔ ہمارے بعض ’’شرعی عدالتی‘‘ فیصلے بھی شاید اسی تناظر میں کیے گئے۔ مولانا سعید مرحوم جب یہ سب کچھ دیکھتے ہیں تو ان کا لہجہ تلخ ہو جاتا ہے، لیکن ان کی تلخ نوائی حضرت ابو ذر غفاریؓ کی پیروی میں ہے کہ انھوں نے بھی داغ ، داغ کا نعرہ مستانہ ( کہ داغے جاؤ گے ) بلند کیا تھا۔ 

زیرِ نظر کتاب کا آخری مقالہ ’’ الحجر۔۔۔ حجر کی لغوی شرعی تحقیق ‘‘ آج کے ماحول سے مطابقت رکھتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے شادی بیاہ کے کھانوں اور رسموں پر جو پابندی عائد کی ہے، وہ حجر کی طرف پہلا قدم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشرتی ابتری اس سے زیادہ اقدام کی متقاضی ہے۔ 

آخر میں ہم گزارش کریں گے کہ اس کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں پروف ریڈنگ کا خاص اہتمام کیا جائے۔ یہ بات اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ کتاب کے آغاز میں ’’ تشکر ‘‘ کے زیرِ عنوان کہا گیا ہے کہ ’’ بڑی عرق ریزی سے پروف ریڈنگ کی ‘‘ ۔ اس کے باوجود پروف کی بے شمار غلطیاں رہ گئی ہیں۔ اس قابلِ مطالعہ وقیع کتاب کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے اور اسے مکتبہ جمال ، تھرڈ فلور ، حسن مارکیٹ ، اردو بازار لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ 

اسلام اور سیاست