نائن الیون کمیشن رپورٹ ۔ ایک امریکی مسلم تنظیم کے تاثرات کا جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

نائن الیون کے افسوس ناک واقعہ کی تفصیلات، محرکات اورمستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے، تشکیل دیے گئے امریکہ کے نیشنل کمیشن کی تیرہ ابواب(۵۸۵ صفحات بشمول پیش لفظ ، ضمیمہ جات، نو ٹس وغیرہ ) پر مشتمل رپورٹ ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ کو منظرِ عام پر آنے کے بعد بحث و تمحیص کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں بے شمار دستاویزات (2.5 ملین صفحات) سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کل اکتالیس( ۴۱) سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کا آن لائن ایڈیشن www.9-11commission.gov/report پر دستیاب ہے ۔ امریکی مسلمانوں نے بحیثیت امریکی شہری اس رپورٹ کی بابت اپنے تاثرات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر ایک ایسا ہی ۱۰۰ صفحات(بشمول ضمیمہ جات ) پر مشتمل کتابچہ ہے جسے امریکی مسلم ٹاسک فورس نے 'First Impression:American Muslim Perspectives' کے نام سے جاری کیا ہے تاکہ امریکی مسلمان سطحی اور ردِ عمل پر مبنی موقف اپنانے کی بجائے معروضی واقعیت اور ٹھوس حقائق پر مبنی تاثرات امریکی حکومت و امریکی معاشرے کے سامنے پیش کر سکیں ۔ یہ کتابچہ www.iiit.org اور www.ccmodc.net پر بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کتابچے میں مختلف لوگوں کی مختصر مگر جامع تحریروں کو جگہ دی گئی ہے ۔ ہم جائزے میں طوالت اور تکرار سے بچنے کے لیے کتابچے کو مجموعی حیثیت سے لیں گے ، اس کوشش کے ساتھ کہ کوئی اہم نکتہ نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ کو آرڈی نیٹنگ کونسل آف مسلم آرگنائزیشن (سی سی ایم او)کی ایگزیکٹو کمیٹی کے مطابق امریکن مسلم ٹاسک فورس (اے ایم ٹی ایف ) کا اس کتابچے کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں اور اسے محض بحث مباحثہ کی غرض سے پیش کیا گیا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم نے اپنی سہولت کی خاطر اے ایم ٹی ایف کا باقاعدہ نام لے کر بات کی ہے کیونکہ کتابچے کو مجموعی حیثیت سے جانچنے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر تھا، فرداََ فرداََ تمام مضامین کی جانچ پرکھ تکرار اور طوالت کا باعث ہو سکتی تھی ۔ امید ہے زیرِ نظر تحریر اس وضاحت کی روشنی میں پڑھی جائے گی۔

نائن الیون کمیشن رپورٹ میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح (Islamist terrorism) کو کتابچے میں مختلف مقامات پر بطورِ خاص تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق دشمن عمومی نوعیت کی کوئی برائی (generic evil) جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے نہیں ہے ، بلکہ واضح اور قطعی طور پر Islamist terrorism (اسلام پسندی پر مبنی دہشت گردی) ہے ۔ اگرچہ رپورٹ میں اس امر کی صراحت کر دی گئی ہے کہ Islamist سے مراد اسلام کے پیروکار نہیں، بلکہ بن لادن کا نیٹ ورک ، اس سے وابستہ لوگ اور اس کی آئیڈیالوجی ہے جو کم از کم ابنِ تیمیہ سے شروع ہو کروہابیت کے بانیوں اور سید قطب کی الاخوان المسلمون کے ادوار سے گزری ہے۔ یہ آئیڈیالوجی اسلام کے ایک’’ اقلیتی گروہ‘‘ کی روایت مانی جاتی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ، دشمن نہیں ہے نہ ہی اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ۔ امریکہ اور اس کے دوست اسلام کی بگڑی ہوئی صورت (perversion of Islam) کی مخالفت کرتے ہیں نہ کہ خود اسلام کی۔وغیرہ غیرہ۔ اس اصطلاح پر تنقید کرنے والے ، مذکورہ امریکی صراحتوں سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق اصطلاح میں لفظ اسلام کی شمولیت سے (رپورٹ کی وضاحتوں کے باوجود ) اسلام کی ایک منفی تصویر لوگوں کے اذہان میں اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے ، کیونکہ لفظ ’Islamist‘ میڈیا میں اورعام لوگوں کی بات چیت میں حتیٰ کہ دانشورانہ مباحث میں بھی لفظ ’Islamic’ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، مثلاً ترکی کی جسٹس پارٹی کو عموماً اسلامسٹ پارٹی کہا جاتا ہے، جسے اسلامسٹ چلاتے ہیں جن کے پیشِ نظر اسلامی اصولوں اور روایات کی پاسداری ہے۔ اس طرح ایک ایسی مبہم اصطلاح کی اختراع سے ، امن و سلامتی کے داعی اور انسان دوست مذہب کی بابت لاعلمی، بغض اور تعصب کی فضا ہی نشوونما پائے گی، نہ کہ اس مذہب کی ایک اقلیت کے انتہاپسندانہ عقائد و اعمال اور اس مذہب کی غالب اکثریت کے( مبنی بر مذہب) درست اور صحیح عقائد و اعمال کے درمیان امتیاز یا تفریق ممکن ہو سکے گی۔ناقدین کے مطابق ہمسایوں(مسلم /غیر مسلم ) کے درمیان بد اعتمادی اور شکوک و شبہات کا سبب بننی والی ایسی ’’ثقافتی فضا ‘‘ کی اجازت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں دی جاسکتی۔ لہٰذا بہتر ہوتا اگر اسلامسٹ کی بجائے بن لادن نیٹ ورک یا جہادازم کی اصطلاح استعمال کی جاتی جو ایک طرف عسکری گروہوں کے موافق ٹھہرتی، دوسری طرف عام Islamist (اسلام پسندوں) اور rogue Islamist (اسلام کے بدمعاش نام لیواؤں) کے درمیان خطِ امتیاز کھینچ دیتی۔ ایسا نہ ہونے سے وہ تمام Islamists بھی ریڈیکل ہوسکتے ہیں جوپوری دنیا میں ’’ مسلم سیاست ‘‘کی طاقتور علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سی آئی اے کے سابق تجزیہ نگار گراہم فلر کی کتاب "The Future of Political Islam" کو اسلامیت اور طویل المیعاد امریکی مفادات کے حوالے سے مفید گردانتے ہوئے کمیشن سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس کتاب پر سرسری نظر ہی دوڑا لیتا تو رپورٹ اس قسم کی خامیوں سے مبرا ہوتی۔ہماری رائے میں اسلامسٹ کی بجائے جہاد ازم کی اصطلاح نسبتاً بہتر قرار دی جاسکتی ہے۔ اگرچہ جہاد ازم کوئی اسلامی اصطلاح نہیں ہے، لیکن اس میں لفظ جہاد در آنے سے ذہن فوری طور پر اسلام کی طرف ہی جاتا ہے لہٰذا وہ احتمال یہاں بھی موجود رہتا ہے کہ جہاد اور جہاد ازم کے درمیان فرق کو میڈیا کے لوگ ملحوظِ خاطر نہیں رکھیں گے، جیسا کہ اسلامسٹ اور اسلامک کے درمیان فرق نہ رکھنا۔ ہمارے خیال میں یہ فرق قائم بھی نہیں رہ سکتا کیونکہ اسلامسٹ، اسلام کے عملی پہلو کی نشاندہی کرتا ہے اور اسلامک، اسلام کی نظری جہت کی۔ رپورٹ مرتب کرنے والے شاید اسلام کو بطور ’’تھیوری ‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے متشکل ہونے سے الرجک ہیں ۔ 

Islamist terrorism کی اصطلاح کے حوالے سے ہی ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ اس اصطلاح کے استعمال سے منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامسٹ دہشت گردی اور کسی اور نوعیت کی دہشت گردی کے درمیان ’’خطِ امتیاز ‘‘ کیسے کھینچا جائے گا؟ کیا دہشت گردی ’’اپنی اصل ‘‘میں ہوتی ہی اسلامسٹ ہے ؟ ناقدین کے مطابق ابھی تک دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف متعین نہیں ہو سکی جسے عالمی سطح پر یکساں پذیرائی حاصل ہو۔ اسی لیے صدر بش نے نائن الیون حملوں کے فوری بعد امریکی عوام سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردی کی بڑی سادہ تعریف متعین کی۔ صدر بش نے کہا تھا کہ :

"Every nation in every region now has a decision to make. Either you are with us, or you are with the terrorists." 
’’دنیا کے ہر ملک کو اب ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔ یا تو آپ ہمارے ساتھی ہیں یا پھر دہشت گردوں کے۔‘‘

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تعریف نسبتاً بہتر قرار دی جا سکتی ہے جو یہ ہے :

"Premeditated, politically motivated violence perpetrated against noncombatant targets by sub-national groups or clandestine agents, usually intended to influence an audience." 
’’دہشت گردی سے مراد سیاسی محرکات کے تحت تشدد پر مبنی ایسی سوچھی سمجھی کارروائی ہے جو نیم حکومتی گروہ یا خفیہ کارندے کریں اور جس کا نشانہ غیرمقاتل افراد بنیں۔ اس کارروائی کا مقصد بالعموم کسی خاص گروہ پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے۔‘‘

دہشت گردی کی اس تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے محرکات سیاسی ہوتے ہیں اور ان کا نشانہ بھی غیر جنگجو افراد ہوتے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ کوئی اضافی دم چھلا لگانے کی آخر کیا ضرورت ہے؟ نیشنل کمیشن کو ’’اسلامسٹ‘‘ کا سابقہ لگاتے وقت ان امور کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے تھا۔اے ایم ٹی ایف کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی عدالتی نظام وضع کیا جائے جہاں ریاستیں، دہشت گردی کے ملزموں کے خلاف باقاعدہ شواہد جمع کروائیں اور ملزموں کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔ ہمارے خیال میں اے ایم ٹی ایف کی تجویز میں ’’سادگی ‘‘ جھلکتی ہے کیونکہ ریکارڈ گواہ ہے کہ جب نکاراگوا امریکی جارحیت کے خلاف اپنا کیس لے کر عالمی عدالت میں گیا اور عدالت نے امریکہ کو قوت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے اور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا تو امریکہ نے عدالتی حکم کے پرخچے اڑاتے ہوئے اپنے حملوں میں شدت پیدا کر لی۔ نکارا گوا سلامتی کونسل میں گیا جہاں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی قرار داد امریکہ نے ’’ویٹو ‘‘ کر دی۔ نکاراگوا جنرل اسمبلی میں گیا جس نے دو برسوں میں دو مرتبہ قرارداد منظور کی جس کی مخالفت امریکہ ، اسرائیل اور(ایک مرتبہ ) ایل سلواڈور نے کی۔ بڑی طاقتوں کے ایسے طرزِ عمل کی موجودگی میں ’’قانونی ‘‘ یا کوئی بھی جائز حربہ ناکامی سے ہی دوچار ہو سکتا ہے۔ اندریں صورت دہشت گردی کوہی ’’جائز انحراف ‘‘ کے زمرے میں شمار کرنا ناگزیر ہو جائے گا ۔ 

دہشت گردی کے ساتھ لفظ اسلامسٹ لگنے سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ نیشنل کمیشن (کم از کم ) نفسیاتی اعتبار سے اسامہ بن لادن کے ہاتھوں میں کھیل رہاتھا کیونکہ خود اسامہ بن لادن انتہاپسندانہ کارروائیوں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو ’’عین اسلام ‘‘ قرار دیتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے پیچھے چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس طرح نیشنل کمیشن بالواسطہ طور پر اسی مظہر کو اسلام سے منسلک کر رہا ہے جسے اسامہ بن لادن اسلام گردانتا ہے۔ کمیشن کا یہ طرزِ عمل اسامہ بن لادن کی خدمت کرنے کے مترادف ہے نہ کہ اس کی مخالفت کی غمازی کرتا ہے۔ اسی طرح Islamist terrorism کی اصطلاح سے ایک اور مفروضہ پنپتا ہوا نظر آرہا ہے کہ دنیامیں مسلمانوں کے دو گروہ ہیں: (۱) برے مسلمان یعنی انتہا پسند ، (۲) اچھے مسلمان یعنی اعتدال پسند۔ ناقدین کے مطابق اس صریح تقسیم سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اربوں مسلمانوں کے، اسلام کے متعلق فہم اور اظہار میں موجود ’’تنوع ‘‘ کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان دو گروہوں کے بین بین بہت سے گروہ موجود ہیں۔ ایسے گروہوں کو زبردستی دو گروہوں کے دائرے میں لانا ان کے ساتھ زیادتی ہے ۔ اسلامسٹ دہشت گردی کی اصطلاح پر ایک اور اہم اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں خاص قسم کے سیاسی مسائل پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس ملک کے اندر بعض اوقات ’’جائز انحراف ‘‘ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے جو اکثر اوقات ’’مثبت تبدیلی‘‘ کے لیے لازمی اور ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ (خود نیشنل کمیشن کے مطابق اسلامی ممالک میں سیکولر حکومتیں ، تابناک مستقبل کی بجائے جہالت، استبداد اور آمریت کے فروغ کا باعث بنی ہیں اور نوجوانوں کو جائز انحراف کی راہ نہیں مل رہی) اب اسلامسٹ دہشت گردی کی اصطلاح گھڑ کر تبدیلی کی آواز بلند کرنے والوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، کیونکہ ان ممالک کی استبدادی حکومتوں کو ’’اسلامسٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے بھیس میں جبر و تشدد کی راہ اپنانے کے لیے ’’گرین سگنل ‘‘ دے دیا گیا ہے ۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہو گا کہ ’’جائز انحراف ‘‘ کا لحاظ نہ رکھنے کے باعث زیادہ ناراضگیاں جنم لیں گی اور تشدد کی آگ کو کثرت سے ایندھن ملے گا ، جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو گانہ کہ کمی ۔ پھر علت و معلول کے اس گھناؤنے سرکل کا سارا الزام امریکہ پرہی آئے گا ۔ 

نقادوں کے مطابق ، اسلام میں انتہا پسندی کی درجہ بندی کرتے وقت بھی نیشنل کمیشن نے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مثلاً عام لوگوں سے ہائی جیکروں کا فرق کرتے ہوئے اور ہائی جیکروں کا اپنے عقیدے میں انتہاپسندانہ اعمال کی طرف بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ہائی جیکر نے ’’دن میں پانچ وقت کی نماز شروع کی‘‘ (رپورٹ کا صفحہ نمبر ۱۶۲) اسی طرح صفحہ نمبر ۱۶۳ پر درج ہے کہ جراح کے بارے میں نوٹ کیا گیا کہ اس نے ’’ پوری داڑھی رکھ لی اور نماز باقاعدہ ادا کرنا شروع کر دی‘‘۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق نماز اور داڑھی کو انتہاپسندی کی علامات کے طور پر لینے سے امریکہ سمیت دنیا بھر کے پر امن مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ وہ داڑھی اور نماز کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے بنیادی تقاضوں میں شمار کرتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ نیشنل کمیشن کے نزدیک جو مظہر انتہا پسندی کے ذیل میں آتا ہے، وہ بدیہی طور پر ’’مسلم ذہن کی داخلی تفہیم ‘‘سے لگا نہیں کھاتا۔ بہرحال، اے ایم ٹی ایف کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ رپورٹ کی ’’وضاحتیں ‘‘وقت کے ساتھ ساتھ دبتی چلی جائیں گی اور بالآخر اسلام ہی (مخصوص اصطلاح کے باعث) دہشت گرد قرار پائے گا ۔

نائن الیون نیشنل کمیشن رپورٹ میں پرانی اور نئی دہشت گردی میں بھی امتیاز کیا گیا ہے ، تسلی بخش حد تک یہ بتائے بغیر کہ ان میں’’فرق ‘‘ ہے کیا ؟ البتہ اتنا واضح کیا گیا ہے کہ کلنٹن ایڈمنسٹریشن میں دہشت گردی ’’جرم ‘‘ کے زمرے میں آتی تھی جبکہ بش ایڈمنسٹریشن میں اسے ’’جنگ ‘‘ کے طور پر لیا گیا ہے ۔ اے ایم ٹی ایف نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ، رپورٹ کی تجاویز اور تجزیے کو مفید گردانتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کی عسکری صلاحیتیں اور اس کا defense doctrine ’’تشکیلِ نو ‘‘ کے دور سے گزر سکتے ہیں ۔

امریکن مسلم ٹاسک فورس نے کمیشن کی رپورٹ میں کی گئی اس نا انصافی پر بھی احتجاج کیا ہے کہ دوسرے مذاہب کے انتہا پسندانہ رجحانات کے لیے رپورٹ میں struggle (جدوجہد) اور zealots (نہایت پرجوش حامی) وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جبکہ اسلام کے لیے terrorism کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا شاید اس لیے ہوا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ کمیشن کے ممبر تھے (خیال رہے کمیشن کے دس ممبرز میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہیں تھا ) ناقدین کے مطابق کمیشن کے ارکان میں اگر امریکی مسلمانوں کو شامل کیا جاتا تو وہ دہشت گردی کے ساتھ لفظ اسلام کسی صورت بھی منسلک نہ ہونے دیتے۔اس طرح امریکی مسلمانوں کو کمیشن سے باہر رکھ کر ایک تو انھیں دوسرے درجے کا شہری ثابت کیا گیا، دوسرا خود کمیشن اسلام کے تصورات کا جامع احاطہ نہ کر سکا جو وہ امریکی مسلمانوں کی مدد سے کر سکتا تھا۔ اسی سلسلے میں یہ اعتراض بجا معلوم ہوتا ہے کہ اسقاطِ حمل کے کلینکوں پر بم مار کر معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے والوں Timothy Mc Veigh, Eric Rudolph کے اعمال کو ’’ مسیحی دہشت گردی ‘‘ یا کم از کم ’’حکومت مخالف دہشت گردی ‘‘ کا نام کیوں نہیں دیا جاتا؟ اور جے ایل ڈی (Jewish Defense League) کو ’’یہودی دہشت گرد تنظیم ‘‘ کیوں نہیں قرار دیا جاتا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ناقدین کے مطابق نیشنل کمیشن کی رپورٹ سے امریکیوں کے اپنے دشمن کی نوعیت کے متعلق کنفیوژن میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے بہتر مواد تو Patterns of Global Terrorism نامی رپورٹ میں ملتا ہے جس میں دہشت گردی کو تمام مذاہب کے انتہاپسندانہ گروہوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا جائزہ لینے والوں نے بجا طور پر اس خامی کی نشاندہی کی ہے کہ کمیشن کے ارکان سکالرز کی تشریحات ، مسلم دنیا کے سماجی و سیاسی حالات اور عسکریت پسندی کی وجوہات کا تجزیہ کرنے سے مکمل قاصر نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر بن لادن کی شخصیت اور اس کی سیاست کا جو تجزیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، اس سے کہیں بہتر جائزہ John L. Esposito نے اپنی کتاب Unholy War: Terror in the Name of Islam کے ایک باب (بن لادن کے متعلق ) میں لیا ہے۔البتہ رپورٹ کی تیاری میں ، سٹیون ایمرسن کی کتاب American Jihad سے مدد لینے پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ مسلمانوں کی بابت اس کا تعصب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ہماری رائے میں بہت سی وقیع کتب کی موجودگی میں کسی متنازعہ شخص کی متنازعہ تصانیف سے خوامخواہ کی مدد لینا کمیشن کی غیر جانبداری کو مشکوک ٹھہرانے کو کافی ہے۔ اگر امریکی پالیسی ساز ، غیر متعصب سکالرز اور مسلم دنیا سے مکمل کٹ کراسی طرح پالیسیاں بناتے رہے تو نہ صرف موجودہ حالات کے درست ادراک بلکہ آنے والے کئی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں گے ۔ ناقدین کے مطابق ، مسلم دنیا میں امریکی خارجہ پالیسی کے تاریخی کردار کے حوالے سے یہ رپورٹ حیران کن حد تک خاموش ہے، حالانکہ اس خطے میں امریکی کردار جانے بغیرہم یہ نہیں جان سکتے کہ افغانستان میں ’’مجاہدین ‘‘ کس طرح ’’جہادی ‘‘ بن گئے ؟ اس حوالے سے محمود ممدانی کی کتاب Good Muslim, Bad Muslim: America, the Cold War, and the Roots of Terror کو رپورٹ کے مندرجات سے کافی بہتر گردانا گیا ہے ۔ فلسطین اور عراق میں امریکی پالیسی کے منفی پہلو کسی ذی ہوش شخص سے مخفی نہیں ہیں، لیکن نیشنل کمیشن کی کوتاہ نظری (اس معاملے میں ) رپورٹ کے ان الفاظ سے عیاں ہوتی ہے کہ :

"America's policy choices have consequences. Right or wrong, it is simply a fact that American policy regarding the Isreal-Palestinian conflict and American actions in Iraq are dominant staples of popular commentary across the Arab and Muslim world. That does not mean U.S. choices have been wrong."(9/11 commission report, p376.) 
’’امریکہ جو بھی پالیسی اختیار کرتا ہے، اس کے کچھ نتائج نکلتے ہیں۔ صحیح یا غلط، لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعے کے حوالے سے امریکی پالیسی اور عراق میں امریکی اقدامات وہ بنیادی موضوعات ہیں جن پر پوری عرب اور مسلم دنیا میں ہر سطح پر تبصرہ وتنقید جاری ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکی فیصلے غلط تھے۔‘‘

لہٰذا عالمی مسلم رائے عامہ پر امریکی ردِ عمل کچھ اس طرح سے ہے : ’’پنچوں کا کہا سر آنکھوں پر ، لیکن پرنالہ وہیں رہے گا ‘‘۔ زیرِ نظر کتابچے میں پرنالہ وہیں رکھنے کی امریکی روش پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے رپورٹ کے مذکورہ بالا الفاظ کو نیشنل کمیشن پر’’ بش کے دباؤ ‘‘پر محمول کیا جائے کہ کمیشن نے تنقید نہ کر سکنے کے باوجود ، امریکی پالیسیوں کو ’’گول الفاظ ‘‘ میں ہی درست قرار دیا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ، بلکہ کمیشن نے تو بش کے موقف کو رد کرتے ہوئے لگی لپٹی رکھنے کی بجائے ایک انٹیلی جنس افسر کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ :

"The United States is hated across the Islamic world because of specific U.S. government policies and actions. We are at war with an al-Qaeda-led, worldwide Islamist insurgency because of and to defend those policies and not, as President Bush has mistakenly said, to defend freedom and all that is good and just in the world." 
’’امریکی حکومت کی مخصوص پالیسیوں اور اقدامات کی بنا پر پوری مسلم دنیا میں امریکہ نفرت کا نشانہ بن گیا ہے۔ ہم القاعدہ کی قیادت میں عالم گیر اسلامی مزاحمت کے ساتھ ان پالیسیوں ہی کے تحفظ کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔ صدر بش کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ یہ لڑائی آزادی اور دنیا کی دیگر منصفانہ اقدار کو بچانے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔‘‘

اسی طرح رپورٹ کے ان الفاظ پر کہ"The United States must do more to communicate its message." (p377) (امریکہ کو اپنے موقف کے ابلاغ کے لیے اس سے زیادہ کوششیں کرنی چاہییں)، اے ایم ٹی ایف کا یہ تبصرہ بھی بر محل ہے کہ:
".Shouting the wrong message more loudly won't make it more acceptable"
(غلط موقف کو زیادہ بلند آواز سے پیش کرنا اس کو قابل قبول نہیں بنا سکتا)

رپورٹ میں سعودی عرب ، پاکستان اور افغانستان کے سیاسی حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق سعودی عرب اور افغانستان کے بارے میں رپورٹ کے تجزیے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان کی بابت اس کی سفارشات غیر تسلی بخش ہیں کیونکہ ان سے پاکستان کی بجائے جنرل مشرف کے متعلق امریکی پالیسیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں ایک طرف اصرار کیا گیا ہے کہ امریکہ کو مختصر مدت کے تزویراتی فوائد کے حصول کے لیے (مسلم مما لک میں ) جمہوریت پر سمجھوتہ کرنے سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف جنرل مشرف کو’’ موقع‘‘ دینے کا کہہ کر اپنی ہی سفارش کا رد بھی کر دیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑا عجیب و غریب تضاد ہے ۔ اسی طرح یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ رپورٹ میں ایران ، سوڈان اور شام کو امریکہ مخالف جہادی گروہوں کے خطرناک ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کے طور پر ڈسکس نہیں کیا گیا۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق امریکہ مخالف جہادی گروہوں کے ٹھکانوں کی فہرست میں ’’عراق ‘‘ کی عدم شمولیت بھی سنگین غلطی ہے کیونکہ عدمِ استحکام کا شکار عراق، امریکہ مخالف جہادیوں کے لیے سرگرمیوں کا مرکز (launching pad) ثابت ہو سکتا ہے۔ شاید کمیشن نے عراق کا ذکرکرنا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کی سفارشات اور بش کی حالیہ پالیسیوں میں تصادم کی صورت میں تضادات سامنے آ سکتے تھے۔

اگرچہ نیشنل کمیشن آزاد ، موثر ، اور باصلاحیت تھا اور اس نے بہت تن دہی و جان فشانی سے کام کیا، بارہ سو (۱۲۰۰ ) لوگوں کے انٹرویو کیے اورایک سو ساٹھ گواہوں (witnesses) پر مشتمل بارہ کھلی سماعتیں (public hearings) ہو ئیں، اس کے باوجود اسے خیال تک نہ آیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عرب /مسلم کمیونٹی کے ممتاز قائدین ، سکالرز اور ماہرین کی شہادتیں بھی حاصل کرے ، کہ نائن الیون کے حادثے میں ہلاک ہونے والے معصوم لوگوں میں عرب/مسلم بھی شامل تھے۔اس طرح نہ صرف ان متاثرہ خاندانوں کی تکالیف کو یکسر نظراندازکیا گیا بلکہ انھیں اس حادثے کے ضمن میں ہونے والے قومی مباحثے سے بھی خارج کر دیا گیا، حالانکہ عرب/مسلم ۱۰۰ سال سے زیاد ہ عرصہ سے امریکی زندگی کے ہر پہلو میں مثبت انداز میں حصہ لے رہے ہیں۔ زیرِ بحث کتابچے میں امریکی مسلمانوں سے کیے جانے والے ناروا سلوک (مثلاً محکمہ مردم شماری نے عرب /مسلم اعداد و شمار خفیہ طور پر ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کو فراہم کیے اورامریکہ میں کئی نسلوں سے آباد ، عرب نسل کے افراد کے متعلق معلومات ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو فراہم کیں) کے علاوہ رپورٹ کی ایک اہم خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے بالکل درست نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ9/11 کے حملہ آوروں سے کوئی’’ تعلق‘‘ تلاش کرنے کی غرض سے ، امریکی مسلمانوں پر الزامات کی بھر مار ، تفتیشی کارروائیوں اور حراست میں لیے جانے جیسے اقدامات کے باوجود ایسا کوئی’’ تعلق‘‘ سامنے نہیں لایا جا سکا۔ پھر رپورٹ میں آخر کیونکر اس سوال کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی کہ دہشت گرد کسی ’’ایک عرب/مسلم ‘‘ کو بھی اپنے گروہ میں شامل کرنے میں کیونکر ناکام رہے ؟ ہماری رائے میں نیشنل کمیشن کو اس سوال کا جواب لازماً دینا چاہیے تھا کیونکہ امریکی میڈیا sleeper Al-Qaeda cells within the U.S  (امریکہ کے اندر القاعدہ کے غیر متحرک گروپ) کا راگ برابر الاپے جا رہا ہے اور اس کے اثرات کے تحت امریکی عوام کی خاصی بڑی تعداد (مختلف سروے رپورٹس کے مطابق) عرب/مسلمانوں کی امن پسندی اور وفاداری کے متعلق مشکوک ہو چکی ہے۔ نقادوں کے مطابق یہ صورتِ حال ایک ایسے ملک میں زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہے جہاں کسی فرد کا جرم ثابت ہونے تک اسے ’’معصوم ‘‘ خیال کرنے کو ’’قابلِ فخر قدر ‘‘ کا درجہ حاصل ہو۔ بلاشبہ امریکی قوم کو اس قدر کی پائیداری اور استقلال کو یقینی بنانا چاہیے، بالخصوص جب اس کا اطلاق اس کے اندر موجود کسی اقلیت پر ہورہا ہو۔

ہرسال چالیس ہزار امریکی کار کے حادثوں میں ہلاک ہوتے ہیں، سولہ ہزار قتل ہوتے ہیں اور سات لاکھ سے زائد عارضہ قلب ، منشیات ، سگریٹ نوشی ، خوراک سے متعلق وجوہات کے سبب اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ امریکیوں کی اموات کی یہ وجوہات بیان کرکے اے ایم ٹی ایف نے تبصرہ کیا ہے کہ ہم جانتے ہیں ہم ان زندگیوں کو بچا سکتے ہیں اگر ہم بنیادی وجوہات کو ایڈریس کر نے کے ساتھ ساتھ امتناعی اقدامات کر لیں۔ پھردہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکی اقدامات پر یوں نکتہ چینی کی ہے کہ آخر ہم کیسے 9/11 جیسے حملوں کی وجوہات کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کیے بغیرایسے حملے روک سکتے ہیں ؟ اے ایم ٹی ایف کے اس نکتے کی معقولیت سے بھی کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ : کیا یہ 9/11 کے حادثے میں ہلاک ہونے والے معصوم لوگوں کی’’ تعداد ‘‘ہے ،یا وہ’’ طریقہ ‘‘جس کے ذریعے انھیں ہلاک کیا گیا ،یا جن لوگوں نے جرم کیا ان کی شناخت ، یا پھر یہ تمام عوامل اکٹھے ہو کر ہمیں فوجی طاقت کے ایسے بے محابا استعمال کا کوئی ’’جواز ‘‘ فراہم کرتے ہیں کہ ہم جس مقام کے بارے میں ’’محسوس ‘‘ کریں کہ اس کا کوئی تعلق 9/11 کے حملوں سے ہے، وہاں حملہ کردیں ،یا مداخلت کریں، جس سے ان گنت معصوم انسان موت کے گھاٹ اتر جائیں اورلوگوں کا بے تحاشا مالی نقصان بھی ہو؟ عراق اور افغانستان کا 9/11 حملوں سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں تھا، پھر وہاں کیوں موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دو عشروں سے دوسرے لوگوں کی لڑائی میں ان ممالک کے عوام کو رگیدا جا رہا ہے۔ 

اے ایم ٹی ایف نے اگرچہ اصلاحِ احوال کے لیے مدارس کے مقابل نئے تعلیمی نظام کے نظریے کو سراہا ہے جس کے مطابق خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نئے اسالیب اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے گی، لیکن ساتھ ہی یہ صراحت کر دی ہے کہ اس کوشش کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس عمل کے لیے اقدامات ’’کیسے ‘‘ کیے جاتے ہیں؟ تعلیم، ثقافتی اعتبار سے انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اس کا مقصد ، انتہاپسندانہ آئیڈیالوجی کو فروغ دینے والی فرقہ بندی کی تخلیق سے بچتے ہوئے علم حاصل کرنے والے کی ’’شناخت ‘‘ کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے ۔انتہا پسندانہ ایجوکیشن اور آئیڈیالوجی کے جواب میں رپورٹ کا مجوزہ نظام ایک خاص رخ سے کمی کا شکار ہے ۔ امریکی خارجہ پالیسی کے مضمرات اور اس پالیسی کے القاعدہ نیٹ ورک اور آئیڈیالوجی پر اثرات کے ’’ناکافی مباحث‘‘ سے یہی تاثر ملتا ہے کہ نیشنل کمیشن خطے کی پیچیدگی اور اس کی متنوع سیاسی فکر کا مکمل احاطہ نہیں کر سکا ۔ نقادوں کے مطابق یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ 9/11 کے حملہ آوروں میں سے اکثر نے سیکولر ایجوکیشن حاصل کر رکھی تھی جو سطحی اسلامی علم کے ساتھ امتزاج کے بعد انتہاپسند آئیڈیالوجی کی صورت میں نمودار ہوئی ۔ اس معاملے میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ عدل و انصاف، آزادی، انسان دوستی، رواداری اور مساوات جیسے تصورات اسلامی عقائد کا جزو لاینفک ہیں۔ یہ کوئی’’ ترجیحات کا معاملہ‘‘ نہیں ہے کہ متشددانہ فرقہ واریت اور انسانیت سوز مظالم کی بجائے ان کو اختیار کر لیا جائے۔ لہٰذا اسلام کی صحیح ، گہری اور تمام جہات پر مبنی تعلیم مسلم دنیا میں روشن خیالی کی لہر دوڑانے کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کی سلامتی کی ضامن ہو سکتی ہے ۔

اے ایم ٹی ایف کے مطابق دہشت گردوں کے مالیاتی روابط اور ان کے ذخائر کی تلاش میں احتیاط کی ضرورت ہے کہ کہیں اس تلاش کی آڑ میں وہ ’’جائز عطیات ‘‘ بھی بند نہ ہو جائیں جو انتہائی محتاج لوگوں کی بقا کی ضمانت بنتے ہیں۔ جائزعطیات کی بندش سے ان امریکہ مخالف جذبات کو بڑھاوا مل سکتا ہے جنھیں اسامہ بن لادن ہوا دینے کی کوشش میں ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مسلمانوں کو(بحیثیت امریکی )یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ قوم کی سماجی فلاح سے متعلق معاملات کے بارے میں رضاکارانہ متوجہ ہوں اور دوسری طرف خبردار کیا جاتا ہے کہ حتیٰ کہ عام مسلم تنظیموں (main stream Muslim organizations) کو فنڈ دینے سے آپ لوگوں کو دہشت گردی کی مدد کرنے کے الزام میں دھرا جا سکتا ہے۔ جائز عطیات کی بندش سے امریکہ پر مالی اعتبار سے بھی بوجھ پڑ سکتا ہے کیونکہ بندش کی صورت میں، محتاج لوگوں کی ضروریات کی تکمیل امریکہ کی حکومتی ایجنسیوں کے فرائض میں شامل ہو جائے گی جس کا بالواسطہ بوجھ امریکی عوام پر ہی پڑے گا۔ اس طرح عوام ٹیکس کے دوہرے بوجھ سے ہلکان ہو جائیں گے۔ ایک، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے اضافی ٹیکس، اور دوسرا جائز عطیات کی بندش کے نتیجے میں خوامخواہ کا ٹیکس۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ پکڑ دھکڑ کی بجائے ایسا بین الاقوامی عدالتی نظام قائم کیا جائے جو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دے کہ کسی ’’خاص عطیہ ‘‘کے دہشت گردانہ روابط ہیں یا نہیں۔کم از کم اتنا تو لازماً کیا جانا چاہیے کہ کسی عطیہ کے نمائندے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے خلاف اپیل اور جوابی کارروائی کر سکیں تاکہ امریکہ کے مشہورِ زمانہ اصول due process of law (قانونی قواعد وضوابط کی مکمل پابندی) کا کچھ بھرم ہی رہ جائے ۔ 

ہمیں چند روز پیشتر ایک ویب سائٹ کی طرف سے نیوز لیٹرمیں مذکورہ بحث سے متعلق چند معلومات ملیں کہ : امریکہ میں پچھلے چار برسوں میں بھوک میں ۲۶فیصد اضافہ ہوا، اور تقریباً ۳۶ ملین افراد اس کا شکار ہوئے۔ ستمبر ۲۰۰۴ میں، پچھلے سال سے 2.2 ملین زائد یعنی ۲۵ ملین افراد نے امریکہ کے فوڈ سٹیمپ پروگرام میں شرکت کی۔یہ تعداد اصل (محتاج ) تعداد سے کافی کم ہے کیونکہ فوڈ سٹیمپ درخواست فارم بارہ ( ۱۲) صفحات پر مشتمل ہے، پیچیدگی کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے پر نہیں کر سکے۔ نیوز لیٹر کے مطابق بندوق درخواست فارم کے صرف دو صفحے ہیں، لہٰذا قانون سازوں کو ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کر کے فوڈ سٹیمپ پروگرام میں توسیع لانے کے ساتھ ساتھ اس کے درخواست فارم کو سادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ہماری رائے میں نیوز لیٹر کے پیش کردہ حالات، عطیات کی بندش کی مذکورہ بالا صورتِ حال میں مزید سنگینی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امریکہ کو جائز عطیات کی ترسیل یقینی بنانے کے علاوہ اپنے Militarisation of Space (خلا میں فوجی مراکز قائم کرنے) جیسے پروگراموں پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ امریکی عوام کے ٹیکس سے حاصل کردہ خزانہ ، سماجی خوش حالی کے فروغ پر خرچ ہو نہ کہ چند افراد کے جنگی جنون کی بھینٹ چڑھ جائے ۔

اے ایم ٹی ایف کے مطابق نیشنل کمیشن کا یہ کہنا ’’بوالہوسی ‘‘ ہے کہ امریکہ کو دنیا میں اخلاقی قیادت کا ایک نمونہ ہونا چاہیے۔رپورٹ کی سفارشات میں ’’باہمی احتساب ‘‘ سے قطع نظر بہت زیادہ مغرورانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے دوست دنیا کے عرب اور مسلم خطوں کو تعلیم، معاشی خوش حالی، رواداری اور سیاسی فیصلوں میں شرکت کی پیش کش کریں گے۔ اسی طرح ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے مطلوب اقدامات اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے درمیان لائن کھینچنے کے لیے بھی رپورٹ میں سفارشات شامل کی گئی ہیں۔ ہماری رائے میں امریکہ لائن کھینچنے میں ’’توازن ‘‘ کا مظاہرہ نہیں کر سکا کیونکہ Intelligence Reform and Terrorism Prevention Act پر امریکی صدر نے ۱۷ دسمبر کو دستخط کر دیے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان نے اسے ۷ دسمبر کو ۷۵ کے مقابلے میں ۳۳۶ اور سینٹ نے ۸ دسمبر کو ۲ کے مقابلے میں ۸۹ ووٹوں سے پاس کیا تھا ۔ اس ایکٹ کے مطابق( نیشنل کمیشن کی سفارشات کی پیروی میں ) ایک Privacy and Civil Liberties Board بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ انتظامیہ کے ہاتھوں عوام کی آزادیا ں مجروح نہ ہونے پائیں۔ ہماری رائے میں چونکہ اس بورڈ کے ارکان کے تقرر کے اختیارات صدر کو سونپ دیے گئے ہیں جو انتظامی امور کا مدارالمہام ہے، اس لیے امریکی عوام کی آزادیاں کسی نہ کسی حد تک کم ضرور ہوں گی اور عرب/مسلم دنیا کو ’’آفر‘‘ کرنے کے لیے امریکہ کے پاس بہت کچھ باقی نہیں بچے گا۔ 

نیشنل کمیشن کے مطابق مسلم ممالک میں کرپشن اور غربت کی سنگین صورتِ حال سے بن لادن کوبہ آسانی رنگروٹ مل رہے ہیں، لیکن کمیشن نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ مسائل(کرپشن ، غربت ) اپنی نوعیت میں کمیشن کی سفارشات کے دائرے سے باہر ہیں، اس معاملے میں تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق دوسری عالمی جنگ اور سرد جنگ کے دوران امریکی برتری کا ایک بڑا نتیجہ غیر معمولی سطح کی خوش حالی اور امن تھا جس کا زیادہ فائدہ جاپان اور مغربی یورپ کو ہوا۔ سرد جنگ کے بعد نئے عالمی نظام میں ’’سابق مشرقی بلاک کے ممالک‘‘ کی سیاست اور سماجی و معاشی پہلو ؤں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے، لیکن مسلم ممالک کواس عالمی تبدیلی کے خوشگوار اثرات سے افسوس ناک حد تک محروم رکھا گیا جس کا ایک مظہر مسلم ممالک کی ان استبدادی حکومتوں کو جو عوام کو سیاسی شرکت ’’ آفر ‘‘ کرتی رہتی ہیں، مغرب کی سپورٹ (محدودمدتی تزویراتی فوائد کی خاطر ) ہے جو عوامی خواہشات پر مبنی پر امن جمہوری تبدیلی کی آواز کو دبا کر اقتدار میں آئی ہیں۔کرپشن اور غربت کا سب سے بڑا سبب یہی ہے ۔اس لیے امریکہ اخلاقی قیادت کا نمونہ بننے اور آفر کرنے کی بجائے ’’ عدم مداخلت ‘‘ کی اخلاقیات اپنا لے تو معاشی خوش حالی سمیت تمام مثبت قدریں خود بخود ان ممالک میں جڑ پکڑ لیں گی۔ اگرچہ نیشنل کمیشن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ طویل سرد جنگ کا ایک سبق یہ ہے کہ جابرانہ اور ظالمانہ حکومتوں سے تعاون کاحصول امریکہ کے مفادات اور اقدارکے لیے اکثر اوقات طویل المیعاد نقصان کا سبب بنا ، لیکن کمیشن نے واضح انداز میں امریکی خارجہ پالیسی کی ’’تصحیح ‘‘ پر زور نہیں دیا ۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق امریکہ کو اپنے سیاسی نظریے پر نظر ثانی کرنی چاہیے کہ اس کے اصل دشمن وہ ہیں جو ’’سیاسی تبدیلی اور جمہوری حقوق‘‘ کی مخالفت کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ عوام ہی ہیں جو استحکام ، عالمی سلامتی، معاشی خوش حالی اور اسی لیے دیرپا امن کے حقیقی ضامن ہیں ۔ 


حالات و واقعات

(جنوری ۲۰۰۵ء)

Flag Counter