قرآن مجید میں قتلِ خطا کے احکام ۔ چند توجہ طلب پہلو

پروفیسر میاں انعام الرحمن

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَئاً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَئاً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ فَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً (النساء ۰۴/ ۹۲)
’’کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، سوائے یہ کہ اس سے خطا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو ایک مومن گردن آزاد کر ے اور مقتول کے گھر والوں کودیت دے مگر یہ کہ وہ صدقہ کردیں۔ لیکن اگر وہ مومن مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا میثاق ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہادیا جائے گا اورایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہو گا۔ پھر جو نہ پائے، وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘ 

اس آیت میں قتل خطا کی تین صورتوں کو بیان کیا گیا ہے اور تینوں مقامات پر سزا کی ایک صورت (فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ) ’’ تو ایک مومن گردن آزاد کرے ‘‘ تکرار کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ البتہ پہلے اور تیسرے مقام پر، بیان میں ترجیح کا فرق ضرور پایا جاتا ہے اور ظاہر ہے عملی و اطلاقی سطح پر ، مقصودو مطلوب میں بھی اس ترجیح کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ پہلے مقام پر (فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ) کا بیان پہلے اور دیت یا اس کو صدقہ کرنے کا ذکر (وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ) بعد میںآیا ہے ۔ 

پہلے مقام (وَمَن قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَئاً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُوا) میں دیت کے بیان کے ضمن میں إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُوا مقتول کے ورثا سے اسی اخلاقی قوت کا تقاضا کر رہا ہے جس کا ذکر’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ (المائدۃ۵/۴۵) کے ضمن ہمارے سابقہ مضامین (ماہنامہ الشریعہ ستمبر، اکتوبر ۲۰۰۸، فروری ۲۰۰۹ء) میں ہو چکا۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ البقرۃ آیت ۱۷۸ میں مذکور (فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) کے برعکس یہاں براہ راست وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ دونوں مقامات پر بیان کا یہ نمایاں فرق ظاہر کرتا ہے کہ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوف کے مخاطب بنیادی طور پر مقتول کے ورثا ہیں اور وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِکامخاطب قاتل ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ النساء آیت ۹۲ میں مقتول کے ورثا کو، ایک فریق کے طور پر، البقرۃ آیت۱۷۸ کے ورثا جیسی اہمیت نہیں دی گئی، بلکہ مقتول کے ورثا کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی معروف کی اتباع کا حکم دیے بغیر، قاتل کو مسلمہ دیت کی ادائیگی کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ البقرۃ آیت۱۷۸ (فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان) کے مفاہیم ، قانونی تسلط کے بجائے سماجی واخلاقی دباؤ پر دلالت کرتے ہیں اورفریقین گفت و شنید کے ذریعے معاملہ سلجھاتے نظر آتے ہیں۔ 

اس کے برعکس النساء آیت ۹۲  (وَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہ) میں اخلاقی دباؤ کے بجائے قانونی تسلط پایا جاتا ہے اوربغیر کسی گفت و شنید کے، قاتل کو قانونی جبر کے تحت دیت کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ قانونی جبر (دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ) مقتول کے ورثا سے چشم پوشی کی تلافی بھی کرتا نظر آتا ہے۔ اگرچہ اس کے بعد إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ کے الفاظ میں (المائدۃ ۵:۴۵کے مانند) مقتول کے ورثا کو دیت چھوڑ دینے کی بے انتہا ترغیب دی گئی ہے، لیکن اس سے قبل ایک مومن گردن کو آزاد کرنے (فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ) کے ضمن میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں رکھی گئی جس سے شارع کا مقصود واضح ہو جاتا ہے کہ مومن گردن لازماً آزاد ہو اور دیت کو (تقریباً لازماً) چھوڑ دیا جائے ۔ شارع کے منشا کی مزید تصریح آیت کے اگلے حصے سے ہو جاتی ہے: فَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (’’ لیکن اگر وہ مومن مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو ایک مومن گردن کا آزاد کرنا ہے‘‘)۔ یہاں دیت کا سرے سے ذکر ہی نہیں، کیونکہ مقابل صرف غیر مسلم قوم نہیں بلکہ برسر پیکار قوم ہے ۔ اس لیے ان مخصوص حالات میں دیت کی ادائیگی کو کم زوری پر محمول کیا جائے گا اور پھر ہو سکتا ہے کہ حالت جنگ کی وجہ سے دشمن نے ایسا ضابطہ نافذ کر رکھا ہو جس کی وجہ سے وہ دیت کی پوری رقم بحق سرکار ضبط کرکے مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کر جائے یا پھر دشمن نے اپنے قانونی ڈھانچے میں یہ بات اصولی طورپر شامل کر رکھی ہو کہ دیت وغیرہ سے ملنے والی رقم کا ایک خاص فی صد سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازمی ہے۔ اس لیے شارع نے مقتول کے مومن ہونے کے باوجود دیت کا حکم یہاں لاگو نہیں کیا جس سے شارع کا واقعیت پسندانہ رجحان (مثالی احکامات دینے کے بجائے انسانی احوال و ظروف کو پیشِ نظر رکھ کرفرمان جاری کرنا) سامنے آتا ہے۔ اب چونکہ اس مقام پر دیت کا حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل بتایا گیا ہے، اس لیے ایک مومن گردن آزاد کرنے میں بھی کوئی گنجایش باقی نہیں رکھی گئی ۔ آیت کے اس سے اگلے حصے میں پہلے دو حصوں سے مختلف بیان ہے: وَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ  (’’اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا میثاق ہو‘‘)۔ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ مقتول لازمی طور پر مومن نہیں ہے، کیونکہ پہلے دو مقامات پر مقتول کے مومن ہونے کا باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں نہیں کیا گیا۔

اہم بات یہ ہے کہ یہاں دیت کی ادائیگی کا حکم پہلے دیا گیا ہے اور مومن گردن آزاد کرنے کا بعد میں اور کسی قسم کی چھوٹ، معافی یا گنجایش کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ دیت کی ادائیگی کے حوالے سے آیت کے دونوں مقامات (پہلے اور تیسرے) پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ پہلے مقام پر قاتل و مقتول ایک ہی قوم سے ہیں، اس لیے وہاں مومن گردن آزاد کرنے کا بیان پہلے ہوا ہے کہ اس پر زور دینا مقصود ہے۔ ایک تو اس لیے کہ قاتل کے عمل کی تلافی ہو جائے، دوسرا اس لیے کہ تلافی کی ایسی صورت کو معاشرتی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس سلسلے میں معاشرے میں موجود ایسے غالب استحصالی رویوں کا قلع قمع کیا جائے جنہیں ناگزیر خیال کرتے ہوئے ریاست نے بھی اداروں کی شکل دے دی ہو۔(اس لیے دشمن قوم کے مومن مقتو ل کے بیان میں بھی مومن گردن آزاد کرنے کا حکم دیا گیا)۔ اس بیان کے بعد دیت کی ادائیگی اور اس کی معافی کے تذکرے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصول کی سطح پر’’ دیت‘‘ کا حکم دینے کے باوجود مقصود کی سطح پر ’’صدقہ‘‘ رکھنے کے خاص معانی ہیں۔یہ معانی استحصالی رویوں کے خاتمے سے آگے بڑھ کر، پہلی سطح پر خالصتاً قانونی انداز میں عدل و انصاف کی ریاستی قدر کی طرف لے جاتے ہیں اور دوسری سطح پر بے غرضانہ معافی کے عمل سے معاشرے کو اعلیٰ اخلاقی قدروں سے روشناس کراتے ہیں۔ جہاں تک تیسرے مقام کا تعلق ہے جہاں دیت کا ذکر پہلے ہوا ہے (صدقہ کی آپشن کے بغیر) اور مومن گردن آزاد کرنے کا بیان بعد میں تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ جس قوم سے میثاق کیا گیا ہو، اس کا مطلب ہے وہ ایک الگ منفرد قوم ہے ، اس لیے اس قوم کے مقتول کی دیت کی ادائیگی کا حکم پہلے بیان ہوا ہے کہ دیت فی الفور ادا کر دی جائے، باقی رہا مومن گردن آزاد کرنا تو یہ گھر کا مسئلہ ہے، اسے بعد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 

پہلے اور تیسرے مقام پر حکم کی ترتیب میں فرق صراحت کرتا ہے کہ مومنین میثاق کو انتہائی سنجیدگی اور حساسیت سے لیں، حتیٰ کہ میثاق کے مقابلے میں داخلی مسائل یا مومنین کا باہمی طرزِ عمل (گردن آزاد کرنا وغیرہ) ثانوی سطح پر رکھے جانے چاہییں۔ چونکہ میثاق والی قوم غیر مسلم ہے، اس لیے اس کو ’’صدقہ ‘‘ کرنے کی آپشن نہیں دی گئی، لیکن معافی کے لیے ’’صدقہ‘‘ کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے بھی دیت چھوڑنے کی آپشن رکھی جا سکتی تھی۔ آخر شارع نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ہماری رائے میں اس کے پیچھے حکمت غالباً یہ ہے کہ چونکہ میثاق کے دو فریق ہیں اور دونوں الگ الگ قومیں ہیں، اس لیے کسی ایسے واقعہ کے رونما ہونے کے بعدطرفین میں ’’قومی حمیت‘‘ کا جذبہ بھڑک سکتا ہے، اس لیے دیت کے حکم کے ساتھ اگر چھوٹ کی گنجایش بھی رکھی جائے تو ایک تو مسلم قوم (خاص طور پر اگر وہ طاقت ور ہو )دیت کی ادائیگی سے انکاری ہو سکتی ہے اور دوسرا، میثاق والی قوم نفسیاتی طور پر خود کو مستقل دباؤ میں محسوس کرتی کہ معافی کی آپشن ہوتے ہوئے اسے خیر سگالی کے جذبے کے تحت لازماً معاف کر دینا چاہیے اور اس جبری خیر سگالی کے نتیجے میں طرفین کے تعلقات میں آہستہ آہستہ کشیدگی در آتی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر میثاق والی قوم اپنے طور پر دیت چھوڑ دینا چاہے تو کیا اسے اس کی اجازت ہے؟ ہماری رائے میں قرآنی بیان اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ چونکہ میثاق والی قوم الگ اور منفرد ہے، اس لیے اس کی اخلاقی حالت کو اس حد تک سنوارنے کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے جس حد تک ’’صدقہ‘‘ کے بیان کے ضمن میں اخلاقی حالت کی بہتری کی طرف قرآنی اسلوب ہمیں لے جاتا ہے ۔ ( کہ اسے دخل در معقولات سمجھا جائے گا اور نتیجہ میثاق کی کم زوری کی صورت میں رونما ہو گا)۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک الگ منفرد قوم کے ساتھ عدل کی بنیاد پر قانونی لب و لہجہ میں ہی معاملات طے کیے جا سکتے ہیں نہ کہ اعلیٰ اخلاقیات کے ایجابی نظم سے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ میثاق والی قوم کی اخلاقی تربیت بالکل بھی ملحوظ نہیں رکھی گئی۔ دیت کی لازمی ادائیگی سے ان کو ایک خاص حد تک یہ اخلاقی پیغام دے دیا جاتا ہے کہ میثاق والی قوم کے فرد کی جان، انسانی حوالے سے ، کسی بھی اعتبار سے اور کسی بھی سطح پر کم تر نہیں ہے جس سے لازمی طور پر اس قوم میں انسانی جان کی حرمت اور عدل کی ہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ لیکن اس سارے عمل کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ کسی غیر مسلم قوم سے ایسا میثاق نہیں کیا جائے گا جس میں کوئی ایسی شق شامل ہو جس میں اس قوم کے مقتول کے بدلے میں دیت کو چھوڑ کر یا دیت سمیت کوئی اور حکم لگایا گیا ہو۔ اس آیت کے بین السطور قرآن کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ بین الاقوامی تعلق یا میثاق میں (البقرۃ آیت۱۷۸، المائدۃ آیت۴۵ جیسا) احسان و صدقہ پر مبنی حکم مسائل کے حل کے بجائے آگ بھڑکا سکتا ہے، اس لیے اخلاقی اور عملی اعتبار سے عدل پر مبنی واضح اور ٹھوس حکم ہی کسی میثاق کی پائیداری کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے کہ اس قسم کے کسی حکم سے فریقین میں سے کسی کی حق تلفی کا اندیشہ موجود نہیں رہے گا۔ (کسی دوسری قوم کے ساتھ کیے گئے میثاق کی اہمیت کے لیے دیکھیے النساء۴:۹۰، الانفال۸:۷۲)۔ 


یہاں ضمناً ایک نکتے کی صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ عدل کا خمیر اخلاقیات سے ہی اٹھا ہے، اس لیے اس کا جواز عارضی وقتی یا زمانی ومکانی اقدار و ضروریات کے بجائے اخلاقیات کے دوائر (چاہے مذہبی یا سیکولر) میں تلاش کرنا چاہیے۔ اندریں صورت عدل کی بنیاد پر میثاق کی بجاآوری یا میثاق کی بنیاد پر عدل کا قیام، ایک اخلاقی قدر کی ظاہری صورت قرار دی جا سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں ایک ضروری گزارش یہ ہے کہ اخلاقی اقدار کی درجہ بندی میں عدل کا مقام پہلے آتا ہے اور احسان و معافی کا بعد میں۔ اس لیے کسی تہذیب میں عدل اخلاقی اعتبار سے اس کا ابتدائی دور ظاہر کرتاہے اور احسان و صدقہ ترقی یافتہ دور کو۔ یہی بات فر د کی بابت بھی سچ ہے کہ اس کا اخلاقی وجود عدل کے مرحلے سے نشوونما پا کر احسان و صدقہ کی منازل تک رسائی پاتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی تہذیب کے افراد کی غالب اکثریت اگر احسان و صدقہ کو قبولیتِ عامہ کے شرف سے نوازے، تبھی وہاں حقیقی و عملی اعتبار سے ان اقدار کی تنفیذ ممکن ہو سکتی ہے، وگرنہ نہیں۔ اب یہ تو ممکن ہے کہ کسی مخصوص تہذیب کے افراد (جو اگرچہ مختلف ذہنیتوں کے حامل ہوں) عدل کے مانند بتدریج احسان و صدقہ پر بھی یک سو ہو جائیں، لیکن مختلف تہذیبوں کے مختلف ذہنیتوں کے حامل افراد کا احسان و صدقہ جیسی ترقی یافتہ ا قدار پر یک سو ہونا خاصا دشوار ہے۔ کہ تہذیبیں یکساں اخلاقی درجے پر فائز نہیں ہوتیں، کیونکہ ہر تہذیب کی منفرد داخلی ساخت اور افراد کی منفرد عمومی نفسیات تہذیبی خلیج کا باعث بنتے ہیں۔ البتہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں کم از کم یہ سوال اٹھانا ممکن ہے کہ کیا کوئی ’’عالمی تہذیب‘‘ وجود میں آسکتی ہے؟ اور کیا وہ عدل کے مانند احسان و صدقہ سے بھی بہرہ مند ہو سکتی ہے؟ بہرحال، مسلم تہذیب کا تاریخی مطالعہ ہمیں تجرباتی بنیاد وں پر اس امر سے روشناس کراتا ہے کہ احسان و صدقہ جیسی جملہ اقدار کی داعی کوئی تہذیب داخلی و باطنی وسعتوں کی حامل ہوتی ہے۔ مثلاً ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے باوجود اس وقت کی مسلم تہذیب کی داخلی وسعتوں نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔ اگر اس وقت کی مسلم تہذیب احسان و صدقہ جیسی اقدار کی حامل نہ ہوتی تو ایک خارجی دشمن کو اپنی وسعتوں میں سمونے کے بجائے ردِ عمل میں چنگیزی دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی۔

یہاں ایک سوال البتہ ضرور اٹھتا ہے کہ ایسی شان دار صفات سے مزین یہ تہذیب آخر ہلاکو کی چنگیزیت کا شکار کیوں کر ہوئی؟ بادی النظر میں اس کا جواب یہی ہے کہ احسان و صدقہ جیسی خصوصیات کسی مہذب مہمان کی ضیافت کا سامان ضرور ہوتی ہیں، لیکن کسی وحشی اور اجڈ حملہ آور کی ہلاکت آفرینیوں کے مقابل فصیل کا کام ہرگز نہیں دے سکتیں۔ اس لیے ترقی یافتہ اخلاق کی حامل تہذیب اگر اپنے ابتدائی اخلاقی دور کی اقدار (عدل وغیرہ) سے مکمل صرفِ نظر کر لے تو کئی للچائی نگاہیں اسے اپنا ’’منظور نظر‘‘ بنا لیتی ہیں۔ لہٰذا اخلاقی اعتبار سے ترقی یافتہ ہونے کے باوجود ایسی تہذیب میں جملہ اخلاقی اقدار کا اپنے اپنے مقام پر موجود ہونا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ عدل وغیرہ کی اہمیت گھر کے دروازے کی سی ہے جسے ہر حال میں مضبوط ہی رکھا جانا چاہیے۔ اگر گھر کی اندرونی آرایش(احسان وصدقہ) کے مانند دروازے پر بھی تزئینی کام مضبوطی(عدل) کی قیمت پر آراستہ کیا جائے گا تو ایسا کرنا فقط آوارہ لفنگوں کو دروازہ پھلانگنے کی دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ یہی قانون فطرت بھی ہے کہ پھول کی ڈالی پر کانٹے پہلے اگتے ہیں اور پھول بعد میں، لیکن پھول کھلنے کے بعد کانٹے ختم نہیں ہوجاتے بلکہ ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذ ا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح چمن کی حسن و رعنائی کو جلا بخشنے میں کانٹوں کا وجود پھولوں کے مانند بھرپور اخلاقی جواز کا حامل ہوتا ہے، اسی طرح کسی قوم سے میثاق ہونے کے ناطے (احسان و صدقہ کے بجائے) عدل کی بجاآوری پر اصرار اخلاقیات ہی کی پیروی اور ترویج ہے اور اخلاقیات کی یہ جہت کسی بھی حوالے سے سلبی نہیں، بلکہ ہر اعتبار سے ایجابی ہے۔ 


قابلِ غور امر یہ ہے کہ قتل خطا کی تینوں صورتوں میں قرآن مجید نے مومن گردن آزاد کرنے کا حکم دیا ہے جس سے قرآن کا مقصود نہایت صراحت سے سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے متبادل کے طور پر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن خیال رہے کہ یہ متبادل اس معنی میں نہیں کہ ایک مومن گردن آزاد کرو ’’یا‘‘ روزے رکھو، بلکہ جو شخص مومن گردن آزاد کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو، اسی کے لیے روزوں کی آپشن ہے ۔اگر یہاں شارع کی مرادگردن آزاد کرنا’’ یا‘‘ روزے رکھنا ہوتی تو اس کی باقاعدہ تصریح ’أَوْ‘ کے لفظ سے کی جاتی کہ یہی قرآنی اسلوب ہے، مثلاً : فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ (البقرۃ ۰۲/۱۹۶) أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ أَو عَدْلُ ذَلِکَ صِیَاماً (المائدۃ ۰۵/ ۹۵) ۔ 

زیرِ نظر آیت ( النساء ۹۲) سے ملتا جلتا اسلوب مشتملات کی یکسانیت کے ساتھ ا س مقام پر بھی ملتا ہے : 

وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُونَ مِن نِّسَاءِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا ذَلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ وَاللَّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ ۔ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ مِن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْناً ذَلِکَ لِتُؤْمِنُوا بِاللّٰہِِ وَرَسُولِہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ أَلِیْمٌ (المجادلۃ ۵۸/ ۳، ۴) 
’’اور جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کریں، پھر جو کچھ کہا ہے، اس کی تلافی کرنا چاہیں تو آپس میں تعلقات ازدواجی قائم کرنے سے پہلے ایک گردن آزاد کریں۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہے۔ پھر جسے نہ ملے تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں۔ پھر جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلائے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ‘‘۔ 

سورۃ المائدۃ میں ایک مقام پر متبادل اور سہولت، دونوں کا اہتمام کیا گیا ہے: 

لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (المائدۃ ۰۵/ ۸۹)
’’اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر۔ ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسموں کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا، اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو، اس کے اوسط میں سے ، یا انہیں کپڑے دینا یا ایک گردن آزاد کرنا۔ تو جو ان میں کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جبکہ تم قسم کھا لو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیات بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو ‘‘۔

بہر حال قتل خطا کی تینوں صورتوں میں مومن گردن آزاد کرنے کا حکم ظاہر کرتا ہے کہ شارع کا منشا یہی ہے کہ ہماری توجہ اسی حکم کی طرف مبذول رہے اور ہم اسی کی تنفیذ کی کوشش کریں۔ روزوں کی آپشن ، متبادل کو نہیں بلکہ ناگزیر حالت میں ایسی سہولت کو ظاہر کرتی ہے کہ اگرمومن گردن کی آزادی ممکن نہ ہو تو پھر کم از کم روزے تو رکھ ہی لینے چاہییں۔ اس لیے مومن گردن کی آزادی تقریباً لزوم کے دائرے میں آ جاتی ہے۔ قرآنی بیان کا قرینہ ہماری رائے کی تصریح کرتا ہے۔ ذرا النساء ۴ آیت ۹۲کو دوبارہ دیکھیے کہ َ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً کا بیان تین بار کیا گیا ہے جبکہ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ کا بیان صرف ایک بار ہوا ہے۔ اگرَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً  پر زور دینا مقصود نہ ہوتا تو ایسا اسلوب اختیار کیا جا سکتا تھا جیسا فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک بیان کا، تینوں صورتوں پر اطلاق کر دیا جاتا۔ اس لیے ہر دواعتبار سے کہ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْن کو تین بار بیان نہیں کیا گیا اورَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃً کا بیان ایک بار نہیں کیا گیا، صاف معلوم ہوتا ہے کہ مومن گردن کی آزادی پر شارع کا کتنا زور ہے۔ کسی نکتے پر زور دینے کے لیے تکرار کا ایسا اسلوب قرآن کا خاصا ہے، مثلاً:

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً (الم نشرح ۹۴/۵ ، ۶)
’’ پس بے شک سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک سختی کے ساتھ آسانی ہے ‘‘ 

ایسے زوردار قرآنی اسلوب کے باوجود آج کے دور میں مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کی بجا آوری کے بجائے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کو ہی قابلِ عمل سمجھا جاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے ایسے مقامات کیا محض ’’برکت ‘‘ کے لیے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو خیال رکھنا چاہیے کہ پھرقرآن مجید کا تقریبا دو تہائی حصہ ’’ برکتی تعلیم‘‘ پر مشتمل ہے، لہٰذا عملی طور پر متروک ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ترکِ قرآن کی یہی روش ہمیں تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ علمائے دین کی یہ توجیہ کہ کبھی پھر غلامی کا دور آئے گا تب یہ احکامات نافذ کیے جا سکیں گے، ضرورت سے زیادہ سادگی کی حامل ہے ۔ اگر یہ توجیہ مان لی جائے تو ’’بحالی غلامی کی تحریک ‘‘ شروع کرنی چاہیے نہ کہ پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹا جائے کہ اسلام انسانی حقوق کا علم بردار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غلامی کی بحالی کی صورت میں صرف غیر مسلم ہی غلام نہیں ہوں گے،بلکہ چونکہ زیرِ نظر آیت میں مومن گردن کی آزادی کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے مسلمانوں کو بھی لازماً غلام بنانا ہوگا۔ سبحان اللہ، کیا حکیمانہ توجیہ ہے! ایسی توجیہ جو اسی آیت میں مذکور ، شارع کے منشا کی زبردست نفی کرتی ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ مومن گردن آزادکرنے کے تکراری حکم میں آخر کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ کیا یہی نہیں کہ معاشرے میں موجود اس استحصالی رویے کو جو ادارے کی سطح پر جا پہنچا ہے ختم کر دیا جائے؟ تو کیا ہمارے شارحین فقہا کرام ماضی کا استحصالی ادارہ بحال کرنے کے بعد اس کے خاتمہ کے خواہاں ہوں گے؟ فرض کریں ایسا استحصالی رویہ پنپنا شروع ہوتا ہے جو غلامی کی طرف لے جانے والا ہو تو کیا ہم اس کی تائید اس لیے کریں گے کہ غلامی کی بحالی کے بعدقرآن کے احکامات پر عمل ممکن ہوسکے گا؟

لہٰذا زیر نظر آیت کی یہ داخلی شہادت ، مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کا مصداق دریافت کرنے کی ضرورت کا بھرپور احساس دلاتی ہے ۔ اس سلسلے میں نزولِ قرآن کے زمانے کی معاشرتی ساخت کے تجزیے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس میں موجود غلامی کے ادارے کا جواز، محل اور نوعیت واضح ہو سکے ۔ پھر اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو معاصر معاشرے پر منطبق کر کے غلامی کا مصداق دریافت کیا جائے اور قرآنی احکامات کی بر محل تنفیذ کی جائے۔ بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ غلامی کے ادارے کے محل،جواز اور نوعیت میں لازمی طور پر اتنے شدید اور کثیر منفی عناصر شامل تھے کہ قرآن نے قانونی حکم کے ذریعے اس کے فوری ظاہری (عارضی) خاتمے کے بجائے بالواسطہ طریق پر مختلف ترہیبات و ترغیبات کے ذریعے اس سے متعلق سماجی رویے کی بیخ کنی کی اور اس ادارے کے استقلال پر کاری ضرب لگائی۔


غور کیجیے کہ اگر مومن گردن آزاد کرنے کی کوئی سبیل نہ ہو (فَمَن لَّمْ یَجِدْ) تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے (فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ) ۔چونکہ روزے کا حکم ، مومن گردن آزاد کرنے کی کوئی سبیل نہ ہونے کی صورت میں لاگو ہوتا ہے، اس لیے یہ ایک لحاظ سے مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزوں میں مضمر حکمت ایک لحاظ سے اس حکمت کی کسی نہ کسی درجہ میں نمائندگی کرتی ہے جو مومن گردن آزاد کرنے میں مطلوب ہے۔ روزوں کے بارے میں یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ ان کا تعلق صرف بھوکے پیاسے رہنے سے نہیں ہے،بلکہ کم از کم مطلوب، فرد کی اخلاقی اصلاح ہے ۔اب اگرالنساء۴ آیت ۹۲ کے اسلوب کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ کتنے اصرار و تاکید کے ساتھ مومن گردن آزاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اورروزوں کو متبادل مقام دینے کے بجائے انتہائی ناگزیر حالت میں محض اجازت و سہولت کے درجے میں رکھاگیا ہے تو واضح ہو جاتا ہے کہ مومن گردن آزاد کرنے میں جو حکمت پوشیدہ ہے(جس کی ایک درجے میں نمائندگی روزے کر رہے ہیں )، وہ اخلاق و اصلاح کے اعتبار سے، نسبتاً کتنی بڑھی ہوئی اور پھیلی ہوئی ہے۔ روزہ اگر’’ فرد کی اصلاح ‘‘ہے تو گردن کی آزادی ’’معاشرتی اصلاح‘‘ ہے۔ گردن آزاد کرنے کے عمل میں کم از کم دو فرد براہ راست شریک اور متاثر ہوتے ہیں، ایک قاتل اور دوسرا غلام۔ جہاں کسی عمل میں دو فرد ملوث ہوں، وہاں معاشرتی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ غور کیجیے کہ ایک جیتے جاگتے انسانی سماج میں آزادی دینے اور آزادی لینے سے زیادہ بہتر معاشرتی عمل اور کیا ہو سکتا ہے؟


بحث کے اس مقام پر اس بات کا جایزہ لینا ضروری ہے کہ کیا روزہ اپنی حقیقت میں فقط ایک فرد اور خدا کا معاملہ ہے؟ اور اسے سماج سے یا سماج کو اس سے کوئی غرض نہیں؟ یہ جائزہ لینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس سے معلوم ہو سکے گا کہ قتلِ خطا کے اثرات کیا صرف قاتل و مقتول یا ان دو خاندانوں تک محدود ہیں یا سماج بھی کسی طور متاثرین میں شامل ہے؟۔ کیونکہ اگر سماج اس واقعے سے کسی بھی حوالے سے متاثر نہیں ہوتا تو سزا دینے کے عمل میں بھی سماجی تقاضے پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ سزا کے حکم میں گردن کی آزادی کا تکراری بیان اس معاملے کی سماجی جہتوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ لیکن گردن کی آزادی کے متبادل حکم ’صیام‘ کی بابت عمومی رائے یہی ہے کہ اس کا تعلق کسی فرد کی اپنی ذات سے ہے۔ اس رائے کی ترویج و توقیر کے پیچھے غلط دینی تعبیر پائی جاتی ہے، جس کو تقویت دینے کی خاطر احادیث کا من مانے انداز میں سہارا لیا جاتا ہے۔ ہمیں اس مسئلے کی تنقیح کے لیے اس قرآنی مقام کو دیکھنا ہوگا جہاں اللہ رب العزت نے روزوں کی مقصدیت واضح کی ہے: 

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ۰۲:۱۸۳)
’’ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم (اللہ کے غضب سے) بچو۔ ‘‘

بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ کی نسبت روزوں کی’’ فرضیت‘‘ سے ہے۔ حالاں کہ ذرا غور کرنے پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ روزے اللہ کے غضب سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں نہ کہ ان کی فرضیت ۔ فرضیت کا پہلو، مومنین کے ہاں اللہ کے غضب سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ یعنی مومنین روزے رکھنے کے حکم کی تعمیل میں کہیں کسی قسم کی سستی کاہلی وغیرہ کا مظاہرہ نہ کریں اس لیے ڈھیلے ڈھالے اسلوب کے بجائے قطعی انداز میں روزوں کو فرض قرار دیا گیا ہے۔ اس دوسطری بحث سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ روزوں میں بنفسہ ، اتقا کو فروغ دینے کی خاصیت پائی جاتی ہے، اس لیے ان کا اصل مقصد، مومنین کو متقی بنانا ہے۔ لیکن قرآن مجید کے مطابق تقوی بھی خود مقصد نہیں ہے بلکہ ذریعے کے درجے میں ہے، ملاحظہ کیجیے: 

الم ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ۲:۱،۲) 
’’الف لام میم۔ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ، راہ بتانے والی ہے متقین کو‘‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ متقین’’ ہی‘‘ راہ پا سکتے ہیں اور جزوی کے بجائے پوری کی پوری کتاب (قرآن مجید) متقین کو راہ بتانے والی ہے، اس لیے اس سے مجموعی اور مکمل راہنمائی لینے کے لیے اسے وحدتی انداز میں لیا جانا ضروری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ روزے اپنی مقصدیت (لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ) میں کسی نہ کسی درجے میں اسی وحدتی رخ کو اپنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہوا کہ مومنین روزوں کے توسط سے متقین کے مقام پر فائز ہوکر قرآن مجید سے راہ پانے کی کامیاب کوشش کر سکتے ہیں۔اس نکتے کے تناظر میں النساء۴ آیت۹۲ کی یہ معنوی پرت سامنے آتی ہے کہ مسلسل دو ماہ کے روزوں کے حکم میں اصل مقصود قاتل کو محض متقی بنانا نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ الکتاب (قرآن مجید) سے راہ پانے کی صلاحیت (تقوی)حاصل کر سکے۔اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ تقوی کی کمی کی وجہ سے قاتل (سستی ، کاہلی اور بے راہ روی کا شکار ہو کر)قتلِ خطا کا مرتکب ہوتا ہے اور تقوی کی یہی کمی اس سے الکتاب سے راہ پانے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ اسی لیے روزوں کے توسط سے اس کی کھوئی ہوئی اہلیت کی بحالی کی کوشش کی گئی ہے تاکہ الکتاب سے راہ پاسکے اور یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ الکتاب صرف فرد کی اصلاح پر زور نہیں دیتی بلکہ سماج کو بھی اپنا موضوع بناتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انفرادی اصلاح کے علاوہ روزہ اپنے حتمی مقصد میں سماجی غرض و غایت بھی سموئے ہوئے ہے۔ بحث کے اس مقام پر اس بات کا جایزہ لینا ضروری ہے کہ قرآن مجید کے مطابق متقی کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟۔ اس سلسلے میں البقرۃ ۲ کی متصل آیات۳،۴ میں متقین کی بابت صراحت کی گئی ہے:

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ، والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ (البقرۃ۲:۳،۴)
’’وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم کریں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کریں۔ اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔‘‘

یہاں غیب پر ایمان اور قرآن مجید ا ور اس سے پہلے اتاری گئیں کتب پر ایمان کو متقین کے تقاضوں (شرائط)میں شامل کیا گیا ہے، اگر احتیاط ملحوظ رکھتے ہوئے یقین اور ایمان کو مترادف سمجھا جائے تو آخرت پر یقین کو آخرت پر ایمان گرداناجا سکتا ہے۔ جبکہ(البقرۃ۲:۱۸۳) میں مخاطبین (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ) پہلے ہی سے ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ (النساء۴آیت۹۲میں) مسلسل دو ماہ کے روزوں کا حکم، (البقرۃ۲آیت۱۸۳) کے تناظر میں قاتل کے ایمان پر دلالت کرتا ہے۔ (جبکہ النساء۴ آیت۹۳ کے بیان کے مطابق قتلِ عمد کے مرتکب کا ایمان مشکوک ہو جاتا ہے، دیکھیے ماہنامہ الشریعہ فروری۲۰۰۹ ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ )۔ 

البقرۃ۲ آیت۱۸۳ کے مطالعہ سے یہ نکتہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ انسان ایمان رکھنے کے بعد لازماََ متقی بن جاتا ہے، البتہ ایمان کی موجودگی ایک مضبوط وجہ بن جاتی ہے کہ ایمان والے، روزے رکھ کر متقین کی صف میں شامل ہو جائیں۔ البقرۃ ۲ آیات ۳،۴، اور ۱۸۳ کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں مقامات پر ایمان کے بیان(مجمل و مفصل) کے باوجود ایک واضح فرق ہے۔ وہ فرق ہے ایک مقام پر صلاۃو انفاق کا بیان اور دوسرے مقام پر صیام کا بیان۔ پھر غور کیجیے کہ البقرۃ۲آیات۳،۴ میں متقین کی پوری صفات گنوا دی گئیں ہیں لیکن ان میں صیام کا کہیں ذکر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صلاۃ و انفاق مل کر وہی کام کرتے ہیں جو صیام تنِ تنہا کرتے ہیں لیکن اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ صیام کے لازمی اجزائے ترکیبی صلاہ و انفاق ہیں،یعنی نماز قائم کیے بغیر اور اللہ کی راہ میں خرچ کیے بغیر ، روزے اپنی مقصدیت نہیں پا سکتے۔ اسی لیے ہر دو مقامات(البقرۃ۲:۳،۴، اور ۱۸۳) پر صلاۃ و انفاق اور صیام ، متوازی اور متبادل حیثیت میں خدائی منشا کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ صیام ان تمام اخلاقی صباحتوں سے لبریز ہیں جو صلاۃ و انفاق میں پائی جاتی ہیں اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ صلاۃ و انفاق بنیادی طور پر سماجی فعلیت کے مظاہر ہیں۔ اس داخلی شہادت سے روزوں کی سماجی دلالتیں نہایت واضح ہو جاتی ہیں۔ 

مذکورہ بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ النساء۴ آیت۹۲ میں روزوں کا حکم ، ایک طرف قاتل کے ایمان(اور ایمان کی حد تک تقوی) کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف تقوی کے ایک خاص پہلو، جو صلاۃو انفاق یا صیام سے گندھا ہوا ہوتا ہے، کی عدم دستیابی کی تلافی کرتا ہے۔ اس لیے صیام کے حکم کی حکمت کی تلاش میں صیام کو تحلیل کر کے اس کی دو بڑی داخلی جہتوں (صلاۃ و انفاق) کا تنقیدی و معنوی مطالعہ اگرچہ ناگزیر ہو جاتا ہے لیکن یہ مضمون اس طویل مطالعے کا متحمل نہیں۔ بہرحال! ضمناً یہ نکتہ پیشِ نظر رہے کہ البقرۃ۲ آیات۳،۴ کی بیان کردہ صفات (غیب پر ایمان، صلاۃ کا قیام، انفاق، قرآن مجید اور اس قبل اتاری گئی تمام کتب پر ایمان، آخرت پر یقین) اپنی ذات میں ہدایت نہیں ہیں، بلکہ ان سے متصف ہوکر انسان متقین کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے اور پھر انہی متقین کے لیے قرآن مجید راہ بتانے والی کتاب ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ قرآن مجید اگر آفتاب ہے تو اسے دیکھنے کے لیے یہ صفات آنکھوں کا کام کرتی ہیں۔ آخر کوئی نابینا آفتاب کو کیسے دیکھ سکتا ہے؟یا اگر آفتاب ہی نہ ہو تو کوئی بینا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے سوا اور کیا کر سکتا ہے؟ جیسا کہ بیان ہوا: قُرآناً عَرَبِیّاً غَیْْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ (الزمر۳۹:۲۸) ’’وہ قرآن ہے عربی ہے جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ یہ لوگ ڈریں‘‘۔ 


اگر دینی تعبیر کے مروج اسالیب سے بے نیاز ہوکر قرآن مجید کا آزادانہ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کا بنیادی رجحان تجربی اور آزمایشی ہے۔ اس لیے گفتار کے غازیوں کو باور کرایا گیا ہے: 

أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ (العنکبوت۲۹:۲)
’’ کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہ کر کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزما یا نہ جائے گا‘‘ 

قرآن مجید کا یہ تجربی و عملی اندازِ فکر، انسانی زندگی کو خوامخواہ کی علمی خیال آرائیوں(Exclusively Philosophic) میں الجھانے کے بجائے سماجی نتائجیت (Socio-Pragmatism)کی صورت میں سلجھا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ قتلِ خطا کی سزا کے ضمن میں بھی مومن گردن آزاد کرنے کے تاکیدی حکم کے مضمرات اسی قرآنی منشا کو سموئے ہوئے ہیں کہ شارع کے نزدیک زبانی جمع خرچ سے ،محض تو بہ توبہ کرنے سے ، کسی خطا کی تلافی نہیں ہو جاتی، خاص طور پر ایسی خطا کی ، جو کسی دوسرے شخص کو یا پورے سماج کو کسی نہ کسی طور متاثر کر رہی ہو۔ اس لیے انفرادی یا سماجی منفعت کا حامل عملی قدم، جس کے ذریعے سے خطا میں مضمر بشری کم زوری اور سماجی جبر کا دائرہ تنگ سے تنگ کرنے کا نتایجی اہتمام پایا جاتا ہو، شارع کے نزدیک تلافی کی مناسب اور موزوں صورت ہو سکتا ہے۔ اگر قرآن مجید کے فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ (المائدۃ۵:۴۴)’’سو تم انسانوں سے نہ ڈرو بلکہ ( صرف) مجھ سے ڈرو ‘‘ ، جیسے بیانات کے تناظر میں غلامی جیسے مسایل کو سمجھا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ شارع کے نزدیک غلامی یا اس سے مماثل کوئی سماجی مظہر، (اصولی اعتبار سے)مسلمہ و مصدقہ نہیں ہے بلکہ سماجی جبر پر مبنی ایک منفی انسانی صورتِ حال کی زندہ جاوید تصویر ہے۔ اس لیے قرآن مجید میں جہاں کہیں غلامی کا ذکر کیا گیا ہے، صرف اور صرف منفی انسانی صورتِ حال کے ادراک کے طور پر کیا گیا ہے کہ اچھا خاصا جیتا جاگتا انسان خوامخواہ بے اختیار کٹھ پتلی بن کر رہ جاتا ہے۔ وَضَرَبَ اللّہُ مَثَلاً رَّجُلَیْْنِ أَحَدُہُمَا أَبْکَمُ لاَ یَقْدِرُ عَلَیَ شَئ (النحل۱۶:۷۵) ’’اللہ مثال پیش کرتا ہے ایک حلقہ بگوش غلام کی جو کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ غلام میں خلقی اعتبار سے بے اختیاری نہیں ہوتی، بلکہ صرف اورصرف انسانی سماج کی کوئی مکروہ فصیل اس کے اختیار کو پابند کیے ہوتی ہے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ معاصر سماج میں(غلامی کے ظاہری خاتمے کے باوجود) یہ دیکھنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ انسانی سماج کی وہ کون سی مکروہ فصیلیں ہیں جنہوں نے انسانی اختیار کی ایسی جہتوں کو پابند کر رکھا ہے جنہیں شارع نے خلقی اور خلقی لحاظ سے سے انسانی آزادی و انسانی حقوق میں شامل کر رکھا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زاویے سے معاصر سماج کا آزادانہ تنقیدی جایزہ، مختلف الخیال لوگوں کو بوجوہ، انسانی اختیار پر پابندی کی متخالف بلکہ متضاد منازل تک لے جا سکتا ہے، جس کا نتیجہ لایعنی مباحث پر مبنی باہم ٹکراؤ کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا۔ اس لیے سمت کی درستی اور ترجیح کے تعین میں افراط و تفریط سے بچنے کی خاط قرآن و سنت سے راہنمائی ضروری ہو جاتی ہے۔ سورت النور کی ان آیات پر غور کیجیے: 

وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَاءِکُمْ إِن یَکُونُوا فُقَرَاء یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُونَ نِکَاحاً حَتَّی یُغْنِیَہُمْ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوہُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْْراً وَآتُوہُم مِّن مَّالِ اللَّہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ وَلَا تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَمَن یُکْرِہہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِن بَعْدِ إِکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (النور۲۴:۳۲،۳۳)
’’ اور نکاح کرو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لایق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انہیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو کہ جن کو نکاح کامقدور نہیں، ان کو چاہیے کہ (اپنے نفس کو) ضبط کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (اگر چاہے) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے (پھر نکاح کر لیں) اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہو نے کے خواہاں ہوں تو (بہتر ہے کہ) ان کو مکاتب بنا دیا کرو اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ اور اللہ کے (دیے ہوئے) اس مال میں سے ان کو بھی دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے (تاکہ جلدی آزاد ہو سکیں) اور اپنی (مملوکہ) لونڈیوں کو زنا کرانے پر مجبور مت کرو (اور بالخصوص) جب وہ پاک دامن رہنا چاہیں محض اس لیے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فایدہ (یعنی مال) تم کو حاصل ہو جائے اور جو شخص ان کو مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد (ان کے لیے) بخشنے والا مہربان ہے‘‘ 

ہم یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ ان آیات کا فہم، مسلم سماج میں بسنے والے مومن کے اختیار کی تحدید کی کسی بھی ایسی منفی صورت کو، جو عمومی لحاظ سے غالب سماجی جبر میں ڈھل چکی ہو، مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کا مصداق قرار دیتا ہے۔ معاصر دنیا میں انفرادی آزادی کے نام پر سرمایہ دارانہ معیشت نے انسانی آزادی کی تحدید کا ایسا گھناؤنا کھیل شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے قرض اور بدکاری، غالب سماجی جبر کی حیثیت میں سامنے آئے ہیں۔ سورت النور میں مذکور مکاتب، گلوبلایزیشن کی پیدا کردہ منفی صورتِ حال کے متاثرین، مومنین سے مماثل معلوم ہوتے ہیں جو اپنی آزادی کے حصول کے لیے انتہائی بے چارگی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، لیکن افسوس! ان کے آقاؤں کے دماغ فرعونیت سے معمور ہیں۔اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کی عالم گیر توسیع نے مادی آسایشوں کا پر فریب جال بن کر مومنین کے لیے مناکحت کو بھی مشکل ترین بنا دیا ہے اور اب اس کے جبر تلے بدکاری خوب پھل پھول رہی ہے۔ لہٰذا مومنین کے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے نکاح میں حایل رکاوٹوں کا سدِ باب ، (اطلاقی سطح پر) مومن گردن آزاد کرنے کے مماثل ہو سکتے ہیں، جس کی ایک صورت اجتماعی شادیوں کی تقاریب بھی ہیں جن کا اہتمام عام طور پر کوئی صاحبِ ثروت کرتا ہے اور دستِ تعاون بڑھانے والا یہ فرد قرآنی حکم: فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ، وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ، فَکُّ رَقَبَۃٍ، أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ، یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ، أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ ]’’مگر اس نے دشوار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی، اور آپ کیا جانیں کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے، وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقہ کے دنوں میں کھانا کھلانا، کسی قرابت دار یتیم کو، یا کسی خاک سار مسکین کو ‘‘ (البلد۹۰:۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶)[ کی بجا آوری کی لایقِ تحسین کوشش کرتا ہے۔ سورت البلد۹۰ کی (اور ان سے مماثل) آیات پر غور کیجیے کہ ان میں نہ تو کسی خطا کے کفارے وغیرہ کے طور پر حکم دیا گیا ہے بلکہ فرد کی عمومی اخلاقی حس کو انگیخت کیا گیا ہے کہ اسے سماجی مسایل کی تحدید کی کوشش کرتے رہنا چاہیے، اورنہ ہی غلام یتیم مسکین کے لیے ’مومن‘ ہونے کی قید لگائی گئی ہے، جس سے شارع کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کو مسلم غیر مسلم کی تفریق میں الجھے بغیر عمومی سماجی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے شارع نے (قتلِ خطا کی سزا کے طور پر ’مومن‘ گردن آزاد کرنے کے تاکیدی حکم کے ذریعے)، عمومی سماجی اصلاح سے ایک درجہ بڑھ کر خاص مومنین کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے، جس کی ایک ضمنی جھلک سورت النور۲۴ آیات ۳۲، ۳۳ میں بدکاری کی روک تھام اور نکاح کی ترغیب کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔ لہٰذا فرمانِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں دینِ اسلام کے امتیازی وصف ’حیا‘ کی سماجی قدروقیمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، سورت النور کے مطابق نکاح پر زور اور حتیٰ کہ لونڈیوں تک کو بد کرداری سے بچانے کے قرآنی مقصود کی تحصیل کی خاطر، معاصر سماج کی ان مکروہ فصیلوں کو ذہن میں لایے جو نکاح کے انسانی اختیار کو محدود سے محدود کرتے ہوئے صلاۃ جیسی بنیادی عبادت کے مقصود کو بھی پسِ پشت ڈالتے ہوئے منکرات و فواحش کو فروغ دے رہی ہیں اور(تکلف برطرف) تاحال فقیہِ شہر کو مسلسل للکار رہی ہیں اور فقیہِ شہر ہے کہ لمبی تان کر سو رہا ہے۔ 


زیرِ نظر آیت میں قاتل کے لیے گردن کی آزادی اور روزوں کے حکم کو عام طور پر کفارہ کے معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کفارہ کے معنی لیے جا سکتے ہیں تو مقتول کے ورثا کو دیے گئے حکم میں سے لیے جا سکتے ہیں۔ دیت کے بیان کے ضمن میں الا ان یصدقوا کا بیان مقتول کے ورثا کے لیے انتہائی ترغیب کی علامت ہے۔ سورت المائدۃ ۵آیت۴۵ میں فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ کے بیان سے صراحت ہوتی ہے کہ صدقہ، کفارہ بن جاتا ہے۔ النساء۴ آیت ۹۲ کے اختتام سے پہلے تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ کا بیان کافی اہم ہے ۔ اگر المائدۃ ۵ آیت ۴۵ کے بیان فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ کے ساتھ اس کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ ، صدقے کا نتیجہ ہے جبکہ یہاں توبہ کسی عمل کا نتیجہ نہیں ، بلکہ عمل بنفسہ توبہ ہے ۔ اس لیے توبہ کو کفارے کے معنی میں لینا مناسب نہیں ہے ۔نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ندامت ، توبہ ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی حدیث ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص خطا کرے کوئی سی خطا ، یا گناہ کرے کوئی سا گناہ ، اس کے بعد نادم و شرمندہ ہوجائے تو وہ اس کا کفارہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر توبہ بندے کی طرف سے ہو تو اس میں ندامت لازماََ پائی جاتی ہے اور یہ ندامت اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔ لہٰذا اگر زیرِ نظر آیت میں قتلِ خطا کے مرتکب کی طرف سے توبہ کا بیان پایاجاتا تو اسے کفارہ کہا جا سکتا تھا۔ لیکن تَوْبَۃً مِّنَ اللّہ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں توبہ بندے کی طرف سے نہیں ہے ۔ بندے کی طرف سے توبہ کرنے کے قرآنی بیان کی دو مثالیں ملاحظہ کیجیے ، جن سے تنقیح میں مدد ملے گی : تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَۃً نَّصُوحاً (التحریم ۶۶/۰۸)، فَإِن یَتُوبُواْ یَکُ خَیْْراً لَّہُمْ (التوبۃ ۰۹/۷۴)۔ اب اس بیان پر نظر ڈالیے جہاں اللہ کی طرف سے بندے کی توبہ قبول کرنے کا بیان ہوا ہے: 

أَلَمْ یَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبۃ ۹/ ۱۰۴)
’’ کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دستِ قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ‘‘ 

یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ  پر غور کیجیے کہ اللہ اپنے بندوں کی ندامت و پشیمانی کو قبول کرتا ہے ، لیکن قبولیت کا یہ عمل اللہ کی رحمت کے بغیر نہیں ہوتا: وَأَنَّ اللّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ ا س کا مطلب یہ ہوا کہ بندے کی طرف سے توبہ ، ندامت کی علامت ہے ، اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت ، رحمت کا اظہار ہے ۔یعنی توبہ کر کے بندہ اللہ کی رحمت کا حق دار بن جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ اگر بندہ توبہ نہیں کرتا تو نہ صرف اللہ کی رحمت کا حق دار نہیں بنتا بلکہ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے جیسا کہ یہاں بیان ہوا : 

فَإِن یَتُوبُواْ یَکُ خَیْْراً لَّہُمْ وَإِن یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْہُمُ اللّہُ عَذَاباً أَلِیْماً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ (التوبۃ ۰۹/۷۴)
’’ تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے اور اگر منہ پھیریں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا ‘‘

عذاب کے مقابل رحمت کے معنی میں توبہ کی یہ دو مثالیں دیکھیے : 

وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللّہِ إِمَّا یُعَذِّبُہُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْْہِمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ ۹/ ۱۰۶)
’’ اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے ، یا ان پر عذاب کرے ، یا ان کی توبہ قبول کرے ، اور اللہ علیم حکیم ہے۔‘‘ 
لِیُعَذِّبَ اللَّہُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ وَیَتُوبَ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَکَانَ اللَّہُ غَفُوراً رَّحِیْماً (الاحزاب ۳۳ / ۷۳)
’’ تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور اللہ نظر توجہ مبذول فرمائے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ، اور اللہ غفور رحیم ہے‘‘ 

غور کیجیے کہ الاحزاب ۳۳ / ۷۳ کے مانند قرآن مجید میں ، جہاں جہاں اللہ کی طرف سے توبہ قبول فرمانے یا توجہ مبذول کرنے کا بیان ہو اہے، ان میں سے اکثر مقامات پر اللہ کی رحمت و مغفرت کا باقاعدہ ذکر ہوا ہے ، مثلاً: لَقَد تَّابَ اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ۹/۱۱۷)، ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوبُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبۃ ۹/ ۱۱۸)، فَتَابَ عَلَیْْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ ۲/۳۷)، فَتَابَ عَلَیْْکُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ۲/۵۴)، وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ۲/۱۲۸)، ثُمَّ یَتُوبُ اللّہُ مِن بَعْدِ ذَلِکَ عَلَی مَن یَشَاءُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ ۹/۲۷)۔

اب النساء ۴/۹۲ میں مذکورتوبۃ من اللہ کی معنویت پر غور فرمائیے۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ ہے، یعنی اللہ نے بندے کی طرف توجہ مبذول فرمائی ہے، بندے کے توبہ کرنے کی وجہ سے نہیں جیسا کہ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ اپنی خاص صفت (رحمت)کے اظہار کے لیے۔یعنی پہل بندے کی طرف سے نہیں ہوئی کہ اس نے توبہ کرلی تو رحیم غفور نے اس کی توبہ قبول کر لی۔ بلکہ پہل اللہ کی طرف سے ہوئی ہے ، چونکہ پہل اللہ کی طرف سے ہوئی ہے اس لیے ندامت و پشیمانی والے پہلو کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ نظر اس کی رحمت پر ہی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے رحمت کا اظہار کرتے ہوئے قتلِ خطا کی مختلف صورتوں کے لیے احکامات دے دیے ہیں ، یا حکم دینے کے عمل میں رحمت کوملحوظ رکھا ہے۔

سطورِ بالا میں ذکر ہوا کہ جہاں توبہ کا بیان اللہ کی طرف سے ہوا ہے (بمعنی رحمت ) وہاں آیات کا خاتمہ رحمت و مغفرت کے باقاعدہ بیان سے ہوا ہے، لیکن زیرِ نظر آیت میں ایسا نہیں ہوا۔ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ، غَفُورٌ رَّحِیْمٌ کے بجائے عَلِیْماً حَکِیْماً کے الفاظ سے آیت مکمل ہوتی ہے ۔ ہمارے علم کے مطابق توبۃ من اللہ کی ترکیب ، پورے قرآن میں منفرد استعمال ہوئی ہے ۔ اس سے توبۃ من اللہ میں مضمر یہ لطیف نکتہ سامنے آتا ہے کہ من اللہ کے الفاظ آیت کی تکمیل میں التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ، غَفُورٌ رَّحِیْمٌ کی عدم موجودگی کی کمی دور کر کے ان کا مصداق بنتے ہیں۔ 

اب ذرا فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ کا البقرۃ آیت ۱۷۸ کے اس حصے ( فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ) کے ساتھ تقابل کریں تو معلوم ہو گا کہ توبۃ من اللہ رحمت کے علاوہ تخفیف کے معنی بھی لیے ہوئے ہے کہ مومن گردن آزاد کرنے کی کوئی راہ نہ پانے کی صورت میں تخفیف کرکے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم (رحمت کا اظہار کرتے ہوئے ) دے دیا گیا۔ لیکن اس تعبیر کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ اور فَمَن لَّمْ یَجِدْ کے زیادہ گہرے تقابلی مطالعے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فمن لم یجد کے ذکر سے قبل ، مومن گردن آزاد کرنے کا تاکیدی بیان اور فمن عفی لہ سے قبل کسی تاکیدی بیان کی عدم موجودگی، (توبۃ من اللہ) میں (مفروضہ) تخفیف کی نفی کرتی ہے۔ 

آیت کے اختتام پر اللہ کے علیم و حکیم ہونے کا بیان محض خانہ پری کے لیے نہیں، بلکہ اس سے مومن گردن آزاد کرنے کے تاکیدی حکم کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ چونکہ اللہ علیم ہیں اس لیے قتلِ خطا کی صورتِ حال سے بخوبی واقف ہیں اور چونکہ اللہ حکیم ہیں، اس لیے صورتِ حال کے موافق سزا کا بیان اور خاص طور پر تاکیدی پہلو پر زور، اللہ کی حکمت کا مظہر ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ جب ایک خطا کی تلافی میں ، اللہ نے اپنی رحمت کا اظہار کرتے ہوئے ، انفرادی اور اس سے منسلک معاشرتی اصلاح کی راہ دکھائی ہے تو جو اس کے بعد اپنے تئیں خوامخواہ ہی ، مومن گردن آزاد کرنے کے حکم کی تعمیل کے بجائے دو ماہ کے روزے رکھنے کو ترجیح دے ، تو اچھی طرح جان لے کہ اللہ علیم و حکیم ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ کی ان صفات کو چیلنج کرتا ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ فمن لم یجد اور وَکَانَ اللّہُ عَلِیْماً حَکِیْماً میں یک گونہ داخلی تعلق پایا جاتا ہے۔ 


النساء۴ آیت ۹۲ کی تفہیم کے ضمن میں ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قتلِ خطا میں مکمل معافی کی گنجایش اس طرح نہیں رکھی، جس طرح البقرۃ۲ آیت ۱۷۸ اور المائدۃ ۵ آیت ۴۵ میں (سنگین صورتِ حال کے باوجود) نہ صرف گنجایش رکھی ہے بلکہ ترغیبی انداز میں اسی کو اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر قتلِ خطا کسی دوسری نوعیت کے قتل سے کس حوالے سے اتنا مختلف ہے کہ اس کی سزا باقی رکھی گئی ہے اور دیگر میں مکمل معافی کی ترغیب دی گئی ہے؟ اگر قارئین ان اخلاقی دلالتوں کو ملحوظ رکھیں جن کا اجمالی ذکر ہم نے اپنے مضمون ’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘ میں کیا ہے( دیکھیے ماہنامہ الشریعہ ستمبراکتوبر۲۰۰۸،فروری۲۰۰۹ )، تو یہ نکتہ سامنے آئے گا کہ شارع نے احکام دیتے ہوئے انسانی احوال و ظروف کو خاص طور پر پیشِ نظر رکھا ہے۔ انسانی سماج میں ’تعامل‘ کے باعث شعوری سطح پر جھگڑوں کا پیدا ہونا اور ان جھگڑوں کا اس قدر پھیل جانا کہ نوبت قتل تک جا پہنچے، بعید از قیاس نہیں۔ لیکن چونکہ قتلِ خطا میں انسان کی غیر شعوری سطح ، شعوری سطح پر غلبہ پا کر جرم کرواتی ہے، اس لیے اس بے اختیاری (جسے ہم اپنی آسانی کے لیے غیر ذمہ داری اور ایک حد تک بے راہ روی بھی کہ سکتے ہیں) کی پاداش میں شارع نے ایسی سزا باقی رکھی ہے جس کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ انسان کو اپنے فعل کی بابت ہمیشہ ’بااختیار‘ ہی ہونا چاہیے۔ شارع کی مقرر کردہ سزا کی نوعیت، ایک اعتبار ہمارے موقف کو داخلی شہادت فراہم کر تی ہے۔ آخر ایک شخص جو خود راہ پر نہیں رہا ، ایک راہ والے (مومن غلام) پر کیسے تصرف رکھ سکتا ہے؟ پھر مومن گردن آزاد کرنے کے تکراری حکم پر غور کیجیے کہ ایک جہت سے یہ حکم اصرار و تاکید لیے ہوئے ہے اور دوسری جہت سے(ایک با اختیار) مومن مقتول کے بدلے (ایک بے اختیار) مومن غلام یا لونڈی کواختیار تفویض کرتا ہے اور تیسری جہت سے صراحت کرتا ہے کہ کوئی بے اختیار شخص (قتلِ خطا کا مرتکب) بے اختیار شخص(غلام و لونڈی) کی بابت بااختیار نہیں ہو سکتا(اس لیے اصولاََ اس کے نام نہاد اختیار سے تمام غلاموں لونڈیوں کو آزاد کیا جانا چاہیے)۔ لہٰذا اگر کوئی بے اختیار شخص(قتلِ خطا کا مرتکب) ، بے اختیار ہوتے ہوئے بھی غلام نہیں بلکہ آزاد کہلواتا ہے، تو اسے کم از کم ایک بے اختیار (غلام یا لونڈی) کو تو لازماََ آزاد کر کے اپنے غلاموں جیسے عمل کی تلافی کرنی چاہیے۔ چوتھی جہت سے یہ حکم آزاد ہونے والے غلام سے توقع کرتا ہے کہ بااختیار ہونے کے بعد وہ اپنے مالک کی سی غلطی نہیں دہرائے گا یعنی اختیار سے بے اختیاری کی طرف مراجعت نہیں کرے گابلکہ معاشرے کا ذمہ دار فرد بن کر زندگی بسر کرے گا۔ سورۃ الانعام کی یہ آیت قتلِ خطا کے مرتکب اور آزادی پانے والے غلام ، دونوں (بے اختیاروں)پر یکساں منطبق ہوتی ہے، غور فرمائیے: 

أَوَ مَن کَانَ مَیْْتاً فَأَحْیَیْْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاسِ کَمَن مَّثَلُہُ فِیْ الظُّلُمَاتِ لَیْْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِیْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (الانعام۶:۱۲۲)
’’جو شخص مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اس کے لیے ایسا نور مقرر کر دیا جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کیا یہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیریوں میں ہے ان سے نکلنے والا نہیں، کافر جو عمل کرتے ہیں وہ ان کے لیے اسی طرح مزین کر دیے گئے۔‘‘ 

قصہ آدم و ابلیس میں بھی فرشتوں کا بیان: قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء (البقرۃ۲:۳۰)،انسانی شعوری سطح پر متوقع، انتہائی جارحیت کا بیان ہے۔ فرشتوں کے خدشے کے جواب میں قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (البقرۃ۲:۳۰) کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ اللہ رب العزت کو بشری شعورکی ایسی جارحیت جو اسے بے اختیاری و بے علمی کی سطح پر لے آئے، قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ متصل آیت میں ہی متوقع انسانی جارحیت سے پھوٹتی امکانی بے اختیاری کی تحدید کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا (البقرۃ۲:۳۱)۔ اس متوقع جارحیت کے عملی احوال کی تصویر کشی قرآن مجید میں دیگر مقامات پر ’’فساد فی الارض اور فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے‘‘ جیسے اسالیب میں کی گئی ہے۔اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ فساد فی الارض برپا کرنے والی ذہنی حالت اور قتلِ خطا کے دوران میں طاری ذہنی حالت ، انسانی ذہن کی ایسی مخالف بُعدوں کی عکاس ہیں ، جن کی ساخت و ماہیت مختلف ہوتے ہوئے بھی (تقریباً) یکساں اثرات مرتب کرتی ہے۔ زمین میں فساد کرنے والی ذہنی حالت ، شعوری جارحیت کی انتہائی صورت میں انسانی بے اختیاری کو ظاہر کرتی ہے کہ ایسی حالت میں انسان کا اٹھایا گیا کوئی بھی قدم اس کے بشری شعور (یعنی، وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا ) کی مطابقت میں نہیں ہوتا، لہذا نتیجے کے اعتبار سے انسان کا بے اختیار ہونا ظاہر کرتا ہے، جہاں انسان جانتے بوجھتے ایک ایسی راہ پر چل نکلتا ہے جو اسے بے اختیاری کی منزل پر لے جاتی ہے۔ اس سارے عمل کو عمداََ خطا کرنے سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں خطا کی اس نوع کے نمونے ملاحظہ کیجیے:[ البقرۃ۲:۸۱، النساء۴:۱۱۲، الاسراء۱۷:۳۱، القصص۲۸:۸، الحاقۃ۶۹:۹،۳۷، نوح۷۱:۲۵، العلق۹۶:۱۶]۔ لیکن قتلِ خطا ، خطا کی مذکورہ نوع سے دو حوالوں سے مختلف ہے ایک تو یہ کہ اس عمل میں انسان جانتے بوجھتے ایسی راہ کا انتخاب نہیں کرتا جو اسے بے اختیاری سے ہم کنار کر دے۔دوسرا یہ کہ اس میں عمل بنفسہٖ ، بے اختیاری ظاہر کرتا ہے نہ کہ عمل کا نتیجہ۔اس لیے قتلِ خطا کا محرک، بھول چوک اور ایک حد تک غیر ذمہ داری (اور قدرے بے راہ روی) میں تلاش کیا جا سکتا ہے، جبکہ فرعونی خطا کے پیچھے فرعونیت کارفرما ہوتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ہر دو مقامات پر محرکات کے شدید اختلاف کے باوجود بشری شعور (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا) کی نفی پائی جاتی ہے۔ ایک مقام پر شعوری نفی اور دوسرے مقام پر غیر شعوری نفی، جو شارع کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ اسی لیے شارع نے سزا دیتے ہوئے (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا) کی نفی کیے جانے کا بھر پور التزام رکھا ہے، چاہے یہ نفی شعوری ہو یا غیر شعوری ۔ لہٰذا ہر دو مقامات پرمختلف النوع منفی انسانی صورتِ حال کے تدارک اور روک تھام کے لیے شارع نے معافی کی گنجایش رکھے بغیر حکامات دیے ہیں۔ یہیں پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ چونکہ البقرۃ ۱۷۸ اور المائدۃ ۴۵ میں بشری شعور (وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا) کی نفی اس طور نہیں پائی جاتی جو جارحیت کی انتہائی سرحدوں کو چھوتے ہوئے مذکورہ شعوری نفی کے دائرے میں شامل کی جا سکتی ہو، اور نہ ہی یہ غیر شعوری نفی کے احاطہ میں سما سکتی ہے بلکہ بشری شعور کے ( تقریباً) موافق ٹھہرتی ہے ، اس لیے شارع نے یہاں (البقرۃوالمائدۃمیں) سزا تجویز کرتے وقت مکمل معافی کی پوری گنجایش(بلکہ ترغیب) رکھی ہے۔

اس بحث سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ شارع کو بشری شعور کی مطابقت میں انسانی اعمال کے ظہور سے خاص دلچسپی ہے۔ جہاں کہیں انسانی اعمال، بشری شعور سے روگردانی کرتے ہیں، افراط و تفریط کا شکار ہوتے ہیں، ، وہاں انہیں، کہیں تنبیہ کہیں سرزنش اور کہیں سزا کے ذریعے(ذمہ دارانہ) نقطہ اعتدال پر لانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ بشری شعور سے ملنے والی آزادی سے ذمہ داری برآمد ہوتی ہے۔ آزادی ملتے ہی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے اور آزادی کا دائرہ جوں جوں پھیلتا ہے توں توں ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے۔اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے آزادی سکڑتے سکڑتے غلامی کے درجے تک جا پہنچتی ہے۔ سورۃ البلد میں بشری شعور سے موافق، انسانی آزادی کا بیان ہوا ہے:

وَہَدَیْْنَاہُ النَّجْدَیْْنِ (البلد۹۰:۱۰) 
’’اور اسے دو راہیں دکھلا دیں۔‘‘

اس کے بعد اس آزادی کو ملزوم ذمہ داری کا بھی واضح ذکر کیا گیا ہے: 

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃ،َ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃ،ُ فَکُّ رَقَبَۃ،ٍ أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ، یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ، أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ (البلد۹۰:۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶)
’’مگر اس نے دشوار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی، اور آپ کیا جانیں کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے، وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقہ کے دنوں میں کھانا کھلانا، کسی قرابت دار یتیم کو، یا کسی خاک سار مسکین کو‘‘ ۔

بحث کے اس مقام پر یہ لطیف نکتہ سامنے آتا ہے کہ شارع کے نزدیک (بشری شعور کے حامل) آزاد انسان کو بغیر کسی حیل و حجت بغیر کسی دباؤ بغیر کسی کفارے وغیرہ کے، اتنا ذمہ دار ہونا چاہیے کہ وہ فقط بشری شعور کے تتبع میں، کوئی گردن چھڑائے، کسی فاقے کے مارے کو کھانا کھلائے، کسی رشتہ دار یتیم اور مسکین کے سر پر دستِ شفقت رکھے۔ قتلِ خطا وغیرہ میں (سزا و کفارہ کے طور پر) ان امور کی(قانوناً) انجام دہی کا بیان، درحقیقت اس مقصد کے لزوم کو ابھارنا ہے جو شارع کو(اخلاقاً) سماجی سطح پر مطلوب و مقصود ہے۔ کسی کو شک ہو تو سورت الماعون۱۰۷ پر غور و فکر ضرور کرے: 

أَرَأَیْْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن، فَذَلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ، وَلَا یَحُضُّ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ، فَوَیْْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ، الَّذِیْنَ ہُمْ عَن صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ، الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَاؤُونَ، وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ
’’بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے ، یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور کسی غریب کو کھانا دینے پر لوگوں کو آمادہ نہیں کرتا، سو ایسے نمازیوں کے لیے خرابی ہے، جو اپنی نماز سے بے اعتنائی برتتے ہیں، جو دکھاوے سے کام لیتے ہیں، اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے‘‘

اگرسورت الکافرون ۱۰۹ کی تکمیلی آیت لکم دینکم و لی دین کواس سورت کی پوری معنویت ملحوظ رکھتے ہوئے، سورت الماعون کی آیت ارءیت الذی یکذب بالدین کے ساتھ اس سورت کی پوری معنویت کے تناظر میں سمجھا جائے تو بتائیے کہ دین کس صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے؟ دین کی عبادات و رسومات پر بے جا زور دینے والے علماے کرام اور مبلغینِ اسلام کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ 


قتلِ خطا کے عمل کے دوران میں طاری اور اس کا سبب بننے والی مخصوص داخلی نفسی اور ذہنی حالت کا تجزیہ قاتل کے عدم علم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ اشارہ آیت کے تکمیلی الفاظ عَلِیْماً حَکِیْماً کی ایک اور معنوی پرت سامنے لاتا ہے۔ البقرۃ ۲ آیت ۱۳۸: صِبْغَۃَ اللّہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّہِ صِبْغَۃً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدون کا فہم ذہن میں رکھتے ہوئے قاتل کے عدم علم اور تکمیلی الفاظ عَلِیْماً حَکِیْماً پر ذرا غور تو کیجیے۔ 


قتلِ خطا کی سزا کے ضمن میں مومن گردن آزاد کرنے پر اصرار اور تاکید اس لحاظ سے کافی اہم ہے کہ اس کے علاوہ جہاں کہیں گردن آزاد کرنے کا حکم آیا ہے ’مومن‘ کی قید نہیں لگائی گئی، مثلاً: البقرۃ۲: ۱۷۷، المائدۃ۵: ۸۹، التوبۃ ۹:۶۰، البلد۹۰:۱۳۔ ان مقامات پر گردن آزاد کرنے کی وجہ (قتلِ خطا کے مانند) کوئی غیر شعوری طرزِ عمل بھی نہیں۔ سورۃ المجادلۃ ۵۸ آیت۳ کو ہی لیجیے: 

وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُونَ مِن نِّسَاءِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا ذَلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ 
’’ اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو میاں بیوی کے مل بیٹھنے سے قبل ایک غلام آزاد کرنا ہو گا تمہیں اسی بات کی نصیحت کی جاتی ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘ 

لہٰذا خاص طور پر قتلِ خطا کے حوالے سے’ مومن‘ گردن آزاد کرنے کا حکم ، صرف حکم نہیں بلکہ تاکیدی حکم ، آزادی و ذمہ داری کے مذکورہ دائرے کی ایسی مثالی توسیع پر دلالت کرتا ہے جس کے مطابق خاص طور پر مسلم سماج کو علم کی بنیاد پر ذمہ دارانہ آزادی جیسی بنیادی بشری قدر سے متصف کر کے ’بہترین امت‘ میں ڈھالنا اور دنیا کی مثالی راہنمائی کے قابل بنانا مقصود ہے۔ 


سورۃ البقرۃ آیت ۲۸۶ میں (رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا) کا بیان، العنکبوت آیت ۱۲ (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لِلَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَایَاکُمْ وَمَا ہُم بِحَامِلِیْنَ مِنْ خَطَایَاہُم مِّن شَیْْءٍ ٍ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ) کی تنقیح و تصریح لیے ہوئے ہے کہ بشری غیر ذمہ داری کی ذمہ داری متعلقہ بشر ہی اٹھا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بشر کو خود ذمہ داری اٹھانے پر، معاف کیے جانے کا مژدہ بھی سنا دیا جاتا ہے: وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا (البقرۃ۲:۲۸۶)۔ قصہ آدم و ابلیس کے مطابق بھی جب حضرت آدم ؑ بھول کر عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو انہیں معافی کا سندیسہ مل جاتا ہے۔ اس لیے قتلِ خطا جیسے (بھول وغیرہ پر مبنی)غیر ذمہ دارانہ فعل کی ذمہ داری بھی قاتل کو لازماََ اٹھانی چاہیے کہ اس سے گریز ، عمداََ غیر ذمہ داری (بمعنی شعوری جارحیت) کی طرف لے جائے گا اور صورتِ حال کو خطرناک حد تک بگاڑ دے گا۔ لہٰذا بے اختیاری میں کیے گئے فعل کا ذمہ اٹھانے کے بجائے اگر انسان خاموش رہے جس کے نتیجے میں کسی بے قصور پرخوامخواہ وبال آ پڑے یا قتلِ خطا کا مرتکب اپنا فعل کسی دوسرے کے سر منڈھنے کی کوشش کرے تو جان لے کہ: 

وَمَن یَکْسِبْ خَطِیْءَۃً أَوْ إِثْماً ثُمَّ یَرْمِ بِہِ بَرِیْئاً فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً (النساء۴:۱۱۲)
’’ اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے تو اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا ‘‘ 

نتیجتاً اسے معافی کے سندیسے (توبۃ من اللہ) سے محروم کر کے فرعونی خاطئین کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔


اگر النساء۴ آیت ۹۲ کی تفہیم کے ضمن میں اس نکتے کو ملحوظ رکھا جائے کہ اللہ رب العزت نے قتلِ خطا میں مکمل معافی کی گنجایش اس طرح نہیں رکھی، جس طرح البقرۃ۲ آیت ۱۷۸ اور المائدۃ ۵ آیت ۴۵ میں نہ صرف گنجایش رکھی ہے بلکہ ترغیبی انداز میں اسی کو اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی ہے ، تو اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں (النساء۴ آیت ۹۲ میں) قرآنی منشا کے مطابق مقتول پارٹی کو صدقہ کرنے کا اختیار لازماََ دیا جانا چاہیے لیکن قاتل کی بابت شارع کی حساسیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قتلِ خطا کا مرتکب اگر امیر کبیر شخص ہو تو مقتول پارٹی سے معافی ملنے کے باوجود ، ریاستی نظم میں ذمہ داری کے عنصر کو فروغ دینے کی خاطر اس سے دیت لے کر صدقہ کے قرآنی مصارف پر خرچ کر دی جانی چاہیے۔ کیوں کہ جب خدا نے معاف نہیں کیا اور غیر ذمہ داری و عدم علم پر کم ازکم سزا دو ماہ کے مسلسل روزے متعین کی ہے تو خدائی نظام کے نفاذ کی ذمہ دار کوئی بھی ہیئت اجتماعی(جسے آج کل ریاست کہتے ہیں) ایسی غیر ذمہ داری سے کیوں کر صرفِ نظر کر سکتی ہے؟ لیکن خیال رہے کہ ایسا اختیار صرف ایسے ریاستی نظم کے تحت ہی عمل میں جا سکتا ہے جو صحیح معنوں میں خدائی منشا کی نمائندگی کر رہا ہو۔

قرآن / علوم قرآن