شوق سفر تا حشر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(سید افضل حسین مرحوم کے مجموعہ کلام ’’منزل آوارگاں‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔)


سید افضل حسین مرحوم سے ناچیز کی براہ راست تو کوئی شناسائی نہیں لیکن ان کے فرزند سید وقار افضل سے نیاز مندی کے توسط سے مرحوم کی شخصیت سے واقفیت کا سلسلہ ضرور شروع ہوا ہے۔ جناب وقار افضل کی وضع داری اور ان کی گفتگو کاربط وضبط ہمیں کافی حد تک ان کے پدر محترم کا خاکہ فراہم کر دیتا ہے کہ بیٹا ایسا ہے تو مرحوم خود کیسے ہوں گے، لیکن ’’منزل آوارگاں‘‘کے منظر عام پر آنے سے ان کے شخصی خاکے کو تکمیل رنگ تو ملا ہی ہے، ہم جیسوں کے لیے بھی یقیناآسانی پیدا ہوگئی ہے۔ 

اس شعری مجموعے کا خالق شخص بلاشبہ ایسی نفسیات کا حامل ہے جس کے ہاں روایات اور تہذیبی اقدار ہر شے پر فوقیت رکھتی ہیں۔ سرسری مطالعے سے ہی کسی بھی قاری کو جہاں غزل کی کلاسیکل روایت سے سابقہ پڑتا ہے، وہاں تشبیہات، استعارے اور علامات کا فارسی پس منظر ان کی روایت پسندی پر مہر تصدیق ثبت کرنے آن موجود ہوتا ہے۔ سید افضل مرحوم نے لفظ ’شوق‘ کثرت سے استعمال کیاہے۔ ’شوق نگاہ‘ سے ’شوق سفر‘ تک اس لفظ کی جتنی معنوی پرتیں ہیں، انہوں نے کمال شوق سے انہیں کھولنے کی خوبصورت کاوش کی ہے۔ لفظ شوق سے بھی ازخود کلاسیکل روایت سے نبھاؤ کا سبھاؤ جھلکتا ہے۔ طوالت سے بچنے کی خاطر شعروں کا حوالہ دینے کے بجائے چند تراکیب کے تذکرے پر اکتفاشاید کافی ہو گا: لمحہ شوق، کاروبار شوق ، شوق دل، شوق سفر، مکتوب شوق، چراغ شوق، داستان شوق، منتہائے شوق، شوق سحر، عرض شوق، شوق گل، شوق وصل وغیرہ۔ اس کے ساتھ اگر معنوی اعتبار سے مشتق الفاظ و تراکیب کو بھی شامل کر لیا جائے تو یقیناً’عرض شوق‘ ’داستان شوق‘ میں ڈھل جائے گی کہ :

پھیلے تو تا ابد ہے جو سمٹے تو اک نظر
لمبی ہے عرض شوق بڑی مختصر بھی ہے

سید افضل حسین مرحوم کا شوق سفر اس اعتبار سے منفرد کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دوران سفر اردگرد کے حالات سے آنکھیں بند نہیں کیں۔ عموماً ہوتا یہی ہے کہ انسان اپنی توجہ اپنے مقصود پر مرکوز رکھتا ہے لیکن ہمارے شاعر نے بڑے خوبصورت پیرایے میں ان لوگوں کو وکالت کی ہے جو تاریک راہوں میں مارے گئے ؂

نشان منزل مقصود ہیں نہ یوں دیکھو
سبک خرامو حقارت سے رہ نشینوں کو

تاریخی اور معاشرتی تناظرمیں تجزیہ کرنے سے اس شعر کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ناکام یا پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی ناکامی سے ہی سبق سیکھ کر دانا لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر یہ رہ نشین نہ ہوں تو شاید نہیں بلکہ یقیناًسبک خراموں میں سے بعض کا نصیب رہ نشینی ٹھہرتا۔ مذکورہ شعر میں بائیو سوشل حوالے سے Survival of the Fittest پر نقدو گرفت بھی جھلکتی ہے۔

’منزل آوارگاں‘ کا خالق اگرچہ اعلیٰ شاعرانہ احساس رکھتا ہے لیکن معروضی جبر بھی اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہا کہ زندگی میں جو ہونا چاہیے، اپنی جگہ لیکن جو کچھ ہور ہا ہے اور ہوتا آیا ہے، اس سے نگاہیں نہیں چرائی جاسکتیں۔ اس حقیقت کے ادراک کے ساتھ ہمارا شاعر ایک طرف تو ہمیں فقط آم کھانے کو کہتا ہے اور دوسری طرف نہایت دھیمے لیکن تیکھے لہجے میں انہی رہ نشینوں کا نئے انداز میں ذکر کر دیتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے :

محفوظ کر نگاہوں کو گل ہائے تازہ سے
شاداب کس کے خوں سے ہوا گلستاں نہ پوچھ

’نہ پوچھ‘ کی ردیف نے معنویت کے ساتھ ساتھ شعریت کو بھی بے کراں کر دیا ہے۔ 

ایک غزل کا مقطع سید افضل حسین مرحوم کے تبحر علمی اور بھرپور تنقیدی شعور کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ؂

خوشی میں ڈھلنا کمال غم والم افضل
ہیں نالے خام جونغمات میں بدلتے نہیں

کہ کمال انتہا ہے اور کسی بھی چیز کی انتہا سے خود اس کی نفی ہو جاتی ہے مثلاً روشنی کی انتہا میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح رنج واندوہ اور غم والم کی انتہا خوشی وسرمستی ہی ہو سکتی ہے۔ یہاں ہمارے شاعر نے نکتہ دانی کا مظاہرہ تو کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ شاعری کی اس سطح پر بھی چوٹ کی ہے جس میں نغمگی ڈھونڈے نہیں ملتی۔ سید افضل کے نزدیک ایسی شاعری جذبات وخیالات کی سطحیت اور کچے پن پر دلالت کرتی ہے۔ اس غزل کا دوسرا شعر بھی قابل غور ہے کہ اس کے بین السطور سخن سرائی کے نئے امکانات جھلملا رہے ہیں ؂

لحاظ حسن کہ غارت گران گلشن بھی
گلوں کو توڑتے ہیں شاخوں سے مسلتے نہیں

ہمارے شاعر نے ایک مقام پر عُشاّق کی نفسیاتی کیفیت بڑی خوبی سے عیاں کی ہے۔ ایسا شخص جس نے کوچہ عشق میں قدم نہ رکھا ہو یا بہت کم مسافت طے کی ہو، وہ ایسے کہہ سکتا ہے کہ ع

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

لیکن ایسے احباب جو حسن وعشق کے معرکوں میں شریک رہے ہوں یا انہوں نے بہت گہرائی سے ان معرکوں کو پرکھا ہو، وہ سیّد افضل حسین کی آواز میں تائیدی آواز شامل کریں گے کہ ؂

ہم تڑپیں ہجرِ یار میں، وہ ہجرِ غیر میں
آخر کسی مقام پہ قسمت تو مل گئی

’’منزل آوارگاں‘‘ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے مزید کئی صفحات درکار ہوں گے۔ بیان کردہ چند سطریں بمشکل اشارہ کر پائی ہیں۔ لیکن یہ رائے دینا ہرگز مشکل نہیں کہ ’’منزل آوارگاں‘‘ اُردو ادب میں اس اعتبار سے گراں قدر اضافہ ہے کہ اس میں روایت کے رچاؤ کے ساتھ ساتھ جدید معاشرتی ونفسیاتی کیفیات کو سمویا گیا ہے۔ اس امتزاجی عمل کے دوران سیّد افضل حسین مرحوم نے نغمگی اور شعریت پر حرف نہیں آنے دیا۔ یہی اس مجموعے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ تنوع کے باوجود یہ بات کہنا چنداں مشکل نہیں کہ سید افضل حسین کی شاعری کا بنیادی حوالہ ’’شوق‘‘ہی ہے جو بہت معتبر بھی ہے ؂

کیا حاجتِ درا تھی ہمیں راہِ یار میں
شوقِ سفر تا حشر جگانے کو کم تھا کیا؟


ادبیات