مِتھ کی بحث پر ایک نظر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

محترمہ شاہدہ قاضی ، جو جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، ان کا روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والا ایک مضمون نہایت دلکش ترجمے کی صورت میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مئی ۲۰۰۵ کے شمارے کی زینت بنا۔ یہ مضمون مجموعی طور پر بہت عمدہ اور مضبوط دلائل پر مشتمل تھا ۔ محترمہ کے پیش کردہ بعض تاریخی حقائق میں ’افسانوی رنگ‘ ڈھونڈنے کی ’جسارت‘ روزنامہ ’جسارت‘ کے کالم نگار جناب شاہ نواز فاروقی نے کی۔ ’الشریعہ‘ نے بحث کے مختلف، متنوع اور متضاد پہلوؤں کو سامنے لانے کی درخشندہ روایت برقرار رکھی اور ’جسارت‘ کی جسارت کو جولائی کے شمارے میں من وعن قارئینِ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب یوسف خان جذاب کی وقیع اور دلکش تحریر شائع ہوئی، جس میں یوسف صاحب نے فاروقی صاحب کی جذباتیت کے خوب لتے لیے۔ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ طنز کی نشتریت کے باوجود، جذاب صاحب کا طرزِ استدلال خاصا متوازن تھا۔اکتوبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب ضیاء الدین لاہوری نے اپنے anti-Sir Syed fame کی لاج رکھی اور یوسف جذاب صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ مذکورہ چاروں افراد نے جس موضوع پر اظہارِ خیال کیا ہے، ہم اس کے باقی مندرجات میں الجھے بغیر بحث کے ایک نکتے یعنی متھ کی حقیقت پر مختصراًبات کریں گے۔ محترمہ شاہدہ قاضی کے نزدیک ’مِتھ‘ سے مراد ایسی غیر حقیقی اور لایعنی باتیں ہیں جو کسی معاشرے میں اساطیری روپ دھار لیتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ :

’’ نا معلوم زمانے سے انسان اپنی اساسات کی تلاش میں مصروف ہے ۔ وہ اس کوشش میں مصروف رہا ہے کہ قدیم زمانے کی داستانوں کی، جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں، کوئی حقیقی اور قابلِ فہم بنیاد تلاش کر لے ‘‘۔

محترمہ شاہدہ قاضی سے اختلاف کرتے ہوئے فاروقی صاحب نے آنند کمار سوامی کی بیان کردہ مِتھ کی تعریف اپنائی ہے جس کی رو سے مِتھ خیالی پلاؤ، ماضی کا افسانہ یا انسانی تخیل کی پرواز نہیں، بلکہ مِتھ سے مراد ایک ایسی حقیقت ہے جس کی حقیقی معنویت گم ہو گئی ہو۔ اس کے جواب میں یوسف جذاب صاحب نے آکسفرڈ ڈکشنری سے مدد لیتے ہوئے محترمہ شاہدہ قاضی کی بیان کردہ تعریف کو درست قرار دیا ہے ۔وہ بہت اصرار سے کہتے ہیں کہ :

’’ یہ علم کی دنیا ہے جس میں جیت ہمیشہ استدلال کی ہوتی ہے ۔ قارئین خود سوچیں کہ ’ مِتھ ‘ جھوٹ کے معنی میں معروف ہے یا کسی ایسی حقیقت کے معنی میں جس کی معنویت پنہاں ہو چکی ہو ؟ ‘‘ 

ہم گزارش کریں گے کہ فاروقی صاحب کی مانند یوسف صاحب نے بھی بعض جذباتی باتیں کی ہیں ۔ وہ سر سید کی خدمات کا تجزیہ کرنے میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے جس کے جواب میں محترم ضیاء ا لدین لاہوری کو بھی افراط و تفریط پر مبنی مضمون لکھنا پڑا۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں صاحبان ہمارے ہاں موجود دو انتہاپسند حلقوں کے نمائندہ محسوس ہوتے ہیں ۔ ایک کے نزدیک سر سید، مہدی زماں ہیں تو دوسرے کے نزدیک ان کا ایمان بھی مشکوک ہے ۔ ہماری تاریخ ایسے ہی انتہاپسندانہ رویوں سے بھری پڑی ہے جس میں کسی بھی چیز کو ہم اس کے صحیح مقام پر دیکھنے کے روادار نہیں۔ بہرحال یہ موضوع سرِ دست ہماری بحث سے خارج ہے۔ یوسف جذاب صاحب ’ مِتھ‘ کی ایک ایسی تعریف میں الجھ گئے جو ان کے نزدیک ’ معروف ‘ ہے، حالانکہ وہ اسی فقرے میں کہتے ہیں کہ یہ علم کی دنیا ہے جس میں جیت ہمیشہ استدلال کی ہوتی ہے ۔ یوں ایک ہی سانس میں جذاب صاحب نے دو متضاد باتیں کہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ علمی دنیا کے معروف اور معاشرتی معروف میں کافی فرق ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ’مِتھ‘ کی عام فہم اور مقبولِ عام تعریف وہی ہے جو یوسف جذاب صاحب نے بیان کی ہے۔ چنانچہ آکسفرڈ ڈکشنری میں بھی واضح طور پرمِتھ کو جھوٹ کے معنی میں لیا گیا ہے ، اس لیے کہ لغات میں عام طور پر کسی لفظ کے اسی مفہوم کو لیا جاتا ہے جسے لوگوں کی اکثریت سندِ قبولیت بخشتی ہو۔ اس کے برعکس دانش ورانہ سطح پر بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے اور قطعیت کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ یہ صرف آنند کمار سوامی ہی نہیں ہیں جو ’ معروف ‘ سے ہٹ کر مِتھ کی بے لغتی تعریف کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ’تفرد ‘ کے مرتکب ہوئے ہیں ، بلکہ ان سے پہلے اور بعد بھی کئی نامور مصنفین نے مِتھ کی نہایت مثبت تعریف کی ہے، بلکہ ہماری رائے میں تو اس کی کچھ نہ کچھ جھلک خود محترمہ شاہدہ قاضی کی تحریر میں بھی موجود ہے۔ فاروقی صاحب جذباتیت کی دھول میں اس جھلک کو نہیں دیکھ سکے۔ البتہ جذاب صاحب نے مِتھ کی مکمل بے لچک اور لغتی تعریف کی ہے۔ فاروقی صاحب کا طرزِ استدلال اگر یوسف جذاب جیسی بیان کردہ تعریف کی مخالفت میں ہوتا تو شاید کسی حد تک معقولیت کے دائرے میں شمار کیا جا سکتا ۔

مِتھ میں مثبت معنی تلاش کرنے کی کوشش فرانسس بیکن (۱۵۶۱۔۱۶۲۶) کے ہاں ملتی ہے ۔ اپنے مضمون سفنکس(The Sphinx) میں بیکن رقمطراز ہے کہ : 

’’ سفنکس ایک ایسا عفریت یا بلا تھی جس میں بہت سی شکلیں جمع ہو گئی تھیں۔ اس کی شکل اور آواز دوشیزاؤں جیسی تھی ، بازو پرندے کے اور پنجے سیمرغ جیسے تھے۔ وہ تھیبس کے قریب ایک پہاڑی کے پتلے سے ابھار پر رہتی تھی اور تمام راستوں پر نگاہ رکھتی تھی۔ وہ گھات لگاتی اور اچانک راہگیروں پر حملہ کرتی اور جب ان پر قابو پا لیتی تو ان سے پریشان کر دینے والی پہیلیاں بوجھنے کو کہتی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ پہیلیاں فنونِ لطیفہ کی دیویوں (Muses) سے حاصل کی تھیں ۔ اگر اس کے چنگل میں پھنسا ہوا قیدی فوری طور پر درست جواب نہ دے پاتا اور الجھا ہوانظر آتا تو وہ نہایت بے رحمی سے اس کے پرخچے اڑا دیتی ۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری تھا ۔ خاصی مدت گزر جانے کے بعد بھی اس آفت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تو اہلِ تھیبس نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کی پہیلیاں بوجھ لے گا، اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا ۔ چونکہ یہ بہت بڑا انعام تھا اس لیے ایڈی پس ، جو زیرک اوردانا تھا مگر لنگڑا کر چلتا تھا، سفنکس کی شرائط مان کر جان کی بازی لگانے کو تیار ہوگیا ۔ اس نے خود کو بڑے اعتماد اور خوش دلی کے ساتھ سفنکس کے سامنے پیش کیا۔ سفنکس نے اس سے پوچھا ، وہ کون سا جاندار ہے جو پیدائش کے وقت چوپایہ (Four Footed) ہوتا ہے ، پھر دو پایہ ہوتا ہے اس کے بعد سہ پایہ ہوتا ہے اور آخر میں ایک بار پھر چوپایہ ہو جاتا ہے ۔ ایڈی پس نے بغیر کسی تاخیر کے جواب دیا، وہ ( جاندار ) انسان ہے جو اپنی پیدائش کے بعد بچپن میں چاروں ہاتھ پاؤں سے گھسٹتا ہے اور بمشکل رینگنے کی کوشش کرتا ہے ۔ تھوڑی مدت میں دو پیروں پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے پھر بڑھاپے میں چھڑی تھامے ہوئے جھک کر چلتا ہے اور یوں لگتا ہے گویا وہ تین پیروں پر چل رہا ہے ۔ اپنی آخری عمر میں جب وہ بے حد بوڑھا ہو جاتا ہے ، ضعف و ناتوانی اس پر طاری ہو جاتی ہے اور قوت عطا کرنے والے سرچشمے سوکھ جاتے ہیں تو وہ پھر سے چوپایہ بننے کی ذلت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اپنے بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہتا ۔ یہ جواب بالکل صحیح تھا ۔ اس جواب کی وجہ سے اسے فتح حاصل ہوگئی ۔ اس نے سفنکس کو قتل کر دیا اور اس کی لاش گدھے پر لاد کر فاتحانہ انداز میں آگے بڑھا ۔ معاہدے کے مطابق اسے تھیبس کا بادشاہ بنا دیا گیا ‘‘ ۔

اب محترمہ شاہدہ قاضی کے ان الفاظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ’’وہ (انسان ) اس کوشش میں بھی مصروف رہا ہے کہ قدیم زمانے کی داستانوں کی ، جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں ، کوئی حقیقی اور قابلِ فہم بنیاد تلاش کر لے‘‘ بیکن کی درج ذیل تشریح پر غور کریں کہ اس نے سفنکس کے مذکورہ بالا قصے کو بلا کے معنی پہنا دیے ہیں اور اسے حقیقی نہ سہی ، کم از کم قابلِ فہم ضرور بنا دیا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے:

’’یہ بہت شاندار حکایت ہے ۔حکمت والی بھی ہے ۔ ظاہر ہے یہ اس لیے ایجاد کی گئی کہ سائنس کا استعارہ بیان ہو سکے۔ اس کا اطلاق خاص طور پر عملی زندگی پر ہوتا ہے ۔ سائنس ، جاہلوں اور بے ہنروں کے لیے عجوبہ ہے ۔ اس کو بے وقوفی سے عفریت نہیں کہا جانا چاہیے ۔ شماریات میں اور دیگر مختلف شعبوں میں اسے بہت سے چہروں والا ظاہر کیا جاتا ہے کیونکہ استعاراتی طور پر اس کا تعلق بے شمار معاملات سے ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا چہرہ اور آواز عورت کی سی ہے ، خوبصورتی اور پیرایہ اظہار میں وہ نسائیت رکھتی ہے ۔ پرندے جیسے بازوؤں کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ سائنس اور سائنس کی دریافتیں فوراً ہی پھیل جاتی ہیں ، گویا اڑ جاتی ہیں ۔ علم کی ترسیل اس طرح ہے جیسے ایک موم بتی سے دوسری موم بتی جلائی جاتی ہے اور فوراً ہی جل اٹھتی ہے ۔ تیز اور مڑے ہوئے پنجے جو اس کے ساتھ لگا دیے گئے ہیں ، بہت مرعو ب کرنے والے ہیں ۔ یہ اس لیے کہ سائنس کے کلیے اور استدلال دل میں اتر جانے والے ہیں اور ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ۔ جب ایک بار وہ دل میں اتر جائیں تو پھر ان سے فرار یا مفر ممکن نہیں ہوتا ۔ یہ وہ نکتہ ہے جو مقدس فلسفی کے علم میں بھی خاص طور پر ہوتا ہے ۔ دانش مند کے الفاظ مہمیز کی مانند ہوتے ہیں یا پھر کیل کی طرح ، جو اندر دور تک کھبا ہوا ہوتا ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ علم کے بارے میں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا مقام کسی اونچی پہاڑی پر ہی ہو گا ۔ وہ ( علم )اس بات کا حقدار ہے کہ اس کا احترام پر شکوہ اور جمالیاتی شے کے طور پر کیا جائے ، جو ایک باوقار بلند و بالا مقام سے جہالت پر حقارت کی نگاہ ڈالتا ہے ۔ اس کے چاروں طرف پھلنے پھولنے کی بہت گنجایش ہوتی ہے ، ویسے ہی جیسے پہاڑ کی چوٹیوں سے ہمیں نظر آتی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ علم ، راستوں کی نگہبانی کرتا ہے کیونکہ سفر کے ہر موڑ پر یا انسانی زندگی کے مقدس سفر میں ایسے معاملات اور مواقع کثرت سے آتے ہیں جب اپنے ارد گرد کو دیکھنے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ سفنکس ، انسانوں سے کئی نوعیت کے مشکل سوالات کرتی ہے ، یہ چیستان اس کو فنون کی دیویوں سے موصول ہوتے ہیں۔ یہ سوالات جب تک دیویوں کے پاس رہتے ہیں ، شاید ان میں کسی طرح کی سفاکی موجود نہیں ہوتی۔ جب تک اس کا مقصد محض اس قدر ہو کہ ان پر غور کرنا اور ان کو مطالعے میں لانا محض جاننے کی حد تک ہے تو نہ ہی فہم پر زور پڑتا ہے اور نہ ہی اسے سیدھا اور صاف کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، یہی کافی ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ آوارہ خیالی کر لی جائے یا تھوڑی بہت تشریح ہو جائے۔ اس صورتِ حال میں نتائج حاصل ہونا ضروری نہیں ، البتہ انتخاب کرنے کے لیے مواد بہت ہوتا ہے جس سے خوشی اور انبساط حاصل کیا جا سکتا ہے ، لیکن یہ مواد دیوی سے سفنکس کے پاس آ جاتا ہے تو گویا فکر و عمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی فوری عملی انتخاب اور فیصلے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ یہ گویا تکلیف اور بے رحمی کا آغاز ہوتا ہے اور جب تک ان کا حل تلاش کر کے ان سے چھٹکارا نہ پا لیا جائے ، وہ عجیب طریقے سے ذہن کو پریشان رکھتے ہیں ۔ کبھی ایک طرف کھینچتے ہیں کبھی دوسری طرف، اور یوں انسان کے پرخچے اڑا دیتے ہیں ۔ پھر یہ بھی ہے کہ سفنکس کی پہیلیاں اپنے ساتھ دوہری معنویت رکھتی ہیں۔ پریشان خیالی اور دل آزاری اس صورت میں ہے جب آپ انھیں حل نہ کر سکیں، اور اگر آپ کامیاب ہو جائیں تو ایک بھری بھرائی سلطنت مل جاتی ہے جو پوری طرح حاوی ہوتی ہے ۔ ہر کاریگر اپنے کام کا بادشاہ ہے ۔ 
سفنکس کی پہیلیاں مجموعی طور پر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک کا تعلق اشیا کی ماہیت کے ساتھ ہے اور دوسر ی کا رشتہ انسانی فطرت کے ساتھ ہے ۔ اس طرح ان پہیلیوں کو حل کرنے کی صورت میں دو طرح کی سلطنتیں انعام میں پیش کی جاتی ہیں ۔ ایک کا تعلق فطرت کے ساتھ ہے اور دوسری کا انسان کے ساتھ ۔ جب قدرتی اشیا پر قابو پا لیا جاتا ہے، جیسے اجسام ، ادویات ، میکانکی قوتیں اور اس قسم کی ان گنت چیزیں ، یہ قدرت فلسفے کا خاص اور حتمی مقصد ہے ۔ مگر وہ فلسفہ جس کا تعلق کلیسا کے مسلک سے ہے ، جو کچھ اسے حاصل ہوتا ہے وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اس بارے میں لمبی چوڑی باتیں شروع کر دیتا ہے ۔ اس عمل میں وہ یہ فراموش کر دیتا ہے کہ اسے حقائق اور اعمال کے بارے میں تحقیق بھی کرنی چاہیے۔ جو پہیلی ایڈی پس سے پوچھی گئی تھی ، جسے بوجھ کر وہ تھیبس کا بادشاہ بنا، اس کا تعلق انسانی فطرت سے ہے ۔ اگر کوئی شخص انسانی فطرت سے پوری آگاہی رکھتا ہو تو پھر وہ اپنی قسمت اپنی مرضی کے مطابق بنا سکتا ہے ۔ وہ گویا پیدایشی طور پر سلطنت کا حق دار ہے ، جیسا کہ رومنوں کے فنون کے متعلق کہا جاتا ہے :
کیا تم وہ فن ہو 
اے روم ، جو ایک نظام کے ذریعے قوم پر حکومت کرتا ہے 
اور جانتا ہے کہ کس کو چھوڑنا ہے اور کس کو گھیرنا ہے 
اور کس طرح دنیا کے اعمال کا فیصلہ کرنا ہے 
شاید اسی وجہ سے سیزر آگسٹس نے جان بوجھ کر یا اتفاق سے سفنکس کو اپنی مہر کے لیے چنا ۔ وہ یقینی طور پر سیاست کے فن کا بہت بڑا ماہر تھا ۔ اس جیسا شاید کوئی اور نہیں تھا اور اس نے اپنی زندگی میں انسانی فطرت کے بارے میں بہت سے معمے کا میابی سے حل کیے تھے ۔ اگر وہ چابک دستی سے فوراً انھیں حل نہ کر پاتا تو کئی بار ناگزیر خطروں میں گھِر کر تباہی سے ہم کنار ہو جاتا ۔ حکایت میں یہ بات بھی بہت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے کہ جب سفنکس کو مارگرایا گیا تو پھر اس کی لاش گدھے کی پیٹھ پر رکھی گئی۔ یہ بات اس کہانی کی سب سے دقیق اور نازک بات ہے ۔ اسے ایک بار سمجھ لیا جائے اور اسے زمانے میں پھیلا دیا جائے تو یہ بات ان کی سمجھ میں بھی آ جاتی ہے جو بہت کم عقل ہیں ۔ اس کے کچھ اور نکات بھی ہیں جن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سفنکس کو قابو کرنے والا لنگڑا تھا اور اس کا پاؤں پھرا ہوا (Club Foot ) تھا ۔ ہوتا یہ ہے کہ انسان عام طور پر بہت جلدی میں ہوتے ہیں۔ وہ اس قدر تیز رفتار ہوتے ہیں کہ ان کے پاس سفنکس کی پہیلی بوجھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سفنکس جیت جاتی ہے۔ کام اور اعمال سے حکمرانی حاصل کرنے کے بجائے انسان صرف اپنے ذہنوں کو پریشان کرتے ہیں اور مباحث میں الجھ جاتے ہیں ‘‘۔ 

بیکن کی اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ مِتھ غیر حقیقی ضرور ہو سکتی ہے لیکن یہ ہوتی مبنی بر حقیقت ہے اور اس کی وساطت سے کسی گم گشتہ حقیقت تک رسائی آسان ہو جاتی ہے ۔ 

موجودہ عہد کی معروف مصنفہ کیرن آرم سٹرانگ نے بھی اپنی تصنیف The Battle for God میں (جس کا اردو ترجمہ ’’ فی سبیل اللہ فساد ‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے) مِتھ کو مثبت معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس کتاب کے ’ تعارف ‘ میں کیرن رقمطراز ہیں : 

’’ ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی میں بھی لوگ کم و بیش ہم جیسے ہی ہوتے ہوں گے مگر دراصل ان کی روحانی زندگی ہم سے مختلف تھی۔ انہوں نے سوچنے ، بولنے اور علم حاصل کرنے کے دو طریقے وضع کیے تھے جنہیں سکالر مائتھوس اور لوگوس کہتے ہیں ۔ دونوں ہی انتہائی ضروری تھے کیونکہ خیال کیا جاتا تھا کہ سچ کی تلاش میں دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں مگر دونوں اپنی انفرادی حیثیت میں بھر پور تاثر کے مالک تھے ۔ مِتھ ابتدا تھی مگر اسے دائمی اور وقت کی قید سے آزاد سمجھا جاتا تھا ۔ مِتھ کا تعلق زندگی کے آغاز ، کلچر کی جڑوں اور انسانی ذہن کی گہرائیوں سے ہے ۔ عملی معاملات کے بجائے اس کی تمام تر توجہ زندگی کی معنویت اور گہرائی پر ہوتی ہے ۔ جب تک ہمیں اپنی زندگی میں کوئی معنی نہ ملیں، ہم فانی انسان بڑی آسانی سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں ۔ معاشرے کی مائتھوس لوگوں کو جینے کا شعور دیتی ہے ۔ ایسی آگاہی دیتی ہے جس سے انہیں اپنے ہونے میں ، اپنی روز مرہ زندگی میں معنی نظر آتے ہیں ۔ وہ ان کی توجہ زندگی کے دائمی اور کائناتی پہلوؤں کی طرف موڑ دیتی ہے جب کہ اس کی جڑیں جسے ہم لاشعور کہتے ہیں، اس میں بھی موجود ہوتی ہیں ۔کئی دیو مالائی کہانیاں اس لیے نہیں کہ انہیں لفظی معنوں میں لیا جائے ، نفسیات کی ایک قدیم شکل ہیں۔ جب لوگ عفریتوں کے ساتھ بہادروں کی لڑائیوں کے قصے سنایا کرتے تھے تو ایسا کرتے ہوئے در اصل وہ تحت الشعور کے وہ مخفی گوشے اور پہلو سامنے لاتے تھے جو ریشنلزم ( عقلیت ) کی پہنچ سے باہر ہیں ، مگر جو ہمارے تجربے اور زاویے پر بہت گہرا اثر کرتے ہیں ۔ اپنی ماڈرن سوسائٹی میں مِتھ کے قحط کی وجہ سے ہمیں نفسیاتی تجزیے کی بنیاد رکھنی پڑی تاکہ اپنی باطنی دنیا سے عہدہ برآ ہونے میں مدد مل سکے ۔ مِتھ کو ثابت کرنا ریشنلزم کے بس کی بات نہیں اور نہ اس کے ذریعے مِتھ کی توجیہ ہو سکتی ہے ۔ آرٹ ، موسیقی ، شاعری اور صنم تراشی کی طرح اس کی بصیرتیں وجدانی ہوتی ہیں ۔ مِتھ صرف اس وقت حقیقت بنتی ہے جب وہ مراسم ، مسلک اور تہواروں کا حصہ بن کر ان میں جلوہ گر ہو جو لوگوں پر جمالیاتی لحاظ سے اثر انداز ہوتے ہیں، انہیں ایک گہری معنویت کا شعور دیتے ہوئے اس قابل بناتے ہیں کہ زندگی کی گہرائیوں کا ادراک کر سکیں۔ ........کسی مسلک یا صوفیانہ ریاضت کے بغیر مذہبی مِتھ کے کوئی معنی نہیں ، ان کے بغیر وہ مجرد اور غیر معتبر ہوتی ہے ۔ .......لوگوس کی اہمیت کم نہیں ۔ لوگوس ہی وہ ریشنل اور سائنسی اندازِ فکر ہے جس نے مردوں اور عورتوں کو دنیا میں اچھی طرح رہنے کے قابل بنایا ہے ۔ آج مغرب میں ہمیں شاید مائتھوس کا شعور نہ رہا ہو مگر ہم لوگ لوگوس سے خوب واقف ہیں کہ وہی تو ہماری سوسائٹی کی خشتِ اول ہے ۔......لوگوس کی کچھ مجبوریاں اور اس کی اپنی حدیں ہیں۔ انسانی دکھ درد میں کمی کرنا اس کے بس کی بات نہیں ۔ عقلی دلائل سے ٹریجڈی میں معنی پیدا نہیں ہوتے ۔ لوگوس کے پاس انسانی زندگی کی قدرو قیمت کے متعلق کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ سائنسدان بڑی قابلیت کے ساتھ جسمانی کائنات کا مشاہدہ کر سکتا ہے ، اس کے بارے میں نئی حیرت انگیز باتوں کا انکشاف کر سکتا ہے ، مگر یہ نہیں بتا سکتا کہ زندگی کیا ہے اور زندگی کے معنی کیا ہیں ۔ زندگی کے معنی بتانا مسلک اور مِتھ کا اعزاز ہے ۔ ‘‘

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا صوفیانہ ادب ، لوک داستانیں ، مولانا رومی اور شیخ سعدی کی حکایات وغیرہ ’مِتھ‘ کی اسی معنویت کی حامل ہیں جس کی نشاندہی مائتھوس کے بیان میں کیرن نے کی ہے۔

جیلانی کامران اپنے مضامین کے مجموعے ’’ ہمارا ادبی و فکری سفر ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : 

’’بیان کیا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں سیالکوٹ شہر میں ایک ہندو راجہ کی حکومت تھی جس کی بیٹی بے حد خوبصورت تھی۔ انہی دنوں شہر کے باہر ایک مسلمان فقیر کا گزر ہوا اور وہ شہر کے باہر عبادتِ الہٰی کے لیے رک گئے ۔ جوگی یاترا میں لوگ گروہ در گروہ انہیں دیکھنے گئے اور سارے شہر میں ان کا چرچا ہو گیا ۔ محبت کی کہانیوں کے مطابق راج کماری ، مسلمان فقیر پر فریفتہ ہو گئی ۔ اس نے مسلمان فقیر سے خفیہ ملاقات کا تہیہ کیا اور جب تک وہ ان سے مل نہ لیتی ، اسے چین نصیب نہ ہوتا ۔ 
جب یہ خبر راجہ تک پہنچی تو اس نے سب راستوں پر پہرہ بٹھا دیا ۔ ایک دن جب راج کماری تالاب میں نہا رہی تھی اور قریب سے مسلمان فقیر کا گزر ہوا تو پہرہ داروں نے فقیر کا سر قلم کر دیا ۔ لہو کی ایک بوند اڑ کر تا لاب کے پانی میں جا گری اور راج کماری امید سے ہو گئی۔ جب راجہ کو اس دوہرے سانحے کا پتہ چلا ، اس نے راج کماری کو محل سے نکال دیا اور وہ پریشان حال جنگل جنگل ہوتی ہوئی لاہور پہنچی ۔ 
یہاں لاہور میں مقررہ دنوں کے بعد اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مراد ہے ۔ جب وہ لڑکا بڑا ہوا تو اس نے اپنے ننھیال کا پوچھا ۔ ماں نے اسے بہت کچھ کہا مگر وہ بضد رہا کہ وہ صرف ایک بار اپنے ننھیال ضرور جانا چاہتا ہے ۔ ناچار راج کماری اپنے بیٹے کو ہمراہ لے کر اپنے ماں باپ کے دیس روانہ ہوئی ۔ اس دوران میں سیالکوٹ پر مسلمانوں کے حملے شدت اختیار کر چکے تھے اور راجہ مسلمانوں کی متواتر یلغار سے بہت پریشان تھا ۔ قلعے کی دیوار ہر بار تعمیر ہوتی تھی مگر کسی نہ کسی نقص کی وجہ سے ہر بار گر جاتی تھی ۔ راجہ اپنے شہر کو غیر محفوظ پا کر بے حد ہراساں تھا ۔ جوتشیوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ قلعے کی بنیاد میں کسی مسلمان کو دفن کرنا ضروری ہے ، ورنہ دیوار گرتی رہے گی ۔ ان حالات میں جب راج کماری اور مراد راجہ کے دربار میں پہنچے تو راجہ نے مراد کو ہتھکڑی ڈلوا کر اس کا سر قلم کروا دیا اور اس کی لاش کو قلعے کی بنیاد میں چن کر دیوار کھڑی کر دی ۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد مسلمانوں کی یلغار ہوئی اور راجہ مقابلے کی تاب نہ لا کر رن میں مارا گیا اور قلعے کی دیوار مسلمانوں کی گولہ باری سے ٹوٹ پھوٹ گئی ۔ مگر دیوار کا وہ حصہ اسی طرح سلامت رہا جس کی بنیاد میں مراد کی لاش دفن تھی ۔‘‘ ( آمدِ اسلام کے ادبی کاشفے )

اب ملاحظہ کیجیے کہ فرانسس بیکن کی طرح جیلانی کامران مذکورہ مِتھ سے کیسی معنویت اخذ کرتے ہیں :

’’ اس مکاشفے میں آمدِ اسلام کا علامتی رنگ ان مخصوص اشاروں سے پیدا ہوتا ہے جن کا پہلے ( یعنی مضمون ، آمدِ اسلام کے ادبی مکاشفے میں ) ذکر کیا جا چکا ہے ۔ پانی ، مسلمان فقیر اور راج کماری ۔ مگر ان اجزا میں ایک گہرا رشتہ قائم کیا گیا ہے ۔ اس دفعہ راج کماری پانی میں ہے اور مسلمان فقیر پانی کے باہر ہے ۔ پانی کا وہی روایتی مفہوم ہے اور پانی میں نہانا بھی اسی مفہوم کی وضاحت کرتا ہے ۔ اگر ہم کہیں کہ پانی مسلمان فقیر کا دیا ہوا علمِ معرفت ہے ، تو راج کماری کا اس کے ساتھ تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ مگر پچھلے مکاشفوں کے بر عکس ، مسلمان فقیر کے لہو کی بوند اڑ کر تالاب کے پانی میں گرتی ہے ۔ یہاں لہو کی بوند مرکزی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ علمِ معرفت لہو کے بغیر پختہ نہیں ہوتا ۔ اس پختگی کو راج کماری کے حاملہ ہونے کی کیفیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ مکاشفے کے پہلے حصے میں لہو کی بوند ایک اشارہ ہے جس کی گواہی مراد کی قربانی کی صورت میں ملتی ہے ۔ اس اعتبار سے مراد نو برس کا لڑکا ہی نہیں بلکہ ایک اعتقاد ہے جو لہو کی سرخی سے پختہ ہو کر اینٹ اور گچ کی دیواروں کو فولاد بنا دیتا ہے یہاں تک کہ ان دیواروں پر وزنی گولہ باری کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ادبی مکاشفوں کی تاریخ میں مراد پیر ، لہو کی علامت استعمال کر کے اس سچائی کی تصدیق کرتا ہے کہ علم و عرفان کا اصل معیار شہادت ہے ۔‘‘ ( آمدِ اسلام کے ادبی مکاشفے ) 

اپنے اسی مضمون کی ابتدائی سطروں میں جیلانی کامران حقیقت اور افسانے کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں :

’’ زمانے نے جس تیزی کے ساتھ اپنا چہرہ بدلا ہے اور جس شدت سے حالات کا نیا ظہور ہوا ہے، ان کی موجودگی میں بہت سی باتیں نہ صرف عجیب و غریب دکھائی دے رہی ہیں بلکہ حقیقت اور افسانے کے درمیان کچھی ہوئی حد بندیاں فرضی محسوس ہونے لگی ہیں۔ حقیقت بڑی تیزی کے ساتھ ایک ایسے منظر میں گم ہو رہی ہے جسے کچھ برس پہلے افسانہ کہا جاتا تھا ۔ حقیقت باقی نہیں رہی ، افسانہ ظاہر ہوا ہے اور بدستور پھیلتا جا رہا ہے ۔ یہ ایک عجیب افسانہ ہے جس کا مرکزی کردار انسان ہے مگر اس انسان کی آغوش میں زندہ اور مردہ لوگ ظاہر اور غائب ہو تے دکھائی دیتے ہیں ۔ قوموں کے سیاسی آشوب ، انسانوں کی نسلی شکست و ریخت ، نئی قوموں کا جغرافیائی اور تاریخی ظہور ، اور زمین پر خوش نما عمارتوں کے نئے خدو خال ۔ اس بڑے طلسم کے ایک طرف زمین اور چاند کی کہانی ظاہر ہوئی ہے اور چاند تک انسان کا بڑھا ہوا ہاتھ بخوبی نظر آ رہا ہے ۔ انسان کی حاکمیت کا فسانہ سچائی بن کر نمودار ہوا ہے ۔ ......یہ افسانہ اور طلسم ہر زمانے میں ظاہر ہوا ، اور ہر زمانے کے لوگوں نے اس عجیب و غریب کیفیت کو دیکھا ، جس نوع کی عجیب و غریب کیفیت کو ہم آج دیکھ رہے ہیں ۔ افسانہ غیر فانی ہے ‘‘ ۔

کیرن آرم سٹرانگ ’’ فی سبیل اللہ فساد ‘‘ میں ہی متھ کو ان معانی میں استعمال کرتی ہیں : 

’’ مسلم لا پر عمل نے حضرت محمد ﷺ کی تاریخی شخصیت کو مِتھ میں بدل دیا ۔ انہیں اس وقت کی حدوں سے آزاد کر دیا جس میں وہ رہتے تھے ۔ وقت سے اوپر اٹھ کر وہ ہر سچے مسلمان کے دل میں زندہ ہیں ۔ اسی طرح اسوۂ رسول ﷺ پر بار بار عمل کرنے سے صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں آیا ۔ اسوۂ رسول ﷺ کے ذریعے محمد ﷺ کی ذات سے قربت کے احساس نے انہیں سکھا دیا ہے کہ اچھا مسلمان بننا کیسے ممکن ہے ۔ تیرہویں صدی میں منگولوں کے حملوں تک یہ شرعی روحانیت تمام مسلم دنیا میں ( سنی ہو کہ شیعہ) جڑ پکڑ چکی تھی ۔ اس لیے نہیں کہ اسے خلفا اور علما نے لوگوں پر مسلط کیا بلکہ اس لیے کہ اس نے انھیں خدا کے ہونے کا احساس دیا تھا اور ان کی زندگیوں کو معنی دیے تھے ۔ ماضی سے ان کی وابستگی نے ان کے پاؤں میں زنجیریں نہیں ڈال دی تھیں کہ وہ آگے نہ بڑھتے ۔ ابتدائی سولہویں صدی میں عثمانی ریاست دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست تھی ۔ ‘‘ 

کیرن آرمسٹرانگ غالباً یہ کہنا چاہتی ہیں کہ تاریخی شخصیت ، محض تاریخ کا حصہ ہوتی ہے، زمانہ حال اور مستقبل سے اس کا کوئی بامعنی رشتہ قائم و دائم نہیں ہوتا ۔لیکن اگر تاریخی شخصیت، مِتھ میں بدل جائے تو اس شخصیت سے نسبت کے لحاظ سے ماضی ، حال اور مستقبل ، زمانی قیود سے ماورا ہوکر وحدت میں ڈھل جاتے ہیں ۔

مذکورہ بالا تمام اقتباسات سے مترشح ہوتا ہے کہ مِتھ معنوی اعتبار سے اضافیت کی حامل ہے ، اس کے معنی قطعیت کے ساتھ جھوٹ کے ہر گز نہیں ہیں ۔ مِتھ عام طور پر زندگی کی ان حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہے جو موجود یا ممکن ہونے کے باوجود انسانی زندگی کے عملی پہلو سے غائب ہوتی ہیں۔ مِتھ کے توسط سے ان مستور موجودات یا امکانات کی دریافت آسان ہو جاتی ہے ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم ( مسلمانوں ) نے بعض تاریخی واقعات کے گرد غیر حقیقی ہالہ بُن دیا ہے، اس سے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اپنے زوال کے ایام میں قومیں اپنا مورال بلند رکھنے کے لیے ایسے ’’ ملی نغمے ‘‘ لا زماً الاپتی ہیں ۔ ملی نغمے خود غیر حقیقی ضرور ہو سکتے ہیں لیکن بہر حال یہ کسی حقیقت پر ہی مبنی ہوتے ہیں ۔ ایسے نغمے قوموں کو نفسیاتی اعتبار سے مضمحل نہیں ہونے دیتے اور درخشاں امکانی مستقبل کے خواب دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یوں سمجھیے یہ مائتھوس ہے ۔مائتھوس نے ہمیں نفسیاتی لحاظ سے ’’ بحال‘‘ کر دیا ہے۔اس بحالی کے بعد لوگوس کا در آنا نا گزیر ہو جاتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم ذہن نے مائتھوس کے ہمراہ لوگوس کو بھی جگہ دینی شروع کر دی ہے ۔محترمہ شاہدہ قاضی اور یوسف جذاب صاحب کے مضامین اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں۔ 


آراء و افکار