بین المذاہب کانفرنس : چند تاثرات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت کی دنیا میں بدامنی اور نا انصافی کا چال چلن ہے اور مختلف مفاداتی گروہ اپنے منفی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد ، جبر اور ظلم و ستم کی راہ اپناتے ہوئے ان مقا صد کے گرد الہیاتی تقدس کا لبادہ لپیٹ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی دنیا میں مذہب کے نام پر تشدد اور ظلم وستم کے بڑھتے ہوئے اسی رجحان کو بھانپتے ہوئے مذہبی حلقوں نے مذہب کی اصل ا سپرٹ کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قاری محمد حنیف جالندھری اور بشپ آف رائے ونڈ کی کاوشوں سے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کو نیشنل لائبریری اسلام آباد میں بین المذاہب کانفرنس برائے امن و عدل اجتماعی منعقد ہوئی ، جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ۳۰۰ کے لگ بھگ ملکی و غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے پہلے سیشن کی صدارت جناب جنرل پرویز مشرف اور دوسرے سیشن کی صدارت جناب خالد مقبول گورنر پنجاب نے کی ۔ مختلف ممالک کے سفرا اور وفاقی کابینہ کے ممبران سمیت چےئرمین سینٹ اور ایم این اے حضرات کی کثیر تعداد بھی اس کانفرنس میں موجود تھی ۔ 

مختلف مذاہب کے نمائندہ مقررین نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے بین المذاہب تعاون کی گنجائش اور ضرورت پر روشنی ڈالی ۔ جنرل پرویز مشرف نے صدارتی خطبے میں بحیثیت مسلمان اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ان کا یہ کہنا بجا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے عملی صورت میں اسلام کی ترجمانی کافی منفی ہے ، جس سے غیر مسلموں کو انگلی اٹھانے کا موقع مل رہا ہے ۔ جنرل صاحب کا یہ فرمانا کہ پاکستان میں فقط ایک سپاہ ، ایک جیش اورایک لشکر ہے اور اس کا نام مسلح افواج ہے اگرچہ اپنی جگہ درست ہے ، لیکن ایک تو ایسی بات کرنے کا یہ مناسب موقع نہیں تھا۔ دوسرا جنرل صاحب کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو، کبھی حکومتِ پاکستان بھی مذکورہ تنظیموں سے ’’آشنا ‘‘ تھی۔ عالمی سیاست کے موجودہ دباؤ اور مستقبلِ دیدہ کے تقاضوں کے پیشِ نظر بلاشبہ اسلامی ابلاغ کی عسکری جہت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہماری رائے میں ایسی نظر ثانی مکالمے کی فضا میں ہونی چاہیے اور عسکری نوعیت کے حامل مختلف گروہوں کو مناسب اور محفوظ راستہ بھی ملنا چاہیے ۔ 

گورنر پنجاب جناب خالد مقبول کا صدارتی خطبہ منفرد اور اچھا خاصا علمی تھا۔ انھوں نے اسلامی تاریخ سے مثالیں دے کر حاضرین پر واضح کیا کہ اسلام نے ہمیشہ دیگر مذاہب کی تکریم کی ہے اور انھیں ہر ممکن حد تک اپنے ماحول میں جگہ دی ہے۔

اس کانفرنس میں اگرچہ متعین نتائج کے حصول پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تاہم اسےِ آغاز کار کی حیثیت سے لیتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس کے توسط سے ان شاء اللہ بین المذاہب تعاون کے در وا ہوں گے ۔ ہم اس کانفرنس کے حوالے سے چند باتیں گوش گزار کرنا چاہیں گے ۔ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ پوری کانفرنس کے دوران میں کسی بھی مقرر نے بد امنی اور نا انصافی کی ’’اصل وجوہات‘‘ پر روشنی نہیں ڈالی ۔ ایک طرح سے یہ تسلیم کرلیا گیا کہ مذہب بدامنی، انتشار اور نا انصافی کا سبب ہے ، لہٰذا مذہبی حلقوں کو اصلاحِ احوال کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ناانصافی اور بدامنی ایک خاص نظام کی اقدار ہیں ، اور وہ نظام سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ ان منفی اقدار کو بلا خوفِ تردید سرمایہ دارانہ ذہنیت کی اقدار کہا جا سکتا ہے۔ سوویت یونین کے انہدام سے قبل ، شمالی امریکہ اور مغربی یورپ نے سوشلزم کے خطرے کے باعث طوعاً وکرہاً فلاحی ریاست کے تصور کے تحت بعض ایسے اقدامات کیے جس سے مارکیٹ اکانومی کی منفیت پوری طرح کھل کر سامنے نہ آ سکی ۔ بیسویں صدی کے نوے کے عشرے سے مارکیٹ اکانومی پر ’’سوشلسٹ چیک ‘‘ ختم ہو گیا اور نتیجے کے طور پر اس نظامِ معیشت نے اپنی فلاسفی کے عین مطابق خود غرضی اور انفرادیت پسندانہ طور اطوار کو بڑھاوا دے کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر دولت کا ارتکاز پیدا کر دیا۔ دولت کے حصول اور پیداواری قوتوں پر کنٹرول کے لیے اس خود غرضانہ رویے نے ہی ناانصافی اور بد امنی جیسی انتہائی منفی اقدار کو جنم دیا ، جن کے سامنے آج کی دنیا کی گھگھی بندھی ہوئی ہے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے مقتدر حلقے مذہب پر یقین نہیں رکھتے ، لیکن عوام میں مذہب کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مذہب کے عمومی فروغ کو بھانپتے ہوئے یہ حلقے مذہب کو بطور ’’ آلہ اور ہتھیار ‘‘ استعمال کر رہے ہیں، اس لیے جہاں کہیں مذہب کے نام پر گڑ بڑ ہوتی ہے، وہاں یہ دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ کہیں اس کے پیچھے کوئی ’’مفاداتی گروہ ‘‘ تو کام نہیں کر رہا؟اس وقت مذہب کے نام پر اپنی خواہشات کی نمود ونمایش ہو رہی ہے ورنہ مذہبی اقدار تو بہت اعلیٰ و ارفع ہیں۔ ہماری رائے میں میڈیا اورِ پراپیگنڈا کے دوسرے ذرائع جس طرح سرمایہ داروں کو راہ دکھانے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اسی طرح مذہب بھی اپنا خود مختارانہ کردار ادا کرنے کی بجائے مارکیٹ اکانومی کے دیوتا کی خدمت میں مگن ہے ۔ لہٰذا یہ مخصوص مقتدر سرمایہ دار حلقے ہیں جو دنیا میں بدامنی اور ناانصافی کا باعث ہیں، نہ کہ مذہب یا اس سے وابستہ اقدار۔ اندریں صورت واضح ہو جاتا ہے کہ امن اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے مذہب کو سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل سے نکلنا ہو گا۔ ہماری رائے میں اکیسویں صدی میں تہذیبی تصادم کی بجائے اصل تصادم سرمایہ دارانہ نظام کے علم برداروں اور مذہبی اقدار کی سر بلندی کے لیے کوشاں افراد اور گروہوں کے مابین ہو گا کہ دنیا کے ہر مذہب کی اقدار خود غرضی ، لالچ اورذاتی نفع کے لیے اجتماعی نفع کو قربان کرنے جیسی اقدار کے مقابل کھڑی ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ بعض مذہبی عناصر بھی دانستہ اور نادانستہ ، تشدد اور نا انصافی کا باعث بن رہے ہیں لیکن اس سلسلے میں مذہب کو الزام نہیں دیا جا سکتا کہ یہ فقط چند افراد ہیں جو لاعلمی میں مذہب کی ایسی تعبیر و تشریح کر رہے ہیں جس کا نفسِ مذہب اور مذہبیت کی اصل سپرٹ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ۔ مذہب پر اتھارٹی کی حیثیت رکھنے والے اہل علم ایسے افراد کا کما حقہ محاسبہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 

چوتھی بات یہ ہے کہ دنیا میں رائج الحادی تصورات کو بھی جانچنے کی ضرورت ہے ۔ مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کو مذہبی تصورات کے صحیح ادراک کے ذریعے روکا جا سکتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسے تشدد اور ظلم وستم کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے جس نے الحادی تصورات سے جنم لیا ہو ؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ خدا کے نہ ماننے والوں کو لادینی اخلاقیات کا ’’ واسطہ ‘‘ دیا جائے، لیکن لا دینی اخلاقیات ’’ تصورِ آخرت ‘‘ کی حامل نہ ہونے کے سبب کسی فرد یا گروہ کو کوئی مضبوط اور پائیدار ’’اخلاقی محرک ‘‘ دینے سے یکسر قاصر ہے ۔ اس طرح معلوم ہوا کہ غیر مذہبی تشدد اپنی نوعیت اور پھیلاؤ کے اعتبار سے مذہبی تشدد کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ امن اور انصاف کے قیام کے لیے مذہب کے عمومی فروغ کو ممکن بنایا جائے ۔ 

اس امید کے ساتھ ہم بات ختم کرتے ہیں کہ مذہبی قوتیں اپنے اصل کردار کا ادراک جلد از جلد حاصل کر لیں گی اور سوشل ازم کے خلا کو پر کرتے ہوئے سرمایہ دارا نہ نظامِ معیشت کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیں گی کہ ان کے اسی کردار سے دنیا میں امن اور انصاف کا بول بولا ہو سکتا ہے۔

اخبار و آثار

(اکتوبر ۲۰۰۴ء)

Flag Counter