اسلام اور نظریہ ارتقا

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان صاحب کا مضمون ’’ انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن ‘‘ نظر سے گزرا۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف اہلِ قلم کی آرا کی روشنی میں انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو جیسے تیسے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ غیر ارضی مظاہر ( جیسا کہ انسان کی تخلیق ) کو ارضی سیاق و سباق میں کیسے اور کیونکر سمجھا جا سکتا ہے ؟ اس مضمون کے مندرجات صاف چغلی کھا رہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں ڈارون کا نظریہ ارتقا ہی غوطے کھا رہا ہے ، جسے اب علمی حلقوں میں متروک خیال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اگر ماہرِ حیاتیات ہوتے تو شاید ان کی یہ کاوش کسی نہ کسی حد تک معاصر مباحث پر محیط ہوتی اور اس میں قدرے تازگی بھی در آتی ۔ موصوف ماہرِ اقبالیات ہونے کے ناطے ، اقبال کی اقبالیت کے اقبال کے لیے ہی کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اقبال جیسا عظیم مفکر نطشے کے ’’ مافوق البشر‘‘ کے تصور کے ساتھ ساتھ ’’ نظریہ ارتقا ‘‘ سے بھی متاثر تھا تو اس سے اس کی عظمت میں کمی نہیں آجاتی۔ اقبال نے جہاں جمو د زدہ مسلم فکر میں حرکت پیدا کر کے مسلم معاشرے کی مردہ رگوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی، وہاں نطشے اور ڈارون کے افکار کی اسلامی تعلیمات سے تطبیق کی کوشش میں مسلم معاشرے کی روایتی فکر کوبری طرح مجروح کیا۔ یہ مافوق البشر کے مسلم ایڈیشن کا نتیجہ ہے کہ مسلم معاشرے کا بہت بڑا طبقہ آج ’’ خودی ‘‘ کے اظہار کے چکر میں غیر انسانی سرگر میوں میں ملوث ہے اور انہیں عین اسلام سمجھنے پر مصر ہے، حالانکہ ہمیں ماضی میں ایسی ’’ خودی ‘‘ کی کوئی مثال نہیں ملتی جسے مخالف فریق دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر سکے ۔ اسلام کے بعض پہلوؤں پر گہری نظر رکھنے کے باوجود اقبال نظریہ ارتقا کو بھی قابلِ فہم انداز میں لیتے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ مسلم معاشرے کا ایک طبقہ ’’ ارتقائی مذہب ‘‘ کی تشکیل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے اور اسلام کی تعلیمات کی بھی اسی کے مطابق تاویل کر رہا ہے ۔ڈاکٹر آصف صاحب نے زیرِ بحث مضمون میں اقبال کے تصورِ ارتقا کو اگرچہ براہ راست ڈسکس نہیں کیا لیکن ان کی تحریر کے پس منظر کی بافت و بنت اسی تصور سے ہوئی ہے۔ ملاحظہ کیجئے، Survival of the Fittest یعنی بقائے اصلح کو اسلامیانے کی کوشش: 

’’ قرآن پاک کی رو سے عملِ ارتقا میں بقائے انفع (Survival of the most useful) کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو حیات اور کائنات خوب سے خوب تر کے سفر پر رواں دواں ہے اور جو وجود اس سفر میں کاروانِ حیات کا ساتھ نہیں دیتے ، وہ معدوم ہو جاتے ہیں ۔ اسے فطرت کا ظلم نہیں ، سزا قرار دیا جا سکتا ہے ‘‘۔ (الشریعہ، ستمبر ۲۰۰۵، ص ۲۹ )

ڈاکٹر صاحب ص ۳۰ پر رقم طراز ہیں کہ ’’کیا انسان کے وجود کے ظہور کے بعد عملِ ارتقا ختم ہو گیا؟ کیا سفرِ ارتقا کی آخری منزل انسان کی موجود ہستی اور شعوری ساخت ہی ہے اور بس؟‘‘ پھر مولانا جعفر شاہ پھلواروی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : 

’’ موجودہ درجے تک کے ارتقا کو تو سائنس نے پا لیا ہے لیکن اب تک یہ نہیں معلوم کہ اس ارتقا کا رخ کدھر ہے اور اس کی منزل کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب صرف قرآن پاک کے پاس ہے ‘‘۔

مولانا جعفر شاہ پھلواروی کا یہ کہنا کہ اب تک کے ارتقا کو سائنس نے پا لیا ہے، ڈاکٹر صاحب کے لیے تو موجبِ حیرت نہیں، لیکن ہماری رائے میں ایسے کسی بھی شخص کے لیے، جو نظریہ ارتقا کو تفصیلاً جانتا ہے ، مولانا کی یہ بات ’’ انکشاف ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ خود ڈارون بھی ارتقا کی تمام کڑیاں پیش کرنے سے قاصر تھا ، بعد میں تو خیر سائنس دانوں نے اس نظریے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ ممتاز ماہرینِ بشریات ثبوت کے ساتھ نظریہ ارتقا کا رد کر چکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے انسان نے ارضی تاریخ کے اسٹیج پر قدم رکھا ہے ، اس وقت سے لے کر اب تک وہ ’’ ذرہ برابر ‘‘ بھی ارتقا پذیر نہیں ہوا ۔ ہو سکتا ہے ڈاکٹر صاحب ارشاد فرمائیں کہ انھوں نے قرآنی آیات کی روشنی میں ارتقا کو ’’ غیر ارضی سٹیج ‘‘ پر رونما ہوتے دیکھا ہے تو پھر بھی ہمارا بنیادی سوال قائم رہتا ہے کہ ارضی سیاق و سباق میں غیر ارضی مظاہر کی تعبیرو توجیہ کیسے کی جا سکتی ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے غیر ارضی مظہر کی توجیہ، ارضی حیات کے طور پر کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ بے حد عجیب و غریب ہے ۔ 

اپنے اسی مضمون میں آصف اعوان صاحب نے مولانا شہاب الدین ندوی کی کتاب ’’ اسلام اور جدید سائنس ‘‘ کا بھی حوالہ دیا ہے ۔اگر ڈاکٹر صاحب، ندوی صاحب کی دیگر تصانیف پر بھی نظر ڈال لیتے تو انہیں بخوبی معلوم ہو جاتا کہ ندوی صاحب کا ذہن ارتقا کی بابت بالکل واضح ہے ۔ اپنی کتاب ’’ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ ، قرآن کی نظر میں ‘‘ ندوی صاحب رقم طراز ہیں کہ:

’’دنیا کا پہلا انسان اتفاقی طور پر یا ’’ ارتقا ‘‘ کے نتیجے میں نہیں بلکہ تخلیقِ خصوصی کے طور پر ظہور پذیر ہوا ہے۔ خلق الانسان علمہ البیان( اس نے انسان کو پیدا کر کے بولنا سکھایا) میں اسی صداقتِ عظمی کا اظہار موجود ہے کہ تخلیقِ انسان اور اس کی قوتِ بیانی کی تعلیم کے دوران کسی قسم کا فصل یا انقطاع موجود نہیں ہے ۔ یہ فائدہ یہاں اس لیے حاصل ہو رہا ہے کہ ان دونوں فقروں کے درمیان حرفِ عطف موجود نہیں ہے ۔ ‘‘

مولانا شہاب الدین ندوی اسی تحریر کے حاشیے( ص۴۶ ) میں لکھتے ہیں کہ :

’’ ابھی حال ہی میں آکسفرڈ سے ایک کتاب The Encyclopedia of ignorance کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ اس میں سائنس کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ مستند ماہرین نے بنظرِ غائر اپنے اپنے علم و فن کا جائزہ لے کر دکھایا ہے کہ انسانی معلومات کا دائرہ بہت ہی محدود ہے اور طبیعی و حیاتیاتی علوم کے بہت سے اسرار ہیں جن کو انسان اب تک نہیں جان سکا ہے ۔ اس وقیع اور قابلِ قدر کتاب میں نظریہ ارتقا کی تردید میں بھی چند مضامین بہت اچھے ہیں اور ایک مضمون کا عنوان ہی ’’ نظریہ ارتقا کے مغالطات ‘‘ Fallacies of Evolutionary Theory ہے ۔صاحبِ مضمون TOMLIN اپنے مضمون کے آخر میں تحریر کرتا ہے کہ ’’موجودہ ارتقائی تفکیر میں سخت پیچیدگی، جو بہت سے مغالطات پیدا کرنے کا باعث ہے، یہ ہے کہ حیاتیاتی حقائق کی تشریح و توجیہ ازکار رفتہ طبیعی نظریات کی روشنی میں کی جاتی ہے ‘‘ ۔ (انسائیکلو پیڈیا آف اگنورنس، ص ۲۳۴، آکسفرڈ ۱۹۷۸ )

ذرا غور فرمائیے کہ یہ اقتباس ۱۹۷۸کی کتاب سے لیا گیا ہے ۔ اس وقت سے اب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔ نظریہ ارتقاء ۱۹۷۸میں اگر ہچکیاں لے رہا تھا تو اب تو اس کی تدفین کو بھی عرصہ دراز گزر چکا ہو گا ۔ اگر ڈاکٹر آصف اعوان صاحب معاصر مباحث کے مطالعہ سے گریزاں ہیں تو انہیں قرآن کے تصورِ حیات اور تخلیقِ انسان کا فہم، ارتقا جیسے متروک نظریے کی روشنی میں حاصل کرنے کے بجائے کم از کم ذہنی خود کفالت سے حاصل کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح وہ لایعنیت کے سمندر میں غوطے کھانے سے بچ جاتے۔ 

آراء و افکار