ایک تلافی نامے کا معذرت خواہانہ جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

واقعہ کچھ یوں ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، پنجاب شاخ لاہور کے زیرِ اہتمام ۸ مئی ۲۰۱۰ بروز ہفتہ ’’صوفی ازم کی عوامی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے ممتاز دانش وروں نے’’ گراں قدر‘‘ مقالات پڑھ کر صوفیا کو ایصالِ ثواب کیا۔ غالباً ثواب کے ایصال میں کافی کمی رہ گئی تھی جس کی تلافی کی ذمہ داری یونی ورسٹی آف گجرات کے سپرد کی گئی۔ اس وقت ہمارے زیرِ نظر یہی’’تلافی نامہ‘‘ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ تلافی نامے کا سرورق کیا ہے؟ اچھا خاصا طلسم کدہ ہے۔ پھر ہماری کیا مجال کہ اس کے سحر میں ڈوبے بغیر صوفیانہ خوش بیانیوں تک رسائی پا لیں۔ اس لیے لامحالہ ہمیں سلوک کی اس منزل سے گزرنا پڑا جہاں صوفی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ تمام قارئین کو اس ذہنِ رسا کو لازماً ایصالِ ثواب کرنا چاہیے جس نے ہم جیسے پھسڈی کو بھی صوفیانہ واردات کے ’’شاملِ حال‘‘ کرنے سے پہلے پہلے سرورق کے ’’حال‘‘ میں غلطاں کرتے ہوئے حیرت کے سمندر میں خوب غوطے لگوائے ہیں۔ دیدہ زیب کالے نیلگوں سرورق پر دھمال ڈالتے اجلے اجلے چٹے سفید صوفی ہیں، جن کے اوپر جلی حروف میں کندہ ہے:

تدوین و ترتیب: شیخ عبدالرشید

رہنمائی:الطاف احمد قریشی

ہم صوفیا کے مانند حیرت زدگی کے ’’حال‘‘ میں ہیں کہ خیر سے ’’شیخ‘‘ تو عبدالرشید صاحب ہیں لیکن ’’راہنمائی‘‘ کا قرعہ جناب الطاف احمد قریشی کے نام نکلا ہے۔ 

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا 

بات یہ ہے کہ شیوخ جتنے بھی پہنچے ہوئے ہوں، بازی گروں کی گرد بھی نہیں چھو سکتے، اس لیے ان کی مرشدی چھپائے نہیں چھپتی اور یہاں بھی نہیں چھپ سکی۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ تلافی نامہ میں جہاں جہاں حضرت شیخ کی مرشدیت کی گرفت کم زور پڑی ہے وہاں وہاں ان کے مریدوں کی’’ عقیدت مندی‘‘ نے خوب دھما چوکڑی مچائی ہے، پروف خوانی کی لن ترانی ہی دیکھ لیجیے۔ بقول شخصے:

حرف کو کاغذی سیاہ کند!
دل کہ تیرہ است کے چو ماہ کند
(جو حروف اچھے بھلے کاغذ کو سیاہ کر دیتے ہیں، وہ تاریک دل کو کیوں کر روشن چاند کا ہمسر بنا سکیں گے)

صاحبو! صوفیانہ واردات کے ترجمانوں نے تلافی نامہ کے اچھے خاصے مہنگے کاغذکے ساتھ وہی کچھ کیا ہے جو بوٹوں والے دساتیر کے ساتھ کرتے چلے آئے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ حرف، لفظ، جملہ، ابلاغ کا وسیلہ بنتاہے۔ لیکن جب یہ وسیلہ، صوفیانہ واردات کا اظہار کرتا ہے تو محض مخل ہوتا ہے۔ اس لیے معزز قارئین ’’شاملِ حال‘‘ ہونے سے پہلے پہلے یقین کر لیجیے کہ آنے والی سطروں میں بہت آسانی سے کاغذ سیاہ کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے کہ ان میں عمیق روحانی تجربات کے انکشاف کی ترجمانی کا ’’حق‘‘ ادا کیا گیا ہے۔ 

اس تلافی نامہ کے مدون و مرتب شیخ عبدالرشید کی تحریروں کی بابت البتہ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ان میں عموماً فکر اور ادبیت کا امتزاج پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ حالاتِ حاضرہ سے واقفیت کا بھی پورا پورا اہتمام موجود ہوتا ہے۔ یہاں بھی شیخ صاحب نے حرفِ اول (جو حرفِ آخر بھی ہو سکتا تھا) کے عنوان سے تعارفی کلمات میں اپنے قلم کے خوب جوہر دکھائے ہیں۔ فرماتے ہیں: 

’’بدامنی، فساد اور دہشت گردی کا آغاز چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن کی فصیلیں بھی انسان کے دل و دماغ ہی میں تعمیر ہونی چاہئیں۔ ......بیشتر صوفی اپنی روزی خود کماتے تھے ااور معاشی طور پر دوسروں پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔ ان کی نظر میں دنیا اور دولت مطلقاً بری نہیں تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ فرماتے ہیں ترکِ دنیا یہ نہیں کہ انسان ننگا پھرے اور لنگوٹ باندھ لے۔ ترکِ دنیا یہ ہے کہ کھائے پےئے، دوسروں کو کھلائے اور پہنائے اور زخمی دلوں پر شفقت اور مستحقین کی مدد کرے۔ ......صوفیا نے بڑے بڑے جابر حکم رانوں کے سامنے کلمہ حق کہ کر عوام کے حقوق کی ترجمانی کی ہے۔ ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یوں انہوں نے اکثر آمروں اور جابروں کے دور میں ایک طور سے حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا ہے۔‘‘(حرفِ اول:ص۱۲، ۱۶)

تلافی نامہ کے ’’افتتاحیہ‘‘ میں جناب الطاف احمد قریشی نے سوالات کی آڑ میں ’’راہنمائی‘‘ کے فرائض سرانجام دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ: 

’’سوال یہ ہے کہ سیاسی عروج اور زوال کی وجوہات کیا ہوتی ہیں اور کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا کہ صوفی روایات کسی قوم کے سیاسی عروج یا زوال کا باعث بنی ہوں؟ خود صوفی ازم کی روایت نے کس قسم کے سماج میں جنم لیا اور اس روایت نے برصغیر اور خصوصاً پاکستانی سماج میں کیا کردار ادا کیا؟کیا ہمارے سیاسی زوال کا سبب صوفی روایات کا زوال بنا؟ یا پھر برصغیر کے صوفیوں نے اپنے اپنے وقتوں کی آمریتوں اور شہنشاہیتوں کے خلاف مزاحمت کی؟ یہ تو حقیقت ہے کہ ہمارے اس دور میں عالمی طاقتیں ہم جیسے ملکوں کے وسائل پر تسلط قائم کرنے کے لیے ہمیں عقیدوں کے جھگڑوں میں الجھانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ہمارے سیاسی زوال کا سبب اقتصادیات کے شعبہ میں ہماری کم فہمی ہے یا صوفی روایات کا معدوم ہونا اس کا باعث ہے؟‘‘(افتتاحیہ:ص۲۲،۲۳)

سوالات بہت اہم ہیں اور ذہنِ رسا کا پتہ دیتے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ سوالات اٹھانے، تلاشنے اور کھوجنے کی جستجو، طواف کے مانند اس امر سے متعین ہوتی ہے کہ ان کا مرکز کہاں ہے؟ اس حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ کولہو کے گرد بیل کا گھومنا طواف نہیں کہلا سکتا۔اس لیے اکادمی ادبیات کے چےئرمین فخر زمان صاحب نے اٹھائے گئے سوالات سے کنی کتراتے ہوئے اپنے ’’ابتدائی کلمات‘‘ میں صوفی ازم کی سیاست کاری (politicization) کو حرزِ جان بنائے رکھنے میں ہی عافیت جانی ہے: 

’’ویسے تو صوفیوں کی تحریک قدیم ہے اور ہمیشہ سے موجود رہی ہے مثلاً بابا فریدؒ کو ہی لے لیں یا ان سے پہلے کے صوفیا کو دیکھ لیں۔ صوفیا کی یہ تحریک ایک خاص ڈھنگ اور چلن سے چلتی رہی ہے۔ اس تحریک کو آج کے عہد میں articulate کرنے، پھیلانے اور عوامی قومی اور عالمی سطحوں تک اس تحریک کی dissemination کی اشد ضرورت ہے تاکہ صوفیا کا پیغامِ محبت عام ہو۔ ......قومی یک جہتی ، مارشل لا ادوار کا رگیدا ہوا لفظ ہی نہیں، ہماری سلامتی کا ضامن بھی ہے۔ مگر قومی یک جہتی کسی طور پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔ ہم چاروں صوبوں کے صوفیا کے سچے پیغام کے ابلاغ کے ذریعے اس منزل کو حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘(ابتدائی کلمات:ص۲۶،۳۰) 

کیونکہ صوفی ازم پر کانفرنس کا انعقاد ایک غیر سنجیدہ سرگرمی تھی بلکہ مذاق والی بات تھی، غالباً اسی لیے وزیر مملکت برائے تعلیم کو بھی اس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن جناب غلام فرید کاٹھیا نے موضوع سے متعلق چند شستہ نکات اٹھا کر صوفیانہ کلام کی عصری معنویت ثابت کر کے ناقدین کے منہ بند کر دیے۔ لیجیے خود ہی دیکھ لیجیے: 

’’اس دھرتی کے صوفی شاعروں نے درحقیقت اپنے وقت کے نظام کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیے رکھا۔ رحمان بابا کہتے ہیں:’’ظالم حکم رانوں کے سبب گور، آگ اور پشاور تینوں ایک ہیں‘‘۔ ہمارے ہاں فوجی جرنیلوں نے وہ کچھ کیا جس کا ذکر رحمان بابا کرتے ہیں۔ آج ذرا دیکھیے کہ پاکستان کے چاروں فوجی آمروں نے جو کچھ کیا، اس کے نتیجے میں آج رحمان بابا کا شعر کس قدر حقیقی معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ آج گور، آگ اور پشاور ایک ہو چکے ہیں۔‘‘(صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۳۲)

سردار آصف احمد علی صوفیانہ احوال کی ایک جہت سے کافی نالاں نظر آتے ہیں ۔ اس لیے گومگو میں تضاد بیانی کا شکار ہو گئے ہیں: 

’’ مگر یہ توقع کرنا کہ صوفی، معاشرے میں انقلابی ریفارمر کا کردار ادا کرے یا جھنڈا پکڑ کر جہاد کرے یا اسلام دشمنوں کو نیست و نابود کرے تو تاریخ ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مختلف اوقات میں اسی تجربے کے دوران کچھ لوگ انسپائر ہوئے اور انہوں نے جہاد بھی کیا، امام شمائلؒ کی مثال واضح ہے۔‘‘ (صوفی ازم:ص۳۸)

تاریخ ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر بھی ہے اور پھر یہ بھی درست ہے کہ بتاتی بھی ہے، کیا طرفہ تماشا ہے؟۔ اس تماشے کے باطن میں کوئی صوفی جھانک سکتا ہے یا کوئی سردار ۔ جمع ضدین کے نجانے کتنے اور نمونے اس تلافی نامہ میں ہماری ضیافت کو موجود ہیں۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ سردار آصف احمد علی کے نام کے ساتھ اگر سردار نہ ہوتا تو کیا پھر بھی وہ ہم جیسے صوفیانہ مبتدیوں کو اس قسم کے’’ حکیمانہ ارشادات‘‘ سے نوازتے رہتے؟۔ یارو! ہمیں تو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ صدر آصف علی زرداری اگر(خدا نخواستہ ) سردار آصف علی زرداری ہوتے تو ان کی گل افشانیاں سمیٹنے کی کوشش میں عوام کے ہاتھ پاؤں مسلسل پھولے رہتے۔ ویسے آپس کی بات ہے باریک بین حضرات، صدر آصف علی زرداری کے نام میں سردارمخذوف خیال کرتے ہیں ۔ شاید اسی لیے عوام بھی کچھ پھولے پھولے سے رہتے ہیں۔ خیر! اس جملہ معترضہ سے قطع نظر سردار آصف احمد علی لاعلمی میں ایک علمی بات کہ گئے ہیں، ملاحظہ کیجیے: 

’’میں نہیں سمجھتا کہ اسلام میں روحانیت کا کوئی الگ سے سسٹم ہے۔ یہ کسی نظام کا نہیں، کسی فرد کا انفرادی تجربہ ہو سکتا ہے کہ اسے divine experience حاصل ہو۔ اس جدوجہد کے درمیان انسان کی جو tendencies ہیں، وہ سوشل ریفارمز کی طرف ہیں یا انقلاب کی طرف، جو بھی اس کے اندر جذبہ ہے اس کو تقویت ملے گی۔ ...... اگر کسی کی انسپائریشن کا حصہ جنگ لڑنا یا جہاد تھا تو اس نے روحانی تجربے کے بعد جنگ لڑی۔ کسی کی انسپائریشن شاعری تھی تو اس نے شاعری کی۔ صوفیانہ شعر کی روایت ہمارے ہاں خاصی مضبوط رہی ہے۔‘‘ (صوفی ازم:ص۳۷،۳۸)

یونی ورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین مخصوص عمرانی تناظر میں صوفیانہ روایت کی معنویت تلاش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: 

’’عوام زمین پر زمین کا سفر طے کرتے ہیں اور صوفی زمین سے آسمان کی جانب سفر کی راہ کھولتا ہے۔ بظاہر صوفی اور عوام دونوں کی منزلیں جدا جدا ہیں، تاہم زمین دونوں میں مشترک ہے اور یہی صوفی ازم کی عوامی بنیاد ہے۔ ......باریک بینی سے دیکھا جائے تو صوفی ازم کا اصل موضوع انسان اور عوام ہی تھا۔ کیونکہ انسان ہی سوال پوچھتا ہے اور انسان ہی ان کے جواب مانگتا ہے۔ ......زمانے نے جو گھاؤ نسل در نسل عوام کو دیے، ان پر اگر کسی نے مرہم رکھا تو وہ محض صوفیا ہی تھے۔ ...... صوفی فکر جو خاص طور پر شریعت کے میکانکی نفاذ سے ذرا ہٹ کر ہے اور عوام جو شریعت کی عملیت سے ذرا ہٹ کر ہیں، دونوں ایک غیر دانستہ اتحاد میں ہیں۔ ......مذہب تو پیغمبر لے کر آئے تھے اس کی ادارہ سازی علما نے کی تھی ان دونوں کے مقاصد پورے ہوئے کہ نہیں، مذہب کے سارے میکنزم سے صوفی کی وابستگی عوام کی سوچ کی حد تک سب سے زیادہ ہے۔ صوفیا ، لوگوں کے خیال میں مذہب کے سچے پیروکار ہیں، اس طرح سے لوگوں نے بھی صوفیا پر ایک جبر مسلط کیا ہے کہ وہ اسلام یا جس مذہب سے بھی ان کا تعلق ہے، سے باہر نہ نکلیں۔‘‘ (صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۴۰،۴۱،۴۴،۴۵)

عوام اور صوفیا کے درمیان اشتراک و اختلاف کی نفسیاتی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں کہاں کہاں سے گزرتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں، ڈاکٹر محمد نظام الدین ان پر کافی تیکھی نظر رکھے ہوئے ہیں: 

’’اس بات کا کسی کو علم نہیں ہے کہ وہ خدا کی ذات میں دخل حاصل کر سکے ہیں یا نہیں، مگر یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ عوام کی زندگی میں معتبر انداز میں داخل رہے ہیں۔ یہ اعزاز اتنے شان دار طریقے سے علما کو نہیں ملا جتنا صوفیا کو نصیب ہوا۔ ......عوام کو نفسیاتی سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً محبت، امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی۔ یہ سب کچھ انہیں ان ہستیوں میں نظر آتا ہے جو حکومتوں سے دور خدا سے لو لگائے بیٹھی ہیں، وہ خدا جس سے عوام کو بھی ساری آس امید تھی۔ یہ بھی صوفی اور عوام کی سانجھ تھی جو ہمیشہ قائم رہی۔ عوام نے کبھی صوفی ازم کی فلسفیانہ گہرائیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی نہ وہ انہیں سمجھ سکتے تھے۔ اور صوفی کو عوام میں موجود سماجی آلودگیوں سے کوئی گہرا تعلق نہیں تھا، وہ تو اپنی ذات کی تطہیر و پاکیزگی کی تلاش میں تھا، یہی وجہ تھی دونوں ایک دوسرے پر آشکار نہیں ہوئے۔ وہ ادراکی قربت پیدا نہیں ہوئی جو دوری کا باعث بنتی ہے، لہٰذا صوفی ازم اور عوام ہمیشہ اتحادی رہے۔‘‘ (صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۴۶،۴۷)

ڈاکٹر محمد نظام الدین صوفیا اور عوام کے درمیان اتحادِ محض کے داعی نہیں ہیں۔ وہ صوفیانہ واردات کے اس اظہار سے کافی الرجک دکھائی دیتے ہیں جو عوام کو سستانے اور سلانے میں منہمک رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بجا فرماتے ہیں : 

’’اگر آج ہمیں صوفی ازم کے ان نظریات کو کسی سماجی ساخت میں ڈھالنا ہے تو ہمیں خود کو صوفی سے زیادہ انقلابی بنانا پڑے گا۔ ......صوفی ازم پر بہت زیادہ شور و غوغا مفاد پرستانہ لگتا ہے۔ یہ عوام کو گم راہ کرنے کا ایک ہتھیار بن سکتا ہے اور ان کی اس صلاحیت کو بھی جو انہوں نے democratization کے عمل میں حاصل کی ہے بے اثر کر دے گا جیسا کہ ہر status quo اپنے سامنے اٹھنے والے انقلابی نظریات کے ساتھ کرتا ہے۔ ہمیں صوفیا سے اسی طرح inspiration لینی پڑے گی جیسی ہم اپنے سورما باپ دادوں سے لیتے ہیں چاہے وہ خود ہم نے ہی تخیلاتی طور پر بنائے ہوں یا حقیقت میں وہ نہتے اور کم زور لوگ ہی کیوں نہ ہوں اور ہر حکم ران اور حملہ آور کو خراج ہی دیتے رہے ہوں۔‘‘ (صوفی ازم کی عوامی بنیادیں:ص۴۷،۴۸)

پروفیسر نبیلہ کیانی نے مذہب کی ماہیت و مقصدیت سمجھے بغیر تصوف کی اضافی خوبیوں کی نشاندہی کی ہے۔ قارئین کی تفننِ طبع کے لیے ہم ایک اقتباس پیش کیے دیتے ہیں: 

’’تصوف میں اس بات کو باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دنیا صرف وہی نہیں ہے جس میں ہم اپنی سوچ کی مخصوص عادتوں کی وجہ سے رہ رہے ہیں بلکہ اور بھی دنیائیں ہماری منتظر ہیں جہاں ہم اپنے thought pattern تبدیل کر کے پہنچ سکتے ہیں۔ مذہب ہو یا تصوف، نئے modes of existence کا تصور دونوں میں موجود ہے۔ مگر دونوں میں فرق ہے کہ مذہب نے اگر اس existence کے علاوہ کسی اور mode of existence کی نشاندہی کی، تو ساتھ ہی اسے article of faith بنا کر مزید دنیاؤں کی تلاش پر پابندی لگا دی، جب کہ تصوف اور صوفیا کرام یہ تلاش جاری رکھنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ ...... صوفیانہ شاعری میں جن انسانی images کو معنویت حاصل ہے وہ ہیں Human beings at work ۔ ایک اور انسانی image جو شاعری میں نمایاں ہوتا ہے، وہ گیت گاتے اور رقص کرتے ہوئے انسان کا ہے۔ فن اور تخلیقِ فن اور تصوف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔‘‘ (تصوف کی آفاقی قدریں:ص۵۲،۵۳)

پروفیسر نبیلہ کیانی اپنے اسی فن پارے میں معمولی تبدیلی کر کے ’’مذہب کی آفاقی قدریں‘‘ کے موضوع پر خامہ فرسائی کر سکتی ہیں۔ ویسے اس تبدیلی کے لیے پروفیسر ہونا ضروری نہیں، یہ تبدیلی کوئی معمولی کمپوزر بھی آسانی سے کر سکتا ہے۔ اسے کرنا فقط یہ ہے کہ مذہب کی جگہ تصوف اور تصوف کی جگہ مذہب کا لفظ کمپوز کر دے۔ صاحبو! اگر کوئی سیمینار کانفرنس ’’مذہب کی عوامی بنیادیں‘‘ کے عنوان سے منعقد ہو تو پروفیسر نبیلہ کیانی کو ضرور خبر کر دیناکہ ان کا گھڑا گھڑایا مضمون کانفرنس میں قہقہے بکھیرنے کو تیار ہے۔ خیر سے پروفیسر خالد مسعود اسی کانفرنس میں تقدیمی قہقہے بکھیرنے کی کوشش میں ہیں:

’’جنرل پرویز مشرف کے روشن خیال دور میں ایک صوفی کونسل تشکیل دی گئی اور اس کونسل کے چیف صوفی کا درجہ جناب چوہدری شجاعت حسین کو عطا کیا گیا تھا۔ میں نے اپنے ایک دوست سے اس انتخاب کی وجہ دریافت کی، تصوف کی رمزوں سے آگاہ وہ دوست کہنے لگا کہ صوفی اپنا حال اور کیفیت دوسروں پر بیان نہیں کر سکتا، بس صوفی اور چوہدری شجاعت کے درمیان یہی ایک قدر مشترک ہے جس کی بنا پر انہیں چیف صوفی بنا دیا گیا ہے۔‘‘ (تصوف کی آفاقی قدریں:ص۶۵)

یہ درست ہے کہ جناب خالد مسعود بھی محترمہ نبیلہ کیانی کی طرح پروفیسر ہیں اور دونوں کا موضوع ’’تصوف کی آفاقی قدریں‘‘ بھی مشترک ہے، لیکن خالد صاحب نے برصغیر میں صوفیانہ سرمستیوں کی کارگزاری جلے کٹے انداز میں سنانے کے باوجود چند اصولی باتیں کی ہیں جن سے کوئی سلیم الفطرت شخص اختلاف نہیں کر سکتا: 

’’ اگر بات صرف اور صرف تعلیمات پر عمل کر کے منزل کو پانے کی ہے تو یہ وصف صرف اور صرف قرآن و حدیث میں ہی ہے کہ آپ ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ ......صوفی، اپنی تعلیمات، گفتگو اور لفاظی سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور کردار سے متاثر کرتا ہے۔ اس کی ساری تعلیمات اس کا کردار اور عمل ہیں۔ ......اگر کسی کا خیال ہے کہ صوفیا کی تعلیمات صدیوں اور عشروں بعد بھی اسی طرح پیار محبت یگانگت بھائی چارہ تحمل اور رواداری عام کر سکتی ہیں جیسا کہ خود انہوں نے اپنے کردار اور عمل سے عام کی تھیں تو یہ ایک مکمل خوش فہمی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ‘‘ (تصوف کی آفاقی قدریں:ص۵۹) 

پروفیسر خالد مسعود کا ایک فقرہ تو ’’سو سنار کی ایک لوہار کی‘‘ جیسے محاوروں کی صداقت کا زندہ جاوید نمونہ ہے، ملاحظہ کیجیے:

’’میں جب بھی اس سے اس سلسلے میں قرآن و حدیث کا حوالہ مانگتا ہوں، وہ مجھے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ابنِ عربی کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اور سرمد کے اشعار سے بہلانے کی سعی کرتا ہے۔‘‘(تصوف کی آفاقی قدریں:ص۵۸) 

ایک دور تک علامہ اقبال پر ’’پنجابی‘‘ ہونے کی پھبتی کسی جاتی رہی ہے اور ان کے نظریات کو ایک پنجابی مسلمان کی اسلام فہمی قرار دے کر ’’پنجابی اسلام‘‘ کی ترکیب چلانے کی بھی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب قاضی جاوید صاحب نے اپنے موضوع سے ’’انصاف‘‘ کرتے ہوئے دل لگی کے انداز میں صوفی ازم کو خوب گلوبلائز کیا ہے: 

’’اسلام جیسے عالم گیر مذہب کو پنجاب نے تصوف کا روپ دے کر گویا اس کو اپنی روح کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا تھا۔ اس لحاظ سے تصوف، پنجابی اسلام تھا۔ ......اسلام کی اس پنجابی صورت کی تشکیل وحدت الوجود کی مابعد الطبیعات کے سبب ہوئی تھی جو پانچ ہزار سال سے پنجابی روح کا بنیادی عنصر ہے۔‘‘(گلوبلائزیشن اور صوفی ازم:ص۶۸)

پروفیسر حمیدہ شاہین اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے مخاطبین پاکستانی ہیں اور پاکستانیوں کی غالب اکثریت کا مذہب اسلام ہے، اس لیے ان کی نظریں صوفیانہ روایت کے اسلامی ایڈیشن تک ’’محدود‘‘ رہی ہیں۔ فرماتی ہیں: 

’’صوفیا نے سلوک کی جو منازل بعد میں متعین کیں وہ اسلام کے دورِ اول میں اپنی فطری اور حقیقی صورت میں موجود تھیں اور ان پر چلنا اس ماحول میں چنداں دشوار نہ تھا۔ شریعت ، طریقت ، معرفت اور حقیقت کے مرحلے روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ تصوف نے اس دور میں انسان کے فطری تقاضوں کو چھیڑے بغیر عوام سے خطاب کیا اگرچہ اس کو تصوف کا نام بھی بعد میں دیا گیا۔ ......کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دینِ اسلام سے باطنیت کا گودا نکال کر الگ کر دیا گیا اور بے رس بے ذائقہ چھلکا مولوی کے ہاتھ میں تھما دیا گیا کہ جاؤ لوگوں کو بے روح نمازوں اور بے حضور سجدوں میں مشغول کر دو۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر  پر غور کرنے کی فرصت نہ ملے تو کوئی بات نہیں، شلوار ٹخنوں سے نیچے آئی تو اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ دوسری طرف بے شرع تصوف کا ڈول ڈالا گیا۔ عالمِ استغراق میں رفع وجوب کی پٹی پڑھا دی گئی اور یوں جذب و مستی پیدا کرنے کے جعلی و خارجی طریقے خانقاہی زندگی کا حصہ بنا دیے گئے۔‘‘ (تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص: ص ۹۹، ۱۰۳، ۱۰۴)

پروفیسر حمیدہ شاہین نے صوفی کو خاص انسان قرار دیتے ہوئے ان سمتوں کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو عام آدمی اور صوفی کے درمیان خطِ تفریق کھینچ دیتی ہیں: 

’’عوام فقط بصارت ہیں، خواص بصیرت بھی ہیں۔ عام آدمی زمین پر چلتا ہے، خاص انسان زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرتا ہے۔ زمین سے آسمان بہت دور دکھائی دیتا ہے، اس لیے عام آدمی نے تصوف کے معاملہ میں اپنے مقام کو آسانی سے قبول کر لیا۔ ......صوفیا کے تذکرے بتاتے ہیں کہ خواص کی نظر مقصودِ اصلی پر اور عوام کی نظر خواص پر ہوتی ہے۔ صوفی کسی اور مرکز کے گرد گھومتا ہے ، عوام صوفی کے گرد گھومتے ہیں۔‘‘ (تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص:ص۹۲،۹۳)

پروفیسر صاحبہ کو صوفیانہ واردات کی اظہاری گنجلک کا بھر پور احساس ہے۔ اس لیے انسانی زندگی میں روحانی تجربات اور تصوف کی اہمیت سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے ابلاغ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ: 

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ جسم کے سائے میں بیٹھے ہوئے انسان کو یہ بات صرف تصوف ہی بتا سکتا ہے کہ شاخِ بدن پر ابدیت کے پھول نہیں کھلتے، لیکن یہ بتانے کے لیے تصوف کو وہ زبان اختیار کرنی پڑے گی جسے عام آدمی آسانی کے ساتھ سمجھ سکے۔‘‘(تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص:ص۱۰۵)

اس سلسلے میں سچ یہ ہے کہ تصوف زبان و بیان نہیں بلکہ کردار و عمل سے عبارت ہے۔ اس لیے زبان کی سلاست تلاشنے کے بجائے پروفیسر صاحبہ کو آتشِ رفتہ کا سراغ لگانا چاہیے۔ البتہ جیلانی کامران کے حوالے سے انہوں نے جو نکتہ اٹھایا ہے ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ: 

’’تصوف اور معاشرہ صرف ایسے موسم میں قریب آتے ہیں جسے غزل کی اصطلاح میں عشق کا موسم کہتے ہیں۔ جب سے تصوف کا رشتہ معاشرے کے ساتھ منقطع ہوا ہے زندگی محبت کی زبان میں بات کرنا بھول گئی ہے۔‘‘(تصوف ۔ دین عوام یا دین خواص:ص۱۰۵)

پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید بھی عشق کے موسم کی راہ دیکھتے ہوئے صوفی، ترکِ دنیا اور معاشرہ کے داخلی توازن کی بابت فرماتے ہیں کہ:

’’صوفی کا فقر اسے ترکِ دنیا کا درس نہیں دیتا بلکہ اسے معاشرے کے ایسے فرد کا درجہ عطا کرتا ہے جو انسانی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ اس کی بدولت سماجی زندگی کو حیوانی جبلتوں کے دائروں سے باہر رکھا جا سکے۔ ......اگر غور سے اور تعصب کی پٹی اتار کر صوفیانہ بیانات کی روح کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اس دنیا کو ترک کرنے کے لیے کہتے ہیں جو خدا کے راستے میں حائل ہوتی ہے نہ کہ راہبوں کی طرح دنیا سے الگ تھلگ ہو جانا ان کا مقصود ہے۔‘‘(تصوف، شہنشاہیت اور انسانی توقیر:ص۱۱۴،۱۱۶)

ڈاکٹر سعادت سعید صاحب نے صوفی اور وراثتی صوفی کی تفریق قائم کر کے تصوف کی لاج رکھنے کی لائق تحسین کوشش کی ہے۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ:

’’صوفیوں کی گدیوں پر بیٹھے غیر صوفیوں یا وراثتی صوفیوں نے ۱۸۵۷ کی ہندوستانی جنگِ آزادی میں انگریزوں کے اتحادی بن کر جو ’’کارہائے نمایاں‘‘ انجام دیے ہیں اس سے ہماری تاریخ کے وہ صفحات بھرے ہوئے ہیں جن کے گرد سیہ حاشیے لگنے چاہئییں تھے۔‘‘(تصوف، شہنشاہیت اور انسانی توقیر:ص۱۱۰)

پروفیسر سعادت سعید صاحب صوفی کے سماجی کردار کو کلیدی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے صوفی کے سیاسی کردار کی تحدید ان الفاظ میں کی ہے:

’’صوفی، شہنشاہوں کے غیر انسانی رویوں اور مظالم کے خلاف علامتی، تمثیلی، استعاراتی پیراؤں میں اظہارِ خیال کرنے سے نہیں چوکتے تھے، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ اتنے طاقتور تھے کہ وہ بادشاہت کے ادارے کو نقصان پہنچا سکتے تھے، تو ایسا نہیں تھا۔‘‘(تصوف، شہنشاہیت اور انسانی توقیر:ص۱۱۸) 

زیرِ نظر تلافی نامہ کے بیشتر مضامین مخمل میں ٹاٹ کا پیوند معلوم ہوتے ہیں لیکن پروفیسر سید شبیر حسین شاہ کا مضمون ٹاٹ میں مخمل کا پیوند دکھائی دیتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’دونوں قسم کے لوگ یعنی علما اور صوفی پہلے سے موجود ایک فکری نظام کی سرحدوں کے اندر کارندوں کی طرح کام کرتے ہیں، کبھی بھی جبر و استبداد کی قوتوں کو ان سے بڑا خطرہ نہیں رہتا اور یہ سماج کی اندرونی ساخت اور حرکت میں خارجی عوامل کی طرح سے موجود رہتے ہیں، جب کہ اشتراکیت اپنی حکمت اور علمی ساخت میں سماج کی اندرونی پرتوں کے ضمن میں ایک جنگجویانہ لائحہ عمل رکھتی ہے۔ اس کی ساری inspiration آسمانوں سے نہیں اترتی، بلکہ معروض میں موجود قوتوں کے جدل سے پیدا ہوتی ہے۔ اشتراکیت اپنے عہد کے سماجی نظم میں سب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ تصوف لاشعوری طور پر خدا کے اندر داخل ہونے کی جہدِ مسلسل میں ہے۔ اشتراکی، انسان کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کرتا ہے۔ صوفی زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کے despotic حکم رانوں کو مہذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمِ دین بھی یہی کام کرتا ہے۔ ظالم اجارہ دار حکم رانوں انسانوں سے پیار و محبت کا درس ہے تو بڑا خوب صورت، مگر ہے انتہائی منافقانہ۔ وہ جس نے تلواروں کی طاقت سے شاہی ہتھیائی ہو، اس کے استحقاق کو چیلنج کیے بغیر انسانوں کی رعیت کے لیے اس سے مراعات کی جدوجہد کرنا درحقیقت اس کے کارندے کے طور پر کام کرنا ہے۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۲۷،۱۲۸)

وحدت الوجود کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے ہوئے شبیر صاحب نے محبت کی اشتراکی اساس کا کھوج خوب لگایا ہے: 

’’صوفی یہ وضاحت نہیں کرتا کہ وہ خدا کے وجود میں پیوست ہو کر کن مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے۔ وحدت الوجود کی direction بندے سے خدا کی طرف سفر ہے مگر اپنی نفسی ساخت میں خدا کو بندے میں حلول کرنے کا عمل ہے۔ دونوں صورتوں میں بندے کی بندوں سے شراکت کو کوئی بنیادی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ بندوں کی بندوں سے محبت کا نظریہ بھی محض ایک یاوہ گوئی اور بندوں کے مابین تفریق سے چشم پوشی اور انحراف ہے۔ محبت ایک end سے جاری ہونے والی مافوق الفطرت شے نہیں ہے جو انسانوں کو اپنی جکڑ بندی میں لے لے گی، بلکہ یہ انسانی سانجھ اور مشترکہ تحرک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذہنی قبولیت اور نفسیاتی سانجھ ہے جس کا براہ راست تعلق social activism سے ہے۔ اور پھر صوفی جس قبیل کی محبت کا داعی ہے وہ دست برداری یا بے عملی سے پیدا ہوتی ہے یا ایک investment کے طور پر۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۲۹)

اب ملاحظہ کیجیے کہ صوفی اور اشتراکی نے خلیفہ بننے سے کیسے انکار کیا۔ سمتوں کے فرق کے باوجود انکار دونوں جگہ پایا جاتا ہے، لیکن گردن زدنی بے چارہ اشتراکی قرار پاتا ہے: 

’’اشتراکیت اپنی حد بندی کرنے میں اپنے جدید ہونے کی دعوے دار ہے۔ اس کا سارا انحصار انسانوں کے ان تجربات پر ہے جو انہوں نے نسلِ انسانی کے ارتقا میں حاصل کیے۔ یہ تجربات درحقیقت معروض کے ساتھ انسانوں کے interaction کا نام ہے۔ اسے آسمانوں نے کوئی راہنمائی نہیں ملی کہ انسان کبھی بھی ظلِ الٰہی نہ تھا۔ مذہب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ خلیفۃالارض ہے۔ سوال یہ تھا کہ اس خلیفہ کے پاس اختیار کی ملکیت کس کی تھی، اگر وہ خدا کی تھی تو پھر اختیارات میں موجود سارے امتیازات بھی خدا کی طرف سے تھے۔ اشتراکی نے بڑی ڈھٹائی سے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا، اس نے اپنے معروض کو اپنی مرضی سے بدلنے کا نظریہ اختیار کر لیا۔ یہ مذہب پرستوں کے نزدیک خدائی کاموں میں مداخلت تھی۔ مگر جب صوفی نے اپنے انسانی وجود کی نفی کی اور اپنے خلیفہ ہونے کو خود خدائی وجود کا پرتو قرار دیا، تو دراصل اس نے بھی خلیفہ بننے کی نفی کر دی۔
صوفی کے سامنے ideal پیغمبری تھی۔ وہ اپنے اعلی ترین درجے میں وہ کمال حاصل کر لیتا ہے کہ پیغمبری بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ پیغمبری تو روح القدس یا جبریل کی محتاج رہتی ہے۔ صوفی براہ راست اللہ تعالی سے القا حاصل کرتا ہے اور خدا کے رازوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ وہ خلیفۃالارض کی ادنی حیثیت سے خود کو بہت دور لے جاتا ہے۔ خلیفۃ الارض یا انسان جب اپنے اختیارات سے دست بردار ہوتا ہے اور اپنی دانست میں دنیاوی آلودگی سے خود کو پاک کرتا ہے تو وہ ایک سمت میں چلتا ہے۔ مگر جب وہ مزید اختیارات مانگتا ہے، دنیا کی تمام آلودگیوں کے اندر بیٹھ کر زندگی بسر کرتا ہے تو وہ دوسری سمت میں چلتا ہے۔ سمتوں کا یہ فرق بھی صوفی اور اشتراکیت کا فرق ہے۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۰،۱۳۱) 

پروفیسر شبیر صاحب نے صوفی کے ممتاز ہونے کی وجوہ پر ایسی چوٹ کی ہے کہ کسی ملامتی کو بھی کہیں پناہ ملتی نظر نہیں آتی: 

’’صوفی اپنی خواہشات کو تیاگ کر دوسرے انسانوں میں خود کو ممتاز کرتا ہے اور اپنے سے والہانہ قبولیت پیدا کرتا ہے۔ اشتراکی دوسروں کی خواہشات کو ابھار کر ایک عملی اشتراک حاصل کرنا چاہتا ہے، اس طرح خود کو انسانوں میں لازم و ملزوم بناتا ہے۔صوفی کے ٹارگٹ اس کی اپنی imagination اور intuition سے بنتے ہیں۔ اشتراکی کے ٹارگٹ پہلے سے زمین پر موجود ہوتے ہیں اور وہ انہیں اپنی علمی صلاحیت سے conceive کرتا ہے۔ اسے معروض سے فرار کا حق حاصل نہیں ہے۔ مادے کی جدلیات بظاہر انسان کے خارج میں موجود ایک کائناتی عمل ہے، مگر درحقیقت خود انسان اسی جدلیات کے ایک عنصر کے طور پر موجود ہے، اور اشتراکی کو اس کا ادراک ہونا چاہیے ورنہ وہ اپنی حکمتِ عملی ترتیب نہیں دے سکتا۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۱)

شبیر حسین صاحب نے کوئے یارسے نکلے صوفی کے ’’فنا‘‘ ہونے کو معاف نہیں کیا۔ اس لیے گمان یہی ہے کہ وہ سوائے دار چلے خود کش حملہ آوروں کی معافی کے بھی قائل نہیں ہوں گے: 

’’بدی کو دھتکارنے کا سارا وجدان اور ریاضت کا عمل صوفی کو اس کے مقدر میں ملا ہے۔ اشتراکی کا مقدر اس کے عہد کی ناقابلِ تردید زمینی حقیقت ہے اور یہ حقیقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ utopia کبھی معرضِ وجود میں نہیں آتا۔ اعلیٰ درجے کا کمیونسٹ معاشرہ ایک حقیقت سے زیادہ ایک inspiration ہے جو اشتراکی کو ایک علمی فرد سے انقلابی میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ انقلابی بننے کے لیے عوام سے اپنی جڑت کا محتاج ہے، لہذا اشتراکی کو خدا کی ذات سے زیادہ بندوں کی ذات پر غور کرنا پڑتا ہے۔ ......اشتراکی، زندگی کا صوفی سے بہتر آرگنائزر ہوتا ہے وہ زندگی کو ایک اثاثے کے طور پر اپنی جدوجہد میں استعمال کرتا ہے اور زندگی کے ہر پہلو پر حاوی رہتا ہے۔ صوفی پر زندگی کا تاریک حصہ ایک بوجھ ہے، جسے اتارتے اتارتے اس کی زندگی کا روشن پہلو بھی فنا ہو جاتا ہے اور اسی فنا میں صوفی سدا کی زندگی پاتا ہے۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۱،۱۳۲)

سطورِ ذیل میں شبیر صاحب فرماتے ہیں کہ مولوی نے بے چارے صوفی کو ہمیشہ مار پڑوائی ہے۔ ہم گزارش کریں گے کہ صوفی بے چارہ اس وقت تو ایک اشتراکی کے ہتھے چڑھا ہوا ہے اور اس کی وہ درگت بن رہی ہے کہ وہ مولوی کی مار بھولے سے بھی یاد نہیں کرے گا : 

’’تاریخ بتاتی ہے کہ جتنا اشتراکی کا انکار گردن زدنی ہوتا ہے، صوفی کو اتنی مار نہیں پڑتی۔ مجھے نہیں معلوم کہ آمرانہ ملوکیتوں نے خود اپنی سوچ سے صوفی دشمن پالیسی اپنائی یا ہمیشہ interpretation کی آڑ لے کر وقت کے مولوی نے صوفی کو مار پڑوائی۔ جیسے عیسٰی مسیح علیہ السلام کو فریسی یہودیوں نے صلیب پر لٹکوا دیا تھا۔ اشتراکی کی لڑائی حاکمیت سے براہ راست ہوتی ہے، اس لڑائی سے فرار ممکن نہیں، ورنہ اشتراکی اپنی وجودیت سے خارج ہو جاتا ہے۔ صوفی کے لیے ایسا نہیں ہے۔ وہ ہمیں کبھی کبھی حکم رانوں کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، جب کبھی وہ عوام کے ساتھ بھی ہوتا ہے تو کسی جنگ کا آغاز نہیں کرتا، اس کی ساری ترغیب غیر جدلیاتی غیر سائنسی اور بے سمت ہوتی ہے۔ جب انقلاب، تاریخ کے ایجنڈے پر نہیں ہوتا تو انسانوں کے قول و فعل پر صوفی کا راج ہوتا ہے، بلکہ صرف قول پر، فعل تو شاہوں کی لونڈی ہوتا ہے۔ دونوں مل کر انسان کو اس کی اسی حالت میں برقرار رکھتے ہیں۔ بادشاہ اس کی زندگی کو عذاب بناتا ہے، صوفی اس کی زندگی کو خیالی جنت بناتا ہے۔ دونوں میں آخر لڑائی کہاں ہے۔‘‘ (اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص ۱۳۳)

صوفی کے وہم اور اشتراکی کی سرفرازی کی تحلیل شبیر صاحب نے کچھ اس طرح کی ہے:

’’جس طرح تہذیب دورِ وحشت کی آغوش میں جنم لیتی ہے اور اتنی ہی باصلاحیت ہوتی ہے جتنا دورِ وحشت کا انسان اپنی بقا کی جنگ میں طاقت حاصل کرتا ہے۔ potential ایک مادی وجود کا نام ہے جو انسانی زندگی اور معاشرت میں قوتِ محرکہ کا کام کرتا ہے۔ صوفی کا علمی وجدان بھی اس کے اندر ایک potential پیدا کرتا ہے جس کے بل بوتے پر صوفی میں انسانی صلاحیت اپنے کمال سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ یہیں پر صوفی اس واہمہ کا شکار ہوتا ہے جو اسے الوہی ماہیت میں خلط ملط کر دیتا ہے۔ جب کہ اشتراکی اپنے عمیق علمی تجزیے میں کائنات کی سچائیوں سے سرفراز ہوتا ہے اور ایک potential حاصل کرتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے آسمانوں کے بجائے سماج کی تہوں میں لے کر اترتی ہے اور اشتراکی اپنے کمال کے ساتھ انسانوں سے خلط ملط ہو جاتا ہے جہاں سے انقلاب کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ یہ روشنی لازماً اس نور سے مختلف چیز ہے جو صوفی کے دل میں اترتا ہے لوگ جس کے متلاشی رہتے ہیں۔ مگر اشتراکی کو لوگوں کا ساتھ دینا پڑتا ہے، یہاں activity اور inactivity کا فرق ہے۔‘‘ (اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات: ص ۱۳۳، ۱۳۴)

سید شبیر حسین صاحب اپنے نتائجِ فکر میں صوفی اور اشتراکی میں کوئی اشتراک نہیں دیکھ پاتے۔ اس لیے وہ فیصلہ کن انداز میں لوگوں سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں: 

’’چونکہ آسمانوں سے کوئی تبدیلی زمین پر نہیں اترتی، لہٰذا جب صوفی خدا سے ملاپ کر کے واپس اترتا ہے تو کسی تبدیلی پیدا کرنے کے اہل نہیں ہوتا ۔ اس لیے صوفی سے عامۃ الناس کی relationing  ایک سعی لاحاصل ہے۔ انہیں اشتراکی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا یا کہیں اور جانا پڑے گا۔ جب کوئی چیز surface پر موجود نہیں ہوتی تو محض تصوریت ہوتی ہے۔ چاہے اشتراکیت ہو، چاہے صوفی ازم، جب تک حالت بے عملی میں ہیں زبردست اشتراکات میں ہوتے ہیں۔ جب حرکتِ عمل میں جاتے ہیں، الٹ سمتوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ لہذا انسانی فلاح کے لے صوفی اور اشتراکی میں اشتراک ممکن نہیں ہے اور لوگوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کس کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ اگر صوفی کے ساتھ جائیں گے تو اپنے دکھوں کا مداوا آسمانوں سے طلب کریں گے، حاکموں ا8 ور اجارہ داروں سے تعرض نہیں کریں گے۔ یہی ایک طریقہ ہے جبر و استبداد کو بری الذمہ کرنے کا۔ تنخواہ دار مولوی سرکاری ادیب اور دنیا سے لاتعلق صوفی سب یہی کام کرتے ہیں۔‘‘ (اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص۱۳۴)

شبیر صاحب کی نظر سے صوفی اور اشتراکی کا نقطہ اتصال چھپ نہیں سکا۔ وہ ایک معروضیت پسند اشتراکی ہیں۔ اس لیے انہوں نے تحفظات کا شکار ہوئے بغیر اس مماثلت کو معروضی انداز میں تسلیم کیا ہے: 

’’یہاں ایک سوال اشتراکی کے ضمن میں بھی بڑا اہم ہے کہ اگر اشتراکیت کا مرحلہ برپا ہو جاتا ہے اور اقتدار پرولتاری ڈکٹیٹر شپ سے ایک non-state سوسائٹی کے ہاتھ چلا جاتا ہے اور مارکسی انقلاب اپنی اعلیٰ منزل سے سرفراز ہوتا ہے، تو کیا اشتراکی اپنے انفرادی وجود سے دست بردار ہوجاتا ہے جس طرح صوفی خدا میں مدغم ہو کر اپنے وجود سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ اپنے عروج کی اس مکینکس میں جو اشتراک پایا جاتا ہے بھلے وہ نوعیت اور ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہے مگر اپنے رجحان میں یہ صوفی اور اشتراکی کا واحداشتراک ہے۔ تو کیا ہم کہیں گے کہ صوفی اور اشتراکی حتمی طور پر جس جہدِ مسلسل میں ہیں وہ دراصل اپنے وجود کو کسی اور وجود میں ڈھالنے کی جدوجہد ہے، یعنی اب ہم صرف technicalities اور نظریاتی سمتوں پر ہی تضاد دیکھتے ہیں۔ 
مارکسیوں نے جب مادے کی حرکت کے قانون کو سماج کی حرکت پر منطبق کیا تھا تو ان کے پاس چارہ نہیں تھا کہ سماجی حرکت کو مادے کے قانونِ حرکت کے تحت لے کر آئیں اور وہ حکمتِ عملی تشکیل دیں جو سماج کے اندر کی تشکیل بندی کو مادے کی جدلیاتی سائنس کے قانون کے تحت کریں۔ اپنی دانست میں وہ یہاں social scientist ٹھہرے اور بلا شبہ وہ تھے، مگر جب صوفی نے یہ نعرہ لگایا کہ خدا نے اپنے اندر ایک قانونِ فطرت قائم کر رکھا ہے اور وہ انسان کی تخلیق اپنی ہی فطرت اپنے ہی وجود کی حدود میں سے کرتا ہے اور انسان اسی کا حصہ رہتا ہے، لہذا نسان پر جب صوفی، خدا کے اندر کی فطرت کا نفاذ چاہتا ہے تو دراصل صوفی انفرادی طور پر وہی کام کرتا ہے جو اشتراکی اجتماعی طور پر کرنا چاہتا ہے۔ اشتراکیت اور صوفی ازم تقریباً ایک ہی جیسے انسان کو اپنا آلہ کار بناتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ سوچنا ہے کہ ہمیں اپنے وجود اور تشخص کو آسمانوں پر ان دیکھے خدا کی سپردگی میں دینا ہے یا لاکھوں کروڑوں استحصال زدہ لوگوں کاسر اٹھا کر انہیں سر بلند کرنا ہے۔ یہ کام صوفی ازم اور اشتراکیت میں اشتراکات تلاش کرنے سے نہیں ہو گا بلکہ عوام تک یہ شعور لے جانے سے ہو گا کہ وہ حقیقتوں کی طرف پلٹ آئیں۔‘‘(اشتراکیت اور صوفی ازم کے اشتراکات:ص ۱۳۴، ۱۳۵)

سید شبیر حسین شاہ کے مضمون کے مذکورہ اقتباسات کی مجموعی معنویت ملحوظ رکھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ سامراج نے مذہب کی اہمیت بھانپتے ہوئے اسے ہمیشہ ہائی جیک کیا ہے اسی لیے مذہب عوام کے لیے افیون قرار پایا ہے۔ لیکن نام نہاد معروض پسندوں نے معروض میں موجود مذہب کی مکمل نفی کرتے ہوئے (سامراج کو کھلی چھٹی دے کر) جدلیات کو عملی طور پر ہمیشہ بے معنی ثابت کیا ہے۔ لہذا حقیقی معروض پسند تو سامراجی ٹھہرے نہ کہ ہمارے اشتراکی بھائی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شبیر صاحب کے اس مضمون سے مذہب(خاص طور پر اسلام) کی بے عمل تعبیر کرنے والے اجارہ داروں کو کچھ نہ کچھ ضرور سیکھنا چاہیے جنہوں نے دین اسلام کے پیروکاروں کو مستقل سراسیمگی میں مبتلا کر رکھا ہے:

رسیدم من بدریائے کہ موجش آدمی خور است
نہ کشتی اندراں دریا نہ ملاحے عجب کار است 
(میں اس دریا میں پہنچا ہوں کہ جس کی موجیں آدم خور ہیں، دریا میں نہ کشتی ہے اور نہ ملاح، عجیب ماجرا ہے)

خیر! پروفیسر نصر اللہ خان ناصر نے سرپٹ دوڑتے تاجرانہ گھوڑے کو روحانی لگامیں ڈالنے کی بات چلائی ہے۔ انہوں نے سید شبیر صاحب کے برعکس سرمایہ دارانہ معیشت میں صوفیانہ کردار کی راہ ڈھونڈ نکالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صارف معاشرہ صوفیا کے لیے بھی اصولی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ: 

’’ہر رویے اور رشتے کو مفادات کے ترازو میں تولنے کی روش اور تاجرانہ وطیرہ ہماری سماجی زندگی اور اخلاقی اقدار میں فطری توازن کی نفی کر رہا ہے۔ یہی معاشرتی تقاضوں کا تضاد ہمارے اندر وہ تناؤ پیدا کرتا ہے جو ہمارے اذہان و قلوب کو بے چارگی، بے بسی، حسد اور محض دنیاوی آسائشوں تک رسائی کی تحریک دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عورت کا حسن و جمال، مرد کی مردانہ وجاہت، مردانگی کا وقار، بچوں کی معصوم مسکراہٹ اور کلکاریاں اور ممتا کے لازوال جذبوں کو اس نے اپنی پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے اشتہارات کی زینت بنا دیا ہے۔ یہ سب کچھ ہم نے ترازو کے پلڑے میں بکنے کے لیے رکھ دیاہے۔ ہمارا صارف معاشرہ مکمل طور پر انسان کو بکنے اور خریدی جانے والی اشیا کی فہرست میں شامل دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے اور اسی المیے کی اثر پذیری اور فعالیت پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جس کا تدارک ہماری اپنی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ مگر صوفیا کے نزدیک چونکہ انسان ہی مقصود بالذات ہے اس لیے وہ اس صارف کلچر صارف اپروچ اور عہدِ حاضر کی صارفی معیشت کے تقاضوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ معیشت طبقات پیدا کرتی ہے طبقاتی تضادات کو تقویت دیتی ہے، اس لیے صوفی اس طبقاتی معیشت کی بھر پور نفی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے بعض صوفی شعرا کے کلام میں مادی جدلیت کی طرف جگہ جگہ واضح اشارے ملتے ہیں۔‘‘(صوفی ازم اور صارف معاشرہ: ص ۱۴۳، ۱۴۴)

سید شبیر صاحب کو صوفی کے فنا ہونے پر اعتراض تھا، لیکن ڈاکٹر محسن مگھیانہ اس فنائیت میں پناہ ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ دونوں حضرات معروض پسند ہیں اور معروض پسندوں کی تعبیرات میں اصولاً یکسانیت ہونی چاہیے، جو یہاں نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا امید پر قائم ہے، ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ اس ’’تلافی نامہ‘‘ میں جہاں جہاں مطلوبہ یکسانیت سے روگردانی کی گئی ہے اس کی تلافی کے لیے ایک اور تلافی نامہ بہت جلد منظرِ عام پر آئے گا۔ ڈاکٹر محسن کے الفاظ ملاحظہ کیجیے: 

’’سارے جھگڑے ہی اپنی حاکمیت جتانے کے ہیں، دنیا پر قبضہ کرنے کے ہیں، چاہے وہ محلے، شہر، صوبے یا ملک کی حاکمیت ہویا پھر ساری دنیا کی۔ دنیا سے حب کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کی فنا کا ہمیں یقین نہیں ہے۔ صوفی کو دنیا سے اس لیے رغبت نہیں رہتی کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہم سب نے فنا ہو کر بالآخر اسی ذات میں واپس جانا ہے جس کا ہم ایک ٹکڑا تھے اور جسے وقتی طور پر زمین پر بھیجا گیا تھا۔‘‘(کنزیومر ازم کے دور میں صوفی ازم کی اہمیت:ص۱۵۷)

ڈاکٹر محسن صاحب نے منصور حلاج کے ’’اناالحق‘‘ کی بابت ڈاکٹر نکلسن کے درج ذیل الفاظ نقل کر کے اپنے تئیں علمی وجاہت کا ثبوت فراہم کیا ہے: 

’’حلاج کے انالحق کا مطلب یہ نہ تھا کہ میں خدا ہوں، بلکہ یہ تھا کہ میں حق یعنی سچ creative truth ہوں۔ یہ نظریہ ہمہ اوست pantheism کے سراسر خلاف ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان خدا کا مظہر ہے۔ یہ نظریہ حضرت عیسیٰؑ کے ان کلمات کے تقریباً مطابق ہے جس میں آپؑ نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا باپ (خدا) کو دیکھا۔ لیکن یہ نظریہ جسے حلول incarnation سے موسوم کیا جاتا ہے، اسلام میں جڑ نہ پکڑ سکا۔ اسے حلاج اور ان کے مریدوں نے ہی ختم کر دیا تھا۔ صوفیا کہتے ہیں کہ حلاج کو اس لیے شہید نہیں کیا گیا کہ وہ ’’حلولی‘‘ تھے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا راز فاش کر دیا۔‘‘(کنزیومر ازم کے دور میں صوفی ازم کی اہمیت:ص۱۵۴)

صاحبو! ہم کب پیچھے رہنے والے ہیں، علمی وجاہت نہ سہی، لاعلمی سہی، ثبوت تو ہم بھی فراہم کرنے سے نہیں چوکیں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ حسین ابن منصور کے ہاتھ کاٹ ڈالے گئے، مگر وہ مسکراتے رہے اور ان کی ہر انگلی سے (دروغ بر گردنِ راوی) اناالحق کی صدا آتی رہی۔ انہیں دار پر کھینچا گیا تب بھی اناالحق پکارتے رہے۔ جلا دیا گیا تو راکھ کا ہر ذرہ اناالحق کی صدا بن گیا۔ تین دن بعد راکھ کو دریا برد کیا گیا تو وہاں بھی اناالحق کا آوازہ گونجتا رہا۔ دوستو! یہ سب اس لیے ہوا کہ حسین ابن منصور توحیدِ رسمی پر اکتفا کرنے کے بجائے توحیدِ حالی سے سرفراز ہوئے تھے، وگرنہ نجانے کتنے ارب انسانوں کی راکھ گنگا جمنا میں بہائی جا چکی ہے لیکن وہاں کبھی اناالحق کا آوازہ سنائی نہیں دیا۔ خیر! ڈاکٹر محسن مگھیانہ نے سلطان باہوؒ کے پنجابی کلام پر اپنی بات ختم کی ہے: 

’’ اگر رب نہانے دھونے اور صاف ستھرے رہنے سے ملتا تو مینڈکوں اور مچھلیوں کو مل جاتا۔ اگر لمبے بال رکھنے سے مل جاتا تو بھیڑوں بکریوں کو مل جاتا۔ اگر رب کا دیدار رات بھر جاگنے اور پرندوں کی طرح کوکنے سے ملتا تو ان پرندوں کال کڑچھیوں کو مل جاتا جو ساری رات جاگتے اور شور مچاتے ہیں۔ اگر رب محض مجرد رہنے والوں کو ملنا ہوتا تو قوتِ تولید سے محروم بیلوں مل جاتا۔ لیکن اصل بات تو باہو یہی ہے کہ ان باتوں سے رب حاصل نہیں ہوتا بلکہ انہیں ملتا ہے جو دل کے اچھے اور من کے سچے ہوں جن کی نیت صاف ہو۔‘‘ (کنزیومر ازم کے دور میں صوفی ازم کی اہمیت:ص۱۵۸)

اکادمی ادبیات کے چےئر مین فخر زمان صاحب نے اختتامی کلمات میں خیر کے چند جملے ارشاد فرمائے ہیں۔ ہمارے لیے انہیں قارئین کے سامنے ’’تبرکاً‘‘ پیش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ موجود نہیں:

’’ہر شخص کے اندر ایک صوفی ہوتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر جو خیر ہے وہ کہیں شر کے ہاتھوں برباد تو نہیں ہو گیا۔ اس خیر کو بچانے، زندہ اور متحرک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ......صوفی ازم بے عملی نہیں بلکہ شر کے مقابلے میں حرکتِ خیر کا نام ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ صوفیوں میں بے عملی بھی رہی ہو مگر میرا خیال ہے کہ حقیقت میں کوئی صوفی بے عمل نہیں رہا۔ اگر صوفی بے عمل ہوتے تو سرمد اور منصور کو قتل نہ کیا جاتا، انہوں نے اسٹیبلیشمنٹ کو پکارا اور للکارا، تبھی تو سزاوار ٹھہرے۔ اگر صوفی محض بے عمل ہوتے تو ملائیت بلھے شاہ کا جنازہ پڑھنے سے انکار نہ کرتی۔ ......ہمارے صوفیوں نے تو ہمیشہ بغاوت کی ہے اور بغاوت کے لیے ہر ایک کا طریقہ اپنا اپنا ہوتا ہے۔ کوئی حرفِ انکار سے بغاوت کرتا ہے، کوئی لفظوں کو ہتھیار بناتا ہے، کوئی عمل سے بغاوت کرتا ہے اور بندوق اٹھا لیتا ہے۔‘‘ (اختتامی کلمات:ص۱۶۵،۱۶۶)

اب ہم بھی اختتامی کلمات کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن آغاز کے مانند پھر ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں کہ کوئی اشتراکی خواب بھی دیکھ سکتا ہے:

’’مثالی انسانی معاشرے کی تشکیل خوابوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہم اچھے خواب نہیں دیکھیں گے، اچھے اعمال ہم سے سرزد نہیں ہو پائیں گے۔‘‘(اختتامی کلمات:ص۱۶۸)

فخر صاحب نے شبیر صاحب جیسے اشتراکی بھائیوں کو ایک بڑی مشکل میں پھانس دیا ہے، وہ بھلا خواب کی مادی جدلیاتی توجیہ کیسے کر پائیں گے؟کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!

آراء و افکار