اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۳)

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(’’راہ عمل‘‘ کا ایک مطالعہ۔)


کسی سماجی مسئلے کی گتھی سلجھانے کے لیے مصلح کا غیر جانب دار ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہ صفت مصلح کوتحریک دیتی ہے کہ زیرِ بحث مسئلے کا معروضی جایزہ لے۔ معروضی تجزیے کی یہ روش، مسئلے کے متعلق درست زاویے سے سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ہماری رائے میں کسی مسئلے کے قابلِ قبول حل کے لیے پہلا قدم،اس کے متعلق درست سوال اٹھانا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ خالد سیف اللہ صاحب نے آج کے ایک سنجیدہ مسئلے کو کتنے معروضیت پسندانہ اسلوب سے اڈریس کیا ہے: 

’’سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات؟ یقیناََ بے قید جنس پرستی زیادہ مضر ہے۔ تو اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ ماں باپ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے اخلاق و کردار کی حفاظت کے لیے بلوغ کے بعد جلد سے جلد ان کا نکاح کر دینا مناسب سمجھتے ہوں تو کیا یہ بات مناسب نہیں ہو گی کہ انہیں اس عمر سے پہلے ہی نکاح کی اجازت دی جائے؟ تاکہ وہ اپنے بچوں کو فساد اور بگاڑ کے گڑھے میں جانے سے بچا سکیں۔ اصل مسئلہ child marriage کا نہیں، بلکہ child sex کا ہے۔ ‘‘ (کم عمری کی شادی: ج۱، ح۲، ص۱۶۴) 

خالد سیف اللہ صاحب کی سوچ کے اسی رخ نے انہیں ایسے خود ساختہ بے جان مسایل میں الجھنے نہیں دیا جن کا سماجی نشوونما سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا ،بلکہ ہوا یوں ہے کہ موصوف نے دینِ اسلام کی اصل روح پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ایسے زندہ معاشرتی مسایل کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے جن کی بابت مسلم سماج میں بہت زیادہ حساسیت پائی جانی چاہیے: 

’’ کون صاحبِ دل ہے جسے بچہ کی معصوم مسکراہٹ اپنی طرف متوجہ نہ کرتی ہو اور اس کا رونا اور بلکنا سخت سے سخت انسان کو بھی تڑپا نہ دیتا ہو ؟ بچہ خواہ خوش رنگ ہو یا کالا کلوٹا ، صاف ستھرا ہو یا میلا کچیلا ، کسی کاشانہ عشرت میں پیدا ہوا ہو یا آشیانہ غربت میں ، اس کا بچپن کشش سے بھر پور ہوتا ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی حساس اور فطرتِ سلیمہ کا حامل اسے دیکھے اور دل بھر نہ آئے اور ماں باپ اور خاندان کے اہلِ تعلق کا کیا کہنا ، ان کو تو اپنے بچوں کے معصوم چہرہ میں لالہ و گل کا نکھار اور غنچہ و گل کی بوئے عطر بار کا احساس ہوتا ہے ۔ ...... بچوں کو کسبِ زر کا ذریعہ بنانا اور تعلیم و تربیت سے محروم رکھنا بڑی بے رحمی اور بد خواہی ہے ، کیونکہ یہ ہمیشہ کے لیے ان کو معاشی ، اخلاقی اور فکری اعتبار سے پس ماندہ اور محروم رکھنے کے مترادف ہے ، اس پس منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی کہ کم عمر بچوں کو کسبِ معاش کا مکلف نہ کرو ، اس سے یہ ہو گا کہ کما نہ پائیں گے تو چوری کا ارتکاب کریں گے۔ .....کوئی غریب شخص معذور ہو جائے یا اس کا انتقال ہو جائے اور گھر میں کوئی کمانے والا موجود نہ ہو تو دکھیاری بیوہ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہوتا کہ اپنے کم عمر نو نہالوں کو مشقت کی اس بھٹی میں ڈال کر چند پیسے حاصل کرے ، اسی سے اپنا تن ڈھانکے ، پیٹ بھرے ، اپنی اور گھر کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے ۔ سماج اتنا ظالم اور خود غرض ہے کہ وہ کسی غریب کی جھونپڑی پر ترچھی نظر ڈالنے کو بھی تیار نہیں ہوتا اور مجبوری کو دیکھ کر اس کی رہی سہی پونجی بٹورنے بلکہ بعض اوقات اس کی عزت و آبرو کا بھی سودا کرنے کو کمر بستہ ہو جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے مواقع پر ان بے کس و بے آسرا لوگوں کو بچہ مزدوری کے سلسلہ میں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ شریعت کا اصول یہی ہے کہ اگر دو خرابیوں میں سے ایک کے ارتکاب پر مجبور ہو جائے تو کم تر درجہ کی برائی اختیار کر لے۔ .....یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت محنت و مزدوری کے معاملہ میں ۱۵ سال کے لڑکے کو بالغ تصور کرتی ہے لیکن نکاح وغیرہ میں نابالغ‘‘ ( بچہ مزدوری ۔۔۔اسلامی نقطہ نظر : ج۱، ح۳، ص۶۵، ۶۶، ۶۸، ۷۰)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ خالد صاحب نے این جی اوز کے مانند محض فنڈز بٹورنے کے لیے بچہ مزدوری کو Highlight نہیں کیا، بلکہ اسلامی حوالہ دیتے ہوئے جیتے جاگتے سماج کے تکلیف دہ حقایق کو پیش نظر رکھا ہے اوراس کے علاوہ جدید حکومتوں کی دوغلی پالیسی کو بھی بے نقاب کیا ہے جو وہ نام نہاد انسان دوستی کے نام پر اپنائے ہوئے ہیں۔ مذکورہ اقتباس کا آخری فقرہ صدا لگا رہا ہے کہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسیاں، ذمہ داری سے فرار کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔

جدید مغربی سماج میں بڑھاپا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ وہاں اولڈ ہومز بھی ہیں اور والدین کے خصوصی دن بھی منائے جاتے ہیں۔ اب جدیدیت کا سیلاب، مشرقی سماج کا رخ کیے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس کے مضر اثرات ابھی بہت واضح نہیں ہیں، لیکن خالد سیف اللہ صاحب ، خطرے کی بو سونگھ چکے ہیں ، اس لیے انہوں نے اس مسئلے پر بھی قلم اٹھایا ہے: 

’’جوانی کا زمانہ طاقت کے عروج اور صلاحیتوں کے کمال کا زمانہ ہے، اس زمانہ میں آدمی کے لیے یہ سوچنا بھی دشوار ہوتا ہے کہ پھر کبھی کم زوری اس پر اپنا سایہ ڈال سکے گی، چلتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑائیں گے بینائی اس کا ساتھ چھوڑ دے گی اور جسم کی ایک ایک صلاحیت دامنِ وفا چھوڑ کر رخصت ہو جائے گی، لیکن آخر ہوتا وہی ہے جس سے انسان بھاگنا چاہتا ہے، جوانی رخصت ہوتی ہے اور بڑھاپا اپنی پوری شان کے ساتھ سایہ فگن ہو جاتا ہے۔ اب آنکھوں پر موٹے چشمے ہیں، چہروں پر جھریاں ہیں، ہاتھوں میں عصا ہے، قدموں میں لرزہ ہے، حافظہ اور یاد داشت نے بھی ساتھ چھوڑ رکھا ہے، منہ دانت سے خالی ہے اور آواز ایسی ہے کہ بازو کا آدمی بھی بات سمجھ نہیں پاتا ہے، اس منزل کے بعد قبر ہی کی منزل ہے، انسان بچپن میں بھی محتاج اور عجز و نا طاقتی کا نمونہ ہوتا ہے اور بڑھاپے میں بھی، لیکن بڑھاپے میں یقیناًمجبوری کا احساس زیادہ ستاتا ہو گا ، جوانی کے ایک ایک قصے یاد آتے ہوں گے اور اشکِ افسوس سے ڈاڑھی تر ہوتی ہو گی۔ ..... پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب فرمایا ہے کہ تم لوگوں کو ضعفا اور کم زوروں ہی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔ یہ بڑی اہم بات ہے ، آدمی ایسے بوڑھے اور معذور لوگوں کو اسی لیے تو بوجھ سمجھتا ہے کہ وہ صرف کھاتے ہیں کچھ لاتے نہیں ہیں ، ان کے پاس کھانے والے ہاتھ ہیں کمانے والے ہاتھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تصور ہی کی جڑ کو کاٹ دیا۔ .....بڑھاپے کی نفسیات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس عمر میں انسان چاہتا ہے کہ اس کے چھوٹے اس کے ساتھ عزت و توقیر کا معاملہ کریں، اس کو سماج میں بہتر مقام دیا جائے ۔ آپ نے اس کا بھی پاس و لحاظ فرمایا ہے ۔ ایک سن رسیدہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ، لوگوں نے جگہ دینے میں دیر کی تو آپ نے تنبیہ کی اور فرمایا کہ جو شخص چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور بڑوں کی توقیر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ کی ایک روایت میں ہے کہ جو بڑوں کا مقام نہ پہچانے ، وہ ہم میں سے نہیں۔ حضرت انس بن مالکؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی عمر کی رعایت کرتے ہوئے تعظیم کرے گا تو جب وہ نوجوان اس عمر کو پہنچے گا تو اللہ اس کے لیے بھی ویسا ہی تعظیم کرنے والا مہیا کر دیں گے۔‘‘ (بوڑھے اور ہمارا سماج: ج۲، ح۴، ص۷۸، ۷۹، ۸۱)

انسانی نفسیات کی گہرائیوں کی گرہ کشائی اور پھر اسے سماجی حقیقت نگاری میں ڈھالنا آسان کام نہیں، خاص طور پر کسی مولوی سے اس کی توقع ہی عبث ہے۔ لیکن ہمارے ممدوح نے کمال دیانت سے یہ مشکل فریضہ سر انجام دیا ہے: 

’’جب انسان کسی معاملہ کو اپنے اور دوسرے کے درمیان رکھ کر سوچتا ہے تو غصہ بڑھتا ہے اور انتقام کی چنگاری شعلہ بن جاتی ہے اور وہی شخص جب اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان خدا کو رکھ کر سوچتا ہے تو غضب کی آگ محبت کی شبنم میں تبدیل ہو جاتی ہے اور معاف کرنا نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ اس میں ایک لذت محسوس ہونے لگتی ہے‘‘ (بخش دو گر خطا کرے کوئی: ج۲، ح۴، ص۴۳)
’’ بعض لوگ طبعاََ برے نہیں ہوتے لیکن ان کی طبیعت میں مبالغہ ہوتا ہے ، وہ لفظوں کے ایسے بازی گر ہوتے ہیں کہ سننے والے کو رائی پہاڑ محسوس ہوتا ہے۔ کچھ لوگ شریف اور نیک خو ہوتے ہیں لیکن سادہ لوح اور بھولے بھالے ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی باتوں کا یقین کر لیتے ہیں، کسی خبر پر جرح نہیں کرتے، اور اس کے کھرے کھوٹے کو پرکھے بغیر مان لیتے ہیں۔ بعض حضرات سے کسی بات کو سننے یا سمجھنے میں غلط فہمی بھی ہو جاتی ہے۔ یہ مختلف اسباب ہیں جن کی وجہ سے دانستہ یا نا دانستہ اور بالارادہ یا بلا ارادہ خلافِ واقعہ باتیں لوگوں میں چل پڑتی ہیں، ایسی ہی بے سرو پا باتوں کو ’ہوا‘ کہتے ہیں ‘‘ (افواہیں اور ہمارا رویہ:ج۲، ح۴، ص۱۶۳)
’’بعض لوگ بد زبان اور بد مزاج ہوتے ہیں، معمولی باتوں پر برہمی اور اپنے بزرگوں اور سماج کے باعزت لوگوں پر حرف گیری کا مزاج رکھتے ہیں، جس کو جو جی میں آیا کہہ دیا، بلکہ موقع ہوا تو دشنام طرازی سے بھی نہیں چوکتے، پھر اسے فخریہ بیان کرتے ہیں، اسے اپنا کمال سمجھتے ہیں، یا اسے صاف گوئی کا عنوان دیتے ہیں، حال آں کہ صاف گوئی کے معنی دوسروں پر طنز و تعریض یا تنقیص نہیں، اور اپنی نازیبا باتوں پر فخر بھی کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں کو کھری کھری سنائی اور فلاں شخص کو بر سرِ عام ایسا اور ویسا کہا، حال آں کہ یہ سب قابلِ شرم باتیں ہیں نہ کہ قابلِ فخر، ان پر انسان کو شرمانا چاہیے نہ کہ اترانا‘‘ (گناہ پر فخر: ج۱، ح۱، ص۱۹۲) 
’’ضرورت اس بات کی ہے کہ خودکشی کے اخلاقی اور سماجی نقصانات لوگوں کو بتائے جائیں ، سماج میں لوگوں کی تربیت کی جائے کہ وہ تنگ دستوں اور مقروضوں کے ساتھ نرمی اور تعاون کا سلوک کریں، گھر اور خاندان میں محبت اور پیار کی فضا قایم کریں اور باہر سے آنے والی بہو کو محبت کا تحفہ دیں، رسم و رواج کی جن زنجیروں نے سماج کو زخمی کیا ہوا ہے ان کو کاٹنے کی کوشش کریں، شادی بیاہ کے مرحلوں کو آسان بنائیں اور جو لوگ ذہنی تناؤ سے دوچار ہوں اور مشکلات سے گھرے ہوئے ہوں، ان میں جینے اور مسایل و مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ پیدا کریں ، کہ بقولِ حضرت کلیم:
سلگنا اور شے ہے جل کے مرجانے سے کیا ہو گا 
ہوا ہے کام جو ہم سے وہ پروانوں سے کیا ہو گا ‘‘

(خود کشی ۔۔تشویش ناک سماجی مسئلہ:ج۲، ح۴، ص۱۸۴) 

اسلامی اخلاقی اقدار کا جدیدطرزِ زندگی پر اطلاق، سماجی اجتہاد کا تقاضا کرتا ہے ۔ جس سے ایک طرف ان اقدار کی نئی معنویت ، انہیں سول سوسائٹی سے relate کرتی ہے اور دوسری طرف جدید زندگی کے مضر پہلو ، شعوری طور پر ناپسندیدہ قرار پاتے ہیں۔ خالد صاحب کی تحریر میں یہ وصف بہت نمایاں ہے، دیکھیے ذرا: 

’’جب آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں تو سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ میں جو اوقاتِ کار متعین ہوں، آپ ان اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ اگر آپ ان اوقات کی پابندی نہ کریں، دفتر دیر سے پہنچیں، پہلے دفتر سے نکل جائیں، یا درمیان میں دفتر چھوڑ دیں، یا دفتر کے اوقات میں مفوضہ کاموں کو انجام دینے کے بجائے اپنے ذاتی کام کرنے لگیں، تو یہ بھی وعدہ کی خلاف ورزی میں شامل ہے۔ بعض شعبوں میں ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے کہ وہ پرائی ویٹ طور پر کوئی اور کام نہ کریں، خاص کر میڈیکل شعبہ میں گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر کی پوری صلاحیت سرکاری دواخانے میں آنے والے مریضوں پر خرچ ہو، کیوں کہ انسان کی قوتِ کار محدود ہے اور جو شخص ہسپتال میں آنے سے پہلے اپنی قوت ڈھیر سارے مریضوں کو دیکھنے میں صرف کر چکا ہو، یقیناًاب جو مریض اس کے سامنے آئیں گے، وہ کماحقہ اس کی تشخیص نہیں کر سکے گا۔ ..... وعدہ کا تعلق ہماری تقریبات، جلسوں اور دعوتوں سے بھی ہے، مثلاََ دعوت نامہ میں لکھا گیا کہ نکاح عصر کے بعد ہو گا لیکن جب تقریب میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ نوشہ صاحب اپنی شانِ خاص کے ساتھ عشا کے بعد تشریف لائے۔ .... غور کیجیے کہ لوگ ایسی تقریبات میں شرکت اپنے تعلقات کی پاس داری میں کرتے ہیں کسی کے یہاں بیماری ہے، کوئی خود بیمار ہے، کسی نے تقریب کے وقت کے لحاظ سے آیندہ پروگرام بنا رکھا ہے۔ ایسے مواقع پر یہ تاخیر اس کے لیے کس قدر گراں گزرتی ہے، آکر واپس ہونے میں میزبان کی ناگواری کا اندیشہ اور انتظار کرنے میں دوسرے پروگرام متاثر۔ افسوس کہ دینی جلسوں اور پروگراموں میں بھی ہم اس کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتے‘‘ (وعدہ خلافی ۔۔ہمارے سماج میں:ج۲، ح۴، ص۱۷۰، ۱۷۱، ۱۷۲)

مذہبی حدود کے خاص دائرے سے باہرانسانی زندگی کے کئی ایسے پہلو ہیں جہاں اسلام نے خاموشی اختیار کی ہے ۔ خالد صاحب کے نزدیک یہ خاموشی انسانی اختیار کے اثبات کے اعتبار سے دین ہی کا حصہ ہے: 

’’ شرعاََ ایک مسلمان کے لیے صرف یہ رعایت ضروری ہے کہ بیت الخلا کی نشست ایسی ہو کہ قضا ئے حاجت کرتے ہوئے چہرہ یا پشت قبلہ کی سمت میں نہ پڑے اور بس، مکان کے سلسلہ میں اس کے علاوہ انجینئر سے مشورہ کرنا چاہیے کہ مکان کس طرح کا ہو کہ ہوا اور روشنی پوری طرح بہم پہنچے، لیکن اس کا مشورہ بھی پنڈت سے کیا جاتا ہے جو محض چند پیسوں کے لیے لوگوں کو اوہام میں گرفتار رکھنا چاہتا ہے ، یہ تمام باتیں محض ایمان کی کم زوری اور ضعفِ عقیدہ کا نتیجہ ہیں۔ حد یہ ہے کہ اب بعض مسلمان بھی عقدِ نکاح کے وقت اور شادی کے جوڑوں کے سلسلہ میں عاملین سے مشورہ لیتے ہیں، گویا جس غلامی سے اسلام نے اسے آزاد کیا تھا خود ہی اپنے آپ اس میں مبتلا ہوتے ہیں‘‘ (اوہام پرستی اور اسلام:ج۲، ح۴، ص۲۴)

خالد سیف اللہ صاحب رحمانی، انسانی اختیار کی بے توقیری اور اس اختیار کے مذہبی لوگوں کے ہاں یرغمال بنائے جانے پر شکایت کناں ہیں۔ وہ مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں اور غیر مسلموں کو باور کراتے ہیں کہ : 

’’ اگر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا اسلام کو تھوپنا ہوتا تو نہ مدینے میں کوئی یہودی باقی رہتا اور نہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں کوئی مشرک۔ اسلام کی آمد سے پہلے یہ مزاج تھا کہ سلطنت کا جو مذہب ہوتا تمام لوگ اسی مذہب کو قبول کرتے اور اس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے، اسی لیے روم میں کوئی مشرک اقلیت تھی نہ ایران میں اہلِ کتاب کا کوئی گروہ تھا‘‘ (فاصلے کیوں کر گھٹیں گے؟: ج۱، ح۲، ص۱۳۶)
’’ جب بادشاہ کے تاج کی قیمت لاکھوں ڈالر ہوتی تھی اور غریب کسان گراں بار ٹیکسوں کے خوف سے پہاڑوں اور جنگلات کی پناہ لینے پر مجبور تھے، ان حالات میں مسلمان ایک نجات دہندہ قوم کی حیثیت سے ان ملکوں میں پہنچے اور انہوں نے بے جان زمینوں پر قبضہ کرنے سے زیادہ لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے لیے اس ملک میں باعزت زندگی گزارنے کی راہ یہی ہے کہ وہ نجات دہندہ قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں اور نقشِ دیوار پڑھ کر اپنے لیے ایک ایسا منصوبہ بنائیں جو دیر سے سہی لیکن منزلِ مقصود کو پہنچاتا ہو اور محض حقیر اور وقتی مفادات پیشِ نظر نہ ہوں۔‘‘ (ایک اہم فریضہ جس سے ہم غافل ہیں: ج۱، ح۱، ص۳۱۴) 

یہ ایک اچھا خواب ہے کہ اسلاف کی طرز پر مسلمان آج پھر نجات دہندہ قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں، لیکن آج کی عالمگیریت کی فضا میں نجات کا کوئی ایسا فارمولہ جو ہندوستان یا کسی بھی ملک کی علاقائی حدود کو ملحوظ رکھ کر بنایا گیا ہو، مطلوبہ مقاصد نہیں دے سکتا۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام نے آکٹوپس کی طرح حیاتِ انسانی کے تمام پہلوؤں کو انتہائی شدت سے جکڑا ہوا ہے ، اس کے خاتمے اور متبادل نظام کے لیے عالمی سطح پر نہایت سنجیدگی سے ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مذہبی حلقے میں متبادل نظام دینے کی سنجیدہ سوچ تک نہیں پائی جاتی۔ ایسے گئے گزرے دور میں جب کہ سماجی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل چکاہے اور یار لوگ اسے قصہ پارینہ خیال کرتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے ’سمجھ دار‘ لوگوں کی بھی کمی نہیں ، جو سماجی اخلاقیات کے کلاسیکی تصور کو زرعی دور سے مخصوص قرار دیتے ہیں، خالد سیف اللہ رحمانی نے سرمایہ داری کے فولادی خول میں چھید ڈالنے کی خاطر ، واشگاف الفاظ میں کئی مقامات پر صدائے احتجاج بلند کی ہے اور انسانی اجتماعی زندگی کے سب سے بڑے محور ریاست اور اس سے متعلق امور میں اخلاقی اقدار کی باز یافت کی بات چلائی ہے: 

’’عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی ایسے امیدوار کو ووٹ دیا ہو جو کامیاب ہوا ہے تو اسے اپنی فتح سمجھتے ہیں ، حال آں کہ یہ امیدواروں کی شکست و فتح تو ہو سکتی ہے ووٹروں کی شکست و فتح نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ نے کسی امیدوار کو دیانت داری کے ساتھ موزوں امیدوار سمجھ کر ووٹ دیا ہے ، تو گو وہ شکست کھا جائے پھر بھی آپ کی فتح ہے ، کہ شرعاََ آپ جس بات کے مکلف تھے آپ نے اسے پورا کر دیا ، اور اگر آپ کا ووٹ فتح یاب امیدوار کے حق میں گیا لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اس کا مستحق نہیں ہے یا آپ نے کوئی مفاد حاصل کر کے ووٹ دیا اور گویا رشوت لے کر مستحق یا غیر مستحق شخص کے حق میں اپنے حق رائے دہی کو استعمال کیا تو امیدوار کے جیتنے کے باوجود آپ نے شکست کھائی ہے اور آپ نے پایا نہیں ہے بلکہ کھویا ہے کیوں کہ آپ ایک فعلِ گناہ کے مرتکب ہوئے اور اس کی کوتاہ کاریوں میں عنداللہ آپ شریک سمجھے جائیں گے۔ کتنی گھبرا دینے والی ہے یہ بات اور کتنا تشویش انگیز ہے الیکشن کا شرعی پہلو! ا‘‘ (ظفر آدمی اس کو نہ جانیے: ج۲، ح۴، ص۶۵) 

انسانی زندگی میں سماجی اخلاقیات کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دینے کے باوجود ہمارے ممدوح خرافاتی صوفی مشرب میں رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ ان کا ذہن اور مزاج، منطقی اور استدلالی آہنگ لیے ہوئے ہے۔ اس مخصوص ذہنی سانچے کی بدولت وہ فکرِ اسلامی کی ثقاہت پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے اسالیب میں اس کی توجیہ کی بھی کامیاب کوشش کرتے ہیں: 

’’ ایک صاحب اتنے غضب ناک تھے کہ لگتا تھا کہ اب ان کی ناک پھٹ پڑے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ کہے تو اس کا غصہ فرو ہو جائے۔ دریافت کیا گیا کہ وہ کیا کلمہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم (ابوداؤد، بخاری)وجہ اس کی ظاہر ہے کہ غصہ ایک شیطانی حرکت ہے جب انسان اس موقع پر تعوذ پڑھے گا تو اللہ کی مدد سے اس شیطانی حرکت پر غلبہ پا لے گا۔ نفسیاتی اعتبار سے بھی اس کلمہ کو پڑھتے ہوئے آدمی کا ذہن اس جانب منتقل ہوتا ہے کہ وہ اس وقت شیطان کا آلہ کار ہے، اس خیال سے وہ اپنے آپ کو موجودہ کیفیت سے بآسانی نکال سکے گا‘‘ (سب سے بڑی بہادری:ج۲، ح۴، ص۱۰۹)

خالد صاحب کی مذکورہ نکتہ طرازی مسلم سماج سے تقاضا کرتی ہے کہ اس کے افراد قرآن و حدیث کے ساتھ لفظی تعلق سے بڑھ کر معنوی آشنائی کا سنگِ میل عبور کر کے اس کی حقیقی روح سے شناسا ہوں۔ہماری رائے میں یہ کوئی غیر دانش مندانہ یا احمقانہ تقاضا نہیں، بلکہ حقیقی سماجی انقلاب برپا کرنے کا واحدحتمی ذریعہ ہے۔اس سلسلے میں دینِ اسلام کے بنیادی ماخذ قرآن مجید کے الفاظ سے کہیں بڑھ کر، اس کی تفہیم پر دلالت کناں سبعہ احرف روایت ، روشنی کا مینارہ معلوم ہوتی ہے۔ 

اس وقت مسلم دنیا کے سنجیدہ دانش ور مسلمانوں کی تکنیکی پس ماندگی سے بہت زیادہ خائف نہیں ہیں۔ جو خدشہ ا نہیں بے چین کیے رکھتا ہے، اس کا تعلق مسلم سماج کی اخلاقی گراوٹ سے ہے کہ آج کے مسلمان اپنے روایتی امتیازی کردار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ان کے ہاں ان کے اسلاف کی سی للہیت نہیں رہی ۔ لیکن ہمارے محترم مولف نے اپناایک ذاتی واقعہ نقل کرکے امید بندھائی ہے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، آج بھی غیروں کی نظر میں مسلم کردار کی وہی آن شان ہے جو ہمیشہ رہی ہے اور ظاہر ہے کہ غیر وں کا ایسا اعتراف کسی ہم دردی کا نتیجہ نہیں ، بلکہ امرِ واقعہ کا بیان یا کسی حقیقت کا ترجمان ہی ہو سکتا ہے ۔ واقعہ پڑھیے اور سر دھنیے : 

’’ کئی سال پہلے کی بات ہے ، میں دہلی سے حیدرآباد آ رہا تھا۔ .....کیبن میں تین برتھ تھے ، دہلی سے ہم دو ہی آدمی اس کیبن میں سوار ہوئے ، ایک طرف میں ، اور ایک طرف میرے ہی ہم عمر ایک مسافر جو سفید کرتے اور دھوتی میں ملبوس تھے ، اس کی پیشانی پر سرخ و سفید قشقے ہندومذہب پر اس کے ایقان اور اس کی مذہبیت کو ظاہر کر رہے تھے ، گاڑی جب بھوپال پہنچی تو ایک ہندو فیملی آئی ، ان کے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کی عمر اٹھارہ بیس سال رہی ہو گی ، یہ لوگ اصل میں ناگ پور کے رہنے والے تھے اور کسی ضروری امر کے تحت لڑکی کو اچانک بھیج رہے تھے ، لمبا راستہ اور ایک تنہا لڑکی کا سفر ، اس سے وہ لوگ پریشان تھے۔ ..... حالاں کہ وہ ہندو بھائی میرے سامنے ہی بیٹھے تھے اور میری شکل و صورت سے ان کے لیے یہ پہچاننا بالکل دشوار نہیں تھا کہ میں مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک مولوی واقع ہوا ہوں۔ اس کے باوجود ہماری طرف مخاطب ہوئے اور کہنے لگے : ’’ مولانا صاحب ! اسے ناگ پور جانا ہے ، یہ اب آپ کی لڑکی ہے اور ہم اسے آپ کے حوالہ کر رہے ہیں۔ ....یہ لڑکی طالبہ تھی۔ .....اسلام میں خواتین کا کیا درجہ ومقام ہے ، اس بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ .....اس نے مجھ سے بار بار اشتعال انگیز اور غصہ دلانے والے سوالات کیے لیکن میں نے ہمیشہ تحمل اور صبر کے ساتھ جواب دیا ، اس بات نے اسے خاص طور سے متاثر کیا اور کہنے لگی کہ کیا آپ کو غصہ آتا ہی نہیں ہے؟ میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنائی جس میں بار بار آپ سے جینے کا طریقہ دریافت کیا گیا اور آپ نے ہر بار ایک ہی بات ارشاد فرمائی کہ غصہ نہ کرو ، لا تغضب۔ جب ٹرین ناگ پور پہنچی تو اس کے ماموں وغیرہ پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ ...... اصل میں جس چیز نے مجھے متاثر کیا، وہ یہ کہ اس کیبن میں میرے برابر ہی ایک ہندو شخص موجود تھا اور اپنی ہندو پہچان کے ساتھ تھا ، نیز اسے بھی حیدرآباد آنا تھا ، انسان کے لیے عزت و آبرو کا مسئلہ جان و مال سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے ، لیکن بہ مقابلہ اس غیر مسلم کے ہندوستان میں ہندو فکر کے سب سے بڑے مرکز ناگ پور کے ہندوؤں نے ایک مسلمان مولوی پر زیادہ اعتماد کیا ، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام اور حاملینِ اسلام کے بارے میں سماج کیا سوچتا ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ سوچ تجربات پر مبنی ہوتی ہے ‘‘ (پروپیگنڈہ کا جواب عمل سے: ج۱، ح۱، ص۲۹۴، ۲۹۵، ۲۹۶) 

مسلم کردار کی ایسی مثبت شناخت ، بلاشبہ قابلِ اطمینان اور تسلی بخش ہے۔ لیکن خالد صاحب اس پر قانع ہوتے نظر نہیں آتے، ان کی دور بین نگاہیں مسلم کردار کے ان پہلوؤں کا بھی تنقیدی جایزہ لے رہی ہیں ، جو ہماری ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہے۔ اگرچہ بعض این جی اوز فیشن کے طور پر ان عنوانات کے تحت فنڈز جمع کرتی رہتی ہیں لیکن جس سنجیدگی سے اس مسئلہ کو لیا جانا چاہیے ، وہ سنجیدگی عملاََ مفقود رہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ ہمارے ممدوح نے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے راہنمائی لیتے ہوئے ایک انتہائی اہم لیکن ہماری نگاہوں سے اوجھل مسئلے پرکتنے موثر انداز میں خامہ فرسائی کی ہے: 

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ صحابہؓ کو ایک فوجی مہم پر روانہ کیا۔ یہ حضرات گئے، مقابلہ بھی بہادری کے ساتھ کیا، لیکن مقابلہ میں جم نہ سکے اور راہِ فرار اختیار کرنی پڑی۔ جب مدینہ واپس آئے تو مارے شرم کے چھپے پھرتے تھے اور آپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے، کہتے تھے کہ ہم تو بھاگے ہوئے لوگ ہیں۔ ..... آپ نے محسوس کیا کہ یہ موقع زجر و توبیخ اور شرم ساروں کو مزید شرم سار کرنے کا نہیں، بلکہ ہمت بندھانے اور حوصلہ بڑھانے کا ہے۔ آپ نے لطف و کرم کا لب و لہجہ اختیار کیا اور فرمایا کہ تم بھاگے نہیں ہو بلکہ تم اس لیے پیچھے ہٹے ہو کہ پیچھے آ کر دوبارہ حملہ کرو، تم نے اس لیے پسپائی اختیار کی ہے کہ نئی کمک ساتھ لے کر مقابلہ پر اترو۔ ..... ملک میں جہاں مسلمانوں نے بہت سے فلاحی اور تعلیمی ادارے قایم کیے ہیں، وہیں ایک ایسے ادارہ یا ٹیم کی بھی ضرورت ہے جو مختلف میدانوں میں ان لوگوں کی اخلاقی مدد کرے اور حوصلہ افزا مشورے دے، جن کی ہمتیں ٹوٹ جائیں اور وہ پست حوصلگی کے باعث میدانِ مسابقت چھوڑنے لگیں۔ کتنے ہی مسلمان طلبہ ہیں جو ساتویں جماعت کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں لیکن جماعت دہم تک نہیں پہنچ پاتے، کتنے مسلمان تاجر ہیں جو ابھرتے ہیں لیکن کسی وقتی واقعہ کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے اس میدان کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ یہی حال ہر شعبہ زندگی کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو ہمت دلائی جائے اور ان کو اپنا سفر جاری رکھنے پر آمادہ کیا جائے۔ ..... کہ شکست کے احساس اور پست ہمتی کے ساتھ کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔‘‘ (تم صرف پیچھے ہٹے ہو: ج۱، ح۱، ص۲۲۰، ۲۲۲، ۲۲۳)

خالد سیف اللہ صاحب نے پست ہمتی کی مذکورہ نوعیت سے ایک قدرے مختلف نوع پر بھی قلم اٹھایا ہے ، اسے اجتماعی پست ہمتی کا نام دیا جا سکتا ہے، جس کے پیچھے صبر کی کمی اور عجلت جیسی خامیاں کارفرما ہیں: 

’’جیسے جسمانی سطح پر الرجی انسان کو کم زور کر دیتی ہے اور اس کی معتدل کیفیت کو زیر و زبر کر کے رکھ دیتی ہے، اسی طرح قومیں بھی ’’الرجی‘‘ سے دوچار ہوتی ہیں۔ بعض قوموں اور گروہوں میں برداشت کی قوت ختم ہوجاتی ہے اور ردِ عمل کی کیفیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ بات بات پر مشتعل ہوتے ہیں، مخالفین کا ایک بیان مہینوں ان کو الجھا کر رکھ دیتا ہے اور بے برداشت ہونے کی وجہ سے ایسی جذباتیت کا ان سے مظاہرہ ہوتا ہے جس کا نقصان خود ان کو پہنچتا ہے۔ ایسی قومیں دشمنوں اور بد خواہوں کی سازشوں کا شکار ہو کر اپنے حقیقی مسایل کی طرف توجہ نہیں دے پاتیں ، ہمیشہ ردِ عمل میں الجھی رہتی ہیں۔ دوسری قومیں تعلیمی ، معاشی اور دوسرے پہلوؤں سے آگے بڑھتی رہتی ہیں اور یہ سنہرا وقت مشتعل مزاج قوم ، ماتم و زاری اور سینہ کوبی میں گزار دیتی ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان اس وقت ان ہی حالات سے گزر رہے ہیں۔ ہم ایک طرح کی قومی الرجی میں مبتلا ہیں ، ہمیں مشتعل کرنے کے لیے بے بنیاد افواہیں بھی کافی ہیں ..... حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص مال یا جان کے معاملہ میں آزمایش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں سے اس کا شکوہ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہوجاتا ہے کہ وہ اسے معاف کر دے ۔ جیسے یہ بات افراد کے بارے میں کہی جا سکتی ہے، یہی بات قوموں اور گروہوں کے بارے میں کہی جائے تو بے جا نہ ہو، کہ جو قوم دوسروں کے سامنے کاسہ گدائی لے کر کھڑی رہے اور محض نا انصافی کا رونا روتی رہے، وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی اس کی طرف سے ہٹ جاتی ہے ، اور جو قوم اللہ پر بھروسہ کر کے ناموافق باتوں کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھتی جائے ، کامیابی اس کے قدم چومتی ہے اور اللہ کی رحمت اس پر سایہ فگن رہتی ہے۔ اسی لیے رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صبر کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے امن اور ہدایت ہے ، یعنی صبر کی وجہ سے امن و امان کی حالت رہتی ہے اور وہ صحیح راہ پر گامزن رہتے ہیں۔‘‘ (صبر خوش تدبیری ہے نہ کہ بزدلی: ج۲، ح۴، ص۴۵، ۴۶، ۴۸، ۴۹)

حیرت ہے کہ ’راہِ عمل‘ کی دونوں جلدوں میں ہمیں ’یہود وہنود‘ کی مقبولِ عام ترکیب کہیں نہیں ملی، البتہ یہود و نصاریٰ سے سابقہ ضرور پڑا ہے۔ بہت سامنے کی بات ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب کا فہمِ دین ، ہندوستان میں جمہوری نظام اور ہندو اکثریت کے خمیر سے اٹھا ہے اور پاکستان کے علما کا فہمِ دین ، داخلی اعتبار سے فروعی مسایل کے غلغلوں اور خارجی لحاظ سے یہودو ہنود کی ریشہ دوانیوں سے نشوونما پایا ہے۔ کسی غیر جانب دار مبصر کے لیے اکیسویں صدی کے گلوبل ولیج میں فہمِ دین کے اس قسم کے مختلف النوع دھارے قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین اپنی اصالت میں اضافی ہے کہ زماں کے اشتراک کے باوجود محض مکاں کی تبدیلی سے دین کے ظہور کی صورتیں ہی بدل جائیں؟ خاص طور پر ایسے دور میں جب مکاں کی تبدیلی کی اہمیت بہت ہی کم ہو چکی ہو۔ بہر حال! خالد سیف اللہ صاحب کا فہمِ دین ، آج کی دنیا سے کافی لگا کھاتا ہے۔ وہ آنکھیں کھول کر آج کی دنیا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں پٹے پٹائے موضوعات نہیں ، بلکہ ان کے قلم نے نئی دنیا کے نئے مسایل کو للکارا ہے۔ چند عنوانات ہی دیکھیے : مردم شماری میں حصہ لینا ۔۔ایک اہم دینی فریضہ/ ٹریفک ۔۔ شرعی ہدایات /ٹیلی فون ۔۔احکام و آداب /کھیل ۔۔آداب و احکام / میچ فکسنگ ۔۔مرض اور علاج /ووٹ ۔۔ اسلامی نقطہ نظر / ووٹ ۔۔ ایک امانت /مرض اور مریض ۔۔اسلامی تصور / جانور اور اسلامی تعلیمات /ایڈز۔۔حقیقی حل کیا ہے /ماحولیاتی آلودگی اور اسلام /نیوکلیر اسلحہ ۔۔اسلامی تصور /مزدوروں کے حقوق /کلوننگ ۔۔اسلامی نقطہ نظر، وغیرہ وغیرہ۔ پھر ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے صرف موضوعات کی حد تک جدید دنیا کو چھوا ہے اور زبان و بیان اور اسلوب میں فرسودگی اختیار کی ہے ، بلکہ ان کا اصل کمال یہی ہے کہ انہوں نے’ گلوبل ولیج کے مخاطب‘ کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا پورا دھیان رکھا ہے جو دھونس زبردستی کے بجائے مکالمے کی فضا میں بات کرنا چاہتا ہے ، اسی لیے خالد صاحب اکثر مواقع پر اپنا موقف بیان کرنے سے قبل مخاطب کے مطلب کی بات کرتے ہیں یعنی ایک طرح سے اس کی بات سنتے ہیں ۔ بات سنے جانے کے احساس سے مخاطب کا ایک حد تک تزکیہ ہو جاتا ہے جس سے اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے کہ وہ خالد صاحب کے نکتے کو سمجھنے کی کم از کم کوشش ضرور کرے ۔ مثال کے طور پر (مجسمہ کا انہدام ۔۔غوروفکر کے چند پہلو: ج۱، ح۲،ص۸۵) پڑھ لیجیے ۔ 

زیرِ نظر تالیف کے کئی گراں قدر پہلو قارئین کی ضیافت کا سامان لیے ہوئے ہیں، لیکن ہم اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے کتاب کے ظاہری حسن کی بابت عرض کریں گے کہ ایک توجاذبِ نظر کے بجائے انتہائی خستہ کاغذ پر طبع، اس کی دونوں جلدوں کی ضخامت یکساں نہیں ہے۔ انیس بیس کا فرق قابلِ لحاظ ہوتا، لیکن یہاں تو فرق تقریبا سو فی صد کا ہے۔ پہلی جلد کے صفحات ۸۴۸، اور دوسری کے ۴۸۴ ہیں، اس لیے ظاہری اعتبار سے دوسری جلد، پہلی کا تتمہ معلوم ہوتی ہے۔ پھر اس بد نمائی میں سونے پر سہاگہ، اس کتاب کی عجیب و غریب ترتیب ہے۔ پرانے طرز پر صفحات نمبر کے تسلسل کے بغیر پانچ مختلف تالیفات کو دو جلدوں میں اس طرح سمویا گیا ہے کہ ’گھس بیٹھیوں‘ کا گمان ہوتا ہے۔ جب عکس لے کر کتاب شائع کی جائے تو ایسی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ سرورق میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ اگر نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ مبارک کا عکس چھاپنا ہی ہے تو اسے اوپر کونے میں جہاں ’راہِ عمل‘پرنٹ ہے، شائع کیاجائے کہ احترام کا تقاضا یہی ہے۔ خالد سیف اللہ صاحب نے خود بھی (دستخط۔۔ اسلامی احکام : ج۱، ح۳، ص۲۰۸) اس احترام کی طرف توجہ دلائی ہے : 

’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہانِ عجم اور روسائے عرب کو دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا ۔ اس موقع سے بعض حضرات نے آپ سے عرض کیا کہ یہ حضرات مہر کے بغیر خطوط کو قبول نہیں کرتے ۔ چنانچہ آپ نے مہر بنوائی جس پر ’محمد رسول اللہ ‘ کندہ کیا گیا اور آپ نے کمال احترام کا لحاظ کرتے ہوئے نیچے ’’محمد‘‘ اس کے اوپر ’’رسول ‘‘ اور سب سے اوپر ’’اللہ‘‘ کے کلمات لکھے۔‘‘

املا کی اغلاط کے انبار نے، جو درحقیقت پروف ریڈنگ میں روا رکھی گئی انتہائی بے احتیاطی کا نتیجہ ہے ’راہِ عمل‘ کو ایک خاص پہلو سے بے عمل بھول بھلیوں کا روپ دے دیا ہے ۔ ظاہری تزئین میں مانع اس خامی نے، کتاب کے بامقصد مواد میں مضمر حقانیت کو بری طرح تو مجروح نہیں کیا لیکن خاطر خواہ حد تک برا تاثر ضرور پیدا کیا ہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ اس خامی کے ذمہ دارہمارے ممدوح مولف نہیں ہیں بلکہ اس کا ’سہرا‘ صرف اور صرف پبلشر کے سر بندھتا ہے۔ املا کی اغلاط کے علاوہ تاریخوں اور حوالہ جات کے غلط اندراج سے بدنمائی میں مزید اضافہ ہوا ہے (اسی لیے ہم نے اقتباسات میں حوالہ دینے سے دانستہ چشم پوشی کی ہے)۔تذکیر و تانیث ، خلط ملط ہونے سے پٹھانی اردو کے نمونے بھی جابجا موجود ہیں ۔ راہِ عمل کی دونوں جلدوں میں بعض سنگین نوعیت کی غلطیاں بھی موجود ہیں، مثلاً جلد اول حصہ اول صفحہ نمبر ۱۱۹ پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ کے بجائے ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ شائع ہو گیاہے، صفحہ نمبر ۲۲۰ کی دوسری سطر پر ’راہ‘ کے ساتھ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ لکھا گیا ہے۔ اسی طرح جلد دوم حصہ چہارم صفحہ نمبر ۷۵ پر فاطمہ بنتِ محمد لکھتے وقت محمد کے ساتھ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ نہیں لکھا گیا ۔ 

اس کتاب کی قیمت ۶۰۰ روپے رکھی گئی ہے۔ اگر اس ایڈیشن کی تعداد ایک ہزار بھی ہو تو قیمت میں صرف پچیس روپے کے اضافے سے کسی بھلے مانس پروف ریڈر کو پچیس ہزار روپے مزید ادا کرکے اس اہم کتاب کی اسی طرح ’ذمہ دارانہ اشاعت‘ کا حق ادا ہو سکتا تھا جس ذمہ دارانہ اسلوب میں ہمارے مولف محترم نے اپنے خیالات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ 

آراء و افکار

(جون ۲۰۱۰ء)

Flag Counter