’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

’ رگِ خواب‘، ’قربِ گریزاں‘ اور ’حریم حمد‘ کے بعد منیر الحق کعبی کا نیا مجموعہ کلام ’دشتِ وصال‘ کے نام سے منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ اس شعری مجموعے میں اگرچہ تخیل اور اسلوب کی چند نئی جہتیں پر پرزے نکالتی محسوس ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود کعبی کے شعری سبھاؤ کی روایتی پرچھائیاں دشت سے لے کر وصال تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے :

تازہ ہوائے صبح پھر دل کو خطاب کر گئی 
باغ کی ہر کلی کھلی ، کھل کے گلاب کر گئی
یاد کے شاخسار پر گل جو کھلے بکھر گئے 
خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کر گئی 
تھل کے ہر ایک ذرے میں پنوں کا عکس دیکھ کے 
سسی وصال کے لیے خود کو کباب کر گئی 

وصال کے لیے خود کو کباب کرنے کی ترکیب اچھوتی ضرور ہے، لیکن قدرے غیر سنجیدہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس غیر سنجیدگی اور اچھوتے پن کے باوجود اس میں دلکشی اور واقعیت پسندی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ کباب، مسلسل جھلسنے سے بنتا ہے۔ تھل اور کباب کے ذکر سے واقعیت پسندی کا اظہار ہو رہا ہے اور دلکشی اس طرح پیدا ہوئی ہے کہ کعبی نے ’ ہجر و فراق ‘ کی جاں گسل کیفیت کو مسلسل جھلسنے سے تعبیر کر کے کچھ ایسی رمزیت میں پیش کیا ہے کہ غور کرنے پر فقط ’ دشتِ وصال ‘ ہی سے پالا پڑتا ہے۔ مذکورہ بالا پہلا شعر اور دوسرے تیسرے شعر کے پہلے مصرعے، غزل کا روایتی سبھاؤ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں تکلف، ٹھاٹھ، وضع داری اور شایستگی کے وہ تمام اسالیب جھلملا رہے ہیں جن کی مدارات ایک زمانے تک ہماری تہذیب کا خاصہ رہی ہے، لیکن دیگر مصرعے جہاں ایک طرف تکلف سے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں، وہاں دوسری طرف ان میں ایسی برجستگی امڈتی چلی آئی ہے جو غزل سے وابستہ روایتی تہذیب سے متصاد م ہوتے ہوئے بھی شایستگی اور اظہار کے کلچرل اسالیب کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ آخر ’’ خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کر گئی ‘‘ کو اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ 

اس مجموعہ کلام میں کعبی نے نہایت کامیابی سے بعض آفاقی سچائیوں کا برجستہ اظہار کیا ہے ۔ مثلاً:

اپنے اندر جو کھو گئے تنہا 
گھر کے باہر بھی ہو گئے تنہا

انسان کے تارک الدنیا ہونے کے کئی پہلو اور ان گنت کیفیات ہیں ۔ اس شعر میں کعبی نے ان تارک الدنیا لوگوں کی پھیکی اور بے رونق زندگیوں کی عکاسی کی ہے جو معاشرے سے بظاہر ربط و تعلق رکھتے ہیں لیکن حقیقتاً اتنے خود پسند یا دروں بیں (introvert) ہوتے ہیں کہ انتہائی ناگزیر سماجی تقاضوں کی بھی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ۔ بقول کعبی، ایسے لوگ مجلسی ہونے کے باوجود تنہا ہوتے ہیں۔ اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پانے والے بھی کسرِ کعبہ کی اس عدالت میں مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہیں، کیونکہ زندگی ’میں ‘ نہیں بلکہ ’تو‘ ہے۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’ بھی ‘‘ نے معنویت کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ ایک اور آفاقی سچ ملاحظہ فرمائیے:

پھول مہکا گئے چمن کعبی 
خار خود کو چبھو گئے تنہا 

جہاں یہ کڑوا سچ موجود ہے کہ پھول کے ساتھ خار بھی ہوتے ہیں، وہاں یہ سچائی بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ پھول کی خوشبو چہار سو پھیل کر ان گنت نفوس کو لبھاتی رہتی ہے جبکہ خار، پھول کی مہکار کے مانند مجلسی نہیں ہوتا، فقط تنہا ہوتا ہے۔ جی ہاں ! خار تنہا ہی کسی کو چبھتا ہے۔ کوئی خار بیک وقت ایک سے زیادہ لوگوں کو نہیں چبھ سکتا۔ کعبی نے نہایت بلیغ شعری پیرایے میں خیر ، نیکی اور اسی قبیل کی دیگر اقدار کو پھول اور پھول کی مہکار سے تشبیہ دی ہے کہ خیر، مجلسی ہوتا ہے، اس میں خارو شر کے مانند ’ میں ‘ نہیں ہوتی بلکہ یہ سر تا پا ’ تو ‘ ہی ہوتا ہے۔ ’ تو ‘ کے ایسے مطلق اثبات سے ہی ’’خیر ‘‘خود توسیعی کے ناتمام عمل سے مسلسل گزرتا رہتا ہے۔ اگر مذکورہ دونوں شعر بطور قطعہ لیے جائیں تو معنویت کی مزید پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں ۔ایک شعر ملاحظہ کیجیے، یہ چند نئے شیڈز کے ہمراہ مذکورہ مستور معنویت کا تشریحی نوٹ معلوم ہوتا ہے :

وہ اپنی ذات کے خفاش خانے میں ہی مرتا ہے 
کوئی جگنو چمکتا دیکھ لیتا ہے تو ڈرتا ہے 

پہلے مصرعے میں ’’ ہی ‘‘ نے تشریح کی تشریح کر دی ہے۔ ایک اور شعر میں کعبی نے ’’ میں ‘‘ پر زبردست چوٹ کی ہے:

بہت گمان تھا مجھ کو انا کی وحدت پر 
میں اپنی ذات کے ٹکڑوں میں بٹ گیا پھر بھی 

ایک غزل کے یہ اشعار بھی قابلِ غور ہیں:

وہ آسمان پہن کر نکل تو آیا تھا 
بھلا دیا کہ زمین اس کا اپنا سایا تھا
تمام عمر انا کے حصار میں گزری 
عذابِ ہجر کو خود ہی گلے لگایا تھا 
ہر ایک شخص گھٹن کا شکار تھا پھر بھی
عجیب شور مرے شہر نے مچایا تھا 

پہلے دو شعر اثباتِ ذات (Self Assertion) کی اسی منفیت کے غماز ہیں جس کا ذکر اوپر ہو چکا۔ تیسرے شعر کے پہلے مصرعے کا پہلا ٹکڑا ’’ ہر ایک شخص‘‘ عمومیت کا حامل ہے ، لیکن یہ کسی معنی کا اظہار کرنے کے بجائے قدرے سوالیہ دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا ٹکڑا ’’ گھٹن کا شکار تھا‘‘ معنی کی ایک پرت کھولتا ہے۔ اس کے بعد تیسرا ٹکڑا ’’ پھر بھی ‘‘ معنوی اکائی کی تشکیل کرتے ہوئے معانی کی امکانی جہتوں کو سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ دوسرا مصرعہ جہاں پہلے مصرعے کی تکمیل کرتا ہے، وہاں ’’عجیب شور‘‘ گھٹن کے مقابل آ کر ایک نفسیاتی حقیقت کا اشاریہ بن جاتا ہے۔ شعر گوئی کے اس عمل کو ’’ گیسٹالٹ نفسیات ‘‘ (Gestalt Psychology) کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے جس کے مطابق ’’ کُل ، اپنے اجزا کے مجموعے کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے ۔‘‘ جس طرح غزل کے ہر شعر کی انفرادیت کے باوجود پوری غزل ایک خاص موڈ اور ایک خاص زاویے کو منعکس کرتے ہوئے ’’کل‘‘ کی حامل ہوتی ہے، اسی طرح غزل کا ہر شعر بھی ایسا کُل ہو تا ہے جو اپنے اجزا کے مجموعے کے مقابلے میں معنویت کی زیادہ پرتیں سامنے لاتا ہے۔ ایک اور شعر دیکھیے :

پتی پتی اس کے ہونٹوں کا سایا محسوس 
پھول اسی کا نقش اتاریں کس سے بات کریں

’’ پتی پتی ‘‘ پہلا ٹکڑا ہے جس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ دوسرا ٹکڑا ’’ اس کے ہونٹوں کا ‘‘ نہ صرف تشبیہ اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے توسط سے معنویت کی ایک پرت کھل جاتی ہے۔ تیسرا ٹکڑا ’’ سایا محسوس ‘‘ جہاں دوسری پرت کھولتا ہے، وہاں پہلے مصرعے کی معنویت کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے مصرعے کا پہلا ٹکڑا ’’ پھول اسی کا ‘‘ کوئی نئے معنی پیدا نہیں کرتا۔ دوسرا ٹکڑا ’’نقش اتاریں ‘‘ دو سطحوں پر معانی دیتا ہے۔ ایک تو پہلے ٹکڑے کے ساتھ مل کر اور دوسرا اپنے سے قبل کے چاروں ٹکڑوں کے ساتھ مل کر۔ دوسرے مصرعے کا آخری ٹکڑا ’’کس سے بات کریں‘‘ اس مصرعے کو نئے معانی پہناتا ہے اور اپنے سے قبل کے پانچ ٹکڑوں کے ساتھ مل کر معنوی اعتبار سے قدرے مختلف ہو جاتا ہے۔ اب اگریہاں اجزا کے مجموعے کے بجائے کل کی معنویت سامنے لائی جائے تو وہ بلاشبہ زیادہ بلیغ اور گہری ہو گی ۔

بعض مقامات پر کعبی نے ان نفسیاتی عوارض کی طرف اشارہ کیا ہے جو کسی بھی ناہموار سماج میں ناسور کی طرح پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً :

ہم تو حیرت سے پتھر بنے رہ گئے 
حسرتوں نے بھی ارماں نکالے بہت 

اس شعر میں ایسا نہیں کہ دوسرے مصرعے نے پہلے مصرعے کی تکمیل کی ہے بلکہ حقیقت میں دونوں مصرعے ایک دوسرے کا تکملہ معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ حیرت سے پتھر بننے کے عمل نے انتہائی شدت پیدا کی ہے جس سے مطلوب معنویت تک قاری کی رسائی آسان تر ہو جاتی ہے۔ جہاں تک حسرتوں کے ارمان نکالنے کا تعلق ہے، وہ اتنے ناگفتنی ہیں کہ حیرت سے فقط پتھر ہی بنا جا سکتا ہے۔ ’’ پتھر بنے رہ گئے ‘‘ سے ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ جب حسرتیں ارمان نکالنے پر اتر آئیں تو ان کے تدارک کی خاطران کے مقابل کسی بھی قسم کی فعالیت کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ حسرتیں دائرہ در دائرہ پھیلتی نہیں رہنی چاہییں تاکہ فرد اور سماج اپنے اپنے مقام سے ہٹنے نہ پائیں۔ 

کعبی کے کلام میں ’’ گلاب ‘‘ بکثرت موجود ہے، لیکن یہ مختلف اشعار میں اس طرح برتا گیا ہے کہ اس کو کوئی قطعی معنی نہیں دیے جا سکتے ۔ غور کیجیے: 

اسے دیکھا تو لوٹ آئیں بہاریں 
گلابوں کا ابھی موسم نہیں تھا 
گلاب اس کے لبوں سے مل کر شراب ٹھہرے 
اب اس کی ہر سانس انگبیں تھی ہم ایسے خوش تھے 
زیرِ لب ہی رہ گئے مرجھا کے حرفوں کے گلاب 
پھر سے تشنہ رہ گئی ہے داستان ِ اضطراب 
تم گلابوں کے ہم سفر کعبی 
زندگی وادئِ مغیلاں ہے 

اس شعر کو دیکھیے : 

گلاب اب بھی کھلے ہیں لیکن کوئی بتائے 
وہ اڑتی پھرتی سفید تتلی کدھر گئی ہے 

’’ کدھر گئی ہے ‘‘ کے بغیر بھی شعر کی معنویت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ گلاب کے مقابل سفید تتلی ، تلمیح معلوم ہوتی ہے، جس طرح نیلم بھی کلامِ کعبی کی ایک بڑی تلمیح ہے۔ اگر کعبی کی گلابوں کی ہم سفری کو پیشِ نظر رکھا جائے تو گلاب کا کھلنا ایک مخصوص ذہنی و دلی کیفیت کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ کیفیت ’’اڑتی پھرتی سفید تتلی‘‘ کی یاد دلا دیتی ہے۔یہ یاد کبھی تو خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کرتی ہے اور کبھی کعبی کی زندگی کی وادئ نیلم کو وادئ مغیلاں میں ڈھال دیتی ہے ۔ کوئی ہے جو غزالِ دشتِ غزل کو اس کی ذرا خبر کر دے؟ عام طور پر لوگ کسی پیارے کی یاد کے سہارے ساری زندگی بِتا دیتے ہیں ۔ کسی کے نزدیک یاد بیساکھی کی حیثیت رکھتی ہے تو کسی کے ہاں اس کا مقام ’’ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ‘‘ جیسا ہوتا ہے ، لیکن دشتِ وصال کے شاعر کو یہ کم بخت یاد صرف تنہا ہی نہیں کر گئی بلکہ اس نے کیا ستم ڈھادیا ہے ، ملاحظہ کیجیے: 

مرے اندر کی محفل مر گئی ہے 
تمھاری یاد تنہا کر گئی ہے 

اسی غزل کا یہ شعر بھی قابلِ غور ہے :

فریب ایسے دیے ہیں زندگی نے 
مری معصومیت اب ڈر گئی ہے 

پہلے مصرعے میں ’’ ایسے ‘‘ اور دوسرے مصرعے میں ’’ اب ‘‘ نے معنوی لحاظ سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رہنے دی ۔ 

کعبی کے اس مجموعے کے یہ دو شعر غالب کے ایک مشہور شعر کی یاد تازہ کر دیتے ہیں ۔ ذرا یاد داشت پر دستک تو دیجیے :

اُگے ہیں نور کے اشجار ہر سو 
ستارے خاک میں ایسے ملے ہیں 
ملی ہیں دھڑکنیں مٹی میں شاید 
ہوا ایسے ہی دیوانی نہیں ہے 

انسان کی خلائی تسخیر پر تیکھا طنز ملاحظہ کیجیے :

ہر ستارہ بجھا بجھا کعبی 
کہکشاں کس نے اب سنبھالی ہے 

ثقہ ناقدین کی رائے ہے کہ معاملہ بندی لکھنو کے شاعروں پر ختم ہے۔ ایسے شعرا کے ہاں عموماً لمبی ردیف ملتی ہے جو ترنم، غنائیت اور موسیقیت کو مہمیز عطا کرتی ہے ۔ کعبی کے ہاں معاملہ بندی میں دشتِ وصال جلتا نظر آتا ہے :

دل رک گیا مرا بھی نظر وہ بھی جھک گئی 
خاموش حادثوں کی یہی تو اٹھان تھی 
ٹھہری تو ہر نگاہ بدن میں اتر چلی 
یہ بھی نہیں کہ چل پڑی تو بے دھیان تھی 

طویل ردیف کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے: ’’ ہے اسے دیکھنا اسے سوچنا‘‘، ’’ہے چلو دیکھیں تو‘‘، ’’ہوتا جا رہا ہے ‘‘، ’’کبھی ہم ایسے خوش تھے‘‘۔ لمبی ردیف، غزل کی معنویت کو عام طور پر پابند کر دیتی ہے ، ذرا دیکھیے :

زمیں پاتال سے اٹھ کر مہ و مریخ پر پہنچی 
فرشتوں میں وہی بوڑھی کہانی رقص کرتی ہے 
کہیں کوئی محبت سے بھرا انساں نہیں ملتا 
دلوں کی دھڑکنوں میں بد گمانی رقص کرتی ہے 
ہرے پتے بھلا کب تک صبا کے ہاتھ میں رہتے 
پسِ ہر شاخ میں نقلِ مکانی رقص کرتی ہے 

اس قسم کی غزل میں معنوی تحدید کے باوجود کچھ ایسی کشش اور آرایش بہر حال جھلملاتی رہتی ہے جو قارئین ، بالخصو ص سامعین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھتی ہے۔ کعبی کا یہ شعر معاشرتی رویوں کی مدافعت میں جھنجھناہٹ کا آہنگ لیے ہوئے ہے:

ٹھیک ہے خود کشی حرام سہی 
عصمتِ نفس تو بچالی ہے

لیکن یہ جھنجھناہٹ اس شعر کے انتہائی سطحی فہم سے برآمد ہوتی ہے۔ تھوڑا غور کرنے پر عیاں ہوتا ہے کہ یہاں خود کشی سے مراد ان جائز خواہشات اور حسرتوں کو دبا کر رکھنا ہے جن کی تکمیل آج کے دور میں عصمتِ نفس کے عوض ہی ہو سکتی ہے ۔ ’دشتِ وصال ‘ کے کئی فنی و فکری پہلو طشت از بام آنے کے لیے پہلو پر پہلو بدل رہے ہیں، لیکن ہم طوالت کے خوف سے کعبی کے اس شعر پر بات ختم کرتے ہیں : 

ہَوا چاکِ گریباں سے ہے گزری
مرے اندر کا منظر بولتا ہے

ادبیات

مئی ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۵

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت
مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار
پروفیسر شیخ عبد الرشید

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت
ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکاتیب
ادارہ

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
ادارہ

الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائی
ادارہ