یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کا مسئلہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

۱۹۵۲ میں چھ ریاستوں ( بیلجیم، فرانس ، جرمنی ، اٹلی، لکسمبرگ اور نیدر لینڈ) سے جنم لینے والی یورپی یونین، ۱۹۷۳ میں پہلی توسیع ( ڈنمارک، آئر لینڈ، یو ۔کے)، ۱۹۸۱ میں دوسری توسیع (یونان)، ۱۹۸۶ میں تیسری توسیع (پرتگال ، سپین)، ۱۹۹۵ میں چوتھی توسیع (آسٹریا ، فن لینڈ اور سویڈن)، اور ۲۰۰۴ میں پانچویں توسیع (قبرص، چیک ری پبلک، اسٹونیا ، ہنگری، لیٹویا ، لیتھونیا، مالٹا ، پولینڈ، سلوویکیا اور سلووینیا) سے گزر کر ۲۰۰۷ میں چھٹی توسیع (بلغاریہ ، رومانیہ) سے ہمکنار ہوگی کہ بلغاریہ اور رومانیہ سے رکنیت کی بابت مذاکرات (Accession negotiations) ۲۰۰۰ سے شروع ہو چکے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ترکی بھی پچھلے کئی عشروں سے یورپی یونین کی رکنیت کا خواہاں ہے۔ دسمبر ۲۰۰۴ میں یورپین کونسل (جس میں ممبر ممالک کے سربراہان شریک ہوتے ہیں) ، ترکی کی رکنیت سے متعلق ’’مذاکرات ‘‘کی بابت فیصلہ کر ے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’ہاں ‘‘ کی صورت میں بھی ترکی کورکنیت کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے گا ( جیسا کہ بلغاریہ اور رومانیہ ۲۰۰۰ سے منتظر ہیں اور ۲۰۰۷ میں انھیں رکنیت ملنے کی امید ہے ) یورپی یونین کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ترکی ۲۰۱۰، ۲۰۱۵ یا ۲۰۲۵ تک ہی رکنیت حاصل کر سکے گا ، وہ بھی اس صورت میں کہ بیچ میں کوئی ’’ناگہانی‘‘ افتاد نہ آن پڑے ۔ 

یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ترکی کی کوششوں کا آغاز ۱۹۶۳ کے معاہدے سے ہوتا ہے جسے عموماً معاہدہ انقرہ کہا جا تا ہے اور جو جمہوریہ ترکی اور یورپین اکنامک کمیونٹی (EEC) کے درمیان ہو ا تھا۔ اس معاہدے کے توسط سے تین مراحل میں ایک CUSTOMS UNION کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ۱۹۶۳ سے لے کر ۱۹۷۰ تک کے پہلے مرحلے میں ترکی کی درآمدات میں EEC کا حصہ ۲۹ فیصد سے بڑھ کر ۴۲ فیصد تک ہو گیا ۔ آج کی یورپی یونین ، ترکی کی مجموعی بیرونی تجارت (Foreign trade)کی ۵۰ فیصد کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نومبر ۱۹۷۰ کے دوسرے پروٹوکول نے مجوزہ CUSTOMS UNION کی تکمیل کی تفصیلات اگلے ۱۲ سے ۲۲ برسوں کے لیے طے کر دیں۔تیسرے پروٹوکول میں طے پایا کہ EEC ترکی سے اپنی درآمدات کے لیے کس طرح ٹیرف اور دیگر مقداری رکاوٹیں ختم کرے گی (ٹیکسٹا ئل سمیت چند مستثنیات کے ساتھ) اسی طرح ترکی بھی کیسے جوابی اقدامات کرے گا۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۰ کی فوجی بغاوت کے سبب سے یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات چند برسوں کے لیے منجمد ہو گئے ۔ ۱۹۸۷ میں یورپی یونین کی ’’ فل ممبر شپ‘‘ کے لیے ترکی کی درخواست سے تعلقات کو نئی جہت ملی۔ ۱۹۹۰ میں یورپی یونین نے ترکی کی رکنیت کی ’’اہلیت‘‘ کی تصدیق کر دی، تاہم اس نے ترکی کی درخواست پر مکمل غور و فکر ’’زیادہ سازگار ماحول‘‘ کے ظہور تک ملتوی کر دیا۔ اس وقت کمیشن نے تعاون کے پیکیجcooperation package کا وعدہ کیا لیکن یونان کے اعتراض کی وجہ سے اسے موقوف کر دیا گیا ۔جون ۱۹۹۳ میں کوپن ہیگن یورپی کونسل نے رکنیت کے لیے مشہور و معروف ’’کوپن ہیگن معیار۱۹۹۳ ‘‘(Copenhagen criteria1993) تشکیل دیا جس کے مطابق یورپی یونین کی ممبر ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ہاں مکمل جمہوریت ہو، عدلیہ آزاد ہو ، اقلیتوں کے حقوق کا پورا تحفظ ہوتا ہو ، قانون کی حکمرانی ہو ، تشدد کا خاتمہ اور انسانی حقوق کی مکمل حفاظت ہوتی ہو ۔ مضبوط مارکیٹ اکانومی ہو ، اور معیشت پر ریاستی اجارہ داری کا خاتمہ ہو ۔ یورپی یونین یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ ریاستی قوانین (مالیاتی پالیسیوں سمیت) یونین کے قوانین سے موافق و ہم آہنگ ہوں ۔ 

یہ بھانپتے ہوئے کہ فل ممبر شپ کی درخواست ’’طاقِ نسیا ں ‘‘ میں رکھ دی گئی ہے، ترکی نے مختصرالمدت فائدہ اٹھانے کی غرض سے CUSTOMS UNION کی تکمیل کی کوششیں کیں۔ ۱۹۹۴ میں دونوں فریقوں کے درمیان کسٹمزیونین بات چیت کا آغاز ہوا جو مارچ ۱۹۹۵ میں مکمل ہو گئی۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۹۵ سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان صنعتی اور processed زرعی اشیا کے لیے کسٹمز یونین موثر قرار پائی ۔کسٹمز یونین پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی ترکی نے یورپی یونین کی تمام مصنوعات پر درآمدی چارجز اور ڈیوٹیاں ختم کر دیں ۔ ترکی نے مزید برآں وعدہ کیا کہ وہ پانچ برس کے اندر ان ’’تیسرے ممالک‘‘ کی صنعتی مصنوعات پر سے بھی درآمدی ٹیرف ختم کر دے گا جو یورپی یونین کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ اگرچہ بنیادی زرعی اشیا ابتدائی ایگری منٹ میں شامل نہیں تھیں لیکن بعد میں یکم جنوری ۱۹۹۸ میں ان اشیا کے لیے preferential trade regime کو اپنا لیا گیا ۔ 

اپریل ۱۹۹۷ کی ایسوسی ایشن کونسل میں ترکی کی رکنیت کی اہلیت کو دوبارہ تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ عندیہ دیا گیا کہ یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات کا انحصار کئی عوامل پر ہے جیسا کہ یونان ، قبرص ، انسانی حقوق وغیرہ ۔یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ ’’ ایجنڈا۲۰۰۰‘‘ میں ترکی کو ’’توسیعی عمل‘‘ سے خارج قرار دیا جس سے ترک رائے عامہ میں اضطراب پیدا ہوا اور ترکی کی رکنیت کی اہلیت کو تسلیم کرنے اور اسی سانس میں اسے توسیعی عمل سے خارج قرار دینے کو ’’تضاد ‘‘ پر محمول کیا گیا ۔ 

دسمبر ۱۹۹۹ میں منعقد ہونے والی Helsinki European Council میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی۔ Helsinki میں ترکی کو بغیر کسی پیشگی شرط کے دوسری امیدوار ریاستوں کی مساوی حیثیت میں سرکاری طور پر ’’امیدوار ریاست‘‘ تسلیم کر لیا گیا ۔ مارچ ۲۰۰۱ میں یورپی یونین نے Accession partnership for Turkey کو قبول کر لیا ۔ 

دسمبر ۲۰۰۲ کی کوپن ہیگن سربراہی کانفرنس میں یورپی یونین نے تاریخی فیصلہ دیا جس کے مطابق یکم مئی ۲۰۰۴ سے دس امیدوار ریاستوں نے اس کا ممبر بن جانا تھا۔ ترکوں کو اس توسیعی عمل سے اپنے اخراج پر یقیناًبہت دکھ ہوا ۔ بہر حال کوپن ہیگن سربراہی اجلاس نے اعادہ کیا کہ اگر دسمبر ۲۰۰۴ میں منعقد ہونے والی یورپی کونسل نے ترکی کو ’’کوپن ہیگن معیار‘‘ پر پورا پایا تو یورپی یونین بلا تاخیر رکنیت کے لیے مذاکرات کا راستہ کھول دے گی ۔ 

ترکی نے کوپن ہیگن معیار پر پورا اترنے کے لیے کئی اقدامات کیے :

۱۔ انسانی حقوق میں بہتری ، قانون کی حکمرانی میں مضبوطی اور جمہوری اداروں کی از سرِ نو تشکیل کے لیے دستور میں ترامیم کی گئیں ۔ ترک پارلیمنٹ نے جنوری ۲۰۰۲ میں نیا سول کوڈ اختیار کیا جس کے مطابق درج ذیل شعبوں میں بہتری آئی :

ا۔ انجمن سازی میں آزادی اور اجلاس کا حق 

ب۔ مرد عورت کی مساوات

ج۔ بچوں کا تحفظ

مذکورہ اصلاحات کے بعد ۲۰۰۲ میں تین قانونی پیکیج آئے ۔ پہلے پیکیج کے مطابق دانشوروں کو ان کے خیالات کے اظہار کے سبب گرفتار اور سزا دینے کے عمل کا خاتمہ کیا جانا تھا ۔ دوسرے پیکیج میں غور و فکر کے آزادانہ اظہار، پریس کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی اور پر امن اجتماعات کے دائرے کو مزید بڑھانا مطلوب تھا۔ تیسرے پیکیج کو ترک تاریخ کا ’’سنگِ میل ‘‘ قرار دیا گیا کیونکہ اس کے مطابق :

ا۔ سزائے موت کا خاتمہ کر دیا گیا،

ب۔ انفرادی ثقافتی حقوق پر سے پابندیاں اٹھا لی گئیں ،

ج۔ انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں مقدمے کی دوبارہ سماعت (retrial) ممکن ہو گئی، جس سے پریس اور اظہار کی آزادی کی قانونی ضمانتوں کو بھی مضبوطی حاصل ہو گئی ۔

د۔ انجمن سازی اور پر امن اجتماع پر پابندیوں کو سہل کیا گیا ،

ر۔ ترکی کی اقلیتوں کے، اپنی کمیونٹی فاؤنڈیشنز کے لیے حقِ جائیداد کو یقینی بنایا گیا ۔

نومبر ۲۰۰۲ میں منعقد ہونے والے الیکشن کے فوراً بعد دسمبر ۲۰۰۲ میں ہی AKP کی نئی حکومت نے نئے قانونی پیکیج متعارف کرائے ۔ پہلے پیکیج کے مطابق ، جسے کوپن ہیگن پیکیج کہا جاتا ہے :

ا۔ ان سرکاری افسروں کے خلاف مقدمہ اور قانونی کارروائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ، جن پر ایذا رسانی اور بد سلوکی کے الزامات ہوتے تھے ۔

ب۔ ترک حکومت نے بد سلوکی اور ایذارسانی سے متعلق ’’مکمل عدمِ برداشت‘‘(Zero Tolerance) کا اعلان کیا اور اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے سرکاری افسروں کو تبدیل بھی کر دیا ۔

اصلاحات کے دوسرے پیکیج نے انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلوں کی بنیاد پرمقدمے کی دوبارہ سماعت سے متعلق سکوپ کو مزید وسعت دے دی ۔

۱۴ جنوری ۲۰۰۴ کو ترک پارلیمنٹ نے ۲۴ بین الاقوامی معاہدات کی منظوری دی ، جن پر ترکی پہلے دستخط کر چکا تھا۔ ان میں ایک کرپشن سے متعلق بھی ہے اور سزائے موت کے خاتمے کے متعلق بھی، حتیٰ کہ جنگی اور ہنگامی کیفیت میں بھی سزائے موت پر پابندی لگا دی گئی۔ 

یورپی یونین کی فل ممبر شپ کے حصول کے لیے ترکوں کے اقدامات کی ’’داستانِ عشق‘‘ کے بعد آئیے، سرسری طور پر دیکھتے ہیں کہ ان کے مقصد کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں ۔

غالباََ یہ فرانس کے سابق صدر Valery Giseard D' Estaing ہیں جنھوں نے ترک رکنیت کے خلاف پہلا پتھر یہ کہہ کر پھینکا کہ ’’انقرہ مختلف ثقافت ، مختلف اپروچ اور مختلف اندازِ زندگی کا حامل ہے ‘‘ اور یہ کہ ترکی کا ’’دارالخلافہ یورپ میں نہیں، اس کی ۹۵ فیصد آبادی یورپ سے باہر رہتی ہے، یہ یورپی ملک نہیں ہے ‘‘۔سابق جرمن چانسلر ہیلمٹ کوہل نے بھی سابق فرانسیسی صدر کی ہاں میں ہاں ملائی ، اس کے باوجود کہ ان کے بیٹے نے ایک ترک خاتون سے ہی شادی کی ہے۔ جرمنی کی اپوزیشن لیڈر Angela Merkel نے اپنی پارٹی Christian Democratic Union کی نمائندگی کرتے ہوئے صاف صاف کہا ہے کہ ترکی کی شمولیت سے یورپی یونین بے محابا پھیلاؤoverstretch کا شکار ہو کر اپنی موت آپ مر جائے گی۔ Angela Markel کا موقف ہے کہ ترکی کو فل ممبرشپ کی بجائے زیادہ سے زیادہ ایک مراعات یافتہ رکن Privileged Member کی حیثیت دی جائے ۔ پھر ویٹی کن کے Doctrinal Head کا رڈینل جوزف نے بھی اس ’’کارِ خیر‘‘ میں حصہ ڈالنا مناسب سمجھا اور بیان داغا کہ ترکی کی کوئی’’ مسیحی جڑیں‘‘ نہیں ہیں، اسے یورپی یونین کی طرف دیکھنے کی بجائے جنوب میں مسلم عرب بلاک کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ترکی کی حمایت میں آنے والے امریکی موقف کو یہ کہہ کر دھتکارا جا رہا ہے کہ امریکہ کے نزدیک یورپی یونین کو تباہ کرنے کا یہی یقینی طریقہ ہے۔ 

ترکی کی رکنیت کے خلاف سب سے سخت آواز فرانس سے آرہی ہے، لیکن فرانس میں بھی مقتدر طبقے کے ہاں اس معاملے میں یک سوئی موجود نہیں ۔ صدر شیراک نرم گوشہ رکھتے ہیں ( ان کے مطابق ترکی ۱۰ سے ۱۵ سال کے بعد ممبر بن سکتا ہے ) تو وزیر اعظم Jean Pierre Raffarin مخالفت میں سرگرم ہیں۔ وزیر خارجہ Dominique de Villepin حمایتی ہیں تو دوسری طرف وزیرِ خزانہ Nicolas Sarkozy مخالف ہیں ۔ سوشلسٹ لیڈر Francois Hollande ، مئیر آف پیرس Bertrand Delanoe اور سابق وزیرِ اعظم Lionel Jospin حمایت میں ہیں لیکن ایک اور سابق وزیرِ اعظم Laurent Fabius اور سابق وزیرِ انصاف Robert Bodinter خلاف ہیں ۔ فرانس کے وزیرِ اعظم Jean Pierre Raffarin نے وال سٹریٹ جرنل کو انٹر ویو میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’کیا ہم اسلام کے دریا کو سیکولر ازم کے دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ Do we want the river of Islam to enter the riverbed of secularism? (ہماری رائے میں فرانسیسی وزیرِ اعظم کی riverbed of secularism سے مراد درحقیقت riverbed of Christianity ہے ) ترکی کی رکنیت کے دیگر مخالفین کے نکات سے موافقت کے باوجود فرانس کی مخالفت کی ایک بڑی انفرادی وجہ’’ ترکی کا اینگلو سیکسن رویہ‘‘ بھی ہے ۔ترکی کی حمایت میں اٹھنے والی امریکی اور برطانوی آواز کوفرانسیسی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں ترکی کے اہم کردار کو بھانپتے ہوئے فرانسیسی فکر مند ہیں کہ ترکی کی شمولیت سے مستقبل کا یورپ فرانسیسی تصورات کے زیادہ قریب نہیں رہے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک سروے کے مطابق فرانس کے عوام کی بھی صرف ۱۶ فیصد ہی ترک رکنیت کی حامی ہے ۔

ترک رکنیت کے مخالف اس کی بڑی آبادی سے بھی خوف زدہ ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ۷۰ ملین افرادبے روزگاری وغیرہ کے سبب یورپ کا رخ کریں گے ،اس طرح یورپ میں ہر طرف ترک ہی ترک نظر آئیں گے۔ بعض مخالفین یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ وہی ترکی جو ماضی میں عسکری قوت کے بل بوتے پر یورپ کو فتح نہیں کر سکا ، اب آبادی بم سے یورپ کو ہڑپ کر لے گا۔ یوں اکیسویں صدی کے تین بڑے مظاہر ہوں گے ، (۱) امریکہ واحد سپر پاور ، (۲) چین کی ابھرتی ہوئی معیشت ، (۳) ترکوں کے ہاتھوں یورپ کی اسلامائزیشن۔ اعداد وشمار کے مطابق یورپی یونین میں نئے شامل ہونے والے دس ممالک کی مشترکہ آبادی سے بھی ترکی کی آبادی زیادہ ہے اور ۲۰۱۵ تک اس کی آبادی جرمنی سے بھی بڑھ جائے گی جو آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا سب سے بڑا ملک ہے ، پھر برسلز میں انتخابات کے موقع پر ترکی کے ووٹ سب سے زیادہ ہوں گے اور یورپی پارلیمنٹ میں یہ سب سے بڑا قومی بلاک ہو گا ۔ اس نقطہ نظر کو تقویت اس تاریخی فکر سے ملتی ہے کہ تہذیبیں دنیا کے نقشے سے اچانک غائب نہیں ہوتیں بلکہ یہ دیگر زیادہ جارح ، زیادہ طاقتور اور زیادہ بھوکی تہذیبیں ہوتی ہیں جو ان کی جگہ لے لیتی ہیں ۔ اکیسویں صدی میں مسلم تہذیب کروٹ لے رہی ہے ۔ ہو سکتا ہے پوری مسلم دنیا میں برپا موجودہ تبدیلی کی شدت پسندانہ لہر مطلوب مقاصد حاصل نہ کر سکے لیکن وہ کم از کم مسلم بیداری کی نشاندہی ضرور کر رہی ہے ۔ اس وقت یورپی یونین کی ۵ فیصدآبادی مسلم ہے (تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ) اور مورخ Bernard Lewis بتا رہا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک یورپ کی اکثریت مسلمان ہو گی ۔ اس وقت فرانس میں ۱۶ سے ۲۴ سال کی عمر کے افراد کا ۱۵ فیصد، برسلز میں ۲۵ سال سے کم عمر افراد کا ایک چوتھائی ، مارسیلیز کی آبادی کا ۲۵ فیصد اور مالمو سویڈن کی آبادی کا ۲۰ فیصد مسلمان ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ اگلے پچاس سالوں میں یورپ کے آبائی لوگ ۱۰۰ ملین یا اس سے بھی زیادہ تخفیف کا شکار ہو جائیں گے، جبکہ یورپ کی مسلم آبادی کافی زرخیز واقع ہوئی ہے اور یہ ۲۰۱۵ تک دوگنی ہو جائے گی۔کسی تہذیب یا معاشرے کے جاری و ساری رہنے کے لیے کم از کم شرح پیدایش فی خاتون 2.1 بچے ہیں، جبکہ یورپ کی شرح پیدایش 1.5 ہے اور اس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے ۔ 

بہر حال ترکی کے ’’آبادی بم ‘‘ کے گوناگوں خطرات کے باعث یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اس معاملے میں مستقل بنیادوں پر تحفظاتی اقدامات Permanent Safeguard Measures کیے جائیں ، یعنی رکنیت کے باوجود ترک آبادی کویورپی یونین میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ دی جائے ۔ اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کیا جا رہا ہے کہ اس سے قبل یورپی یونین کی کسی بھی توسیع میں کسی بھی نوعیت کی پابندیاں ’’عارضی‘‘ رہی ہیں۔ پھر یہ کہ ترکوں سے امتیازی سلوک کوان کے ’’اسلامی پس منظر ‘‘ سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے ، جس سے یورپی یونین کی سیکولر اور غیر مذہبی حیثیت پر حرف آئے گا۔اس تعطل کی کیفیت اور مایوس کن صورتِ حال میں توسیعی کمشنر Verheugen کی ایک جرمن جریدے Der Spiegel سے بات چیت ترکوں کے لیے آس اور امید کا پیغام لائی ہے۔ Verheugen نے کہا ہے کہ یورپ کو ترکی کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اس کی آبادی گھٹ رہی ہے ، ہم ایک روز ترکوں کی آمد پر خوش ہوں گے ۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر صحیح لوگ آ رہے ہوں؟ کہا جاتا ہے کہ Verheugen نے دوسرے کمشنروں کو قائل کر لیا ہے ، صرف ڈچ کمشنر Frits Bolkestein مخالفت پر کمر بستہ ہے اور منہ پھاڑ کر کہہ رہا ہے کہ یورپی یونین میں ترکی کے داخلے کا مطلب یہ ہے کہ ۱۶۸۳ کی جدوجہد بے کا رتھی جب ترکی کو ویانا سے پیچھے ہٹا دیا گیا تھا۔ ہمیں حیرت ہے کہ ڈچ کمشنر ماضی سے سیکھنے کی بجائے ماضی میں رہنا چاہتا ہے (یہ مرض اصل میں مسلمانوں کو لاحق ہے ) Frits ایک مغالطے کا شکار ہے جیسا کہ یہ فرض کرنا کہ قرونِ وسطیٰ کے لوگ اپنی نگاہوں میں بھی قرونِ وسطیٰ ہی کے تھے۔ ہم طوالت سے گریز کرتے ہوئے فقط اتنا کہیں گے کہ کوئی فلسفہ، تاریخ کے بے نشان راستے کا پتا نہیں بتا سکتا۔ جو لوگ خلوص اور فہم و بصیرت سے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ، تاریخ انھیں فلسفہ ضرور سکھا دیتی ہے۔ شاید Frits کو فلسفہ سکھانے سے تاریخ بھی عاجز آگئی ہے، اسی لیے اس نے عجیب و غریب شوشہ چھوڑا ہے ۔

ترک رکنیت کی مخالفت کی ایک اور وجہ اس کی کمزور معاشی حالت ہے ۔ اگر ایک طرف اس کی آبادی جرمنی سے بھی بڑھتی نظر آ رہی ہے تو دوسری طرف اس کی فی کس آمدنی پولینڈ کی نصف سے ذرا زیادہ ہے ۔ یہ سنگین صورتِ حال ہے ۔ معاشی سرگرمیوں میں ریاستی اجارہ داری ، افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی شرح ، کرپٹ سرکاری افسروں اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ سوائے مسائل پیدا کرنے کے ترکی یورپی یونین کے کس کام آ سکتا ہے؟ ترکی کے لیے تسلی بخش بات یہ ہے کہ Organization for Economic Cooperation and Development (OECD) نے، جو تیس ممالک پر مشتمل ایک تنظیم ہے، اپنی رپورٹ میں ۲۰۰۰۔ ۲۰۰۱ کے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ترک اصلاحات کو شاندار قرار دیا ہے ۔ OECD کے صدر Doland J. Johnston کے مطابق انقرہ کی معاشی کارکردگی ’’نہایت عمدہ‘‘ قرار دی جا سکتی ہے ۔Johnston نے مزید کہا کہ ترکی کا ممبر بننا ، ترکی اور یورپی یونین دونوں کے مفاد میں ہے ۔ اس تعریف و توصیف کے باوجود OECD کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کو اخراجات پر کنٹرول ، پبلک سروسز میں بہتری ، نج کاری میں تیزی اور ٹیکس کلچر میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ملک میں پھیلی ہوئی بہت بڑی بلیک مارکیٹ کو لگام دینی ہو گی۔ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا ، افراطِ زر میں کمی ہوگی اور ترکی طویل المدتی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا ۔ ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان نے OECD کے ممبر ممالک کے سفرا سے ملاقات میں یورپی یونین کی رکنیت کے سلسلے میں ترکی کے کیس کی سفارش کی ۔ خیال رہے کہ OECD کے ممبران میں سے ۱۹ ممالک یورپی یونین کے بھی ممبر ہیں ۔(یورپی یونین کے اس وقت کل ۲۵ ممبرز ہیں ) ترک خیال کر رہے ہیں کہ رکنیت ملنے سے ترکی میں یورپی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا سیلاب آ جائے گا جس سے ترکی کے وسائل سے زیادہ بہتر طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے گا اور معاشی ترقی کے لیے درکار مخصوص رویہ بھی پروان چڑھے گا۔

یورپی یونین اور ترکی کے معاشی تعلقات کی نوعیت پر ترکی کے اندر سے بھی آوازبلند ہو رہی ہے ۔ بعض ترک حلقوں کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں یورپی کمیشن سے ملنے والے گرین سگنل کے باوجود اور دسمبر میں رکنیت کے لیے مذاکرات کی راہ کھلنے کی چاہے توقع ہو ، پھر بھی ’’ٹیرف یونین ‘‘ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ مکمل رکنیت ملنے میں اور اس سے مفاد لینے میں برس ہا برس لگ جائیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق ٹیرف یونین ایک سامراجی معاہدہ ہے جس کے مطابق انقرہ ، برسلز کے فیصلوں پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ ٹیرف یونین سے ترکی ، یورپی مصنوعات کا درآمدی ملک بن چکا ہے۔ ٹیرف یونین کے قواعد کے مطابق ترکی کو اپنی زرعی مصنوعات ، یورپ برآمد کرنے کی اجازت نہیں ۔ اس طرح ٹیرف یونین صرف یورپ کے مفاد میں ہے کہ ترکی کا برآمدی خسارہ بھی ۲۰ بلین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے ۔یہ حلقے یورپ سے تعلقات کے مخالف نہیں ، بلکہ صرف قومی مفاد میں برابری کی سطح پر ہی تجارتی تعلقات چاہتے ہیں۔ 

ترک رکنیت کی مخالفت کے دیگر اسباب میںAgean Sea ، قبرص کا مسئلہ اوریورپی سلامتی کے امور وغیرہ شامل ہیں ۔ ترکی ۱۹۵۲ سے نیٹو کا ممبر ہے اور امریکہ کے بعد نیٹو میں اس کی سب سے بڑی فوج ہے ۔ ترکی کی سرحدیں جن ممالک سے ملتی ہیں، انھیں اسلامی ریڈیکل ازم کی cockpit کہا جاتا ہے ۔ یہ ترقی نہ کر سکنے والے کمزور ممالک ہیں جہاں امریکہ موجود ہے اور موجود رہے گا اور پھر اسرائیلی پالیسیاں بھی مغرب کی مخالفت کو بھڑکانے کو ہر دم تشکیل پاتی رہیں گی۔ ترکی کی رکنیت سے یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ کے بحرانی خطے میں خواہ مخواہ الجھ جائے گی ۔ اس صورتِ حال کے باوجود مشترکہ خارجہ اور سلامتی پالیسی کے لیے یورپی یونین کے ہائی کمشنر Javier Solana نے ترکی کی رکنیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کی شمولیت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں بنیادی وجہ یورپی سلامتی ہے۔ Javier کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی دہشت گردی سے ڈانواں ڈول دنیا میں ترکی کی ایک خاص جغرافیائی تزویراتی پوزیشن ہے ۔ ترکی کے وسائل ، جغرافیے اور جدیدیت کے توسط سے اسلامی دنیا پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جس سے یورپ کی سلامتی میں اضافہ ہو گا ۔ 

حاصلِ بحث 

بات سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے حوالے سے تین آپشن موجود ہیں :

ا ۔ رکن بنا لیا جائے ، ب۔ رکن نہ بنایا جائے ، ج۔ سپیشل رکن بنایا جائے ۔

اگر ترکی کو رکن بنانے کا عندیہ دے دیا جاتا ہے تو: 

(۱) اس کی فرانس اور جرمنی کے ساتھ چپقلش سی موجود رہے گی کہ فرانس کا تصورِ یورپ اور جرمنی کی بڑی آبادی والی ریاست کی حیثیت متاثر ہوگی ۔

(۲) روس، چین اور ایران سے اس کے تعلقات متوازن نہیں رہیں گے ۔ 

(۳) ترکی میں امریکی مفادات اور اثرات کے سبب سے یورپی یونین میں ترکی کو ’’امریکہ کے آلے ‘‘ کے طور پر لیا جائے گا ۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ سے ترکی کی ہمسائیگی اور اس خطے میں امریکی مصروفیات ، ترکی کے کردار کو خود مختار نہیں رہنے دیں گی۔ 

(۴) رکنیت کے حصول کے لیے ترکی کو اپنے ثقافتی اثاثے کی قربانی دینی ہو گی جو یقیناًبہت بھاری قیمت ہے۔ خیال رہے، رکنیت کا مسئلہ ترکی کی محض خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے لیے داخلی محاذ پر بھی انتہائی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنی ہوں گی ۔ 

(۵) ترکی کی مزید مغرب زدگی سے مسلم انتہا پسند مزید انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جائیں گے جس سے خود ترکی اور یورپی یونین خطرات میں گھرے رہیں گے ۔ مزید یہ کہ باقی مسلم دنیا تنہائی کا شکار ہو جائے گی ۔ 

(۶) مغرب زدہ قوانین اور یورپی لوگوں سے آزادانہ اختلاط کے باوجود ترکوں میں اسلامیت موجود رہے گی جس کا اظہار سماجی سطح پر ہوتا رہے گا ۔ اس سے یورپی یونین کے اندر کشمکش جنم لے گی ۔ 

(۷) ترکی کے راستے سے جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی وغیرہ جیسے نظریات مشرقِ وسطیٰ میں پھل پھول سکیں گے۔ 

(۸) ترکی کو اسی ہزار صفحات پر مشتمل یورپی قوانین کو اختیار کرنا ہو گا ۔ ترکی کے مسلم تہذیبی پس منظر میں یہ عمل آسان نہیں ہو گا ۔ 

اگر ترکی کو ممبر نہیں بنایا جاتا اور صاف انکار کر دیا جاتا ہے تو : 

(۱) یورپی یونین کو مسیحی کلب قرار دیا جائے گا۔ہنٹنگٹن کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ سچ ثابت ہو گا ۔ 

(۲) ترکی کے اندر مسلم ریڈیکل ازم کی تند و تیز لہر آئے گی جس کے منفی اثرات یورپی یونین پر لازماً مرتب ہوں گے ۔ 

(۳) ترکی کا پورا جھکاؤ روس، چین اور ایران وغیرہ کی طرف ہو جائے گا۔

(۴) مشرقِ وسطیٰ کے راستے سے آمرانہ ، جابرانہ، جانبدارانہ ، تعصب اور تنگ نظری پر مبنی کلچر ترکی پہنچے گا اور اس کے ابھرتے ہوئے جمہوری اور مارکیٹ اکانومی پر مبنی سفر کی راہ میں حائل ہو جائے گا۔ ایسا بدلا ہوا اور مزید بدلتا ہوا ترکی یورپی یونین کو بھی کچوکے لگاتا رہے گا۔ 

(۵) خود یورپی یونین کے اندر ’’ترک دشمن‘‘ نفسیات کو ہوا ملے گی، کیونکہ ترکی کو یونین سے مکمل باہر رکھنے والا گروہ ترکی کو باہر کر دینے کے سبب یورپی یونین کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہو گا اور یہ گروہ ترکوں کے اسلامی ماضی کو خوفناک طریقے سے لوگوں کے اذہان میں ڈالنے سے باز نہیں آئے گا۔ 

(۶) یورپی یونین کی داخلی وحدت تیزی سے پروان چڑھے گی، کیونکہ اس کی دہلیز پر صدیوں پرانا دشمن زخم خوردگی کی حالت میں ہوگا۔ یہ صورتِ حال یورپی یونین میں جرمنی جیسی بڑی ریاستوں کے مفاد میں ہو گی ۔ 

اگر ترکی کو فل ممبر کی بجائے سپیشل یا privileged ممبر بنایا جائے تو :

(۱) ترکی ، یورپی یونین اور روس، چین، ایران وغیرہ کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات قائم کرنے کی پوزیشن میں ہو گا ۔ 

(۲) ترکی کی حیثیت مشرقِ وسطیٰ کے بحرانی خطے اور ترقی یافتہ یورپی یونین کے درمیان ’’بفر ریاست‘‘ کی ہو گی ۔ ہر دو خطوں کے مختلف النوع اثرات ’’ترک چلمن‘‘ سے چھن چھن کر ایک دوسرے پر مرتب ہوں گے ۔ 

(۳) جرمنی اور بالخصوص فرانس سے بھی ترک تعلقات دوستانہ ہوں گے کیونکہ فرانس کے تحفظات فل ممبرشپ کے حوالے سے ہیں ۔

(۴) یورپی یونین کے ممبر ممالک میں ’’ ترک دشمن تاریخی فضا‘‘ میں بتدریج کمی آئے گی ۔اس دوران میں ترکی سے تحفظات کی موجودگی کے پیشِ نظر یورپی یونین میں داخلی وحدت بھی آئے گی۔ اس کے بعد ایک طرف ترک دشمنی میں نمایاں کمی آئے گی اور دوسری طرف یورپ کے داخلی وحدت سے ہمکنار ہونے کے سبب سے ترکی کی فل ممبرشپ ممکن ہوسکے گی۔ اس وقت تک ترکی مشرقِ وسطیٰ اور یورپی یونین کے اثرات کو ہر دو خطوں میں ’’امتزاجی ‘‘ اعتبار سے متعارف کروا چکا ہوگا۔ خیال رہے کہ یونین کی جانب سے رکنیت سے مکمل انکار یا مکمل ہاں کی صورت میں ’’ترک دشمنی ‘‘ کی چنگاری کو ہوا ملنے کے زیادہ امکانات ہیں ہیں۔

(۵) اگر ترکی کو ممبرشپ دینے سے یکسر انکار کر دیا جاتا ہے تو اسے اس انداز میں بھی دیکھنا چاہیے کہ یورپ اپنی قوم کے سامنے کوئی ’’چیلنج‘‘ رکھنا چاہتا ہے کہ اقوام کی زندگی چیلنجز کی عدم موجودگی میں سست روی میں ڈھل جاتی ہے ۔ لیکن چیلنج اتنا ہی ہونا چاہیے جسے قوم سہار بھی سکے ۔ ہماری رائے میں مسلم دشمنی یا ترک مسلم تہذیب کو یورپی اقوام کے سامنے بطور چیلنج رکھنا ، یورپ کے لیے خسارے کا سودہ ہو گا ۔ اگر ترکی کو ’’سپیشل ممبر‘‘ بنا دیا جاتا ہے تو یہی چیلنج تخفیفی حالت میں موجود ملے گا جو یورپ کے لیے سود مند سودا ہے ۔ 

(۵) ترکی کے اندر اور باہر مسلم انتہا پسند اور اعتدال پسنددونوں گروہ مطمئن رہیں گے ۔ انتہاپسند اس عمل کو مکمل مغرب زدگی سے پرہیز پر محمول کریں گے اور اعتدال پسندوں کے نزدیک یہ قدم مستقبل کے لیے سنگِ میل شمار ہو گا۔

(۶) ترکی اس پوزیشن میں ہو گا کہ اپنے ثقافتی اثاثے کی کم سے کم قربانی دے کریورپی یونین سے زیادہ زیادہ فوائد حاصل کرے کیونکہ ترکوں کو فل ممبرشپ نہ دینے کے باعث یورپی یونین ان کے (اسلامی نوعیت کے ) داخلی نظام کو بدلنے کے لیے بے جا اصرار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی ۔ اس طرح ترکوں کو نہ صرف زنا کاری جیسے معاملات میں پسپائی اختیار نہیں کرنی پڑے گی بلکہ اس کے خاندانی نظام جیسے تہذ یبی ادارے بھی قائم رہیں گے۔ 

اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم یہی گزارش کریں گے کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت کے لیے اتنی ’’فریفتگی‘‘ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہر دم وضاحتوں کے کٹہرے میں کھڑا نظر آئے ۔اس وقت زناکاری کے معاملے نے جس طرح سر اٹھایا ہے ، اسے دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ اٹلی کی رکنیت کے بعد بھی وہاں طلاق غیر قانونی رہی اور اسی طرح آئر لینڈ میں بھی اسقاطِ حمل ۱۹۹۲ تک غیر قانونی تھا۔ پھر ترکی پر رکنیت سے قبل ہی اتنا پریشر کیوں ؟ کیا یہ ترکوں کی فریفتگی کے اثراتِ بد تو نہیں؟ ہم ترک وزیرِ اعظم طیب اردگان سے گزارش کریں گے کہ جس طرح محض قانونی ڈھانچے سے مطلوب معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا (شاید اسی لیے یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی کے داخلی نظام میں تبدیلی کے حوالے سے صرف ’’قانونی پہلوؤں ‘‘ کو ہی نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ان کی’’ عملی صورت‘‘ کو پرکھا جائے گا کہ مطلوب مقاصد حاصل ہوئے ہیں یا نہیں؟) اسی طرح قانون بدلنے سے کو ئی معاشرتی یا تہذیبی ڈھانچہ بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کی مثال نہ صرف سابق سوویت یونین میں مسلم تہذیبی ورثے کی بقا ہے بلکہ خود ترکی کی تاریخ گواہ ہے کہ ترک مسلم تہذیب کا چراغ، مصطفی کمال کی جدیدیت اور سیکولر ازم کی پھونکوں سے نہیں بجھ سکا۔ اب بھلا یورپی پھونکیں اس کا کیا بگاڑ لیں گی ؟ 

۱۹۹۸ میں جناب اردگان کو ایک نظم لکھنے کی پاداش میں دس ماہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔ وہ شاعر قائد کسی حد تک صاحبِ ایمان ہی ہو گا جس کی شاعر ی کا محبوب ، صنم خانے کا کوئی ’’بت خود آرا وخود بیں ‘‘ نہیں بلکہ عبادت خانہ خدائے وحدہ لا شریک، مسجد ہے ۔ جناب اردگان نے نظم میں کہا تھاکہ ’’ مساجد ہماری بیرکیں ، مینار ہماری سنگینیں ، گنبد ہمارے ہیلمٹ اور توحید پرست ہمارے سپاہی ہیں ‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا دل گداختہ شاعر راہنما بھی اگر ترک مسلم تہذیب کی خلقی صلاحیت کو فروغ دینے کی بجائے وضاحتوں کے کٹہرے میں کھڑا ہے تو پھر اس تہذیب کو ’’تاریک راہوں ‘‘ میں مارے جانے سے کون بچا سکتا ہے؟ 

حالات و واقعات