اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۲)

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(’’راہ عمل‘‘ کا ایک مطالعہ۔)


خالد سیف اللہ صاحب خواہ مخواہ کی قانونی موشگافیوں میں الجھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات اور صدرِ اسلام کے واقعات سے استدلال کرکے چھوٹے چھوٹے نتایجِ فکر ، قارئینِ کے سامنے رکھتے جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی نظامِ حیات کا کوئی ایسا واحد بڑا سچ نہیں ہوتا جس کے بل بوتے پر مقصود سماج کی تشکیل کی جا سکتی ہو ، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے سچ اکھٹے ہوکر ایک بڑی سچائی کے ظہور کا سبب بنتے ہیں ۔ اس لیے ہمارے ممدوح کا طرزِ استدلال عملی مثالی اور قابلِ تحسین ہے ۔ اس سلسلے کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے : 

’’ جب مدینہ میں ۸۰؍اشخاص نے اسلام قبول کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت کے لیے حضرت معصب بن عمیرؓ کو بھیجا ، اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم ہر ۸۰/ مسلمان پر ایک عالم ہونا چاہیے ‘‘ (ج۲، ح۵، ص۲۵)

زیرِ نظر تالیف کی امتیازی خصوصیت یہی ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب رحمانی ’’لٹھ ملا‘‘ کے سے انداز میں اسلام کا فقط قانونی پہلو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’فتوی‘‘ دیتے نظر نہیں آتے بلکہ موصوف کی نگاہِ انتخاب نے دینِ اسلام کی سماجی جہت اور اس سے وابستہ اخلاقی قدروں کی صباحتوں کو بہت نمایاں ، نہایت اجلا ااور عطر بار کیا ہے ۔اس لیے قرآن و سنت کے وہ اہم پہلو جو علما کی نگاہِ ناز سے عموماََ اوجھل رہ جاتے ہیں، خالد صاحب کی نظر میں خاص طور پر جچے ہیں: 

’’ ایک صاحب کا مقدمہ خدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا ۔ گواہان نہیں تھے، اس لیے فریقین کا بیان سن کر آپ نے ایک کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ممکن ہے کہ میں نے تمہاری چرب زبانی سے متاثر ہو کر تمہارے حق میں فیصلہ کر دیا ہو۔ حال آں کہ فی الحقیقت وہ زمین تمہاری نہ ہو، تو اگر ایسا ہو تو یہ تمہارے حق میں زمین کا نہیں بلکہ جہنم کا ٹکڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننی تھی کہ وہ صاحب زمین سے دست بردار ہو گئے اور دوسرے فریق نے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بالآخر آپ نے وہ زمین دونوں میں نصف نصف تقسیم فرمائی۔ اس لیے جب تک دل کی دنیا نہ بدلے اور بنیادی فکر اور سوچ میں انقلاب نہ آئے، سماج کو جرایم سے پاک کرنا ممکن نہیں۔‘‘ (جرایم ۔۔مرض اور علاج: ج۲، ح۴، ص۸۶)

کسی بگڑے ہوئے سماج میں ، دور رس ، ثمر آور اور دیرپا تبدیلی کے لیے ، فقط قانون کے نفاذ کے بجائے دل کی دنیا بدلنے کی نبوی حکمت سے فیض یاب ہوتے ہوئے، خالد صاحب مسایل کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات اس طرح کرتے ہیں: 

’’ اگر کوئی برائی جڑ پکڑ چکی ہے اور مدتِ دراز سے اس کی خو چلی آتی ہو ، تو بیک لمحہ اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور ایسی اصلاح سے اندیشہ ہے کہ فائدہ کم اورنقصان زیادہ ہو ، اسی لیے احکام شریعت میں تدریج کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اکثر محرمات بہ تدریج حرام قرار دی گئیں اور شراب کا معاملہ تو بالکل واضح ہے ، وہ تین مرحلوں میں حرام ہوئی ۔ اس لیے یہ بات ضروری ہے کہ حکمت و مصلحت کے پہلو کو ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے ۔ انسان جو کچھ کہے حق کہے ، لیکن ہر حق بات کا ہر وقت کہہ دینا ضروری نہیں ۔ بعض دفعہ مرحلہ وار حق کا اظہار زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔ اگر علما اس بات کو ملحوظ رکھیں تو بہت سے باہمی اختلاف جو مسجدوں اور دینی کاموں میں پیدا ہو جاتے ہیں ، ان کی نوبت نہ آئے ۔‘‘ (کس سے کہوں کے زہر ہے میرے لیے مئے حیات: ج۲، ح۵، ص۷۱، ۷۲ ) 

اس قتباس کا تنقیدی جائزہ چند سوالات جنم دیتا ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب کیا واقعی احکامِ شریعت میں اصولِ تدریج میں مضمر حکمتوں کے عملی طور پر قائل ہیں ؟ یا یہ محض خالی خولی لفاظی ہے یا قلم کی روانی میں یہ الفاظ غیر شعوری طور نکل گئے ہیں؟ محترم نے مثال بھی شراب کی دی ہے ، ہم استفسار کریں گے کہ کیا شراب کی حرمت کے تدریجی احکام آج بھی اسی طرح موثر ہیں جیسے عہدِ نبوی میں موثر تھے یا کہ ان کے پاس بھی ’’ناسخ‘‘ کا کلہاڑا موجود ہے جو انھوں نے اس مضمون کی رعایت سے تو چھپا رکھا ہے لیکن کسی دوراہے پر اسے چلانے سے نہیں چوکیں گے اور’’منسوخ‘‘ کے ڈھیر لگاتے جائیں گے؟ بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے فقہا جو کئی آیات مبارکہ کو منسوخ قرار دیتے ہیں، ان کی نگاہوں سے یہ سامنے کی بات کیسے اور کیوں کر اوجھل رہ جاتی ہے کہ ان کے اس طرزِ استدلال سے احکامِ شریعت کے اصولِ تدریج کی حکمتیں کا فور ہو جاتی ہیں۔ اس سے زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ ’’اکمل دین‘‘ کی غلط تعبیر کی آڑ میں وہ قرآن مجید میں مذکور کفار کے اس اعتراض کو ایک لحاظ سے حق بجانب قرار دیتے ہیں کہ قرآن مجیدپورے کا پورا ایک ہی بار نازل کیوں نہیں کر دیا جاتا۔ پھر اس سے بھی زیادہ بڑی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت کے اس منشا کو ، جو اللہ تبارک تعالی نے کفار کے اعتراض کے باوجود ، نزولِ قرآن مجید کے سلسلے میں جاری و ساری رکھی ، نہ صرف بیک جنبشِ قلم نظرانداز کر دیا جاتا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ نتیجے کے طور پر یہ بھی باور کرا دیا جاتا ہے کہ صحابہ کرامؓ جیسی تاریخ کی منتخب شخصیات کو (جن کے درمیان نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس موجود تھے ) تدریجی احکام کی اس لیے ضرورت تھی کہ شراب نوشی جیسی برائیاں ان کی ’’خو ‘‘میں موجود تھیں ، جبکہ اب (یعنی عہدِ صحابہؓ کے بعد) منسوخ احکام اس لیے منسوخ قرار دیے گئے ہیں کہ لوگ خود کار انداز میں کسی تربیت کے بغیر ہی، صرف مسلمانوں والا نام رکھنے سے ایسی کسی ’’‘خو‘‘ سے چھٹکارہ پا کر صحابہ کرامؓ جیسی وہ پارسائی پا سکتے ہیں جس سے صحابہؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی میں آہستہ آہستہ بتدریج مشرف ہوئے ۔(سبحان اللہ) ۔ مطلب یہ ہوا کہ آج کے نومسلم کو منسوخ احکام کی رعایت حاصل نہیں ہے اسے اسلام قبول کرنے کے فوراََ بعد شراب نوشی وغیرہ جیسی برائیوں سے(جو اس کی گھٹی میں پڑی ہیں ) فوراََ کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے ، یعنی صحابہ کرامؓ کے لیے تدریجی احکام اور آج کے نومسلم یا نام کے مسلم کے لیے غیر تدریجی فقط آخری ناسخ حکم ۔ پھر کہیے سبحان اللہ ۔چونکہ ہم ماہنامہ الشریعہ میں بعنوان ’’معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید‘‘ اس سلسلے میں اصولی بحث کر چکے ہیں ، لہذا یہاں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اتنا ضرور چاہیں گے کہ خالد سیف اللہ صاحب اس موضوع پر اپنا موقف امت کے سامنے ضرور رکھیں کہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں ایسے موضوعات پر واضح ہونا بہت ضروری ہے ۔ ویسے ان کے ایک مضمون (زنا کی سزا۔۔موجودہ سماجی ماحول میں) سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شرعی احکامات کی تنفیذ میں مطلوب تقاضوں اور مقاصد پر گہری نظر رکھتے ہیں، ملاحظہ کیجیے : 

’’ ہندوستان میں اولاََ تو جرم کے محرکات کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، فحش فلموں کا بازار گرم ہے، عریاں ویڈیو کیسٹ ملتے ہیں، ٹی وی نے حیا کی چادر اتار پھینکی ہے، فحش لٹریچر کا سیلاب ہے، بے شرمی پر مبنی عشقیہ گانے بچہ بچہ کی زبان پر ہیں، بے پردگی اور عریانیت نے پورے ماحول کو مسموم بنا دیا ہے، تعلیم گاہوں سے لے کر دفاتر تک ایک مخلوط نظام کو اپنی ترقی کی علامت تصور کیا جاتا ہے، شراب عام ہے اور ایک طبقہ کو زنا کے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں، بلکہ غیر شادی شدہ عورتوں سے باہمی رضامندی سے بدکاری کی جائے تو قانون کی نظر میں وہ زنا ہے ہی نہیں، پھر قانونِ شہادت اتنی بے احتیاطی پر مبنی ہے کہ محض ایک شخص کی گواہی پر بھی اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں زنا کی سزا پھانسی کو قرار دینا میرا خیال ہے کہ کوئی قرینِ انصاف بات نہ ہو گی۔ اسی لیے فقہا نے حدود شرعیہ کے جاری ہونے کے لیے ’’دارالاسلام‘‘ کی شرط لگائی ہے۔ زانی بے شک سخت ترین سزا کا مستحق ہے، لیکن تقاضا انصاف یہ ہے کہ اس کو جرم سے بچنے کا ماحول دیا جائے ۔ جو ماحول قدم قدم پر گناہ کی دعوت دیتا ہو، اس ماحول میں مجرم کو اس طرح کی سزا دیا جانا یقیناََ محلِ نظر ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ پہلے ایسے قوانین بنائے جو جرم کے عوامل اور محرکات کو روک سکے اور ایسے پاکیزہ سماج کی تعمیر ہوسکے جس میں انسان گناہ کی طرف ہاتھ بڑھانے میں سو دفعہ سوچنے پر مجبور ہو، پھر زنا کی قرار واقعی سزامقرر کرے۔‘‘ (ج۱، ح۲، ص۲۰۱، ۲۰۲) 

خالد صاحب کے موقف سے بحیثیت مجموعی اتفاق کرنا پڑتا ہے لیکن وہ فقہا کی شرط ’دارالاسلام‘ تائیدی انداز میں لائے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کی عالم گیریت کی فضا میں دارالاسلام اور دارالحرب میں دنیا کی تقسیم محلِ نظر ہے۔ جدید گلوبل دنیا ، ایک نئی فقہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ دینی اخلاقیات کے کلی مفاہیم اگر پیشِ نظر رکھے جائیں تو جدید دنیا دارالدعوۃ قرار پاتی ہے اور اسی دارالدعوۃ کی بنیاد پر گلوبل فقہ کی پر شکوہ عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔ 

اب ہم قارئین کے لیے زیرِ نظر تالیف میں سے چندایسے اقتباسات نقل کرنا چاہیں گے جن سے اندازہ ہوگا کہ ہمارے ممدوح کے ہاں انسانی زندگی کے ایسے منفی پہلو ، جنہیں توجہ کا مرکز بنائے بغیرصحت مند سماج کی تشکیل نہیں کی جا سکتی، کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔ قابلِ افسوس بات ہے کہ مسلم سماج اور اس سے وابستہ و پیوستہ اخلاقی اقدار کی باز یافت اور استقلال ، اکثر علما کے بیان و ابلاغ میں ’متروک کے منصبِ جلیلہ ‘ پر فائز ہو چکے ہیں۔ اس اعتبار سے موصوف کی تحریرکا یہ نمایاں پہلو گویا ’فرضِ کفایہ‘کی ادائیگی کی ایک سبیل بھی ہے ، ملاحظہ کیجیے : 

’’ عین میدانِ جنگ میں بھی غیر معمولی حالات کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نہیں چھوٹتی تھی اور مرضِ وفات میں اس وقت بھی آپ نے جماعت میں شرکت کا اہتمام فرمایا جب خود چلنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی ، لیکن اس کے باوجود قبیلہ بنی عمروبن عوف میں ایک جھگڑا رفع کرنے اور مصالحت کرانے کے لیے آپ اپنے رفقا کے ساتھ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے اور اس فریضہ مصالحت میں اتنی تاخیر ہو گئی کہ حضرت بلالؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نماز شروع ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی نگاہ میں مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کی کیااہمیت تھی۔‘‘ (صلح کرانا ۔۔ایک اہم اسلامی فریضہ : ج۲، ح۴، ص۵۳)
’’ منشیات کی مضرتوں کا سماجی پہلو یہ ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے جس سے مختلف لوگوں کے حقوق اور ذمہ داریاں متعلق ہیں، ایک شخص باپ ہے تو اسے اپنے بچوں کی پرورش و پرداخت کرنی ہے، نہ صرف اس کے روزہ مرہ کی کھانے پینے کی ضروریات کو پورا کرنا ہے بلکہ اس کی تعلیم کی بھی فکر کرنی ہے۔ وہ بیٹا ہے تو اسے اپنے بوڑھے ماں باپ اور اگر خاندان کے دوسرے بزرگ موجود ہوں تو ان کی پرورش کا بار بھی اٹھانا ہے۔ شوہر ہے تو یقیناََ بیوی کے حقوق اس سے متعلق ہیں، بھائی ہے تو چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش اور شادی بیاہ کا فریضہ اسی کے کاندھوں پر ہے۔ نشہ انسان کو اپنے گرد و پیش سے بے خبر اور غافل بنا دیتا ہے اور اس بدمستی میں نہ اس کو لوگوں کے حقوق یاد رہتے ہیں، نہ اپنے فرایض و وجبات، بعض اوقات تو وہ ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے کہ ا پنے ساتھ دوسروں کی زندگی بھی تباہ و برباد کر دے‘‘ (منشیات ۔۔بڑھتا ہوا سماجی ناسور:ج۲، ح۴، ص۱۴۸)
’’ مذہب کی راہ سے جو رشوت آتی ہے وہ تقدس کا لباس زیب تن کیے ہوئے ہوتی ہے، لوگوں کو اس کے رشوت ہونے کا خیال بھی نہیں ہوتا ، اس مذہبی رشوت کی حقیقت جاننے کے لیے کلیساؤں کی تاریخ پڑھیے، جہاں مغفرت نامے فروخت کیے جاتے تھے۔ ۔۔۔۔مذہبی رشوت کی روایت آج بھی ختم نہیں ہوئی ہے، قادیانی حضرات کے یہاں آج بھی بہشتی مقبرہ، قادیان میں اصل اور دوسرے مقامات پر اس کی نقل کی شکل میں موجود ہیں، جس میں کثیر رقم لے کر تدفین کی اجازت دی جاتی ہے اور لوگ اس تصور کے ساتھ اس میں دفن ہوتے ہیں کہ یہاں دفن ہوتے ہی اب وہ داخلِ بہشت ہوں گے۔ ۔۔۔۔ اگر کسی لڑکے کے بارے میں یہ بتایا جائے کہ یہ چور اور ڈاکو ہے تو شاید ہی کوئی شخص اس سے رشتہ کرنے کو تیار ہو، لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ فلاں شخص کی اوپر کی آمدنی اتنی ہے، ماں باپ اس کی ہوش مندی کے ثنا خواں ہوتے ہیں اور لوگ اپنی لڑکی کے لیے اس مہذب چور بلکہ سینہ زور کا انتخاب کرتے ہیں ‘‘ (رشوت اور ہمارا سماج:ج۲، ح۴، ص۱۳۸، ۱۴۰)

خالد سیف اللہ صاحب ، دین کی سماجی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ آدم بیزار صوفیوں کی طرز پر کسی گوشے میں بیٹھ کر’خاموش رہنے کی آزادی‘ سے بہرہ مند نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے ایک روایت سے Social Activism کی ایسی راہ نکالی ہے، جو سماج کی خاموش اکثریت کو لب کشائی پر آمادہ کرتی نظر آتی ہے، ملاحظہ کیجیے:

’’ احتجاج کے لیے ایسے ذرائع کا اختیار کرنا جس سے عام لوگوں کو نقصان نہ پہنچے ، اس کی بھی گنجایش ہے ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب خدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے اذیت پہنچاتا رہتا ہے ۔ آپ نے اس سے ارشاد فرمایا کہ اپنا سامان نکال کر راستہ پر رکھ دو ، اس شخص نے اپنا سامان نکال لیا اور راستہ پر ڈال دیا ، جو بھی وہاں سے گزرتا استفسارِ حال کرتا ، وہ شخص کہتا کہ میرا پڑوسی مجھے اذیت دیتا ہے اس لیے میں نے یہ سامان باہر نکال رکھا ہے ، گزرنے والا کہتا اس پر اللہ کی لعنت ہو ، اللہ اسے رسوا کرے ۔ آخر پڑوسی آیا اور اس نے درخواست کی کہ اپنے گھر لوٹ چلو، اب میں تم کو کبھی اذیت نہیں دوں گا ‘‘ ( ہڑتال۔۔اسلامی نقطہ نظر: ج۱، ح۳، ص۸۸) 

معاصر مسلم سماج کے مسایل میں سے ایک اہم مسئلہ ، دین کے نام پر لوگوں کے لیے مسایل کے انبار کھڑا کرنے کی روش ہے۔اگر مذہبی حلقے کو اس طرف متوجہ کیا جائے تو عام طور پر یہی سننے کو ملتا ہے کہ ایسے امور میں دنیاوی لحاظ سے لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی، لیکن خدا کے لیے ایسا کیا جائے تو لوگ چوں چراں کرتے ہیں۔ خالد صاحب نے بلا جھجھک ایسے نام نہاد دینی شعایرِ کی بیخ کنی کرتے ہوئے، ایک طرف مذہبی رویے کی اصلاح کی ہے اور دوسری طرف بال سول سوسائٹی کے کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ اصلاحِ احوال کے لیے اپنا کردار ادا کرے: 

’’ قرآن کی تلاوت میں بھی آواز کو معتدل ہونا چاہیے، ....فقہا نے بھی اس پہلو کو ملحوظ رکھا ہے چنانچہ مشہور فقیہ علامہ حصفکی ؒ فرماتے ہیں کہ : ’’امام جماعت کے اعتبار سے ہی جہر کرے گا اگر اس سے زیادہ زور سے پڑھے تو اس نے نامناسب عمل کیا ‘‘۔ علامہ شامی ؒ نے نقل کیا ہے کہ’’ اتنی بلند آوازجو خود اس کو تھکا دے اور دوسرے کے لیے اذیت کا باعث ہو ، اچھی بات نہیں‘‘ .... اسلام میں صرف اذان کے لیے بلند آواز کو پسند کیا گیا ہے کیونکہ اس کا مقصد ہی اظہار و اعلان ہے اور وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کو اسی لیے اس خدمت پر مامور فرمایا کہ ان کی آواز بلند تھی ۔ لیکن اذان میں بھی ایسی ہی آواز مطلوب ہے جو اہلِ محلہ تک پہنچ جائے ۔ سیدنا حضرت عمرؓ کے سامنے ایک صاحب نے اذان دی اور آواز کو بلند کرنے میں بہت تکلف سے کام لیا تو آپؓ نے اس پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ۔۔۔۔۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سماج میں اسلامی زندگی کے صحیح خدوخال پیش کریں ‘‘ ( عبادت گاہوں سے صوتی آلودگی پھیلنے کا مسئلہ: ج۱، ح۳، ص۷۹، ۸۰، ۸۱)
’’ خود سوزی کے تو بہت سے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن مال سوزی اور اپنا مال آپ جلانے کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں، بلکہ اگر کوئی شخص اپنا مال آپ جلا لے تو لوگ اسے پاگل اور دیوانہ ہی سمجھیں گے، لیکن مال سوزی کی کچھ ایسی صورتیں بھی ہیں جو ہیں تو پاگل پن ہی، لیکن معاشرہ انہیں پاگل نہیں کہتا۔ شادیوں میں جو پٹاخہ بازیاں ہوتی ہیں، کیا یہ اپنے پیسوں کو آپ جلانا نہیں ہے؟شبِ برات ایک مبارک رات ہے، عبادت اور ذکر و تلاوت کی رات ہے، لیکن کیا مسلمان محلوں میں یہ رات پٹاخوں کی گھن گرج اور آتش بازیوں کی خیرہ کر دینے والی روشنیوں سے نہیں پہچانی جاتی ہے؟ ...... آتش بازی کی وجہ سے لوگوں کا آرام و سکون غارت ہوتا ہے، راستہ چلنے والوں کو دقت پیش آتی ہے بلکہ کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ لوگوں کی جانیں تک چلی گئیں یا بعض گھروں کو آگ لگ گئی۔ دوسروں کی ایذا رسانی حرام اور گناہِ شدید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی گھر پر دستک دینا ہوتا تو ہتھیلیوں کے بجائے انگلیوں کے پور سے دستک دیتے، تاکہ بے ہنگم اور غیر متوازن آواز نہ ہو‘‘ (اپنے روپے آپ نہ جلایے: ج۲، ح۴، ص۱۲۶، ۱۲۷) 

مغربی سماج کو بے جا ڈسپلن کی وجہ سے چیونٹیوں کا سماج کہا جاتا ہے ، جب کہ مشرقی سماج بھیڑ چال کا عادی ہے۔ خالد سیف اللہ رحمانی ، اس بھیڑ چال پر اپنی خفگی کا اظہار کرنے سے نہیں چوکے۔ وہ مذہبی حلقے سے خاص طور پر نالاں ہیں کہ عملی افادیت کے حامل ایسے اقدامات، جن کے ذریعے سماجی تبدیلی کے امکانات وا ہو سکتے ہیں ، کیوں اختیار نہیں کیے جاتے: 

’’ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ علما کی ساری تعلیمی اور دعوتی سرگرمیاں شہروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ، شہر میں نہ صرف یہ کہ ہمارے دینی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ بعض مقامات پر جو زائد از ضرورت ادارے قائم ہو رہے ہیں ، چھوٹے چھوٹے محلوں میں ایک سے زیادہ درس گاہیں قائم ہیں ، وہاں طلبہ کی تعداد اتنی کم ہے کہ ایک ادارہ ان کے لیے کافی تھا ۔ پھر ان اداروں میں باہم کمرشل اداروں کی طرح رقابت اور منافست کی کیفیت بھی ہے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کمیٹی میں اختلاف ہو گیا ، ایک گروہ مدرسہ پر قابض ہو گیا ، دوسرے گروہ نے قریب ہی دوسرا مدرسہ کھول لیا ۔ گویا ادارے کی ضرورت یا خدمت کی کسی نئی جہت کے لیے قائم کرنے کے بجائے محض مقابلہ اور تفاخر کے جذبہ سے بھی قائم کیے جا رہے ہیں ۔ یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ ایک دینی کام دینی جذبہ سے خالی ہو کر انجام دیا جائے ‘‘ (دینی مدارس کے فضلا۔۔ صبرو برداشت ضروری ہے : ج۲، ح۵، ص۶۳، ۶۴)
’’ زبان سمجھنے اور سمجھانے کا محض ایک ذریعہ ہے، زبان کبھی مقصود نہیں ہوتی، نہ زبان کا کوئی مذہب اور عقیدہ ہوتا ہے۔ ..... لیکن بد قسمتی سے ہندوستان میں اب بھی دین داروں کا ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو عربی اور اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کو اچھوت اور بے برکت سمجھا ہوا ہے اور صرف اردو زبان میں تھوڑا سا کام کرکے قانع اور مطمئن ہے کہ اس نے اسلام کی دعوت کا حق ادا کر دیا ہے‘‘ (دعوتِ دین سب سے اہم فریضہ: ج۱، ح۱، ص۳۰۷، ۳۰۸)

رفع یدین، نور بشر، حیاتی مماتی وغیرہ، جدید تکنیکی دور میں بھی علمائے دین کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ہمیں حیرت نما خوشی ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب ، سماجی اصلاح و اخروی نجات کے لیے خود کو ان موضوعات کا مکلف نہیں ٹھہراتے، بلکہ متقدمین کے نقوش کی پیروی میں خیر تلاش کرتے ہیں، موصوف لکھتے ہیں:

’’ امام شافعی ؒ کے ایک شاگرد یونس بن عبدالاعلیٰ صدفی ہیں، ان کا ایک بار اپنے استاد امام شافعیؒ سے ایک مسئلہ میں بھی مباحثہ ہوگیا اور دونوں کسی ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے، پھر جب امام شافعیؒ کی ان سے ملاقات ہوئی تو امام صاحب ؒ نے ہاتھ تھاما اور فرمایا کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ گو ایک مسئلہ میں بھی ہمارا اتفاق نہ ہو لیکن پھر بھی ہم بھائی بھائی بن کر رہیں۔ ......اختلاف کو مذموم سمجھنا سلف کے طریقہ کے بھی خلاف ہے اور عقلِ سلیم کے بھی مغایر، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اختلافات کے معاملہ میں انسان کا قلب وسیع ہو، تمام سلف صالحین کے بارے میں اس کی زبان محفوظ اور اس کا قلم محتاط ہو، وہ صلحائے امت کے اختلاف کے بارے میں حسنِ ظن رکھے اور اختلاف رائے کو برداشت کرے۔ یہ وہ مسایل نہیں ہیں جن کی امت پر تبلیغ کی جائے اور اس کو اپنی دعوت کا موضوع بنایا جائے، اسی طرح اعتقادی احکام کی تشریح میں اہلِ سنت و الجماعت کے درمیان جو معمولی سا اختلاف ہے اور اکثر یہ اختلاف محض تعبیر کا ہوتا ہے ، ان میں غلو اور ان کی بنیاد پر دوسروں کو گم راہ قرار دینا نہایت ہی مذموم اور نا شائستہ بات ہے‘‘ (اختلاف میں اعتدال:ج۲،ح۴،ص۳۴، ۳۶) 
’’ یوں تو اختلاف کے مختلف اسباب ہیں ، سیاسی ، خاندانی ، کاروباری وغیرہ ، لیکن مذہبی اختلاف کا مسلم سماج پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مساجد ، دینی درس گاہیں اور دینی اجتماعات اورمذہبی تقریبات جن کو امت کے اتحاد و اتفاق کا نمونہ ہونا چاہیے ، وہی اختلاف و انتشار کا سبب بن جاتا ہے اور جو لوگ امت کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں ، وہی اختلاف کے علم بردار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ تو ایسی صورت میں کون ہے جو ان بکھرے ہوئے تسبیح کے دانوں کو پرو سکے اور شکستہ دلوں پر مرہم رکھ سکے (کس سے کہوں کے زہر ہے میرے لیے مئے حیات: ج۲، ح۵، ص۷۲ ) 
’’ اگر سونے چاندی یا مٹی اور پتھر کی مورتیاں بنا دی جائیں ان کو ایک جگہ بٹھا دیا جائے تو یقیناََ اختلاف نہ ہو گا ، نہ کوئی اپنی جگہ سے آگے بڑھے گی نہ پیچھے ہٹے گی نہ ایک دوسرے کے خلاف اظہار خیال کرے گی۔ لیکن چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے جیتے جاگتے انسان کو اس طرح متفق اور مہر بہ لب رکھنا ممکن نہیں۔ ..... اس لیے جیسے ’اتحاد‘‘ سیکھنے کی ضرورت ہے اس لیے ’’اختلاف‘‘ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے‘‘ (اختلاف کا طریقہ:ج۲، ح۴، ص۳۸)
’’اگر کوئی انسان چاہے کہ تمام انسان اسی کے ہم رنگ ہو جائیں ، جس طرح وہ سوچتا ہے ، اسی طرح سب سوچیں، اس کی پسند سب کی پسند ہو اور اس کی نا پسند سب کی نا پسند ہو، تو انسانی سماج مختلف پھولوں کا گل دستہ نہ رہے گابلکہ سرسوں کا کھیت بن جائے گا کہ پورا کھیت زرد اور یک رنگ نظر آئے۔ ...... یک جہتی تو اس طرح ممکن نہیں کہ تمام انسانیت ہم رنگ ہو جائے ، ان میں فکرونظر، تہذیب و تمدن اور زبان و بیان کا کوئی فرق باقی نہ رہے، ایسی یک جہتی تو شاید قبرستان کے شہرِ خموشاں کے سوا کسی زندی انسانی آبادی کے درمیان ممکن نہ ہو، یک جہتی ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر ہی پیدا کی جا سکتی ہے ‘‘(قومی یک جہتی ۔۔کیوں اور کس طرح:ج۲،ح۴، ص۶۶،۶۷)

سماجی حالات کے موافق، سماجی اخلاقیات کی ترجیحات میں تغیر و تبدل ، بعض اوقات بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن مسلم سماج میں ایسے افراد کی کمی نہیں، جو اسلامی اخلاقیات کی سماجی جہت سے نابلد رہنے کے باعث ، اخلاقی بے راہ روی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے افراد ذہنی حالت کے لحاظ سے اپنے تئیں متقی بنے ہوتے ہیں۔ تقوے کا ہیضہ ان سے، حالات کی نبض پر انگلی رکھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔نتیجے کے طور پر ’ذریعہ‘ مقصد بن جاتا ہے اور مقصود ’خیر‘ روپوش ہوجاتا ہے۔ خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نے کسی قسم کے تحفظات کے بغیر، اسلامی اخلاقیات کی اس گم گشتہ جہت کو بے نقاب کیا ہے: 

’’ ایسی سچائی جو سماج کو فایدہ کے بجائے نقصان پہنچائے، جو خیر کی اشاعت کے بجائے بدی کی تشہیر کا باعث ہو، جو لوگوں کو شرافت و صالحیت کے بجائے بد خوئی کی طرف لے جاتی ہو، اس سچائی کو ظاہر کرنے سے چھپانا بہتر ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے، کیوں کہ یہاں جھوٹ بہ مقابلہ سچ کے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ اگر ایک مظلوم اور کم زور شخص نے آپ کے یہاں پناہ لے رکھی ہے، ایک بے بس عورت اپنی عصمت و عزت کی حفاظت کے لیے چھپی ہوئی ہے اور ایک ظالم اس مظلوم کے قتل اور ایک اوباش اس عورت کی عصمت ریزی کے درپے ہو اور آپ کے جھوٹ سے اس شخص کی جان اور اس عورت کی عزت بچ سکتی ہو، اورآپ کے سچ سے جان جا سکتی ہو اور ایک عورت کی چادرِ عفت تار تار ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ضرورت ہے کہ ان حالات میں آپ کے لیے جھوٹ بولنا ہی واجب ہے، اور سچ بولنا اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔‘‘ (پانی جس نے آگ لگا دی:ج۲، ح۴، ص۱۶۰)

اپنے ایک مضمون ’’مذہب کی تبدیلی‘‘ میں خالد سیف اللہ صاحب نے ہندوستان میں عیسائیت کے فروغ اور اسلام کے عدم فروغ کے اسباب کے واقعاتی تجزیے سے سماجی مفاہیم اخذ کیے ہیں: 

’’ یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص نہیں ہے ، شادی ، بیاہ ، سماجی رسم و رواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔ .....اس لیے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیر معمولی تبدیلی سے گزرنا نہیں پڑتا ۔ ۔۔۔اسلام مذہب کے معاملہ میں دورنگی اور دو عملی کو روا نہیں رکھتا ۔ اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے۔ .....گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے۔‘‘ (ج۱، ح۲، ص۱۰۰) 

اس اقتباس کے آخری جملے کی معنویت پر غور کیجیے کہ دینِ اسلام کی اصالت اور معاشرتی رموز سے اس کے ربط کو کتنا ایجازی رنگ دیا گیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ فکرِ اسلامی کی اصالت میں مضمر سماجی دلالتوں پر ہمارے محترم کی نہایت گہری نظر ہے اس کا بخوبی اندازہ ان کی ان تحریروں سے ہو تا ہے جن میں خواتین کی سماجی حیثیت اور نسائی مسایل زیرِ بحث لائے گئے ہیں ، مثال کے طور پر :

’’ حقیقت یہ ہے کہ تعددِ ازدواج کی اجازت ایک سماجی و عمرانی ضرورت اور عفت و پاک دامنی کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور اپنے نتایج و اثرات کے اعتبار سے خود عورتوں کے لیے بعض حالات میں باعثِ رحمت ہے، البتہ یہ بات ضروری ہے کہ تعددِ ازدواج کے لیے شریعت نے جو حدود و قیود مقرر کی ہیں ان کا لحاظ رکھا جائے ورنہ یہ قانون حکمِ شریعت کا استعمال نہیں بلکہ ’استحصال‘ ہو گا۔‘‘ (تعددِ ازدواج کا مسئلہ: ج۱، ح۲، ص۱۷۴)
’’ بعض نوجوان اصل شباب گزارنے کے بعد ، جب عمر میں ڈھلاؤ شروع ہوتا ہے تو نکاح کرتے ہیں، یہ نہایت ہی غلط رجحان ہے اور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔۔۔۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دیر سے نکاح کرنے کے واقعات زیادہ تر تعلیم یافتہ اور مرفہ الحال خاندان میں پیش آتے ہیں، اس لیے اس کو معاشی مفلوک الحالی کا نتیجہ قرار دینا قرینِ انصاف نہیں۔ ......یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے سماج میں مطلقہ عورتوں اور بیوہ خواتین کے نکاح کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے، بلکہ بچوں کی پرورش کے نام پر اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ صحیح سوچ نہیں ہے۔ .....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ازواج مطہراتؓ سے نکاح فرمایا، ان میں صرف حضرت عائشہؓ کنواری تھیں، حضرت زینبؓ مطلقہ تھیں، اور باقی امہات المومنینؓ بیوہ تھیں ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہؓ ، حضرت امِ کلثومؓ ، ابولہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے منسوب تھیں، ابو لہب کے کہنے پر ان بدبختوں نے طلاق دے دی۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کو یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کے عقد میں دیا۔ .... جن مردوں کی بیویوں کا انتقال ہو گیا ہے ان کے دوبارہ نکاح کرنے کو بھی پسند نہیں کیا جاتا ، بعض لوگ تو سن رسیدہ لوگوں کی بیوی کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح کرنے کو حرص و ہوس سمجھتے ہیں اور خود بال بچے والد کے نکاح کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ .....فقہا نے لکھا ہے کہ بہ وقت ضرورت باپ کا نکاح بھی اولاد پر اس کا ایک حق ہے ‘ ‘ (ایک اہم سماجی مسئلہ : ج۲، ح۴، ص۱۹۹، ۲۰۰، ۲۰۱، ۲۰۲)
’’ لیکن انسانی تجارت کی ایک اور صورت ہے جو اس وقت سماج کے مہذب لوگوں کے درمیان رایج ہے، جس میں انسان اپنے لڑکوں کو آپ فروخت کرتا ہے اور فروخت کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں حسرت و افسوس کے آنسو نہیں بلکہ خوشی کے آنسو ہوتے ہیں، دل حسرت و یاس کی تپش سے ابلتا نہیں بلکہ حسین آرزوؤں کے تصور سے اچھلتا اور کودتا ہے، یہ عجب منڈی ہے جہاں پڑھے لکھے، اہلِ دانش، اصحابِ ثروت، اعلیٰ عہدوں پر فائز خوشی خوشی اپنے لڑکوں کا سودا لے کر آتے ہیں اور اس کی تعلیم، معاشی امکانات، خاندانی پس منظر، یہاں تک کہ شکل و صورت اور آباو اجداد کی شرافت کی دہائی دے کر ڈاک لگاتے اور زیادہ سے زیادہ قیمت کے خواست گار ہوتے ہیں ، انہیں اپنے لڑکوں کو فروخت کرنے اور ان کی جوانی کی قیمت لگانے میں نہ کوئی شرم ہوتی ہے نہ کوئی عار۔ آپ سوچیں گے یہ کون سی منڈی ہے؟ کیا کوئی ماں باپ اپنے لڑکوں کو بیچ بھی سکتا ہے، کہیں انسانوں کی بھی خریدو فروخت ہوتی ہے، کیا عہدِ غلامی پھر واپس آ گیا ہے ؟۔ لیکن آپ کو اس پر تعجب نہ ہونا چاہیے ، ہمارا پورا سماج انسانی تجارت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہر گھر میں ایک دکان ہے اور ہر خاندان میں کچھ تاجر اور کچھ گاہک ہیں ...... کیا لڑکی والوں سے گھوڑے جوڑے کے نام پر رقم وصول کرنا، ان سے جہیز کا مطالبہ کرنا ، اپنے مدعووین کو ان کے سر تھوپ دینا اور ان سے منہ مانگا کھانا طلب کرنا، تجارت اور اپنے لڑکے کی قیمت لگانا نہیں ہے ؟ قیمت روپوں میں بھی ادا کی جاتی ہے، سامان و اسباب کے ذریعہ بھی اور ہوٹلوں میں شکم پروری کے ذریعہ بھی، یہ سب قیمت کے مختلف عنوان اور الگ الگ انداز ہیں۔ لڑکا اور اس کے والدین ان تمام طریقوں سے لڑکے کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اس کی جوانی کا منہ مانگا دام پاتے ہیں، اس کے تجارت ہونے میں کیا شبہ ہے؟ ...... جوانی کی قیمت تو جانوروں کی لگائی جاتی تھی اور اعلیٰ نسل کے جانور حاصل کیے جاتے تھے، کیا شادی کے موقع سے لڑکے والوں کی جانب سے مطالبہ اس حیوانی کردار کی پیروی نہیں ہے اور جو لوگ پیسے لے کر شادی کرتے ہیں، کیا وہ مرادنہ تعظیم و وقار اور بحیثیت شوہر تکریم و توقیر کے مستحق ہیں ؟ جب کہ قرآن نے مردوں کو بلند رتبہ اس بنیاد پر قرار دیا تھا کہ وہ خرچ کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونچا یعنی دینے والا ہاتھ نچلے یعنی لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ تو جو شوہر اپنا ہاتھ نیچے رکھتا ہو اور اپنی بیوی اور اس کے اولیا کو اپنا ہاتھ اونچا رکھنے پر مجبور کرتا ہو، وہ کیسے اپنی بیوی سے بلند رتبہ ہو سکتا ہے؟ ......تاجر خریدار کا احسان مند ہوتا ہے نہ کہ خریدار تاجر کا، اس لیے جس لڑکی اور اس کے سرپرست نے دولہا کی قیمت ادا کی ہے،آخر وہ اس مرد اور اس کے اہلِ خانہ کے احسان مند کیوں کر ہوں، جس کی قیمت ان لوگوں نے اپنا خونِ جگر بیچ کر ادا کی ہو۔ اسی لیے آج کل یہ شکایت عام ہے کہ جب بہو گھر میں آتی ہے وہ خدمت و اطاعت کے جذبہ سے خالی و عاری ہوتی ہے اور گھر سے متعلق فرایض اور اپنی ذمہ داریوں کو اداکرنے میں کوتاہ‘‘ (لڑکوں کی تجارت: ج۲، ح۴، ص۲۰۸، ۲۰۹، ۲۱۰، ۲۱۳) 

جدید تکنیکی ترقی نے انسانی سماج پر جو مثبت اثرات مرتب کیے ہیں اس سے کسے نکار ہو سکتا ہے؟۔ زیرِ نظر تالیف میں خالد سیف اللہ صاحب بھی اس کی سماجی افادیت کے قایل معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کی تیکھی نظر سے جدید تکنیک کی ایسی خامیاں چھپی نہیں رہ سکیں، جو انسانی سماج کو کسی بڑے اخلاقی بحران سے دوچار کر سکتی ہیں: 

’’ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے اجنبی مرد و عورت کے مادہ تولید کو باوآور کرنا یا اجنبی اور غیر معروف مردوں کے مادہ تولید کو عورت کے رحم میں منتقل کر کے اس کو ماں بنانا کھلی ہوئی بدکاری اور انسانوں کو حیوان کی سطح پر اتارنا ہے۔ انسان کو نسب اور اپنی شناخت سے محروم کر دینا اخلاق و شرافت کے بالکل مغایر ہے اور شاید ہی کوئی مذہب ہو جو اس کو جایز رکھتا ہو۔ اسلامی تعلیمات اس سلسلہ میں بالکل واضح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا و آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ قطعاََ حلال نہیں کہ وہ اپنے پانی یعنی مادہ تولید سے دوسرے کی کھیتی یعنی اپنی بیوی کے علاوہ کسی ا ور خاتون کے رحم کو سیراب کرے۔‘‘ (پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے:ج۲، ح۴، ص۱۸۸)
’’ چند سو روپے خرچ کر کے (Sex Determination Test) کرایا جا سکتا ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رحمِ مادر میں لڑکا ہے یا لڑکی؟ ایک معمولی اندازہ کے مطابق اس ٹیسٹ پر مبنی اطلاعات کی روشنی میں روزانہ پانچ تا چھ سو لڑکیاں اس عالمِ رنگ و بو میں آنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں۔ یہ قتل دشمنوں اور غیر سماجی عناصر یا غنڈوں کے ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ شفیق باپ اور ’’ممتا سے معمور ماں‘‘ کے ہاتھوں ہوتا ہے اور خاندان کے بزرگوں اور خیر خواہوں کا مشورہ بھی اس میں پوری طرح شریک رہتا ہے، گو انسانی حقوق اور خواتین کی مختلف تنظیموں کے احتجاج اور مطالبہ پر قانوناََ ایسے ٹیسٹ کو منع کر دیا گیا ہے، لیکن جب تک اندازِ فکرمیں تبدیلی نہ آئے، قانون شکنی کو کب روکا جا سکے گا؟ ..... اگر ہم صرف والدین کو دختر کشی کی اس ’’جاہلیت جدیدہ‘‘ کا مجرم قرار دیں تو شاید انصاف نہ ہو، پورا سماج اس کا مجرم ہے۔ وہ ظالم سماج جو اپنے لڑکوں کو بازار کے سامان کی طرح اونچی قیمتوں پر فروخت کرتا ہے، جو چاہتا ہے کہ لڑکیوں کے والدین سے ان کی رگِ گلو کا آخری قطرہ خون بھی وصول کر لے، جس کو حرص و طمع نے سیم و زر کا ایسا پیاسا بنا دیا ہے کہ جیسے کوئی سگ گزیدہ مریض ، اور جس کی بے رحمی و شقاوت اور سنگ دلی پر شاید درندے بھی شرماتے ہیں، جب تک ہم اس اصل مرض کا علاج کرنے میں کامیاب نہ ہوں، دختر کشی کی اس نئی لہر کو روک نہیں سکتے‘‘ (دختر کشی۔۔عہدِ جدید میں: ج۲، ح۴، ص۱۹۶، ۱۹۷) 

ذرا غور کیجیے کہ خالد صاحب نے جدید تکنیک کے ایک غلط استعمال کو ، سماج کے گرے ہوئے رویے سے کیسے relate کیا ہے۔ انہوں نے تکنیکی ترقی کو کو ہدفِ تنقید نہیں بنایا اور نہ ہی ’قانون‘ نافذ کرنے کے لیے آ ستینیں چڑھا کر چیخ پکار کی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ معلوم ہوتے ہیں کہ قانونی سزا کے بجائے سماجی سزا زیادہ خوف ناک ہوتی ہے۔ قانون کا شکار صرف مجرم ہوتا ہے جب کہ سماج کی دی ہوئی سزا مجرم کے پورے خاندان اور اس کی آنے والی نسل کو بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ اس لیے کسی متوقع مجرم کا خاندان ، سماجی کلنک کے ڈر سے اسے قابو میں رکھتا ہے۔درج ذیل اقتباس سے ان کی سوچ کے اس رخ پر مزید روشنی پڑتی ہے کہ محض قانون بنا کر بری الذمہ نہیں ہوا جا سکتا، بلکہ لوگوں کو متحرک کر کے ہی حقیقی اصلا ح کی جا سکتی ہے: 

’’ پھر خاص کر اسلام نے مردوں پر عورتوں کی حفاظت کی ذمہ داری رکھی ہے اور یہی مطلب ہے مرد کے ’’قوام‘‘ ہونے کا۔ اسی لیے سماجی حقوق میں اسلام نے اکثر مواقع پر خواتین کو مقدم رکھا ہے ...... غرض طلاق اور کسی مناسب ضرورت کے بغیر دوسر نکاح ایک ’’ناخوش گوار واقعہ‘‘ ہے لیکن یہ اس سے زیادہ ناخوش گوار واقعہ کو روکنے کا باعث ہے ، اسی لیے اسلام نے اس کی اجازت دی ہے ..... اور ان سب کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو بدترین لوگ ہوں گے وہی عورتوں پر ہاتھ اٹھائیں گے۔ ...... ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کو اس سلسلے میں باشعور بنایا جائے ، توہماتی تصورات سے ان کو آزاد کیا جائے ، معاشرہ میں حوصلہ و ہمت پیدا کیا جائے کہ اگر ایک ہاتھ ظلم و جور کے لیے اٹھے تو کتنے ہی ہاتھ اس ہاتھ کو روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ، کتنی ہی زبانیں اس پر لعن طعن کے تیر برسائیں اور سماج میں وہ اپنے آپ کو تنہا اور الگ تھلگ محسوس کرنے لگے ، ہر آنکھ جو اس پر اٹھے وہ اسے اس کی ذلت و رسوائی کا احساس دلائے اور ہر زبان جو اس پر کھلے وہ اس کی شناعت اور گراوٹ کا اعلان کرنے لگے ‘‘ (ایک حادثہ ۔۔ لرزہ خیز ، الم انگیز : ج۲، ح۴، ص۹۵، ۹۶، ۹۸، ۹۹)

(جاری)

آراء و افکار