مغرب کی ابھرتی ہوئی مذہبی شناخت اور اس کی تشکیل میں مسلمانوں کا کردار

پروفیسر میاں انعام الرحمن

شمالی امریکہ میں نائن الیون کے اندوہ ناک حادثے کے بعد مغربی یورپ میں سیون سیون کے بم دھماکوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ اگرچہ مغربی میڈیا نے حسبِ روایت چیخ پکار کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ حیرت زدگی اقوامِ عالم کو اس شدت کے ساتھ ماتم پر مجبور نہیں کر سکی جس کی توقع اہلِ مغرب کے یک رخی سوچ کے حامل افراد کر رہے تھے۔ اس قسم کے حادثات جہاں آنے والے وقت کی سختی اور پیچیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں، وہاں مغربی استعماریت کے داخلی ڈھانچے کے دیمک زدہ ہونے کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں مغرب نے اپنے تہذیبی گھروندے میں ایسا کوئی دریچہ نہیں رکھا جس سے تازہ ہوا کے جھونکے داخل ہو کر اسے تعفن کی گھٹن اور دقیانوسیت کی وبا سے محفوظ رکھ سکیں۔ کمیونزم کے زوال کے بعد اسلام کو کمیونزم کے مقام پر رکھ کر اس کے گھیراؤ کی حالیہ کوششیں، جو کہ حکومتوں کی سطح پر ہو رہی ہیں، اور عوامی سطح پر قوم پرستی پر بے جا اصرار، جس کا مظہر فرانسیسی عوام کا یورپی یونین کی بابت موقف ہے، کیا ہماری رائے کو تقویت دینے کو کافی نہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ مغربی پالیسی ساز اور مغربی معاشرہ ابھی تک نیشنل ازم کے فساد اور سرد جنگ کے خوف کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ بہر حال، نائن الیون اور سیون سیون کے واقعات کو جیسے تیسے مذہبی مظہر کی منفیت کے طور پر پینٹ paint) (کیا جا رہا ہے اور مغرب میں مذہب پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں ہم آنے والی سطور میں مختلف عنوانات کے تحت موجودہ حالات کی روشنی میں مغرب کی مذہبی شناخت پر بات کریں گے ۔ 

اہلِ مشرق اور مسلمانوں کے ہاں عام طور پر مغرب کو ایک ’’وحدت‘‘ کی صورت میں دیکھا جاتا ہے، لیکن مماثلتوں کا گراف خاصا بلند ہونے کے باوجوداہلِ مغرب کو ہر لحاظ سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مغرب کی داخلی تقسیم کی جہتیں اتنی مختصر نہیں کہ اس وقت ان پر کم از کم سرسری نظر ہی ڈالی جا سکے۔ موضوع کی مناسبت سے ہم یہاں صرف مذہبی پہلو پر بات کریں گے اور وہ بھی میکرو لیول (macro level) پر۔ 

یورپ - امریکہ مذہبی خلیج 

معاشرتی رویوں کو کریدنے والے European Values Study کے ایک حالیہ مطالعہ نے بتیس یورپی ممالک کے سروے سے ظاہر کیا ہے کہ صرف 21% یورپی یہ کہتے ہیں کہ مذہب ان کے لیے بہت اہم ہے۔ امریکہ میں صورتِ حال نسبتاً بہتر ہے۔ پیو فورم آن ریلیجن اینڈ پبلک لائف (Pew Forum on Religion and Public Life) کے سروے کے مطابق 59% امریکیوں کے نزدیک ان کا عقیدہ بہت اہم ہے ۔ مغرب کے مذہبی رویے کے دو بڑے مظاہر ، شمالی امریکہ اور یورپ مذکورہ اعدادو شمار کے مطابق وسیع خلیج کے حامل ہیں ۔ اس وقت امریکہ، یورپ سے سبقت لے جا کر اپنی آزاد روی اور تکنیکی ترقی کے بل بوتے پر جس طرح اقوامِ عالم کا تھانیدار بنا ہوا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ مذہب مادی ترقی اور فکری آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا ۔ سیکولرفکر کو ترقی کا ناگزیر تقاضا سمجھنے والوں کے لیے مذہب پسند امریکہ ایک معکوس زندہ مثال ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بے شمار مماثلتوں کے ہوتے ہوئے یورپ اور امریکہ کے مذہبی رویے میں یہ خلیج کیونکر ہے ؟ برطانیہ کیExeter University میں مذہبیات کے ماہر Grace Davie کے مطابق یورپ میں روشن خیالی (Enlightenment) کا مطلب مذہب سے آزادی (Freedom from religion) یعنی عقیدے سے نجات لیا گیا، جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس کا مطلب ہے ''Freedom to believe'' ، یعنی عقیدہ رکھنے کی آزادی ۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے مطابق مسٹر ویل (Weil) کہتے ہیں کہ امریکہ میں، جو ایسا ملک ہے جس کی تشکیل میں استبدادی حکومتوں کے چنگل سے فرار ہونے والے مذہبی منحرف بھی شامل تھے، مذہبی گروہوں نے ریاستی مداخلت کے خلاف افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس یورپ میں تحریک تنویر کے بعد ریاست کو، مذہبی گروہوں کی چھیڑ چھاڑ سے پناہ گاہ کی حیثیت حاصل ہوئی۔ امریکہ میں جمہوریت اور مذہب باہم پیوست رہے ہیں کیونکہ وہاں چرچوں نے غلامی کے خلاف جنگ اور شہری حقوق کے حق میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے ۔ یورپ میں ایسا کبھی نہیں ہوا ، بلکہ وہاں اسپین اور فرانس جیسے ممالک کے منظم چرچوں نے سیاسی اصلاح کی ہمیشہ دل و جان سے مخالفت کی۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے سٹاف رائٹر پیٹر فورڈ (Peter Ford) نے اسی امریکی -یورپی اختلاف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یورپی کمیشن کے سابق صدر ژاک ڈیلور(Jacques Delors) کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :

''The clash between those who believe and those who do't believe will be a dominant aspect of relations between the US and Europe in the coming years.'' 
’’جو لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں اور جو یقین نہیں رکھتے، ان کے درمیان تصادم ، آنے والے برسوں میں امریکہ - یورپ تعلقات کا غالب پہلو ہو گا ‘‘۔ 

پیٹر فورڈ ، یورپی کمیشن کے سابق صدر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید نقل کرتے ہیں کہ : 

''This question of values gap is being posed more sharply now than at any time in the history of European--US relations since 1945.'' 
’’ اقدار کی خلیج کا سوال جس تندی کے ساتھ اس وقت ابھر رہا ہے، 1945 سے امریکہ -- یورپی تعلقات کی تاریخ میں کبھی نہیں ابھرا ۔‘‘

مذہب پر یورپ کی بد اعتمادی میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب اسے یعنی مذہب کو مبالغانہ حد تک کے جذبہ حب الوطنی سے ملا دیا جاتا ہے، جیسا کہ امریکی صدر بش نے کیا ۔ ایک طرف صدر بش نے US under attack کی مہم چلائی اور دوسری طرف Crusade کا نعرہ لگایا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر بش نے نائن الیون کے واقعے کے بعد جو بیان جاری کیا، اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ دنیا کی اقوام اب یا ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے، یعنی کوئی تیسرا آپشن نہیں چھوڑا۔ صدر بش کا یہ انداز شاید متی کی انجیل 12 : 30 کی باز گشت تھا کہ:

’’جو میرا حامی نہیں، وہ میرا مخالف ہے ‘‘ ۔

ڈاکٹر انتھونی سٹیونز ، اپنی کتاب ''The Roots of War and Terror'' میں رقمطراز ہیں: 

’’ بش کی 'axis of evil' والی تقریر کے لیے ذمہ دار آدمی صدارتی تقریر نویس ڈیوڈ فرم تھے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ انھوں نے اصل میں ' axis of hatred' کا جملہ لکھا تھا، لیکن انھیں مجبور کیا گیا کہ اس کی جگہ 'axis of evil' لکھا جائے جو زیادہ ’’بائبلی ‘‘ انداز رکھتا ہے۔ ‘‘ 

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ صدر بش نے Evil یعنی بدی کی کوئی ایسی باقاعدہ تعریف پیش نہیں کی جو امریکی قوم کے مشترکہ ضمیر کی آئینہ دار ہو، کیونکہ عیسائیت کی مخصوص اخلاقی روایت اور امریکی معاشرے کے سیکولر رجحانات کے سبب ، ہر امریکی کی اپنی ایک تعریف ہے، اس لیے صدر بش کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ امریکی شہریوں کی خالصتاً موضوعی Evil کو اپنے جنگی جنون کی خاطر بطور ہتھیار استعمال کریں۔ اگر (غیر محرف) بائبل امریکیوں کی معاشرتی زندگی میں رچی بسی ہوتی توصدر بش امریکی قوم کے اجتماعی مذہبی ضمیر کو نیشنل ازم کی خواب آور گولیوں سے کبھی نہ سلا سکتے۔ لہٰذا واضح ہو جاتا ہے کہ یورپ کے مقابلے میں امریکہ کی نام نہاد مذہب پسندی درحقیقت مذہب کے اس فہم کے گرد گھومتی ہے جسے پیش کرنے کا اختیار صرف اور صرف امریکی قدامت پسندوں اور پالیسی سازوں کو ہے ۔ اگر عملی اعتبار سے امریکہ کی مذہب پسندی سے فساد پیدا ہو رہا ہے، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اوراس کے مقابلے میں یورپ کی سیکولر فکر، مذہبی انتہاپسندی سے تحفظ دے رہی ہے تو بھی مذہب کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، اس لیے کہ یہ فہمِ مذہب یا مذہب کی ایک خاص تعبیر ہے جو دنیا میں فساد و شر کا باعث ہے، نہ کہ خود مذہب ۔

فرانس کا ایک موقر سیاسی تجزیہ نگار Dominique Moisi امریکی مذہبی -- قومی انتہاپسندی کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ : 

''the combination of religion and nationalism in America is frightening..........We feel betrayed by God and by nationalism which is why we are building the European Union as a barrier to religious warfare.''
’’امریکا میں مذہب اور قوم پرستی کا امتزاج اندیشہ انگیز ہے۔ ہمیں خدا اور قوم پرستی پر اعتماد نہیں رہا، اور یہی وجہ ہے کہ ہم مذہبی جنگوں کو روکنے کے لیے یورپین یونین کو تشکیل دے رہے ہیں۔‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ یورپ، مذہبی انتہاپسندی اور قوم پرستی کے نام پر جنگوں کے حوالے سے اپنی تاریخ کے مخصوص تناظر کے باعث مذہب اور حب الوطنی کے ملاپ سے خائف ہے ۔ جنرل فرانسیسکوفرانکو کی آمریت میں کئی سال جیل میں گزارنے والا سپین کا Nicolas Sartorius اپنے تجربات کی روشنی میں خبردار کرتاہے کہ : 

''God and patriotism are an explosive mixture.'' 
’’خدا اور حب وطن، دونوں کا امتزاج دھماکہ خیز ہوتا ہے۔‘‘

Nicolas مزید تنبیہ کرتا ہے کہ آمرجنرل فرانکو کے راہنما نظریے کا نام تھا ’’ کیتھولک نیشنل ازم ‘‘۔ جرمنی کے چانسلر Gerhard Schroder کے ایڈوائزر برائے تعلقات واشنگٹن Karsten Voigt کے مطابق بھی مذہب کے نام پر صدیوں جاری رہنے والی پر تشدد جنگوں کی تاریخ کے بعد، جن میں لاکھوں لوگ بے موت مارے گئے، یورپی لوگ ایسے مبالغانہ جذبہ حب الوطنی کو انتہائی شک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جس کے ساتھ مذہبی معنویت نتھی کر دی جائے۔ مسٹر Voigt نے اپنے موقف کی تائید میں پہلی جنگِ عظیم کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ :

''Remember, German soldiers in World War I wore belt buckles reading 'Gott Mitt Uns' [God With Us]'' 
’’یاد رکھیے، پہلی جنگ عظیم میں جرمن فوجیوں نے جو بیلٹ بکلز پہن رکھی تھیں، ان پر لکھا تھا: خدا ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

ہمارے خیال میں مسٹر Voigt اور ان جیسا نقطہ نظر رکھنے والے دیگر اہل فکر غالباً ایسے واقعاتی حوالوں سے سبق سیکھنے کی کوشش میں ہیں جن میں حکمرانوں نے آفاقی انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے ، ریاست کے دفاع اور ریاستی طاقت میں اضافے کی خاطر مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ جس معاشرے میں مذہب کے ایسے استعمال کی گنجایش زیادہ سے زیادہ ہو، بلاشبہ اس معاشرے کا مذہبی کے بجائے سیکولر ہونا خود اس کے لیے بھی اور دنیا کے حق میں بھی زیادہ مفید ہے کیونکہ ایسے معاشرے میں سیکولر رویہ ہی مذہبی مقاصد کی ترجمانی کرے گا۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے مطابق:

''More generally, secularism refers to an approach to life grounded not in religious morality but in human reason and universal ethics.'' 
’’سیکولر ازم کا مطلب زندگی کے متعلق ایسا زاویہ نگاہ ہے جس کی بنیاد مذہبی اخلاقیات پر نہیں بلکہ انسانی عقل اور کائناتی اخلاقی اصولوں پر ہے۔‘‘

سیکولر فکر کی اسی نہج کی نشاندہیMartin Ortega نے بھی کی ہے جو یورپی یونین کے انسٹیٹیوٹ فار سکیورٹی سٹڈیز میں تجزیہ نگارہے۔ دنیا کے معاملات میں امریکی صدر بش کی تنہا پرواز کے پیشِ نظر مارٹن کہتا ہے کہ :

''Europe's history has led Europeans to a more cosmopolitan worldview, which tries to understand 'the other'.'' 
’’یورپ کی تاریخ نے اہل یورپ کے ہاں دنیا کا ایک نسبتاً وسیع کائناتی تصور پیدا کر دیا ہے جو دوسری قوموں کے موقف کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘

مارٹن کے خیال میں اس یورپی اپروچ کے مضمرات میں سے ایک یہ ہے کہ سنگین ترین حالات کے استثنا کے ساتھ طاقت کے استعمال پر پابندی لگ چکی ہے۔ اب یہ پابندی ایک یورپی قدر بن چکی ہے جس سے امریکہ محروم ہے۔ یورپ ، عالمی فوجی عدالت کی تائید کرتا ہے جبکہ امریکہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں کمی کی خاطر کیے گئے کیو ٹو معاہدے کو امریکہ مسترد کر چکا ہے جبکہ یورپ نے اسے پذیرائی بخشی ہے۔ مارٹن کے مطابق امریکی - یورپی اختلاف ''is a matter of principle, a matter of values'' (اصول اور اقدار کا اختلاف ہے)۔

جرمن چانسلر کے ایڈوائزر مسٹر Voigt تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :

''in some segments of conservative US opinion, anti-European feeling is on the rise.........They see us as soft on terrorism or as simply immoral.'' 
’’امریکہ کے قدامت پسند اہل الرائے کے بعض حلقوں میں یورپ مخالف احساسات پروان چڑھ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارا موقف نرم یا سیدھا سیدھا غیر اخلاقی ہے۔‘‘

حقیقت یہی ہے کہ اکثر یورپی حکومتیں، اپنی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اخلاقی اقدار کو مناسب مقام دینے کی خواہش مند ہیں جبکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ''the war on terror'' کے نعرہ کے گرد گھومتی ہے۔ یورپی اخلاقی اقدار کا منبع سیکولر ازم ہے اور امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سرچشمہ''axis of evil'' کا نام نہاد مذہبی نعرہ ہے۔

یورپ کا مذہبی احیا

یورپ میں مذہب کی واپسی، اگرچہ فی الحال ان معنوں میں ہی سہی کہ مذہب ، یورپی زندگی کی تیز رفتاری میں گفتگو کا موضوع بن گیا ہے ، کافی اہمیت کی حامل ہے ۔ سپین (میڈرڈ) کے بم دھماکوں ، ہالینڈ (ایمسٹرڈیم ) میں ڈچ فلم ساز Theo van Gogh  کی ہلاکت اور حالیہ لندن بم دھماکوں سے یورپی ذہن میں زلزلہ آگیا ہے ۔ اس زلزلے کے منفی پہلو کسی بھی ہوش مند فرد سے مخفی نہیں ہیں، لیکن جس طرح بعض اوقات کسی فرد کی یاد داشت کسی حادثے سے واپس آ جاتی ہے ( ڈاکٹر خود بھی شاکس تجویز کرتے ہیں )، اسی طرح نائن الیون کے بعد یورپ میں ہونے والے حادثات نے یورپی ذہن کی تلچھٹ کو سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ غلط اور گمراہ کن مذہبی تعبیر کے ردِ عمل میں برپا ہونے والے انقلاب ( جسے یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کہا جاتا ہے) نے یورپی ذہن کو انتہائی گہرائی میں مذہب سے بد ظن کر رکھا تھا۔ مذہب سے اتنی گہری بد ظنی کے بعد اس سے دوبارہ میل ملاقات ، شاید ایسے ہی حادثات کی متقاضی تھی ، اگرچہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یورپ کا مذہب کے ساتھ یہ نیا تعارف کسی اچھے ماحول میں نہیں ہوا، بلکہ یہ ماحول تو اسی سابق ماحول کی باز گشت ہے جس کے ردِ عمل میں یورپ ، مذہب بیزار بنتا چلا گیا۔

Sorbonne پیرس میں مذہب کا ماہرِ عمرانیات Patrick Weil بھی یہ پیشین گوئی کرتا ہے کہ 

Those incidents "will reinforce secularism."
’’ان واقعات سے سیکولر ازم کو مزید تقویت ملے گی۔‘‘ 

Patrick Weil کے تحت الشعور میں یورپی تاریخ کی وحشت ناک انسان دشمن مذہبی روایت کس حد تک رچی بسی ہے، ملاحظہ کیجئے : 

''We are not going to sacrifice womens's equality, democracy and individual freedom on the altar of a new religion.'' 
’’ہم خواتین کی مساوات، جمہوریت اور انفرادی آزادی کو کسی نئے مذہب کی بھینٹ چڑھانے کے لیے تیار نہیں‘‘

جزوی صداقت کے اعتراف کے ساتھ، ہم گزارش کریں گے کہ یورپ کے قدیم مذہبی ماحول اور حالیہ تشدد پسند مذہبی لہر میں’’یکسانی ‘‘ محض ظاہری اور سطحی سی ہے ۔ دونوں ادوار کے ماحول میں ’’ نوعیت ‘‘ کا ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ یورپ کی مذہبی روایت، جس کے ردِ عمل میں مذہب بیزار روایت ’’ سیکولر ازم ‘‘ نے جنم لیا ، بنیادی طور پر مذہبی آقاؤں کے بے لچک اور علم دشمن رویے سے پھوٹی تھی۔ اس کے برعکس حالیہ تشدد آمیزمذہبی لہر کا سر چشمہ بیسویں صدی کے وہ تاریخی و واقعاتی عوامل ہیں جن کی تشکیل میں کلیدی کردار مذہبی آقاؤں کی بجائے مغربی پالیسی سازوں کا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں موجودہ مذہبی انتہاپسندی کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں نہ کہ کسی قسم کی الہٰیاتی تعبیر جس کا یورپ کو ماضی میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لیے Patrick Weil جیسے اہل دانش کا یہ خوف بے معنی ہے کہ موجودہ مذہبی لہر عورتوں کے حقوق، جمہوریت اور انفرادی آزادیوں کی قاتل ثابت ہو گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یورپ کی بلند شرح خواندگی کے باعث یورپی عوام اپنی مذہبی روایت اور موجودہ مذہبی لہر کے درمیان مذکورہ ’’فرق ‘‘ کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔ اگر یورپی عوام ایسے شعور سے بہرہ ور نہ ہوتے تویورپ میں مذہبی کتب کی مانگ میں اضافہ نہ ہوتا۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ کتب فروخت کرنے والے ادارے Waterstone کی ترجمان خاتون Lucy Avery کے مطابق انھیں مذہبی و روحانی کتب کی شیلفیں بڑھانی پڑی ہیں کیونکہ ایسی کتب کی فروخت میں 4% اضافہ ہوا ہے۔ فرانس میں مذہبی کتب کے سب سے بڑے ناشر Cerf کی ترجمان خاتون Laurence Vandamme کہتی ہیں کہ : 

''I have noticed that a lot of general-interest publishers are turning to religious books now for commercial reasons, because that is what the public wants.'' 
’’میں نے یہ بات محسوس کی ہے کہ عوامی دل چسپی کے موضوعات پر کتابیں چھاپنے والوں کی ایک بڑی تعداد اب تجارتی وجوہ کی بنا پر مذہبی کتابوں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، اس لیے کہ اب لوگ ایسی کتابوں کے طالب ہیں۔‘‘

ہمارے موقف کی مزید تائید ڈاکٹر مرے ولیمز کی بات سے ہو جاتی ہے کہ : 

''The discourse has changed. Ten or 15 years ago, any mention of spiritual experiences would have drawn blank looks. Today people are hungry to talk about them.'' 
’’اب بحث کا رخ بدل گیا ہے۔ دس یا پندرہ سال پہلے روحانی تجربات کا ذکر ہونے پر لوگ کسی دل چسپی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ اب لوگ ان کے متعلق گفتگو کے لیے بے چین ہیں۔‘‘

''The Republic and Religion'' نامی انٹرویوز پر مشتمل ایک کتاب میں ، فرانس کی بر سرِ اقتدار پارٹی کے صدر Nicolas Sarkozy نے، جن کے فرانسیسی صدر بننے کی توقع ہے، یہ کہہ کر سیکولر حلقے کو ششدر کر دیا ہے : 

''That the religious phenomenon is more important than people think, that it can contribute to peace, to balance, to integration, to unity and dialogue.'' 
’’مذہب کا مظہر اس سے بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے جتنا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ امن، توازن، یک جہتی، اتحاد اور مکالمے کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

Nicolas ایک قدم بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں : 

''The Republic should debate this, and reflect on it''. 
’’جمہوریہ فرانس کو اس پر غور وخوض اور بحث کرنی چاہیے۔‘‘

اپنے ملک کی ایک صدی قدیم سیکولر روایت سے انحراف کرتے ہوئے متوقع فرانسیسی صدر تجویز پیش کرتے ہیں کہ ریاست کو چرچوں اور مساجد کو subsidize کرنا چاہیے۔ مسٹر نکولس اصرار کرتے ہیں کہ وہ مذاہب اور public authorities کے درمیان نئے تعلقات کے لیے کوشاں رہیں گے۔ مسٹر Moisi ، نکولس کی اس اپروچ پر یوں تبصرہ کرتے ہیں کہ :

''Sarkozy's novel approach is based on a sense that while for some, religion is the problem, it can also be part of the solution. He is bringing a kind of oxygen to the debate.'' 
’’سارکوزی کی اچھوتی اپروچ کی بنیاد ا س احساس پر ہے کہ مذہب اگر کچھ لوگوں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے کا باعث ہے تو یہ اس کا حل نکالنے میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نے اس بحث میں ایک نئی زندگی پیدا کر دی ہے۔‘‘

اور تو اور ،فرانس کے نمایاں فلسفی Regis Debray نے، جو بولیویا کی پہاڑیوں میںChe Guevara کی فوج میں کامریڈ رہے، اپنی دو حالیہ کتب کا انتساب ، خدا اور مذہب کے نام کیا ہے ۔ وارسا میں Stefan Batory Foundation کے صدر اور Sorbonne پیرس کے استاد ، ایک ممتاز یورپی مفکر Aleksander Smolar ، مذہب بیزاری کی رومانویت کی پسپائی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں : 

'' God is back among intellectuals. You can feel there is a problem of soul in Europe; people are conscious of a void and there is a certain crisis of secularism.'' 
’’دانش وروں کے ہاں خدا واپس آ چکا ہے۔ تم محسوس کر سکتے ہو کہ یورپ میں ایک روحانی مشکل موجود ہے۔ لوگ ایک خلا کو محسوس کر رہے ہیں اور سیکولر ازم کو ایک خاص مفہوم میں بحران کا سامنا ہے۔‘‘

اس سلسلے میں یورپی کمیشن کے ایک سابق صدر Jacques Delors کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیے : 

''I fear that the construction of Europe is sinking into absolute materialism. Things are not going well for society, so society is little by little going to start asking itself what life is for, what death is, and what happens afterwards.'' 
’’مجھے خدشہ ہے کہ یورپ کی تعمیر مادیت کے اتھاہ سمندر میں ڈوب رہی ہے۔ معاملات سوسائٹی کے حق میں بہتر نہیں رہے، اس لیے معاشرہ رفتہ رفتہ اپنے آپ سے یہ سوال کرنا شروع کر رہا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، موت کیا ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔‘‘

یورپ میں کثیر مذہبی روایت کی کاشت 

تاریخی و تہذیبی عوامل سے قطع نظر ، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی واقعاتی قوت ہے جس نے یورپ کے سیکولر سمندر میں روحانی لہریں برپا کی ہیں؟ جواب میں آنکھیں فوراً مسلمانوں کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ بلا شبہ یورپ میں مذہب پر موجودہ گرما گرم بحث کے ذمہ دار مسلمان ہی ہیں۔ اس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں :

(۱) سرد جنگ میں سوشل ازم کی شکست میں ’’بنیادی کردار‘‘ مسلمانوں کی مذہبی وابستگی کا رہا ہے ۔ مسلمانوں کے اس کردار سے یورپی لوگ چونک گئے ہیں اور یہ جان گئے ہیں کہ مذہب بہت بڑی قوت ہے ۔

(۲) مسلمان جتنے بھی بے عمل ہوں، وہ کم از کم یورپی لوگوں کے مقابلے میں مذہبی ضرور قراردیے جا سکتے ہیں۔ ان کے ہاں مسجد میں جانے والوں کی شرح ، چرچ جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ پچھلے تیس سالوں میں یورپ کی مسلم آبادی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ آبادی مذہبی رویے میں عمومی پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے ۔برطانوی مسلمان اگرچہ برطانیہ کی آبادی کا صرف 3% ہیں، لیکن ایک سروے کے مطابق جمعہ کی نماز میں مسجد جانے والوں کی تعداد ، اتوار کے روز چرچ جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔

(۳) یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے قضیے نے مذہبی سوال کو شدت سے ابھارا ہے ۔ آئندہ دس برسوں میں 83 ملین مسلمانوں کی یورپ میں متوقع شمولیت سے نہ صرف مذہب پسندی کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ یورپ کی شناخت بھی از سرِ نو تشکیل پا سکتی ہے۔ کیتھولک چرچ اسی بنیاد پر یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت سے خائف ہے اور وٹیکن کی طرف سے یورپ کی مسیحی شناخت پر زور دیتے ہوئے متعدد بار ترکی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت کی کوششیں ترک کر دے۔

(۴) یورپ کی نئی شناخت کی تشکیل میں موثر مسلم آبادی کی موثر شرکت کے باعث یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا یورپی سیکولر ازم مسلمانوں کی مذہب پسندی سے ہم آہنگ ہو سکے گا، کیونکہ مسلمانوں کی مذہبی روایت میں علم کشی اور انسان دشمنی کے وہ جراثیم نہیں پائے جاتے جو یورپی مذہبی روایت کا خاصا ہے ، اس لیے مسلمان اپنے مذہب کو معاشرتی زندگی سے نکالنے پر رضامند نہیں ہوں گے ۔ 

اس صورت حال میں یورپی مدبرین کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یورپ اور اسلام کا ادغام نہیں ہوتا تو کیا یورپی کلچر اتنی لچک کا مظاہرہ کر سکے گا کہ اس کے شہری دو دھاروں میں منقسم ہوجائیں؟ نئے مذہبی سوال اور سیکولر فکر کی امکانی قوت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہی فرانس کا ماہر عمرانیات Patrick Weil ایک چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے : 

''This is the first time for a long time ......that we have had to show that we can adapt and accept religious diversity........that is a challenge.'' 
’’طویل مدت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں اپنی اس صلاحیت کو ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم مذہبی تنوع کو قبول کر کے اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکتے ہیں۔ یہ واقعتا ایک چیلنج ہے۔‘‘

Patrick Weil نے جس چیلنج کی بات کی ہے ، اس کی واقعاتی حیثیت سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو ۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم چیلنج ہے جس سے یورپ کو مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔ابھرتی ہوئی نئی مذہبی لہر وں کے سامنے سیکولر ازم کی کشتی ڈوبتی محسوس ہو رہی ہے۔ اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ یورپ اپنی سیکولر روایت سے انحراف کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر ’’ امتیازی سلوک‘‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ اس وقت یورپ کو ایک ’’نئے سیکولر رویے‘‘ کی اشد ضرورت ہے جس میں ہر مذہب کے شہریوں کے انسانی حقوق کی ضمانت موجود ہو ۔ خیال رہے کہ یورپی سیکولر ازم کی موجودہ روایت ، کثیر مذہبی پس منظر نہیں رکھتی ۔ یہ در حقیقت عیسائیت کی داخلی تقسیم کے انتہاپسندانہ رویے کے ردِ عمل میں قائم ہوئی تھی ۔

ایک گیلپ پول کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 44% امریکی اور 15% یورپی ہفتے میں ایک بار عبادت گاہ جاتے ہیں۔ (یورپی شرح بحیثیت مجموعی ہے، ورنہ برِ اعظم یورپ کے ہر ملک میں یہ شرح مختلف ہے۔) European Values Study کے سروے کے مطابق 74% یورپی کہتے ہیں کہ وہ خدا اور روح پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی یورپی یقین کو دیکھتے ہوئے مذہبی لوگ پر امید ہیں کہ وہ یورپ کو ’’خدا آشنا ‘‘کرنے کا کام آسانی سے کر سکیں گے۔ ملاحظہ فرمائیے پوپ کے ایک قریبی رفیق Rocco Buttiglione کے خیالات، جنھیں سماجی مسائل پر سخت کیتھولک موقف کے باعث یورپی کمیشن میں شمولیت کی اجازت نہ ملی : 

''For a long time, they told us that science and maths would give us the identity we need.......Both failed. Now when Europeans ask themselves 'Who are we?' they do't have an answer. I suggest we are christians.'' 
’’طویل عرصے تک وہ ہمیں یہ بتاتے رہے کہ سائنس اور ریاضی ہمیں وہ شناخت عطا کر سکتے ہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے، لیکن یہ دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔ اب جب اہل یورپ خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مسیحی ہیں۔‘‘

لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ یورپی لوگ روحانیت کے متلاشی تو ضرور ہیں، لیکن ایسے مذہب کے نام سے اب بھی بدکتے ہیں جس کی منشا انسانوں کی سماجی سدھار ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ مذہبی لہر کے ہمراہ آنے والے تشدد نے یورپی لوگوں کو اپنے ماضی کی یاد دلا کر تحفظات کا شکار کر دیا ہے ۔ اس لیے یورپی لوگ ، مذہب اور روحانیت کو دو علیحدہ علیحدہ مظاہر کے طور پر لے رہے ہیں ۔ Murray Williams کے مطابق:

''Many people are seeing spirituality as something positive, while religion is seen as a system that can be divisive.'' r
’’بہت سے لوگ روحانیت کو تو ایک مثبت چیز سمجھ رہے ہیں جبکہ مذہب ان کے خیال میں ایک ایسی قوت ہے جو تقسیم اور افتراق پیدا کر سکتی ہے۔‘‘

نیو میگزین کے ایڈیٹر Frederic Lenoir نے بھی لکھا ہے : 

''The need for meaning affects secularized and de-ideologized West most of all.......Ultramodern individuals mistrust religious institutions.......and they no longer believe in the radiant tomorrow promised by science and politics; they are still confronted, though, by the big questions about origins, suffering, and death.'' 
’’معنویت کی ضرورت سیکولر اور نظریہ واعتقاد سے محروم مغرب کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ حد سے زیادہ جدیدیت پسند افراد مذہبی اداروں پر اعتماد نہیں کرتے اور انھیں سائنس اور سیاست کی طرف سے روشن مستقبل کے وعدے پر بھی اب زیادہ بھروسہ نہیں رہا۔ وہ اب بھی حیات وکائنات کی ابتدا، زندگی کے مصائب اور موت سے متعلق غیر معمولی سوالات سے دوچار ہیں۔‘‘

شاید اسی لیے بدھ مت یورپی لوگوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ ایک روسی نژاد برطانوی تعلیم یافتہ منک Suvannavira کہتا ہے کہ : 

''I have noticed a steady increase in interest.....Our order has doubled in size since 1990.'' 
’’میں نے لوگوں کی دل چسپی میں ایک مسلسل اضافہ محسوس کیا ہے۔ ۱۹۹۰ کے بعد سے ہمارے مذہبی حلقے میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔‘‘

ہماری رائے میں عیسائیت اب انسان کی انفرادی (ذاتی) زندگی سے بھی بے دخل ہوچکی ہے۔ یورپی لوگ خواہش مند ہیں کہ انھیں کوئی ایسا روحانی سرچشمہ مل جائے جو سیکولر فکر میں عیسائیت کاجانشین بن سکے ۔بدھ مت کی حالیہ پذیرائی کے باوجود آنے والے چند عشرے ہی یہ ثابت کر سکیں گے کہ بدھ مت ، یورپی ضرورت کو پورا کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یورپ میں مختلف مذاہب کے قائدین کے درمیان ’’ ورکنگ ریلیشن شپ ‘‘ دیکھنے میں آ رہا ہے جس سے دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ ایسے مفاہمتی رجحانات جہاں مذاہب کے مابین تشدد کی نفی کے غماز ہیں، وہاں اس بات کی نوید بھی ہیں کہ نئے سیکولر رویے میں ( مذاہب کی باہمی برداشت اور رواداری کے باعث) مذہب کو کارنر کرنے کی بجائے اسے اہم مقام دینا زیادہ سودمند ثابت ہوگا ۔ مذاہب کے درمیان مفاہمت کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے: 

(۱) پیرس کا آرک بشپ Jean-Marie Lustiger سکولوں میں مسلم طالبات پر سکارف کی حکومتی پابندی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے مطابق یہ حکومتی اقدام ، مذہبی آزادی پر حملہ ہے ۔

(۲) اسی طرح کیتھولک اور پروٹسٹنٹ پادریوں نے بھی برمنگھم میں سکھوں کے بلوے کی حمایت کی، کیونکہ ایک ایسا تھیٹر ڈرامہ پیش کیا گیا تھا جس میں گوردوارے میں مارپیٹ ، آبرو ریزی اور قتل و غارت کے مناظر پیش کیے گئے تھے۔برمنگھم کے کیتھولک آرک بشپ Vincent Nichols نے ایک بیان جاری کیا کہ : 

''Such a deliberate, even if fictional, violation of the sacred place of the sikh religion demeans the sacred place of every religion.'' 
’’سکھ مذہب کی مقدس عبادت گاہ کی اس طرح سوچی سمجھی بے حرمتی سے، چاہے وہ افسانوی رنگ ہی میں کیوں نہ ہو، تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی توہین ہوتی ہے۔‘‘

( ایک دوسرے کی مساجد پر زبردستی قبضہ کر کے مساجد کی بے حرمتی کرنے والے ’’ پاکستانی فرقہ بازوں ‘‘ کو کیتھولک پادری کے اس بیان سے کم از کم شرمسار ضرور ہونا چاہیے)۔ 

اگر ایک طرف مذاہب کے درمیان مذکورہ مفاہمتی رویہ جنم لے رہا ہے تو دوسری طرف مذہبی اتحادی اور سیکولر محوری ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کے بجائے اصل تصادم خدا کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ہو گا۔شاید اسی لیے اسپینی حکومت کے عہدیدار Luis Lopez کو اس بات پر حیرانی ہے کہ جس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی شاید ہی کبھی چرچ گئی ہو، اس ملک میں یہ مطالبہ کرنا کہ دستور کے ساتھ بائبل کو بھی ڈیسک میں جگہ دی جائے ، خاصا عجیب و غریب ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہم جنس پرستی ، اسقاطِ حمل اور طلاق کے قوانین کو مزید liberalize کرنے کا مطلب ، کسی الحادی نوعیت کے ریاستی مذہب کو مسلط کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے شہری حقوق میں اضافہ ہوتا ہے اور قوانین بھی کیتھولک عقیدے سے بے نیاز ہو جاتے ہیں ۔وہ مزید کہتا ہے کہ : 

''The government has a responsibility to represent the majority of the people. Our policy has to depend on the people's will, not on the preferences of the Catholic church.'' 
’’حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کی اکثریت کی نمائندگی کرے۔ ہماری پالیسی کی بنیاد لوگوں کی مرضی پر ہونی چاہیے نہ کہ کیتھولک کلیسا کی ترجیحات پر۔‘‘

اگر پالیسی کا انحصار لوگوں کی منشا اور ارادہ ہی ہے تو ہم نے اوپر کی بحث میں نشاندہی کردی ہے کہ مذہب، یورپ کی معاشرت میں دبے پاؤں دوبارہ داخل ہورہا ہے۔ مسٹر Delors بھی اس سے ملتی جلتی بات کرتے ہیں : 

''I do't expect a wholesale social mutation. But I can see little white stones marking out a path.'' 
’’مجھے سماجی سطح پر اس رجحان کے عمومی فروغ کی توقع تو نہیں ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے سفید کنکر مجھے ایک راستہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

مخمصے کا شکار یورپی مسلمان

موجودہ اسلام / مغرب کشمش میں ، مغربی کرے میں رہنے والا مسلمان دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان میں مسلم علاقوں سے ہجرت کر کے مغرب میں بسنے والے لوگوں کے علاوہ نومسلم بھی شامل ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دو مغربی مسلم گروہوں کے مابین بھی فکری آویزش موجود ہے ۔ اگر مہاجر مسلم گروہ اپنے آبائی خطوں کی علاقائی روایات و رسومات کو اسلام کا لبادہ اوڑھا کر مغربی کلچر سے تحفظ کا خواہاں ہے تو نومسلم گروہ اپنے مغربی کلچر اور اسلامی تعلیمات میں موافقت کا خواہش مند ہے۔ (خیال رہے یہ عمومی صورتِ حال ہے) بی بی سی نے دو تصاویر کے ذریعے سے یورپی مسلمانوں کے پہلے گروہ کے دو رویوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک تصویر میں مسلمان لڑکیاں اسکارف پہنے ہوئے ، فرانسیسی جھنڈے میں ملبوس ہیں۔ یہ تصویر بجا طور پر مذہبی شناخت پر اصرار اور فرانسیسی معاشرے کے بنیادی دھارے میں شمولیت کی آرزو کی نمائندہ ہے۔ دوسری تصویر میں برطانوی مسلمانوں کا ایک گروہ لندن کی ایک مسجد کے باہر یونین جیک ( برطانوی جھنڈا) نذرِ آتش کر رہا ہے اور اسامہ بن لادن کے حق میں نعرے بازی کر رہا ہے۔ یہ تصویر reactionary رویے کی مظہر ہے۔ اس میں یورپی معاشرے سے اغماض کا پہلو جھلکتا ہے۔ در حقیقت یہ تصاویر دو ایسے’’ یورپی مسلم رویوں ‘‘کی علامت ہیں جو متحرک اور فعال ہیں۔ تیل اور تیل کی دھار کو دیکھنے والی خاموش اکثریت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپناوزن کس پلڑے میں ڈالتی ہے۔ہوسکتا ہے وہ کوئی تیسرا راستہ تلاش کرے۔ اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ یورپ کی مسلم آبادی ، مجموعی طور پربے روز گاری ، غربت اور marginalisation کا شکار ہے ۔ جہاں تک marginalisation کا تعلق ہے، یہ کثیر الجہات مسئلہ ہے لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ ’’مذہب ‘‘ ہی کے گرد گھومتا ہے ۔ مہاجر مسلمانوں کی دوسری، تیسری نسل دو انتہاؤں کے درمیان معلق ہے ۔ خارجی دنیا اور معاشرتی ماحول انھیں سیکولر اقدار کا پابند بنا نا چاہتا ہے جبکہ گھر کا ماحول ( اور کسی حد تک ان کی داخلی دنیا ، یعنی باطن بھی) انھیں طرزِ معاشرت میں مذہبی اقدار کی اطاعت پر ابھارتا ہے۔ خارج اور داخل کی ان دو انتہاؤں کے درمیان جب تک ’’ تطبیق ‘‘ نہیں ہوجاتی ، یورپی (مہاجر)مسلمان marginalisation کا شکار رہے گا۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے مطابق برطانوی اخبار گارجین کی ایک حالیہ رائے شماری نے ظاہر کیا ہے کہ 1.8 ملین برطانوی مسلمانوں میں سے 33% مسلمان بنیادی برطانوی ثقافتی دھارے سے زیادہ سے زیادہ ’’موافقت‘‘ چاہتے ہیں، اگرچہ 26% مسلمان موجودہ موافقت کو ہی بے جا اور حد سے بڑھا ہوا خیال کرتے ہیں۔نسلی مساوات کے کمیشن میں مسلم مسائل کے ترجمان خورشید احمد نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے33% کی نمائندگی کی ہے ۔ ان کے مطابق : 

''The Muslim community has to stand up and be counted as a British Muslim community.''
’’مسلم کمیونٹی کو آگے بڑھ کر ’برطانوی مسلم کمیونٹی‘ کا مقام حاصل کرنا ہوگا۔‘‘

برطانوی و یورپی بزر جمہروں کے لیے یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ ’’برٹش مسلم ، فرنچ مسلم اور جرمن مسلم ‘‘ وغیرہ سے حقیقت میں کیا مرادہے ؟ کیونکہ اپنے تئیں وہ مذہب کوصدیوں پہلے دفن کر چکے ہیں۔ ان کے لائف سٹائل میں ’’قبر رسیدہ مذہبی پس منظر ‘‘ جس شدت سے موجود ہے، اس کے ہوتے ہوئے ان کے کسی ذہنی خانے میں ’’مذہبی شناخت پر اصرار‘‘ کی مسلم روش اپنی جگہ نہیں بنا پاتی۔یہ تضاد بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ’’ برٹش مسلم ، جرمن مسلم‘‘ وغیرہ جیسی تراکیب میں ’’برٹش ، جرمن‘‘ کے الفاظ اکثر مہاجر مسلمانوں کو خاصے چبھتے ہیں۔ ان کی سائیکی، یورپی نیشنل ازم کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہے۔ اس طرح یہ دو انتہائیں سامنے آ جاتی ہیں ۔ ہماری رائے میں ان انتہاؤں میں راہ و و رسم بڑھانے میں یورپی نومسلم اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ 

بہرحال ، دوسرا یورپی مسلم گروہ یعنی نومسلم بھی تا حال marginalisation سے دوچار ہے۔ اس گروہ کی عمومی نفسیات، نیشنل ازم کے یورپی تصور اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دینے والی سیکولر روایت میں گندھی ہوئی ہے۔ روحانیت کی تلاش میں سرگرداں اس گروہ نے، مختلف آپشنز کی موجودگی میں اسلام کا انتخاب کیا ہے ۔ اب ایک طرف امہ کا مسلم تصور ہے اور دوسری طرف قوم پرستی کی یورپی روایت ، جو یورپی ثقافت کا جزو لاینفک ہے ۔ اسی طرح ایک طرف اسلام کی، دین ودنیا کو ’’ وحدت ‘‘ میں دیکھنے کی خصوصیت ہے اور دوسری طرف یورپی ثقافت میں رائج دین و دنیا کی تقسیم ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر قومیت کے عامل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ، تصورِ امہ پر بے جا زور دیا جائے اور فرد کی ذاتی زندگی میں مذہب کے کردار سے صرفِ نظر کر کے ، مذہب کے سماجی منہاج کو ہی عین مذہب قرار دیا جائے تو ذرا سوچیے کہ یورپ کا نومسلم، نفسیاتی اعتبار سے کہاں کھڑا ہو گا ۔ 

جہاں تک انسانی حقوق اور عورت کے سماجی مقام جیسے مسائل کا تعلق ہے ، یورپی نو مسلم اس حوالے سے بھی دوراہے پر کھڑا ہے۔ مسلم ممالک کی مقامی روایات اور علاقائی ثقافت کو جس طرح عین اسلامی تعلیمات قرار دیا جارہا ہے، اس سے یورپی نو مسلم کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے کہ اسلام اگر مشرقِ وسطیٰ ، افریقہ اور ایشیا کی مختلف علاقائی روایات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے تو یورپی اقدار میں آخر کون سی ایسی خامی ہے کہ اس کی کوئی قدر بھی اسلامی تعلیمات سے موافق نہیں ہو سکتی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپ کی کثیر مذہبی روایت کی کاشت میں اسلام کا کردار اسی وقت نمایاں ہو سکتا ہے جب یورپی ثقافت اور اسلامی تعلیمات میں اسی طرح ربط و تعلق قائم ہو جس طرح دیگر خطوں کی روایات اور اسلامی تصورات میں قائم و دائم ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اسلام صرف پیدایشی مسلمانوں کی میراث ہے ۔اسلام ان کے لیے ہے جو اس کی جستجو کرتے ہیں۔ یورپی نو مسلم کی جستجو پر پیدائشی مسلمانوں کو خوامخواہ کے تحفظات ظاہر کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔ پلین فیلڈ انڈیانا امریکہ میں ILDC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب لوئی ایم صافی کے مطابق : 

’’اسلامی اقدار اور مقامی روایات کے مابین تعامل کا مشاہدہ اس تنوع میں کیا جا سکتا ہے جو فیشن ، طرزِ تعمیر ، شادی کی تقریبات ، تہواروں کے منانے اور ججوں کے انتخاب وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور جو مختلف مسلم ثقافتوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔ پیغمبر ﷺ نے صاف واضح کیا تھا کہ آپﷺ کا مشن سابقہ روایات کو مسترد کرنا نہیں ، بلکہ انھیں ایسی روایات اور اعمال پر جو مضبوط اخلاقی اصولوں پر مبنی ہوں ، تعمیر کرنا اور پست روایات اور رواجوں کی اصلاح کرنا ہے .... جب مضبوط قبائلی ورثے کے حامل معاشروں میں غیرت کے نام پر قتل کو گوارا کیا جاتا ہے اور مذہبی راہنما اس کی کماحقہ مذمت نہیں کرتے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک بہت بڑا جرم ہے، تو یہ سوال نا گزیر طور پر سامنے آتا ہے کہ اسلامی اصولوں کو قبائلی روایات کے تابع بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح جب مسلم کمیونٹی عورتوں کو مسجد میں مناسب مقام دینے کے معاملے کو نظر انداز کرتی ہے اور مسجد کا مرد امام ، عورتوں کو اسلامی تعلیم کی مجلسوں کے درمیان مسجد کے مرکزی ہال میں داخل ہونے سے منع کرتا ہے تو بھی اسلام کو پدر سرانہ ثقافت کے تابع بنانے کا سوال لازماً سامنے آتا ہے۔ ...... تاریخی مسلم معاشرہ، خواہ ہم اس میں کتنی ہی غلطیاں تلاش کر لیں ، ایک نمایا ں وصف رکھتا ہے ، یعنی مذہبی تشخص پر پورے اصرار کے ساتھ ساتھ مذہبی ، اعتقادی اور اخلاقی تنوع کے لیے بے مثال رواداری کا وصف۔ مختلف فقہی مکاتب محض علمی حلقے نہیں تھے بلکہ انھوں نے ( اپنے تصورات کی بنیاد پر باقاعدہ ) اخلاقی کمیونٹیاں تشکیل دی تھیں ۔ ہر شخص کو نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ قانونی طور بھی انھی معیارات کے مطابق جانچا جاتا تھا ، جن کو وہ معیار تسلیم کرتا تھا ۔ لوگوں کی اخلاقی خود مختاری کے حوالے سے حساسیت کی یہ شاندار مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی تہذیب کس طرح ایک مثالی ہم آہنگی کے ساتھ مختلف مذہبی، اعتقادی، الہٰیاتی، نسلی اور ثقافتی روایات کو کم و بیش چودہ سو برس تک اپنے اندر سمونے کے قابل رہی ‘‘۔(یہ پورا بصیرت افروز مضمون ’’ الشریعہ‘‘ کے جون 2005 کے شمارے میں دیکھیے )

ہو سکتا ہے بعض احباب اخلاقی معیار کی مذکورہ انفرادی نوعیت پر تبصرہ فرمائیں کہ یہ تو وہی صورتِ حال ہے جس پر ہم نے بش کے axis of evil والے بیان کے ضمن میں تنقید کی تھی اور اب حمایت میں اسی نوعیت کے نکات کا حوالہ دے دیا ہے ۔ ہماری گزارش یہ ہے کہ لوئی ایم صافی نے اخلاقی معیار کوانفرادی نہیں بلکہ در حقیقت ’’انفرادی گروہی معیار‘‘ کے طور پر ڈسکس کیا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے جناب صافی کے اپنے الفاط:

’’ اس ( اسلامی) معاشرے میں اخلاقیت اور انصاف کو ایک مجرد تصور کے طور پر بیان نہیں کیا جاتا تھا ، جس پر علمی حلقوں میں بحث ہوتی رہے ، بلکہ وہ مشترکہ اقدار کا مجموعہ تھا جس کے مطابق ایک زندہ کمیونٹی میں زندگی گزاری جائے اور اسے نشوو نما دی جائے ‘‘۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یورپ کی کثیر مذہبی روایت کی کاشت میں یورپی نومسلم اسی انداز میں اپنا متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں جس کی طرف جناب لوئی ایم صافی نے اشارہ کیا ہے۔ 

حرفِ آخر 

اب تک کی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مغرب میں مذہب پسندی کی موجودہ لہر مغرب کی مذہبی شناخت کی بنیاد بن سکتی ہے۔ امریکہ کی نیم مذہبی اپروچ (کہ مذہب کی انفرادی حیثیت کو اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے) سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے تحفظات ہی جنم لیتے ہیں ۔ اس کے برعکس یورپ کی سیکولر اپروچ ( کہ مذہب کی انفرادی حیثیت کو اجتماعی معاملات میں دخل کا موقع نہ دیا جائے) ایک نئے سیکولر رویے کی آبیاری کا سبب بن سکتی ہے ، ایک تواس لیے کہ موجودہ مذہبی تشدد ، الہٰیاتی تعبیرات کے سبب نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت ’’ سیاسی ‘‘ ہے، اور دوسرا اس لیے کہ عیسائیت کی متشددانہ داخلی تقسیم کے بر عکس اب یورپی معاشرہ کثیر مذہبی معاشرہ ہے۔ لہٰذا یو رپ کی پرانی سیکولر روایت پر نظر ثانی نا گزیر ہو جاتی ہے۔ ہماری رائے میں اس وقت یورپی ثقافت اور اسلامی تعلیمات میں مناقشت کا بنیادی سبب انسانی حقوق کے نام پر عورت و مرد کی مساوات، موت کی سزا، اسلامی حدود اور جہادوغیرہ ہیں۔ جیساکہ ذکر ہو چکا ، یورپ کو امریکہ کے مقابلے میں (خارجہ پالیسی جیسے معاملات میں) اپنی اخلاقی برتری پر بہت ناز ہے۔ اسی طرح وہ موت کی سزا کوبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم گزارش کریں گے کہ یورپ کی ثقافت جن اخلاقی اصولوں پر قائم کی گئی ہے، وہ حقیقت میں سوچے سمجھے فکری اصول کم اور ردِ عمل کا مظہر زیادہ ہیں۔ اگر یورپ جنگ کا مخالف ہے تو اس کے پیچھے جنگوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اپنی جنگی تاریخ کے ردِ عمل میں جہاد کا مخالف ہو کر یورپی ثقافت کے علمبردار یہ بھول گئے کہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوسکتی ۔ انسانی تاریخ میں ابھی تک کوئی ایسی تہذیب نہیں گزری جس نے کبھی جنگ نہ کی ہو ۔ لہٰذا جنگ کی مخالفت میں انتہاپسندانہ رویہ اپنانے کے بجائے واقعیت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ کی اخلاقی تطہیر کی جائے۔ ''The Roots of War and Terror'' کے مصنف ڈاکٹر انتھونی سٹیونزکا نقل کردہ یہ حوالہ بھی دعوتِ فکر دینے کو کافی ہے :

’’ آخر جنگ ایک ہمہ گیر کج روی ہی تو ہے۔ ہم سب اس سے داغ دار ہیں ۔ اگر ہم اس کج روی کا براہِ راست تجربہ نہ کر سکیں تو جنگ کی کہانیاں پڑھنے میں وقت گزارتے ہیں ، جنگ کی پورنو گرافی یا فلمیں دیکھتے ہیں، جنگ کی بلیو فلمیں؛ یا عظیم کارناموں کا تصور کر کے اپنی حسیات کو تسکین دیتے ہیں، یعنی جنگ کی مشت زنی ‘‘ ( جان رے، کسٹرڈ بوائز) 

اگر یورپ جہاد کے اسلامی تصور پر غیر جانبداری سے غور و فکر کرے تو اس کے خدشات ختم ہو سکتے ہیں اور ایک زیادہ پائیدار اخلاقی نظام جنم لے سکتا ہے جس میں جنگ کی گنجایش محدود معنوں میں موجود رہے گی ۔اعلیٰ اخلاقی اقدار کے نام پر یورپی ثقافت میں اسلام کے ادغام کی خاطر تصورِ جہاد کے خاتمے کے لیے جس طرح مختلف گروپس کوشاں ہیں، اس پر ہمیں ڈاکٹر انتھونی کا یہ اقتباس بھی پیش کرنا پڑ رہا ہے : 

’’ جب امن پسند لوگوں نے کبھی کبھار لڑنے سے انکار کیا تو انھیں نہایت اندوہ ناک نتائج کا سامنا کرنا پڑا ۔ بالعموم وہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے،یا تہِ تیغ ہوئے ، یا غلام بنائے گئے یا دور افتادہ خطوں میں دھکیل دیے گئے ۔ مثلاًافریقہ میں Manansas  امن پسند زراعتی تھے جو سخت جان ، مویشی پال اور جنگ پسند Matabele کا نشانہ بنے۔ Matabele جب آئے تو Manansas نے ان کا استقبال امن پسندوں والے کلاسیکی انداز میں کیا ۔ انھوں نے اپنے برچھے زمین پر پھینکتے ہوئے کہا ، ’’ ہم لڑنا نہیں چاہتے ، ہمارے مکانات میں آ جاؤ‘‘۔ Matabele اس غیر معمولی طرزِ عمل پر حیران رہ گئے اور اسے ایک چال سمجھ کرManansas کے بادشاہ کو پکڑا اور اس کا سینہ چیر کر دل باہر نکال لیا۔ بادشاہ کے دل کو اس کے منہ سے لگاتے ہوئے وہ بولے ، ’ تمہارے دو دل ہیں۔‘‘

ثقافتی تغیرات کی حامل موجودہ دنیا میں ’’کچھ لو، کچھ دو ‘‘ کی پالیسی سے ہمیں انکار نہیں ۔ بلاشبہ مسلمان ، معتدل اور روشن خیال ہو سکتا ہے لیکن کوئی ایسا مسلمان، چاہے وہ نو مسلم ہو، بمشکل ہی مل سکے گا جس کے دو دل ہوں۔اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم عرض کریں گے کہ یورپ میں موت کی سزا کا خاتمہ بھی درحقیقت ، کیتھولک چرچ کے انسانیت سوز مظالم کا ردِ عمل ہے۔ ورنہ یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی فرد کسی کو قتل کر دے، یا پھر معاشرے میں فساد کا باعث بنے اور اسے انسانی حقوق کے نام پر، موت کی سزا نہ دی جا سکے۔ یورپی ذہن Manansas قبیلے جیسے اخلاقی معیارات کو معاشرے میں رائج کرنے کا خواہش مند معلوم ہوتا ہے ، حالانکہ ایسے معیار، فرد کی حد تک تو لاگو ہوسکتے ہیں ، لیکن اجتماع کی سطح پر نہیں۔ اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نہ صرف فرد کی سطح پر ایسے معیار تسلیم کیے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے، جیسا کہ عدل کے مقابلے میں احسان کا تصور ہے۔ اگر یورپ نے فرد اور اجتماع میں فرق روا نہ رکھا تو ہمیں احتمال ہے کہ آنے والے وقت میں، وہ معکوس ردِ عمل میں مذہب کے ایسے ایڈیشن کی طرف رجوع کرے گا جس میں انفرادی سطح پر بھی احسان جیسے تصورات کی گنجایش مفقود ہوگی ۔بہر حال ! یہ نو مسلم ہی ہیں جو یورپ کو یہ بات سمجھا سکتے ہیں اور یورپ کی ابھرتی ہوئی کثیر مذہبی روایت میں متوازن اسلامی تصورات شامل کر کے پورے مغرب کو ایک بار پھر مذہبی شناخت سے بہرہ ور کر سکتے ہیں۔

عالم اسلام اور مغرب