قربِ گریزاں کی ایک غزل

پروفیسر میاں انعام الرحمن

چناب کی سر زمین گجرات سے تعلق رکھنے والا منیر الحق کعبی بہل پوری بطور کہنہ مشق شاعر و ادیب اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے ۔ حمدیہ کلام میں تغزل کی آمیزش سے 

گنگ حرفوں کو زباں دی تو نے 
مجھ کو توفیقِ بیاں دی تو نے 

کہنے والا شاعر قومی کینوس پر شاید اس لئے نہیں آسکا کیونکہ اس کا تعلق نہ تو لاہور ، کراچی جیسے بڑے شہروں سے ہے اور نہ ہی اسے ’’ پی آر ‘‘ کے لوازمات کے’’ سلسلوں ‘‘پر قدرت حاصل ہے : 

عذاب ٹھہرا ہر اک سے یہ سلسلہ رکھنا
خدا کے ساتھ بتوں سے معاملہ رکھنا

کعبی کا یہ شعرمومن کے اس شعر کی یاد دلا تا ہے جس کے عوض مرزا غالب اپنا پورا دیوان دینے کو تیار تھے: 

ان کی یادیں ہجوم کرتی ہیں 
وہ مرے پاس جب نہیں ہوتے 

اور دیکھئیے ذرا ،اسی غزل میں کعبی نے کتنی آسانی سے کتنی بڑی بات کہہ دی : 

کربلا کی حدیث کہتی ہے
پارسا منتخب نہیں ہوتے!

’’رگِ خواب ‘‘ اور ’’ قربِ گریزاں ‘‘ ( مطبوعہ) ’’ دشتِ وصال ‘‘ اور ’’حریمِ حمد ‘‘ ( غیر مطبوعہ )کے عنوان سے مجموعہ ہائے کلام کا مصنف ، زندگی کی بے برگ راہوں کا سامنا کرنے کی کس قدر جرات رکھتا ہے ملاحظہ کیجئے: 

مری آنکھو ! ابھی تا دیر جاگو 
شکستِ شب کا منظر دیکھنا ہے

شکستِ شب کا یہی یقین اور شکستِ شب کی دید کی یہی آرزو کعبی کی شاعری کا بنیادی خاصہ ہے ۔ ہمارا شاعر زیست کے رنج و الم اور ہر دم کروٹ لیتے حالات کی بے ثباتی سے ڈگمگانے کے باوجود ، اپنے ہونے کو یعنی اپنی زندگی کو شکستِ شب سے سے مشروط کر تاہے ۔ شکستِ شب کے متجسس آرزومند کے تجسس کا دائرہ ( نا تمام معنوی ابعاد کے جلو میں ) اجالوں کی صباحتوں سے لے کر گلاب کی خوشبوؤں تک پھیلا ہوا ہے : 

خوشبو کی جستجو میں ، کعبی 
شاخِ گلاب کو ہلاؤں 

اس مختصر تعارف کے بعد ، آئیے قربِ گریزاں کی ایک غزل کے چند اشعار کا جائزہ لیتے ہیں۔

اردو شاعری میں جس چیز کو تغزل کہتے ہیں وہ اس کی رمزی اور ایمائی کیفیت ہے ۔ یہ تبھی پیدا ہوتی ہے جب غزل گو الفاط کے صحیح معانی ، ان کے شیڈز اور دلالت ہائے امتزاجی سے پوری واقفیت رکھتا ہو ۔ تقریباَ َ ہر بڑے شاعر کے کلام میں کوئی نہ کوئی ایسی علامت یا استعارہ ضرور ملے گا جو نہ صرف جانِ کلام ہوتا ہے بلکہ شاعر کی نفسی کیفیت کا آئینہ دار بھی ۔ اگر قاری ذوقِ سلیم سے عاری نہ ہو تو فوراَ َ محسوس کرتا ہے کہ شاعر نے تخلیق کے دوران کن کیفیتوں کو مَس کیا ہے اور تخلیق کے پس منظر میں کیا مِس کیا ہے ۔ کعبی کے کلام میں ( بالخصوص زیرِ نظر غزل میں ) گلاب ایسی ہی علامت کے طور پر ابھرا ہے جو نہ صرف مجاز اور حقیقت کے درمیان پل کا کام دیتا ہے بلکہ اس پل کو لپیٹ بھی دیتا ہے ، یوں ایک Paradox ’’ قربِ گریزاں ‘‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ 

ہمارے مشاہدے میں جو چیزبھی آتی ہے ( چاہے مشاہدہ باطنی ہو ) اس کا ایک خاص رخ ہی ہم دیکھ پاتے ہیں مثلاََ حسن کے ضمن میں غمزہ ، عشوہ ، ناز ، ادا وغیر ہ مختلف رخ ہیں ۔ کعبی اس پہلو سے واقفیت کا اظہار تہہ داری سے یوں کرتے ہیں کہ : 

مری صبائے تصور نے لی ہے انگڑائی 
بدستِ ناز ابھی، آنکھ مَل رہے ہیں گلاب

حسن کے تنوع اور رنگا رنگی کو نہایت شدت سے اس طرح پیش کیا ہے :

نہ ایک برگہ ء گُل میں نظر مقید ہے 
مری نظر میں ہزاروں اچھل رہے ہیں گلاب 

حسن مطلق کی جستجو میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب ہمارا شاعر اپنے آپ کو وسعت دیتا ہے اور پھر الہام کے لب کچھ یوں وا ہوتے ہیں : 

اسی مجاز میں پنہاں رہِ حقیقت بھی
ازل سے جلوۂ حسنِ ازل رہے ہیں گلاب

اردو شاعری میں لفظ ’’ جلوہ ‘‘ حسن کی مجموعی حالت اور کلیت کا آئینہ دار ہے ۔ یعنی کائنات میں پھیلا ہوا حسن ، چند لمحوں کے لئے ، وحدت کی صورت میں شاعر کے مشاہدے میں آتا ہے ۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’ رہے ہیں گلاب ‘‘ جمع کا صیغہ ہے اور اس کے ساتھ لفظ ’’ جلوہ ‘‘ حسن کی وحدت کی علامت۔ یوں کثرت ، وحدت بن جاتی ہے ۔ مجاز اور حقیقت ایک ہو جاتے ہیں ۔ ہماری دانست میں ’’ جلوہ ء حسنِ ازل ‘‘ کی ترکیب کچھ یہی بیان کرتی ہے ۔ غالب نے اپنے مخصوص انداز میں اسی سے ملتا جلتا مضمون یوں باندھا ہے : 

یاں نفس کرتا تھا روشن شمعِ بزمِ بے خودی 
جلوۂ گُل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا

غالب ، شاید الہام کے مدارج کا قائل ہے جبکہ کعبی کے ہاں قطعیت جھلکتی ہے ۔ 

اس غزل کے حوالے سے ایک بات کھٹکتی ہے کہ غزل کی ردیف میں ’’ گلاب ‘‘ ہو اور پھر اشعار کی تعداد بھی چودہ (۱۴ ) ہو ، لیکن بلبل کا ذکر تک نہ ہو۔کیوں ، ہے ناعجیب بات ؟ ہماری رائے میں اس کی ایک وجہ جناب کعبی کا ’’مزاج ‘‘بھی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے محبوب کو ( حقیقی ہو یا مجازی ) گلاب کے روپ میں پیش کیا ہے لیکن محب کو بلبل کے استعارے میں چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ خاصے بے باک ہیں ۔ 

اس کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ بلبل کا استعارہ عشقِ ناتمام کو ظاہر کرتا ہے جس میں قرب و وصل کا کوئی امکان نہیں، اس لئے کعبی نے جان بوجھ کر احتراز برتا ہے ۔ 

اس کا تیسرا سبب جو کافی معقول دکھائی دیتا ہے ، فارسی روایت سے انحراف کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔ اردو شاعری میں بلبل کا استعارہ ، اصلاََ فارسی غزل سے مستعار لیا گیا ہے کیونکہ بلبل ہمارے علاقے میں موجود نہیں ۔ مغلوں کے عہد میں فارسی زبان کے ساتھ بلبل خود تو نہیں ، البتہ بطور استعارہ آ موجود ہوا ۔ اپنے ماخذ کے اعتبار سے اردو غزل اگرچہ فارسی کی مرہونِ منت ہے لیکن اب چونکہ اردو زبان آہستہ آہستہ باوعتماد ہوتی جا رہی ہے اس لئے اس کا اپنا الگ علامتی نظام بھی تشکیل پا رہا ہے ۔ بلبل کا اس مجموعے ( قربِ گریزاں ) میں اور با لخصوص اس غزل میں نہ ہونا مذکورہ نئے تشکیل پاتے علامتی نظام کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے پیچھے زبان کا فطری ارتقاء کار فرما ہے اور یہ ارتقاء بقول ٹی ایس ایلیٹ ، مقامیت سے شدید متاثر ہوتا ہے ۔ہماری رائے میں کعبی کے کلام میں ارتقاء اور مقامیت کا آہستہ آہستہ در آنا واضح طور پر موجود ہے۔ شنید ہے ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’ رگِ خواب ‘‘ فارسیت کا حامل تھا ، ہو سکتا ہے اس میں بلبل کا ذکر موجود ہو ، لیکن کم از کم ’’قربِ گریزاں ‘‘ جہاں فارسی سے انحراف کی طرف پیش قدمی ہے وہاں مقامیت کا آغازبھی ہے ، بقول داغ :

کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا 

زیرِ نظر غزل کی ردیف ’’ رہے ہیں گلاب ‘‘ تین الفاظ پر مشتمل ہے ، اس کے طول سے غنائیت پیدا ہوئی ہے ۔ ثقہ ناقدین کے مطابق لمبی ردیف کی غزل ’’ سامعین ‘‘ کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے ۔ لیکن اس فردوسِ گوش خاصیت میں ایک خامی کا احتمال رہتا ہے کہ کہیں موسیقیت کے بوجھ تلے ، تخیل و خیال آفرینی دب نہ جائے ۔ لہذا فن پارے کی قدرو قیمت کا اندازہ بھی اسی بات سے ہوتا ہے کہ کیا بھر پور نغمگی کے ہمراہ تخیل کی رم جھم بھی موجود ہے کہ نہیں ؟ ہماری دانست میں کعبی کی اس غزل کی ردیف جہاں موسیقیت کے باعث قاری کو بہانے کی کوشش کرتی ہے وہاں تخیل کی زور آوری ٹھہراؤ کا باعث بھی بنتی ہے اور قاری خود کو ہر شعر ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے پر مجبور پاتا ہے ۔ یوں ذہن میں ، شاعر کے دورانِ تخلیق موڈ کے مطابق ایک تصویر سی بنتی چلی جاتی ہے۔ یہی شاعری ہے۔ 

ادبیات