تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’فخر زمان: کل اور آج‘‘

جامعہ گجرات کے شعبہ تصنیف و تالیف نے انتہائی کم مدت میں جامعہ کو وطنِ عزیز کی نامور جامعات کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ شیخ عبدالرشید کے قلم سے نکلا ہوا ’جامعہ نامہ‘ ایک طرف اس درس گاہ کی متنوع سرگرمیوں کا عکاس تھا تو دوسری طرف ملک کے علمی و فکری حلقے میں جامعہ گجرات کے مثبت تعارف کا اشاریہ تھا۔ اہلِ علم اس’جامعہ نامہ‘ میں مستقبل کے عزایم کی جھلک دیکھ رہے تھے۔ انہی عزایم کی ایک عملی صورت اس وقت ہمارے پیشِ نظر ہے ۔ شیخ عبدالرشید اور طارق گوجر کی محنتِ شاقہ ’فخر زمان: کل او ر آج‘ کے عنوان سے جامعہ گجرات نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔ یہ ایک بڑی تقطیع کی مدون کتاب ہے جس کا سرورق امرتا پریتم کے شوہر امروز نے کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ اس کی کتاب دوستی اور امرتا پریتم سے محبت ، گلے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔

کتاب کے آغاز میں شیخ عبدالرشید کے زور آور قلم سے ’عکسِ فخر‘ کے تحت فخر زمان کی زندگی کا خاکہ شامل ہے۔ اس خاکے میں ’فن اور شخصیت‘ کی روایتی بحث کو شیخ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں لیتے ہوئے شخصیت کی اہمیت اس طرح واضح کی ہے: 

’’سینت بیو کا تنقیدی اصول ہی یہ ہے کہ ہم کسی شخص کو جان لینے کے بعد ہی اس کی تحریروں اور فن و خدمات کا حقیقی ادراک کر سکتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ: ''When we know the tree, we know the fruit''  (عکسِ فخر، ص۱۸)

اس کے بعد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے ادبی لطافت اور فلسفیانہ گہرائی کے خوبصورت امتزاج سے اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے واقعاتی یا شخصی استدلال کے باوجود اصولیین کے سے انداز میں نتایجِ فکر بھی اخذ کیے ہیں ، ملاحظہ کیجیے:

’’ ہر زندہ عہد میں کوئی تفہیم اور وضاحت بہت حد تک اختلافی ہوتی ہے اور جو شخصیات اس اختلاف کی ترجمان بنتی ہیں وہ مزاحمت کی علم بردار ہونے کی بنا پر اپنے زمانے کے جبر کا شکار بھی ہوتی ہیں ۔ ’’چیلنج اور ریسپانس‘‘ کا یہی عمل انہیں منفرد اور سچا انسان بناتا ہے۔ ہمارا عہد پیغمبروں کا عہد نہیں ہے، اس لیے آج ہر سوچنے سمجھنے والے کو اپنی سچائیاں خود تلاش کرنی پڑتی ہیں۔ یہ سچائیاں اس واردات کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں جو کسی کھرے شخص کو راہِ حق میں پیش آئیں اور وہ ان سے نبرد آزما ہو‘‘۔ (ایک عہد کا ستعارہ، ص۲۹)
’’ فکر و آگہی کے اس دھول دھول سفر میں کتاب اور کہانی کے انقلابی سر کہیں گم ہو گئے ہیں۔ اب تو یہاں آمروں اور ڈکٹیٹروں کی پروردہ سیاسی پنیری ہے یا خال خال وہ انقلابی رہ گئے ہیں جو اس گلے سڑے بکھرتے نظام کے اندر سے خزانے ڈھونڈ لانا چاہتے ہیں۔ کیا خبر سرکاری ایوانوں اور سیاسی ایوانوں کے آرام دہ ماحول میں بیٹھے فخر زمان کی قبیل کے انقلابیوں کے ہاتھ بھی دوچار موتی آ جائیں۔ یہ موتی مل بھی گئے تو کون جانے کہ وہ لیلائے وطن کے ہاتھ میں سجیں گے یا زرداروں کی تجوری میں چلے جائیں گے‘‘۔ (ایک عہد کا ستعارہ، ص۳۰)

تاریخی اساطیری علامت کا ادبی مقام کیا ہے؟ اس کا جواب اسی مضمون میں ڈاکٹر محمد نظام الدین جھنجھوڑنے والے اسلوب میں دیتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جامد مسلم سماج کے تعفن زدہ شعور میں کنکر نہیں مارے جا رہے بلکہ پورے کا پورا کوہ ہمالیہ ہی اس کے اندر الٹا دیا گیا ہے ، لیجیے خود ہی فیصلہ کیجیے کہ کیا ہم بیان میں مبالغہ سے کام لے رہے ہیں؟ : 

’’ اپنی تاریخ کے پس منظر میں دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ فخر زمان سمیت ہم سب لوگ سبیلیں لگائے جام آب ہاتھ میں لیے خلا میں گھور رہے ہیں کہ کہیں سے امام حسین ؑ آنکلیں اور ہم انہیں پانی پیش کریں۔ اس بھولپن میں ہم یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ امام حسین ؑ تو یزیدیت کے ساتھ اپنے یدھ کے اس مرحلے پر ہیں جہاں پانی کا پورا دریائے فرات کسی کام کا نہیں رہا۔ آج حق اور استحصال کی جنگ میں سماج اپنی تشنگی سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ اب تو لاشیں کندھوں پر اٹھانے کا وقت ہے بصورتِ دیگر ہمیں چلّو بھر پانی بھی کافی ہے‘‘ (ایک عہد کا ستعارہ، ص۳۰)

سنجیدہ اور گہرے ادبی اظہار کو عوام کی غالب اکثریت کی سطح تک لے جانا ، ابلاغ کے پہلو سے ہمیشہ ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد نظام الدین ہمیں بتاتے ہیں کہ جناب فخر زمان کی تخلیقات صرف اظہار نہیں ہیں بلکہ ان میں ابلاغ کے تقاضے بخوبی نبھائے گئے ہیں:

’’ہمارے عہد کی ایک مشکل یہ ہے کہ آج کا ادب جن لوگوں کی راہِ عمل کا تعین کرتا ہے وہ اس تک رسائی اور پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور ہم جیسے لوگ جنہیں پڑھنے پڑھانے کا شوق بھی ہے اور دعوٰی بھی، جنہوں نے فخر زمان کی تخلیقات کا مطالعہ کیا ہے اس کی نثر و نظم کو اس کے عہد کی روشنی میں دیکھا ہے، اس کے ناولوں ڈراموں شاعری سیاست عہدوں مراتب اور اطوارِ حیات کو بغور دیکھا ہے، ہمارا خیال ہے کہ فخر زمان اپنے لفظوں اور جذبوں کو اس ان پڑھ لوکائی تک لے جانے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے، اس کے لیے جتن بھی کرتا ہے اور اس کی سرحدیں بھی پھلانگتا ہے۔ وہ ایسا سرگرم پنجابی ہے جو دوسرے صوبوں کے حقوق، ان کی زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے‘‘۔ (ایک عہد کا استعارہ، ص۳۱)

ہم ڈاکٹر صاحب سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ ادبِ عالیہ کی حد تک، اظہار و ابلاغ کی بحث کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ادبِ عالیہ کے چمن کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ادیب خوشا چیں ہوتے ہیں او ر مختلف عہدوں پر فائز ہو کر ابلاغ در ابلاغ کے فرائض سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ بہرحال! ہم نہایت مسرت و انبساط کے ساتھ ڈاکٹر محمد نظام الدین کے مضمون میں سے ایک اور اقتباس پیش کرنا چاہیں گے جس سے قارئین کو اندازہ ہوگا کہ ان کے ہاں حرکت اور حرکت کے رخ کے کیا معنی ہیں: 

’’ کہا جاتا ہے کہ اس دھرتی پر زندگی بہت سست رو ہے اتنی کہ جمود کا گمان ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ آج موہنجوداڑو کی تہذیب کی طرز کے برتن استعمال کرتے ہیں، صدیوں پرانی طرز کا لباس پہننا پسند کرتے ہیں، عظمتِ رفتہ کے گیت گا گا کر تاریخی نرگسیت کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں، یہاں کی سوچ اورفکر کا دھارا آگے کے بجائے پیچھے کی طرف بہتا ہے۔ ذرا سوچیے تو سہی یہاں کے ادب میں ڈیڑھ سو سال پرانا شاعر غالب ؔ آج بھی انقلابی نظر آتا ہے‘‘۔ (ایک عہد کا استعارہ، ص۳۱) 

سید شبیر حسین شاہ کا مضمون ’ایک سیاسی دانش ور‘ منفرد مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہی چند سوالات پیدا کرتا ہے کہ کیا کوئی سیاسی دانش ور، بڑے پائے کا ادیب ہو سکتا ہے؟ یا کوئی بڑا ادیب ، عظیم سیاسی دانش ور بھی ہو سکتا ہے؟۔ اگر اس کا جواب اثبات میں دیا جائے تو مثالیں دینے کے لیے یہ رسک لیتے ہوئے ساری انسانی تاریخ کھنگالنی پڑے گی کہ شاید آخر میں ہاتھ کچھ نہ آئے۔ خیر! یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ اگرچہ عنوان ’’ایک سیاسی دانش ور‘‘ فخر زمان کے حوالے سے ہے ، لیکن شبیر شاہ صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے دل کی باتیں اہلِ علم کے سامنے رکھی ہیں۔ یوں سمجھیے کہ روایتی ساس کی طرح بیٹی کو کہہ کر بہو کو سنا رہے ہیں یا جگ بیتی کے روپ میں آپ بیتی بیان کر رہے ہیں ۔ لیجیے ملاحظہ کیجیے منطقی استدلالی نقطہ نظر سے اپنے سماج کے ماضی و حال کا کچا چٹھا ، اور مستقبل کا منظر نامہ: 

’’ ہر کوئی اپنی مرضی کا انقلاب چاہتا ہے مگر یہ عجیب بات نہیں ہے کہ آپ انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں پنجابی رھتل میں اور طریقے برطانوی سیاست کے اور فلسفہ روسی استعمال کرتے ہیں۔ اگر پشکن، ٹالسٹائی، گورکی اور دوستو فسکی وغیرہ ایک انقلابی آہنگ پیدا کرتے ہیں جس میں سے لینن، ٹراٹسکی اور سٹالن مارکسی انقلاب برپا کر لیتے ہیں تو یہ کیوں ممکن نہیں ہوا کہ بابا بلھے شاہ، شاہ حسین اور سلطان باہو ایک انقلابی آہنگ پیدا کرتے اور کوئی انقلابی قاید انقلاب برپا کر لیتا۔ دراصل ہمارے سماج کی introvert psychy  ان شاعروں کے درد کو، گھونٹ گھونٹ پی گئی ہے اور نعرہ انقلاب برپا نہیں کر سکی‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۲)
’’ زبان، قومی شناخت، کلچر، ادب، شاعری اور موسیقی کو Property Concept میں رکھ کر زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ تاریخ کے بے رحم فیصلے ہمیشہ طاقت ور عناصر کے حق میں ہوئے ہیں۔ گلوبل مارکیٹ کا پھیلتا ہوا طاغوت گاہک کی زبان اور اس زبان کے افسانہ نگاروں اور شاعروں سے کہیں خوف زدہ نہیں ہے۔ اس کی قوت Hi Tech Computer اور اعلیٰ سائنسز پر اس کی اجارہ داری ہے، اس کے عیسائی ہونے یا انگریزی بولنے میں نہیں ہے۔ لہذا اعلیٰ سائنسز کی Definations کو اپنے لہجے کی طاقت سے اپنے حق میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لہجہ پتہ نہیں ماجھی ہو کہ پوٹھوہاری ہو۔ جرمن ہو یا سنہالی ہو، انقلاب کی بھی اپنی کوئی کلچرل شناخت نہیں ہوتی نہ بنائی جا سکتی ہے‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۳)
’’ سماج اور وقت اتنی تیزی سے تبدیل ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں کہ پچھلے زمانوں کا کوئی بھی کتابی علم آج کے دور میں کوئی انقلاب پیدا کرنے کی خود کفیل صلاحیت نہیں رکھتا۔ خود مارکسزم کی بیسویں صدی کی Inspiration کم از کم تاریخی حرکت کے ایجنڈے سے Isolate ہو گئی ہے اور بہت گہرے اور پیچیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۵)
’’مقامی انقلاب اب ممکن نہیں رہا ہے لہذا زبان چاہے وہ پنجابی اور سندھی ہے یا ملاوی اور سنہالی ہے صرف مقامی انقلاب کی ہی مدد گار ہو سکتی تھیں۔ فخر زمان کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ .... فخر زمان کا خیال ہے کہ یہ مائع سی شے جسے وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم کہتے ہیں اگر پنجابی زبان میں ڈھالی جائے تو ڈھل جائے گی۔ یہ تصور ایسے ہی کہ ایک جدید ترقی یافتہ کمپیوٹر (جو کہ ایک ٹیکنالوجی ہے) اس میں پنجابی زبان کا سافٹ وئیر ڈال دیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا اور ہمارا دیس پنجاب سائنسی علوم کی آماج گاہ بن جائے گا۔ سائنسی علوم کوئی پرچیزایبل آئٹم تھوڑی ہے جو کسی بھی زبان اور کسی بھی قوم کی ملکیت بنا دی جائے یہ تو معروض کے ساتھ بہت گہرے Interaction کے نتیجے میں حاصل ہونے والی علمی صلاحیت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا علم ہے یہ اسی کا ہوتا ہے جو اسے جنم دیتا ہے‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۵) 
’’ اگر پنجابی بولنے والا سماج جدید دنیا کو Compete کرنے والے سائنس دان پیدا کرے تو وہ نئے بلھے شاہ اور نئے شاہ حسین پیدا کرنے سے بڑی بات ہو گی، کم از کم اس گلوبل عہد میں تو ضرور ہو گی۔ اسی لیے عالمی انقلاب برپا کرنے کے لیے ہمیں دانش مند انقلابیوں اور عالمی سطح کے سائنس دانوں کی ضرورت ہے جو ایک سماجی جدوجہد اور معروض کے ساتھ Interaction کے ذریعے ہی پیدا ہوں گے‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۵، ۳۶)
’’وہ اپنی پہچان میں ایک انقلابی ادیب ہے مگر دو حصوں میں منقسم ہے، پنجابی دوستی میں وہ پیچھے کی طرف سفر کرتا ہے اور سامراجیت کو منہدم کرنے کے لیے آگے کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ ’کعبہ میرے آگے، کلیسا میرے پیچھے‘ والی بات ہے۔ برِ صغیر پاک و ہند کی لوکائی کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی نفسیات میں اندرون بین ہے۔ یہ سماج باہر سے جتنے بھی زخم کھاتا، ظلم سہتا ہے انہیں لے کر اندر کی طرف بھاگتا ہے۔ کبھی کبھی تاریخ میں چیختا ہوا باہر بھی نکلتا ہے مگر بے سمت اندھا دھند دوڑ پڑتا ہے اور پھر کسی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ہندوستان میں پھوٹنے والے سارے نام نہاد انقلابیوں کا یہی حشر ہوا ہے۔ یہاں تو اسلام کو بھی ہندوانہ لباس پہننا پڑا ہے۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ یہ محبت اور رواداری کا صوفیانہ پیغام بڑا حسین اور مدھ بھرا ہے مگر یہ انقلابی ہرگز نہیں ہے۔ اس کی اوقات میں یزیدیت کو گریبان سے پکڑنا ہے ہی نہیں۔ فخر زمان صوفی بھی ہے اور انقلابی بھی۔ وہ چیختا ہے تو انقلاب کی تلاش میں بھاگتا ہے، کبھی ماسکو کبھی بیجنگ کبھی چے گویرا اور کبھی ہیوگوشاویز کی طرف، مگر اسلام آباد کی آمریتوں کی جکڑ بندیوں کا قیدی یہ ادیب واپس صوفی ازم میں پلٹ آتا ہے، شاہ حسین اور بلھے شاہ کی مدھر کافیاں، وارث شاہ کی نشیلی شاعری اس کے لیے پناہ گاہ کا کام دیتی ہے‘‘۔ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۶) 
’’ کارل مارکس نے جس جمود کا ذکر کیا تھا وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی اس دھرتی پر موجود ہے۔ میری فخر زمان جیسے سوچنے والے ذہنوں سے اپیل ہے کہ آئیں ہم اپنی اگلی تاریخ کا ایک لائحہ عمل تشکیل دیں جو گلوبل سامراجیت کے اس عہد میں ہمیں وہ اہلیت اور صلاحیت فراہم کرے جس سے ہم ایک مقابلہ کرنے والی معاشرت بن سکیں وگرنہ درماندگی اور بے کسی تو نصیب میں ہے ہی۔‘‘ (ایک سیاسی دانش ور، ص۳۶)

ہم تبصرہ کرتے ہوئے فقط اتنا عرض کریں گے کہ فخر زمان صاحب کو سید شبیر حسین کی فلسفیانہ نصایح پر کان ضرور دھرنا چاہیے۔ زیر نظر کتاب میں برِ عظیم کی معروف ادیب و شاعرہ امرتا پریتم نے فراق گورکھ پوری کے حوالے سے ادیب و شاعر کی حساسیت کو بے نقاب کیا ہے۔ اگرچہ بادی النظر میں مذہب پر طنز محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں مذہب سے زیادہ مذہبی لوگوں کے عدمِ احساس پر شدید چوٹ کی گئی ہے: 

’’ادبی تاریخ میں جنت اورجہنم کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب دنیا والوں نے دیکھا کہ یہ شاعر ادیب ہیں یہ پتہ نہیں عوام کا دکھ ایسے دلوں میں کیوں بسا لیتے ہیں کہ پھر ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں عوام کے دکھ سے کوئی سروکار نہیں ہوگاانہوں نے زندگی کو دو نام دیے، ایک جنت جو ان کی اپنی زندگی کے لیے اور ایک دوزخ جو شاعروں اور ادیبوں کے لیے تھی۔ پھر ایک دفعہ جنت میں ایسی ٹھنڈی ہوا چلی کہ لوگ سردی سے کانپنے لگے، انہوں نے سوچا کہ جہنم میں بہت آگ جلتی بجھتی ہے اس لیے تھوڑی آگ جہنم سے مانگ لی جائے لیکن جب انہوں نے اہلِ جہنم سے آگ کی فرمایش کی تو جہنم سے جواب آیا کہ ادھر فالتو آگ نہیں ہوتی، ادھر جو لوگ آتے ہیں وہ اپنی آگ ساتھ لے کر آتے ہیں، تو ایسی ہی آگ شاعروں اور ادیبوں کے سینوں میں جلتی ہے اور یہ آگ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا اور اس آگ کو حاصل کرنے کے لیے شاعر یا ادیب ہونا ضروری ہے‘‘ (جہنم کی آگ، ص۳۸)

حمید اختر صاحب نے اپنے مضمون میں حیرت کا اظہار کیا ہے کہ فخر زمان صاحب، بیک وقت مختلف النوع ذمہ داریوں سے کیسے نمٹتے ہیں: 

’’میرے لیے یہ امر واقعی حیرت کا باعث ہے کہ کوئی بھی لکھنے والا اتنے وسیع پیمانے پر عملی کام کیسے کر سکتا ہے جیسا کہ فخر زماں تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ وہ محض قلم کی طاقت پر ہی بھروسہ نہیں کرتا بلکہ ملک کی سیاسی زندگی میں بھی عملی طور پر برابر شریک رہا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے سربراہ کی حیثیت میں اس نے حیرت انگیز تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ میرے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ کوئی لکھنے والا عملی سیاست میں آیا یا روزانہ صحافت سے منسلک ہوا تو اس کے لکھنے کی رفتار مدھم پڑ گئی، احمد ندیم قاسمی کی مثال میرے سامنے ہے، وہ بہت زیادہ لکھنے والے تھے لیکن امروز کی ادارت کے زمانے میں اور بعد ازاں روزانہ کالم لکھنے کی وجہ سے ان کے لکھنے کی رفتار میں نمایاں کمی آ گئی، فیض صاحب نقش فریادی کی اشاعت کے بعد فوج میں چلے گئے وہاں سے فارغ ہوئے تو پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر ہو گئے، چھ سات برس کے اس عرصے میں ان کی دو یا تین نظمیں سامنے آئیں، اس کے بعد کا جو کلام ہے وہ ان کے چار سالہ جیل کے زمانے کی دین ہے۔ مگر فخر زماں ایسا لکھنے والا ہے جو غیر ادبی اور سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں پوری طرح سرگرم رہنے کے زمانے میں بھی اپنے اصل کام یعنی ادب تخلیق کرنے کے عمل سے کبھی غافل نہیں ہوا‘‘ (عزم و استقلال کا کوہِ گراں، ص۴۰)

حمید اختر صاحب یہ کہنے سے یا تو کچھ جھجھک رہے ہیں کہ معیار سے قطع نظر ، مقدار و مواد کی حد تک فخر زمان اپنے تخلیقی عمل سے کبھی غافل نہیں ہوئے، یا احمد ندیم قاسمی اور فیض احمد فیض کی مثالیں دے کر قارئین کو اتنا عقل مند خیال کر رہے ہیں کہ ان کے لیے اشارہ ہی کافی ہے ، اس لیے خوامخواہ فخر زمان کی براہ راست مخالفت مول لینے کا کیا فایدہ؟ البتہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اشارے کنائے کے بجائے کھل کر نشاندہی کی ہے کہ فخر زمان علمی و عملی لحاظ سے قبائلی طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔ انسانی تہذیب کے مختلف مدارج طے کرتے وقت قبائلی سطح کو کس درجے میں رکھا جاتا ہے، اہلِ علم سے یہ امر پوشیدہ نہیں۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے درست کہا ہے کہ تہذیب کی اس سطح پر ’اگرمگر‘ کی گنجایش نہیں ہوتی، فقط ہدف پیشِ نظر ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں وہ ہدف ، عہدے پلاٹ یا زمینوں وغیرہ کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جسے ڈاکٹر صاحب نے ’نتیجہ‘ کا خوبصورت عنوان دیا ہے: 

’’فخر زماں A man in hurry کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ یہ شخص اسباب و علل کی جمع تفریق سے بہت پہلے نتیجہ متعین کرنے والے الٹے دماغ کے آدمی ہیں اور وہ نتیجہ بھی بہت بڑامانگتے ہیں۔ عوامی فلاح سے انکار پر مشتمل سرکاری قوانین کے ہر پیچ و خم کو ملیا میٹ کرتا ہوا فخر زماں بہر صورت اپنے مقررہ نیک ہدف تک پہنچنے کو روانہ ہوتا ہے۔ وہ کوئی ’اگر، مگر‘ کی صدائیں نہیں سنتا اس لیے کہ دل و دماغ، کان، ناک، آنکھ، زبان سب کے سب ہدف تک رسائی کے لیے وقف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کا یہ قبائلی انداز پسند ہے۔ جب جدید سرمایہ داری طریقے رائج نہیں ہوتے تو کم ازکم ہمارا اپنا دیہی طریقہ ہی چلایا جائے۔ جب کوئی منظم ساتھی نہ ہوں تو فخر زماں حق بجانب ہیں کہ وہ جلد از جلد وہ سب کچھ کر گزریں جو ایک بن سپاہ کا جرنیل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔‘‘ (یک نفری فوج کا سپہ سالار، ص۴۸)

ڈاکٹرسلیم اختر نے ڈاکٹر شاہ محمد مری کے بیان کردہ قبائلی نکتے کے پرخچے اڑا دیے ہیں ۔ قبائلی سائیکی Assertion کی حامل ہوتی ہے جبکہ ڈاکٹر سلیم اختر کے مطابق فخر زمان مفاہمت کا حامی ہے ، اس لیے پنجابی زبان کے فوبیا میں مبتلا ہونے کے باوجود دوسری زبانوں کے وجود کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ ناگزیر خیال کرتا ہے: 

’’وہ جس طرح سیاست میں آمریت کے خلاف ہے اسی طرح زبانوں میں بھی کسی ایک زبان کی تخت نشینی اور آمریت کے خلاف ہے۔ اس کے مفاہمتی رویہ کو لسانی جمہوریت قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ (گرم دمِ جستجو، ص۴۹)

افضال شاہد صاحب نے فخر زمان کی جارحیت اور پیش قدمی کو سراہا ہے۔ ان کے خیال میں فخر زمان کی ڈکشنری میں پسپائی کا لفظ ہی نہیں ہے۔ وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ فخر زمان محبت اور جنگ میں ’سب جائز‘ کے قائل ہیں۔ یعنی وہی مذکورہ قبائلی انداز کہ فقط ہدف پر نظر رکھی جائے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے طور طریقے کیا کسی ادیب اور سیاست دان کے شایانِ شان ہیں؟۔ کیا میکاولی کا مقولہ End Justifies the means کسی مہذب قوم کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ہاں البتہ ، قبائلی سائیکی Assertion سے مطابقت پزیر ضرور ہو سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ افضال شاہد نے کتنے دل فریب اسلوب میں عدم اخلاقیات کی ترجمانی کی ہے اور سہرا بے چارے فخر زمان کے سر باندھ دیا ہے:

’’غالباََ یہ نپولین بونا پارٹ سے منسوب ہے۔ کسی ایک مشکل محاذ پر اس نے اپنے ایک معتمد سالار کو بھیجا۔ معرکہ بڑاجان جوکھوں کا تھا۔ اس دور میں ہر میدان میں فوج کے ساتھ ایک بگل بجانے والا ہوتا تھا جو سالار کے کہنے پر حملہ(ATTACK) اور کسی ضروری مرحلے پر فوجی حکمتِ عملی کے تحت پسپا ہونا (RETREAT) بجایا کرتا تھا تا کہ فوج کا کم سے کم جانی نقصان ہو۔ اس معرکے میں بھی ایک وقت ایسا آیا جب سالار نے محسوس کیا کہ فوج بری طرح گھیرے میں آ چکی ہے اب وقتی طور پر پسپائی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس نے بگلییر سے کہا کہ فوراََ RETREAT بجاؤ۔ اس نے ATTACKبجا دیا۔ میدانِ جنگ میں معجزے تو ہوتے ہی ہیں۔ فوج اتنی دلیری سے دوبارہ حملہ آور ہوئی کہ دشمن کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ میدانِ کارزار چھوڑ کر بھاگ گیا۔ معرکہ فتح ہو گیا مگر بگل بجانے والے نے چونکہ سالار کی حکم عدولی کی تھی اس لیے فوجی قانون کے مطابق اسے موت کی سزا سنا دی گئی۔ عین اس وقت جب اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا، نپولین اپنے سالار کو مبارک باد دینے آن پہنچا۔ اس نے جب یہ منظر دیکھا تو حیران ہوا۔ پوچھا کہ کس کو موت کے گھاٹ اتار جا رہا ہے۔ سارا ماجرا سنایا گیا۔ نپولین نے کہا اس کی آنکھوں سے پٹی ہٹاؤ، ہٹائی گئی، نپولین اسے دیکھ کر مسکرایا اور کہنے لگا اسے چھوڑ دو، یہ بے قصور ہے۔ یہ میرا بگلیئر رہا ہے میں نے اسے RETREAT بجانا سکھایا ہی نہیں۔ فخر زماں بھی ایسا ہی سپہ سالار ہے جسے نہ تو خود یہ دھن بجانا آتی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی سپاہی کو RETREAT بجانا سکھایا ہے۔‘‘ (RETREAT بجانا نہیں سکھایا، ص۶۴، ۶۵)

زیرِ نظر تالیف میں ڈاکٹر مزمل حسین نے شبیر احمد صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کے نقد (ص۳۶)پر نقد کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں: 

’’ فاضل نقاد نے فخر زمان ایسے انقلابی اور مزاحمتی تخلیق کار کے باطن میں جھانکا نہیں۔ اگر تاریخِ عالم پر نگاہ ڈالیں تو دنیا کے عظیم مزاحمت کار اور انقلابی اندر سے بہت دور تک گداز، رحم دل اور جمالیاتی رویوں سے لبریز ہوتے ہیں۔ یزیدیت کا گریبان پکڑنے والے انقلابی نہیں عساکر ہوا کرتے ہیں اور ان کا حربہ لفظوں کے بجائے آتشیں اسلحہ ہوتا ہے اور اکثر ایسے انقلاب کے نتیجے میں تشدد جنم لیتا ہے اور یہ عارضی اور ہنگامی نتایج پر منتج ہوتا ہے ، جبکہ ادب آرٹ اور شاعری ایسے انقلاب اور مزاحمت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے جو تہذیب، احترامِ انسانیت، کائناتی محبت، رواداری، جمہوریت اور انسان دوستی کو جنم دیتی ہے۔ فخر زمان ، شاہ حسین اور بلھے شاہ کی مدھر کافیاں، وارث شاہ کی نشیلی شاعری اور رانجھے کی ونجھلی کی تان میں انقلاب کے گیت الاپتا ہے۔ سماجی اور سیاسی شعور رکھنے والا یہ آرٹسٹ ایسے انقلاب کا متقاضی ہے جو ذلتوں کے مارے لوگوں کو انسانیت کی اعلیٰ ترین منزل تک پہنچا دے گا۔‘‘ (فخر زمان کا تصورِ فن، ص۶۸)

اس نقد کا جواب شبیر صاحب کے ذمے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں نکتہ ہائے نظر میں جوہر کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ، البتہ تعبیر کا فرق ضرور ہے۔ اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ مباحثہ جوہری مماثلت اور تعبیری فرق کی خاطر خواہ صراحت کر سکتا ہے۔ اگر یونی ورسٹی آف گجرات اس آزادانہ مباحثے کا اہتمام کرے تو ادب اور ملک و قوم کی خدمت ہو گی۔ بہرحال! ڈاکٹر مزمل صاحب نے اپنی فکر کے مخصوص رخ کا قدرے تفصیلی اظہار کیا ہے: 

’’ تصوف یا صوفیانہ طرزِ احساس مشرقی ادبیات اور شعریات میں ایک توانا روایت کی شکل میں موجود ہے۔ تصوف کسی فلسفہ یا ڈسپلن کا نام نہیں بلکہ یہ ایک رویے کا نام ہے۔ یہ ہمیشہ مثبت سوچ، اعلیٰ تخیل اور پوتّر ذہن رکھنے والے کے یہاں اپنا ٹھکانہ بناتا ہے۔ تنہائی، اکلاپا، وچھوڑا، ہجر اور جدائی، انسانی دلوں کی اداس کہانیاں ہیں، کسی نہ کسی سطح پر یہ ہر انسان کا مقدر ہوتی ہیں۔ بڑا ذہن ان کہانیوں سے بڑی تخلیق کو سامنے لاتا ہے اور زمانے میں بڑے واقعات پیدا کرنے کے لیے کسی مثبت Inspiration کا سبب بنتا ہے، یقیناََ اس کے فکری تناظر میں اس کا صوفیانہ طرزِ احساس کبھی مبہم اور کبھی واضح شکل میں ہی موجود رہتا ہے۔‘‘ (فخر زمان کا تصورِ فن، ص۶۹)

ڈاکٹر صاحب کے خیالات سے اختلاف کرنا کافی مشکل ہے ، لیکن اس حوالے سے ان سے اتفاق کرنا بھی اتنا ہی مشکل ہے کہ ان کے گراں قدر نقد کا سزاوار ، فخر زمان کا تصورِ فن نہیں ہو سکتا۔ اگر ڈاکٹر صاحب اپنی تخلیقی فکر کا مصداق فخر زمان کو قرار دینے پر مصر ہیں اور تالاب کو سمندر ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ہم ادباً خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ 

زیرِ نظر کتاب کے ایک مدون شیخ عبدالرشید نے فخر زمان کے ’سرکاری پن‘ پر بڑی دلچسپ چوٹ کی ہے: 

’’ انہوں نے اردو میں زیادہ تر شعر تب کہے جب وہ فیملی پلاننگ کے افسر تھے، اردو میں فخر کے صرف دو شعری مجموعے فیملی پلاننگ کے نعرے’بچے دو ہی اچھے‘ کا عملی ثبوت ہیں۔‘‘ (فخر زمان کی اردو شاعری کا مختصر جائزہ، ص۱۱۷) 

ڈاکٹر مزمل اور شبیر صاحب کی بحث کا انتقادی امتزاج شیخ عبدالرشید کے ہاں ملتا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں : 

’’ عمرانی تجربوں نے ثابت کیا ہے کہ ہر وہ عمل جو زندگی کی وضاحت و تشریح نہیں کرتا ، ایک بے کار سی چیز ہے۔ چنانچہ شعری کینوس پر جب تک خارجی اور داخلی کیفیات کا بھرپور اظہار نہ ہو ، اس وقت تک وہ عمرانی معاہدوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتی اور محض ایک اسطورہ بن کر رہ جاتی ہے۔ فخر زمان کے سامنے بھی دو راستے تھے ایک وہ جو گل و بلبل کی وادی سے گزرتا ہے اور حسن و عشق کے عارضی و سطحی احساسِ نشاط کو جنم دیتا ہے ، دوسری طرف وہ راستہ جہاں حقیقت پسندی کی سنگلاخ چٹانوں میں فن کا فرہاد بن کر تیشے سے کام لینا پڑتا ہے، فخر زمان نے دوسرا راستہ اپنایا۔‘‘ (فخر زمان کی اردو شاعری کا مختصر جائزہ، ص۱۱۷)

معاشرے سے کٹا ہوا اور ادبی لطافت سے بے بہرہ بے ڈھنگا شعر شیخ عبدالرشید کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ مجموعی معاشرتی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے کے علاوہ یہ درحقیقت فن کار کے داخلی احساسات کی رقاقت کا کرشمہ ہے کہ اچھا اور تخلیقی ادب منصہ شہود پر آتا ہے: 

’’ جمالیاتی خوبی اور سماجی افادیت کا امتزاج اچھے شعر کی مجموعی قدر ہے۔ چنانچہ اچھا شعر وہ ہے جو فن کے معیار پر نہیں زندگی کے معیار پر پورا اترے۔ ہنڈرسن کا خیال ہے کہ’’ شاعر معاشرے کا ایک ایسا رکن ہوتا ہے جس کی جلد (Skin) دوسرے افرادِ معاشرہ کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی باریک اور نازک ہوتی ہے۔‘‘ یعنی شاعر زمانے کے گرم سرد کو دوسروں سے کچھ زیادہ ہی شدت سے محسوس کرتا ہے۔ شعر میں فکر و احساس کی ہم آہنگی نہ ہو تو اس کا شعر ہونا مشکوک ہو جاتاہے۔ فخر زمان کو اپنے وقت کے شکستہ انسان، زخمی محسوسات، درد و غم، بے بسی، لا حاصلگی اور خستگی کی کیفیت کا پورا پورا احساس ہے جو آج کے انسان کا مقدر بن گئی ہے۔‘‘ (فخر زمان کی اردو شاعری کا مختصر جائزہ، ص۱۲۱)

اسی مضمون میں شیخ صاحب نے فخرزمان کے شعروں کا انتخاب بھی پیش کیا ہے جس سے ایک طرف شیخ صاحب کی افتادِ طبع اور دوسری طرف شاعر کی موزونی طبع کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے: 

میں اک چوراہے پہ جا کے اکثر
کھڑا کھڑا دل میں سوچتا ہوں
یہ چاروں سڑکیں یہاں پہ آ کر
بچھڑ رہی ہیں کہ مل رہی ہیں 

یہ جینا بھی کیا جینا ہے
خود اپنا لہو ہی پینا ہے

نئے طریق سے برسات اب کے آئی ہے
کہ لوگ ریت کے گھر بھی بنائے جاتے ہیں
کس کس کو دکھاتے رہیں جیبوں کے یہ سوراخ
ہر موڑ پہ کشکول لیے لوگ کھڑے ہیں
لمحوں کا بھنور چیرکے انسان بنا ہوں
احساس ہوں میں وقت کے سینے میں گڑا ہوں

زیرِ نظر کتاب میں تنقیدی مضامین و اشعار کے انتخاب کے ساتھ ساتھ جہاں فخر زمان کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر شائع کی گئی ہیں وہاں دو انٹرویوز بھی پیش کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر گجرات ٹائمز کا انٹرویو ، جو شیخ عبدالرشید نے کیا ہے ، فکری و تیکھے سوالات پر مشتمل ہونے کے باعث قابلِ مطالعہ ہے۔ان انٹرویوز سے بلاشبہ کتاب کی افادیت میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ شیخ صاحب نے فخر زمان کو منظوم خراجِ عقیدت (دھرتی زادہ ،ص۲۶۸)پیش کرکے اپنی بے پایاں محبت کا اظہار اس طرح کیا ہے: 

بھنگڑوں اور گدّوں کے پِڑ میں

پر اسرار سی خاموشی

ایسے میں وہ دھرتی زادہ

اپنے ہاتھوں میں پھولوں کی اک ڈال لیے

ساری دھرتی کی رتوں کو جی آیاں نوں کہتا ہے

’’فخر زمان:کل اور آج‘‘ اس اعتبار سے جامعیت کی حامل ہے کہ اس میں اردو کے علاوہ پنجابی ، گرمکھی اور انگلش زبان کو بھی جگہ فراہم کی گئی ہے۔ پنجابی اور گرمکھی سے بوجوہ صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم انگلش سیکشن میں سے ایک قابلِ غور اقتباس پیش کرنا چاہیں گے جس کے مصنف پروفیسر راشد بٹ ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: 

Fakhar Zaman's plays are short and do not require long reading sessions. Knitting such plays is difficult in the sense that conclusion or end may create an impression that the element of probability, necessity or logicality has been damaged because of a short gap between beginning and end. This, however, is not the case with Fakhar's plays. Moving from the beginning to the end, he shows a perfect art of "precision in brevity" and does not let the readers and viewers feel that something is missing. (Fakhar Zaman's Dramatic Art, p. 13) 

فخر زمان کے نثر پاروں کی بابت پروفیسر راشد بٹ کا یہ تبصرہ کفایت کرتا ہے۔ ’فخر زمان:کل اور آج‘کے مجموعی مطالعہ سے فخر زمان بہت خوش قسمت معلوم ہوتے ہیں کہ انہیں بہت اچھے نقاد ملے۔ گجرات یونی ورسٹی کے ذمہ داران نے فخر زمان کے گجراتی ہونے کے باعث ترجیحی بنیادوں پر یہ کتاب شائع کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ادبی مقام اور حفظ مراتب ملحوظ رکھتے ہوئے جن گجراتیوں کے بارے میں تالیفات پہلے منظرِ عام پر آنی چاہیں تھیں ، دیر آید درست آید کے مصداق اب ان کی طرف بھی توجہ دی جائے گی، مثلاََ شریف کنجاہی مرحوم، انور مسعود وغیرہ۔

(تبصرہ نگار: میاں انعام الرحمن)

تعارف و تبصرہ