’’قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ‘‘ ۔ تنقیدات پر ایک نظر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’ قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ ‘‘ پر چند تنقیدی آرا سامنے آئی ہیں۔ مارچ ۲۰۰۶ کے شمارے میں یوسف جذاب صاحب نے اپنے خط میں مضمون کے پہلے حصے پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے، لیکن زیادہ تر احباب کی تنقید ہمارے مضمون کے دوسرے حصے کے متعلق ہے جس میں بطور کیس سٹڈی ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث پر قرآنی سیاق میں نقد اور قرآنی منشا کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ہم یہاں یوسف صاحب کی تنقید سے صرفِ نظر کرتے ہیں اور ’’ذبیح کون‘‘ کی بحث کی ضرورت اور افادیت پر مبنی آرا کا اختصار سے جائزہ لیتے ہیں ۔ 

اس سلسلے میں سب سے پہلے گزارش یہ ہے کہ چند احباب نے ’’قورح اور قارون ‘‘ کی بحث کے سے انداز میں ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث کو لیا ہے کہ یہ بحث لا یعنی ہے۔ ہم ان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ خود ہمارا موقف بھی تقریباً یہی ہے ۔ اپنے مضمون میں ہم نے اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ ’’ذبیح کون ‘‘ کی بحث نہ صرف لایعنی ہے بلکہ استدلالات کے ذریعے ذبیح کو مشخص کرنے سے قرآنی متن اور قرآنی منشا بھی مجروح ہوتے ہیں ۔ اب اگر اس بات پر تنقید کی جائے کہ ہم نے ذبیح کون کی ’’بحث پر تنقید‘‘ کیوں کی ہے اور یہ کہ ایسی تنقید ’’ قورح اور قارون ‘‘ کی بحث کے مانند لایعنی ہے، تو ہماری نظر میں یہ بات انصاف پر مبنی نہیں ہے ۔ ’’قورح اور قارون‘‘ اور ’’ذبیح کون‘‘ دونوں مباحث میں محرکات اور نتائج کے اعتبار سے بنیادی فرق موجود ہے ۔ قورح اور قارون والی بحث کا محرک علمی تفاخر ہے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں (ہم خود ایسی ذہنی عیاشیوں کے قائل نہیں ہیں) ۔ جہاں تک ذبیح کون والی بحث کا تعلق ہے، اس کے محرکات و نتائج کے مطالعے کے لیے اپریل ۲۰۰۶ کے شمارے میں اسلم میر صاحب کا مضمون کفایت کرتا ہے ۔ لیکن چونکہ یہ محرکات و نتائج ہماری نظر میں قرآنی منشا سے متصادم ہیں، اسی لیے ہم نے بعض تحفظات کا اظہار کرنے کے علاوہ اپنے تئیں درست راہ کی بھی نشاندہی کی تھی ۔ 

جن اصحاب نے ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے جذباتی انداز میں حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دینے پر اصرار کیا ہے، ہم شکریے کے ساتھ ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسلم میر صاحب کے مضمون پر نظر ڈالنا چاہیں گے ، لیکن اس گزارش کے ساتھ کہ ہماری نیت مناظرہ بازی کی نہیں ہے۔ اسی لیے ہم نے اب تک، تنقیدی آرا پر کسی تبصرے سے گریز کیا تھا، لیکن ا ب اپنے موقف کی وضاحت کے ارادے سے یہاں چند سطریں تحریر کر رہے ہیں ۔ 

اسلم میر صاحب کی تنقید کا لبِ لباب ان کے مضمون کی ان آخری سطروں میں موجود ہے :

’’اس بحث سے اس سوال کاجواب بھی مل جاتا ہے کہ کہ آیا ہم مسلمانوں کو ’ذبیح کو ن ہے؟‘ کی بحث میں پڑنا چاہیے یا نہیں۔ اگر ہم اس بحث کو اس زاویے سے چھیڑیں کہ اسحاق ؑ یا اسماعیل میں سے کسی ایک کی برتری دوسرے پر ثابت کی جائے تویہ ہر گزمستحسن نہیں ،لیکن اگر بحث اس زاویے سے ہو کہ یہودیوں کے کتمانِ حق کاپردہ چاک کیاجائے یا اس کتمانِ حق کوصحیح طور پر سمجھا جائے تو پھر یہ بحث بہت اہم ہے۔ اس کے بغیر، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، قرآن کی بہت سی آیات کی تفہیم بہت مشکل ہے۔‘‘ (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۶، ص ۵۶)

جہاں تک ہم سمجھے ہیں ، اسلم میر صاحب ( اور یوسف جذاب صاحب ) بعض قرآنی آیات کی تفہیم کے لیے یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنا ناگزیرخیال کرتے ہیں اور اس سلسلے میں قرآنی متن اور احادیث نبوی ﷺ کی منشا کو پیشِ نظر رکھنے کے بجائے تاریخی آثار اور اسرائیلیات کو اساسی انداز میں لیتے ہیں ۔ ہمیں اس بنیادی نکتے سے ہی اختلاف ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان قرآن کی موجودہ ترتیب کے مکلف ہیں کہ اسی ترتیب کے ساتھ نبی خاتم محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ نے وصال سے قبل جبریل ؑ کے ساتھ قرآن کا دور کیا تھا ۔ اب اگر نزولی ترتیب کو پیشِ نظر رکھا جائے تو بلاشبہ یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کر نے جیسے امور کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ لیکن جس قرآنی ترتیب کا ہمیں مکلف ٹھہرایا گیا ہے، اس کی معنویت کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور عالمِ انسانیت کے لیے عبرت کا سامان مہیا کرنے تک بڑھی ہوئی ہے ۔ لہٰذا قرآن جس ترتیب سے تلاوت کیا جاتا ہے، یہ ترتیب خود ایسی انتہا پسندی کے فروغ میں مانع ہے جس کا اظہار اسلم میر صاحب نے مولانا حمید الدین فراہی ؒ کے اقتباسات کی مدد سے کیا ہے ۔ 

اہم بات یہ ہے کہ ذبیح کون کی بحث کے محرکات کو اگر طوعاً وکرہاً درست بھی مان لیا جائے تو اس کے نتائج حسبِ منشا برآمد نہیں ہوتے ، کیونکہ لامحالہ حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کا تقابل و موازنہ شروع ہو جاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے بہت بڑھ جاتا ہے ، لیکن ہمیں اول تو اس بحث کے محرکات کی درستی پر ہی شک ہے ۔ 

میر صاحب نے ہمارے دلائل کے رد میں بعض دلچسپ نکات اٹھائے ہیں۔مثلاً ہم نے عرض کیا تھا کہ اگر قربانی کے واقعہ میں بھی حضرت اسماعیل ؑ کا نام شامل ہوتا تو معترضین کو پھبتی کسنے کا موقع ملتا کہ اسلام دعویٰ تو عالم گیریت کا کرتا ہے لیکن اصلاً اسماعیلی ہے (کہ بیت اللہ کی تعمیر کے ذکر میں ان کا نام موجود ہے)، اسی طرح اگر اسحاق ؑ کا نام شامل ہوتا تو یہودیوں کی نسل پرستی کو مزید شہ ملتی۔ میر صاحب نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ :

’’بیت اللہ کی تعمیر و تطہیر کے سلسلے میں ( البقرۃ آیات ۱۲۵۔۱۲۷ ) میں اسماعیل ؑ کے ذکر میں کیا حکمت ہے ؟ کیا وہاں صرف ابراہیم ؑ کا ذکر کافی نہیں تھا ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلے میں اسماعیل ؑ کے ذکر پر تو یہود کو پھبتی کسنے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی، لیکن اگر اللہ تعالیٰ قربانی کے واقعے میں اسماعیل ؑ کا ذکر کر دیتے تو وہ فوراً پھبتیاں کسنے لگتے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کعبے کے سلسلے میں اسماعیل ؑ کا نام ذکر کرنے پر تو وہ اللہ تعالیٰ کو معاف کر دیتے لیکن قربانی کے معاملے میں معاف نہ کرتے ؟‘‘ (الشریعہ، اپریل، ص ۴۳، ۵۴)

ہم گزارش کریں گے کہ میر صاحب کے زرخیز ذہن پر یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے کا جنون سمایا ہوا ہے، اسی لیے وہ ایک خاص زاویے سے ہی ہر بات کو لے رہے ہیں ۔ ہم نے ’’ معترضین ‘‘ کا ذکر کیا تھا جسے میر صاحب نے ’’یہودیوں‘‘ پر محمول کیا ، اس سے ان کے mindset کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ جہاں تک ابراہیم ؑ کے ذکر کے کافی ہونے کا تعلق ہے ، ہم نے خود اسی قسم کی مثال اپنے مضمون میں بھی دی تھی اور عرض کیا تھا کہ یہ ایک الگ بحث ہے ( الشریعہ جنوری ۲۰۰۶، ص ۳۲) 

ہمارے دیگر دلائل کے رد میں بھی میر صاحب کے اعتراضات اسی نوعیت کے ہیں۔ طوالت سے بچنے کی خاطر ہم ایک بنیادی بات عرض کریں گے کہ کسی موقف کے اثبات کے لیے پیش کیے گئے دلائل اپنی حیثیت کے اعتبار سے اضافی ہوتے ہیں۔ کسی دلیل کے رد ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ موقف غلط ہو گیا۔ ہمیں تاریخ سے ایسی کئی مثالیں مل سکتی ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ کسی یکساں بات کو منوانے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف دلائل پیش کیے گئے ۔ بات وہی ہوتی ہے لیکن مخاطب کی استعداد اور دیگر امور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دلائل مختلف ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؑ کا مکالمہ ہماری رائے کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ میرا رب زندگی اور موت دیتا ہے تو مخاطب نے بھی کہا کہ میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔ ذرا غور کیجیے کہ ابراہیم ؑ کے مخاطب کی بات سراسر غلط ہے، لیکن ابراہیم ؑ اس کی ذہنی ساخت کو سمجھتے ہوئے اپنی دلیل کے دفاع کے بجائے فرماتے ہیں کہ: فَإِنَّ اللّہَ یَأْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِب (البقرہ ۲۵۸) ’’بے شک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو مغرب سے نکال کر دکھا۔‘‘ ہم نے اپنے مضمون کا اختتام اسی لیے درود شریف پر کیا تھا کہ یہ ایک قطعی دلیل ہے جس سے ذبیح کون کی بحث کی لایعنیت واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی آنکھوں پر کسی خاص فکر کا چشمہ لگا کر معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو ظاہر ہے، اسے کوا سفید ہی نظر آئے گا۔ 

اسلم میر صاحب نے ہمارے بنیادی موقف کی تائید کی ہے لیکن اس تحفظ کے ساتھ کہ یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے اور قرآن کی بہت سی آیات کی تفہیم کے لیے ذبیح کون کی بحث ضروری ہے اور حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح ثابت کرکے ہی حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ ہم لمبی چوڑی بحث میں پڑے بغیر ابنِ قتیبہ ؒ کی تاریخ الانساب (کتاب المعارف) کے حوالے سے عرض کریں گے کہ حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب نے فرمایا تھا کہ ذبیح اسحاق ؑ تھے اور یہ کہ اکثر علما کا یہی قول ہے، البتہ کچھ لوگ اسماعیل ؑ کے ذبیح ہونے کے قائل ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ ، حضرت اسماعیل ؑ کے ذبیح ہونے پر متفق کیوں نہیں تھے؟ حالانکہ اس خاص ماحول میں صحابہ کرامؓ کا یہودیوں کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ موجود تھا اور پھر قرآن مجید کی نزولی ترتیب کو مدِ نظر رکھا جائے تو واضح طور پر بہت سی آیات انھی یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔ آخر صحابہ کرامؓ نے یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے کی خاطر یکساں رویہ کیوں نہیں اختیار کیا ؟ اور انھیں قرآن مجید کی بہت سی آیات کا فہم، کتمانِ حق کا پردہ چاک کیے بغیر کیسے حاصل ہوگیا ؟ ہم عرض کریں گے کہ عہدِ نبوی ﷺ اور عہدِ صحابہ کرامؓ کے آثار واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ اول تو اصحابؓ کسی کے ذبیح ہونے پر متفق نہیں تھے اور دوم یہ کہ انھوں نے ذبیح کو مشخص کرنے کی خاطر کسی قسم کے بحث و مباحثہ کی داغ بیل بھی نہیں ڈالی ( اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ کو ذبیح قرار دینے کی آرا ، اصل میں صحابہ کرامؓ کے راہ چلتے اقوال ہیں) ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے یہ بحث کیوں نہیں چھیڑی ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ 

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بات کرتے وقت یا کوئی بحث چھیڑتے وقت ہمیں اپنے ’’ مقام ‘‘ سے آگاہ ہو نا چاہیے ۔ اگر ہم اپنے مقام سے آگاہ نہیں ہوں گے تو لازماً مخاطب کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکیں گے ۔ ہم مسلمان ، نبی خاتم ﷺ کی امت ہونے کے ناطے آخری امت ہیں۔ اس لیے ہم پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حتی الامکان اپنے مقام سے گرنے نہ پائیں ۔ نبی خاتم ﷺ کے تربیت یافتگان اپنے مقام سے گر ہی نہیں سکتے تھے اس لیے انھوں نے حق ادا کرتے ہوئے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے کی ’’آڑ ‘‘ لینے کے بجائے قرآنی متن اور قرآنی منشا کو پیشِ نظر رکھا اور قرآنی آیات کے موضوعی فہم سے اجتناب کیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ آج اگر صحابہ کرامؓ کے عمل کے برعکس رویہ اپنایا جائے گا تو نہ صرف کسی کے خلاف خوامخواہ کی محاذ آرائی کی فضا پیدا ہوگی ، بلکہ قرآن مجید کا مطلوب و مقصود بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جائے گا۔

قرآن / علوم قرآن