اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۱)

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(’’راہ عمل‘‘ کا ایک مطالعہ۔)


خالد سیف اللہ رحمانی ، ہندوستان کے معروف عالمِ دین ہیں ۔ ان کے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کے مجموعے عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں ۔ اب ان مجموعوں کا مجموعہ ، پاکستان میں زم زم پبلشرز کراچی نے ’راہِ عمل ‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ راہِ عمل دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کے پانچ حصے ہیں ۔ جلد اول میں تین اور جلد دوم میں دو حصے ہیں۔ ان حصوں کے عنوانات بالترتیب (۱) نقوشِ موعظت، کل صفحات ۳۶۶ (۲) حقائق اور غلط فہمیاں، کل صفحات ۲۱۲ (۳) نئے مسائل ، اسلامی نقطہ نظر، کل صفحات ۲۷۰ (۴)عصرِ حاضر کے سماجی مسائل، کل صفحات ۲۲۴(۵) دینی و عصری تعلیم اور درس گاہیں:مسائل اورحل، کل صفحات ۲۶۰ہیں۔ یوں ’راہِ عمل ‘ کی دو جلدوں اور پانچ حصوں کے مجموعی صفحات ۱۳۳۲ ہیں۔ 

اس تالیف کے عنوان اور مولف کے نام کے ساتھ ’مولانا‘ کے سابقے سے ہماری یہ گھڑی گھڑائی رائے تھی کہ کاغذ قلم جیسے انتہائی اہم وسائل اور قارئین کے قیمتی اوقات کے ضیاع کی خاطر ، روایتی طرز کے مباحث مولویانہ اسلوب میں بیان کیے گئے ہوں گے، لیکن ’راہِ عمل‘ کی ورق گردانی نے خوش گوار حیرت سے دوچار کردیا کہ طبقہ علما میں اپنے زمانے اپنے معاشرے سے جڑے ہوئے خالد سیف اللہ رحمانی جیسے صاحبِ نظر جہاں دیدہ افراد بھی پائے جاتے ہیں جو زندہ معاشرتی موضوعات پر نہ صرف سوچنے کی جرات کر سکتے ہیں بلکہ اپنی سوچ کو انتہائی دلکش ادبی اسلوب میں الفاظ کا جامہ پہنانے پر بھی قادر ہیں ۔اس لیے کم از کم علما کو تو ’راہِ عمل ‘ کا سنجیدگی سے لازماََمطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں معاصر مسائل سے کما حقہ آگاہی حاصل ہو سکے ، اگرچہ بحیثیت مجموعی اس تالیف کے مخاطب عوام الناس ہیں ۔ 

خالد سیف اللہ رحمانی نے قلم اٹھاتے ہوئے، وقت کی نزاکت، قلم کی حرمت اور اپنے مقام (بطور عالم دین) کا بہت دھیان رکھا ہے ۔ اس لیے ’راہِ عمل ‘ کا تنقیدی مطالعہ قاری پر یہ تاثر چھوڑتا ہے کہ خالد صاحب بہت سنبھل کر اور نہایت محتاط انداز میں اپنا مافی الضمیر اس ڈھنگ سے بیان کرنے کے خوگر ہیں کہ ابلاغ بھی ہو جائے اور کتمانِ حق کی تہمت بھی ان کے دامن کو تر نہ کر سکے ۔ان کے اس اسلوب کی شہادت زیرِ نظر تالیف کے ایسے سینکڑوں صفحات با بانگِ دہل دے رہے ہیں جن میں مولف محترم نے ہندوستان جیسی کثیر مذہبی کثیر لسانی کثیر ثقافتی کثیر نسلی ریاست میں ، جہاں مسلمان اقلیت کی حیثیت میں جی رہے ہیں ، مسلم شناخت کی بازیافت کی صدا اس سلیقے سے لگائی ہے کہ نہ صرف ان کے غیر مسلم ہم وطنوں کی کوئی دکھتی رگ نہ چھڑے بلکہ ممکن حد تک تو وہ اس صدا کی سلیقگی پر ریجھ بھی سکیں ۔

’’راہِ عمل‘‘ کے مضامین اخباری ہوتے ہوئے بھی اخباری نہیں ہیں۔ مولف محترم نے دعوت و ابلاغ کے لیے پلیٹ فارم کے انتخاب میں زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھا ہے، لیکن طرزِ تحریر اور اسلوبِ بیان میں صحافتی سطح سے بہت بلند ہو کر تحقیقی، علمی، تنقیدی، تقابلی، تنقیحی اور توضیحی اسلوب دیدہ و دانستہ اپنایا ہے اورخوب نبھایا ہے ۔ ہمارے بیان کو مبالغہ آرائی پر محمول خیال نہ کیا جائے ، کیونکہ زیرِ نظر تالیف کے مضامین میں بیسیوں کتب کے حوالے، قرآن مجید اور احادیث نبوی کا استناد کے ساتھ بیان اور ان سے استدلال کے جاں فزا نمونے ہماری رائے کی ثقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگرچہ بعض مقامات پر موضوع کی حساسیت نے خالد صاحب کو جذباتی اظہار پر مائل کیا ہے، لیکن ان کے قلم کی جولانی کہیں بھی ایسی متلاطم دھارا کا روپ نہیں دھار سکی جو ان کی فکری لگام سے مکمل آزادا ور بے نیاز ہو سکے، لہٰذا آج کے انتہائی پر آشوب ماحول کی مناسبت سے مولف محترم کے اسلوب کوبلا خوفِ تردید ’’ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔

زبان و محاورے پر گرفت کے باوجود ہمارے ممدوح کہیں کہیں تسامح کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اگر ایسا کسی نام نہاد ترقی پسند ادیب سے سرزد ہوا ہوتا تو شایدہم گرفت نہ کرتے، لیکن خالد سیف اللہ صاحب رحمانی اپنی تحریر کے بین السطور جس فکری بلندی پر متمکن نظر آتے ہیں، اس سے ہمیں ہرگز توقع نہ تھی کہ وہ بعض محاوروں میں مستور اس ’تحقیر ‘سے آگاہ نہ ہوں گے جو اپنی اصل میں ہمارے زوال کی زندہ علامت ہے اور اقوامِ عالم میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص، ہر اعتبار سے ہماری ذہنی خجالت کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ مثلاً ’’گداگری اور اس کا سدِ باب‘‘ کے زیرعنوان خالد صاحب رقم طراز ہیں : 

’’ کچھ فرزانے ایسے بھی ہیں جو آپ کو دو چار صلواتیں سنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ وہ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے‘‘۔ (ج۲، ح۴، ص۱۱۲)

ظاہری اعتبار سے یہ فقرہ بہت زبردست ہے ، چست ، تیکھا ، تیر بہدف۔اس فقرے کا دوسرا حصہ : ’’وہ اس طرح سوال کرتے ہیں کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے‘‘ خالد صاحب کی ایسی ظرافت کا غماز ہے جس کے پیچھے انتہائی سنجیدہ مشاہداتی مزاج پوشیدہ ہے لیکن اس فقرے کا پہلا حصہ جس میں ’صلواتیں سنانے ‘ کا ذکر کیا گیا ہے ، محاورۃََ ہمارے تہذیبی زوال کا تراشیدہ تو ہے ہی، اس کا مسلم لکھاریوں کے ہاں برتا جانا ایسی پس ماندہ نفسیات کا آئینہ دار ہے جس کے بعد ذہنی خود کفالت کی بابت سوچنا بھی محال ہے۔ ہمارے دین میں صلوٰۃ کا جو مقام ہے، خالد سیف اللہ صاحب ہم سے بہتر جانتے ہیں، اسی لیے ان کا اس محاورے کو اپنے احاطہ تحریر میں لانا ہمیں چبھ گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک مقام پرخود لکھتے ہیں کہ :

’’کسی بھی زبان میں ایک لفظ کا جو حقیقی معنی ہوتا ہے، وہ براہ راست اور بالواسطہ مناسبتوں کی وجہ سے نئے نئے پیکر میں ڈھلتا رہتا ہے۔‘‘ (ج ۱، ح ۲، ص ۹۴)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ خالد صاحب کی تنقیدی نظر سے زبان و بیان کے اطراف و اکناف کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں۔ لفظ کا اپنی اصل کی مناسبت سے نئے نئے پیکروں میں ڈھلنابتا رہا ہے کہ ان کی نگاہِ ناز الفاظ کی ساخت و ماہیت کے اسرار و رموز پر بھی ہے، جبھی تو یوں رقم طراز ہیں:

’’شعرا اور نئی روشنی کے لوگ تو ان کی تحقیر سے بھی نہیں چوکتے تھے اور ان کو ’’تنگ نظر ملا‘‘ اور ’’ دورکعت کا امام‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے‘‘۔ (ج ۲، ح ۵، ص ۴۴)

اسے ستم ظریفی ہی کہیے کہ اس کے باوجود نادانستگی میں سہی، لیکن اسی تحقیر کے بقلم خود مرتکب ہوئے ہیں اور تحقیر بھی کسی فرد یا طبقے کی نہیں بلکہ دینِ اسلام کے ایک بنیادی رکن کی ۔ اس واحد تسامح کے علاوہ اور کہیں ان سے زبان و بیان کی حد تک غالباً چوک نہیں ہوئی ، بلکہ جابجا ایسے دل کش فقرے بکھرے ہوئے ہیں کہ قاری نہ صرف حقیقت آفرینی کا لطف اٹھاتا ہے بلکہ زبان کا چٹخارہ بھی لیتا ہے، مثلاً : 

’’حقیقت یہ ہے کہ رائی کو پہاڑ بنانے اور پہاڑ کو رائی میں سمیٹنے کی مثال کوئی شخص دیکھنا چاہے تو صحافت کی ’’افسانوی دنیا‘‘ میں دیکھ سکتا ہے۔‘‘ (ج ۲، ح ۴، ص ۷۱)
’’ فرقہ بندیوں اور باہمی عداوتوں نے ہمیں سمندر کی سی طاقت رکھنے کے باوجود قطروں میں تقسیم کر دیا ہے، ایسا قطرہ جسے دھوپ کی ہلکی سی تمازت اور ہوا کا معمولی سا جھونکا بھی وجود سے محروم کر سکتا ہے‘‘۔ (ج ۱، ح۱، ص ۱۷۴)
’’قومی یک جہتی نفرت کا پتھر پھینک کر حاصل نہیں کی جا سکتی ، اس کے لیے محبت اور پیار کے پھول برسانے ہوں گے۔ ‘‘ (ج ۲، ح ۴، ص ۷۰)
’’جس سفینہ کا ناخدا ہی آدابِ سفر سے بے بہرہ ہو، کون ہے جو اسے ساحل سے ہم کنار کرے؟‘‘ (ج ۲، ح۴، ص۱۵۶)
’’یلغار کے مظالم یا افغانستان کی جنگ سے مسلمانوں کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور نہ ان کے ایمان کا سودا کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ نشہ ہے کہ جس قدر اتارنے کی کوشش کی جائے، اسی قدر چڑھتا ہے ، یہ وہ پودا ہے کہ جس قدر تراشا جاتا ہے، اسی قدر سربلند اور سایہ دار ہوتا جاتا ہے۔‘‘ (ج ۱، ح ۱، ص ۲۵۸)
’’یہ عجیب بات ہے کہ یہ ملک جس کو مسلمانوں نے وسعت و وحدت عطا کی، معاشی فراخی دی، امن و امان دیا، عدل و مساوات سے آشنا کیا، سماجی انصاف کی دولت دی، اس کے چپہ چپہ پر تاریخی عظمت کے نقوش سجائے اور اسی زمین کو اپنا مسکن اور مدفن بنایا، ان کی قربانیوں کو وہ لوگ مسخ کرنا چاہتے ہیں جن کے تلووں میں اس ملک کے بنانے، سنوارنے اور بچانے میں شاید ایک کانٹا بھی نہ چبھا ہو۔‘‘ (ج ۱، ح ۱، ص ۲۸۶)

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تحریر شخصیت کی عکاسی کرتی ہے اور اہلِ نظر کہتے ہیں کہ کسی شخص کی اصلیت دیکھنی ہو تو اسے غم و غصہ کی حالت میں دیکھو۔ معلو م ہوتا ہے کہ ہمارے محترم کی جمالیاتی حس غم و غصہ میں بطورِ خاص بیدار ہو جاتی ہے، اسی لیے ان کے مزاج میں موجود عمومی شائستگی نے ایک دل خراش واقعہ یوں قلم بند کیا ہے:

’’آہ ، اے مظلومانِ گجرات ! اور صد آہ، اے ستم زدگانِ دنیائے بے ثبات !! جو مظالم تم بے گناہوں پر ڈھائے جارہے ہیں، کیوں کر ان کا بیان ہو ؟ قلم کا جگر شق ہو جائے تو تعجب نہ ہونا چاہیے ، کہ اگر پتھروں کو دیکھنے کی قوت میسر ہوتی تو شاید وہ بھی اس بربریت کو دیکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتے اور سمندر کو رونے والی آنکھیں نصیب ہوتیں تو شاید ان کے بھی سوتے خشک ہوجاتے۔ ایسا جورو جفا جنہیں دیکھ کر درندے بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں اور ایسا ظلم و ستم جنہیں سن کر تاریخ کے ستم شعار لوگوں کی روح بھی وجد میں آ جائے۔ زبان و قلم کی کیامجال کہ ان مظالم کے شایانِ شان مرثیہ کہے، ان آنکھوں کے سفید اور ٹھنڈے آنسو اس انسانیت سوزی پر کیا قربان ہوں! اگر قلب و جگر کی آنکھیں ہوتیں اور وہ گرم و حرارت انگیز خون و لہو کے آنسو نچھاور کر سکتیں تو شاید کچھ اس غم کا بیان ہو سکتا۔...... صدہزار رحمتیں ہوں تمہاری جان پر سوز اور روحِ شہادت شعار پر جو جرمِ بے گناہی کی سزا پا رہے ہیں اور جنہیں صرف اس لیے آتشِ نمرود میں جھونکے جانے کی سنت ادا کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ خوئے آزری کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور دینِ ابراہیمی کا علم تھامے ہوئے ہے۔ ..... تم پر خدا کی بے پناہ رحمتیں ہوں اور تمہارے لیے خدا کے نام پر مرنا مبارک ہو !!‘‘ (مردم سوزی ۔۔ انسانیت سوزی کا بدترین نمونہ: ج۱، ح۱، ص۱۹۹)

اس تالیف میں ہمارے محترم نے دینی مدارس کے نظام و نصاب اور طریقہ تعلیم وغیرہ پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ دینی مدارس کی اصلاحِ احوال کا گہرا احساس رکھنے کے سا تھ ساتھ ان کی نظر مدارس سے وابستہ لوگوں کی امتیازی صفات پر بھی ہے، اسی لیے بہت طمطمراق سے لکھتے ہیں : 

’’یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی ’’اجرت‘‘ کے بجائے ’’اجر‘‘ پر نظر رکھنے، تعلیم کو ایک مقدس فریضہ سمجھنے اور طلبہ سے محبت و شفقت کا برتاؤ کرنے کی جو روایت باوجود بہت سارے انحطاط کے ان مدارس میں پائی جاتی ہے، شاید ہی کہیں اور اس کی مثال مل سکے ‘‘۔ (ج۲، ح۵، ص۱۴۰)
’’اجرت کے بجائے اجر‘‘ میں حرفی تکرار سے قاری کو نعرے کی طرز کی قوتِ محرکہ ملتی محسوس ہوتی ہے ۔ اسے ’’اجرت نہیں، اجر‘‘ کے روپ میں باقاعدہ نعرہ بھی بنایا جا سکتا ہے، لیکن کوئی ستم ظریف اسے ’’ اجرت، نہیں اجر ‘‘ کا لبادہ اوڑھا سکتا ہے، اس لیے ہم نعروں میں خوامخواہ الجھنے کے بجائے خالد صاحب کے بیان ’’اجرت کے بجائے اجر‘‘ پر قناعت کرنا پسند کریں گے کہ پہلے نعرے میں مذہب، افیون بنتا نظر آتا ہے اور دوسرے نعرے میں اخلاقیات کا جنازہ نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال ! اسی قبیل کی بحث مولف محترم نے ’’اپنی عیال کو آگ سے بچائیے‘‘ (ج ۱، ح ۱، ص ۱۳۲، ۱۳۳) کے عنوان سے کی ہے:
’’ قابلِ فکر امر یہ ہے کہ آخر علمِ دین کی طرف سماج کے اونچے طبقے کی توجہ کیوں نہیں ہے؟ حال آں کہ ہر شخص کو اس بات کا اعتراف ہے کہ جو بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان میں تہذیب و شائستگی اور بڑوں کی توقیر ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت ، اپنے پرائے کے ساتھ حسنِ سلوک ، نگاہ اور زبان کی حفاظت اور اپنے فرائض کے تئیں جواب دہی کے احساس کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا بات ہے کہ اس کے باوجود علم کا یہ شعبہ لوگوں کے التفات سے محروم ہے؟ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جو لوگ دین اور علمِ دین کی خدمت میں مشغول ہیں ، ان کے پاس مادی وسائل کم ہیں، ان کو کم تن خواہوں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے ، یہی ایک بات ہے جس نے مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکر و ذہن کے حاملین کو علمِ دین کی طرف آنے سے روکا ہوا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا ؟وہ کیا کھائیں گے ؟ اور کیوں کر زندگی گزاریں گے؟ اس سلسلے میں مسلمان سماج کے لیے دو باتیں قابلِ توجہ ہیں : اول یہ کہ کیا مسلمانوں کا معاشرہ اپنے دینی تحفظ کے لیے ایک ایسے طبقہ کی صحیح طریقہ پر کفالت نہیں کر سکتا جن کی تعداد بہ مشکل ایک فی ہزار ہو گی؟ اگر مسلمان اپنی دوسری ضروریات کی طرح دینی خدمت گزاروں کو بھی اپنے لیے ایک ضرورت باور کریں اور فراخ حوصلگی کے ساتھ ان کے تعاون کے لیے ہاتھ بڑھائیں اور خادمینِ دین کو کم سے کم معاشی اعتبار سے اس لائق بنائیں کہ وہ متوسط طریقہ پر سماج میں اپنی زندگی بسر کر سکیں تو یقیناًاس علم سے بے اعتنائی اور بے رغبتی کی یہ کیفیت باقی نہیں رہے گی۔‘‘ 
اس اقتباس پر تنقیدی نظر ڈالیے کہ خالد صاحب نے ایک ہی سانس میں کم تن خواہوں کی وجہ سے علمِ دین کی طرف راغب نہ ہونے والوں کو ’’مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکروذہن‘‘ کے حاملین قرار دیا ہے اور مسلم سماج کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی ہے کہ وہ خادمینِ دین کی کم سے کم متوسط طریقہ پر گزر بسر کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔ ہم گزارش کریں گے کہ مذہبی طبقے کی کم زور معاشی حالت کی وجوہات میں سے ایک وجہ دنیا کی مکمل نفی پر مبنی ’’مادہ پرست اذہان اور حریصانہ فکروذہن‘‘ جیسی طعنہ دینے والی غیر حقیقی سوچ کا معاشرے میں رواج پانا بھی ہے جس کے نتیجے میں، جیسا کہ سطورِ بالا میں اشارتاً ذکر ہوا، مذہب عوام کے لیے واقعتا افیون بن کر رہ گیا ہے۔ اسی سلسلے کی دوسری بات یہ ہے کہ خالد سیف اللہ صاحب مذہبی طبقے کی متوسط درجے میں کفالت کے خواہش مند ہیں تو کیا یہ حقیقت ان سے ڈھکی چھپی ہے کہ زرعی دور کی فرسودہ دینی تعبیر سے طبقہ علما جس شدت سے چمٹا ہوا ہے، اس کے انتہائی تباہ کن اثرات کے بعد مسلم معاشرے کے متوسط طبقے کی اتنی پسلی رہ جاتی ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی طبقہ علما کو معاشی اعتبار سے اوسط درجے میں لے آئے؟جب کہ حقیقت یہ ہے کہ علما کی فرسودہ دینی تعبیرات سے متاثر یہ طبقہ تو خود اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ یہ نکتہ تو ہمارے محترم پر واضح ہی ہو گا کہ امرا اور جاگیرداروں کو لوٹ کھسوٹ کے نت نئے حربوں کو عملی جامہ پہنانے سے فرصت نہیں ملتی، اس لیے مجموعی طور پر ہمیشہ غریب اور متوسط طبقہ ہی آگے بڑھ کر کفایت کے درجے میں سہی، لیکن حفاظتِ دین میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتا آیاہے۔اسی بحث کے ضمن میں ’’مسلم پرسنل لا : ایک غلط فہمی کا ازالہ ‘‘ کے زیرِ عنوان خالد سیف اللہ صاحب کا مضمون اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں اجمالی طور پر سہی، لیکن کم ازکم دینی تعبیر کی ماہیت کی بابت اصولی بحث تو کی گئی ہے ، ملاحظہ کیجیے:
’’ آپ محسوس کریں گے کہ تغیر پذیر محض اسباب ہیں، انسان کی فطرت اپنی جگہ قائم ہے ۔ وہ جس طرح کل کبھی رنج و غم اور کبھی مسرت و شادمانی محسوس کرتا تھا، آج بھی کرتا ہے۔ پہلے آہ واہ سے اس کا اظہار کرتا تھا، اب بھی کرتا ہے ۔ کل جس طرح اس کے دل میں اپنے دشمنوں کے خلاف انتقام کا شعلہ سلگتا تھا ، آج بھی سلگتا ہے اور جس طرح کل اس کا سینہ مال و دولت اور حرص و ہوس کی آماج گاہ تھا، آج بھی اقتصادی ترقی کا بھوت اس کے ہوش و حواس پر سوار ہے۔ آج بھی اس کا نفس اس کو اخلاقی تقاضوں کے بالائے طاق رکھ دینے کی تلقین کرتا رہتا ہے ، جس طرح ماضی کا نقشہ ہمارے سامنے ہے ۔ جس طرح کل جاگیرداری اور زمین داری کی تمنا اس کو بے چین کیے رہتی تھی ، آج بھی اس کے دل میں حکومت اور اقتدار کی آرزوئیں چٹکیاں لیتی رہتی ہیں ۔ ..... اسلام اور اس کے قانونی نظام کا اصل موضوع اسباب و وسائل نہیں ہیں بلکہ اس کا موضوع انسان اس کی فطرت اور اس کے فطری تقاضوں کی مناسب حدود میں تکمیل ہے ، پس جس طرح انسان ایک غیر متبدل حقیقت ہے اسی طرح ظاہر ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والا قانون بھی ابدی اور دائمی ہو گا۔
لیکن اس کے باوجود ان نو دریافت وسائلِ زندگی، بدلتے ہوئے عرف اور زندگی کے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی ڈھانچہ میں غیر معمولی تبدیلی ضرور چاہے گی کہ قانون میں اس کی کچھ رعایت کی جائے اور ان تقاضوں اور وسائل سے اسلامی قانون کو ہم آہنگ کیا جائے اور جزوی اور فروعی حدود میں اسلام ان تقاضوں کو قبول کرے۔ اس سلسلہ میں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام نے بعض قانونی اور فکری امتیاز اور بنیادی اصول کو جوں کا توں باقی رکھتے ہوئے ایک مخصوص حد میں ضروری تغیر و تبدل اور واقعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ایسی لچک باقی رکھی ہے جو اس کو فرسودگی سے بچائے رکھے۔ چنانچہ مشہور فقیہ اور مزاجِ شریعت کے رمز شناس حافظ ابنِ قیم ؒ اپنی گراں قدر کتاب ’’ اعلام الموقعین ‘‘ میں اس موضوع پرایک مستقل باب(جلد دوم میں ) قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 
’’عرف و عادت ، حالات و مقاصد اور زمان و مکان کے تغیر کی بنا پر مسائل میں اختلاف اور تغیر و تبدل کا بیان ، یہ بڑی مفید اور اہم بحث ہے جس سے ناواقفیت کی بنا پر شریعت میں بڑی غلطیاں واقع ہوئی ہیں ، جس نے دشواری ، تنگی اور استطاعت سے ماورا تکلیف پیدا کر دی ہے ، جب کہ یہ بات معلوم ہے کہ شریعت جو مصالح کی غیر معمولی رعایت کرتی ہے ، ان ناقابلِ برداشت کلفتوں کو گوارا نہیں کرتی ، اس لیے کہ شریعت کی اساس سراپا رحمت اور سراپا مصلحت ہے ، لہٰذا جب کوئی حکم عدل کے دائرہ سے نکل کر ظلم و زیادتی ، رحمت کی حدوں سے گزر کر زحمت ، مصلحت کی جگہ خرابی اور کارآمد ہونے کے بجائے بے کار قرار پائے تو وہ شرعی حکم نہیں ہو گا۔‘‘ (ج۱، ح۲، ص۱۴۸، ۱۴۹، ۱۵۰) 

حافظ ابنِ قیم ؒ نے کھلے الفاظ میں دینی تعبیرات میں ملحوظ مقصدیت کی صراحت کی ہے اور خود ہمارے ممدوح مولف کا رجحان بھی اسی جانب ہے لیکن اس رجحان پر نفسیاتی تحفظات غالب آتے نظر آتے ہیں ۔ تغیر و تبدل جیسی حقیقت سے آشنائی کے بعد بھی ان کا یہ کہنا کہ’’ اسلام نے بعض قانونی اور فکری امتیاز اور بنیادی اصول کو جوں کا توں باقی رکھتے ہوئے ایک مخصوص حد میں ضروری تغیر و تبدل اور واقعی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ایسی لچک باقی رکھی ہے جو اس کو فرسودگی سے بچائے رکھے‘‘، بعض سوالات پیدا کرتا ہے کہ زرعی دور میں تراشے گئے ’’بنیادی اصول‘‘ آخر کیوں کر اتنے بنیادی ہیں کہ فقط انہی کے دائرے میں رہتے ہوئے واقعی تقاضوں کی تکمیل کی جائے ؟ اس نظری سوال سے قطع نظر ، کیا واقعی ان کی مدد سے واقعی تقاضوں کی تکمیل (نظری اعتبار سے نہیں بلکہ) عملی طور پر ثمر آور نتائج کے ساتھ ممکن ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ آخر آج کے دور میں قرآن و سنت سے براہ راست ’’بنیادی اصول‘‘ کیوں دریافت نہیں کیے جا سکتے؟ ہم گزارش کریں گے کہ جس پہلو سے انسان غیر متبدل حقیقت ہے ، اس پہلو سے اسلامی قانون کی ابدیت صرف اور صرف قرآن و سنت سے مخصوص ہے نہ کہ کسی دور یا کسی امام کے اختراع کردہ بنیادی اصولوں سے ، چاہے یہ قرآن و سنت سے اخذ شدہ ہی ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اماموں کو شارح کے بجائے شارع تسلیم کرلیا جائے۔ 

سطورِ بالا میں علمِ دین سے لوگوں کی عدم دلچسپی پر خالد سیف اللہ صاحب کی فکر مندی کا جو جائزہ لیا گیا ہے، اس کے تناظر میں ہم خود کو یہ رائے دینے کا پابند خیال کرتے ہیں کہ مولف محترم کی دردمندی و غم گساری نے انہیں مسلم معاشرے کی زبوں حالی کی طرف متوجہ تو ضرور کیا ہے لیکن ان کی یہ توجہ ایسی ’’مربوط فکر‘‘ میں نہیں ڈھل سکی جو زرعی دور کی نفسیاتی حدود کو پھلانگ کر آج کے دور کے سنجیدہ مسائل کا عملی حل پیش کر سکتی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولف محترم چھکڑے میں بیٹھ کر جہاز کی سی تیزی سے سفر کرنا چاہتے ہیں۔ 

’ ’راہِ عمل‘‘ کی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ نمبر ۸۹ پر اپنے ایک مضمون ’’گناہ جو کبھی معاف نہیں ہوگا‘‘ میں خالد صاحب نے سورۃ النساء آیت ۹۳ کے حوالہ سے مومن کے قاتل پر انتہائی شدت سے گرفت کی ہے، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ خالد سیف اللہ رحمانی جیسی صاحبِ نظرشخصیت بھی مومن کے قاتل کے لیے مقتول کے اولیا کی طرف سے معافی اور دیت کی قائل ہے اور اس کے لیے انھوں نے استدلال سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۸ سے کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں آیات کے جدا جدا محل ہیں۔ سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۸ کے مطابق مقتول کے ورثا کو واضح طور پر فریق تسلیم کرتے ہوئے معاف کرنے اور دیت لینے کا حق دیا گیا ہے جبکہ سورۃ النساء آیت ۹۳ کے مطابق مسلمانوں کی کوئی اجتماعی ہیئت (ریاست وغیرہ) ہی قاتل کی فریق معلوم ہوتی ہے۔ دیت لینا اور معاف کرنا تو کجا، قاتل کو قصاص یعنی برابری ملحوظ رکھتے ہوئے قتل کرنے سے بہت بڑھ کر، عبرت انگیز انداز میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کی داخلی شہادت آیتِ مبارکہ میں قصاص کے بجائے ’’جزا‘‘ کالفظ دے رہا ہے اور جزا کے قرآنی اطلاقات کے مطالعہ سے یہی قرآنی منشا ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ خالد سیف اللہ رحمانی جیسی قدآور علمی شخصیت کی فقیہانہ نگاہوں سے’’ قصاص اور جزا ‘‘ کے انتخاب و اطلاق میں مضمر حکمت کیسے چھپی رہ گئی؟حالانکہ اس نوع کے قرآنی و نبوی اسلوب کی شہادت وہ خود ایک مقام پر دیتے ہیں:

’’ قرآن مجید میں عورت کی عدت کے لیے تین’قرء‘ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’قرء‘ کے معنی حیض کے بھی ہیں اور زمانہ پاکی کے بھی، اسی لیے بعض فقہا نے تین حیض مدت قرار دی ہے اور بعض نے تین پاکی۔ ظاہر ہے کہ ’قرء‘ کے دونوں معانی اللہ تعالیٰ کے علمِ محکم میں پہلے سے تھے، اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہوتا کہ احکامِ شرعیہ میں کوئی اختلافِ رائے نہ ہو تو قرآن میں بجائے’قرء‘ کے صریحاََ حیض یا طہر کا لفظ استعمال کیا جاتا ۔ یہی صورتِ حال احادیث نبوی میں بھی ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حالتِ اغلاق کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اغلاق کے معنی جنون و پاگل پن کے ہیں اور اکراہ و مجبوری کے بھی، چنانچہ اپنے اپنے فہم کے مطابق بعضوں نے ایک معنی کو ترجیح دی ہے اور بعضوں نے دوسرے معنی کو، حال آں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افصح العرب یعنی عرب کے سب سے زیادہ فصیح شخص تھے، اگر آپ چاہتے تو ایسی واضح تعبیر اختیار فرماتے کہ ایک ہی معنی متعین ہو جاتا، دوسرے معنی کی کوئی گنجایش باقی نہ رہتی‘‘۔ (اختلاف میں اعتدال: ج۲، ح۴، ص۳۲)

تشویش ناک بات یہ ہے کہ مولف محترم (ج۱، ح۲، ص۱۰۱،۱۰۲) اسلامی ریاست میں مرتد کے قتل کے اس لیے قائل ہیں کہ اس کا ارتداد ملک و سیاسی نظام سے بغاوت کے متراف ہے ، لیکن جناب کی نگہِ التفات مومن کے قتل کے ’’بالفعل ارتداد‘‘ کی جانب نہیں اٹھی۔ اس موضوع پر چونکہ ہم قدرے تفصیلی بحث ماہنامہ الشریعہ میں ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ کے زیرِ عنوان کر چکے ہیں، لہٰذایہاں محض توجہ دلانے پر اکتفا کرتے ہیں۔

تاریخ کاایک ادنیٰ طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ برِ عظیم میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور انگریزوں کی آمد کے بعد مسلم فکر دو متوازی دھاروں میں منقسم رہی ہے: ایک دھارا علی گڑھ تحریک کی صورت میں نمودار ہوا ، اور دوسرا دھارا جو اس تحریک سے بھی پہلے کسی نہ کسی روپ میں موجود تھا، اس تحریک کے بعد اس کی مخالفت میں زیادہ شدت سے ابھرا ۔ اس خطہ کے مسلم سماج کی داخلی تقسیم میں ان دونوں دھاروں کاتقریباً یکساں کردار رہا ہے۔ اگرچہ ہر دو نے اپنے اپنے فکری منہج کے مطابق مسلم سماج کی تشکیل و احیا میں بھی اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے، لیکن یہ دوئی اور تفریق اکیسویں صدی میں بھی پوری آب و تاب سے موجود ہے اور صورتِ حال کو تشویش ناک حد تک بگاڑنے کا باعث بن رہی ہے۔ خالد سیف اللہ صاحب کو اس بگاڑ کا پورا پورا احساس ہے، اس لیے ’’کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیات‘‘ کے عنوان سے وسیع المشربی کا ثبوت دیتے ہوئے علما کی توجہ مسلم سماج کے اس اہم پہلو کی جانب مبذول کراتے ہیں : 

’’ امت کا ایک بہت بڑا طبقہ وہ ہے جس نے جدید علوم کو حاصل کیا ہے ، جیسے ہمارے علما دین کا وجود ایک ضرورت ہے ویسے ہی عصری علوم کے ماہرین بھی ہمارے لیے بہت بڑی ضرورت ہیں ہم ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے ، یہ قوم کا بہت بڑا اثاثہ ہیں ، یہ عام طور پر اسلام کے بارے میں مخلص بھی ہیں ، اگر کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جو دین کے مزاج و مذاق کے خلاف ہیں ، تو یہ زیادہ تر ان کی ناواقفیت اور نہ آگہی کی وجہ سے ہے اور باہمی غلط فہمی کی وجہ سے ، علما اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان ایک خلیج سی پیدا ہوتی جارہی ہے ، یہ بہت افسوس ناک ہے اور اس میں زیادہ تر محض باہمی دوری اور غلط فہمی کو دخل ہے ۔ علما کا فریضہ ہے کہ وہ اس طبقہ کو امت کی بہترین امانت سمجھ کر قریب کریں ، ان کے شکوک و شبہات کو تحمل کے ساتھ سنیں اور محبت کے ساتھ ان شکوک کے کانٹوں کو ان کے دلوں سے نکالیں ۔ امت میں جو لوگ فکری اعتبار سے راہِ مستقیم سے منحرف ہوں ، ان کے ساتھ ہمارا سلوک وہی ہونا چاہیے جو ایک ہم درد اور فرض شناس معالج کا اپنے نا سمجھ مریض کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ہمارا رویہ ان کے ساتھ فریق اور رقیب کا نہ ہو ، بلکہ رفیق اور صدیق کا ہو ‘‘(ج۲، ح۵، ص۷۲، ۷۳) 

(جاری)

آراء و افکار