’’موجودہ عالمی استعماری صورتِ حال اور فیض کی شاعری‘‘

پروفیسر میاں انعام الرحمن

پاکستان میں اقبالؔ کے بعد جن شعرا کوقبولیتِ عامہ ملی ہے، ان میں فیض احمد فیضؔ نے نئی نسل کو غالباً سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ فیضؔ نے دست یاب صورتِ حال میں (in the given situation) جس متانت و سنجیدگی اور مدھر و دھیمے لہجے میں ترقی پسندانہ خیالات کا شاعرانہ اظہار کیا، تمام حلقوں نے ہمیشہ اس کا اعتراف اور احترام کیا ہے۔

حکومت پاکستان نے ۲۰۱۱ کو ’فیض کا سال‘ قرار دیا ہے۔ اکادمی ادبیات نے اس سلسلے میں فیض کانفرنس منعقد کر کے فیض احمد فیضؔ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کانفرنس میں پڑھے گئے مقالات فیضؔ کو خراجِ تحسین کے بجائے ’خراج‘ ادا کرنے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ خراجیات کے اس شگوفے کی تدوین و ترتیب کا ’شرف‘ یونی ورسٹی آف گجرات کے ایڈیشنل رجسٹرار شیخ عبدالرشید صاحب کو حاصل ہوا ہے اور اسے سہواً ’’موجودہ عالمی استعماری صورتِ حال اور فیض کی شاعری‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ پونے تین سو (۲۷۵) صفحات کی کتاب میں بمشکل پانچ سات صفحات ہی ایسے ہیں جو دل فریب عنوان سے تو مناسبت رکھتے ہیں۔ ہم جیسے، ادب سے واجبی سی دلچسپی رکھنے والے موسمی نقاد بھی (جنہیں بآسانی غیر موسمی قرار دیا جا سکتا ہے) یہ بات جانتے ہیں کہ کسی ادبی صنف کو اپنا آپ منوانے میں برسوں لگتے ہیں، لیکن خراجیات کا یہ شگوفہ ایک ہی کانفرنس میں کچھ اس طرح چٹکا ہے کہ کریڈٹ لینے کی خاطر چار حریف لپکے جا رہے ہیں۔ (۱) مقالہ نگار حضرات، (۲) اکادمی ادبیات، (۳)حکومت پاکستان، (۴)یونی ورسٹی آف گجرات۔ اگر فیضؔ حیات ہوتے تو شاید پانچویں حریف وہ خود ہوتے۔ 

مقالات کے بین السطور مقالہ نگار حضرات مصر ہیں کہ خراجیات کا شگوفہ انہی کا مرہونِ منت ہے۔ اکادمی ادبیات کا جوابی اصرار یہ ہے کہ کانفرنس کا انعقاد نہ ہوتا تو یہ شگوفہ کیونکر ظہور پذیر ہوتا؟ کچھ اسی قسم کا دعویٰ حکومت پاکستان کا ہے کہ ۲۰۱۱ کو فیض کا سال قرار نہ دیا جاتا تو اکادمی ادبیات کو فیض کانفرنس کا خیال تک نہ سوجھتا۔ ان تینوں کی چپقلش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یونی ورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے خراجیات کے شگوفے کو اپنی یونی ورسٹی کے احاطے سے اٹھکیلیاں کرتے تاڑ لیا ہے۔ موصوف اسے رجھانے بلکہ ورغلانے کی کوشش میں ہیں، دیکھیے ذرا: 

’’فیض احمد فیضؔ کے صد سالہ یومِ ولادت اور سالِ فیض کی مناسبت سے یہ پاکستان کی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ جامعات میں سے پہلی یونی ورسٹی ہے جس نے انہیں یاد کرتے ہوئے کتابی صورت میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ’فیضیات‘ کے حوالے سے یہ کتاب پیش کرنے کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے مجھے طمانیت و فخر کا احساس ہو رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب فیضیات کے ضمن میں اہم حوالہ ثابت ہوگی۔‘‘ (ص ۱۱)

ڈاکٹر صاحب اناڑی نکلے۔ ان کے قلم کی لغزش (slip of the pen) نے ایک نئی ادبی صنف متعارف کروانے کا کریڈٹ کھو دیا ہے۔ افسوس صد افسوس! نوکِ قلم نے خراجیات کے بجائے فیضیات لکھ دیا ہے۔ اگر وائس چانسلر صاحب سے یہ غیر شعوری غلطی(slip of the mind) نہ ہوتی تو قوی امید تھی کہ خراجیات کا یہ شگوفہ گجرات یونی ورسٹی کے نام ہو جاتا اور یونی ورسٹی کے لیے بنیادی حوالے کی چیز بھی بن جاتا۔ 

اس انوکھے شگوفے کو اکادمی ادبیات کے کھاتے میں ہرگز نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ اس نے وہی کام کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ یہ تو مقالہ نگاروں کا اپنے کام سے (بزبانِ فیضؔ ) عشق ہے جس کی وجہ سے ایک نئی ادبی صنف ’خراجیات‘ ایک شگوفے کے مانند چٹک کر سامنے آ گئی۔ اس ادبی صنف کے مطالعے سے پہلے ہمارا گمان تھا کہ ترقی پسندی اور حقیقت پسندی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ لیکن اکادمی ادبیات نے مقالہ نگاروں کو، استعماریت کے مفاہیم سے روشناس کرائے بغیر، موجودہ عالمی صورتِ حال کا ادراک کرائے بغیر، اور تو اور فیضیات کے ضمن میں چند اہم کتابیں پڑھوائے بغیر، اس پر مستزاد مقالہ نگاری کی مشق کا اہتمام کیے بغیر فیضؔ کانفرنس منعقد کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نئی ادبی اصناف کی اختراع، محض ترقی پسندانہ حقائق سے ممکن نہیں، بلکہ مقالہ بازی کو فروغ دینے والے مقالہ نگاروں کے طفیل ہی اذہان میں مدفون ایسے خزانے باہر لائے جا سکتے ہیں جنہیں بعد ازاں بڑی آسانی سے خراجیات جیسا ’معتبر‘ نام دیا جا سکتا ہے۔ 

اب یہ شگوفہ پھوٹ نکلا ہے تو دیکھتے ہیں کہ فیض احمد فیضؔ کے بعد کس ترقی پسند کے ساتھ حقیقت پسندی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ فی الحال اس سلوک کا مستحق فیضؔ ہی ٹھہرے گا کہ حکومت پاکستان نے ۲۰۱۱ کو فیضؔ کا سال قرار دیا ہے۔ آپس کی بات ہے، اگر بھٹو کیس ری اوپن کرنے سے پہلے سالِ فیضؔ کی مناسبت سے پنڈی سازش کیس ری اوپن کیا جاتا تو تاریخ کی درستی، تاریخی درستی کے ہمراہ سامنے آجاتی اور تاریخ کی درستی کی ایک فضا بھی تیار ہو جاتی جس میں بھٹو کیس کی شنوائی خوب طنطنے اور غلغلے سے ہوتی۔ ہمارا وجدان بتا رہا ہے کہ حکومت نے یہ کام اشارتاً اکادمی ادبیات کے سپرد کر دیا تھا۔ اب اکادمی ’ سالِ فیض‘ کے مضمرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے پنڈی سازش کیس پر کانفرنس کا اہتمام نہیں کر سکی تو حکومت کا کیا قصور؟ 

البتہ فیضؔ کانفرنس میں گورنر پنجاب جناب سردار محمد لطیف خان کھوسہ کی صدارت، کسی حد تک اکادمی کی اشارہ فہمی کی دلیل ہے۔ اگر یہ کانفرنس ’پنڈی سازش کیس اور فیض احمد فیضؔ ‘ کے زیر عنوان منعقد ہوتی تو لطیف کھوسہ صاحب اپنے خطبہ صدارت میں اس عزم کے ساتھ گورنری چھوڑنے کا اعلان فرماتے کہ وہ خود اس کیس میں وکالت کے فرائض سر انجام دیں گے۔ یار لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ منعقد شدہ فیضؔ کانفرنس میں جناب گورنر کے خطبہ صدارت سے جس درجے کی ’پختگی‘ ٹپک رہی ہے، اس سے یہ مفروضہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ ان کا استعفا ان کی جیب میں موجود تھا۔ یہ تو کانفرنس کے رنگ ڈھنگ اور خراجیات جیسے شگوفے کو دیکھتے ہوئے گورنر صاحب عین وقت پر مستعفی ہونے سے تائب ہو گئے، ورنہ آج تاریخ کا دھارا مختلف ہوتااور بابر اعوان صاحب استعفیٰ دینے میں سبقت نہ لے جا سکتے۔

ادبیات