آئیے! اپنا کتبہ خود لکھیں

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تمدنی زندگی کی گہما گہمی میں ہمارے پاس سوچ بچار کے لیے عموماً وقت نہیں ہوتا ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ویسے بھی غور و فکر کے تقریباً سبھی راستے مسدود کر دیے ہیں ۔ آخر معلومات کے سیلاب میں بہنے والوں کو توقف و ٹھہراؤ کی فرصت کہاں ! جدید عہد کی یہی بربریت ہے۔ ہر شخص کے پاس معلومات کا ڈھیر ہے اور تقریباً ہر شخص بے شعور ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا معلومات ، شعور و آگہی کا بدل ہو سکتی ہیں ؟ مثلاً لوگ جانتے ہیں کہ امریکی صدر کے لیے کم از کم ۳۵ سال کا ہونا ضروری ہے اور پاکستان میں ۱۹۷۳ کے دستور کے تحت صدر کی کم از کم عمر ۴۵ سال ہے۔ اسے ہم معلومات کے زمرے میں شمار کریں گے ، لیکن جب کوئی شخص یہ جاننے کی کوشش کرے کہ دونوں ممالک میں یہ عمریں کیوں رکھی گئی ہیں اور ان میں یہ تفاوت کیوں ہے تو آگہی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس آغاز کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ ’’ریکارڈر‘‘ رہنے پر قانع ہو جاتے ہیں۔ جب معلومات کا بہاؤ تسلسل اور تیزی سے جاری ہو تو ایسا ہونا حیرت انگیز نہیں ہے۔ اگر ہم اس بات کے خواہاں ہیں کہ معاشرے میں اور تمدنی زندگی میں شعور وآگہی کو فروغ ملے تو ایک معلومات سے دوسری معلومات تک ’’وقفہ‘‘ دینا ہو گا تاکہ پہلی معلومات کے تمام پہلو ، شیڈز اوراس کی ممکنہ جہتیں سامنے آسکیں اور معلومات رکھنے والا ادراک و آگہی کا حامل ہو سکے ۔ اگر یہ ’’وقفہ‘‘ نہیں ہو گا تو ایک ہیجان جنم لے گا، معلومات کا ہیجان ، جس کا کوئی مقصد نہیں، کوئی محور نہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی تالاب میں پتھر مسلسل پھینکتے جائیں تو لہریں مرتعش رہیں گی لیکن مسلسل چھناکے کی آوازوں اور تالاب میں ابتری کے سوا آپ کے ہاتھ آخر کیا آئے گا؟ اگر یہی عمل آپ ذرا وقفے وقفے سے کرتے جائیں تو ایک پتھر پھینکنے سے چھناکے کی جو آواز ابھرے گی، ہوسکتا ہے وہ آپ کے لیے ’’آوازِ دوست‘‘ ثابت ہو (از کجا می آید ایں آوازِ دوست) اسی طرح جو بلبلے سطح آب پر رقصاں ہوں گے اور ایک لہر اٹکھیلیاں کرتی ہوئی جس ناز سے دوسری لہر کو بیدار کرتی محسوس ہوگی، چراغ سے چراغ جلنے کے مثل، تو ہوسکتا ہے زندگی کی معنویت، اس کی وسعت اور اس کے تفہم کے حوالے سے چند پوشیدہ گوشے آپ پر آشکار ہو جائیں ۔ لیکن مسلسل تجربے اور معلومات کا طوفان ہیجان انگیز ہی ہوسکتا ہے جس کی کوئی جزئیات نہیں ، حالانکہ زندگی تو حرف حرف جمع لفظ اور قطرہ قطرہ جمع قلزم کی مانند ہے ۔ 

آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایک مرتبہ حاصل کی ہوئی ’’آگہی‘‘ تمدنی زندگی کے گرداب کا شکار ہو سکتی ہے ۔ میرا خیال ہے، آپ آگہی ’’کھو‘‘ نہیں سکتے اگر آپ کے حواس ٹھیک کام کر رہے ہوں ۔ مثلاً جب آپ موٹر سائیکل چلانا سیکھتے ہیں تو باقاعدہ پورے شعور کے ساتھ ہینڈل پر گرفت کرتے ہیں، بریک اور گےئر کا استعمال کرتے ہیں وغیرہ، لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ یہی عمل ’’خود کار‘‘ انداز میں کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ آپ نے ڈرائیونگ کا تفہم کھو دیا ہے، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ وہ تفہم آپ کی ذات اور ادراک کا حصہ بن چکا ہوتا ہے، لہٰذا ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔یہی بات زندگی کے دوسرے پہلوؤں کی بابت بھی سچ ہے ۔ آپ ایک بار آگہی کے حامل ہوجائیں، یہ آپ سے کبھی دور نہیں ہوگی، حتیٰ کہ تمدنی زندگی کی تیز رفتاری بھی ’’فصیلِ آگہی‘‘ میں دراڑیں نہیں ڈال سکے گی (شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بااخلاق وہ ہے جو ’’روز مرہ زندگی ‘‘ میں بااخلاق ہو، ایسا نہیں کہ کبھی کبھاراوکھے سوکھے اخلاق کا مظاہرہ کر دیا) لیکن آگہی پانے کے لیے آپ کو وقت دینا ہو گا ، اپنے آپ کو ، پوری یکسوئی کے ساتھ۔ 

قارئینِ کرام ! تمدنی زندگی کے ہنگاموں سے بچتے بچاتے، اپنے آپ کو وقت دینے کے لیے ، حق و صداقت اور زندگی کی حقیقت پانے کے لیے اگر ہم ’’شہرِ خاموشاں‘‘ میں داخل ہوجائیں تو اپنی بساط کا فوراً احساس ہوجاتا ہے۔ ہر طرف قبریں ہی قبریں، ان انسانوں کی جو کبھی میری اور آپ کی طرح اسیرِ حیات تھے اور آج دنیا کے ہنگاموں سے بے نیاز موت کی قید میں خاموش پڑے ہیں ۔ اول تو یہ منظر ہی آفاقی آگہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ، لیکن اگر آپ اس منظر کے طلسم میں ڈوبتے نہیں تو آپ کی نظریں ’’کتبوں ‘‘ سے دوچار ہوں گی ۔ یہ کتبے اور ان پر کندہ عبارتیں آپ کی زندگی کو نئی راہ بخش سکتی ہیں۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا ،یہ نئی راہ ان کے نصیب میں بھی ہوتی جن کی قبروں پر یہ کتبے آویزاں ہیں۔ ایسا اسی صورت میں ہوسکتا تھاکہ وہ لوگ بھی جوہانس کیپلر (۱۶ ویں ۱۷ ویں صدی کا ماہرِ فلکیات) کی طرح اپنی زندگی میں ہی اپنا کتبہ خود لکھوا لیتے۔ (یہ مضمون کیپلر کے اس عمل اور کتبے کی عبارت سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے اس لیے اسی کی نذر ہے)۔ کیپلر کا کتبہ تھا :

’’میں نے آسمانوں کی پیمائش کی۔ اب میں سایوں کو ناپتا ہوں۔ میرا ذہن آسمان کو چھوتا تھا اور جسم زمین پر محوِ خواب ہے ‘‘

اس کتبے کی معنویت اپنی جگہ ، اصل بات یہ ہے کہ کیپلر کی شخصیت اور اس کے شخصی اثرات اس عبارت سے ہم آہنگ تھے ۔ کیا ہماری بستی کے قریب شہرِ خموشاں میں موجود کتبوں کی عبارتیں ، ان شخصیات اور ان کے اثرات سے ہم آہنگ ہیں ؟ اگر آپ غیر جانبدار ہیں تو جواب ’’نفی ‘‘ میں دیں گے ۔ اگر آپ جانبداری سے کام لیتے ہوئے ’’ہاں ‘‘ میں جواب دینا بھی چاہیں تو ان کے اثرات کی حامل موجودہ معاشرتی ابتری ،آپ کے ہاں کو ’’مشکوک ‘‘ ٹھہرانے کو کافی ہوگی ۔ 

بہر حال ! مذکورہ صورت کا الزام مرحومین کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ انھوں نے اپنے کتبے خود نہیں لکھوائے تھے بلکہ ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثا نے لکھوائے ہیں ۔ ’لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ‘ سے لے کر ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘ تک ، زندگی کی بنیاد، جواز، حقیقت اور آدرش کی حامل عبارتیں آپ کو کتبوں پر ملیں گی۔ یقین جانیے اگر کسی اور عہد کا انسان پھرتا پھراتا اچانک ادھر آ نکلے اور کتبوں کی عبارتوں کو مکمل ادراک سے پڑھ سکے تو وہ ہمارے عہد کی بابت (کائناتی سچ کو گرفت میں لینے کے حوالے سے) انگشت بدنداں رہ جائے ۔ ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘ فرد کا نہیں ، آدمیت کا کتبہ ہے۔ نوعِ انسانی کا کتبہ ، تمام زمانوں پر محیط ،تما م مقاموں پر حاوی۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم لوگ بلا ادراک اور بغیر آگہی کے اس آیتِ کریمہ کو کتبے پر تحریر کروا لیتے ہیں۔ اگر مکمل شعور اور آگہی سے یہ عمل کیا جائے تو کیا موجودہ معاشرتی ابتری قائم رہ سکتی ہے ؟ اگر ہم جوہانس کیپلر کی مانند اپنا کتبہ خود لکھیں جو ہماری شخصیت سے ہم آہنگ ہو تو لا محالہ ہم خود کو ،سب سے پہلے اس آیتِ کریمہ کی تفہیم اور ادراک پر آمادہ کریں گے جس کے اثرات ہماری اپنی ذات پراور معاشرے پر بہت مثبت مرتب ہوں گے ۔ لیکن ہم تو ا لفاظ کی حرمت ’’پامال‘‘ کرنے پر تلے ہوئے اور الفاظ کو ’’کھوکھلا‘‘ کرنے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں ۔ جلسے جلوسوں سے لے کر کسی بھی فنکشن میں چلے جائیں ، آپ کومقررین چیختے چلاتے نظر آئیں گے، بھاری بھرکم فصیح و بلیغ الفاظ استعمال کرتے ہوئے۔ اور سامعین اونگھتے دکھائی دیں گے ، کیونکہ نہ تو بولنے والے کو الفاظ کی حرمت کی پاسداری ہے اور نہ سننے والے کو کہ دونوں بے شعور ہیں ۔یہ عجیب امر ہے کہ ہمارے خطیب اور مقررین (خاص طور پر مذہبی ) اپنی شعلہ فشاں تقاریر کا اختتام ’’وما علینا الا البلاغ ‘‘ پر کرتے ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ اس آیتِ مبارکہ پر اپنے ’’تاریخی خطاب ‘‘کے اختتام سے ذرا قبل تک ان کا رویہ اپنے زاویہ نگاہ کو ’’ٹھونسنے ‘‘ والا ہوتا ہے۔ ’وما علینا الا البلاغ‘ تو محض اتمامِ حجت کے لیے یا عادتاً کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ عادت کچھ ایسے ہی ہے جیسے دیہاتی لوگ گھر سے بھینس کو کھولتے ہیں تو وہ عادت کے تحت سیدھی ’’ڈیرے یا مربے ‘‘ جا پہنچتی ہے۔اگرچہ راستے میں موقع پا کر ’’منہ ماری ‘‘ بھی کر جاتی ہے۔ 

’الا البلاغ‘ کی اصل روح سے یہ دوری اور اس کی انتہائی منفی توجیہ صرف ہمارے ہاں ہی عملی صورت میں نہیں ہے بلکہ اکثر ممالک کے قانون ساز اداروں، فیصلہ سازی کی کمیٹیوں اور اقوامِ متحدہ کے بڑے بڑے اداروں میں یہی منظر ’’سرِ منظر ‘‘ ہوتا ہے، (خیال رہے کہ الاالبلاغ کو کم از کم نظری سطح پر ہر قوم میں پذیرائی حاصل ہے) اس سے بڑھ کربھلا لفظ کی بے توقیری اور بے وقعتی کیا ہو گی؟ خاص طور پر اس تناظر میں کہ انسان ’’حیوانِ ناطق ‘‘ ہے ۔ لیکن ’ از دل خیزد بر دل ریزد، کے مصداق ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو لفظ کی حرمت و تقدس کے پاسبان بنے ہوئے ہیں ۔ ایسے ہی کسی شخص سے کچھ سننے کے بعد میں نے اپنی کیفیت ان الفاظ میں قلم بند کی تھی : ’’زندگی ! لفظ کے لمس سے شناسائی ہے ‘‘۔ میرا دعویٰ ہے اس فقرے کے کیف سے میں اب بھی لطف اٹھاتا ہوں اور ذاتی طور پر ان مقررین اور مصنفین کا تہہِ دل سے ممنون ہوں جو حالاتِ حاضرہ سے لے کر زندگی کے دیگر پہلوؤں کی تفہیم کے ضمن میں پیش قدمی کا موجب بنے۔ شاید ممنونیت اور اظہارِ تشکر بھی ان کے اثرات کا نتیجہ ہے (ورنہ کون ممنون ہوتا ہے)

بہر حال ، ہمیں بولتے اور لکھتے وقت بلکہ ہر معاشرتی عمل سے پہلے ’’با شعور ‘‘ ہونا چاہیے ۔ جٹکے انداز سے کلمہ طیبہ پڑھنے سے یا فصاحت و بلاغت کے دریا بہا نے سے معلومات، آگہی کے زمرے میں نہیں آجاتیں ۔ دھڑا دھڑ پریس کانفرنسیں اور لمبی لمبی تقاریر کرنے کے بجائے اگر ہمارے قائدین اپنی ذات کی انتہائی اکائیوں کے ساتھ لفظ کی حرمت ملحوظ رکھتے ہوئے صرف ’’ایک فقرہ ‘‘ بول دیں یا لکھ دیں تو شاید بہتری کی امید بندھ جائے ۔ بے عملی اور منافقت کے گھناؤنے سرکل کو توڑنے کے لیے ہمیں لفظ کو اس کے معانی لوٹانے ہوں گے ، ہمیں اپنا کتبہ خود لکھنا ہو گا ، شعور و آگہی کو معاشرتی عمل میں ڈھالنا ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی مرحوم نے اپنا کتبہ خود لکھ رکھا تھا (باقاعدہ نہ سہی بے قاعدہ ہی سہی) وہ کتبہ تھا ، ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انا خاتم النبیین لا نبی بعدی ‘‘۔ ذرا مولانا کی شخصیت اور ان کے اثرات پر کم از کم سرسری نظر ہی دوڑائیے اور بتائیے ،کیا وہ ان کے کتبے سے ہم آہنگ نہیں ہے ؟ میری رائے میں اس وقت تمام مسلمان ’’قائدین ‘‘ کو درج ذیل کتبے کی اشد ضرورت ہے:

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو ‘‘۔ 

آراء و افکار

(ستمبر ۲۰۰۴ء)

Flag Counter