غیر مادی کلچر میں عورت کے سماجی مقام کی تلاش

پروفیسر میاں انعام الرحمن

جب سے یہ کائنات بنی ہے اور جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے ، تب سے اس ارضِ رنگ و بو میں خیر و شر کا معرکہ برپا ہے ۔ اب تک کی معلوم تاریخ کی یہی مختصر داستان ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے مخصوص احوال و ظروف پر عمیق نظر رکھتے ہوئے اس کی معنوی شناسائی کے درپے ہوں تو معلوم تاریخ، انسانیت کی جستجو سے عبارت دکھائی دے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوعِ انسانی کئی صدیوں سے اپنی ضروریات کے جبر اور تخیلات کی پرواز کے ذریعے مادی کلچر کو منصہ شہود پر لا رہی ہے۔ تلوار، ٹینک، بندوق، ہل، ٹریکٹر، جہاز اور میزائل سے لے کر تفریحی کھیلوں اور آرٹ کے متجسم نمونوں تک انسانی ترقی کے تمام شواہد و ظواہر اس مادی کلچر کی زندہ مثال ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بہت واضح ہے کہ اس مادی کلچر کی افادیت اور معنویت ، غیر مادی کلچر (ضروریات کے جبر اور فراغت کی لطافت سے جنم لینے والے خیالات وغیرہ )کی مرہونِ منت ہے ۔ مثلاً اگر فٹ بال کے کھیل کا فہم اور اس کے اصول و قواعد انسان کے لیے بے معنی ہو جائیں تو فٹ بال ( جو مادی کلچر کے تفریحی پہلو کی علامت ہے) کی افادیت و ضرورت بالکل ختم ہو جائے گی۔ ہماری رائے میں ایسے خاتمے کی زندہ علامت مغرب کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے وہ چرچ بھی ہیں جو کبھی مغربیوں کی زندگی کے عکاس تھے لیکن جہاں اب خود زندگی بھیک مانگتے دکھائی دیتی ہے۔ 

اب ہم تصویر کے دوسرے رخ پر نظر ڈالتے ہیں ۔ معلوم تاریخ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ خود انسانی وجود ، بطور مادی کلچر ہر عہد میں موجود رہا ہے۔ یہ مادی کلچر ( یعنی انسانی وجود ) انسانی خیالات کا تراشیدہ نہیں ہے، اگرچہ انسان نے مختلف ادوار میں کئی صنم کدے ضرور تعمیر کیے ہیں ۔مادی کلچر کی یہ جہت ( یعنی انسانی وجود ) بھی اس وقت تک ہی اہم اور زندہ رہ سکتا ہے جب تک اس سے متعلق فہم اور اصول و قواعد موجود رہیں، ورنہ اس کا انجام بھی اس مادی کلچر کی طرح ہو سکتا ہے جو صرف میوزیم کی چار دیواری میں ہی کروٹیں لیتا ہے لیکن زندگی کے لمحہ گزراں میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، جیسا کہ مغربی کرے میں واقع فلک بوس چرچ۔ یوں زندگی کی ندی حقیقت میں دو متوازی کناروں کے درمیان ہچکولے کھا تی محسوس ہوتی ہے۔ ایک کنارہ انسانی تخیلات سے متشکل ہو رہا ہے اور دوسرا کنارہ متشکل ہونے کے ناطے اپنے جواز کی صورت پذیری کر رہا ہے۔یہ کنارے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور زندگی کی ندی ان کے درمیان رواں دواں ہے ۔

اس مختصر بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ زندگی، انسانیت کی جستجو کا نام ہے اور انسان ، انسانیت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ بلاشبہ انسان ( مادی کلچر ) اپنے آپ کو بامعنی بنانے کے لیے انسانیت ( غیر مادی کلچر ) کا متلاشی ہے اور پیغمبروں نے خداکے حکم سے نوعِ انسانی کو اسی تلاش میں متحرک وانگیخت کرنے کے ساتھ ساتھ مدد دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ اس تلاش میں کامیابی کے بعد ہی انسان اپنے مخصوص احوال وظروف میں ایک ایسے بہتر مادی کلچر تخلیق کر سکتا ہے جس کے محرک خیالات ، انسانیت کے خمیر میں گندھے ہوئے ہوں ۔ 

تاریخ کے قدیم دور سے لے کر ہمارے اپنے عہد تک صنفِ نازک ( یعنی عورت جو انسان بھی ہے )کے اس سماجی مقام کی نوعیت ہمیشہ زیرِ بحث رہی ہے جسے انسانیت کے دائرے میں شمار کیا جا سکے تا کہ انسان اپنی معنوی شناسائی کی اس بعُد کوبھی چھو سکے ۔ اس ضمن میں معلوم تاریخ کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ صنفِ نازک ہر دور میں مرد کے زیرِ نگین رہی ہے، اگرچہ عورت کی برتری کی چند استثنائی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ جہاں تک پیغمبروں کا تعلق ہے، انھوں نے بھی خدائی حکم کی پیروی میں صنفِ نازک کے ایسے سماجی مقام کو انسانیت کی حدود میں تسلیم کیا ہے جو شاید پہلی نظر میں اور بظاہر مرد کے مقابلے میں کمتر دکھائی دے۔ ہم اس سلسلے میں قدیم آسمانی صحیفوں اور نبیوں کی طرف مراجعت کرنے کے بجائے ناسخِ کتب الٰہیہ قرآن مجیدکے احکامات اور خاتم النبیین محمد ﷺ رسول اللہ کی عملی تفسیر کا حوالہ دینا پسند کریں گے ۔ نزولِ قرآن مجید اور بعثتِ نبوی ﷺ کے وقت عرب اور کرۂ ارض کے دیگرخطوں کے باسیوں کی حالتِ زار کے متعلق یہ کہنا کفایت کرے گا کہ ان کے ہاں عورت ’’انسان‘‘ نہیں سمجھی جاتی تھی۔ عورت کے سماجی مقام کی اس سطح (حالانکہ یہ کوئی سطح نہیں ہے ) سے ہی نہ صرف متعلقہ کلچروں کی انسانیت فہمی کی انتہائی کمتر اور پست سطح ظاہر ہو رہی تھی بلکہ اس کی کوکھ سے شواہد و ظواہر میں ابتذالی مادی کلچر بھی جنم لے رہا تھا۔ اس مخصوص انسانی احوال و ظروف میں ربِ کائنات کی بخشی ہوئی ہدایت کی روشنی میں خاتم النبیین ﷺ نے انسان کی انسانیت فہمی کی درستی کے لیے عورت کے سماجی مقام کو وہ سطح عطا کی جس کے بعد یہ ممکن ہو سکا کہ انسان ، انسانیت نواز مادی کلچر کی تشکیل کر سکے۔ اہم بات یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے انسانی تاریخ کے روایتی دھارے سے ہٹ کر عورت کے سماجی مقام کوromanticise کرنے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی۔ آپ نے حقوقِ نسواں کی کوئی تحریک شروع نہیں کی۔ حکم الٰہی کی پیروی اور انسانی تاریخ کے اسباق کی مطابقت میں ( خیال رہے کہ تشریعی احکامات اور تکوینی مظاہر متضاد نہیں ہو سکتے) آپ ﷺ نے مردکی برتری کے پیشِ نظر مرد کے اس رویے کی اصلاح کی جو عورت سے متعلق تھا ۔ عورت کی حالتِ زار اور مظلومیت کا اس کے علاوہ اور کوئی مطلب نہیں تھا کہ مرد اپنے اصل مقام سے ہٹ گیا ہے، کیونکہ مرد کی بظاہر برتری کے مظہر کے باوجود ، اگر مرد اپنے مردانہ سماجی مقام سے انحراف نہ کرے تو عورت کبھی بھی ایسے سماجی مقام کی مستحق نہیں ٹھہر سکتی جو اسے مظلومیت کی علامت بنا ڈالے ۔ آپ ﷺ نے عورت کے سماجی مقام کی کمتری کو romanticise کرنے اور عارضی ، جعلی و مصنوعی مساوات کا نعرہ لگانے کے بجائے ، مرد کو مردانگی کی تلاش میں مدد دے کر عورت کو استحقاقی سماجی مقام عطا کیا ۔ 

ہمارے اپنے عہد میں اگر حقوقِ نسواں کی تحریکوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عورت اپنے روایتی تاریخی مقام سے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے تو اس کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسانیت اپنی مردانگی کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ بہت عجیب بات ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو عورت کی بے جا آزادی اور بے لگامی بہت چبھتی ہے، لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اس کی وجہ پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں کہ آخر ایسا کیونکر ہو رہا ہے، اگرچہ ’’کیونکر‘‘ کے بعض نام نہاد متلاشی ، شواہد و ظواہر کے مادی کلچر (صنعتی انقلاب ، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ) کو الزام دے کر اس غیر مادی کلچر ( انسانیت فہمی کی نا درستی ) سے صرفِ نظر کیے ہوئے ہیں جو مسئلے کا اصل سبب ہے ۔یہ بات کچھ ایسے ہی ہے جیسے کسی کمرے میں موجود رائٹنگ ٹیبل کی جگہ تبدیل کر دی جائے۔ پھر لامحالہ کرسی کو بھی نئی جگہ پر ٹیبل کے قریب رکھ دیا جائے اور ٹیبل کو نظر انداز کرتے ہوئے کرسی پر الزام دھرا جائے کہ اس نے خوامخواہ اپنی جگہ تبدیل کر لی ہے۔ کوئی بھی معروضیت پسند ایسا الزام لگانے کی غلطی نہیں کرے گا ۔ وہ یہ بات بہت اچھی طرح جانتا ہو گاکہ ٹیبل کے اپنے مقام سے ہٹنے کے بعد کرسی کا اپنے مقام سے ہٹ کر نئے مقام پر منتقل ہونا نا گزیر ہے۔ اگر کرسی کو سابقہ مقام پر منتقل کرنا مقصود ہو تو ٹیبل کاسابقہ مقام پر انتقال ، بنیادی تقاضا بن جا تا ہے ۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے وجود کو با معنی بنانے کے لیے غیر مادی کلچر کی درستی کرے کہ اپنے وجود کی معنوی شناسائی کے طفیل ہی وہ اپنی کھوئی ہوئی مردانگی پا سکتا ہے ، جس کے بعد اس کی افراط و تفریط کی شکار بعُد ( حالانکہ حقیقت میں افراط و تفریط مرد کے ہاں ہے) جسے ہم صنفِ نازک کہتے ہیں، خود بخود متوازن راہ چن لے گی۔

آراء و افکار