مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت میں قرآن و سنت کی اہمیت

پروفیسر میاں انعام الرحمن

مسلم تاریخ کے بیشتر ادوار میں مسلم تہذیب، اسلامی شناخت سے بہرہ مند رہی ہے اور اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ہمیشہ قرآن اور سنت رہے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں سے اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ( قرآن و سنت) اگرچہ مسلم تہذیب میں موجود ہیں، لیکن ان کی اہمیت کافی حد تک دھندلا سی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم تہذیب میں جب قرآن ا ور سنت کی اہمیت، عملی طور پر پہلے جیسی نہیں رہی تو پھر وہ کون سے عناصر ترکیبی ہیں جن پر مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے؟ دوسرے لفظوں میں وہ کون سے عناصر ہیں جنھوں نے قرآن ا ور سنت کی اہمیت کم کر کے ان کی جگہ لے لی ہے؟ یہاں منطقی طور پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ درج ذیل سطور میں انہی دو سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے، گزارش یہ ہے کہ مسلم تہذیب، تاریخ کے کسی بھی دور میں غیر متغیر نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت اگر قرآن ا ور سنت کے ساتھ منسلک رہی ہے تو قرآن و سنت بہت واضح طور پر ’’زمانی و مکانی عُرف کے اثبات‘‘ کی طرف توجہ مبذول کراتے رہے ہیں اور زمانی و مکانی عرف کا یہی اثبات، مسلم تہذیب کے داخل کو ثقافتی اعتبار سے متغیر اور تنوع آشنا کرتا رہا ہے۔ 

قرآن اور سنت کے ساتھ مسلم تہذیب کے تعلق کی نوعیت 

مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت سے منسوب جعلی ٹھپوں کو کھرچنے سے پہلے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آخر مسلم تہذیب میں قرآن اور سنت کی اہمیت دھندلا کیوں گئی ہے؟ اس سوال کا جواب ان عناصر ترکیبی کو بے نقاب کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہو گا جو عملی طور پر اسلامی شناخت کی مسند پر براجمان ہو چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم تہذیب میں قرآن اورسنت کی اہمیت کے دھندلانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کا قرآن اور سنت کے ساتھ کوئی تعلق موجود نہیں رہا، کیونکہ زوال پذیری کے باوجود امتِ مسلمہ میں یہ تعلق موجود اور قائم و دائم ہے۔ قرآن مجید پڑھا پڑھایا جاتاہے۔ لاکھوں کی تعداد میں حفاظ موجود ہیں اور سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اربوں کی تعداد میں قرآن مجید کے نسخے شائع ہوتے ہیں۔ اسی طرح سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی حساسیت پائی جاتی ہے۔ اس بظاہر خوش نما منظر کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس ’کیوں‘ کا جواب یہ ہے کہ قرآن اور سنت کے ساتھ محض ’’تعلق‘‘ کا موجود ہونا کافی نہیں ہے،بلکہ عملی اور نتائجی اعتبار سے اس تعلق کی ’’نوعیت‘‘ زیادہ اہم اور کلیدی ہو جاتی ہے کیونکہ قرآن او رسنت کبھی بھی خود (بنفسہٖ) کوئی تبدیلی یا انقلاب نہیں لا سکتے۔ یہ در حقیقت قرآن او رسنت کے ساتھ مسلم تہذیب کے تعلق کی’ نوعیت‘ ہے جو تبدیلی کا باعث بنتی ہے یا انقلاب برپا کرتی ہے اور مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند کرتی ہے ۔ اس لیے قرآن اور سنت کو ماننے والے اگر کسی دور میں زوال کا شکار ہو جائیں تو لا محالہ قرآن اور سنت کے ساتھ ان کے’ ’تعلق کی نوعیت‘‘ کو جانچا جانا چاہیے۔ قرآن اور سنت کو اپنی (نام نہاد فکری و عملی) زندگی میں اساس تسلیم کرنے والی امتِ مسلمہ پچھلی کئی صدیوں سے زوال کا شکار ہے، لہٰذا اس کے زوال کا کھوج لگانے کے لیے قرآن او رسنت کے ساتھ اس کے’’ تعلق کی نوعیت‘ ‘ کا سراغ لگانا انتہائی ناگزیر ہو جاتا ہے ۔ 

اگر ہم قرآن اور سنت کے ساتھ مسلم تہذیب کے موجودہ تعلق کی نوعیت کو گہری نظر سے دیکھیں تو یہ لاتعلقی سے عبارت نظر آتی ہے۔ جی ہاں ! لاتعلقی پر مبنی تعلق، یہی اس وقت قرآن او رسنت کے ساتھ تعلق کی نوعیت ہے۔یہ لا تعلقی اس طبقے میں سب سے زیادہ ہے جو خود کو دینِ اسلام کا ’’واحد نمائندہ‘‘ سمجھنے پر مصر ہے اور اسلامی نظام واسلامی انقلاب کے نعرے لگانا جس کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے۔ اس طبقے کے ہاں رائج تعلیمی و تربیتی نظام، اس کے کارکنوں اور راہنماؤں کی نفسیات کچھ اس طرح تشکیل کرتا ہے کہ ان کے لیے فہمِ قرآن ایک ایسا خواب بن کر رہ جاتا ہے جس کی تعبیر کم از کم اس دنیا میں ممکن نہیں ہوتی۔ اول تو قرآن مجید اس خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھایاہی نہیں جاتا جس طرح فقہ کے اسباق کچے اذہان میں ٹھونس ٹھونس کر بھر دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر قرآن مجید کی تدریس کی نوبت آ ہی جاتی ہے تو فقہ کی ’’روشنی‘‘ میں قرآن سے فیض اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سارا عمل انتہائی عجیب و غریب ہے اورلازمی طور پر قابلِ گرفت ہے۔

اپنی بات کی وضاحت ہم ایک مثال سے کریں گے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ برطانیہ، پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے اکثر ممالک میں پارلیمانی نظام نافذ ہے۔ اس نظام کی روح کے مطابق پارلیمنٹ اعلیٰ ترین ادارہ قرار پاتی ہے جس کے سامنے انتظامیہ(کابینہ) جواب دہ ہوتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے استحکام کی وجہ سے انتظامیہ (کابینہ) مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی کیونکہ کابینہ (انتظامیہ) اس سیاسی جماعت کی بنتی ہے جس کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہو اور کابینہ کے ممبران لا محالہ اپنی سیاسی جماعت کے بااثر افراد ہوتے ہیں، اس لیے وہی پارلیمنٹ کو بھی کنٹر ول کرتے ہیں۔ اس طرح اگرچہ نظری طور پر پارلیمنٹ کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے لیکن عملاً کابینہ کے پاس ہی انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات آ جاتے ہیں۔ اسے اصطلاحاً کابینہ کی آمریت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی کہ مخلوق ( کابینہ )، خالق ( پارلیمنٹ ) کو کنٹرول کر لیتی ہے(خیال رہے کہ کابینہ ، پارلیمنٹ کے ممبران میں سے بنتی ہے) بلکہ اگر وزیرِ اعظم اپنی سیاسی جماعت کا بھی قائد ہو اور اسے جماعت پر پورا کنٹر ول حاصل ہو تو پھر فردِ واحد کی حکومت قائم ہو جاتی ہے اور پھر parliamentary کے بجائے prime ministerial نظام قائم ہو جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار کی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ مختصر یہ کہ مرورِ زمانہ سے، حالات کے دھارے میں بہہ کر ایک ایسا نظام جو پارلیمنٹ کی بالادستی سے شروع ہوتا ہے، فردِ واحد کی حاکمیت پر منتج ہوجاتا ہے، لیکن اگر باریک بین سیاسی پنڈت اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں تو نہ صرف پارلیمنٹ کی بالادستی کا’’ تصور‘‘ قائم رہتا ہے بلکہ اس کی عملاً صورت پذیری کے لیے بھی، مرورِ زمانہ سے تشکیل پانے والے بے قابو مظاہر کو حد کے اندر لایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے برطانیہ میں یہ بحث موجود ہے کہ prime ministerial نظام کو parliamentary نظام میں ڈھالنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہییں ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسلم تہذیب میں فقہ کی روایت، کابینہ کے کردار سے مشابہ ہے جو اصلاً مخلوق ہے لیکن اب خالق کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ قرآن او رسنت ماخذ ہیں اور فقہ ان سے ماخوذ ہے ۔ اگر ماخوذ، اپنے ماخذ کو کنٹرول کرنا شروع کر دے تو کیا یہ عجیب معاملہ نہیں اور قابلِ گرفت نہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب مسلم تہذیب میں قرآن او رسنت کا مطالعہ فقہ کی روشنی میں کیا جاتاہے؟ اگر نظری طور پرقرآن او رسنت کو اساس مانا بھی جاتا ہے تو کیا یہ جھوٹ ہے کہ عملی اعتبار سے فقہ کو ہی اساس تسلیم کر لیا گیا ہے؟ اسی لیے مسلم تہذیب کے خاص طور پر قدامت پسند حلقے قرآن اور سنت کا مطالعہ ایک خاص فقہی زاویے سے کرتے ہیں، یعنی پہلے ایک خاص فقہی ذہن بنا کر اس کے بعد قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ 

بحث کے اس مقام پر یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن او رسنت کے ساتھ ہمارے تعلق کی ایسی نوعیت کیونکر ہے؟ اور ہمارے نام نہاد دینی راہنما، تعلق کی ایسی نوعیت پر تنقید کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ دوسرے سوال کا بہت آسان اور سیدھا جواب یہ ہے کہ نام نہاد دینی راہنماؤں کے نزدیک، تعلق کی ایسی نوعیت ہی درست اور صحیح ہے، یعنی ان کے نزدیک فقہ کی ’’روشنی‘‘ میں ہی قرآن او رسنت سے استفادہ کیا جانادینی منشا کے عین مطابق ہے۔ نام نہاد دینی راہنماؤں کے ایسے موقف سے، پہلے سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ قرآن او رسنت کے ساتھ ہمارے تعلق کی ایسی نوعیت آخر کیونکر ہے؟ ہماری رائے میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلم تہذیب میں فکری سطح پر، اسلامی شریعت کے مآخذ کے طور پر قرآن ا ور سنت کے ساتھ قیاس، اجماع اور اجتہاد وغیرہ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے حالانکہ غور کیا جائے تو ماخذ دو ہی بنتے ہیں جو ’’ بنیادی مواد‘‘ فراہم کرتے ہیں، یعنی قرآن ا ور سنت۔ جہاں تک اجماع، قیاس اور اجتہاد وغیرہ کا تعلق ہے، یہ اپنی نوعیت میں، قرآن اور سنت کے فراہم کردہ مواد کی تعبیر و تشریح اور اس سے اخذ واستنباط تک محدود ہیں ، یعنی یہ حقیقت میں مختلف ’’طریقے ‘‘ہیں جنھیں ضرورتاً اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ ان طریقوں کے علاوہ مزید نئے طریقوں کے ذریعے سے بھی قرآن او رسنت سے اخذ واستنباط اور تعبیر و تشریح وغیرہ ممکن ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ نئے طریقوں کی دریافت تو درکنار، موجودہ مسلم تہذیب صدیوں پہلے کی گئی تعبیر و تشریح اور استنباط پر اسلامی شناخت کا ٹھپہ لگا کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے، اس لیے قرآن اور سنت کے ساتھ اس تہذیب کے تعلق کی نوعیت،کم از کم عملی پہلو سے لاتعلقی پر استوار ہو چکی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ قیاس اور اجتہاد وغیرہ کے ذریعے سے جو نتائج اس تہذیب نے صدیوں پہلے حاصل کیے تھے، انہی نتائج کو حتمی اور نا قابلِ تغیر قرار دے دیا گیا ہے، حالانکہ زیادہ سے زیادہ ان ذرائع یعنی قیاس ا ور اجتہاد کو اصولی طریقے قرار دے کر مستقل اہمیت دی جا سکتی ہے۔ 

انسانی فہم کی محدودیت اور قرآن و سنت کی آفاقیت 

اہم بات یہ ہے کہ اصولی طریقوں کی تشکیل اور ان طریقوں کا اطلاق چاہے فرد کرے یا کوئی ادارہ، فہمِ انسانی پر موقوف ہے، اس لیے فہمِ انسانی کے اضافی ہونے کے ناطے، ان اصولوں اور ان کے اطلاقی نتائج کو حتمی تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فہمِ انسانی کیونکر اضافی ہے اور کیسے تشکیل پاتا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ فہمِ انسانی کی تشکیلی ساخت، اس کے اضافی ہونے پر دال ہے۔ کسی بھی انسان کا فہم اپنے زمانے، علاقے، سماج، ثقافت و دیگر عوامل سے گہرا اثر لیتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ فہمِ انسانی کی تشکیلی ساخت میں ان عناصر کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ چونکہ یہ تمام عناصر خود اضافی ہیں، اس لیے یہ کسی غیر اضافی چیز (حتمی فہم) کی تشکیل نہیں کر سکتے۔ دو مختلف زمانوں، علاقوں، معاشروں، ثقافتوں وغیرہ کے افراد کا فہم تو ایک دوسرے کی نسبت سے اضافی ہوتا ہی ہے، ایک فرد کا فہم بھی بنفسہٖ اضافی ہوتا ہے۔ذرا غور کرکے بتائیے کہ دنیامیں وہ کون سا نابغہ (genius) ہے جس کا فہم تمام عمر ایک ہی سطح پر رکا رہا ہو؟ اس سلسلے میں ایک مثال کی دریافت بھی ناممکن ہو گی۔ ( خیال رہے، روبوٹ اور روبوٹ نما انسان اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیاس اور اجتہاد وغیرہ کے ذریعے سے اخذ واستنباط اور تعبیر و تشریح کرنے والے افراد اور ’نابغے‘، انسان نہیں تھے؟ کیا ان کا فہم (اور فکری ارتقا) ان کی اپنی زندگی میں ایک سطح پر رکا رہا؟ کیا ان کا فہم کسی دوسرے زمانے، علاقے، سماج اور ثقافت کی نسبت سے اضافی نہیں ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے افراد کو نابغہ روزگار تسلیم کرکے بھی، ان کے تشکیل کردہ اصول اور ان اصولوں سے حاصل کردہ اطلاقی نتائج کو، جو ان کے فہم پر موقوف ہیں، کسی طرح حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کیا کوئی ایسا ’’ انسان ‘‘ ہو سکتا ہے جو خالصتاً معروضی انداز میں قرآن و سنت کے فہم پر قادر ہو؟ ہماری رائے میں کوئی ’’انسان‘‘ اپنے مطالعے، مشاہدے، تجربے اور زمانے کے اثرات کے تحت ہی قرآن و سنت کا فہم حاصل کرتا ہے اور اس کا فہم لازماً ارتقائی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ فہم کی تشکیل میں ارتقا کے در آنے سے فہم کی اضافیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کے فہم میں ( انسانی فہم کے اضافی ہونے کے ناطے) موضوعیت لازماً در آتی ہے۔ یہ موضوعیت قرآن و سنت کے متن اور دائمی منشا کو خلط ملط کر دیتی ہے، اس لیے یہ بنیادی ضرورت جنم لیتی ہے کہ فہمِ قرآن و سنت ( جو اصل متن اور دائمی منشا کا خلط شدہ روپ ہے) کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت سے براہ راست اور زندہ تعلق مستقل بنیادوں پر قائم رکھا جائے تاکہ حکمت کے ان بہتے دریاؤں سے مسلسل اور زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کیا جاسکے۔ اگر قرآن و سنت سے براہ راست تعلق کو تج دے کر ان کے متن اور دائمی منشا کے خلط شدہ روپ کو ہی ’’اساس‘‘ سمجھ لیا جائے(یعنی فہمِ انسانی کی محدودیت کا انکار کر دیا جائے) تو بات بہت بگڑ جاتی ہے، کیونکہ قرآن و سنت کی خلط شدہ صورت کسی مخصوص صورتِ حال کے چیلنج کا جواب ضرور ہو تی ہے، لیکن قرآن و سنت کے مانند آفاقی ہرگز نہیں ہوتی ۔ 

مثال کے طور پر اس جملے کو لیجیے کہ ’’موجود کتب میں قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری کا مقام ہے‘‘ ۔ کہنے کو یہ محض ایک فقرہ ہے، لیکن یہی ایک فقرہ ہمارے ذہنی جمود اور فکری زوال کی غمازی کر رہا ہے۔ یہ فقرہ کسی فرد یا افراد کے فہم کا نتیجہ تھا اور نجانے کس صورتِ حال کا جواب تھا اور کس سیاق میں کہا گیا تھا، لیکن اسے مخصوص صورتِ حال و سیاق سے اٹھا کر( فہم کی محدودیت کے باوجود) مطلق صورت میں اپنا لیا گیا جس کے نتیجے میں مسلم تہذیب کے مشاہیر کی نظر، نفسِ حدیث کے بجائے صحیح بخاری میں الجھ کر رہ گئی اور تحقیق و تنقید کے دروازے بند ہو گئے۔ یہ بہت بڑی فروگزاشت ہے کہ نفسِ حدیث کے بجائے حدیث کے کسی مجموعے کو حجت قرار دیا جائے، چاہے وہ مجموعہ صحیح بخاری ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح اللہ رب العزت کی ذات کا مثل کوئی نہیں، ہو الاول ہولآخر، اسی طرح اس کا کلام بھی بے مثل ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے بعد کسی بھی کتاب کو ایسا مقام دیا جانا، قرآن مجید کی بے مثل حیثیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو کی بحث کے تناظر میں، اگرچہ نفسِ حدیث میں کلامِ الہٰی کی سی صفت ضرور پیدا ہو جاتی ہے، لیکن یہ صفت حدیث کے کسی بھی’’مجموعے‘‘ کو بے مثل قرار دینے کی راہ ہرگز ہموار نہیں کرتی۔ ہماری رائے میں داخلی اعتبار سے حدیث کے مجموعوں کی تشکیل و ترتیب ایک مسلسل عمل کی صورت میں جاری رہنی چاہیے تاکہ نفسِ حدیث کی حجیت برقرار رہ سکے، جبکہ خارجی اعتبار سے ان مجموعوں کی تشکیل و ترتیب، صورتِ حال کے چیلنج کا جواب ہونی چاہیے۔ چونکہ صورتِ حال یکساں نہیں رہتی، اس لیے نفسِ حدیث کے مقام کے اثبات کے ساتھ ان مجموعوں کی تشکیل و ترتیب بدلتی رہنی چاہیے ۔ 

قرآ ن و سنت کے ساتھ زندہ تعلق کے بنیادی تقاضے 

مذکورہ نکات سے یہ بات کسی قدر واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند کرنے کے لیے قرآن و سنت کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کے ساتھ موجودہ لاتعلقی کو ایک زندہ تعلق میں کیسے اور کیونکر بدلا جا سکتا ہے؟ ہماری رائے میں زندہ تعلق قائم کرنے کے لیے دو بنیادی تقاضے ہیں جنہیں پوراکیے بغیر زندہ تعلق کے قیام کی خواہش ایک خواب رہے گی۔ ان میں سے پہلا تقاضا منفی ہے اور دوسرا مثبت۔ پہلا منفی تقاضا یہ ہے کہ مسلم تہذیب سے منسوب اسلامی شناخت کے جعلی ٹھپوں کو کھرچ کھرچ کر الگ کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ان جعلی ٹھپوں کو کھرچنے سے پہلے ان کی شناخت اور ان کا تعین انتہائی ضروری ہے۔ یہ جعلی ٹھپے اپنے ظواہر میں دو ہیں، لیکن حقیقت میں ایک ہیں ۔ ان کی ظاہری صورت میں ایک تو وہ مقامی روایات و رواجات ہیں جن پر عملی طور پر اسلامیت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے اور دوسرا وہ قدیم فقہی ذخیرہ ہے جو موجودہ مسلم تہذیب کی غالب اکثریت کے لیے ذ ہنی و فکری لحاظ سے سرمایہ حیات بن چکا ہے۔ اپنے ظواہر میں یہ دو مختلف مظاہر ہیں، لیکن یہ حقیقت میں ایک اس طرح سے ہیں کہ چونکہ قدیم فقہی ذخیرہ موجودہ صورتِ حال کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اس لیے یہ ذہنی و فکری سطح پر تو موجود ہے لیکن زندگی کے معاصر تقاضوں کی تکمیل کے لیے، عملی سطح پرایسی مقامی روایات و رواجات پر اسلامیت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے جن کا قرآن و سنت کی منشا سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ا ن مقامی روایات کی تشکیل میں سامراجی ادوار ، تاریخ کے جبر، سماجی ناہمواریوں اور مقامی آبادیوں کی بے وقعتی کا انتہائی کلیدی کردار ہے۔ یہ روایات عملی طور پر مسلم تہذیب میں رچ بس چکی ہیں اور صحیح اسلامی شناخت کا خلا انتہائی غلط انداز میں پُر کرکے، اسلام اور مسلم تہذیب دونوں کے لیے بہت بڑے بحران کا باعث بن رہی ہیں۔ مثال کے طور پر برِ صغیر اور مشرقِ وسطیٰ کے ثقافتی تناظر میں کی گئی اسلام کاری کو لیجیے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کاری پس منظر میں چلی گئی ہے اوروہ مخصوص تناظر ( اسلام کاری کی تجدید نہ ہونے اور سامراجی ادوار کی چیرہ دستیوں کے باعث) پورے منظر پر چھا گیا ہے۔ اس منافقانہ صورتِ حال نے موجودہ مسلم تہذیب کو اضطراب سے دوچار کیا ہے، کیونکہ یہ تہذیب ذہنی و فکری لحاظ سے قدیم فقہی ذخیرے سے وابستہ ہے لیکن عملی و نتائجی اعتبار سے مقامی روایات و رواجات کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سارے عمل کو ’’ اسلامی شناخت ‘‘ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ اس سارے عمل میں قرآن و سنت کا براہ راست عمل دخل اور اثرو نفوذ کہیں بھی نظر نہیں آتا ۔ 

قرآن و سنت کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرنے کے منفی تقاضے سے عہدہ برآ ہونے کے بعد اس کے دوسرے یعنی مثبت تقاضے کو پورا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ دوسرا تقاضا کیا ہے؟ یہ دوسرا تقاضا زمانی و مکانی عرف کا اثبات ہے جس کی طرف ہم نے اس مضمون کی ابتدائی سطروں میں اشارہ کیا تھا۔ زمانی و مکانی عرف کیا ہے؟ یہ اپنی حقیقت میں ’’صورتِ حال‘‘ ہے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ صورتِ حال کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر تو درکنار، موجودہ مسلم تہذیب، نفسِ صورتِ حال کے فہم سے یکسر عاری ہے۔ اس لیے اس کا قرآن و سنت کے ساتھ تعلق ، لاتعلقی پر استوار ہو چکا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ قرآن حکیم کے حروف اور الفاظ ( الہٰی کلام ہونے کے باوجود) سماج کو سدھار نہیں سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حروف و الفاظ میں بنفسہٖ ایسی خاصیت نہیں رکھی گئی کہ وہ خود کار انداز میں انسانوں پر اثر انداز ہو سکیں ۔ انسانوں پر ان کی اثراندازی انسانوں کے اس فہم پر موقوف ہے جو صورتِ حال کے تناظر میں کیا گیا ہو۔ یعنی قرآنی حروف و الفاظ کی ، صورتِ حال کے ساتھ تعلق داری (relationship)، ان کو مجرد و مجہول حالت سے نکال کر موثر اور فعال صورت میں لے آتی ہے، جسے زندہ تعلق کا نام دیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صورتِ حال کے ساتھ قرآن و سنت کی ایسی تعلق داری کیسے اور کیونکر ممکن ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ صورتِ حال کا فہم و ادراک ایسی تعلق داری کو ممکن بناتا ہے۔ ائمہ اربعہ کا یہی کارنامہ ہے کہ انہوں نے صورتِ حال کا فہم حاصل کر کے، قرآن و سنت کا اپنے سماج کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر دیا۔ اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا کی عظمت ان کے اس فہم میں پوشیدہ نہیں ہے جس کا اظہار ان کے اصولوں اور ان اصولوں کے اطلاقی نتائج میں نظر آتا ہے، بلکہ حقیقت میں ان کا’’ عمل ‘‘ ان کی اصل عظمت کا آئینہ دار ہے کہ انھوں نے صورتِ حال سے چشم پوشی اختیار نہیں کی اور ثمر آور نتائج حاصل کر کے اپنے وقت کی مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند کر دیا۔ شریعت کی ابدیت اور آفاقیت خارج از بحث ہے، لیکن اگر تعبیر وتشریح کے فقہی دائرے میں ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا کے فہمِ اسلام کو عین اسلام قرار دینے پر بے جا اصرار کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا اپنے زمانے اور ماحول کے اثرات سے آزاد اور بلند تھے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ لوگ اپنے عہد کی ثقافت اور معاشرتی اقدار سے نا بلد تھے یعنی معاشرے سے کٹے ہوئے مجردِ محض تھے۔ اگر بات کچھ ایسی ہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے افراد جو خود معاشرے سے الگ تھلگ رہتے ہوں، معاشرتی سدھار کی خاطر معاشرتی تقاضوں (صورتِ حال) کو کیونکر مدِ نظر رکھ سکتے ہیں؟ کیا ان کا فہم اور تفقہ صرف اور صرف لفظی، ذہنی اور کتابی دنیا کے لیے نہیں ہوگا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا کی بابت ایسی رائے رکھنا بہتانِ عظیم ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی تارک الدنیا نہیں تھا۔ وہ سب معاشرے میں رہتے تھے اور معاشرے پر نظررکھے ہوئے تھے۔ آج کی مسلم تہذیب کو بھی ان کے ’’فہم‘‘ کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ان کے ’’عمل‘‘ کی پیروی کرنی چاہیے۔ 

المیہ یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجودہ مسلم تہذیب، صورتِ حال سے کٹی ہوئی ہے، اس لیے اس کا فہم اور تفقہ صرف اور صرف لفظی، ذہنی اور کتابی ہے۔ یہ ان معنوں میں لفظی، ذہنی اور کتابی ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے ادراک کے بجائے ماضی کی صورتِ حال اور اس صورتِ حال سے جنم لینے والے فہم سے خود کو وابستہ کیے ہوئے ہے۔ یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ خود قرآن، الہامی کلام ہونے کے باوجود انسانوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا جب تک اسے ( معاصر ) صورتِ حال سے جوڑا نہ جائے۔ پھر اگر اسلامی شناخت کا معیار قرآن کے بجائے اس کے صورتِ حال سے کٹے ہوئے فہم کو قرار دیا جائے تو اس سے جنم لینے والی خرابیوں اور نتائج کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

دین اور معاشرہ