رسول اللہؐ کی محبت، ایمان کا اولین تقاضا

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مومن کے صاف اور شفاف دل میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر خالقِ کائنات، منعمِ حقیقی اور رب ذوالجلال کی محبت ہوتی ہے۔ اس کے دل کے اس خانہ میں کسی اور کی محبت کے لیے مطلقاً کوئی جگہ اور گنجائش ہی نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

والذین اٰمنوا اشد حب اللّٰہ۔ (البقرہ)

’’ اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کی سب سے بڑھ کر محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘

اس کے بعد مومن کے دل میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گہرے سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہے، اور اس محبت کے مقابلہ میں مخلوق میں سے کسی بھی فرد کی محبت اور عقیدت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ مومن اس کو قابلِ التفات ہی سمجھتا ہے۔ یہ محبت محض عشق و عقیدت کے درجہ کی نہیں بلکہ تصدیق و اذعان اور پختہ عقیدہ کی آخری حد ہے اور مدارِ ایمان اور باعثِ نجات ہے۔ اس محبت کا ظاہری طور پر اظہار آپ کی صحیح فرمانبرداری اور اطاعت سے ہوتا ہے، اور جس درجہ کی محبت دل میں موجزن ہوتی ہے اسی انداز کی اطاعت کا محب سے صدور ہوتا ہے۔ 

سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۹۳ھ) سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

’’تم میں سے کوئی ایک شخص بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اور اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۷ ۔ مسلم ج ۱ ص ۴۹)

اس صحیح حدیث شریف میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن ہونے کے لیے ایک بنیادی شرط اور واضح علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ آپ کی ذاتِ گرامی سے ماں، باپ، اہل و عیال اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبت کرے۔ اگر معاذ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں تو وہ مومن نہیں ہو سکتا۔

سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۵۷ھ) کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی ایک شخص بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے ہاں میں اس کے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری ج ۱ ص ۷)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد قسم اٹھائے بغیر بھی بالکل سچا ہے مگر آپ نے یہ مضمون اور حکم موکد کرنے کے لیے قسم سے بیان فرمایا ہے۔

سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفٰی ۲۳ھ) کی روایت میں ہے:

’’حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کے ساتھ تھے اور آپؐ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حضرت آپ مجھے اپنے نفس کے بغیر ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس وقت تک ایمان حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں تیرے نفس سے بھی زیادہ تجھے محبوب نہ ہو جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا، ہاں عمر! اب بات بن گئی۔‘‘ (بخاری شریف ج ۲ ص ۹۸۱)

امام نووی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۶۷۶ھ) سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی شرح میں محدث ابن بطال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ

’’بلاشبہ جس نے دن کو مکمل کر لیا تو وہ یہ جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ موکد ہے، کیونکہ ہم آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کی بدولت دوزخ سے بچے اور ہم نے آپ ہی کی وجہ سے گمراہی سے ہدایت حاصل کی۔‘‘ (شرح مسلم ج ۱ ص ۴۹)

مومن کی نگاہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے غضب، اس کی ناراضگی، اور آتشِ دوزخ سے بچنے اور گمراہی کے گڑھے سے نکل کر راہِ ہدایت پر آجانے سے بڑھ کر اور کیا خوشی اور کامیابی ہو سکتی ہے؟ بلاشبہ ماں باپ اور اولاد سے بسا اوقات بڑے بڑے فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں لیکن گمراہی کے عمیق اور گہرے کنوئیں سے نکل کر ہدایت کے سرسبز و شاداب چمن میں آ جانا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ اور گوناگوں عذاب سے بچ جانا بہت بڑی سعادت اور اعلیٰ ترین کامیابی ہے، اور یہ امتِ مسلمہ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و بارک وسلم کی کوشش اور آپ ہی کی سعی سے حاصل ہوئی ہے۔ جب اتنی بڑی دولت آپ کے طفیل سے حاصل ہوئی ہے تو شرعی لحاظ سے تو ضروری ہے ہی، فطری طور پر بھی آپ سے محبت بہت ضروری ہے۔ اور یہ محبت تمام اعزہ و اقارب سے بڑھ کر آپ سے وابستہ ہونی لازم ہے۔ اور یہ محبت ایمان کی اصل الاصول بھی ہے اور مدار بھی۔ مخلوق میں باقی سب کا حق اس کے بعد ہے، مقدم صرف آپ ہی کا حق ہے، صلی اللہ علیہ و بارک وسلم۔

حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ہی جلیل القدر شارح حدیث علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ

’’ایمان کی حقیقت سوائے اس کے مکمل نہیں ہو سکتی اور ایمان اس کے بغیر صحیح ہی نہیں ہو سکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور محسن اور مہربان سب پر بلند کرنا متحقق نہ ہو جائے، اور جس شخص نے یہ اعتقاد نہ کیا اور اس کے علاوہ کچھ اور اعتقاد رکھا تو وہ مومن نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ص ۴۹)

اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ماں باپ اور اعزہ و اقارب کے ساتھ محبت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ نفس اور جسم کا تعلق ہوتا ہے لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور لگاؤ جسم اور روح دونوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ جس کے نتیجہ میں جہاں مومن کا یہ جہاں بنتا ہے وہاں آخرت کا ابدی جہاں بھی صرف بنتا ہی نہیں بلکہ خوب اجاگر ہوتا ہے اور اسی پر موقوف ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مومن کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے جو نشاط و سرور اور وجد کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں وہ ظاہری حسن و جمال کے شیدائی کو کب حاصل ہو سکتی ہیں، جو انسانوں اور حیوانوں سے آگے نکل کر بہتی ہوئی ندیوں اور لہلہاتے ہوئے مرغزاروں، چہچہاتی ہوئی چڑیوں، کھلے ہوئے شگفتہ و نیم شگفتہ پھولوں، وادیوں کے نشیب و فراز، دامنِ کوہ کی ابھرتی ہوئی بلندیوں، اور ڈھلتی ہوئی پستیوں کی جمالی تجلیوں میں تلاش کرتا ہے۔ اور اسی محبت کی وجد آفریں کیفیت کو دشمنانِ اسلام مسلمانوں کے حافظہ سے مٹانا چاہتے ہیں، لیکن وہ بجائے مٹنے کے ہر دم تازہ سے تازہ ہو کر ابھرتی رہتی ہے۔ سچ ہے ؎

مجھے پستیوں کا گلہ نہیں کہ ملی ہیں ان سے بلندیاں
میرے حق میں دونوں مفید ہیں کہ نشیب ہی فراز ہے

توہینِ رسول کفر اور قابلِ گردن زدنی ہے

فقہائے اسلام نے نہایت وضاحت سے یہ بات کتابوں میں لکھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و توہین اور سب و شتم اور تکذیب و عیب جوئی صریح طور پر کفر ہے۔ چنانچہ قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الحنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۱۸۲ھ) لکھتے ہیں کہ

’’جس شخص نے بھی مسلمان ہو کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی یا آپ کی تکذیب کی یا آپ پر کوئی عیب لگایا، آپ کی تنقیص کی تو بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کافر ہے اور اس کی بیوی اس سے بائن اور جدا ہو جائے گی، سو اگر وہ توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کیا جائے گا۔‘‘ (کتاب الخراج ص ۱۸۲)

اس سے بصراحت معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رفیع کو گالی دینا یا آپ کی تکذیب و عیب جوئی کرنا یا توہین و تنقیص کرنا خالص کفر ہر جس سے اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے۔

مشہور مالکی امام قاضی عیاض بن موسٰی بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ (المتوفٰی ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں کہ

’’حضرت امام محمد بن سحنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمام علماء کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرنے والا اور آپ کی تنقیص کرنے والا کافر ہے، اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید اس پر جاری ہے۔ اور امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘ (الشفاء ج ۴ ص ۱۹۰ طبع مصر)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ الحنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفٰی ۷۲۸ھ) لکھتے ہیں کہ

’’قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص بھی جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کرے، یا آپ کو عیب لگائے، یا آپ کی ذاتِ پاک، نسب یا دین یا آپ کی خصلتوں میں سے کسی خصلت میں کوئی عیب نکالے، یا کسی بھی شخص کو آپ کے متعلق سب و تنقیص یا بغض یا عداوت کے طور پر کوئی شبہ پیدا ہوا، تو وہ گالی ہی ہو گی اور ایسے شخص کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے کہ اس کو قتل کیا جائے گا (جس کا انتظام اسلامی حکومت کرے گی)‘‘۔ (الصارم المسلول ص ۵۲۸ طبع دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن)

یہ تمام عبارات اپنے مفہوم اور مضمون کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں، مزید کسی توضیح و تشریح کی محتاج نہیں ہیں۔

سیرت و تاریخ

(مئی ۱۹۹۴ء)

تلاش

Flag Counter