مکاتب فکر
قومی و ملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۳)
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
راقم الحروف نے مختلف دوستوں کے سوالات پر تحریک تحفظ ناموس رسالت کی قیادت میں اہل تشیع کی شمولیت کے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کی تھی جو روزنامہ اسلام میں ۱۱؍ فروری ۲۰۱۱ء کو ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے میرے مستقل کالم...
مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات فی القبر کے بارے میں گزشتہ نصف صدی سے بعض حلقوں میں اختلاف ونزاع کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، اس میں میرا عقیدہ و ہی ہے جو ’’المہند علی المفند‘‘ میں...
اتحاد امت کا مفہوم اور اس کے تقاضے
― محمد وحید خراسانی
امت اسلام کے بنیادی اور ضروری اصولوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ مسلمان ’’ایک امت‘‘ ہیں جیسا کہ آیت کریمہ ’’ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون‘‘ (بیشک تنہا تمھاری امت ،امت واحدہ ہے اور میں تمھارا پروردگارہوں،...
تدوین فقہ اور امام ابو حنیفہؒ کی خدمات
― عاصم نعیم
بیسویں صدی مسلمانوں کے عروج و انحطاط کی مختلف داستانوں کو سمیٹتے ہوئے رخصت ہوچکی ہے۔ موجودہ صدی اسی تسلسل میں متعدد نئے منظر نامے پیش کر رہی ہے۔ نو آبادیاتی دور کے بعدمسلم دنیا اپنے دینی اور تہذیبی تشخّص کی حفاظت کے...
تکفیر شیعہ سے متعلق چند ضروری وضاحتیں
― ڈاکٹر حافظ محمد رشید
گزشتہ ایک برس سے ماہنامہ الشریعہ میں سنی شیعہ کشیدگی اور اس کے خاتمے کے متعلق مختلف اصحاب فکر ودانش اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اپریل ۲۰۰۵ کی اشاعت میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون بعنوان ’’شیعہ سنی تنازع...
شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل
― ڈاکٹر محمد امین
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے دسمبر ۲۰۰۴ کے شمارے میں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے ادارتی شذرہ بعنوان ’سنی شیعہ کشیدگی۔ چند اہم معروضات‘ میں تکفیر شیعہ کے بارے میں مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے فتوے کی تصویب کرتے ہوئے...
شیعہ سنی مکالمہ :الشیخ یوسف القرضاوی کے خیالات
― ڈاکٹر یوگندر سکند
قطر کے الشیخ یوسف القرضاوی کا شمار دنیا کے ممتاز ترین مسلم علما میں ہوتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی شہرت ایک ایسے عالم کی ہے جو کھلے ذہن کے حامل اور زندہ معاصر مسائل کو حقیقی مکالمے کے جذبے کے ساتھ زیر بحث...
ندوۃ العلماء کا مسلک اعتدال
― ڈاکٹر ہارون رشید صدیقی
شعور کی آنکھیں کھلیں تو دیکھا کہ والد صاحب میلاد خواں اور فاتحہ خواں ہیں، تعزیہ دار ہیں، شب براء ت، محرم، گیارہویں، بارہویں کا اہتمام کرنے والے ہیں۔ کسی کی موت پر تیجا یا چہارم، چالیسواں اور برسی کرتے ہیں۔ بس یہی دین...
اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت
― مولانا سید سلمان الحسینی الندوی
شادی خانہ آبادی کے لیے کی جاتی ہے، خانہ خرابی یا محض عیاشی اور لذت کوشی کے لیے نہیں، اس لیے بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا فعل حرام ہے۔ طلاق صرف اس وقت دینا چاہیے جب ساتھ رہنا دوبھر ہو جائے اور طلاق نہ دینے میں خطرات اور...
کیا شیعہ سنی اتحاد ممکن ہے؟
― سید منظر تمنائی
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع حضرات کا تنازع ازل سے ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔ چونکہ یہ فرقے بنیادی طور پر اختلاف رکھتے ہیں، اس لیے ان کا مذہبی اعتبار سے یکجا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ ملکی...
’’شیعو اور سنیو!‘‘ کے بارے میں گزارشات
― حافظ محمد قاسم
’الشریعہ‘ کے جنوری ۲۰۰۵ کے شمارے میں علامہ سید فخر الحسن کراروی کے مضمون بعنوان ’’شیعو اور سنیو! تاریخ سے سبق سیکھو!‘‘ کے حوالے سے ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں: کراروی صاحب! آپ نے مضمون کے آغاز میں شیعوں اور سنیوں کو...
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا ضابطۂ اخلاق
― ادارہ
پاکستان کے تمام مذہبی مکاتبِ فکر کے قائدین پر مشتمل ملی یکجہتی کونسل نے ۲۳ اپریل ۱۹۹۵ء کو لاہور کے ایک ہوٹل میں مولانا شاہ احمد نورانی کی زیرصدارت مرکزی اجلاس میں مذہبی مکاتبِ فکر کے درمیان ضابطۂ اخلاق کی منظوری دے...
گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت اور بائبل
― محمد یاسین عابد
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اقدس ہی سے اہلِ اسلام میں گستاخِ رسولؐ کے لیے سزائے موت مقرر ہے۔ فقہ و حدیث کی کتابوں میں اس قانون کی وضاحت کے علاوہ علماء کرام نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی رقم فرمائی ہیں...
اسلام کو دہشت گردی کے حوالہ سے بدنام کرنا غلط ہے۔ مسیحی رہنما
― ادارہ
ویٹیکن سٹی میں ’’مسیحی مجلسِ مکالمہ بین المذاہب‘‘ کے شعبہ امورِ اسلامی کے سربراہ تھامس مائیکل نے کہا ہے کہ اسلام کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کرنا ایک غلط عمل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے الزامات سے دنیا...
علمائے دیوبند اور ترجمۂ قرآنِ کریم
― سید مشتاق علی شاہ
(۱) ترجمہ قرآن مجید (اردو) مترجم: مولانا عبد الحق حقانیؒ۔ یہ ترجمہ تفسیر فتح المنان کے ساتھ ۸ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ پہلی سات جلدیں ۱۳۰۵ھ سے لے کر ۱۳۱۳ھ کے عرصہ میں اور آٹھویں جلد، جو پارہ عم پر مشتمل ہے، ۱۳۱۸ھ میں مطبع...
| < | 51-66 (66) | 🏠 |