اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت

مولانا سید سلمان الحسینی الندوی

شادی خانہ آبادی کے لیے کی جاتی ہے، خانہ خرابی یا محض عیاشی اور لذت کوشی کے لیے نہیں، اس لیے بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا فعل حرام ہے۔ طلاق صرف اس وقت دینا چاہیے جب ساتھ رہنا دوبھر ہو جائے اور طلاق نہ دینے میں خطرات اور فتنہ کا اندیشہ ہو۔ اس صورت حال کے لیے طلاق جیسی ناپسندیدہ چیز کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ لیکن پاکی کی حالت میں صرف ایک طلاق دے دینا چاہیے اور پھر عدت گزر جانے دینا چاہیے۔ طلاق غصہ میں، اشتعال میں اور جذبات میں نہیں دینا چاہیے، غصہ پر قابو پانا چاہیے اور ہر حال میں تعلقات کو خوش گوار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

تین طلاقیں ایک وقت میں ہرگز نہ دینا چاہیے۔ تین طلاقیں اگر ایک مجلس میں دے دی گئیں تو وہ ایک شمار ہوتی ہے یا تین ہی، ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ بعض احادیث اور حضرت عمرؓ کے فیصلہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو چاروں ائمہ نے تین طلاق ہی قرار دیا ہے، جن کے بعد حق رجوع نہیں رہتا۔ لیکن اصلاً بہت سے مردوں کی طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں غیر محتاط روش کی بنیاد پر تین طلاقوں کو نافذ کر کے ان کو سزا دینا مقصود تھا۔ اس معاشرہ میں بیوہ کی شادی کوئی دشوار مسئلہ نہ تھی، نہ لڑکی والوں کو کچھ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے اس فیصلہ کے نفاذ میں جو حضور ﷺ نے بھی بحیثیت امیر اور حضرت عمرؓ نے بھی بحیثیت خلیفۃ المسلمین فرمایا تھا، مرد کے لیے ایک طرح کی تعزیر (قانونی سزا) تھی۔ دوسری طرف آج مرد کے طلاق ثلاثہ کے گناہ کا زیادہ تر بھگتان عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت جہیز لاتی ہے، گھر بسانے کا ذریعہ بنتی ہے، تقریب نکاح کے موقع پر اس کے یہاں ولیمہ کی طرح دعوت ہوتی ہے، مرد سب کچھ حاصل کرتا ہے، مہر بھی معاف کرا لیتا ہے، ایک ولیمہ پر لذت کوشی کرتا ہے، پھر غصہ اور اشتعال میں تین طلاق دے کر الگ ہو جاتا ہے، دوسری شادی رچا لیتا ہے۔ عورت بیوہ ہو جاتی ہے۔ شادی کی نہ خود ہمت کرتی ہے نہ معاشرہ اس کی شادی کا فوری انتظام کرتا ہے اور اگر اس کے بچے ہیں تو شادی کا مسئلہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دین کے بارے میں جزئی حل پیش کرنے والے مفتی فتویٰ دے کر الگ ہو جاتے ہیں۔ مطلقہ عورت عمر بھر کڑھتی اور اپنے جائز تقاضوں کو دبا کر زندگی گزارتی ہے۔ دین وعفت کی مضبوط حصار ہے تو سینہ میں غم اور کسک لے کر جیتی ہے، ورنہ دین وعفت سے معافی مانگ لیتی ہے۔

ایسی شکل میں علما اور اہل افتا وقضا کو سوچنا چاہیے کہ عرف، عموم بلویٰ، ضرورت، اضطرار، حاجت، رفع حرج، تیسیر، رخصت کی ترازو میں تول کر اس کا مسئلہ حل کریں اور ایک نزاعی مسئلہ جس میں صحابہ کرام اور تابعین عظام کے درمیان اور بعد کے علماے امت کے درمیان اختلاف رہا ہے اور جو کفر وایمان کا مسئلہ نہیں ہے، ایک پہلو ہی پر شدت کامظاہرہ نہ کریں۔

دوسری طرف بعض احادیث اور صحابہ کرام، تابعین عظام اور علماے امت کے اقوال ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق مانتے ہیں۔ یہ بھی ایک رائے ہے۔ اہل حدیث حضرات آج اس کے پرزور نمائندہ بنے ہوئے ہیں۔ اس میں حرج نہیں کہ علمی اختلاف رکھنے والے اپنے اختلاف کو علمی حدود میں علم کی میز پر بیان کریں، لیکن کسی اختلافی مسئلہ کو امت میں تفریق اور گروہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

حضرت عمرؓ نے بحیثیت خلیفۃ المسلمین ایک فیصلہ فرمایا تو مسلمانوں نے ان سے اتفاق کیا۔ جس کو اختلاف بھی ہوا، اس نے اپنے اختلاف کو اپنے تک محدود رکھا۔ آج ہندوستان میں مسلم پرسنل لا بورڈ کو ایک وقعت، وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ وہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا ایک مظہر اور ان کی اعتباری قوت حاکمہ کا نمائندہ ہے۔ اگر ایک اختلافی مسئلہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر، ارکان، علما کی اکثریت کی آرا کی بنیاد پر ایک فیصلہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی بقا اور ان کی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اس رائے کا ساتھ دینا ہے۔ ہاں انفرادی طور پر اور خاص واقعات میں ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عوام کے لیے اور خاص طور پر عورتوں کے طبقہ کے لیے شریعت کی دی ہوئی رخصتوں کو ملحوظ رکھا جائے اور ایسے معاملات میں اگر کوئی مفتی خود فیصلہ نہیں کر پاتا تو اہل حدیث علما سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی جائے۔

مکاتب فکر

(مارچ ۲۰۰۵ء)

Flag Counter