تدوین فقہ اور امام ابو حنیفہؒ کی خدمات

عاصم نعیم

بیسویں صدی مسلمانوں کے عروج و انحطاط کی مختلف داستانوں کو سمیٹتے ہوئے رخصت ہوچکی ہے۔ موجودہ صدی اسی تسلسل میں متعدد نئے منظر نامے پیش کر رہی ہے۔ نو آبادیاتی دور کے بعدمسلم دنیا اپنے دینی اور تہذیبی تشخّص کی حفاظت کے لیے جو کاوشیں کر رہی ہے، وہ مقدار اور معیار میں کم ہوتی محسوس ہو رہی ہیں ۔تہذیبوں اور تمدنوں کاتصادم بالکل عیاں ہو چکا ہے۔ اندریں حالات مسلم امّہ ایک ہمہ جہت بحران کا شکار ہے۔ سیاسی ،معاشی ،تعلیمی ،سماجی ،اور عسکری میدانوں میں اپنے نظریات وافکار کے بقا اور احیا کے احساس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔تعلیم وتربیت اور ثقافت کے مسائل کے ساتھ ساتھ قیام عدل کے لیے فقہ وقانون ،عدالتی طریق کار اور نظام عدل کو موثر طور پر فعال بنانے ،قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور ان کے موثر نفاذ کے مسائل کو بنیادی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔

عامّتہ المسلمین جہاں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تشکیل دینے میں مصروف ہیں، وہیں ادارتی سطح پر وہ اپنے تعلیمی ،سیاسی ،اقتصادی،قانونی ،اور عدالتی نظام کو بھی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔مسلم اہل دانش اس مقصد کے لیے اجتہاد وبصیرت اور اپنی باثروت روایات سے کام لے کر پیش آمدہ چیلنجوں کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ (۱) ان میں قرآن وسنت کے مصادرِ اصلیہ کے ساتھ ساتھ صحابہؓ اور ازمنہ وسطیٰ کے ائمہ مجتہدین اور علما، فقہا اور اصحاب دانش کے لازوال علمی سرمایوں میں ہمارے لیے معاونت وراہ نمائی کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے۔یہ علمی سرمایہ ہمہ پہلو اور ہمہ جہت ہے ،جس کا آغاز تاریخی طور پر دیکھا جائے تو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مسعود سے ہوتاہے۔آپؑ کے عہد میں اس وقت کی موجود دنیامیں نظام ہائے حیات بالکل مختلف تھے۔صاحب قرآن ؑ نے ہدایت رّبانی کے نچوڑ اور صحیفہ فطرت ،قرآن حکیم کی روشن تعلیمات سے اور اپنے حسنِ عمل سے عقائد وافکار، معاشرت،معیشت ،قانون وسیاست، تعلیم وتربیت غرض یہ کہ ہر شعبہ حیات میں جو تاریخی اور مثالی عظیم انقلاب برپا کیا، وہ کسی بھی صاحب علم ودانش سے مخفی نہیں۔ اغیار بھی حضورؑ کے مشن کی عظیم کامیابی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم روحانی اعتبار سے بھی اور دینوی اعتبار سے بھی پوری تاریخ عالم میں سب سے کامیاب شخصیت ہیں۔(۲)

اس تمہید سے مقصود یہ ہے کہ قرآن حکیم اور سنت رسولؑ میں جو راہ نمااور زریں اصول موجود ہیں،وہ قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لیے ہر شعبہ حیات میں کامل راہ نمائی کے لیے کافی ووافی ہیں۔ہاں زمانے کی گردش، مختلف تہذیبوں اور تمدنوں کے امتزاج یا تصادم سے نئے ابھرنے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے حضورؑ کے فرمودہ طریق کے مطابق اجتہاد سے کام لینا ہو گا۔(۳)

احادیث کے معتبر ومستند مجموعوں میں بکثرت ایسی روایات ملتی ہیں کہ حضورؑ نے نہ صرف ذاتی اجتہاد سے ایک مسئلے کو واضح فرمایا، بلکہ علت ومعلول کے باہمی ربط اور ان وجوہ واسباب کی نشان دہی بھی فرما دی جو اس مسئلے میں بنیاد واساس کی حیثیت رکھتے ہیں۔(۴) یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ آپ کے عہد میں سر زمین حجاز کے باشندے تہذیب وثقافت اور معاملات ومعاشرت کے ضمن میں فطری سادگی کے حامل تھے، لہٰذا پیچیدہ مسائل کا بہت کم سامنا ہوا ۔تاہم سلطنت اسلامی کی روز بروز وسعت کے ساتھ جب بے شمار ممالک اور علاقے اسلام کی نورانیت سے منور ہو گئے اور مختلف ومتنوع تہذیبوں وتمدنوں سے تعلق رکھنے والے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو نئے پیچیدہ مسائل سامنے آئے جنہیں یا خلافت راشدہ میں اجتماعی طور پر صحابہ کرام کی مشاورت سے حل کیا گیا یا پھر انفرادی سطح پر فتوے دیے گئے۔ (۵) مختلف وجوہ واسباب کی بنا پر کبار صحابہؓ کے فتووں میں کہیں کہیں اختلاف بھی نظر آتا ہے۔(۶) یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عہد نبوی یا خلافت راشدہ کے دور میں بلکہ عہد عباسی کے ابتدائی دور تک اسلامی قانون کا سرکاری سطح پر تدوین نہیں ہوئی ۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے سلطنت اسلامی کا دائرہ وسیع ہوتا چلاگیااور اس دوسرے مرحلے میں پہلے سے کہیں ذیادہ پیچیدہ مسائل سامنے آئے جنہیں حل کرنے میں ائمہ اربعہ یعنی امام اعظم امام ابو حنیفہ، ؒ امام مالکؒ ،امام شافعیؒ ،اور امام احمد بن حنبل ؒ کے علاوہ امام جعفر صادقؒ ، امام سفیان ثوریؒ ،عبد الرحمن ابن ابی لیلیؒ ،لیث بن سعدؒ ،اسحاق بن راہویہؒ ، عبد الرحمن اوزاعیؒ اور داود ظاہریؒ وغیرھم کے اسما قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں اور شب وروز محنت اور ان تھک کوششوں سے فقہ اسلامی کے پودے کی آب یاری کی۔ تاہم مذاہب فقہ میں سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت فقہ حنفی کو حاصل ہوئی ۔چنانچہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے امام ابو حنیفہ ؒ کا تعارف کراتے ہوئے تحریر کیا ہے:

Abu Hanifa (d-767) founder of the Hanafi school of law, to which almost 80 percent of the Muslims in the world adhere. (7) 

ڈاکٹر صبحی محمصانی نے فقہ حنفی کی ابتدا کا ذکر اور امام کا مختصر تعارف ان الفاظ میں پیش کیا ہے : 

’’مذہب حنفی کوفہ میں پیدا ہوا جس کے بانی امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ ہیں جوامام اعظم کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ کی علمی زندگی کی ابتدا علم کلام کے مطالعے سے ہوئی۔ پھر آپ نے اہل کوفہ کی فقہ اپنے استاذ حماد بن ابی سلیمان (م ۱۲۰ھ) سے پڑھی ۔عملی زندگی کے لحاظ سے آپ ریشمی کپڑوں کے تاجر تھے۔علم کلام اور پیشہ تجارت نے آپ میں عقل ورائے سے استصواب کرنے ،احکام شرعیہ کو عملی زندگی میں جاری کرنے اور مسائل جدیدہ میں قیاس واستحسان سے کام لینے کی صلاحیت تامہّ پیدا کر دی تھی ۔‘‘ (۸)

کوفہ کا شہر عہد صحابہؓ میں وقیع علمی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ اور حضرت علیؓ کے تلامذہ کا مستقر تھا۔اسی شہر میں ۸۰ ؁ھ میں امام ابو حنیفہ ؒ کی پیدائش ہوئی اور ۱۵۰ھ ؁ میں بغداد میں وفات پائی ۔(۹) آپ کی پرورش ایک خالص اسلامی گھرانے میں ہوئی ۔ (۱۰) الدکتور محمد یوسف موسیٰ نے آپ کی ابتدائی زندگی کے حالات اور تجارت میں آپ کی امانت ودیانت کا ذکر کرنے کے بعد علم فقہ کی طرف آپ کے میلان کی مختلف روایات بیان کی ہیں ۔(۱۱) امام ابو حنیفہ ؒ کی پوری زندگی ایک طرف زہد وتقویٰ سے مزینّ ،اخلاق فاضلہ سے آراستہ اور امانت ودیانت کی آئینہ دار ہے(۱۲) تو دوسری طرف علم وتحقیق،تدوین فقہ اور شب وروز نئے مسائل میں غور وفکر اور بحث وتمحیص اور اجتہادی مساعی کی عکاسی کرتی ہے اور بقول ڈاکٹر صبحی محمصانی وفورِعلم کی بنا پر انہیں امام اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔(۱۳) خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد (۱۴) اور خیر الدین زرکلی نے الاعلام (۱۵) میں امام شافعی ؒ کے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں کہ لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ ؒ کے محتاج ہیں۔ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے صدر الائمہ الموفق المکّی کے حوالے سے محمد بن ابی مطیع کے والد کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے کوئی چار ہزار مشکل سوالات مرتب کیے جو مختلف فنون وواقعات سے متعلق تھے۔امام صاحب نے رفتہ رفتہ ان کے تمام سوالات کے کافی وشافی جوابات دے دیے۔ (۱۶) ابن خلدون نے مقدمہ میں امام صاحب کی اجتہادی بصیرت کوان الفاظ میں ہدیہ تحسین پیش کیا ہے : ’’ اہل عراق کے امام اور مذہبی پیشوا ابو حنیفہؒ النعمان بن ثابت،جن کا مقام فقہ میں اتنا ارفع اور اعلیٰ ہے کہ کوئی اس تک نہیں پہنچ سکا۔‘‘( ۱۷)

فقہ اسلامی کی تدوین کی ضرورت

امام ابو حنیفہ ؒ کے زمانہ سے قبل جلیل القدر تابعین حضرت علقمہ ؒ ،حضرت اسودؒ ،حضرت حمادؒ ،حضرت ابراہیم نخغیؒ وغیرہم اور اہل علم صحابہ کرام کے ہاں علم حدیث کی طرح فقہی مسائل کے استخراج واستنباط اور اجتہاد کو بھی اہمیت حاصل تھی اور فقہ واجتہاد کے بہت سے مسائل اور احکام مدوّن بھی ہو چکے تھے، مگر یہ باقاعدہ اور منظم تدوین نہ تھی اور نہ اسے ایک مستقل فن Science)) کی حیثیت حاصل تھی اور نہ ابھی تک استدلال واستنباط مسائل کے قواعد مقرر ہوئے تھے۔فقہ واجتہاد جو اپنے وسیع اور ہمہ گیرنظام اور جامع فن ہونے کی وجہ سے جزئیات مسائل پر حاوی ہے ،اس کو باقاعدہ ایک دستور اور قانون کے مرتبہ تک پہنچانے کے لیے ابھی بہت سے مرحلے باقی تھے ۔ہجرت کا ایک سو بیسواں سال تھا ۔امام ابو حنیفہؒ کے استاذ حمادؒ وفات پاچکے تھے ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب تمدن میں وسعت کی وجہ سے عبادات ومعاملات میں کثرت مسائل کے واقعات پیش آنے لگے ۔تعلیم وتعّلم میں ترقی اور تنوّع ،تجارت کا فروغ ،ملکی تعلقات اور بین الاقوامی مسائل ومعاملات میں بے انتہا وسعتوں کے پیش نظر استفتا واستفسارِمسائل کی کثرت ہونے لگی ۔سرکاری قضاۃ وحکام شرعی کے قضایاوفیصلوں میں غلطی کے پیش نظر امام ابو حنیفہؒ کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ احکام ومسائل کے کثیر اور وسیع جزئیات کو اصولوں کے ساتھ ترتیب دے کر ایک فن بنایا جائے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا دستور العمل مرتب کر دیا جائے جس میں تمام چیزوں کی رعایت ہو۔یہ کام فقہ اسلامی کی مکمل تدوین اور اصولوں کی تعیین کے بغیر ممکن نہیں تھا۔چنانچہ امام ابو حنیفہؒ کی مجتہدانہ طبیعت اور متقیانہ مزاج نے ان کوخود اس فن کی ترتیب پر آمادہ کیا۔ظاہر ہے فقہ اسلامی کی تدوین اور ترتیب میں فقہ واجتہاد کے تمام پہلو شامل ہونے تھے، لہٰذا یہ ایک پر خطر اور حزم واحتیاط کا کام تھا۔

مجلس اجتہاد کی تشکیل اور اجتہادِ اجتماعی کا طریقہ کا ر

امام ابو حنیفہ ؒ نے دیگر مجتہدین کے برعکس اجتہاد واستخراج کا یہ پر خطر کام انفرادی واستبدادی اندازمیں تنہا انجام نہیں دیا، بلکہ اس مقصد کے لیے اپ نے اپنے خاص الخاص تلامذہ کو، جو حدیث وفقہ میں ماہر ہونے کے ساتھ امام صاحب کے فیضِ صحبت کے باعث زاہد وعبادت گزار اور انتہائی متقی لوگ تھے ،منتخب کر کے ایکمجلس اجتہاد تشکیل دی جو حریت فکر اور اظہار رائے میں اپنی مثال آپ تھی۔ (۱۸)

الامام الموفق المکی کے مطابق امام ابو حنیفہ ؒ کے شاگرد اور فیض یافتہ افراد کی تعداد یوں تو ہزاروں سے متجاوز ہے، تاہم بقول ابن حجرؒ ان میں آٹھ سو زیادہ مشہور ہوئے اور ان آٹھ سو میں سے ساٹھ کے قریب افراد خاص علمی مرتبے کے حامل اور اجتہاد کے درجے پر فائز تھے ۔امام ابو حنیفہ ؒ ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور انہیں پر مشتمل مجلس اجتہاد وفقہ انھوں نے قائم کی۔ ان میں یہ لوگ ممتاز تھے : ابو یوسفؒ ،زفر، ؒ داود الطائیؒ ،اسد بن عمرؒ ، یوسف بن خالد ؒ التمیمی، یحییٰ بن ابی زائدہ ؒ ،حسن بن زیادؒ ،محمد بن حسنؒ ،عافیہ بن یزید الاودیؒ ،قاسم بن معن ؒ ،عبداللہ ابن مبارکؒ ،نضر بن عبد الکریم ؒ ،عبد الرزاق بن ہمامؒ وغیرہم ۔

مشہور محدث وکیع بن الجراحؒ کے حالات میں، جو امام ابو حنیفہ ؒ کے شاگرد اور امام شافعی ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ کے استاد تھے، خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر چند اہل علم وکیعؒ کے پاس جمع تھے۔ ان میں سے کسی نے کہا : امام ابو حنیفہ ؒ نے فلان مسئلے میں غلطی کی ہے ۔وکیع بولے : ابو حنیفہ ؒ کیسے غلطی کر سکتے ہیں؟ جس شخص کے ساتھ قیاس ودرایت میں ابویوسف ؒ وزفر، ؒ حدیث میں یحییٰ بن زائدہ ،حفص بن غیاث ،حبان اور مندل ،لغت وعربیّت میں قاسم بن معن اور زہدوتقویٰ میں داود الطائی او ر فضیل بن عیاض کے رتبے کے لوگ ہوں ،وہ کیسے غلطی کر سکتا ہے اورکرتا بھی ہے تو یہ لوگ اس کو کب غلطی پر رہنے دیتے ہیں ؟

امام ابو حنیفہ ؒ کو کار اجتہاد اور تدوین فقہ وقانون کے لیے جن جن علوم کے ماہروں کی ضرورت تھی، انھوں نے فقہ اسلامی کے مختلف ابواب ومباحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہایت کامیابی سے ان علوم میں مہارت رکھنے والے افراد کو نہ صرف جمع کیا بلکہ سالہا سال ان کی علمی اور مادی سر پرستی کرکے امت کو ایک بے مثال مجموعہ قوانین وفقہ کا تحفہ دیا۔ڈاکٹر محمد حمیداللہ لکھتے ہیں :

’’ایک اور مشکل یہ تھی کہ فقہ، زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہے اور قانون کے ماخذوں میں قانون کے علاوہ لغت، صرف ونحو،تاریخ وغیرہ ہی نہیں، حیوانات ،نباتات بلکہ کیمیا کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔قبلہ معلوم کرنا جغرافیہ طبعی پر موقوف ہے۔ نماز اور افطار وسحری کے اوقات علم ہیئت وغیرہ کے دقیق مسائل پر مبنی ہیں۔ رمضان کے لیے رؤیت ہلال کو اہمیت ہے اور بادل وغیرہ کے باعث ایک جگہ چاند نظر نہ آئے تو کتنے فاصلے کی رویت اطراف پر موثر ہو گی وغیرہ وغیرہ۔مسائل کی طرف اشارے سے اندازہ ہو گا کہ نماز روزہ جیسے خالص عباداتی مسائل میں بھی علوم طبعیہ سے کس طرح قدم قدم پر مدد لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار،تجارت، معاہدات ،آب پاشی ،صرافہ ،بنک کاری وغیرہ کے سلسلے میں قانون سازی میں کتنے علوم کے ماہروں کی ضرورت ہو گی۔امام ابو حنیفہ ہر علم کے ماہروں کو ہم بزم کرنے اور اسلامی قانون یعنی فقہ کو ان سب کے تعاون سے مرّتب ومدون کرنے کی کو شش میں عمر بھر لگے رہے اور بہت کچھ کامیاب ہوئے‘‘۔(۱۹)

آج کے دور میں علوم کی مختلف شاخوں نے اپنی مستقل حیثیت اختیار کر لی ہے اور ان میں تخصص کے لیے ساری عمر صرف کرنا پڑتی ہے،لیکن فقہ اسلامی کے طلبہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ ان میں سے کئی ایک علوم مثلاً معاشیات، سیاسیات ،قانون بین الاقوام وغیرہ براہ راست علم فقہ کے ابواب ہیں۔ ان علوم سے متعلق جو قوانین مدون کیے گئے ہیں، ان کے لیے صرف کتاب ،سنت ،اجماع اور قیاس سے ہی کام نہیں لیا گیا بلکہ قانون سازی کے لیے دیگر علوم سے بھی بھر پور استفادہ کیا گیا۔ (۲۰)

الامام الموفق المکی ،امام ابو حنیفہ ؒ کے مجموعہ قوانین کے بارے میں لکھتے ہیں: 

’’وہ مجموعہ نحو اور حساب کے ایسے دقیق مسائل پر مشتمل تھا جن کو سمجھنے کے لیے عربی زبان وادب اور الجبرا وغیرہ میں مہارت تامّہ کی ضرورت تھی۔‘‘ (۲۱)

موفق، امام ابو بکر الجصاص کی تالیف ’شرح جامع صغیر‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ میں نے مدینۃ السلام (بغداد) میں ایک بہت بڑے نحوی حسن بن عبد الغفار کو اس کتاب کے بعض مسائل سنائے جن کا تعلق نحو ولغت کے ذریعے استخراج مسائل سے تھا تو جیسے جیسے وہ مسائل سنتے جاتے تھے، حیرت سے میری طرف دیکھتے ۔ آخر میں بولے،ان نتائج کا استنباط وہی کر سکتا ہے جو علوم نحو میں خلیل اور سیبویہ کاہم پلّہ ہو۔ (۲۲)

طریقہ بحث وتحقیق

امام ابو حنیفہ ؒ کی مجلس فقہ واجتہاد کے ارکان کے ناموں کی تلاش کے لیے آپ کے سوانح نگاروں نے بلاشبہ سخت جگر کاوی کی ہے۔ آپ کی تدوین فقہ کے تیس سالوں میں ہزاروں نہیں تو سیکڑوں طالب علموں نے ان سے کسب فیض کیا ۔ان میں سے بعض غیر معمولی قابلیت کے حامل تلامذہ کو امام اپنی مجلس فقہ میں شامل کر لیتے تھے جبکہ اکثریت ایک خاص مدت تک امام ابو حنیفہ ؒ کے طریقہ استدلال اور منہج اجتہاد میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنے شہروں کو روانہ ہو جاتی تھی ،جیسا کہ شیخ محمد ابو زہرہ نے لکھا ہے :

لقد کان لابی حنیفہؒ تلامذۃ کثیرون منھم من کان یرحل الیہ ویستمع امرا ثم یعود الی بلدہ بعد ان یاخذ طریقتہ ومنھاجہ ومنھم من لازمہ۔
’’امام ابو حنیفہؒ کے بہت سے شاگرد تھے۔ ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو آپ کے پاس آکر کچھ عرصہ گزارتے، آپ کا طریقہ استنباط سیکھتے، اسے اپنا کر واپس وطن لوٹ جاتے ، اور ان میں سے کچھ نے آپ کی صحبت اختیار کر لی تھی ۔‘‘

مذکورہ حضرات مختلف علوم وفنون کے ماہر ،غیر معمولی قابلیتوں اور علمی حیثیتوں کے مالک تھے ۔ (۲۳)

مجلس میں مسائل پر بحث وگفتگو کے طریقے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے الموفق لکھتے ہیں :

کان یلقی مسئلۃ مسئلۃ یقلبھم ویسمع ماعندھم ویقول ماعندہ ویناظرھم شھرا او اکثر من ذلک حتی یستقر احد الا قوال فیھا۔ (۲۴)
’’ایک ایک مسئلہ کو پیش کرتے، لوگوں کے خیالات کو الٹتے پلٹتے ،اراکین مجلس کی آرا اور دلائل سنتے۔اپنی رائے اور دلائل سے اہل مجلس کو آگاہ کرتے اور ان سے مناظرہ کرتے ۔کبھی ایک ایک مسئلہ پر بحث ومناظرہ کا سلسلہ ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ مدت تک چلتا تاآنکہ مسئلے کا کوئی پہلو متعین ہو جاتا۔‘‘

بامقصد اور آزادانہ بحث

امام ابو حنیفہؒ نے مشاورت کو بامقصد ،بحث ومناظرہ کو آزادانہ اور مجلس اجتہاد کو بے تکلف بنانے کی شعوری کوشش کی تھی تاکہ ادب آداب اور عقیدت ولحاظ کے باعث قانون سازی میں کسی قسم کا سقم نہ رہ جائے ۔ مشہور محدث عبد اللہ ابن مبارک کہتے ہیں :

’’میری موجودگی میں ایک مسئلہ بحث کے لیے پیش ہوا۔ مسلسل تین دن تک ارکان مجلس اس پر غور وخوض اور بحث ومباحثہ کرتے رہے ۔‘‘

کوفہ کے اہل علم امام ابو حنیفہ ؒ کے قانون سازی اور حل مسائل کے اس اچھوتے انداز کو حیرت واستعجاب سے دیکھتے اور پسند کرتے تھے ۔ (۲۵)

مشہور محدث اعمش نے مجلس کے طریق کار کو بیان کرتے ہوئے کہا: جب اس مجلس کے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے تو حاضرین اس مسئلے کو اس قدر گردش دیتے ہیں اور الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ بالآخر اس کاحل روشن ہوجاتا ہے ۔ (۲۶)

ہم عصر علمی مجالس سے استفادہ

امام ابو یوسف کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ جب کوئی مسئلہ زیر تحقیق ہوتا تو کوفہ کی دوسری علمی مجالس سے بھی مراجعت کی جاتی کہ آیا اس مسئلے میں ان کے پاس کوئی حدیث ہے ۔ابو یوسف کہتے ہیں کہ مجھے تلاش سے جو احادیث ملتیں، میں لے کر امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو وہ بتاتے کہ ان میں سے فلاں حدیث صحیح ہے اور فلاں صحیح نہیں ہے، اور ہم نے جو رائے اختیار کی ہے، وہ حدیث صحیح کے مطابق ہے ۔میں پوچھتا کہ آپ کو ان احادیث کا کیسے علم ہوا ؟تو جواب دیتے کہ کوفہ میں جتنا علم ہے، وہ سارا میرے پاس ہے۔ (۲۷)

اہم عصری مباحث وموضوعات پر اجتہاد

امام ابو حنیفہؒ کی مجلس اجتہاد میں بعض اہم عصری موضوعات زیر تحقیق لائے گئے۔ امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب الفرائض اور کتاب الشروط وضع کیں۔قانون بین المالک، جو تاریخ کا حصہ سمجھا جاتاتھا، اس کو تاریخ سے الگ کرکے مستقل فقہی چیز قرار دیا گیااور کتاب السیر مرتب ہوئی جس میں صلح اور جنگ کے قوانین مدون ہوئے۔ اس طرح ایک ضخیم مجموعہ قوانین تیار ہو ا جو متعدد کتب کی شکل میں اس دور میں موجود رہا۔بعد میں ان تالیفات کو امام محمد بن حسن شیبانی نے مزید منقح کرکے مدون کیا اور یہی مجموعے فقہ حنفی کی اساسی کتب ہیں۔

اہم اصولِ اجتہاد

امام ابو حنیفہؒ کی قائم کردہ مجلس اجتہاد کا طریق اجتہاد تقریباً وہی تھا جو اصحاب رسول ؑ نے اختیار کیا تھا ۔ اس مجلس کے طریق میں بھی صحابہ کرامؓ کے اختیار کردہ اصول کار فرما نظر آتے ہیں ۔ڈاکٹر صبحی محمصانی اس طریق کا ر کے ضمن میں امام صاحب کا اپنا ایک قول نقل کرتے ہیں :

اذا لم یکن فی کتاب اللہ ولا فی سنۃ رسول اللہ نظرت فی اقاویل اصحابہ ولا اخرج عن قولھم الی غیرھم فاذا انتھی الامر الی ابراھیم والشعبی وابن سیرین والحسن وعطاء وسعید بن جبیر فقوم اجتھدوا فاجتھد کما اجتھدوا۔ (۲۸ )
’’ اگر کتاب اللہ اور سنت رسول ؑ دونوں میں مسئلہ نہ مل سکے تو اقوال صحابہؓ سے اخذ کرتا ہوں۔ جس کا قول چاہتا ہوں، لے لیتا ہوں اور جس کا قول چھوڑنا چاہوں، ترک کر دیتا ہوں اور ان کے اقوال سے کسی دوسرے کے قول کی طرف تجاوز نہیں کرتا، لیکن جب معاملہ ابراہیم نخعی ،شعبی ،ابن سیرین ،حسن بصری ،عطا اور سعید بن جبیرتک پہنچتاہے تو وہ اجتہاد کرنے والے لوگ تھے، ہمیں بھی ان کی طرح اجتہاد کرنے کا حق حاصل ہے ۔‘‘

اس طرح علامہ عبد البر کی ’’ الانتقاء ‘‘ میں نیز موفق المکی کی ’’ المناقب ‘‘ میں مذکور ہے:

’’آپ معتبر قول کو لیتے، قبیح سے دور بھاگتے، لوگوں کے معاملات میں غوروفکر کرتے ۔جب لوگوں کے احوال اپنی طبعی رفتار سے جاری رہتے تو قیاس سے کام لیتے ۔مگر جب قیاس سے کسی فساد کا اندیشہ ہوتا تو لوگوں کے معاملات کا فیصلہ استحسان سے کرتے۔ جب اس سے بھی معاملات بگڑ تے نظر آتے تو مسلمانوں کے تعامل کی طرف رجوع کرتے۔ جس حدیث پر محدثیں کا اجماع ہوتا، اس پر عمل پیرا ہوتے ۔ پھر جب تک مناسب سمجھتے، اس پر اپنے قیاس کی بنیاد کھڑی کرتے ۔پھر استحسان کا رخ کرتے ۔ قیاس اور استحسان میں سے جو زیادہ موافق ہوتا، اس کی طرف رجوع کرتے ۔سہل کہتے ہیں : امام ابو حنیفہؒ کا علم عوام کی سمجھ میں آنے والا علم ہے۔‘‘

نیز اسی کتاب میں ہے :

’’ابو حنیفہؒ ناسخ منسوخ احادیث کی بہت چھان بین کرتے ہیں۔جب کوئی حدیث مرفوع یا اثر صحابی آپ کے نزدیک ثابت ہو جاتا تو اس پر عمل کرتے۔ آپ اہل کوفہ کی احادیث سے خوب آگاہ تھے اور ان پر بڑی سختی سے عامل رہتے تھے۔‘‘

گویا مجلس اجتہاد میں پیش آمدہ مسائل کا حل پہلے قرآن وسنت سے تلاش کیا جاتا ۔سنت دوسرا بڑا ماخذ ہے جس پر مدار استنباط تھا۔ قرآن حکیم شریعت کا اصل الاصول اور اس کا سر چشمہ ہے جس کا ثبوت قطعی ہے جب کہ حدیث کا ثبوت ظنّی ہے۔ جو اوامر قرآن میں ہوں، وہ ’’فرض ‘‘ اور جو ’’حدیث ‘‘ سے ثابت ہوں، ان کو ’’واجب ‘‘ کہا جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ دلائل میں اسی تقدیم وتاخیر کے قائل تھے۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ ہم پہلے کتاب اللہ سے استدلال کرتے ہیں، پھر سنت نبوی ؑ سے، پھر قضایا صحابہؓ سے۔ صحابہؓ جس بات پر متفق ہوں، ہم اس پر عمل کرتے ہیں ۔اگر صحابہؓ میں اختلاف پایا جاتا ہو تو ہم علت جامعہ کی بنا پر ایک حکم کو دوسرے حکم پر قیاس کرتے ہیں ۔یہاں تک کہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔‘‘(۳۰)

امام ابو حنیفہؒ نے علوم نبوی ؑ کے خزانے سے کما حقہ فائدہ اٹھایا۔اخذ وقبولِ حدیث کے اصول متعین فرمائے ۔فقہ الحدیث میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مہارت تامّہ عطا فرمائی تھی۔آپ کے جلیل القدر شاگرد اور محدث امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں: 

’’مارایت احدا اعلم بتفسیر الحدیث ومواضع النکت التی فیہ من الفقہ من ابی حنیفہؒ .....وکان ھو ابصر بالحدیث الصحیح منی‘‘ (۳۱)
’’میں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی کو حدیث سمجھنے اور اس سے فقہی جزئیات اخذ کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ صحیح حدیث کی مجھ سے زیادہ بصیرت رکھنے والے تھے ۔‘‘

علاوہ ازیں مجلس اجتہاد میں صحابہ خصوصاً سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ، سیدنا علی،ؓ قاضی شریح، ابراہیم نخعی اور دیگر ہم عصر فقہا ومجتہدین کے فیصلوں اور قضایاکو کافی اہمیت دی جاتی ۔

اس طرح قانون سازی کے سلسلے میں مذکورہ بالا اجتماعی اجتہادی کاوشوں کی بنا پر جو قانونی سرمایہ وجود میں آیا ،اس کی مثال دنیا کی دیگر اقوام میں عنقا ہے۔ سیکڑوں متون (texts)، ہزاروں شروح وحواشی کے علاوہ وقائع اور حوادث وفتاویٰ کی حیثیت وہی ہے جو اج کل عدالتوں میں نظائر precedents)) کی ہے۔

آج عالم اسلام جن فکری، تہذیبی،تعلیمی اور قانو نی مسائل سے دور چار ہے، ان کے حل کے سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کا اجتماعی اجتہاد کا طریق کار چراغ راہ کا کام دے گا ۔قر آن وسنت ،اقوال صحابہؓ اور قدیم علمی فقہی سرمایہ کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے اسلام کی نمائندہ کونسلیں پیش آمدہ مسائل پر غورفکر کریں۔مسائل کے فنی اور شرعی پہلووں پر خوب غوروفکر کرکے مسائل کا حل سامنے لائیں۔ اس کام کے لیے اللہ رب العزّت سے دعا واستعانت ،خلوص نیت اور عزم صمیم کی ضرورت ہے ۔


حوالہ جات

(۱) ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۹ سے ۲۲ مارچ ۲۰۰۵ منعقد ہونے والا اجتماعی اجتہاد پر بین الاقوامی سیمینار اسی مقصد کے لیے بلایا گیا تھا۔

( ۲)

 Micheal Heart: "The 100 - A Rankin of The Most Influential Persons in History", New York ,1978, P. 33

( ۳) علامہ محمد الخضری نے اپنی کتاب ’’ تاریخ التشریع الاسلامی ‘‘میں حضور ؑ کے ذاتی اجتہاد ات کی مختلف مثالیں پیش کی ہیں۔ (محمد الخضری :تاریخ التشریع الاسلامی ،طبع مصر ، ۱۹۶۰م،ص۲۶تا ۳۹)

(۴) یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ حضور ﷺ نے بعض صحابہؓ کو اپنے عہد مسعود میں اجتہاد کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (ڈاکٹر حمید اللہ : ’’امام ابو حنیفہؒ کی تدوین قانون اسلامی‘‘ ،کراچی ،N.Dََََََِص ۱۳)

( ۵) ڈاکٹر صبحی محمصانی :’’فلسفۃ التشریع فی الاسلام‘‘ ،بیروت ،۱۹۶۱۔ص۳۳ ،۳۴

(۶) ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں، شاہ ولی اللہ نے ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ میں اور عصر حاضر میں علامہ محمد الخضری نے صحابہ کرامؓ کے فتووں میں اختلاف کاذکر کیا ہے اور ان کے اسباب پر روشی ڈالی ہے ۔ملاحظہ ہو :ابن خلدون ،مقدمہ (اردو ترجمہ )،ص ۴۶۹۔ شاہ ولی اللہ :حجۃ اللہ البالغۃ(اردو ترجمہ )،لاہور ،حصہ اول ،ص ۳۷۵۔ محمد خضری:تاریخ التشریع الاسلامی ،مصر ۔۱۹۶۰م ص۱۱۷ تا ۱۲۷۔

( ۷)

 Dr. Hamidullah :"Introduction to Islam", Lahore, 1974, P. 267

( ۸) صبحی محمصانی :’’فلسفہ التشریع فی الاسلام ‘‘،بیروت ،۱۹۶۱،ص ،۴۱۔

( ۹) خیرالدین زرکلی :’’ الاعلام‘‘ ،الجزء التاسع ،ص ۴۔

( ۱۰) ابو زہرہ : ’’ابو حنیفہؒ حیاتہ وعصرہ وآراء ہ وفقہہ‘‘ ( اردو ترجمہ ) المکتبہ السلفیہ،لاہور ۱۹۶۲،ص ۴۶۔

( ۱۱) الدکتور محمد یوسف موسیٰ :’’ محاضرات فی تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘ ،الجزء الثالث ،ص ۳۶۔

( ۱۲) المصدر السابق۔

(۱۳) فلسفۃ التشریع فی الاسلام ،ص۴۲۔

( ۱۴) ج ۱۳،ص ۳۴۶۔

( ۱۵) ج ۹ ص ۵۔

(۱۶) امام ابو حنیفہ ؒ کی قانون تدوین اسلامی ،ص ۳۴۔

( ۱۷) ابن خلدون :مقدمہ (اردو ترجمہ ) کراچی ،ص ۴۶۸۔

(۱۸) ابو زہرہ : ص ۲۲۱۔

( ۱۹) امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی ، (پیش لفظ)۔

( ۲۰) محمد طفیل ہاشمی : ’’امام ابو حنیفہؒ کی مجلس تدوین فقہ‘‘ ، علمی مرکز وملت پبلی کیشنز،اسلام آباد ۱۹۹۸، ص۹۰۔

( ۲۱ ) الموفق المکی الامام : ’’مناقب الامام ابی حنیفہ‘‘ؒ ،دائرۃ المعارف حیدر اباد(س ن) ،۲/۱۲۷۔

( ۲۲) المصدر السابق :۲/ ۱۳۸۔

( ۲۳) الشیخ ابو زہرہ : ’’ابو حنیفہؒ حیا تہ وعصرہ‘‘ ،(مترجم اردو) ،المکتبہ السلفیہ ،لاہور،۱۹۶۲ ،ص ۱۸۲ ۔

( ۲۴) الموفق المکی : المصدر السابق ،۲/۱۳۳ ۔

( ۲۵) المصدر السابق ، ۱/۵۴۔

( ۲۶) کردری : مناقب اما م ابو حنیفہؒ ،۲/۳۰۔

( ۲۷) الموفق المکی : ۲/۱۵۲ ۔

( ۲۸) صبحی محمصانی :’’ فلسفۃ التشریع فی الاسلام‘‘ ،۱۹۶۱،ص ۴۲۔

( ۲۹) ابن عبد البر :’’ الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الفقہاء‘‘، ص ۱۴۳۔

( ۳۰) عبد الوہاب الشعرانی : ’’المیزان الکبریٰ ‘‘،طبع مصر ،۱۳۴۴ھ ص ۶۱۔

( ۳۱) الدکتور ابو یوسف موسیٰ :’’ محاضرات فی تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘ (۳) ،ص ۶۶۔

مکاتب فکر