شیعہ سنی مکالمہ :الشیخ یوسف القرضاوی کے خیالات

ڈاکٹر یوگندر سکند

قطر کے الشیخ یوسف القرضاوی کا شمار دنیا کے ممتاز ترین مسلم علما میں ہوتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی شہرت ایک ایسے عالم کی ہے جو کھلے ذہن کے حامل اور زندہ معاصر مسائل کو حقیقی مکالمے کے جذبے کے ساتھ زیر بحث لانے کے خواہش مند ہیں۔ جن موضوعات پر الشیخ قرضاوی نے بہت وسعت کے ساتھ لکھا ہے، ان میں سے ایک مسئلہ مختلف اسلامی گروہوں، فرقوں اور تحریکوں کے مابین تعلقات کا بھی ہے۔ وہ عقیدے کی ایسی انتہا پسندانہ تشریحات کی مذمت کرتے ہیں جو دوسرے تمام مسلمانوں کو صاف صاف کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیں۔ اس کے بجائے وہ اعتدال اور مسلمانوں کے مابین مکالمہ کے داعی ہیں اور اسے قرآن وسنت سے ثابت شدہ طریقہ سمجھتے ہیں۔ 

اسلامی تاریخ کے بیشتر ادوار میں شیعہ اور سنیوں کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ بہت سے شیعہ اور سنی ایک دوسرے کو مرتد حتیٰ کہ اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ بعض ممالک میں، جیسا کہ مثلاً آج پاکستان کے بعض حصوں میں، شیعہ سنی تصادم نے نہایت پر تشدد صورت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مقامات پر بے حد اہم سیاسی اور معاشی عوامل بھی اس تصادم کو ہوا دیتے ہیں، تاہم فرقہ وارانہ پہلو بھی شیعہ سنی اختلافات کو مزید خراب کرنے میں ایک نہایت قوی عامل کا کردار ادا کرتا ہے۔ شیعہ سنی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے نیم دلانہ کوششیں ماضی میں بھی کی گئی ہیں اور آج بھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیشتر قدامت پسند اور روایتی علما حقیقی شیعہ سنی مکالمے کی کسی بھی تجویز کے اگر کھلم کھلا مخالف نہیں تو اس حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ضرور رہے ہیں۔ مخالف فرقے کو اسلام کا دیرینہ دشمن قرار دینے والا لٹریچر، جو اگرچہ سب کا سب نہیں لیکن زیادہ تر قدامت پسند علما کے قلم سے نکلا ہے، آج بھی لکھا اور تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایسا لٹریچر کئی صدیوں سے موجود ہے، تاہم لگتا ہے کہ حالیہ سالوں میں چند مخصوص ممالک نے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور سرپرستی کر کے اس قسم کے لٹریچر کو وسیع پیمانے پر پھیلا دیا ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر تیار کیے جانے والے شیعہ مخالف لٹریچر کی صورت حال یہی ہے جس کا مقصد ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد نمودار ہونے والی شہنشاہیت مخالف اور خاندانی حکومت کے منافی اسلامی تعبیرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ 

شیعہ کے بارے میں بیشتر سنی علما کے سخت مخالفانہ موقف کے تناظر میں شیخ یوسف القرضاوی کا رویہ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ شیخ نے حال ہی میں شیعہ کے بارے میں دو فتوے جاری کیے ہیں، جو ویب سائٹ www.islam-online.net پر پڑھے جا سکتے ہیں۔ یہ فتوے ان کی اس شدید خواہش کے آئینہ دار ہیں کہ شیعہ کے ساتھ حقیقی مکالمہ کیا جائے اور وسیع تر حدود میں مسلمانوں کے مابین اختلافات کو گوارا کیا جائے۔ ان میں سے پہلے فتوے میں شیعہ اور سنیوں کی باہمی شادی کا مسئلہ زیر بحث آیا ہے۔ شیخ نے اس سوال کے جواب میں ایک مثالی شادی کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ازدواجی زندگی کی بنیاد فریقین کی ذہنی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔ گرما گرم بحثیں اور مسلسل مباحثے ازدواجی زندگی کو برباد کر دے سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ زوجین کی باہمی لڑائی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔‘‘ شیخ نے لکھا ہے کہ میاں بیوی کے مابین شدید تصادم کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک فریق (شیخ نے یہاں فریق کو متعین نہیں کیا) سنی ہونے کے ناتے حضرت ابوبکر کا حامی ہو جبکہ دوسرا فریق (اغلباً شیعہ) حضرت علی کا دفاع کرے۔ شیخ نے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ اس شادی کو حرام نہیں قرار دیتے، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ ’’میں اس کو ترجیح نہیں دیتا۔‘‘ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا نتیجہ تصادم اور آخر کار شادی کی ناکامی کی صورت میں نکلے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ایک مسلمان کو کسی مسیحی خاتون سے شادی کرنے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ کسی شیعہ لڑکی سے بھی شادی کر سکتا ہے۔ تاہم اگرچہ وہ ایک سنی مرد کی ایک شیعہ خاتون کے ساتھ شادی کو قانونی طور پر جائز تصور کرتے ہیں، لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ کوئی مثالی شادی نہیں ہے۔ البتہ وہ اس پر ایک مزید شرط عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر شیعہ خاتون ایک معتدل شیعہ ہے، سنیوں کے ساتھ ان کی مسجد میں نماز پڑھتی ہے اور ان کے ساتھ تصادم کی حمایت نہیں کرتی، تو ایک سنی مرد اس سے شادی کر سکتا ہے اگر وہ ’’سچ مچ ایسا کرنا چاہتا ہے۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ فتوے کے آخر میں شیخ نے مزید یہ کہا ہے کہ ’’یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ مذکورہ فتویٰ کا اطلاق اس صورت میں بھی ہوتا ہے جبکہ مرد شیعہ اور خاتون سنی ہو۔‘‘

شیخ قرضاوی کے دوسرے فتوے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ شیعہ سنی تعلقات پر اور بالخصوص دونوں گروہوں کے مابین مکالمہ کے موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ شیخ نے یہ فتویٰ مارچ ۲۰۰۴ میں عراق کے کسی حسین نامی شخص کے سوال کے جواب میں جاری کیا تھا اور اس کا عنوان خاصا چونکا دینے والا ہے: ’’شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اختلافات کو نظر انداز کرنا‘‘۔ شیخ نے جواب کا آغاز مسلمانوں کے مابین اخوت کے تصور سے کیا ہے جس پر اسلام نے بے حد زور دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس سے شیعہ اور سنی کے مابین فی الفور مکالمے کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے چند عمومی ضابطے ذکر کیے ہیں جن کی پابندی سنیوں کو شیعہ کے ساتھ مکالمے میں ملحوظ رکھنی چاہیے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سب سے اہم ضابطہ یہ ہے کہ اتفاقی نکات پر توجہ مرکوز کی جائے، نہ کہ اختلافی امور پر۔ اتفاقی امور میں سب سے نمایاں وہ چیزیں ہیں جن کا تعلق ’’دین کی اساسات‘‘ سے ہے۔ دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے مابین اختلاف کے بیشتر نکتے ’’معمولی‘‘ باتوں سے متعلق ہیں، اس لیے انھیں مکالمے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

اس کے بعد شیخ نے شیعہ اور سنیوں کے مابین عمومی اتفاق کے دائروں پر تفصیل سے بحث کی ہے جن کو ان کی رائے میں دونوں گروہوں کے مابین بامعنی مکالمہ اور قیام وحدت کی کوششوں کی بنیاد قرار پانا چاہیے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ شیعہ اور سنی، دونوں بہت سے بنیادی عقائد پر متفق ہیں، جیسا کہ خدا پر ایمان، رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان، تمام آسمانی صحیفوں اور رسولوں پر ایمان، اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر ایمان۔ شیعہ اور سنی دونوں اسلام کے پانچ بنیادی ارکان پر بھی متفق ہیں، یعنی اللہ کی وحدانیت اور محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی، فرض نمازیں، زکاۃ، حج اور رمضان کے روزے۔ شیخ نے اعتراف کیا ہے کہ ان ارکان سے متعلق بعض احکام میں شیعہ اور سنی باہم مختلف ہیں، تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس نوعیت کا اختلاف رائے ’’ایک بالکل فطری چیز ہے۔‘‘ متعدد دوسرے سنی علما کے برعکس، وہ شیعہ اور سنیوں کے مابین تخیلاتی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے بجائے یہاں تک کہتے ہیں کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کو سمجھنے میں شیعہ اور سنی کا اختلاف ایسے ہی ہے جیسے خود سنی فقہا، مثلاً حنبلی، حنفی اور مالکی مکاتب فکر کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ 

شیعہ اور سنیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششوں میں شیخ نے معروف سنی عالم امام الشوکانی کا مثبت انداز میں حوالہ دیا ہے جنھوں نے ’’ممتاز سنی اور شیعہ فقہا کی آرا کا بالکل یکساں درجے میں حوالہ دیا ہے۔‘‘ شیخ نے رائے دی ہے کہ فقہی مسائل میں ، خواہ ان کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے، شیعہ اور سنیوں کے مابین غالباً کوئی ’’بنیادی اختلاف‘‘ نہیں ہے۔ انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ شیعہ، اہل سنت کی کتب حدیث کو مستند تسلیم نہیں کرتے، تاہم انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کتابوں میں مذکور بیشتر احادیث کو شیعہ بھی مستند مانتے ہیں، خواہ وہ ایسے ذرائع سے منقول ہوں جو خود ان کے نزدیک مستند ہیں یا ان کے ائمہ کی آرا کی صورت میں جنھیں وہ معصوم عن الخطا قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ مجموعی طور پر شیعہ اور سنی فقہ میں ’’اچھا خاصا اتفاق‘‘ موجود ہے اور یہ ان کے نزدیک وہ ’’سب سے اہم نکتہ‘‘ ہے جسے شیعہ سنی مکالمہ اور اتحاد کے مسئلے پر غور کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا ہے کہ فقہ کے دونوں ذخیرے ایک ہی ماخذ، یعنی قرآن اور سنت پر مبنی ہیں اور دونوں کا مشترک مقصد لوگوں کے مابین اللہ کے انصاف اور عدل کو قائم کرنا ہے۔

شیخ چند مخصوص امور میں شیعہ اور سنیوں کے مابین اختلاف سے ناواقف نہیں ہیں، تاہم وہ انھیں مشترکہ اور متفقہ نکات کے مقابلے میں نسبتاً کم اہم قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروہوں کے مابین مشترکات کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بعض سنی حلقوں میں عمومی طور پر پائے جانے والے اس تصور کی بھی تردید کرتے ہیں کہ تمام شیعہ بعض ایسے عقائد کے حامل ہیں جنھیں سنی درست تسلیم نہیں کرتے۔ یوں بعض ایسے شیعہ خیالات جو ہمیں بڑے عجیب دکھائی ہیں، ان کو بعض سنی علما نے بھی اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر وہ بتاتے ہیں کہ بیشتر شیعہ وقتی نکاح (متعہ) کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ سنی علما بالعموم اسے ممنوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابن عباس نکاح کی اس صورت کو جائز سمجھتے تھے اور اگرچہ بعد میں انھوں نے اس ضمن میں اپنی رائے تبدیل کر لی، لیکن مکہ اور یمن میں ان کے بعض پیروکار مثلاً سعید بن جبیر اور طاووس اس نکاح کو جائز ہی قرار دیتے رہے۔

مجموعی طور پر شیعہ سنی تعلقات کے پریشان کن مسئلے کے حوالے سے شیخ قرضاوی کی نسبتاً کھلے ذہن والی اپروچ بہت سے قدامت پسند سنی علما کی رائے کے برعکس ہے، خاص طور پر وہابی علما جو اس پر اصرار کرتے ہیں کہ شیعہ مبتدع اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ شیخ قرضاوی نے اس موقف سے شدید اختلاف کیا ہے اور اس کے بجائے بیشتر شیعہ کو صاف لفظوں میں اپنا مسلمان ساتھی تسلیم کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ’’یہ بات سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ تمام وہ شیعہ مسلمان ہیں جو خدا کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ شیعہ کی اصطلاح ’’ایسے گروہ کے لیے بولی جاتی ہے جو امام علی کے پیروکار ہیں۔‘‘ وہ اہل بیت کے بھی مکمل وفادار ہیں۔ یہ کوئی غلط یا غیر اسلامی ایجاد نہیں ہے اور نہ شیعہ کہلانے والے اس میں منفرد ہیں۔ شیخ نے کہا ہے کہ حقیقت میں ’’اس طرح کی وفاداری ہر مسلمان سے مطلوب ہے‘‘ اور اس کے بعد انھوں نے اس کے حق میں قرآن سے دلائل دیے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ شیعہ کے کچھ اپنے مخصوص عقیدے ہیں جنھیں سنی بدعت قرار دے کر مسترد کرتے ہیں، تاہم ’’ان سے وہ غیر مسلم قرار نہیں پاتے۔‘‘ البتہ انھوں نے ان شیعہ گروہوں میں جنھیں بالکل جائز طور پر مسلمان کہا جا سکتا ہے، اور ان شیعہ میں جن کے عقائد اور اعمال واضح طور پر خود شیعہ اکثریت کے عقائد سے منحرف ہیں، واضح فرق قائم کیا ہے۔ موخر الذکر میں وہ گروہ شامل ہیں جو حضرت علی کو خدا مانتے ہیں یا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل میں آخری پیغمبر حضرت علی تھے نہ کہ حضرت محمد ﷺ۔

شیخ کی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں، خاص طور پر شیعہ اور سنیوں کی باہمی کشمکش صرف اور صرف ان قوتوں کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہے جو تمام مسلمانوں کی دشمن ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’تمام مسلمانوں کو ان اسکیموں اور منصوبوں کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے جو دشمنان اسلام نے تیار کی ہیں۔ وہ ہمیں عقیدے کے نام پر آپس میں لڑانا بھڑا نا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے شیعہ اور سنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمنوں کو اس بات کا موقع فراہم نہ کریں۔

فتوے کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے شیخ نے شیعہ اور سنیوں کے مابین سادہ فقہی اختلافات کے مقابلے میں اعتقادی اختلافات پر زیادہ تفصیل سے بحث نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے پوچھے جانے والے متعین سوالات کا محض سادہ انداز میں جواب دے دیا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے مابین بامعنی مکالمہ میں عقیدہ اور تاریخ کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم شیخ کے فتوے اس بات کو واضح کر دیتے ہیں کہ مکالمہ صرف اس صورت میں شروع ہو سکتا ہے جب فریقین اپنے مابین مشترک امور کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائیں، اور جیسا کہ شیخ نے واضح کیا ہے، شیعہ اور سنیوں کے مابین بہت سے امور مشترک ہیں اور انھی کو ایک حقیقی اسلامی افہام وتفہیم اور برداشت کی بنیاد بننا چاہیے۔

مکاتب فکر

(اپریل ۲۰۰۵ء)

Flag Counter