تکفیر شیعہ سے متعلق چند ضروری وضاحتیں

حافظ عبد الرشید

گزشتہ ایک برس سے ماہنامہ الشریعہ میں سنی شیعہ کشیدگی اور اس کے خاتمے کے متعلق مختلف اصحاب فکر ودانش اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اپریل ۲۰۰۵ کی اشاعت میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون بعنوان ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں دو مسئلوں پر گفتگو فرمائی ہے۔ ایک شیعہ کی تکفیر کا مسئلہ، اور دوسرا سنی شیعہ تنازع کا حل۔ پہلے نکتے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے الشریعہ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کے موقف کو ایک سخت موقف قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ایک فتوے میں مذکور دو باتوں کو محل نظر قرار دے کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ذیل کی سطور میں ہم تکفیر شیعہ سے متعلق مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے موقف اور اس پر ڈاکٹر صاحب کے تبصرہ کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

مولانا سرفراز خان صفدر نے اپنی مختلف تصانیف میں اہل تشیع کی بنیادی مذہبی کتب سے ان کے عقائد ونظریات باحوالہ نقل کیے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی تصنیف ’الکلام الحاوی فی تحقیق عبارۃ الطحاوی‘ میں ’’تشیع کا اجمالی نقشہ‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے شیعہ کی معتبر کتب سے ان کے بعض نظریات وعقائد نقل کیے ہیں۔ بخاری شریف پر اپنے افادات کے مجموعہ ’’احسان الباری لفہم البخاری‘‘ کے آخر میں حدیث قرطاس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے صحابہ کرام خصوصاً خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے متعلق اہل تشیع اور بالخصوص امام خمینی کے نظریات نقل کیے ہیں۔ اس موضوع پر مولانا موصوف نے ۱۹۸۷ میں ایک مستقل کتاب بھی ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے تحریر فرمائی ہے۔ 

اہل تشیع کے عقائد ونظریات کے متعلق مولانا سرفراز صفدر کی تمام تحریرات کا مطالعہ کرنے سے قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مولانا کے نزدیک اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین فروعی آرا کا نہیں، بلکہ عقیدے اور نظریے کا اختلاف ہے۔ چنانچہ مولانا نے ’ارشاد الشیعہ‘ میں درج ذیل تین عقائد کی بنیاد پر شیعہ حضرات کو خارج از اسلام قرار دیا ہے:

۱۔ تحریف قرآن کا عقیدہ،

۲۔ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہؓ کی تکفیر ،

۳۔ عقیدہ امامت۔

جہاں تک تحریف قرآن کا تعلق ہے تو مولانا نے شیعہ اثنا عشریہ کا یہ عقیدہ ان کی مرکزی وبنیادی کتاب ’’اصول کافی‘‘ سے نقل کیا ہے جس میں امام ابو عبد اللہ جعفر صادق کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے:

ان القرآن الذی جاء بہ جبریل علیہ السلام الی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سبعۃ عشر الف آیۃ (اصول کافی ص ۶۷۱)
’’بلاشبہ وہ قرآن کریم جس کو حضرت جبریل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، اس کی سترہ ہزار آیات تھیں۔‘‘

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں: ’’غور فرمائیں کہ بقول شیعہ شنیعہ کے سترہ ہزار آیات پرمشتمل قرآن گھٹتے گھٹتے تقریباً سوا چھ ہزار آیات رہ گیا۔‘‘

شیعہ کے محقق ومجتہد اور خمینی صاحب کے معتمد علیہ ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:

ودر قرآن در آیات بسیار نام علی بود کہ عثمان بیروں کردہ۔ (تذکرۃ الائمہ ص ۴۸)

’’قرآن کی بہت سی آیات میں حضرت علیؓ کا نام تھا، مگر عثمانؓ نے ان کا نام قرآن سے خارج کر دیا۔‘‘

ان حوالہ جات سے نہ صرف شیعہ کا عقیدہ تحریف قرآن واضح ہو کر سامنے آتا ہے، بلکہ ان میں حضرت عثمان اور جماعت صحابہ پر تحریف قرآن کا صریح بہتان اور بے بنیاد افترا بھی باندھا گیا ہے۔

تکفیر شیعہ کی دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا موصوف رقم طراز ہیں:

’’شیعہ حضرات خلفاے راشدین اور دیگر حضرات صحابہ کی تکفیر کرتے ہیں اور اس سے نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ متواترہ کا رد اور انکار لازم آتا ہے جو کفر ہے۔‘‘

اس عقیدہ کی وضاحت میں ’’الجامع الکافی‘‘ کی کتاب الروضہ سے شیعہ کے پانچویں امام، امام محمد باقر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:

ان الشیخین فارقا الدنیا ولم یتوبا ولم یتناکرا ما صنعا بامیر المومنین علیہ السلام فعلیہما لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین (کتاب الروضہ، ص ۱۱۵ طبع لکھنو)
’’ابوبکروعمر دنیا سے رخصت ہوئے۔ نہ تو انھوں نے توبہ کی اور نہ اس کارروائی پر ندامت محسوس کی جو انھوں نے امیر المومنین حضرت علی سے کی۔ سو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔‘‘

مولانا سرفراز خان صفدر صاحب نے تکفیر شیعہ کی تیسری اصولی وجہ اہل تشیع کے عقیدہ امامت کو قرار دیا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق شیعہ امامیہ کے نزدیک حضرات ائمہ کرام کا درجہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے زیادہ ہے۔ شیعہ کے عمدۃ المحدثین ملا محمد باقر مجلسی لکھتے ہیں:

مرتبہ امامت بالاتر از مرتبہ پیغمبری است (حیات القلوب ج ۳ ص ۳)
’’امامت کا مرتبہ نبوت وپیغمبری سے بالاتر ہے۔ ‘‘

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ملا محمد باقر مجلسی اہل تشیع کے وہ عالم ہیں جن کی کتابوں کے مطالعہ کا حکم دور حاضر میں شیعہ کے رہبر اعلیٰ خمینی صاحب نے بطور خاص دیا ہے۔ 

اب آئیے مولانا صفدر صاحب کے فتوے کے ان نکات کی طرف جنھیں ڈاکٹر صاحب نے محل نظر قرار دیا ہے: 

’’محترم مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے فتوے میں دو باتیں محل نظر ہیں۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے شیعہ کا عمومی لفظ استعمال کر کے اور چند اہم قابل اعتراض عقائد کا ذکر کر کے انھیں کافر قرار دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے اہل تشیع کے کسی وضاحتی موقف کو ماننے سے اس لیے انکار کر دیا ہے کہ وہ تقیہ پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ہم ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ یہ دونوں باتیں عدل وانصاف کے مسلمہ معیارات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔‘‘

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مولانا نے اپنے فتوے میں شیعہ کا عمومی لفظ استعمال کر کے ان کو کافر قرار دیا ہے تو ہم عرض کریں گے کہ فتویٰ میں جہاں شیعہ کا عمومی لفظ ذکر کیا گیا ہے، وہیں چند مخصوص عقائد بھی ذکر کیے گئے ہیں جن کی بنیاد پر شیعہ کی تکفیر کی گئی ہے۔ گویا شیعہ کے عام لفظ کو ان مخصوص عقائد کا ذکر کر کے خاص کر دیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس فتویٰ کا اطلاق صرف ان حضرات پر ہوتا ہے جو درج بالا عقائد ونظریات کے حامل ہوں۔ جو لوگ ان عقائد سے صدق دل کے ساتھ براء ت کا اعلان کریں، ان پر اس فتویٰ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اسی بات کی مزید وضاحت درج ذیل تحریر سے ہوتی ہے جو مولانا موصوف نے امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب ’’تہذیب التہذیب‘‘ کے حوالے سے اپنی کتاب ’‘ارشاد الشیعہ‘‘ میں نقل کی ہے:

فالتشیع فی عرف المتقدمین ہو اعتقاد تفضیل علی علی عثمان وان علیا کان مصیبا فی حروبہ وان مخالفہ مخطئ مع تقدیم الشیخین وتفضیلہما
’’متقدمین کے عرف واصطلاح میں تشیع کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت دی جائے اور یہ کہ حضرت علی اپنی جنگوں میں حق بجانب تھے اور ان کے مخالف خطا پر تھے اور وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی تقدیم وتفضیل کے قائل تھے۔‘‘

مولانا نے حافظ ابن حجر کا یہ قول اپنی کتاب میں نقل فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی شیعہ آج بھی اسی فکر کا امین وداعی ہے اور تحریف قرآن، عقیدہ امامت اور شیخین کی تکفیر کے قائلین کو خارج از اسلام سمجھتا ہے تو اس فتویٰ کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج اس فکر کا حامل کوئی شیعہ موجود ہے؟ ہم نہیں سمجھ سکے کہ ڈاکٹر صاحب کے اس فرمان کی کیا بنیاد ہے کہ ’’تمام شیعہ اثنا عشری تحریف قرآن، تکفیر شیخین، عصمت ائمہ کے قائل نہیں اور عصر حاضر میں سارے اثنا عشری شیعہ مذکورہ عقائد پر یقین نہیں رکھتے‘‘۔ اگر ڈاکٹر صاحب با حوالہ اور مدلل اس کی نشان دہی فرما سکیں تو ہمارے علم میں اضافے کا باعث ہوگا۔

جہاں تک مولانا سرفراز صفدر کے اس موقف کا تعلق ہے کہ انھوں نے اہل تشیع کے وضاحتی موقف کو تقیہ پر مبنی قرار دے کر تسلیم نہیں کیا تو مولانا نے یہ بات اہل تشیع کی مذہبی اصطلاح ’’تقیہ‘‘ کے پس منظر میں کہی ہے۔ تقیہ کا مطلب ہے اپنے قول یا عمل سے واقعہ یا حقیقت کے خلاف یا اپنے عقیدہ وضمیر ومذہب کے خلاف ظاہر کرنا۔ شیعہ حضرات کی بنیادی کتاب ’’اصول کافی‘‘ میں تقیہ کے متعلق ایک مستقل باب ہے جس میں ائمہ کے ارشادات نقل کیے گئے ہیں۔ اس باب کی ایک روایت درج ذیل ہے:

عن ابی عمیر الاعجمی قال قال لی ابو عبد اللہ علیہ السلام یا ابا عمیر تسعۃ اعشار الدین فی التقیۃ ولا دین لمن لا تقیۃ لہ
’’ابو عمیر اعجمی راوی ہیں کہ امام جعفر صادق نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابو عمیر! دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ ہے اور جو تقیہ نہیں کرتا، وہ بے دین ہے۔‘‘

اصول کافی کے ’’باب الکتمان‘‘ میں امام جعفر صادق کے خاص مرید اور راوی سلیمان بن خالد کی روایت ہے :

قال ابو عبد اللہ علیہ السلام انکم علی دین من کتمہ اعزہ اللہ ومن اذاعہ اذلہ اللہ (اصول کافی، ص ۴۸۵، طبع لکھنو)
’’امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اے سلمان، تم ایسے دین پر ہو کہ جو شخص اس کو چھپائے گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت عطا ہوگی اور جو اس کو ظاہر اور شائع کرے گا، اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل ورسوا کرے گا۔‘‘

کسی شخص کے وضاحتی موقف کو قبول کرنے کا یہ ایک مسلمہ معیار ہے کہ اس شخص کا کوئی دوسرا قول یا عمل یا کوئی اور قرینہ اس موقف کی تردید نہ کر رہا ہو جس کو بطور وضاحت پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے تو اس شخص کے موقف کو قبول کرنے کے لیے کوئی بھی منصف مزاج آدمی تیار نہیں ہوگا۔ تقیہ کے مذکورہ بالا نظریہ کے پیش نظر جس شخص کا اپنے دین کے متعلق اصول وقاعدہ ہی یہ ہو کہ ’’دین چھپاؤ، عزت پاؤ‘‘ اور اس طرز عمل کو باعث اجر وثواب سمجھا جائے تو اس شخص کے کسی وضاحتی موقف کو بے چون وچرا کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے؟ اس شخص سے کم از کم یہ وضاحت تو طلب کرنی چاہیے کہ تم جس عقیدہ ونظریہ سے براء ت کا اعلان کر رہے ہو، اس عقیدے کے حاملین ومبلغین کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے؟ اگر عقیدہ باطلہ سے انکار کے باوجود اس کے حاملین ومبلغین کو حجۃ اللہ اور آیت اللہ قرار دیا جاتا ہو تو ایسے شخص کے اعلان براء ت کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ مولانا صفدر صاحب نے شیعہ کی وضاحت کو رد کرنے کے لیے جس چیز کو بنیاد بنایا ہے، وہ خود اہل تشیع کے عقائد میں سے ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ مولانا نے اپنی طرف سے کوئی اصول وضع نہیں کیا۔ اس لیے اہل تشیع کے وضاحتی موقف کو عقیدہ تقیہ کی موجودگی میں قبول کرنے کے لیے درج بالا معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب تکفیر مسلمین سے متعلق ایک محتاط اور مبنی بر انصاف اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’تکفیر مسلمین کے بار ے میں سخت شرعی احکام کے پیش نظر احتیاط اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ فتویٰ یہ دیا جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے اور یہ نہ کہا جائے کہ سارے شیعہ کافر ہیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کے اس ارشاد پر ہم دو معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں:

پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ شخص جس کے یہ اور یہ عقائد ہوں، اس کا نام ذکر کرنے میں کیا قباحت ہے؟ اگر تاریخ کے آئینے اور موجودہ حالات کے تناظر میں کوئی مستقل فرد، جماعت یا گروہ ان عقائد ونظریات کا نہ صرف حامل ہو بلکہ پوری شد ومد کے ساتھ ان کی تبلیغ وترویج میں بھی مصروف ہو تو اس گروہ یا جماعت کو نامزد کرنے میں کیا حرج ہے؟ ہماری بحث ان عقائد ونظریات سے ہے جن کے داعی پوری امت مسلمہ میں صرف شیعہ حضرات ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضا تو یہ ہے کہ ’’جس شخص‘‘ کے عام الفاظ کے بجائے فتوے کو دائرے کو مزید متعین اور محدود کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ ’’جس شیعہ کے یہ اور یہ عقائد ہیں، وہ کافر ہے۔‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے قائم کردہ اصول کو تسلیم کر کے ہر جگہ ا س کا من وعن اطلاق کیا جائے تو پھر ایسے فتاویٰ کو بھی واپس لینا پڑے گا جو امت مسلمہ کی جانب سے متفقہ طور پر اسلامی عقائد کے منافی نظریات کے حامل بعض گروہوں اور جماعتوں کے بارے میں دیے گئے ہیں۔ مثلاً قادیانیوں کے متعلق بھی فتویٰ یوں دینا چاہیے کہ ’’جو لوگ ختم نبوت کے منکر ہیں، وہ کافر ہیں‘‘۔ حالانکہ قادیانیوں اور ان کی ذیلی جماعتوں کو نہ صرف علماے امت نے نامزد کر کے کافر قرار دیا ہے، بلکہ حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے قومی شناختی کارڈ کے فارم پر درج حلف نامہ میں بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا/ کہتی ہوں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب مزید فرماتے ہیں:

’’اثنا عشری اہل تشیع میں سے کسی شدت پسند عالم دین نے اگر کبھی کوئی غلط بات لکھ دی ہے تو اس کی بنیاد پر سارے اثنا عشری گروہ یا سارے اثنا عشری افراد کو کافر کہنا صحیح نہ ہوگا۔‘‘

ہم اس ضمن میں یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ کبھی بھی کسی متشدد اور انتہا پسند فرد کی رائے کو کسی بھی مسلک میں مذہب کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ مذہب کا درجہ وہی نظریات رکھتے ہیں جو کسی گروہ کی مستند ومعتمد ترین کتب میں مذکور ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جن عقائد ونظریات کی بنیاد اثنا عشری اہل تشیع کو خارج از اسلام قرار دیا جاتا ہے، آیا وہ کسی شدت پسند فرد واحد کی آرا ہیں یا شیعہ مسلک کی معتمد ومستند کتب کی تعلیمات ہیں۔ ہم پورے وثوق سے عرض کرتے ہیں کہ یہ عقائد ونظریات اہل تشیع کی مستند ترین کتب میں موجود ہیں اور آج بھی شیعہ فکر کی عمارت انھی عقائد ونظریات پر قائم ہے، اس لیے اگر چند اثنا عشری افراد یا علما زبانی طور پر ان عقائد ونظریات سے براء ت کا اعلان کر بھی دیں تو یہ ان کا انفرادی طرز عمل ہوگا، اس سے شیعہ مذہب میں ہر گز کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو جاتی۔ 

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے:

’’اہل سنت کا ایک عالم یا ایک عام شخص اگر کسی اثنا عشری عالم یا فرد کے بارے میں تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کے عقائد کافرانہ ہیں اور وہ اس کی نظر میں کافر ہے تو کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بندوق پکڑے اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دے؟‘‘

ہم اس معاملے میں ڈاکٹر صاحب سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کے کافر ثابت ہو جانے پر اس کے قتل کے درپے ہو۔ کوئی بھی ذی فہم وذی شعور آدمی اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ تاہم ایسے مبنی بر تشدد رویے کی سخت مذمت کے ساتھ ساتھ انتشار وافتراق کے خاتمہ کے لیے بلا تفریق ایسے مذہبی لٹریچر پر بھی پابندی عائد کی جانی چاہیے جو دیگر جماعتوں اور گروہوں کی مذہبی حمیت وغیرت کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ حالات کے گہرے تجزیے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تشدد اور قتل وغارت کی موجودہ صورت حال کا باعث اسی طرح کے نظریات اور ان کی بر سر عام ترویج واشاعت ہے۔


مکاتب فکر